Dil ki Dharas Teri Yaadein
Episodes
کالج کے گراؤنڈ میں بیٹھی عشوہ نے ارحم کو گزرتے دیکھا تو اپنی فرینڈز سے بڑے جوش سے بولی، واہوہ، کیا پرسنیلٹی ہے۔
فرینڈز سن لو، یہ میرا pair ہے۔
ایک فرینڈ بولی، یہ پکا مجنوں ہے۔ اپنی منگیتر کا۔ جو اسی کالج میں پڑھتی ہے۔
دونوں کزنز بھی ہیں۔
عشوہ نے پوچھا، ویسے وہ بدقسمت منگیتر کا تعارف تو کروانا۔
دوسری نے حیرت سے مسکرا کر پوچھا، بدقسمت یا خوش قسمت۔
عشوہ مسکرا کر بولی، ارے وہ میرا ہے بس۔
دوسری نے چڑ کر کہا، وہ تمہارا کوئی برینڈ نہیں جسے تم آسانی سے خرید سکو۔
عشوہ بولی، دیکھ لینا۔
اتنے میں وردا سامنے سے گزری۔
ایک سہیلی نے سرگوشی میں بتایا، لو وہ رہی تمہاری سوکن۔
عشوہ نے اسے دیکھا اور ایک سرد آہ بھر کر بولی، بس نام بھی اب بتا دو یار اسکا۔
ایک سہیلی سوچتے ہوئے بولی، آئ تھنک وردا ہے شاید۔
عشوہ ایک امیر فیملی سے تعلق رکھتی تھی۔ بڑی سی مہنگی گاڑی میں یونیورسٹی آتی۔
اپنی فرینڈز سے خوشگوار موڈ میں رہتی۔
عشوہ اب ارحم پر نظر رکھنے لگی۔
اس نے وردا سے بھی دوستی بڑھا لی۔
وردا ایک غریب فیملی سے تعلق رکھتی تھی۔
وہ والدین کی اکلوتی اولاد تھی۔
ارحم کی ماں اس کی خالہ تھی۔
ارحم ایک کلرک کا بیٹا تھا۔
چھوٹا سا پرانا خستہ حال گھر اپنا تھا۔ ارحم دو بھائی تھے۔
چھوٹا بھائی ارحم سے چار سال چھوٹا تھا۔
ارحم کا باپ ریٹائرمنٹ کے بعد برگر لگاتا تھا۔
شام کو دونوں بھائی چاٹ اور برگر کی ریڑھی پر باپ کی ہیلپ کرتے۔
بہت مشکل سے گزارا ہوتا تھا۔
ماں بہت محنتی اور سلیقہ شعار عورت تھی۔
وردا کے والدین بچپن میں ہی وفات پا چکے تھے۔
خالہ تب سے اسے گھر لے آئی تھی۔
وردا اس وقت چودہ سال کی تھی۔
وردا کو بھی پڑھنے کا بہت شوق تھا۔ وہ اور ارحم سکالرشپ لیتے تھے۔
وردا گھر میں بچوں کو ٹیوشن بھی پڑھاتی اور ارحم کی ماں جو لوگوں کے کپڑے بھی سلائی کرتی تھی۔
وردا گھر کے کام کاج کے علاوہ اس کی سلائی میں بھی مدد کرتی۔
ارحم کی ماں نے اسے بچپن سے ہی اس کے والدین سے اسے ارحم کے لیے مانگ لیا تھا۔
وہ اسے بہت پیار کرتی۔
ان کی پڑھائی ختم ہونے پر اور ارحم کی جاب لگنے پر اس کی شادی کرنا چاہتی تھی۔
ارحم بہت سمجھدار لڑکا تھا۔
ماں سے کہتا کہ جب تک وہ اپنے پاوں پر کھڑا نہ ہو جائے وہ شادی نہیں کرے گا۔
عشوہ کھانے کی ٹیبل پر بیٹھی کھانا کھا رہی تھی۔ عشوہ کا بھائی کھانا کھاتے ہوئے ساتھ موبائل استعمال کر رہا تھا۔
عشوہ کے باپ نے عشوہ سے پوچھا، بیٹی کالج کیسا چل رہا ہے۔ کوئی مسئلہ مسائل تو نہیں ہے۔ اور وہ جو تمہارے لیے لڑکی ساتھ پڑھا رہا ہوں کیونکہ کالج والے ایسے کسی کو ہیلپر رکھنے نہیں دیتے تھے وہ تمہارا خیال تو رکھتی ہے کہ اپنی پڑھائی میں لگی رہتی ہے۔
عشوہ ارے ڈیڈ آپ اتنی فکر نہ کیا کریں میری۔ وہ تو پوری ایمانداری سے اپنی ڈیوٹی دیتی ہے۔
باپ بولا، کیسے نہ دے۔
اس کے گھر والوں کو فل سپورٹ کرتا ہوں۔
بس مجھے تمہاری پوری حفاظت چاہیے۔
باہر گارڈ بھی فل ٹائم باہر رہتا ہے یا نکل تو نہیں جاتا کہیں۔
بھائی اکتاے ہوے لہجے میں بولا،
ڈیڈ اتنی فکر آپ کیوں کرتے رہتے ہیں اس کی۔ یہ بچی تو نہیں رہی اب۔
ڈیڈ اسے خشمگیں نگاہوں سے گھورتے ہوے بولے، جلدی ناشتہ ختم کرو آج ایک ضروری کلائنٹ سے ملنا ہے۔
وہ غصے سے اٹھ گئے۔
بیٹے نے ماں کو پیار سے سمجھایا کہ پلیز اس کی جلدی سے شادی کریں شاید مجھے بھی باپ کی طرف سے کوئی اہمیت ملے۔
ماں نے ایک لمبی سانس بھر کر کہا، کیا بتاؤں مجھے تم سے بھی زیادہ جلدی ہے اس کی شادی کی۔
عشوہ پر باپ جتنی توجہ دیتا بیٹے پر نہ دیتا۔
بیٹا عشوہ سے نالاں رہتا۔
دونوں ایک ہی کالج میں پڑھتے تھے مگر جو آسائشیں عشوہ کو باپ نے دی تھیں وہ بیٹے کو نہ ملیں۔
باپ اس پر سختی کرتا۔
پڑھائی کے ساتھ اسے اپنے ساتھ بزنس مین بھی طاق کر رہا تھا۔
پورے کالج میں عشوہ کے چرچے تھے۔
اس کی باڈی گارڈ لڑکی کسی وجہ سے کالج اور عشوہ کی نوکری چھوڑ گئی تو عشوہ نے وردا سے کہا، اگر تم چاہو تو میری باڈی گارڈ بن سکتی ہو۔ میں اس بات کو خفیہ رکھوں گی اور کالج میں کسی کو بھی پتا نہیں چلے گا۔
وردا فوراً اس بات پر مان گئی۔
عشوہ نے باپ کو بھی اس بات پر منا لیا۔
اب اسکا باپ ان کے گھر سودے بھیجنے لگا۔
اس کے خالہ خالو کافی حیران ہوئے تو اس نے کہا، میری بیٹی کی خواہش پر یہ سب کر رہا ہوں۔
ارحم کو برا لگا مگر وردا نہ مانی،
کیونکہ عشوہ اسے خوب شاپنگ کروانے لگی تھی۔
وردا کو کم مراعات تھیں اور ارحم کے گھر والوں کو سودے سلف ملنے لگے۔
ان کی رواہیاں پوری ہونے لگیں۔
ارحم نے عشوہ کو بورہا منع کیا مگر وہ نہ مانی۔
ارحم نے وردا سے کہا، تم اپنی زات کے لیے مراعات لو۔
ہمیں چھوڑ دو۔
وردا خود یہی چاہتی تھی کہ سب کچھ اسے ملے۔
عشوہ اسکا ارادہ جان گئی اور باپ سے کہا، اس معاملے کو وہ خود ڈیل کرے گی آپ رقم میرے اکاؤنٹ میں ڈلوا دیا کریں۔
وردا نے کہا کہ وہ مجھے تنخواہ دیا کرے۔ میرے گھر والوں کو میں خود سب لا دیا کروں گی۔
تھوڑے وقت کے لیے وہ بہتر ہو گئے تھے مگر اس کے باپ نے کام نہ چھوڑا تھا۔
وردا ہر وقت احسان جتاتی۔
گھر والوں اور ارحم کو برا لگتا۔
عشوہ ارحم کو لفٹ دینے کی کوشش کرتی مگر وہ دور بھاگتا۔
آج سنڈے آف تھا۔ وردا اپنی فرینڈ کے گھر آی ہوی تھی۔
اس کی فرینڈ نے وردا سے ہنستے ہوئے ازراے مزاق میں پوچھا، تمہاری سوکن اب بھی ارحم کے پیچھے پھرتی ہے کیا اور تم شادی کب کر رہی ہو۔
وردا نے بڑے فخریہ انداز میں جواب دیا کہ وہ پھرتی رہے۔ ارحم اسے گھاس نہیں ڈالے گا میری اس سے شادی ہو جائے گی اور وہ منہ دیکھتی رہ جائے گی۔
دونوں اونچی آواز میں ہنسنے لگیں۔
عشوہ کے باپ نے کہا کہ میں اپنی جاہیداد دونوں بچوں میں برابر تقسیم کروں گا۔
بیوی نے کہا، لڑکی کا حصہ آدھا ہوتا ہے۔
وہ اتنے میں فون کال سنتے اٹھا اور بیوی سے بولا، میں یورپ کے ٹور پر جا رہا ہوں۔ ایک نیا پروجیکٹ ملا ہے۔ میں واپس آ کر جائیداد کا مسلہ حل کروں گا۔ کیا پتا میرے بعد میرا بیٹا اسے حصہ دے یا نہ دے۔
یہ کہہ کر وہ تیزی سے چلا گیا۔
عشوہ نے سنا، وہ باہر تک چھوڑ نے آئی۔ اور شدت جزبات سے بولی، پاپا میں بہت مس کروں گی۔
وہ اسے گلے لگا کر سر پر پیار کرتے بولے، مجبوری ہے۔
پھر کال آ گئ اور وہ ڈرائیور کو چلنے کا اشارہ کر کے اسے باے باے اشارے سے کرتے چل پڑے۔
عشوہ کی آنکھیں برس پڑیں۔
اس نے ناشتہ بھی نہ کیا۔
وہ کالج آئ تو اداس تھی۔
اس کی طبیعت خراب ہو رہی تھی۔ اس نے وردا سے کہا، میرے ساتھ ڈاکٹر کے چلو۔
وردا نے تھوڑا منہ بنایا اور ساتھ چل پڑی۔
ڈاکٹر کے پاس بہت رش لگا ہوا تھا۔
ڈاکٹر نے اسے کچھ ٹیسٹ لکھ دیے۔
وردا وہ لے کر رپورٹ لینے کے لیے اس کے ساتھ انتظار میں بیٹھ گئی۔
پھر وردا فون پر لگ گئ۔
عشوہ نے تنگ آ کر سوچا، خود ہی جا کر لے آوں۔
اس نے پوچھا، رپورٹ تیار ہے۔
اس نے نام پوچھا جب عشوہ نے نام بتایا تو اس نے رپورٹس اسے پکڑا دیں۔
اس نے باے دا وے پوچھا کیا رپورٹس صیح ہیں۔
اس نے رپورٹس پڑھ کر کہا، آپ کے ساتھ کوئی ہے۔
اتنے میں وردا بھی پیچھے آ گئی۔
عشوہ کی ڈاکٹر چھٹی پر گئی ہوئی تھی۔
اس کی جگہ کوئی نیو ڈاکٹر تھی۔
عشوہ اس کے پاس رپورٹس لے کر گئی تو وہ رپورٹس دیکھ کر افسردہ سی سانس بھر کر بولی، کیا آپ نے پہلے اپنا علاج نہیں کروایا۔
عشوہ پریشانی سے بولی، کیوں کیا ہے رپورٹس میں۔
اتنے میں ڈاکٹر کی کال آ گئ۔
عشوہ کو پیاس لگی۔
وردا اس کے لیے پانی لینے چلی گئی۔
جب وہ واپس آئی تو عشوہ بری طرح رو رہی تھی۔
ڈاکٹر اس کو تسلیاں دے رہی تھی۔
وردا نے حیرت سے پوچھا کیا ہوا۔

Reader Comments
Be the first to leave a comment on this episode!
Log in to leave a comment.