Shehzadi Kay Ansu
Episodes
شمیم کو ماں زور زور سے آوازیں دے رہی تھی مگر وہ کانوں میں ہیڈفون لگاۓ لیٹی ٹانگیں ہلا ہلا کر میوزک کے مزے اٹھا رہی تھی۔ ماں کمرے میں آئی تو اسے دیکھ کر برا سا منہ بنا کر بولی
“تو لائف میں کیا کرے گی، تیرا کیا ہو گا مجھے نہیں پتہ”
ساتھ ہی دونوں ہاتھ کان پر رکھ لیے اور غصّے میں بولی
“اے لاپرواہ لڑکی تمہارے پاپا چاۓ مانگ رہے ہیں تمہیں بنانے کو کہا تھا اور تم یہاں آرام سے لیٹی ھو”
شمیم اٹھ کر بیٹھ گئ اور اطمینان سے بولی
“میں نے ریحانہ سے کہہ دیا ھے وہ بنا رھی ھے”
اس کی بات سن کر ماں غصے میں بڑبڑائی
“تمہارے ہاتھوں میں تکلیف ھوتی ھے ایک کپ چاۓ بنانے میں”
شمیم اترا کر بو لی
“میں تو شہزادی ھوں، مجھے تو تکلیف ھو گی ہی نا”
اتنے میں پاپا وہاں سے گزرے اور آوازیں سن کر اندر آ گئے اور بولے
“میری شہزادی کو کچھ مت کہو یہ ٹھیک کہتی ھے”
ماں نے ماتھا پیٹا اور بولی
“آپ اس کا دماغ خراب کر رھے ھیں، کس دیس کی ھے یہ شہزادی”
پاپا نے ترکی بہ ترکی جواب دیا
“ہمارے گھر کے دیس کی”
شمیم جسے سب شہزادی کے نام سے پکارتے تھے، مسکرا مسکرا کر پاپا کو دیکھ رھی تھی۔ ماں غصے سے باہر چلی گئ تو پاپا بھی مسکراتے ھوۓ ہاتھ ہلاتے، واپس چلے گۓ۔
شمیم کی دو بہنیں اور ایک بھائی تھا جو سب سے چھوٹا تھا۔ شمیم شادی کے تین سال بعد پیدا ھوئی اس لیے پاپا کی لاڈلی تھی، پھر ریحانہ اور اس کے بعد رخسانہ اور آخر میں کئ سالوں بعد عثمان پیدا ھوا۔ شمیم سب بھائی بہنوں سے انتہائی خوبصوت تھی جیسے کوئی پری زمین پر اتر آئی ھو۔ گوری رنگت، بڑی بڑی کالی آنکھیں، ستواں ناک، سنہری بال، بھرا ھوا سڈول جسم اور انتھائی ذہین، پڑھائی میں اوّل آنا اور باتیں بنانا کوئی اس سے سیکھے۔
پورے خاندان میں اس کی خوبصورتی کے چرچے تھے۔ شمیم کی ماں کے بہت سے رشتہ داروں نے رابطہ کیا اور رشتہ کرنے خواہش ظاہر کی۔ شمیم کے پاپا نے ان کو ایک ہی جواب دیا کہ میری شہزادی مانے گی تو کروں گا۔ ان کے خاندان والے سبھی متوسط طبقے سے تعلق رکھتے تھے۔ شمیم نے سبھی رشتہ داروں صاف انکار کر دیا۔ اس نے بچپن سے ہی امیری کے خواب دیکھنے شروع کر دیے تھے۔ ماں نے بہت کوشش کی مگر وہ کسی کو خاطر میں لائی اور صاف کہہ دیا کہ یہ میرے معیار کے نہیں ھیں۔
چچی کا بھائ حسن، کافی ہینڈسم تھا اور چچی ویسے بھی قدرے امیر گھرانے سے تعلق رکھتی تھی۔ شمیم کو صرف حسن خاندان میں اچھا لگتا تھا کیونکہ اس سے بات کرنا اسے پسند تھا۔ لہذا اس نے چچی سے دوستی بڑھانی شروع کر دی۔ چچی بھی اس سے خوب پیار جتاتی تھی۔ وہ اکثر اسے کہتی کہ میں حسن کے لیے لڑکی ڈھونڈ رھی ھوں۔ وہ پوچھتی کہ کیسی لڑکی چاہیے تو چچی آرام سے کہہ دیتی کہ ہمارے شہزادے جیسی خوبصورت اور اس کے لائق ھو۔ شمیم یہ سن کر دل ہی دل میں شرما جاتی۔ یہ حسن ھی تھا جس کی آس پر اس نے کافی اچھے اچھے رشتے ٹھکرا دیے۔
حسن اس سے کافی فری ھو گیا تھا اور اسے اپنا دوست کہتا تھا۔ وہ بھی اس سے خوب دوستی نبھاتی۔ وہ گپ شپ لگاتے، گیمز کھیلتے اور ایک دوسرے کا خیال رکھتے تھے۔ چچی دونوں کو دیکھ کراکثر کہتی
“واہ بھئ دوستی ہو تو ایسی، خدا کرے تم دونوں کی دوستی اسی طرح ہمیشہ قائم رھے”
حسن زور سے کہتا
“آمین”
اور شمیم شرما جاتی۔
چچی کے گھر شمیم کے کافی چکر لگتے تھے۔ ان کا میکہ بہت نزدیک تھا۔ حسن کو پتہ نہیں کیسے خبر ھو جاتی اور وہ دوڑا چلا آتا اور چلا کر کہتا
“میری دوست آئی ھے”
شمیم کو یہ سن کر بہت اچھا لگتا۔
ایک دن جب شمیم وہاں بیٹھی تھی تو حسن کی ماں وہاں آ گئ۔ وہ بڑے پیار سے ملی اور بولی
“واہ بھئ ہماری شہزادی بھی آئی ہوئی ھے۔ حسن تو تمہاری بہت تعریف کرتا ھے۔ جب سنتا تم آئی ہوئی ھو تو پھر گھر نہیں ٹکتا، بھاگا چلا آتا ھے۔ دوستی ھو تو ایسی”
ان کی باتیں سن کر شہزادی کے دل میں ایک سرور سا اتر رہا تھا۔
اس دن حسن کی ماں اپنے ساتھ کچھ تصویریں لائی تھی، وہ اپنی بیٹی سے بولی
“ان میں سے حسن کے لیے پسند کرو”
چچی نے تمام تصویریں دیکھ کر کہا
“ان میں سے ہمارے شہزادے جیسی کوئی بھی نہیں”
شمیم نے سکون کی سانس بھری۔ حسن کی ماں تصویریں لے کر اپنے گھر کو چل دی۔ اتنے میں حسن آ گیا۔ اس کو دیکھتے ہی چچی بولی
“ماں آپ کی شادی کے لیے تصویریں لائی تھی مگر ان میں شہزادی جیسی کوئ نہیں لگی”
حسن چھوٹتے ہی بولا
“ہو بھی نہیں سکتی شہزادی جیسی خوبصورت”
شمیم پیار سے حسن کو دیکھنے لگی مگر وہ بات کر کے واپس نکل گیا۔
شمیم کے پڑوس میں ایک بہت اچھی فیملی رہتی تھی۔ وہ متوسط طبقے سے تعلق رکھتے تھے۔ ان کا ایک بیٹا پڑھ لکھ کر افسر بن چکا تھا۔ انہوں نے بھی شمیم کا رشتہ مانگا مگر شمیم نے پھر صاف انکار کر دیا۔ ماں بہت تلملائی، برا بھلا کہا، سمجھایا
“باربار ایسے رشتے نہیں ملتے۔ انہیں تو اچھے سے اچھا اونچے گھر میں رشتہ مل سکتا تھا، شکر کرو کہ انہوں نے تمہیں چنا”۔
شمیم غصے میں بولی
“تو کر لیں نا اونچے گھر میں، ادھر کیا لینے آۓ ھیں”
ماں دانت پیستے ھوۓ بولی
“جب تمہاری شادی والی عمر گزر جاۓ گی تو کوئ چوڑا بھی پوچھنے نہیں آۓ گا”
وہ ہنس کر بولی
“ماں جی اتنا ہی یہ رشتہ پسند آیا ھے تو ریحانہ کے لیے کر دیں نا”
ماں بولی
“ان کا بیٹا ذیادہ پڑھا ھوا ھے اور ریحانہ کم پڑھی ھے اسی لیے انھوں نے تمہارا رشتہ مانگا ھے”
شمیم اکڑ کر بو لی
“میرے ھوتے ھوۓ وہ ریحانہ کا کیسے مانگ سکتے ھیں”
ماں غصے میں بولی
“غرور نہ کر بیٹی بعد میں پچھتاۓ گی”
اور اس طرح بات آئی گئ ھو گئ۔
اتفاق کی بات ھے کہ ایک دن اس ہمساۓ لڑکے کی نظر ریحانہ پر پڑ گئ۔ شمیم کو اس نے پہلے سے دیکھا ھوا تھا۔ بھولی بھالی معصوم شکل والی ریحانہ اسے پہلی ہی نظر میں پسند آ گئ۔ اس نے اپنی پسند کا اپنی ماں سے ذکر کیا تو ماں ایک دم سے خوش ھو گئ اور شکر کیا کیونکہ اسے بھی ہر وقت گھر کے کاموں میں مشغول ریحانہ ذیادہ پسند آئی تھی۔ لہذا انہوں نے ریحانہ کے لیے پیغام بھیج دیا۔
شمیم پر تو جیسے بجلی گر گئ، پہلی بار کسی نے اسے ٹھکرایا تھا۔ وہ حیران بھی تھی کہ ریحانہ میں آخر ایسی کیا بات ھے۔ واجبی سا چہرہ، تعلیم بھی کم، ہر وقت گھر کے کاموں میں گھسے رہنا لیکن اسے سمجھ نہ آیا۔ اس نے یہ سوچ کر اپنے آپ کو مطمعین کر لیا کہ یہ دوسرے درجے کے لوگ ہیں اور اپنے جیسی ہی دلہن تلاش کرتے ہیں جو ہر وقت کام میں جٹی رھے اور ان کی خوب خدمت کرے۔ ان کو تو کام کے لیے بہو کی صورت میں نوکرانی چاہیے۔
ریحانہ کی بات پکی ھو گئ اور دونوں گھرانوں کی رضامندی سے چند دنوں میں شادی طے پا گئ۔ ریحانہ کی شادی پر جہیز نام کی کوئی چیز، اس کی ساس اور خاوند نے، لینے سے صاف منع کر دیا۔ بڑی مشکل سے لڑکی کا ایک جوڑا اور ایک انگوٹھی کے لیے مانے اور شادی کے دن دولہے اور اس کی ماں کا ایک ایک جوڑا دے سکے۔ شمیم کے گھر والے جہیز والی بات پر بہت حیران تھے۔ ریحانہ کے سسرال والوں کا یہ کہنا تھا
“اگر جہیز کی لعنت ہم ختم کرنے کی کوشش نہیں کریں گے تو یہ رسم کیسے ختم ہو گی۔ غریب خاندانوں کو سکھ کا سانس دینے کے لیے آپ ہماری اس طرح مدد کریں”
شمیم کے والدین ریحانہ کی شادی کرکے سکھی ھو گۓ۔ ایک تو جہیز دینے سے بچ گۓ دوسرا ایک بڑا فرض ادا ہو گیا۔ تیسرا انہوں نے دیکھ لیا کہ ان کی بیٹی کو اس کے سسرال والوں نے سر آنکھوں پر بٹھا لیا ھے اور وہ بہت خوش ھے۔
شمیم نے سنا کہ ریحانہ کے سسرال والے کہتے ہیں کہ ان کی بہو ان کے لیے لکی ثابت ہوئی ھے۔ اس کے مبارک قدم جیسے ہی ان کے گھر آۓ، ایک ہفتہ کے اندر اس کے میاں کی پروموشن ھو گئ اور دفتر کی طرف سے آفیسرز کالونی میں گھر الاٹ ھو گیا۔ اس کے کچھ دن بعد ان کے گاؤں کی زمین گورنمنٹ کے پروجیکٹ میں آ گئی، جس کا انہیں کافی معقول معاوضہ مل گیا اور وہ کافی خوشحال ہو گئے۔
اس کی ساس تو ریحانہ کو اکیلے نیۓ گھر میں بھیجنا چاہتی تھی مگر ریحانہ نہ مانی اور وہ سب گھر والوں کو ساتھ لے گئی۔ اس کے سسرال والے اب اس پر جان چھڑکنے لگے تھے۔ اس کی ساس نے اسے گھر کے کام کرنے سے منع کر دیا تھا۔ کام کے لیے ملازم آ گئے تھے۔ اسے ساس نے کہا تھا
“اگر تم اسی طرح گھر کے کاموں میں مصروف رہو گی تو میاں کو کب ٹائم دو گی۔ ابھی تو تمہاری شادی ھوئی ھے، ابھی تمہارے گھومنے پھرنے کے دن ہیں، خوب سیر کرو، کھاؤ پیو اور بنی سنوری رہا کرو”
ریحانہ کی تو جیسے زندگی بدل گئ۔ گھومنا پھرنا سیر سپاٹے اور بننا سنورنا اس کی زندگی کا حصہ بن گیا۔ اب وہ میکہ اسی شہر میں ھونے کے باوجود کم آتی۔ میک اپ نے اس کی خوبصورتی کو چارچاند لگا دیے تھے۔ واضع طور پر اب وہ کسی اونچے گھرانے کی بیگم لگتی تھی۔
شمیم نے جب پہلی بار دیکھا تو دنگ رہ گئ کہ یہ اس کی وہی چھوٹی بہن ھے جو اس کے آگے پیچھے پھرتی تھی اور نوکروں کی طرح اس کا ہر کام کرتی تھی۔ اب اسے کچھ کہتے ھوۓ جھجک آ گئ تھی اور کہہ ھی نہ پاتی تھی۔ اسے یہ بھی نظر آ گیا تھا کہ اب اس کی بہن سب سے ذیادہ فوقیت اور اہمیت اپنے میاں کو دیتی ھے، اس کی ہر بات مانتی ھے اور اس کی ایک آواز پر سب کچھ چھوڑ کر چل پڑتی ھے۔ اسے اب بہن سے جیلسی ھونے لگی تھی۔
آج ریحانہ کے گھر میں بڑی دعوت تھی۔ آفس کے لوگوں نے بھی آنا تھا۔ ذیادہ تر مہمان پوش ایریا اور ہائی جنٹری تھے اور ان میں کافی کنوارے بھی تھے۔ ریحانہ آج خاص طور پر رخسانہ کو مدد کے لیے پہلے ساتھ لے جانے آئی تھی۔ شمیم نے باتوں باتوں میں اس سے تمام معلومات لے لیں۔ ماں نے رخسانہ کو لے کر جانے کی بخوشی اجازت دے دی۔ شمیم کو اب فکر لگ گئی تھی۔
کپڑے اور فیشن میں وہ خوب سے خوب تر کی تلاش میں رہتی تھی کہ کسی طرح، کسی امیرزادے سے شادی ھو اور وہ عیش کرے۔
وہ بچپن میں اپنے تایاذاد عقیل سے منسوب تھی جو ایک متوسط طبقہ سے تعلق رکھتا تھا۔ وہ شروع ہی سے اپنے نزدیکی رشتہ دار ھونے کے باوجود، اس کو لفٹ نہ دیتی تھی اور ہوش سنبھالتے ہی اس نے شادی سے صاف انکار کر دیا حالانکہ وہ اس پر جان چھڑکتا تھا اور اس سے محبت کرتا تھا۔ ماں کو وہ پسند تھا اور اس نے ریحانہ اور رخسانہ میں سے کسی ایک کا رشتہ دینا چاہا لیکن اس نے صاف انکار کر دیا۔ شمیم دل ہی دل میں اس بات پر بہت خوش ہوئی تھی کہ میری موجودگی میں کسی کی دال نہیں گل سکتی۔ اپنی خوبصورتی سے اس کا پیار اور بڑھ گیا۔
وہ ریحانہ پر حیران ہوتی کہ وہ دن بدن نکھرتی جا رہی تھی۔ اب وہ ایک خوبصورت اور سوبر خاتون میں تبدیل ہو چکی تھی۔ وہ یہ سوچ کر دل کو تسلی دے لیتی کہ ریحانہ کے سسرال والے رہتے تو پہلے محلے میں ہی تھے۔ اب امیر ھو گۓ تو کیا ھوا ۔ اسی لیے انہوں نے ریحانہ کو چنا۔ ایسے لوگوں کی سوچ چھوٹی ہی رہتی ھے۔
اب شمیم کو ریحانہ کے گھر جانا عجیب لگتا، پوش ایریا میں گھر، کار، لاجواب سجاوٹ اور سب سے بڑھ کر اس کے سسرال والوں کا ریحانہ کو سر آنکھوں پر بٹھانا اور تعریف کرنا۔ اس کے میاں نے فخر سے بتایا تھا کہ اس گھر میں ہر چیز ریحانہ کی پسند اور مرضی سے آئی ھے اور اسی نے یہ گھر سجایا ھے۔ شمیم یہ سوچ کر دل کو تسلی دے لیتی کہ اس کا میاں بیوی کے نمبر ٹانکنے کے لیے کہہ دیتا ھو گا۔ شمیم کو اچھی طرح پتہ تھا کہ ریحانہ کا شادی سے پہلے بازار جانا ہی بہت کم تھا، ماں جو لا دیتی پہن لیتی، جو دے دیتی پسند کر لیتی۔ اس کی پسند ناپسند تو تھی ہی نہیں۔
ریحانہ کے میاں نے دعوت پر جانے کے لیے گاڑی بھجوا دی تھی۔ ماں نے کافی انکار کیا مگر وہ نہ مانا۔ شمیم نے شکر کیا کہ گاڑی میں جاۓ گی۔
جب پہنچے تو کچھ لوگ آرہے تھے اور گاڑیوں کی لائن لگی تھی۔ اسی وقت ایک بڑی سی گاڑی، پراڈو، وہاں پہنچی اور ایک قبول صورت نوجوان اس میں سے برآمد ہوا۔ اس کے ہاتھ میں کچھ سامان تھا۔ گاڑی دیکھ کر شمیم کا دل مچل سا گیا۔ اس نے اس نوجوان پر اپنی نظریں جما دیں۔ وہ اندر سیدھا کچن میں گیا۔ شمیم نے دیکھا کہ وہ ریحانہ کو سامان پکڑا رہا تھا۔ ریحانہ نے مسکرا کر اس کا شکریہ ادا کیا۔ پھر وہ اندر بیٹھی ہوئی، ایک موٹی عورت کے پاس رکا اور کچھ بولا اور باہر چلا گیا۔ شمیم جو اس کے پیچھے پیچھے تھی مگر کچھ دور ہونے کی وجہ سے اس کی بات نہیں سن سکی۔ اس نے اندازہ لگایا کہ یہ اس کی ماں ھو گی۔ وہ ریحانہ اور اس کے سسرال والوں کو کوئی لفٹ کراۓ بغیر سیدھی اس عورت کے پاس پہنچ گئ اور سلام کر کے بیٹھ گئ۔ اس کے پاس پہلے سے ہی ایک انتہائی ماڈرن خاتون بیٹھی تھی۔ دونوں نے حیران ھو کر شمیم کو دیکھا۔ سلام کا جواب دیا تو شمیم نے اپنا تعارف کرایا کہ میں ریحانہ کی بہن ھوں۔ اس عورت نے کہا
“اچھا اچھا آپ چھوٹی ھونگی ریحانہ سے”
شمیم ذرا شرمندہ ھو گئ پھر سنبھل کر بولی
“نہیں، میں جاب کرتی ھوں اور میں نے ایم ایس سی کیا ھوا ھے”
وہ بولی
“اچھا اسی لیے پہلے ریحانہ کی شادی کر دی”
شمیم نے شرما کر آہستہ سے کہا
“جی”
پھر دوسری عورت نے کہا
“آپ تو بہت خوبصورت ہیں”
دوسری عورت نے بھی ہاں میں ہاں ملائی۔ شمیم اترا کر سوچنے لگی کہ اس پراڈو والے کا رشتہ تو پکا آۓ گا، اس کی ماں جو مر مٹی ھے۔ اب تو چچی کا بھائی حسن بھی اسے ان کے آگے غریب لگنے لگا تھا۔ اتفاق سے اسی وقت حسن کا فون آ گیا۔ اس نے مختصر بات کر کے ٹرخا دیا۔ وہ اسے کوئی خوش خبری سنانا چاہتا تھا۔ وہ سمجھ گئی تھی کہ یہی ھو گا کہ میں تم سے شادی کرنا چاہتا ھوں۔ اس نے دل ہی دل میں اسے انکار بھی کر دیا۔ جب اتنے بڑے لوگوں کے رشتے آ رھے ھوں تو اس غریب آدمی کو کیا پوچھنا۔ ایک وقت تھا وہ کب سے اس خوشخبری کے انتظار میں تھی مگر اب حالات بدل گئے تھے۔ اس نے فون پر صاف کہہ دیا کہ میں مصروف ہوں نہیں آ سکتی۔ وہ اسے بھی انتظار کا مزہ چکھانا چاہتی تھی۔ وہ اس سے دنیا جہان کی باتیں کرتا مگر ایسی کوئی بات نہ کرتا جو وہ سننا چاہتی تھی بس اسے اپنی بیسٹ اور اکلوتی فرینڈ کہتا رہتا۔
اب تو شمیم کی نظر پراڈو والے نوجوان اور اس کی ماں پر تھی۔ اس نے دل میں کہا بے شک وہ اتنا ہینڈسم نہیں مگر دولت مند ھے گزارہ ھو جاۓ گا۔ اس نے معلومات لیں تو پتہ چلا کہ اس کا نام شہزاد ھے اور وہ ریحانہ کے شوہر کا پرانا اور قریبی دوست ھے۔ اس نے دل میں کہا کہ ‘وہ شہزاد میں شہزادی واہ ری قسمت کتنے ملتے جلتے نام ھیں’۔
اتنے میں شہزاد دوبارہ اپنی ماں کے پاس آ گیا۔ اس کی ماں بولی
“بیٹا گفٹ کہاں ھے کیا دے دیا؟”
شہزاد پریشانی سے بولا
“اوہ! وہ تو گھر رہ گیا”
ماں بولی
“کوئ بات نہیں، جاؤ جا کر لے آؤ۔ بلکہ ٹھہرو میں بھی چلتی ھوں، گھر سے کپڑے بدل کر آؤں گی۔ یہ کافی بھاری کپڑے ہیں۔”
پھر کھڑے ھو کر چلنے لگی تو جیسے اچانک جیسے کچھ یاد آ گیا اور مڑ کر شمیم سے کہا
“آپ بھی چلیں گی ہمارے گھر”
شہزادی کی تو دل کی مراد پوری ھو گئ جھٹ سے راضی ھو گئ اور اس کی ماں سے پیار جتانے لگی
“تھوڑے ہی وقت میں مجھے آپ سے انسیت سی ھو گئ ھے۔ آپ چلی جائیں گی تو میں بور ھو جاؤں گی”
وہ ہنس کر بولی
“مجھے بھی آپ کی طرح آپ سے مل کر اچھا لگا، چلیں چلتے ہیں جلدی واپس آ جائیں گے”
شمیم کے دل میں ایک سکون سا اتر رہا تھا۔ اسے کتنا اچھا سسرال ملنے والا ہے، اس نے سوچا، اتنا پیار کرنے والی ساس واہ بھئ واہ۔
شہزاد کی ماں اسے ساتھ لے کر چل پڑی تو شہزاد نے بتایا
“وہ گفٹ تو دکان پر ہی رہ گیا ھے۔ ایسا کرتے ھیں کچھ اور خرید لیتے ھیں”
اسکی ماں نے مڑ کر شمیم کو دیکھا اور جھٹ کہا
“ٹھیک ھے شہزادی سے کہتے ھیں وہ ایک اچھا سا گفٹ پسند کرے”
شہزاد نے مڑ کر ایک نظر شمیم پر ڈالی اور اثبات میں گردن ہلا دی۔ شمیم نے جب انہیں گفٹ پسند کر کے دیا تو ماں تعریف کیے بنا نہ رہ سکی
“تمہاری چوائیس بہت اچھی ھے۔ تم نے جو یہ ڈریس پہنی ھوئی ھے یہ مجھے بہت پسند آئی ھے”
وہ سب خوشی خوشی گاڑی میں جا رھے تھے۔ شمیم بظاہر اس کی ماں سے گپ شپ کر رہی تھی مگر سارا دھیان شہزاد کی طرف تھا مگر وہ تو بالکل اس پر دھیان نہیں دے رہا تھا۔ شمیم نے سوچا کچھ لوگ اپنی ویلیو بڑھانے کے لیے ایسے پوز کرتے ھیں۔
وہ گھر جا کر واپس بھی آ گۓ۔ شمیم کی خوشی کا تو ٹھکانہ ہی نہیں تھا۔ اسے یقین تھا کہ یہاں سے رشتہ ضرور آ جاۓ گا اور وہ یہ خوشخبری سب کو سناۓ گی، خاص طور پر حسن کو۔
حسن کا سوچتے ہی اسے یاد آیا کہ وہ اسے کوئی خوشخبری سنانا چاہتا تھا۔ اس نے فون ملایا اور کہا
“معذرت میں اس وقت مصروف تھی۔ میں بہت جلد تمہیں اپنی بھی ایک خوش خبری دوں گی”
حسن جھٹ بولا
“کوئ بات نہیں، بتاؤ کیا خبر ھے”
شمیم نے خوش ھوتے ھوۓ کہا
“نہیں میرا سرپرائز رہنے دو تم اپنی سناؤ”
اس کے بعد حسن نے جو بتایا شمیم کو شاک ہو گیا۔ وہ اسے اپنی شادی کی خوشخبری سنا رہا تھا اور وہ بھی ایک ایسی لڑکی کے ساتھ جسے وہ اچھی طرح جانتی تھی۔ وہ ایک عام سی شکل کی لڑکی سیٹھ طاہر کی اکلوتی بیٹی تھی جو اس کی چچی کے دور کے رشتہ دار تھے۔ شمیم اسے ہمیشہ پینڈو کہتی تھی۔
یہ کیا حسن کو تو فیشن پسند تھے، اس کے فیشن کی تعریفیں کرتا رہتا تھا۔ وہ پینڈو لڑکی تو فیشن کا نام بھی جانتی تھی۔ وہ مذہبی تھی اور حجاب لیتی تھی۔
حسن فون پر اس کی تعریفیں کیے جا رہا تھا کہ اسے ایسی ہی بیوی کی تلاش تھی جو مذہبی ھو، فیشن بالکل نہ کرتی ھو، حجاب لیتی ہو، میک اپ کے بغیر رہتی ھو وغیرہ وغیرہ۔ شمیم نے اس کی بات کاٹ کر اسے روکا ، بوجھل لہجے میں مبارک باد دی اور فون بند کر دیا۔
شمیم نے یہ کہہ کر اپنے آپ کو تسلی دی کہ حسن لالچی ھے سیٹھ طاہر کی دولت کی وجہ سے باتیں بنا رہا ھے اور ساتھ ہی شہزاد کے رشتے کی امید لگا کر انتظار کرنے لگی۔
گھر میں ایک دن گزرتے ہوۓ اسے ماں کی آواز آئی۔ وہ ابا کو بتا رہی تھی کہ شہزاد کے گھر سے رشتہ آیا ھے۔ پھر ماں کچھ آہستہ آہستہ بولنے لگی۔ اس نے آخری جملہ یہ سنا کہ شہزادی کی شادی کی فکر ھے۔
وہ دل میں فخر سے یہ سوچنے لگی کہ ماں بے چاری تو یہ سوچ رہی ھو گی کہ میں ہمیشہ کی طرح اس رشتہ سے بھی انکار کر دوں گی مگر یہ تو امیر لڑکا ھے، میں بھلا کیوں انکار کروں گی۔ ماں کو ذرا نخرے سے کہہ دوں گی ‘اچھا چلیں ٹھیک ھے جیسے آپ کی مرضی’
گھر میں آئے رشتے پر بحث ھو رہی تھی۔ ماں سے بھائی زور زور سے بول رھا تھا کہ کیا سوچنا ھے ہاں کر دیں تو ماں بولی
“شہزادی کو بھی تو بتانا ھے، پوچھنا ھے اس سے”
تو بھائی بولا
“اس سے کیا پوچھنا، ایسے رشتے روز روز تو نہیں آتے”
یہ آوازیں شمیم کے کانوں تک بھی پہنچ رہی تھیں۔ وہ دل میں خوش ھو رہی تھی کہ بھائی بالکل ٹھیک کہہ رہا ھے۔
پھر بھائی کی آواز آئی
“اسے صاف صاف بتا دینا”
وہ آفس جانے کے لیے نکل رہی تھی تو ماں نے آواز دی اور کہا
“تم سے شہزاد کے گھر والوں کی بات کرنی ھے، وہاں سے رشتہ آیا ھے”
شمیم مسکراتے ہوۓ بولی
“مجھے سب معلوم ھے، جو مرضی آۓ کرو مجھے کوئی اعتراض نہیں ھے”
ماں نے حیرت سے پوچھا
“تمہیں کیسے معلوم ہوا”
“میں نے آپ کی کچھ باتیں سن لی تھیں” شمیم بولی
ماں نے پھر زور دے کر پوچھا
“تمہیں واقعی کوئی اعتراض نہیں ھے”
شمیم نے بڑھ کر ماں کے دونوں ہاتھ پکڑ لیے اور کہنے لگی
“بھلا مجھے کیا اعتراض ھو سکتا ھے میری ماں”
ماں نے بڑھ کر اسے گلے لگا لیا۔ اسی وقت پاپا کمرے میں آۓ اور فخر سے بولے
“دیکھا میں نہ کہتا تھا کہ میری شہزادی دل کی بہت اچھی ھے، اسے کوئی اعتراض نہ ھو گا”
بھائی خوشی سے بولا
“آخر ہماری شہزادی بہن ھے، جو ہم سوچتے ہیں ویسا ہی سوچے گی”
آج سب اس پر فدا ہو رھے تھے۔ اسے بڑا اچھا محسوس ھو رھا تھا۔ دل میں ایک سکون سا اترتا جارہا تھا۔ سب کا پیار بھرا انداز دیکھ کر دور کھڑی رخسانہ محبت پاش نظروں سے سب کو دیکھ رہی تھی۔
وہ سب کو باۓ باۓ کرتی چل پڑی۔ آجکل آفس کی گاڑی اسے لینے آتی تھی اور چھوڑ بھی جاتی تھی۔ اس کی تنخواہ بھی بڑھ گئی تھی اور کافی خوشحالی بھی آگئی تھی۔ اصل میں اس کا باس اس پر بہت مہربان ھو گیا تھا۔ بوڑھا آدمی تھا اور اس پر کافی اعتماد کرتا تھا۔ آفس کے ضروری کام سے اسے ہی بھیجتا تھا۔ جس سے اسے بہت خوشی ملتی تھی۔ باس کے گھر کے فنکشن میں بھی اسے اسپیشل بلایا جاتا تھا۔ اس کی موٹے نقوش والی کافی صحتمند بیوی کو بھی کوئی اعتراض نہ ہوتا تھا۔ مگر شمیم باس کی رعب دار شکل دیکھ کر خوف کھاتی تھی اور اسی لیے اس سے ذیادہ فری نہ ہوتی تھی۔ اس کے لیے یہ ہی کافی تھا کہ باس نے گاڑی بمعہ ڈرائیور دی ھوئی تھی اور اس کی تنخواہ بہتر کر دی تھی۔
شمیم کے تو وارے نیارے ھو گئے تھے، ایک تو اتنے اونچے گھر میں شادی ھو رھی تھی اوپر سے باس کی مہربانیاں۔ اسے لگنے لگا تھا کہ اس کی قسمت کھلنے والی ھے۔
گھر میں شادی کی تیاریاں ھو رھی تھی۔ وہ لوگ رشتہ پکا کر گئے تھے۔ مٹھائی، سلامی اور سونے کا سیٹ وغیرہ دے کر گئے تھے۔ شمیم اس دن بہت مصروف تھی۔ دیر سے گھر پہنچی تو مٹھائی پڑی دیکھی۔ سب خوش ھو رھے تھے۔ ماں دعائیں کر رہی تھی۔
“یا اللہ میری بیٹی کا نصیب اچھا کرنا”
شمیم نے سنا تو بہت خوش ھوئی۔ بہت جوش و خروش سے ان کی لائی ہوئی چیزیں دیکھنے لگی۔ وہ ایک قیمتی سوٹ بھی لائے تھے۔ شمیم کو سوٹ دیکھتے ہی پسند آ گیا، جھٹ اٹھا کر بولی
“اماں میں یہ سوٹ سلنے دے دوں، میں نے باس کے بیٹے کی سالگرہ پر پہننا ھے۔ پرسوں جانا ھے”
ماں نے گھوم کر رخسانہ کو دیکھا تو وہ چھوٹتے ہی بول پڑی
“بالکل یہ تو آپ پر بہت اچھا لگے گا”
ماں نے اعتراض کرنا چاہا تو رخسانہ نے اشارے سے روک دیا اور کہنے لگی
“اماں کیا ہوا! کیا فرق پڑتا ھے، سلوانے دیں نا”
پاپا نے بھی ہاں میں ہاں ملائی
“ہماری شہزادی کی عزت کا سوال ھے۔ اتنے بڑے لوگوں کے گھر جانا ھے، لینے دو”
سالگرہ والے دن شمیم نے سونے کا سیٹ پہننے کے لیے مانگ لیا اور ہاتھ پھیلا کر ماں کے سامنے کھڑی ھو گئ۔ ماں نے غصّے سے اسے دیکھا پھر کہا
“آخری بار لے لو، اس کے بعد نہ مانگنا”
وہ ہنس کر بولی
“اچھا ماں وعدہ”
شمیم دل میں سوچنے لگی کہ اب جلدی شادی ہونے والی ھے پھر میرے پاس بہت سے سونے کے سیٹ ہونگے۔ بدل بدل کر پہنا کروں گی۔
شمیم نے ماں کو صاف کہہ دیا
“لسٹ بنا کر مجھے دے دیں، تمام شاپنگ میں خود کروں گی”
ماں حیران ہوئی مگر پاپا نے اس کا پورا ساتھ دیا، کہنے لگے
“میری بیٹی ایسی شاپنگ کرے گی کہ دنیا دیکھتی رہ جاۓ گی”
اسے یاد تھا کہ شہزاد کی ماں کو اس کے کپڑے اور تجویز کردہ گفٹ بہت پسند آۓ تھے۔
شمیم نے ابھی تک آفس میں اپنی شادی کا ذکر نہیں کیا تھا۔ وہ آج کل باس کے ایک خاص پروجیکٹ پر مصروف تھی۔ باس اس پر بہت اعتماد کرتا اور اپنا ہر کام اسے ہی سونپتا تھا۔ ہر خاص کام کا بونس الگ سے ملتا تھا۔ اگلا نیا پروجیکٹ دوبئی میں شروع ہونا تھا اور شمیم کو کم سے کم دو ماہ کے لیے دوبئی بھیجا جانا تھا۔ اسے پہلی بار ملک سے باہر جانا تھا جو اس نے خواب میں بھی نہیں سوچا تھا۔ وہ اس ٹور کو کھونا نہیں چاہتی تھی۔
اس نے ماں کو صاف کہہ دیا شادی کی تیاریاں جاری رکھیں اور وہ دوبئی سے بھی شاپنگ کر لاۓ گی۔ وہ آجکل اتنی مصروف تھی کہ اسے کوئی خبر نہ تھی کہ گھر میں کیا ھو رھا ھے۔ آفس میں یہ جھوٹ بول کر کہ میری بہن کی شادی ھو رھی ھے کچھ وقت شاپنگ کے لیے نکالا اور بہت سے سوٹ اکٹھے خرید لیے۔ اس نے شہزاد اور اس کی ماں کے لیے کافی مہنگے جوڑے خریدے۔ شہزاد کی باقی چیزوں کی بھی خریداری کر ڈالی۔
شہزاد کے گھر والوں نے سواۓ کپڑوں کے جہیز کے نام پر ہر چیز سختی سے منع کر دی کہ ان کے گھر میں ہر چیز موجود ہے۔ اس نے بھی کپڑوں پر پیسہ لٹانا شروع کر دیا۔ آخر ایک امیر آدمی کی بیوی کے کپڑے مہنگے اور خوبصورت ھونے ہی چاہیے۔ وہ خریداری کرتی اور درزی کو سلوانے کا آرڈر دے دیتی۔ ماں منع کرتی مگر وہ کہتی کہ بعد میں درزی کے چکر کون کاٹے گا۔
باس اس کی مزید قدر کرتا اور اس کی تعریف کرتا کہ بہن کے لیے آپ بہت مخلص ہیں۔ وہ دل ہی دل میں شرمندہ ھو جاتی۔
اس نے ماں کو بڑی رقم پکڑائی کہ آپ رخسانہ اور اپنے لیے کپڑے خریدیں۔ ماں نے حیران ھو کر پوچھا
“تم جو لائی ھو اس کا کیا”
شمیم نے مسکراتے ھوۓ کہا
“کچھ اپنی پسند سے بھی لیں نا”
ماں نے بڑھ کر اس کا ماتھا چوم لیا اور کہنے لگی
“بہن ھو تو ایسی، جو بہن کے لیے اتنا جوش خروش دکھا رہی ھے”
شمیم یہ سن کر خوش ھو گئ۔ رخسانہ کے گال بھی خوشی سے دمک رہے تھے۔
باس کا دوبئی پراجیکٹ فائنل ھو گیا۔ شمیم کی جانے کی سیٹ کنفرم ھو گئی۔ اس نے دو ماہ کے لیے جانا تھا۔ سب گھر والے اور خاص طور پر ماں اس کے اکیلے اور دور جانے پر پریشان تھے۔ اس نے بتایا کہ آفس کے چند لوگ اور بھی ہیں اور دو لڑکیاں بھی ان کے ساتھ جانے والے گروپ میں شامل ہیں۔ یہ سن کر ماں کو تھوڑا اطمینان ھوا پھر خدشہ ظاہر کیا
“شہزاد کے گھر والوں نے شادی کی جلدی مچائی ہوئی ھے”
یہ سن کر شمیم دل ہی دل میں مسکرانے لگی کہ جلدی تو ھو گی انہیں آخر میں ہوں ہی اتنی خوبصورت۔ وہ ماں کی بات کا جواب دیے بغیر مسکراتی ھوئی وہاں سے چل پڑی اور کمرے میں جا کر لیٹ گئ اور سنہرے سپنوں میں کھو گئی کہ کیسے شہزاد کے گھر کو سجاۓ گی، گھومے پھرے گی، آفس والوں کی دعوت کرے گی، ساری سہیلیوں کو بلاۓ گی، خالہ زہرا کو تو ضرور بلاۓگی جو آ کر اکثر اس کی ماں کو کہتی رہتی ہیں
“اس کی تو عمر نکلتی جا رہی ھے، اس کی چھوٹی بہن ایک بچے کی ماں بھی بن گئی ھے، اس کی کب کرو گی شادی؟”
شہزاد کی ماں کا اب کافی آنا جانا شروع ھو گیا تھا۔ ان کی شمیم سے بھی ملاقات ھو جاتی۔ شمیم اب مصروفیت کا بہانہ کر کے نکل جاتی۔ وہ اس کے لاۓ ہوۓ جوڑوں کی خوب تعریف کرتی اور اس کی چوائس کو سراہتی۔ شمیم خوش ہوتی رہتی اور دل میں سوچتی کہ ‘جو میں دوبئی سے شاپنگ کروں گی وہ دیکھنا ذرا’
دوبئی جاتے ھوۓ وہ بہت خوش تھی گویا ہواؤں میں اڑ رہی تھی۔ اسے یقین ہی نہیں آ رہا تھا کہ اس کا سپنا سچ ہو رہا ھے۔
دفتر کی طرف سے ایک بہترین ہوٹل میں اس کا کمرہ بک تھا۔ آنے جانے کے لیے گاڑی کا انتظام تھا۔ دوبئی میں بھی اس نے شاپنگ پر زور رکھا۔ اپنے گھر کے سبھی افراد اور شہزاد کے گھر والوں کے لیے اس نے بہت سے تحفے خریدے۔ اس نے اپنے دفتر کےایک کلرک، جو جلدی واپس جا رہا تھا، کے ہاتھ ایک اٹیچی کیس بھر کر بھیج دیا۔ کلرک سامان لے جانے میں کچھ ہچکچا رہا تھا تو باس نے پھر تعریف کی، کہا
“لے جاؤ یہ اپنی بہن کی شادی کے لیے بہت جوش میں ھے۔ بہن ہو تو ایسی مان گئے ہم”
ان باتوں سے شمیم کو تھوڑی شرمندگی محسوس ہوئی تو اس نے رخسانہ کے لیے سونے کا لاکٹ خرید لیا۔ اس نے سوچا اس طرح ماں اور رخسانہ دونوں خوش ہو جائیں گی۔ اس نے جب لاکٹ کا سب کو بتایا تو اس کی ساتھی لڑکی کہنے لگی
“بہن کی ساس کے لیے بھی کچھ لے لو، اسے دو گی تو بہن کی بھی عزت بڑھے گی”
شمیم نے شہزاد کی ماں کے لیے بھی سونے کی بالیاں خرید لیں۔ اس کی ساتھی لڑکی نے دوبارہ کہا
“اپنی ماں کے لیے کیا لیا ھے؟”

Reader Comments
Be the first to leave a comment on this episode!
Log in to leave a comment.