Kamal Ho Tum
Episodes
پھر کچھ سوچتے ہوئے ڈاکٹر سے معزرت کرتے ہوئے پوچھنے لگی اگر آپ مائنڈ نہ کریں تو مجھے بتا سکتی ہیں کہ جو ابھی چیک اپ کروا کر کپل گیا ہے ان کی شادی کیا نیو ہے۔ دراصل میری ایک بیسٹ فرینڈ تھی کالج کے زمانے میں تو مجھے لگا وہ ہے۔ کیا آپ مجھے اس کا اور اسکے شوہر کا نام بتا سکتی ہیں تاکہ میں کنفرم کر لوں کہ وہی ہے تاکہ میں اسے جا کر مل سکوں۔
ڈاکٹر مسکرا کر بولی جی انکا نام وردا ہے۔ اور ان کے شوہر کا نام۔۔۔۔۔
اتنے میں ڈاکٹر کا فون بجا تو وہ فون پر بزی ہو گئ پھر نرس اس سے کچھ پوچھنے آ گئ۔
عشاء کو ڈاکٹر نے چیک اپ کر کے چند رسمی باتوں کے بعد دوائیاں لکھ کر پکڑاتے ہوئے کہا دن قریب ہیں آپ اپنا بہت خیال رکھیے گا۔
عشاء کو باہر جانے کی جلدی تھی وہ تیزی سے اوکے کہہ کر نکل گئ۔
عشاء نے دیکھا دونوں ہاسپٹل سے باہر نکل رہے تھے۔اور بائک پر بیٹھ کر چلے گئے۔
عشاء پریشان حال کھڑی تھی نیٹ پیکج ختم ہو گیا تھا بیلنس بھی نہیں تھا وہ چلتے چلتے روڈ پر آ گئ۔ کوئی سواری مل نہ رہی تھی۔
اتفاق سے وہاں سے زاران گزرا اسے حیرت سے دیکھا پھر گاڑی ریورس کر کے اس کے قریب روکتے ہوئے بولا بیٹھو۔
عشاء کا گرمی سے برا حال ہو رہا تھا۔ طبیعت بھی خراب لگ رہی تھی۔ کوئی سواری بھی نہ مل رہی تھی پھر وردا کو اس لڑکے کے ساتھ دیکھ کر بھی حیران تھی۔
زاران اتر کر فرنٹ ڈور کھولتے ہوئے بولا چلو جلدی کرو گرمی بہت ہے۔ میرے بچے کو بھی گرمی میں مار رہی ہو۔
عشاء نے اسے گھور کر دیکھا تو وہ مسکرا کر اسے دیکھ رہا تھا۔
ناچاہتے ہوئے بھی عشاء کو بیٹھنا پڑا۔ زرا دور جا کر اس نے جوس کارنر سے فریش جوس لیے۔ ایک اسے دیا اور ایک خود پینے لگا۔
عشاء کا پیاس سے برا حال تھا۔
زاران نے جوس پیتے ہوئے زور دیتے ہوئے کہا اب پی بھی لو۔ ایک تو تم لڑکیوں کے نخرے ختم نہیں ہوتے۔
عشاء نے جوس پیتے ہوئے زاران سے پوچھا تمھاری بیوی وردا کیسی ہے۔
زاران نے کہا وہ میری بیوی نہیں ہے۔
عشاء نے حیرت سے پوچھا تو کون ہے تمھاری بیوی۔
وہ مسکرا کر بولا تم اور کون اکلوتی بیوی۔
عشاء کو ایسا لگا جیسے اسے کسی قید سے رہائی مل گئی ہو۔
عشاء نے سوالیہ نظروں سے اسے دیکھا۔
زاران نے کہا میں نے ایک فیملی ریسٹورنٹ میں فیملی کیبن بک کروایا ہوا ہے۔ چلو تمہیں وہاں چل کر سب بتاتا ہوں۔
عشاء ہچکچاتے ہوئے بولی میری ماما، بابا۔
زاران نے کہا چچی جان سے میں مسلسل رابطے میں ہوں۔ انہوں نے بتایا تھا کہ تم آج اوبر ٹیکسی کر کے ہاسپٹل گئ ہو تو میں کب سے باہر تمھارا ویٹ کر رہا تھا شکر ہے تم کسی آٹو میں نہیں بیٹھ گئی۔
نہ جانے کیوں عشاء کو اس کے ساتھ جاتے ہوئے نہ تو برا لگ رہا تھا بلکہ ایک تحفظ کا احساس مل رہا تھا۔ اسے تو یہ بھی برا نہیں لگ رہا تھا کہ اس کے والدین نے اسے چھپاے رکھا مگر وردا سے شادی نہ کرنے کی وجہ جاننے کے لیے بے چین تھی۔
جب وہ ٹیبل پر اس کے سامنے بیٹھی ہوئی تھی تو اسے یہ سب اچھا لگ رہا تھا۔
زاران نے کھانے کا آرڈر دیا۔
عشاء کے تجسس کو دیکھ کر وہ مسکرا کر بولا ارے بتاتا ہوں زرا صبر تو کرو۔
پہلے ہم کھانا کھائیں گے پھر باتیں ہوں گی۔ ویٹر کھانا لے آیا۔ زاران اسے زبردستی کھانا کھلاتا رہا۔
عشاء کو بھی اس ماحول میں جہاں کم لائٹس تھیں۔ ہلکہ ہلکہ میوزک بج رہا تھا۔ اچھا لگ رہا تھا۔ کافی دنوں بعد جب سے مونا گئ تھی اس نے پیٹ بھر کر کھانا کھایا تھا ورنہ مونا اسے آ کر کھلاتی تھی۔
کھانا کھانے کے بعد زاران نے کہا کہ جب تم سے نکاح ہوا تو ویسے میں بھائی کے بارے میں ایسے بول کر اس کی روح کو شرمندہ نہیں کرنا چاہتا تھا مگر اب مجبوری ہے کہ اس کے بغیر تمھارا دل میری طرف سے صاف نہ ہو گا۔ اتنے میں زاران کے موبائل پر بیل بجی اور وہ فون سننے لگا پھر اسے معزرت کرتے ہوئے بولا سوری جان مجھے جانا پڑے گا میں گھر آ کر کل ساری بات کروں گا اوکے چلو میں تمہیں گھر چھوڑ دوں۔
سارے راستے وہ فون پر لگا رہا۔
گھر اتار کر گاڑی موڑ رہا تھا کہ عشاء کی ماں نے دروازہ کھولا۔ دور سے زاران نے سلام کیا اور اونچی آواز میں بولا کہ کل آئے گا۔
جواب میں چچی نے بھی بھرپور مسکراہٹ سے ہاتھ کے اشارے سے اچھا کہنے کے لیے گردن ہلا دی۔
اگلے دن عشاء کی ماں نے فون کر کے پوچھا بیٹا کب تک آنا ہے کھانا تیار کرنا ہے تو اس نے کہا کہ چچی جان میں چند دن کے لیے شہر سے باہر جا رہا ہوں پھر بتاوں گا۔
عشاء کی ماں نے شوہر کو جب بتایا تو عشاء بھی سن رہی تھی سن کر اداس ہو گئی۔
شام تک اداس پھرتی رہی تو اچانک زاران کے والدین آ گئے۔
عشاء ان کو دیکھ کر کھل گئی پاس جا کر پیار سے ملی۔
انہوں نے پیار سے اسے سمجھاتے ہوئے کہا کہ ہم تمہیں لینے آئے ہیں۔
عشاء کی ماں پانی لائ اور بولی چل بیٹی تیار ہو جا۔ تمھارے ابو بیمار ہیں وہ تمہیں ہاسپٹل ڈلیوری کے لیے نہیں لے کر جا سکیں گے۔ تایا تمھارے لے جا سکتے ہیں۔
تایا بولے دیکھو بیٹا ہم جانتے ہیں کہ تم ہم سب کے اور زاران کے بھلے کے لیے ادھر رہ رہی تھی تاکہ تم وردا اور زاران کے درمیان نہ آو۔ جبکہ زاران منع کر رہا تھا کہ وردا کو اور اچھا رشتہ مل جائے گا میں عشاء کے ساتھ خوش ہوں۔ مگر یہ تمھاری تائ نہیں مان رہی تھی اسے بھانجی لانے کا شوق تھا۔
تائ نے سنکر پہلو بدلا اور بولی میری ناسمجھی تھی۔
تایا نے پھر بات شروع کرتے ہوئے گویا ہوئے کہ زاران نے کہا کہ وہ وردا کو اپنے نکاح کا بتاے گا مگر تمھاری تائ نہ بتانے دے۔
شادی سے دو دن پہلے زاران نے وردا کو سب میسج کر دیا تو اس نے زاران کو فون پر بہت برا بھلا کہا کہ وہ کنوارے لڑکے سے شادی کرے گی شادی شدہ سے وہ سوچ بھی نہیں سکتی ہے۔ اس نے ساری خاندان کو واویلا کر کے سب کچھ بتا دیا۔ اب شادی تیار تھی کوئی خاندان میں شادی پر تیار نہ تھا پھر ان کے کرایہ دار تھے انہوں نے آفر کی اور شادی ہو گئی۔ اب تو وہ کرایہ بھی نہیں دیتے۔ وردا اسی میں خوش ہے کہ کنوارے سے شادی کی۔
زاران نے تمہیں جانے دیا کہ اسے اپنی مرضی کرنے دیں جب ڈلیوری قریب آئے گی تو تب سچ بتانا ہمیں بھی بتانے سے منع کیا اور فون کرنے سے بھی۔ مونا سے سب پوچھ لیتے یا تمھارے والدین سے پوچھ لیتے تھے۔ اب تمہیں مزید ادھر ہم نہیں چھوڑ سکتے ہیں۔
عشاء نے کہا میرے بابا بیمار ہیں تو میں۔۔۔۔۔
تایا بولے تو کیا میں اپنے بیمار بھائی کو ادھر چھوڑ جاوں گا یہ لوگ بھی ساتھ چلیں گے ان کا کمرہ ادھر سیٹ کر لیا ہے۔ تمھارے کمرے کے ساتھ والا جو پہلے زاران کا تھا۔
عشاء کے باپ نے کہا کہ پہلے ہی ساری زندگی ہماری کفالت کی ہے۔ میں تو جوانی میں ہی بیمار ہو گیا تھا بمشکل کلرکی کی اور پنشن تک پہنچا۔ گھر بھی نہ بنا سکا۔ میری بیٹی کو آپ نے تعلیم دلائی۔ کیا کچھ نہیں کیا آپ نے۔ شادی اپنے خرچے پر کی۔ میں آپ کے کس کس احسان کا بتاوں۔پھر رونے لگا بیوی بھی رونے لگی۔ عشاء سر جھکائے آنسو بہاتی رہی۔
تائ نے عشاء سے معافی مانگتے ہوئے کہا کہ بیٹی معاف کر دے۔ میں بھتیجی کا لالچ کر بیٹھی تھی کہ یہ اپنی بھتیجی لاے ہیں تو میں اپنی لاوں گی۔ تمھارے تایا شروع سے ہی کہتے تھے کہ اشھب اس کے قابل نہیں ہے زاران کے ساتھ اسکی جوڑی سجے گی۔ دونوں پڑھے لکھے ہیں۔ اگر تم نے بھتیجی لانی ہے تو اشھب کے لئے لاو جو بی اے فیل ہے مگر اپنے آپ کو گریجویٹ بتاتی ہے۔ مگر میں ان کو طعنے دیتی کہ آپ اپنی بھتیجی کا بھلا سوچ رہے ہیں میری کا نہیں۔ اگر ایسا کیا تو میں کچھ کھا کر مر جاوں گی۔ تب یہ اور بچے مجبور ہو گئے اور تمھارے والدین بھی مان گئے کہ مجبور تھے۔ اس لالچ اور خودغرضی کی بہت بڑی سزا ملی تم لوگوں کی مجبوری سے فائدہ اٹھایا اور بیٹے کو کھو دیا۔ پھر وہ ہچکیوں سے رونے لگی۔ عشاء کی ماں اور عشاء قریب آ کر اسے تسلیاں دینے لگیں۔ععشاء نے کہا چچی جان یہ سب میری قسمت تھی۔
وہ روتے ہوئے بولی بیٹا ہر کسی کو اس کی نیت کا پھل ملتا ہے۔ مجھے لالچ تھا کہ میرے نکمے بیٹے کو ایک سلجھی لڑکی مل جائے گی اور وہ سدھر جائے گا۔
عشاء کی ماں نے عاجزی سے کہا کہ آپ لوگوں نے ہماری ہر ضرورت کو پورا کیا ہے زاران نے جب سے ہوش سنبھالا تب سے چچا کی دوائیاں ان کو ہاسپٹل لے کر جانا اس کام میں اس نے کھبی کوتاہی نہیں کی۔ آپ کا یہ بڑاپن ہے کہ آپ اسے یہ سب کرنے دیتی تھیں ورنہ کون کرنے دیتا ہے۔
تائ نے کہا پہلے میں ان سے لڑتی تھی مگر یہ باز نہ آتے تھے۔ عشاء مجھے بچپن سے ہی سمجھدار اور سلجھی ہوئی لگتی تھی تو اشھب جو بچپن سے ہی کاہل اور کام چور تھا میں نے سوچا کہ اسے اپنے اشھب کے لیے بچپن سے ہی مانگ لیتی ہوں بچے کو سدھار لے گی اسی لالچ میں میں نے اسکا رشتہ بچپن میں ہی طے کروا دیا۔ اور آپ لوگوں کی کفالت کرنے سے نہ روکا۔ مگر خدا کی لاٹھی بے آواز ہے۔ اس کی مجھے بہت بڑی سزا ملی۔ وہ زاروقطار رونے لگی۔
سب رو رہے تھے اشھب کو یاد کر رہے تھے۔
تائ عشاء سے بولی بیٹی مجھے پتا تھا تم اور تمھارے والدین سب اشھب کی عادتوں کو جانتے ہوئے بھی کھبی انکار نہیں کرو گے اس لیے میں آپ لوگوں کے سامنے جسن بوجھ کر زاران اور وردا کے رشتے کی بات کرتی تھی۔ زاران نے مجھے کافی بار احساس دلانے کی کوشش کی کہ عشاء کی زندگی تباہ نہ کریں اسے شادی ایک ترقی کی راہ میں رکاوٹ لگتی ہے وہ آزادی سے پوری دنیا گھومنا چاہتا ہے مگر باپ نے شرط رکھی پہلے شادی ہو گی۔
عشاء نے کہا تائ چھوڑیں پرانی باتیں آپ نے رو رو کر اپنی طبیعت خراب کر لینی ہے۔ بس کر دیں رونا یہ سب میری قسمت میں تھا۔
عشاء کے باپ نے ساتھ جانے میں معزرت کی تو تائ نے چلا کر کہا کہ آپ کا بھائی کی ہر چیز پر حق حاصل ہے۔ آپ مجھے بہن سمجھتے ہیں تو جانے سے انکار نہیں کریں گے ورنہ میں سمجھوں گی کہ آپ نے مجھے معاف نہیں کیا۔
زاران کے والد نے کہا تھوڑا بہت ضروری سامان اٹھا لیں۔ کل زاران واپس آ جائے گا تو وہ سب لے جائے گا۔
عشاء کا باپ بولا بھائی جان یہ پرانا خستہ حال سامان آپ ادھر کدھر رکھیں گے۔
زاران کے باپ نے جواب دیا کمرہ آپ کا ضرورت کے سامان سے بھرا ہوا ہے میں نے سوچا آپ مائنڈ نہ کرجائیں اس لیے۔
عشاء نے کہا ہم چند برتن اور کپڑے وغیرہ لے جاہیں گے باقی ادھر محلے میں کسی کو دے دیں گے۔
عشاء جب سسرال پہنچی تو اپنے کمرے میں آ کر اسے اشھب کے ساتھ بیتی یادیں آ کر رلانے لگیں۔
رات کو بیڈ پر لیٹی تو بیتا وقت یاد آنے لگا۔ اشھب سے بچپن سے منسوب تھی۔ مگر اس کی نیچر سے خائف بھی تھی۔ مگر تایا کے احسانات تلے دبی ہوئی تھی۔ انکار نہیں کر سکتی تھی۔ اس نے والدین کے بھلے کے لیے قربانی دے دی۔
اشھب نے سہاگ رات کو ہی اسے بتا دیا تھا کہ اسکا خواب ہے باہر ملک گھومنا پھرنا مگر باپ نے شادی کی شرط رکھ دی مگر یاد رکھنا شادی میرے پاوں میں بیڑیاں نہیں ڈال سکتیں۔ مجھے اپنے خواب پورے کرنے کے لئے کسی حد تک بھی جانا پڑا تو میں جاوں گا۔
نکاح کے وقت اشھب کے باپ نے سواے بیوی اور اشھب کے باقی سب کو بتا کر اپنا گھر عشاء کے نام کر دیا تھا تینوں بچوں میں جاہیداد تقسیم کی اور یہ گھر اشھب کے حصے میں آیا تو اس کے بجائے عشاء کے نام کر دیا۔ اس بات کاعلم عشاء کو نہ تھا اس کے والدین کو بتایا تو انہوں نے منع کرنے کی کوشش کی مگر اشھب کا باپ نہ مانا۔
عشاء کے والد نے بیوی کو وارننگ دی کہ اس بات کا علم عشاء کو نہ ہو ورنہ شاید وہ شوہر کو اہمیت نہ دے۔
مونا اور زاران بہت خوش ہوئے۔ مونا نے کہا کہ میری جاہیداد کا میرے سسرال کو علم نہ ہو اسے میں بچوں کے فیوچر کے لئے سنبھال کر رکھنا چاہتی ہوں۔ اس کی جاہیداد زاران نے خرید کر اس کے نام سے رقم فکس کروَا دی۔
شادی کی پہلی رات ہی اشھب کے باپ نے تمام تفصیل اشھب کو بتا دی اور کہا کہ بیوی سے بنا کر رکھنا۔
اشھب سخت دل میں پیچ و تاب کھانے لگا۔ اس بات کا بھی اسے غم تھا کہ اسے کیوں محروم کیا گیا۔اس نے اس نظریے سے عشاء کو نہیں بتایا کہ وہ سر پر چڑھ جائے گی۔
دو سال اس نے عشاء سے لڑتے جھگڑتے گزارے۔ وہ آخر کار ایک دوست کے توسط سے دوبئی جانے کی سبیل نکالنے لگا۔ ایک دوست کا ادھر سٹور تھا اس نے اسے وہاں رہائش اور جاب آفر کی۔ اشھب اس موقع کو ہاتھ سے جانے نہ دینا چاہتا تھا۔ باپ کو زکر جب بھی کرتا وہ کہتا بیوی کو ساتھ لے کر جاو۔
زاران نے اسے اپنے حصے میں سے کافی رقم دی تاکہ وہ باہر کسی مشکل میں نہ پڑے۔ کیونکہ اشھب عشاء سے زیورات مانگ رہا تھا اور وہ رو رو کر یقین دلا رہی تھی کہ وہ لاکر میں ہیں اور چابی تائ جان کے پاس ہے۔ اگر میرے پاس ہوتی تو میں منٹ نہ لگاتی۔
اس نے عشاء کو مارا اور غصے سے گھر سے باہر چلا گیا اور طلاق کے کاغذات بنوا کر اس کے منہ پر مار کر بولا لو زیورات نہ دینے کا انعام۔ جس کے بعد اس نے زاران سے رونے دھونے کا ڈرامہ کیا کہ غصے میں کر دیا ہے اب پچھتا رہا ہے۔ والدین آ کر کیا سوچیں گے۔ ان کو دکھی نہیں کرنا چاہتے تو حلالہ کر لو۔
زاران سے جب نکاح ہوا تو شام کو اس کی فلاہیٹ تھی۔ اس نے جاتے ہوئے اسے میسج کیا کہ زاران میرے پیارے بھائی تم بہت اچھے انسان ہو تم عشاء کو ہمیشہ کے لئے اپنا لینا۔ میرا اب اس سے دوبارہ شادی کا کوئی پلان نہیں ہے۔ والدین کو بھی اعتراض نہ ہو گا۔ اب میں آزادی سے اپنے خواب پورے کروں گا۔ باہر جانا میرا خواب تھا۔ تمھیں اسکا اجر عظیم ملے گا کہ تم نے میری مالی امداد کی شکریہ۔
زاران نے عشاء کو ابھی یہ بات نہیں بتائی کہ اسے دکھ ملے گا۔
اشھب جب دوبئی گیا تو جب تک اس کے پاس رقم تھی دوست اچھا رہا۔
اشھب نے خوب سیر سپاٹے کیے۔ پیسے اڑاے۔ موج مستی میں وقت گزارا۔
جب اسے علم ہوا کہ عشاء زاران کے بچے کی ماں بننے والی ہے تو اسے بہت پچھتاوا ہوا کہ کاش وہ اس کا بچہ ضائع نہ کرواتا تو آج وہ بھی باپ کہلاتا۔
پیسے ختم ہو چکے تھے۔ دوست نے گھر سے نکالنا چاہا تو وہ منت کرنے لگا کیونکہ باپ نے غصے میں کہا تھا کہ واپس آنے کی ضرورت نہیں اب تم اس گھر میں قدم نہیں رکھ سکتے۔ وہ جانتا تھا باپ جو کہتا ہے وہ کرتا بھی ہے۔ دوست نے اسے سٹور روم میں جگہ دی اور اپنے پاس ملازم رکھ لیا۔ پاسپورٹ ویزہ بھی اسی کے قبضے میں تھا۔
دوست اس سے نوکروں کی طرح کام کرواتا۔ بری طرح زلیل کرتا۔ کھانے کو بھی بچا کھچا دیتا۔ اسے عشاء پر کیے گئے ظلم یاد آتے جس کی اسے سزا مل رہی تھی۔ اس نے زاران کو میسج کیا کہ وہ عشاء سے والدین سے معافی مانگتا ہے۔ اب وہ سدھارنا چاہتا ہے۔ گھر اپنا ملک اپنے پیارے اپنی وفاشعار بیوی سب نعمتوں کو ٹھکرانے کی سزا ہے۔ وہ دور اسے جنت لگتا تھا جب آدھی رات کو بھی پانی مانگتا تو عشاء نیند سے بوجھل اٹھتی اور اسے فرج سے ٹھنڈا پانی لا کر دیتی۔ اس کے سارے کام کرتی۔ وہ کوئی کام نہ کرتا بس نقص نکالتا رہتا۔ جیسے اب اسکا دوست کرتا تھا۔ وہ سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ یہ وقت اس پر بھی آ سکتا ہے۔ اب تو وہ مزہبی ہو گیا تھا رو رو کر اپنے گناہوں کی معافی مانگتا رہتا۔
اچانک دل کا اٹیک ہوا اور اس کی موت ہو گئی۔ زاران نے دوست کو سارا خرچہ بھیجا تو اس نے اس کی ڈیڈ باڈی بھیج دی۔
والدین بعد میں بہت پچھتائے۔ اولاد کو لاوارث نہیں چھوڑنا چاہیے اسے موقع دوبارہ دینا چاہیے۔ ورنہ بعض اوقات وہ سنبھلنے کے بجائے زیادہ بگڑ جاتے ہیں۔
اشھب کی موت کے بعد اب زاران نے باپ کو کہا کہ وہ بزنس کرے گا اور آپ کے اس بزنس کو پھیلاے گا۔
زاران نے فیکٹری لگا لی اور اسے اپنی محنت اور سمجھ بوجھ سے ترقی کی طرف گامزن کیا۔
زاران کا عشاء انتظار کر رہی تھی اسے کتنا غلط سمجھی تھی۔ مونا نے بھی فون پر اسے اشھب کے بارے میں سب بتا دیا تھا جو میسج اس نے زاران کو کیا تھا۔ جو اس کو زاران نے بتایا تھا کہ اشھب عشاء سے اب دوبارہ شادی نہیں کرنا چاہتا۔
عشاء نے زاران کو میسج کر کے معافی مانگ لی تھی تو اس نے فوراً فون کیا تھا اور اب وہ دیر تک رات گئے باتیں کرتے تھے۔
زاران واپس آیا تو بہت خوش تھا۔
رات کو وہ اس کے ساتھ دیر تک باتیں کرتا رہا۔
زاران نے اسے بتایا کہ وہ بچپن سے ہی اسے اشھب کی چیز سمجھتا تھا بڑے ہونے پر وہ اسے بھائی کی امانت تصور کرتا تھا۔ اس سے بہت پیار کرتا تھا مگر وہ پاکیزہ پیار تھا جس میں کوئی غرض شامل نہ تھی۔ جب بھائی نے شادی کی تو اسے اس کی فکر رہنے لگی۔ پھر بھائی سے بھی محبت تھی مگر وہ بڑا تھا۔ جب بھائی نے طلاق کے بعد اسے آفر کی تو وہ شش وپنج میں پڑ گیا تھا پھر اس نے دل میں پکا ارادہ کر لیا تھا کہ وہ اسے طلاق دے کر دوبارہ بھائی سے شادی کرانے کی غلطی نہیں کرے گا۔ وہ اسے کھبی نہیں چھوڑے گا چاہے بھائی کتنا ہی یقین دلاے۔ اسے اس پر بھروسہ نہ رہا تھا پھر دونوں خاندانوں کا بھی یہی ارادہ تھا۔ کہ اشھب کو اب عشاء کی زندگی برباد نہیں کرنے دیں گے۔
عشاء کی تعریف کرت ہوے زاران نے کہا کہ میں حیران ہوتا تھا کہ تم کس پتھر کی بنی ہو۔ جو اتنا سہہ کر بھی کوئی شکوہ نہیں کرتی۔
عشاء نے ایک خوبصورت بچے کو جنم دیا تو زاران نے کہا کہ میں اپنے آپ کو بہت خوش نصیب سمجھتا ہوں جسے عشاء جیسا ہیرا ملا۔ اللہ تعالیٰ نے والدین، بہن بھائی اور اولاد جیسی ہر نعمت سے نوازا۔ ہر رشتہ دیا۔ جو ان رشتوں کی قدر نہیں کرتے ان سے وہ نعمت دور ہو جاتی ہے کھبی تو ہمیشہ کے لئے چھن جاتی ہے۔
وردا زاران کا رشتہ ٹھکرا کر پچھتا رہی تھی وہ اس کے بچے کی مبارک باد دینے آئی اور اقرار کر لیا کہ اگر مرد یا عورت پہلے سے شادی شدہ بھی ہو اور لڑکی یا لڑکا کنوارا ہو توتب بھی وہ خوش رہ سکتے ہیں ضروری نہیں کہ کنوارا ہی خوش رکھے۔
مونا کو جب اپنے شوہر پر مکمل بھروسہ ہو گیا کہ وہ یہ رقم ضائع نہیں کرے گا تو اس نے اپنے حصے کے بارے میں سچ بتا دیا۔
زاران اور عشاء آج بیٹے کی پہلی سالگِرہ منا رہے تھے دونوں بہت پیارے لگ رہے تھے۔
مونا نے محبت پاش نظروں سے دیکھتے ہوئے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ ان کی جوڑی سلامت رکھے۔
ختم شد۔
شعر۔
بھیگے خوابوں کو پلکوں سے گرنے نہیں دینا
آنسوؤں کی برسات کو برسنے کو گرنے نہیں دینا۔
ناول اختتام پذیر ہوا
You've reached the end of this journey. We hope you enjoyed it!

Reader Comments
Be the first to leave a comment on this episode!
Log in to leave a comment.