Shehzadi Kay Ansu
Episodes
اسے احساس ہوا کہ ماں کے لیے تو اس نے سوچا ہی نہیں تھا۔ اس نے ماں کے لیے بھی سونے کی بالیاں ہی لے لیں۔ پہلی بار ماں کے لیے گفٹ لیتے ہوۓ ایک خاص قسم کی مسرت کا احساس ہوا جو پہلے کبھی نہ ھوا تھا۔ پھر وہ دفتر کی مصروفیات میں گم ہو گئ۔ اتنا کام تھا کہ کئی کئی دن گھر فون کرنے کا ہوش نہ ھوتا۔ کمرے میں پہنچتے ہی وہ تھک کر گر جاتی اور سو جاتی۔
ماں سے جب بات ھوتی وہ ہر بار کہتی
“وہ لوگ شادی کے لیے زور مار رھے ھیں”
وہ ذیادہ تر خاموش رہتی یا کہہ دیتی
“ٹھیک ھے” یا “اچھا”
ماں تھوڑا اونچا سنتی تھی، وہ کئی بار یہی سمجھی کہ کہہ رھی ھے ‘کر دیں شادی’
چند دنوں میں باس بھی پہنچ گئے۔ وہ اپنے ہر ملنے والے سے شمیم کو بھی ملواتے تھے اور کھل کر اس کی تعریف کرتے تھے۔ یہاں سب بلا ناغہ کلب بھی جاتے تھے۔ ڈانس ھوتا، شراب چلتی اور ہلا گلا ہوتا تھا۔
پہلی بار شمیم کو گھر سے دور اپنا وطن بہت یاد آیا۔ ماں کی نصیحتیں یاد آئیں جو وہ ہر وقت کرتی رہتی تھی۔ اس وقت وہ ذیادہ کان نہ دھرتی تھی مگر اب اسے ماں کی کہی ھوئی باتیں یاد آئیں جو روانگی سے پہلے ماں نے کہی تھیں۔ اس وقت اس نے ماں کو روکا بھی تھا، لاپرواہی بھی دکھائی مگر سننی پڑیں کیونکہ سب گھر والے موجود تھے۔ ماں نے کہا تھا
“اپنی عزت ہر حال میں بچا کر رکھنا۔ حرام چیز کو ہاتھ مت لگانا۔ برائی سے دور رہنا۔ شراب نہ پینا۔ وہاں بےپردہ نہ پھرنا، چادر اوڑھ کر نکلنا۔ وہاں کے کسی عربی کو پسند آ گئیں تو وہ مسل کر رکھ دے گا، جس طرح پھول کی خوشبو سونگ کر مسل دیا جاتا ھے”
یہاں آ کر اسے احساس ھوا کہ ماں ٹھیک کہتی ہوتی تھی کہ زہر ذرا سا ہی ھوتا ھے مگر بڑے بڑوں کی جان لے لیتا ھے۔ عزت ایک بار چلی جائے تو واپس کبھی نہیں آ سکتی۔
یہاں کے حالات زندگی دیکھ کر اس نے باس کو صاف کہہ دیا کہ مجھے میری ماں کی طرف سے سخت ہدایتیں ہیں، جن کو میں نے لازمی پورا کرنا ھے۔ میری ماں بہت سخت طبیعت کی ہیں۔ میں ماں سے بہت ڈرتی ھوں۔ وہ مجھے اکیلے آنے کی اجازت نہیں دے رہی تھیں۔ میں انہیں ہر صورت اور ہر حال میں پاک دامن اور نیک سیرت رہنے کا بھروسہ دلا کر آئی ہوں۔ یہاں میں انشاءاللہ ان کی ہدایات پر کاربند رہوں گی اور آپ سے نیک ہدایات اور اعمال کی امید رکھتی ہوں۔ باس اسکی باتیں سن کر بہت خوش ہوۓ اور اس کی مزید تعریفیں کرنے لگے۔
شمیم نے دفتر کے سبھی فنکشن میں حصہ لیا، سادے کپڑے پہنے اور چادر اوڑھے رکھی۔ ڈانس اور شراب کا جب بھی دور چلا اس نے معذرت کر لی کبھی تھکاوٹ کبھی عبادت اور کبھی سونے کا بہانہ کر لیا۔
شمیم بے شک آزاد خیال تھی، فیشن کی شوقین تھی مگر آوارہ مزاج نہ تھی۔ اسے یہاں جوں ہی گندی نظریں محسوس ہوئیں اور عزت خطرے میں نظر آئی، اس نے یہاں سادہ کپڑوں اور بغیر میک اپ کے رہنا شروع کر دیا۔ ایک بڑی سی چادر میں اپنے آپ کو ڈھانپ کر رکھتی۔ اب پارٹی پر جانے سے اکثر گریز کرتی اور طبیعت خرابی یا صبح فجر کے لیے جلدی اٹھنے کا بہانہ لگا لیتی۔ باس نے کمرے میں جاۓ نماز اور قرآن پاک کی موجودگی کا پوچھا تو اس نے اثبات میں سر ہلایا مگر اسے بہت شرم آئی۔ اسی دن کمرے میں پہنچتے ہی اس نے وضو کیا اور نماز ادا کی۔ اسے اتنا مزہ آیا اور دل کو اتنا سکون ملا کہ اس دن سے وہ باقائیدہ نماز کی پابند ھو گئی۔
گھر یاد آیا، گھر والے یاد آئے، ماں یاد آئی تو آنکھیں بھر آئیں۔ آج فون پر بھائی کا میسج تھا کہ
‘آپی! برا نہ منانا شادی کی تاریخ آپ سے پوچھے بنا ہی رکھ دی ھے’
اس نے جواب دیا
‘اس میں برا ماننے والی کیا بات ھے۔ ماں باپ کو حق ھے وہ جب چاہیں رکھیں’
بھائی کا جواب آیا
‘ماں اور پاپا خوش ہو کر دعائیں دے رھے ھیں’
وہ پھر سے سہانے سپنوں میں کھو گئی۔ اسے خوشی میں تاریخ پوچھنی یاد ہی نہ رہی اور نہ بھائی نے بتایا۔ کافی بعد میں خیال آیا تو اس نے سوچا کہ میں جاؤں گی تو ہی شادی ہی گی نا۔
اب تو اسے نماز کی بھی عادت پڑ گئی تھی۔ صبح اٹھ کر قرآن پڑھنے سے اسے بہت سکون ملتا تھا۔ وہ کھڑکی سے باہر کا نظارہ کرتی تو اسے اچھا لگتا تھا۔ صبح کا اجالا دھیرے دھیرے آتا۔ وہ سوچتی صبح اتنی حسین ہوتی ھے اس نے کبھی محسوس ہی نہ کیا تھا۔ صبح سویرے اٹھنے سے اسے سارا دن فریشنس کا ہلکا سا احساس رہتا تھا۔ اب اسے رات کو جلدی سونے کی عادت بھی پڑ گئی تھی۔
شمیم کے گھر والے شادی کی تیاریوں میں مصروف تھے اور شمیم اپنے دفتر کے کاموں میں، فون پر بھی مختصر بات ہوتی، بھائی اسے میسج پر حالات سے باخبر رکھتا تھا۔
ایک دن ماں کا فون آیا
“بیٹا تمہاری کمی بہت محسوس ہو رھی ھے۔ کل مہندی کی رسم ھے، تم بھی ھوتی تو کتنا اچھا ھوتا”
اس نے حیران ھو کر پوچھا
“ماں کل مہندی”
ماں نے لمبی سانس کھینچ کر کہا
“کیا کروں بیٹا ان لوگوں کا حکم ھے”
اس نے پھر پوچھا
“کہاں کرو گی مہندی ماں”
ماں بولی
“ہوٹل میں ھو گی۔ ہم سب مل کر اکٹھی مہندی کریں گے”
اس نے ہنس کر کہا
“دولہن کے بغیر، چلو ٹھیک ھے”
یہ کہہ کر ہنستے ھوئے اس نے فون بند کر دیا۔
اگلے دن شمیم کو صبح سے ہی خوشی کے مارے دل میں گدگدی سی ھو رھی تھی۔ اس نے آج جلدی چھٹی کا فیصلہ کیا۔ اس دن نیٹ ورک پر جیسے بہت لوڈ تھا۔ کال ہی نہیں مل رھی تھی۔ بڑی مشکل سے بھائی کو کال ملی تو اس نے فون کاٹ دیا۔ ساتھ ہی اس کا میسج آ گیا
‘ابھی بہت شور ھے، سب مصروف ھیں۔ رخسانہ اور شہزاد اسٹیج پر بیٹھے ھیں اور دولہا دولہن کو مہندی لگائی جا رہی ھے، رسمیں پوری ھو رھی ھیں۔ جب فنکشن ختم ھو گا، اس وقت بات کریں گے’
میسج پڑھ کر شمیم کے ہوش اڑ گئے۔ دولہن اور رخسانہ کے نام پر اس کے دل میں وسوسے سے اٹھنے لگے کہ کہیں شہزاد کی شادی رخسانہ سے تو نہیں ھو رھی۔ کہیں ریحانہ والا سین تو نہیں کہ میری جگہ رخسانہ کو پسند کیا گیا ھو۔ اس کا دماغ شائیں شائیں کرنے لگا۔ اب کیا کرے کس سے پوچھے، تصدیق کرے۔ اس نے ریحانہ کو کال ملائی تو اس نے بھی کاٹ دی اور میسج کیا
‘میں رخسانہ اور شہزاد کی مہندی کی رسم ھو جانے کے بعد کال کرتی ھوں’
اس کے بھی رخسانہ اور شہزاد لکھنے پر شمیم کا شک یقین میں بدل گیا۔ اس کی آنکھوں سے آنسو آبشار کی مانند بہنے لگے۔ آج پھر وہ خوش فہمی میں مبتلا ھو کر ہار گئی تھی۔ خود سے پوچھنے لگی کہ یہ کیا ھوا۔ روتے بلکتے اس پر مدہوشی طاری ہو گئی۔ فون کی گھنٹی بجی تو اسے ہوش آیا، امید کی ہلکی سی کرن جاگ اٹھی کہ فون پر بات کرنے پر پتہ چلے کہ یہ سب جھوٹ تھا اور ساتھ ہی یہ امید بھی ختم ہو گئی اور روتے روتے اس کی ہچکی بندھ گئی۔ اس کو اپنے دل میں درد سا محسوس ہو رہا تھا۔ اس حقیقی سچائی کو سننے کا حوصلہ نہیں ھو رھا تھا۔ اسے یاد آ رہا تھا کہ گھر میں وہ دلچسپی ہی کب لیتی تھی۔ کسی کی بھی پوری بات نہیں سنتی تھی۔ کسی سے بھی گپ شپ نہیں لگاتی تھی۔ ہر وقت اپنی ہی دنیا میں مگن رہتی تھی۔ فالتو ٹائم میں میوزک میں گم رہنا یا کمپیوٹر پر فلمیں دیکھنا اس کا محبوب مشغلہ تھا۔
بھائی کافی دیر کالیں کرتا رھا، میسج بھی کیے مگر شمیم کو بات کرنے کا حوصلہ نہ ھوا۔ بہت دیر بعد ہمت جوڑ کر فون اٹھایا اور بھائی کو کال ملائی۔ بھائی نے جھٹ فون اٹھایا اور کہنے لگا
“کہاں تھی میں کالیں کر رھا تھا”
وہ بولی
“واش روم میں تھی”
بھائی جھٹ بولا
“آپ اتنی آہستہ کیوں بول رھی ھیں، طبیعت تو ٹھیک ھے نا آپ کی؟”
وہ بولی
“ہاں ٹھیک ھے”
پھر ہمت کر کے پوچھا
“فنکشن کیسا رھا؟ دولہا دولہن کیسے لگ رھے تھے؟”
دولہن کہتے ھوئے حلق میں جیسے پھندہ سا لگ گیا۔ دل میں یہی آس تھی کہ صرف دولہا سننے کو ملے۔ بھائی ساری کتھا سنانے کو تیار بیٹھا تھا، اس نے نان سٹاپ بولنا شروع کر دیا۔ پہلے شہزاد اور رخسانہ کی خوب تعریفیں کیں، پھر ہر ایک کا نام لے کر بتانا شروع کر دیا۔ شمیم نے بڑی مشکل سے اسے روکا اور ماں سے بات کرانے کا کہا۔ اس نے جھٹ سے فون ماں کو پکڑا دیا جو پاس کھڑی شمیم کی آواز سننے کی کوشش کر رھی تھی۔ ماں کے ہیلو کرنے پر اس نے پہلے سلام کیا تو ماں حیران رہ گئی۔ اس نے پہلے ماں کو کبھی سلام نہیں کیا تھا ہمیشہ ہیلو کہا تھا۔ ماں نے جواب میں دعائیں دیں تو شمیم کی آواز بھرا گئی۔ ماں کی آواز اسے بہت میٹھی لگ رھی تھی۔ روتے ھوئے بولی
“ماں کس کے لیے جیوں، کیا فائدہ ایسی زندگی کا”
ماں پہلے حیران ھوئی پھر پیار بھرے انداز میں سمجھانے لگی۔ وہ دکھ سے اور رونے لگی۔ آج اسے ماں کے کندھے پر سر رکھ کر رونے کو جی چاہ رھا تھا۔ ماں نے گھبرا کر پوچھا
“بیٹی کیا بات ھے تم اتنا کیوں رو رھی ھو”
اسی وقت شمیم چونک پڑی، اسے احساس ھوا کہ اب حوصلہ کرنا چاہیے۔ جو ھونا تھا ھو چکا اب رونے کا کوئی فائدہ نہیں، امپریشن ہی خراب ھو گا۔ اس نے بات بنائی
“ماں بہن کی شادی ھے اور میں اتنے دور”
ماں بولی
“ہاں بیٹا مجھے بھی احساس ھے مگر کیا کروں۔ میں نے تو بہت کہا تھا کہ شہزادی آ جاۓ تو شادی کروں گی مگر ہمارے داماد شہزاد نے مزید انتظار سے انکار کر دیا۔ وہ ہماری رخسانہ کو پسند جو کر بیٹھا تھا۔ ریحانہ کی طرح رخسانہ کا نصیب بھی کھل گیا۔ اسے اس سے ذیادہ اچھا اور امیر بر ملا ھے۔ میں تو بہت خوش ھوں۔ تمہاری وجہ سے ہماری عزت رہ گئی۔ تم نے جو قیمتی کپڑے لا کر دیے تھے، انہیں میں رخصت ھوئی ہماری رخسانہ۔ اس کی ساس تمہاری بہت تعریف کرتی رہتی ھے کہ بہن ھو تو ایسی، جو جاتے جاتے سب تیاری کرا کر گئی ھے۔ اس کی چوائس بہت اچھی ھے۔ بہت اچھی بچی ھے اور اپنی بہن سے بہت پیار کرتی ھے۔ انہوں نے تمہارا نمبر لیا ھے، فون کریں گی تمہیں۔ تم اب رونا نہیں، دعا کرو تمہاری بہن اپنے گھر میں خوش رھے۔”
اس نے فون بند کر دیا۔ ماں نے سمجھا فون کٹ گیا۔ اس نے سب کو بتایا کہ شہزادی اداس تھی اور رو رھی تھی۔ یہ سن کر سبھی اداس ھو گئے، رخسانہ نے تو رونا شروع کر دیا اور اس سے بات نہ کرانے کا گلہ بھی کیا۔
شمیم اب اپنے آپ کو سنبھالنے میں لگی تھی۔ اپنے آپ کو مضبوط بنانے کی پوری کوشش کر رھی تھی۔ اس نے سوچ لیا کہ وہ کسی پر یہ ظاہر نہیں ھونے دے گی کہ اس کو کیسی غلط فہمی ہوئی۔ ماں کی باتیں یاد کر کے اسے افسوس اور شرمندگی ھو رھی تھی کہ اس نے ساس کے لیے قیمتی سوٹ خریدا اور ماں باپ کو بھول گئی، بھائی کو بھول گئی۔ ان کے کپڑے کہیں کم تر نہ ھوں۔ ایک دم اسے اپنوں کی محبت کا احساس ھونا شروع ھو گیا۔ اس نے جوش میں دوبارہ فون کیا تو ماں نے اٹھایا۔ ماں کے بولنے سے پہلے اسے رخسانہ کی بے چین اور روتی ہوئی آواز آئی کہ ‘میری بھی بات کرانا۔’ ماں نے اسے ہی فون پکڑا دیا اور کہا
“تم پہلے بات کر لو کہیں پھر فون کٹ نہ جاۓ۔”
پھر ماں نے فون پر شمیم کو کہا
“بیٹا پہلے رخسانہ سے کرو، یہ تمہیں یاد کررہی تھی اور رو رہی تھی”
شمیم کو شاک لگا کہ رخسانہ اسے یاد کر کے رو رھی تھی۔ اس نے تو کبھی رخسانہ اور ریحانہ دونوں سے سیدھے منہ بات نہ کی تھی۔ ہمیشہ ان پر حکم چلایا، رعب جھاڑا اور کام کرایا۔ وہ شرمندہ ھو گئی اور اپنے آپ پر افسوس کرنے لگی۔
رخسانہ نے پہلے ادب سے سلام کیا اور پھر بڑے پیار اور اپنائیت سے بولی
“آپا آپ کیسی ہیں؟ میں نے آج اس اہم دن پر آپ کی کمی بہت محسوس کی ھے۔”
ساتھ ہی اس نے رونا شروع کر دیا۔
اہم دن، شمیم نے سوچا۔ رخسانہ کو اتنی عقل کہاں سے آ گئی کہ وہ اس دن کی اہمیت کو سمجھے۔
ماں نے پیار سے رخسانہ کی کمر پر ہاتھ پھیرا تو وہ سنبھل گئی اور اعتماد کے ساتھ شمیم کا شکریہ ادا کیا، کہنے لگی
“اس خاص دن پر بہت اہتمام کیا گیا تھا۔ مجھے پیار اور محبت ملی۔ سب میرے سوٹ کی تعریف کر رھے تھے، جو آپ نے خریدا تھا۔ کاش آپ بھی دیکھ سکتی۔ میں نے سب سوٹ سلوا لیے ہیں۔”
شمیم نے آہستہ سے پوچھا
“سب سلوا لیے ھیں”
رخسانہ شرما کر بولی
“ہاں آپا وہ شہزاد کو بہت پسند آۓ تھے۔ انہوں نے ماں کو کہا تھا کہ سب سلوا لیں۔ اسی لیے”
وہ شہزاد کا نام بڑے اعتماد سے لے رہی تھی۔ پھر رونے لگی۔ ذرا سنبھل کر دوبارہ بولی
“آپا کل میرا نکاح ھے، میں پرائی ھو جاؤں گی۔ اپنی پیاری بہن کے بغیر ہی یہ بندھن جورنا پڑے گا۔ کاش آپ بھی میرے پاس ھوتی۔”
اسی لمحے شمیم کو خیال آیا ‘کاش کل اس کا نکاح نہ ھو اور شہزاد میرا ھو جاۓ’ مگر دوسرے ہی لمحےضمیر نے ملامت کی اور وہ اپنی گھٹیا سوچ پر شرمندہ ھو گئی۔ اس نے پہلے اپنے آپ کو اکٹھا کیا، اپنی ہمت بندھائی اور اس حقیقت کو تسلیم کیا۔ پھر دل سے دعا دیکر کہا
“میری دعائیں دور رہ کر بھی تمہارے ساتھ رہیں گی۔ تم شہزاد کے ساتھ خوش رھو اور سکھی جیون گزارو”
رخسانہ جھٹ بولی
“شکریہ آپا، اپنا خیال رکھنا”
یہ کہہ کر فون ماں کو پکڑا دیا۔ آج ماں ڈانٹ ڈپٹ کے بجاۓ بڑے پریم سے بات کر رھی تھی۔
اچانک شمیم کو خیال آیا کہ جس کام کے لیے فون کیا تھا وہ تو بھول ہی گئی۔ اس نے ماں سے پوچھا
“ماں! آپ نے شادی پر کپڑے کون سے پہنے تھے”
ماں کی دھیمی سی آواز آئی
“ریحانہ کی شادی والے۔ وہ بھی تو نئے ھی ھیں۔ ہم سب گھر والوں نے وہی پہنے تھے”
شمیم کو بہت رنج محسوس ھوا۔ اس نے بھرائی ھوئی آواز میں کہا
“ماں نئے سلوا لیتیں”
ماں بولی
“پیسے نہیں ھیں۔ نہ نہ کرتے بھی اتنا خرچہ ھو رھا ھے۔ اپنے رشتہ دار اور دوسرے مہمان دور دور سے شادی میں شامل ھونے آۓ ھیں۔ شادی ختم ھونے تک یہیں رکیں گے۔ بہت خرچہ بڑھ گیا ھے”
شمیم کے دل پر چوٹ لگی، بولی
“ماں میں پیسے بھجوا دوں”
ماں نے اس کی بات کاٹی
“نہ نہ بیٹا، آگے ہی تم نے اتنا ذیادہ کر دیا ھے”
شمیم نے کہا
“یہ تو میرا فرض تھا آخر وہ میری چھوٹی بہن ھے”
ماں بولی
“سچ ھے تم نے چھوٹی بہن کے لیے اتنی قیمتی چیزیں خریدیں جیسی تم اپنے لیے خریدتی۔ تم نے فرق نہ رکھا۔ مجھے تم پر فخر ھے۔ اب بس کر دو۔ اب پیسے بچا کر کچھ اپنا بناؤ۔ تم بھی تو محنت کر رھی ھو اتنے دور پردیس میں گئی ھو”
شمیم کے دل میں خیال آیا کہ یہ سب چیزیں تو اصل میں اس نے اپنے لیے لی تھیں۔ گھر والوں کا تو اسے خیال ہی نہ آیا تھا۔ وہ خوشی اور غرور میں مگن تھی۔ وہ تو دوبئی عیاشی اور سیر سپاٹے کے لیے آئی تھی نہ کہ گھر والوں کی سپورٹ کے لیے۔ کبھی موڈ ھوتا تو گھر والوں کے لیے کچھ کر دیتی ورنہ نہ کرتی۔ وہ بولی
“ماں میں نے باس اور آفس والوں کو بھی بتایا تھا کہ میری بہن کی شادی ھے”
وہ تو اس نے جھوٹ بولا تھا مگر آج اسی جھوٹ کی وجہ سے اس کا پردہ رہ گیا تھا۔ دوسرے دن وہ نڈھال سی سرخ آنکھیں لیے جب آفس پہنچی سب نے محسوس کر لیا۔ پوچھنے پر اس نے بہانہ بنایا
“کل میری بہن کی مہندی تھی، میں شامل نہ ھو سکی، اس کو مس کیا ھے”
باس نے حیرانگی سے اسے دیکھا اور بولا
“تم نے مجھے پہلے کیوں نہیں بتایا۔ میں تمہیں ایک ہفتے کے لیے پاکستان بھیج دیتا اور تم شادی اٹینڈ کر کے واپس آ جاتی”
اور ساتھ ہی کچھ سوچتے ھوۓ دوبارہ بولا
“میں ابھی تمہیں واپس بھیجنے کا بندوبست کرتا ھوں، تم اپنی بہن کو اتنا پیار کرتی ھو۔ اسے اتنا مس کر رھی ھو کہ اپنی حالت بری کر لی ھے”
شمیم گھبرا گئی، بولی
“نو نو سر میں ٹھیک ھوں”
اسے فکر لگ گئی کہ واقعی کہیں باس اسے پاکستان بھیج ھی نہ دے۔ وہ شہزاد کی شادی رخسانہ سے، یہ منظر دیکھ ھی نہ سکے گی۔ وہ دولہن کا جوڑا جو اس نے بڑے شوق سے اپنے لیے خریدا تھا، وہ رخسانہ نے پہنا ھو گا۔ اس نے جلدی سے کہا
“سر میں اپنی چھوٹی بہن سے بہت پیار کرتی ھوں اور میں اسے جدا ھوتے ھوۓ بھی نہیں دیکھ سکتی۔ اس لیے میں یہاں چلی آئی تاکہ میرے پیچھے اس کی شادی ھو جاۓ۔ میں یہاں برداشت کر لوں گی”
سب نے واہ واہ کی کہ محبت ھو تو ایسی۔ اس کی ساتھی بولی
“سر دیکھیں ذرا آجکل کے دور میں ایسی محبت۔ یہ تو پاگلوں کی طرح روزانہ شاپنگ کرتی تھی۔ اپنی بہن کے لیے قیمتی سے قیمتی تحفے خریدتی تھی”
شمیم اندر ہی اندر شرم سے گڑی جارھی تھی۔ سب نے اسے تسلی دی۔ باس نے چھٹی کر کے آرام کرنے کا مشورہ دیا جو اس نے قبول کر لیا۔
وہ دو دن اپنے کمرے میں ہی رہی۔ یہی سوچتی رہی کہ اس کی قسمت کے ساتھ یہ کیسا ہیر پھیر ھے۔ اسے تو اپنی خوبصورتی اور قابلیت پر ہمیشہ ناز رہا تھا۔ اس کا باس اس کی اسی قابلیت کی وجہ سے اسے بہت اہمیت دیتا تھا اور اس پر اعتماد کرتا تھا۔ مگر یہاں لڑکے اس کی پینڈو بہنوں میں نہ جانے کیا دیکھتے کہ فدا ھو جاتے۔ اسے یہ تو معلوم تھا کہ یہ رشتہ شہزاد کی پسند سے آیا ھے تو اس نے خود ہی سوچ لیا کہ ظاہر ھے میرے لیے ہی ھے۔ یہ تو اس کے وہم و گمان میں بھی نہ تھا کہ وہ اس کے ھوتے ھوۓ ریحانہ کو پسند کر لے گا۔ دو دن اس نے نہایت کرب میں گزارے پھر آخرکار اپنے آپ کو سمجھا ہی لیا کہ جو ھونا تھا ھو گیا ھے اب سوگ منانے سے کیا فائدہ۔ اس کے دل میں ایک امید جاگی شاید اس سے بھی اچھا اور ہینڈسم لڑکا اسے مل جاۓ۔ اس کا بھی ایک اچھا سا رشتہ آ جاۓ۔ شہزاد کون سا ہینڈسم تھا، معمولی شکل و صورت کا مالک تھا، بس دولت تھی۔ اس کے پیچھے میں کیوں مری جا رھی ھوں۔ پھر وہ اپنی روٹین میں آ گئی۔
دوبئی کا ٹور ختم ھوا۔ اس نے ڈھیروں شاپنگ کی اور بھائی کو اپنے آنے کا بتا دیا۔ ائرپورٹ پر کھڑی بھائی کا انتظار کر رہی تھی مگر ایک گھنٹہ گزر گیا تھا اور بھائی کا کوئی اتا پتا نہ تھا۔ اس نے گھر فون کیا تو پتہ چلا کہ بھائی بہت پہلے کا گھر سے نکل چکا ھے۔ وہ اب فکرمند ھو رھی تھی۔ ذرا فاصلے پر ایک لڑکا کھڑا فون پر کسی سے باتیں کر رہا تھا۔ شمیم نے نوٹ کر لیا تھا کہ وہ ہینڈسم لڑکا جو قیمتی لباس میں ملبوس تھا اور فون پر مصروف تھا مگر بہانے بہانے سے اسے ہی دیکھے جا رہا تھا۔ کچھ دیر بعد وہ ذرا قریب آیا اور کہنے لگا
“میڈم معاف کیجیے گا، میں کافی دیر سے دیکھ رہا ھوں کہ آپ اکیلی کھڑی ہیں اور پریشان لگ رہی ھیں۔ کیا میں آپ کی کوئی مدد کر سکتا ھوں”
شمیم کو اس کا اس طرح بے باک طریقے سے دیکھنا اور بات کرنا اچھا نہیں لگا، بولی
“سوری مجھے کوئی پرابلم نہیں ھے۔ آپ جا سکتے ھیں”
رات کے ڈھائی بج چکے تھے اور سامان بھی ذیادہ تھا۔ بھائی نے کہا تھا کہ محلے کے ایک واقف کار کی ٹیکسی لے کر آؤں گا مگر ابھی تک نہ پہنچا تھا اور فون بھی نہ اٹھا رہا تھا۔ شمیم کا تھکاوٹ سے برا حال تھا۔ اچانک اس کے بھائی کا فون آ گیا۔ شمیم نے جلدی سے فون اٹھایا اور غصے سے بولی
“میں کتنی دیر سے انتظار کر رہی ہوں آ کیوں نہیں رہے”
بھائی نے کراہتے ہوۓ کہا
“آپا میں بائیک پر آ رہا تھا۔ ایک دوست کی طرف جانا تھا کہ اس کی ٹیکسی میں آپ کو لینا تھا مگر میرا ایکسیڈنٹ ھو گیا ھے اور میں زخمی ھوں۔ ایمبولینس والے مجھے ہسپتال لے آۓ ھیں”
وہ گھبرا کر رونے لگی۔ وہی لڑکا تیزی سے پاس آیا اور بولا
“پلیز میرا اعتبار کیجیے، آپ بتائیں میں آپ کی ہر ممکن مدد کرنے کو تیار ھوں۔ آپ گھر والوں کو فون کر کے میری گاڑی کا نمبر نوٹ کروا دیں۔ میرا موبائل نمبر بھی نوٹ کروا دیں۔ میرا یقین کریں میں ایک شریف آدمی ھوں۔ آپ ہر طرح کی تسلی کر لیں بلکہ میرے گھر والوں سے بات کر لیں۔ آدھی رات کا وقت ھے اور آپ اکیلی ہیں۔ آپ کسی اور پر اعتبار کر کے دھوکا بھی کھا سکتی ھیں”
شمیم کو برا تو لگ رہا تھا اور ایک انجانہ سا ڈر بھی مگر پھر ہمت کر لی اور اس کی مدد لینے پر رضامند ھو گئی۔ اسے بھائی کے متعلق بتایا اور کہا
“میں بھائی کو دیکھنے پہلے ہسپتال جاؤں گی”
پھر اپنا سامان اس کی گاڑی میں رکھوایا۔ اتنے میں گھر سے فون آ گیا۔ یہ سوچ کر گھر والے پریشان نہ ھوں، بولی
“میں آ رھی ھوں آپ فکر نہ کرنا۔ ذرا لیٹ ھو جاؤں گی، راستے میں ایک کام نمٹا کر آتی ھوں۔ بھائی میرے ساتھ ھے”
وہ لڑکا بولا
“ماشاءاللہ آپ کافی عقلمند ہیں۔ اپنے گھر والوں سے بہت پیار کرتی ہیں اور انہیں پریشان نہیں کرنا چاہتیں”
شمیم کو اس وقت یہ تعریفیں بری لگ رہی تھیں۔ اسے اب جلدی سے اپنے بھائی کے پاس جانے کی پڑی تھی۔ اس نے صرف سر ہلانا کافی سمجھا۔ اس نے گاڑی کا نمبر بھائی کو میسج کر دیا۔ اس لڑکے نے شمیم کے لیے گاڑی کا اگلا دروازہ کھولا مگروہ اللہ پر بھروسہ کر کے گاڑی میں پچھلی نشست براجمان ھو گئی۔ اسے آگے بیٹھنا اچھا نہ لگا تھا۔ بیٹھتے ہی فون کر کے بھائی کو سب بتا دیا کہ ایک اجنبی کے ساتھ آ رہی ہوں۔ اجنبی کے نام پر بھائی پریشان ہو گیا مگر اس نے تسلی دی اور فون بند کر دیا۔ اسے بھائی کی فکر ہو رہی تھی اور اس کی آنکھوں سے آنسو جاری تھے۔ اس لڑکے نے اسے ٹشو پکڑایا تو اسے احساس ہوا کہ وہ شیشے میں اسے دیکھے جا رہا ھے۔ اسے سخت ناگوار گزرا اور اس نے شکریہ کہہ کر اپنے پرس سے رومال نکال لیا اور سر نیچے کر کے بیٹھ گئی۔
ہسپتال پہنچ کر وہ دوڑتی بھائی کے پاس گئی، اس کو پیار کیا اور شکر کیا کہ اسے ذیادہ چوٹیں نہیں آئی تھیں۔ بھائی نے اپنے دوست کو بھی فون کر دیا تھا اور وہ بائیک ٹھیک کروا کر لے آیا تھا۔
وہ لڑکا بڑے تپاک سے شمیم کے بھائی سے ملا اور اسے عامر کے نام سے اپنا تعارف کروایا۔ شمیم کے بھائی کو ہسپتال والوں نے مرہم پٹی کے بعد فارغ کر دیا تو عامر انہیں لے کر گھر چھوڑنے چل پڑا۔
گھر پہنچ کر ابّا کو تمام صورتحال سے آگاہ کیا تو وہ بہت متاثر ہوۓ۔ عامر کا شکریہ ادا کیا، عزت سے بٹھایا، چاۓ پلائی اور دوبارہ آنے کا اصرار کیا۔ عامر کی دلی مراد بھر آئی۔ وہ پہلے ہی یہاں دوبارہ آنا چاہتا تھا۔ اس کو سب گھر والے ہی اپنی مرضی کے مطابق نظر آۓ۔ اس نے دوبارہ آنے کی حامی بھر لی۔ ابا نے اسے کھلی اجازت دے دی کہ جب چاھے ان کے گھر آ سکتا ھے۔ اس نے شکریہ ادا کیا اور شمیم پر ایک بھرپور نظر ڈال کر رخصت ھو گیا۔
شمیم کو گھر آ کر ایک سکون سا مل گیا۔ اس نے سوچا کہ چاہے پوری دنیا گھوم لو مگر سکون اپنے چھوٹے سے گھر میں ہی ملتا ھے نہ کہ ہوٹل کے بڑے بڑے کمروں میں۔
عامر نے تو گھر کے چکر پہ چکر لگانے شروع کر دیے۔ اوچھی باتیں کرنا تو جیسے اس کی عادت تھی۔ شمیم کی تو بہت تعریف کرتا۔ اس سے پیار جتانے کی کوشش کرتا، جیسے اس پر مرتا ھو مگر اس نے قطعی لفٹ نہ کروائی۔ گھر والے مرّوت میں رہتے کہ مشکل وقت میں مدد کی تھی۔ وہ جب بھی آتا کچھ نہ کچھ کھانے پینے کی چیزیں لے کر آتا۔ ماں کو تو اب شمیم کا گھر بستا نظر آ رہا تھا۔ ابا بھی اسی آس میں اسے خوب لفٹ دیتے مگر شمیم کو تو اسے دیکھ کر ہی کوفت ھونا شروع ھو جاتی۔ وہ اس سے جان چھڑانا چاہتی تھی مگر بے سود۔
گھر والے خوش تھے کہ دونوں بیٹیوں کی اچھی جگہ شادی ھو گئی۔ رخسانہ اور ریحانہ دونوں بڑی شان سے بڑی بڑی گاڑیوں میں آتیں۔ محلے والے بھی ان پر رشک کرتے۔ وہ شمیم کے بارے میں بھی یہی سوچتے کہ جلد ہی وہ بھی ایک امیرزادے سے بیاہی جاۓ گی کیونکہ عامر بھی ایک بڑی سی گاڑی میں ہیرو بن کر آتا۔ آنکھوں پہ چشمہ، قیمتی کپڑے، ہینڈسم سمارٹ، محلے والے چہ مگویاں کرنے لگے تھے۔
گھر والے حیران تھے کہ شمیم امیر اور ہینڈسم ڈھونڈتی تھی، اب مل رہا ھے تو لفٹ ہی نہیں کرا رہی۔ شمیم خود بھی حیران تھی۔ گھر والوں نے الٹی میٹم دے دیا کہ اب تمہاری شادی ھو جانی چاہیے۔
آپا مسرت محلے کی بی بی سی تھی۔ وہ کافی تیز عورت اور چالاکی میں مشہور تھی۔ وہ شمیم کی تائی بھی تھی۔ محلے میں ہر لڑکے اور لڑکی کی اسے معلومات تھی اور وہ رشتہ بھی کرواتی تھی۔ اس کے دو بیٹے تھے، جن میں ایک امتحان پاس کر کے پولیس انسپکٹر بن چکا تھا اور دوسرا جاب کرتا تھا۔ اس کا بڑا بیٹا عقیل شمیم کا ہم عمر تھا اور دو بچوں کا باپ بن چکا تھا۔ وہ شمیم کو بچپن سے چاہتا تھا اور وہ اس کی منگ تھی مگر شمیم کے شادی سے انکار پر بھی ناراض نہ تھا وہ اب بھی اس کی بہت عزت کرتا تھا اور اس کا خیال رکھتا تھا۔ شمیم کو کوئی مسئلہ درپیش ھوتا تو وہ عقیل سے ہی مشورہ کرتی تھی۔
کچھ عرصہ پہلے تک شمیم ایک اسکول میں ٹیچر تھی۔ یہاں اس کی تنخواہ کم تھی حالانکہ اس نے ایم بی اے کیا ھوا تھا۔ پھر اسے ایک بنک میں جاب کا پتہ چلا۔ وہ عقیل کے پاس مشورہ کے لیے آئی کہ کوئ ایسی نوکری مل جاۓ جس میں تنخواہ بہتر ھو۔ عقیل نے اسے ایک پرائیویٹ فرم میں جاب کا بتایا جہاں تنخواہ کافی اچھی تھی اور وہ ایک جاننے والے کی مدد سے بآسانی دلا سکتا تھا۔ صرف جاب برقرار رکھنے کے لیے خود محنت کرنا تھی۔ عقیل نے اسے بتایا کہ
“وہاں کا باس بہت اچھا آدمی ھے اور میں ابھی تک اس سے ملا ھوا نہیں ھوں۔ اگر تم راضی ھو تو اپنے جاننے والے سے سب معلومات لے کر تمہیں وہاں جاب دلواؤں گا”
شمیم کو عقیل پر پورا بھروسہ تھا، اس نے ہاں کر دی۔ کچھ ہی دنوں بعد عقیل دوبارہ شمیم سے ملا اور اسے تسلی دی کہ اس نے تمام چھان بین مکمل کر لی ھے اور تیاری کر لے۔ یوں شمیم جاب کے لیے یہاں پہنچی اور جاب شروع کر دی۔ آج اسی جاب کی وجہ سے وہ اتنی خوشحال تھی کہ اس کی دونوں بہنوں کی شادی اچھے طریقے سے انجام پائی تھیں۔
شمیم کا بھائی پڑھنے لکھنے کا اتنا شوقین نہیں تھا۔ اسے باہر جانے کا شوق تھا۔ اس کا ایک دوست سعودیہ گیا تو سب گھر والوں منتیں کرنے لگا کہ اس نے بھی جانا ھے۔ سب سے اس نے یہی کہا کہ کسی طریقے سے میرے ٹکٹ کا بندوبست کر دیں، میں وہاں جاتے ہی پیسے بھیج دوں گا۔ شمیم نے کر دیا تو وہ چلا گیا۔ اب گھر میں صرف ماں باپ رہ گئے تھے۔
آج پھر ایک بڑے ہوٹل میں فنکشن تھا۔ شمیم نے بھی جانا تھا۔ جب سے وہ دوبئی سے آئی تھی، کافی بدل گئی تھی۔ اب وہ چادر لینے لگی تھی اور نماز بھی باقائیدگی سے پرھنے لگی تھی۔ اس کو بدلا ھوا دیکھ کر ماں نے سکون کا سانس لیا تھا۔
باس نے اپنے ایک خاص مہمان کے لیے ایک کمرہ کا بندوبست بھی کیا ھوا تھا۔ اس کے لیے ایک تحفہ بھی تھا جو شمیم کی ذمہ داری تھی۔ اسی نے وہ تحفہ پیش کرنا تھا۔ تحفہ چھوٹا سا تھا مگر پیکنگ بہت خوبصورت تھی۔ شمیم جلدی میں، غلطی سے وہ تحفہ گھر ہی بھول گئی اور فنکشن میں پہنچ گئی۔ وہاں تحفہ دینے سے چند لمحے قبل اسے یاد آیا کہ وہ تحفہ تو گھر ہی بھول آئی ھے۔ وہ گھبرا گئی، ڈرتے ڈرتے باس کو بتایا تو وہ غصہ ھو گئے اور کہنے لگے
“ابھی گھر جاؤ اور لے کر آؤ”
شمیم سر پٹ بھاگی اور گھر پہنچی۔ ابا ٹی وی دیکھ رہے تھے، بولے
“آگئی بیٹی”
شمیم نے گفٹ اٹھایا اور ابا کو بتایا
“نہیں ابا ابھی جانا ھے۔ باس نے کسی کو دینے کے لیے ایک گفٹ دیا تھا وہ میں گھر بھول گئی تھی۔ وہی لینے آئی ھوں”
ابا بولے
“رات پڑ گئی ھے، اب اکیلی کیسے جاؤ گی۔ صبح چلی جانا اور گفٹ دے دینا”
شمیم نے باس کا نمبر ملایا۔ چند گھنٹیاں بجیں پھر فون آف ھو گیا۔ اس نے ایک اور کوشش کی مگر بے سود۔ وہ بولی
“ابا مجھے یہ گفٹ آج ہی پہنچانا ھے۔ باس نے کسی خاص مہمان کو دینا ھے۔ میرا جانا ضروری ھے”
ابا خاموش ھو گئے تو وہ بولی
“فکر نہ کریں میں جلدی آنے کی کوشش کروں گی۔ کھانا نہیں کھاؤں گی بس گفٹ پکڑا کر آ جاؤں گی”
شمیم جلدی سے باہر آئی، ٹیکسی پکڑی اور چل پڑی۔ ہوٹل پہنچ کر سیدھی کمرے میں گئی۔ اس کا باس کمرے میں مہمان کے ساتھ انتظار کر رہا تھا۔ اس کا مہمان بھی اسی کی عمر کا تھا۔ باس نے اسے دیکھتے ہی پوچھا
“گفٹ لے آئی ھو”
شمیم نے اثبات میں سر ہلایا اور گفٹ باس کو پکڑا دیا۔ اسے پیاس لگ گئی تھی، اس نے جگ سے گلاس میں پانی ڈالا اور پینے لگی۔ اتنے میں دروازہ آدھا سا کھلا اور عقیل وردی میں کمرے کے باہر کھڑا نظر آیا۔ دولوں نے ایک دوسرے کو دیکھا اور حیران رہ گئے۔ عقیل نے اسے فوری باہر جانے کا اشارہ کیا۔ کمرہ کافی بڑا تھا اور شمیم کے باس اور اس کے مہمان کی نظر دروازے پر نہیں پڑی تھی۔ وہ اگلے کونے میں کھڑے آپس میں باتیں کر رھے تھے۔ شمیم فوری سمجھ گئی کہ کچھ گڑبڑ ھے۔ وہ تیزی سے دروازے کی طرف چل دی اور عقیل کے پاس پہنچی۔ اس نے لفٹ کی طرف اشارہ کیا تو وہ تیز قدموں سے ادھر چل پڑی۔ وہ ہوٹل سے باہر نکلی تو وہی ٹیکسی ابھی موجود تھی۔ وہ لپک کر اس میں بیٹھ گئی اور ڈرائیور کو واپس چلنے کا کہا۔ اسی وقت پولیس کی ایک گاڑی سائرن بجاتی ھوئی ہوٹل میں داخل ہوئی۔ شمیم نے حیرانگی سے اسے دیکھا اور ڈرائیور کو کہا
“جلدی چلو”
وہ گھبرائی ہوئی گھر پہنچی تو دیکھا ابا گیٹ کھول کر اس کا انتظار کر رہے تھے۔ اسے دیکھتے ہی بولے
“شکر ھے بیٹی تم گھر آ گئیں، ابھی ابھی ٹی وی پر خبر آئی ھے کہ اس ہوٹل میں چھاپہ پڑا ھے اور کچھ منشیات فروش گرفتار ھوۓ ھیں”
شمیم ٹی وی کے پاس پہنچی تو دیکھا کہ اس کا باس اور اس کا مہمان بھی زیرحراست ہیں۔ اس پر گھبراہٹ طاری ہو گئی۔ وہ جلدی سے کچن میں چلی گئی۔ اس وقت تک وہ پسینہ میں پوری طرح نہا چکی تھی۔ تھوڑی ہمت جمع کی اور واپس آ کر تمام حقیقت ابا اور امی کو گوش گزار کر دی۔ وہ دونوں بھی پریشان ھو گئے۔ پھر ابا بولے
“عقیل کو فون کرو۔ اسی نے تو یہ نوکری دلوائی تھی”
عقیل کو فون کیا مگر اس کا فون نہیں لگ رہا تھا۔ بار بار ٹرائی کے بعد آخر اس کا فون لگ گیا۔ ابا نے فون شمیم کے ہاتھ سے لے لیا اور گھبرائی ہوئی آواز میں کہنے لگے
“بیٹا تم نے سنا ہو گا آج کی خبر”

Reader Comments
Be the first to leave a comment on this episode!
Log in to leave a comment.