Back to Novel
Qabza-e-Dil Tum Sy Churana Hai
Episodes

قبضہ دل تم سے چھڑانا ہے 1

Episode 1

عمل جاو جا کر درزن سے میرے کپڑے لے آو _

دادی نے عمل سے کہا،

اوکے دادو کہہ کر گاڑی کی چابی اٹھا کر ایک نظر آہینے میں اپنا سراپا دیکھا کھلے اسٹائل سے کٹے بال، اونچا ٹراوزر، شارٹ شرٹ، لمبے لمبے دونوں ہاتھوں کے ناخن، اونچی ہیل اور آنکھوں پر کالا خوبصورت چشمہ لگاے وہ موبائل کو ہاتھ میں پکڑے بڑا پرس کندھے پر لگائے گاڑی میں بیٹھ کر گاڑی اسٹارٹ کر کے میوزک کا والیم اونچا کر کے چل پڑی _

درزن کا گھر ایک کچے پکے مکانوں کے درمیان ایک کوڑے کے ڈھیر کے پاس کونے والا تھا_

عمل ناک بھوں چڑھاتی ایک خستہ حال ایک لکڑی کے پرانے دروازے کے پاس پہنچ کر دروازہ زور زور سے بجانے لگی _

احسن نے دروازہ کھولا تو سامنے ایک ماڈرن سی لڑکی کو کھڑا دیکھ کر حیرت سے بولا جی فرمائیے _

عمل دو منٹ کے لئے کنفیوز سی ہو گئی اور ایک نظر اس ہینڈسم سے لڑکے کو دیکھ کر حیران رہ گئی جو معمولی پرانے شلوار قمیض میں پاوں میں پلاسٹک کی پرانی گھسی چپل پہنے کھڑا تھا-

عمل سوچنے لگی یہ یقیناً درزن کا بیٹا ہو گا جس کا وہ اکثر زکر کرتی رہتی ہے –

عمل اسے نظر انداز کرتے ہوئے یہ خالہ شمو کا گھر ہے کیا؟

درزن شمو کے نام سے مشہور تھی _

احسن نے راستہ دیتے ہوئے مہزب انداز میں کہا جی تشریف لاہیے _

عمل اس کے انداز گفتگو سے متاثر ہو کر عینک اتار کر ہاتھ میں پکڑ کر اندر آ گئ _

سامنے درزن کی بیٹی ایک ہاتھ میں روٹی کی چنگیر اور دوسرے میں چائے کا کپ پکڑے اسے دیکھ کر خوشی سے بولی عمل آپی آپ پھر احسن کو پکارتے ہوئے بولی احسن بھائی ناشتہ کر لیں _

عمل درزن کی بیٹی کو اگنور کرتی سامنے کمرے کی طرف چل پڑی جہاں درزن فرش پر دری بچھا کر مشین رکھے کپڑے سی رہی تھی اسے دیکھ کر چونکتے ہوئے بولی عمل بی بی آپ؟

عمل درزن کے کرسی پر بیٹھنے کا اشارہ دیکھ کر ناک بھوں چڑھاتے لکڑی کی پرانی سی کرسی پر بیٹھ گئی اور بلا وجہ ادھر ادھر دیکھ کر بولی کپڑے تیار ہیں کیا –

درزن ہچکچاتے ہوئے بولی دراصل میری طبیعت خراب تھی تو زرا لیٹ ہو گئے بس دس پندرہ منٹ تک تیار ہو جائیں گے آپ اتنے میں کچھ کام باہر کے نپٹا لیں _

عمل بولی میں ادھر ہی انتظار کر لیتی ہوں _

عمل لاشعوری طور پر اس ہیڈسم انسان کو ڈھونڈنے لگی جس کے مغرور سے انداز نے اسے متاثر کیا تھا جس نے اسے دوبارہ ایک نظر بھی نہ دیکھا تھا اور بہن سے ناشتہ پکڑ کر ساتھ والے ایک چھوٹے کمرے میں لے گیا تھا-

درزن کی بیٹی اسے بولی عمل آپی آپ مجھے بہت اچھی لگتی ہیں آپ بہت خوبصورت ہیں_

درزن نے اسے ڈانٹے ہوئے کہا بھائی کو جا کر ناشتہ دو –

وہ بولی اماں دے دیا ہے وہ اب باہر کرسی پر بیٹھ کر موبائل پر گیم کھیل رہے ہیں –

عمل دل میں سوچتے ہوئے گھر میں جوان فارغ بیٹا گیم سے دل بہلا رہا ہے اور محترم کو احساس تک نہیں کہ ماں کتنی محنت کر رہی ہے _

وہ اٹھ کر باہر نکل آئی تو احسن نے ایک نظر اسے دیکھ کر اٹھ کرکمرے میں چلا گیا –

عمل کو بہت انسلٹ فیل ہوئی جیسے وہ اسے اگنور کر کے اندر چلا گیا ہو –

وہ دل میں پیچ وتاب کھانے لگی اس نے سوچا کہ وہ اتنی خوبصورت ہے کہ بچپن سے اپنی تعریفیں سن رہی ہے اور ایک یہ شخص اسے بھاو دے رہا ہے –

اتنے میں دو عورتیں اندر داخل ہوہیں اور درزن کی بیٹی انہیں دیکھ کر بولی دیکھو ایک جوان لڑکی کو پیار سے سرگوشی کرتے ہوئے بولی عمل آپی ہیں یہ دیکھو کتنی خوبصورت ہیں –

اس لڑکی نے پرشوق نظروں سے دیکھ کر کہا واقعی اور اس نے جھٹ عمل کو سلام کیا –

عمل نے ہونٹ ہلا کر جواب دیا اور اپنے بالوں کو درست کر کے ایک ادا سے سر جھٹکنے لگی-

اتنے میں اس لڑکی نے شوق سے جزباتی انداز میں پوچھا کیا احسن بھائی گھر پر ہیں –

ہاں ہیں میں ابھی بلاتی ہوں –

درزن کی بیٹی احسن کو ہاتھ پکڑ کر باہر لے آئی اور بولی بھائی یہ آپ کی دیوانی آتے ہی آپ کا پوچھتی ہے –

احسن نے بڑی گرمجوشی سے اسے اور اس کی ماں کو وعلیکم کیا اور پیار سے خوش گپیں لگانے لگا تینوں اس سے ہنس ہنس کر گھل مل کر باتیں کرنے لگیں اور عمل کو اگنور کرتی رہیں –

عمل کو اتنے میں درزن نے پکارا کہ آپ کے کپڑے تیار ہو چکے ہیں آ کر لے لیں _

عمل اندر جا کر کپڑے لے کر باہر نکلی تو باہر گلی کے موڑ پر احسن ایک چھوٹا چاے کا ڈبہ ایک دودھ کا پیکٹ اور ایک بسکٹ کا رول شاپر میں ڈالے پیدل جا رہا تھا اس پر ایک اچٹتی سی نظر ڈال کر قریب سے گزر گیا-

عمل دل میں سوچنے لگی اس کی کیا اوقات ہے جو یہ اتنا غرور سے چل رہا ہے اونہہ کہہ کر گاڑی اڑاتی چل پڑی-

احسن رات کو کمرے میں لیٹا عمل کے بارے میں ہی سوچنے لگا جو اس کے دل کو چھو گئی تھی –

عمل گھر پر بیٹھی لیب ٹاپ پر جابز دیکھ رہی تھی اور اتنے میں دادی نے عمل کو پکارا تو وہ لیب ٹاپ بند کر کے ان کے پاس آ گئ،

دادی نے کہا کہ مجھے باہر لان میں لے چلو ،

عمل بیڈ پر لیٹی سوچ رہی تھی کہ کل نوکری کے انٹرویو کے لیے جانا ہے، بڑے بھیا نے خلاف توقع اسے جھٹ اجازت دے دی تھی تب ہی گھر والے خاموش ہو گئے تھے کیونکہ وہ بڑے بھیا کی لاڈلی تھی اور جب وہ کچھ فیصلہ کر لیں تو گھر والے بھی مانتے تھے،

بڑے بھیا کی بیوی بھی اچھی تھی بہت خاموش طبع تھی وہ اس سے زیادہ بات چیت نہ کرتی تھی بس مسکراتی رہتی تھی اور اس کے معاملے میں وہ اپنے شوہر کو نہیں روکتی ٹوکتی تھی، بچے کی پیدائش پر بڑے بھیا نے اسے دوبئی بلایا تھا اور ڈھیروں شاپنگ کروائی تھی، دادی کی کافی شکل بن گئی تھی اور بڑے بھیا کو ڈانٹا بھی تھا مگر وہ نہ مانے تھے،

عمل سوچتی کاش بڑے بھیا کی جاب دوبئی میں نہ لگتی تو کتنا اچھا ہوتا اگر وہ پاکستان میں ہی رہتے، ان کے ہوتے ہوئے اسے کسی بات کی فکر نہ ہوتی تھی وہ ان کی بچپن سے لاڈلی تھی، وہ بھی ان کی مہربانیوں کا ناجائز فائدہ نہیں اٹھاتی تھی غیرت دیکھاتی تھی، انہوں نے اس کی پاکٹ منی لگا دی تھی مگر دادی اسے اس میں سے بہت کم پیسے دیتی تھی اور اسے وارننگ دیتی تھی کہ بڑے بھیا کو بتایا اور اس نے مجھے کچھ کہا تو تیرے حق میں اچھا نہیں ہو گا،

بڑے بھیا جو سب میں بڑے بھیا کے نام سے مشہور تھے، انہوں نے ماں کو بھی اپنے پاس بلا لیا تھا اور چھوٹا بھائی اپنی بیوی کے ساتھ ہنی مون پر ملک سے باہر گیا تھا اور اب دادی بھی بڑے بھیا کے پاس علاج کے لیے جا رہی تھی شام کو اس کی فلاہیٹ تھی،

اب وہ اس محل نما گھر میں اکیلی تھی دادی کے ناروا سلوک کے باوجود اسے ان کا بڑا آسرا تھا اب وہ قدرے پریشان تھی، سارے گھر میں کیمرے لگے ہوئے تھے،

عمل بس اسٹاپ پر کھڑی بس کا انتظار کر رہی تھی کہ سامنے احسن کو بیٹھے بس اسٹاپ پر کسی سے فون پر بات کر رہا تھا وہ خاموشی سے ایک طرف کھڑی ہو گئی،

احسن کی نظر اس پر نہ پڑی تھی وہ اپنی باتوں میں مگن تھا اور کہہ رہا تھا کہ یار میرے پاس تو بس کا کرایہ بھی بھی بمشکل ہے شکر ہے تمھارا نمبر یاد آ گیا تو جانتا تو ہے میں بھلکڑ مشہور ہوں مجھ تو اپنے فون کا نمبر بھی یاد نہیں رہتا، جب سے موبائل چوری ہوا ہے میں تو،،،،،

اچانک اس کی نظر عمل پر پڑی تو فون بند کر کے کھڑا ہو گیا اور عمل کے پاس آ کر سلام کیا اور پوچھا آپ نے کہاں جانا ہے،

عمل نے ایک نظر اس کے حلیے پر ڈالی جو پرانے مگر صاف کپڑے پہنے پاوں میں بوٹ پہنے جو اعلیٰ کوالٹی کے لگ رہے تھے کھڑا اسے دیکھ کر آگے پیچھے لوگوں کو دیکھنے لگا اور زرا دور کھڑا ہو گیا،

عمل نے اس کی کسی بات کا جواب دینا ضروری نہ سمجھا اور غرور سے سوچا یہ اتنا غریب سا انسان میرا آہیڈیل نہیں ہو سکتا، مگر دل بے چین ہو رہا تھا،

بس آئی اور وہ فوراً چڑھ گئی،

جب وہ بس سے اتری تو دیکھا احسن بھی پیچھے آ رہا تھا اسے دل میں غصہ آیا کہ وہ اسکا پیچھا کر رہا ہے، مگر دل یہی چاہ رہا تھا کہ وہ اس کے پیچھے چلتا رہے اس کی موجودگی اسے تحفظ کا احساس دلا رہی تھی، آخر وہ سوچنے لگی کہ وہ اسے کیوں سوچ رہی ہے، وہ اسے اگنور کرتی چل پڑی،

انٹرویو اس کی توقع کے برعکس بہت اچھا ہوا تھا انٹرویو لینے والا ینگ تھا اور اس کے پر اعتماد رویے سے متاثر ہوا تھا اور اس نے وعدہ بھی کیا تھا کہ یہ اس کی چونکہ پہلی نوکری ہے مگر پھر بھی وہ شکایت کا موقع نہیں دے گی، اور محنت سے کام کرے گی آج اسے آنے میں دیر اس لیے ہوئی کہ وہ لوکل بس سے آئی تھی،

باس نے اس کو پک اینڈ ڈراپ کی سہولت بھی دے دی اور وہ خوش ہو گئی، وہ کنٹین آئی تو باس احسن کے ساتھ بیٹھا خوش گپیوں میں مصروف تھا وہ حیران ہوتی ایک جوس لے کر ایک چیر پر بیٹھ کر جوس پینے لگی،

باس کی نظر اس پر پڑی تو اٹھ کر اس کے قریب آیا اور احسن کو آواز دے کر گاڑی کی چابی پکڑاتے ہوئے بولا مس عمل کو گھر چھوڑ دو،

عمل نے مروت برتا اور بولی سر میں آج چلی جاوں گی مگر وہ نہ مانا،

وہ جھٹ سے گاڑی میں پیچھے بیٹھ گئی، احسن نے شوخی سے کہا باے دا وے میں ڈرائیور نہیں ہوں،

عمل کچھ نہ بولی اور دل میں خوش ہونے لگی،

احسن جب عین اس کے گھر کے پاس پہنچا تو وہ چونک گئی اور بغیر کچھ بولے اتر گئی،

عمل اکیلی لیٹی رات کو اپنی پچھلی زندگی کے بارے میں سوچ کر اداس ہو رہی تھی، جب وہ چوکیدار کے والدین کے ساتھ اس خوبصورت اور بڑے سے گھر میں آئی تھی تو اسے تھوڑا تھوڑا یاد آتا ہے کہ گاؤں کے گھر کی نسبت اسے یہ گھر اور لان میں لگے جھولے بہت بھاے تھے، وہ بہت خوش تھی، چوکیدار کے والدین نے اسے گود لیا تھا اس کے والدین فوت ہو چکے تھے تو چوکیدار کے والدین نے ترس کھا کر اسے گود لے لیا تھا اور اب وہ اس گھر میں نوکری کی غرض سے سرونٹ کوارٹر میں رہائش پذیر تھے، چوکیدار کا باپ ادھر ڈرائیور کی نوکری پر معمور تھا،

عمل بہت زہین بچی تھی مالکن کے بچے اس سے کھیلتے اور خوش ہوتے، مالکن کی بیٹی پیدا ہوتے ہی فوت ہو چکی تھی جو عمل سے اس کی عمر کے مطابق ایک ماہ چھوٹی تھی، مالکن کے بڑے بیٹے نے ماں کو تجویز پیش کی کہ کیوں نا ہم اسے گود لے کر اپنی بہن بنا لیں، انہوں نے زبردستی اس کے لیے کپڑے، کھلونے خریدے، ان کے باپ کو اسے گود لینے میں اعتراض نہ تھا کہ اللہ تعالیٰ کا کرم ہے ہم اسے آرام سے پال سکتے ہیں، نیے اور خوبصورت کپڑوں میں انہیں بھی پیاری لگی وہ نکھر آئی تھی، بچوں کو جب ٹیوٹر پڑھانے آتا تو اسے بھی ساتھ بٹھا دیا جاتا اور وہ بہت جلدی سیکھ لیتی کہ ٹیچر بھی اس کی زہانت کی تعریف کرتا،

دادی کو ایک نوکر کی اولاد کو اتنی اہمیت دینا پسند نہ آتا، وہ بیٹے کو ڈانٹتی کہ کوئی ضرورت نہیں اسے گود لینے کی بس جو اس پر مہربانیاں کرتے ہو وہی کافی ہیں میں ویسے بھی اسے اپنی خدمت کے لیے اپنے کمرے میں رکھنا چاہتی ہوں، اور اسے زیادہ سر چڑھانے کی ضرورت نہیں ہے، وہ ان کی سگی بہن نہیں ہے،

بیٹا ماں کو صفائی دیتے ہوئے سمجھاتا کہ بچے خوش ہو رہے ہیں تو ہمارا کیا جاتا ہے،

جب اسکول داخلے کی عمر ہوئی تو بچوں نے شور مچا دیا کہ اسے ہمارے اسکول میں داخل کروا دیں اور ہم اس کا وہاں خیال رکھیں گے،

بیوی نے بچوں کے شوق اور اپنی بیٹی کی یاد سے مجبور ہو کر شوہر کو مشورہ دیا کہ ہم اپنی بیٹی کا برتھ سرٹیفکیٹ اس کے نام سے کروا کر اسے اسکول میں داخل کروا دیتے ہیں ثواب کا کام ہے بچی پڑھ کر کسی قابل ہو جائے گی رہا کہ جاہیداد کا دعویٰ نہ کر دے تو بھلا ان غریب لوگوں کی اتنی جرات نہیں ہے کہ ہمارے سامنے دم مار سکیں، اور بچے تو اب ہر وقت اس کے ساتھ کھیلنے میں لگے رہتے ہیں اور موبائل گیم وغیرہ کو بھولے ہوئے ہیں اچھا ہے ورنہ ہر وقت ان چیزوں میں گھسے رہتے تھے اور آنکھوں پر بھی برا اثر پڑتا ہے، مگر آپ بچوں کی دادی کو ابھی کچھ مت بتانا کہنا سستے اسکول میں ڈالا ہے، راستے میں آتا ہے تو اسے ساتھ لے جاتے ہیں،

پہلے تو دادی کو خبر نہ ملی مگر پھر وہ مجبور ہو کر چپ ہو گئ کیونکہ وہ بہت زہین بچی تھی اور بہت اچھے نمبروں سے پاس ہوتی تھی، اس کے گھر والوں کو بھی اس کے عوض تنخواہ مقرر کر دی گئی تھی تاکہ وہ بھی خوش رہیں اور اس کو ادھر ٹکنے دیں، وہ بھی بہت خوش تھے، بچی زیادہ وقت ادھر گزارتی، مگر دادی نے اسکا سامان ادھر رکھنے کی اجازت نہ دی تو عمل کو مجبوراً ادھر جانا پڑتا، ادھر چوکیدار کا بیٹا اسے اپنی منگیتر کہتا، اس کے والدین بھی عمل کے کان میں یہ بات ڈالتے رہتے کہ اس کی شادی انکے بیٹے سے ہو گی، وہ بمشکل میٹرک تک پہنچا، پھر اسے اسی گھر میں چوکیدار کی نوکری مل گئی،

عمل جوں جوں بڑی ہوتی گئی وہ سمجھدار ہوتی گئی اسے پتا چل گیا کہ وہ اس گھر کی ملازمہ ہے، شام کو اسے دادی کی ڈیوٹی دینی پڑتی، ان کا پرہیزی کھانا ان کی دوہیاں وقت پر دینا اور خریدنا،

دادی اسے ہر وقت احساس دلاتی رہتی کہ وہ ان کی ملازمہ ہے، وہ اس کی دل شکنی کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہ دیتی،

عمل کے سرپرست اس پر اس کے پالنے کا احسان جتاتے رہتے، چوکیدار کی ماں اس کے پڑھانے کے حق میں نہ تھی وہ جانتی تھی کہ اگر یہ پڑھ لکھ گئ تو اس کے بیٹے سے شادی نہیں کرے گی وہ میاں کو کوستی کہ میں کہتی رہی کہ اس کو گاوں بہن کے گھر بھجوا دیتی ہوں اس کو بھی کام میں مدد ملے گی مگر آپ نے نہ سنی،

جاری ہے،

شعر،

قبضہ دل تم سے چھڑانا ہے

دل کا مالک خود کو بنانا ہے

بن مول اس میں رہتے ہو

اب مول اس کا لگانا ہے،

شاعرہ عابدہ زی شیریں،

پلیز اسے لائک، کمنٹ اور دوستوں کو بھی شئیر کریں، شکریہ،


#قبضہ_دل_تم_سے_چھڑانا_ہے،



Reader Comments

Be the first to leave a comment on this episode!


Log in to leave a comment.