Niyat Be-Naqaab
Episodes
سجل کو پولیس لے کر گھر پہنچی تو اسی وقت احد کے دوست اے۔ ایس۔ پی کا فون آیا کہ وہ ایک ضروری کیس میں پھنس گیا ہے اور ابھی نہیں آ سکتا۔ بہرحال وہ اپنے ماتحتوں کو سخت ہدایات دے دیتا ہے۔ تم فکر نہ کرو۔ وہ قدرے مطمئن ہو گیا۔ سجل کے پاس نیلم آئی اور اسے تھپڑ مارنے لگی تو ایکدم بازو پکڑ لیا چونکہ اسے بیٹی کے ساتھ اس سلوک کا اندازہ تھا اور وہ دل میں عہد کر کے آئی تھی کہ آج کے بعد وہ اپنی پیاری بیٹی پر ظلم نہیں ہونے دے گی اس کا حق دلاے گی۔ اس نے نیلم کا ہاتھ روک کر کہا خبردار جو اس نے جرم کیا نہیں میں اسے اس کی سزا نہیں دینے دوں گی۔ نیلم حقہ بقہ سی کھڑی رہ گئی۔ احد کی ماں غصے سے بولی جرم یہ میرے پوتے کو لے کر بھاگ رہی تھی اتنے میں امجد بٹ بھی اندر آ گیا وہ سارے راستے ان کے بارے میں ہی سوچتا رہا تھا اسے اب منزل قریب نظر آ رہی تھی۔ اسے یہ تو پتہ چلا تھا کہ احد کے بچے کی کوئی آیا ہے مگر اس نے دھیان نہ دیا تھا ان کو اس غربت والے حلیے میں دیکھ کر کجھ آس لگ گئی تھی کہ وہ انہیں الو بنا کر دبوچ لے گا۔ اب تو وہ تقریباً اس کی دسترس میں تھیں۔
احد اور اس کے گھر والے بہو کا باپ ہونے کے ناطے اس کو عزت دیتے تھے۔ وہ خاندانی اور شریف لوگ تھے دوسرے پر جلد اعتبار کر لیتے تھے۔ اسی نرمی کا فاہدہ اٹھاتے ہوئے وہ بلا روک ٹوک آتا جاتا تھا اور ان کے گھر آزادی سے گھومتا پھرتا۔ ان لوگوں کو برا تو لگتا مگر مجبوراً برداشت کرتے۔ اب وہ بچے اور آحد کی نام نہاد بیوی کے زریعے بڑا فائدہ اٹھانا چاہتا تھا۔
اس کا پلان یہ تھا کہ وہ احد کی بیوی کو میکے لے جانے کے بہانے اجازت لینے آئے گا۔ چلتے وقت کوئی جھگڑا کرے گی اور ناراض ہو کر امجد بٹ کے ساتھ جانے لگے گی تو امجد بٹ اس کو دلاسےدے کر ان سے ناراضگی ظاہر کر کے لے جائے گا۔ وہاں جا کر وہ انہیں فون کرے گی کہ وہ طلاق لینا چاہتی ہے۔ امجد بٹ بھی ان کو سناے گا تو دادا، دادی بچے کے بغیر نہیں رہ سکتے۔ اور وہ ضرور منانے کی کوشش کریں گے اور وہ الگ گھر رہنے اور اس کے نام کرنے کی ضد کرے گی۔ آج وہ اس پلان کے مطابق اس سے بات چیت کرنے آیا تھا کہ گھر سے اپنا قیمتی سامان بھی اٹھا لینا۔ مگر ادھر اور مسلہ بن گیا جب وہ بچے سے پیار ظاہر کرنے کے بہانے اسے ملنے کے لیے اس کے منہ سے کپڑا اٹھاتا ہے تو وہ کھلونا نکلتا ہے۔ پاس کھڑی دادی چیخ وپکار مچا دیتی ہے اور سجل اور اس کی ماں بھی غائب ملتی ہیں۔ انہیں شک سیدھا سجل پر ہی جاتا ہے وہ اسی وقت احد کو فون کر دیتے ہیں احد کے آگے پہلے ہی ان لوگوں کا پردہ اٹھ جاتا ہے وہ اپنے دوست اے۔ ایس۔ پی۔ علی کو فون کر کے سب تفصیل بتاتا ہے۔ وہ اپنی ٹیم کو ہدایت کر کے بھیج دیتا ہے۔ نیلم پولیس کو فون کرنے کی بجائے بھائی کو کرتی ہے وہ اسے تسلی دیتا ہے کہ پولیس پہنچ رہی ہے مگر ان پر نظر رکھنا ظاہر نہ ہونے دینا۔ کسی ایک کو کمرے میں بند کر دو اگر دوسرا شک ہونے پر بھاگ بھی گیا تو پہلے سے سب اگلوا لیں گے۔ اور بچہ سجل لے کر گئی ہے تو فکر کی بات نہیں۔ نیلم کو بھائی کا سجل سے پیار برداشت نہ ہوتا تھا اس نے دل میں سوچا ماں کا رو رو کر برا حال ہے اور بھائی کو سجل پر اندھا اعتماد ہے۔ اگر وہ لے کر فرار ہو گئی تب بھائی کو پتہ چلے گا۔ احد نے باپ کو بھی فون پر سب بتا دیا اور امجد بٹ پر نظر رکھنے کا کہا۔ نیلم نے شوہر کو بھی بتا دیا اور بچوں اور ماں کو ایک ہی کمرے میں رہنے کی ہدایت کی۔ اور شوہر کو ان کے پاس خیال رکھنے کا بولا کیونکہ گھر میں پولیس نے آنا تھا اور امجد بٹ جیسے لوگ اپنے دفاع میں کچھ بھی کر سکتے تھے۔ احد کی نام نہاد بیوی کو کمرے میں بند کرنے میں کامیاب ہو گئی تھی۔ امجد بٹ مطمئن تھا کہ اتنے عرصے میں ان لوگوں پر حقیقت آشکار نہیں ہو سکی۔ مگر اسے علم نہ تھا کہ وہ سب جان چکے ہیں۔
امجد بٹ نے آتے ہی سجل سے لگاوٹ جتانی شروع کر دی۔ کہ میری بھتیجی تم کہاں چلی گئی تھی۔ اسے لگتا تھا کہ احد لوگ بھولے ہیں وہ ان کو ان کا سرپرست اور چچا بتاے گا تو وہ فوراً یقین کر لیں گے پھر گھر نام کروانے میں کوئی رکاوٹ پیش نہیں آے گی۔ وہ سوچنے لگا کہ یہ گھر سے گیئ کیوں تھی خیر پوچھ لوں گا اب تو نہیں جانے دوں گا یہ دو کمزور عورتیں میرا کیا بگاڑ لیں گی۔ سیف میں تو معمولی رقم تھی جو مجھے الو بنا کر یہ لے گئی تھی اسی لیے تو غربت والی حالت میں لگ رہی ہیں۔ احد لوگ میری مٹھی میں ہیں اگر یہ کچھ بتانا بھی چاہیں گی تو میں سنبھال لوں گا۔
اس نے سجل کو پیار جتایا تو اس نے گھور کر اسے دیکھا پھر وہ سجل کی ماں کی طرف مڑا اور فکر ظاہر کرنے لگا کہ اس نے آپ لوگوں کو بہت ڈھونڈا مگر آپ لوگ نہ ملیں۔ دیکھو آپ لوگ کس حالت میں ہو۔ اب میں آپ لوگوں کا پورا خیال رکھوں گا۔ سجل نے ماں کو آہستہ سے کہا تھا کہ ہو سکتا ہے کہ یہ پولیس والے اس کے ساتھی ہوں تو ہمیں احتیاط سے کام لینا ہو گا۔
سجل نے بچہ دادی کی گود میں دے دیا وہ جان گئی تھی کہ ان کے پاس محفوظ رہے گا کیونکہ نیلم کا شوہر اپنے بچوں اور ساس کو کمرے سے باہر نہیں آنے دے رہا تھا اور نیلم کو بھی کمرے میں رہنے کو کہہ رہا تھا پولیس خاموشی سے کھڑی تھی اور احد کے حکم کی منتظر تھی کہ سجل کو پکڑے یا امجد بٹ کو۔ امجد بٹ کے وہم وگمان میں بھی نہ تھا کہ پولیس اس کے لئے آئی ہے۔ وہ سجل کے لیے سمجھ رہا تھا اس نے پولیس والوں کو کہا سجل میری بھتیجی ہے۔ میں اسے معاف کرتا ہوں آپ لوگ واپس چلے جاو۔ اسے اصل میں ان سے الجھن ہو رہی تھی۔
احد کی سمجھ میں نہ آ رہا تھا کہ کیا کرے۔ اس نے دوبارہ علی کو فون کیا تو اس نے کہا کہ اسے فوری طور پر گرفتار کرکے تھانے بھیجو۔ اس کی ایف آئی آر کاٹوں۔
احد نے انسپکٹر سے کہا سر اس امجد بٹ کو گرفتار کر لیں۔ اس نے امجد سے کہا کہ تمھارا فراڈ کھل چکا ہے امجد بٹ نے حیران ہو کر اسے دیکھا اور پھرتی سے جیب سے پسٹل نکال کر سجل پر تان لی۔ اور وارننگ دی کہ جو آگے بڑھا میں خود تو مروں گا ساتھ اس کو بھی مار دوں گا احد نے گھبرا کر پولیس والوں کو منع کر دیا۔ سجل چیختی رہی کہ اس موزی کو مار دو میری جان بھی جاے تو کم از کم اس سے تو دنیا پاک ہو جائے گی اور وہ سجل کو بٹھا کر لے جانے میں کامیاب ہو گیا۔ وہ سجل کو دھمکی دے رہا تھا کہ اگر وہ خاموشی سے اس کے ساتھ نہ گئی تو وہ احد اور تمھاری ماں کو مار دے گا

Reader Comments
Be the first to leave a comment on this episode!
Log in to leave a comment.