Logo
Dil ki Dharas Teri Yaadein
4 Episodes
Dil ki Dharas Teri Yaadein EP 2
Episode 2

دل کی ڈھارس تیری یادیں 2

Dil ki Dharas Teri Yaadein


دوسرا حصہ - 2nd Part


ڈاکٹر نے بتایا

"اس کی کینسر کی لاسٹ سے پہلے والی اسٹیج ہے۔ اب آپریشن بھی ممکن نہیں۔ بس دعا کی ضرورت ہے۔ جتنی ان کو خوشیاں دے سکتے ہیں دیں۔ میں پھر بھی کچھ دوائیں لکھ دیتی ہوں۔"

عشوہ نے روتے ہوئے جزباتی لہجے میں کہا، 

"میں نے کوئی دوا نہیں کھانی۔"

وردا کو ارحم کا فون آیا تو اس نے سب بتا دیا۔ ارحم نے پریشانی سے کہا، 

"اسے ادھر لے آؤ۔"

وہ اسے منا کر گھر لے آئی۔ ارحم کے گھر والوں نے اسے بہت اچھی طرح سنبھال لیا۔ عشوہ کے گھر سے اس کی ماں کا فون آیا تو اس نے کہا، 

"موم میں ادھر وردا کے گھر ہی رکوں گی۔"

ماں نے 'اچھا' کہہ کر انہوں نے فون بند کر دیا۔

یونیورسٹی سے چھٹیاں چل رہی تھیں۔ ایک ہفتے سے وہ ان کے گھر رہ رہی تھی۔ ان کے گھر کی حالت ناگفته بہ تھی۔

گھر میں کھانے کے لالے پڑے تھے، چھوٹے بھائی کی فیس، والدین کی میڈیسن وغیرہ علیحدہ مسئلے تھے۔ 

عشوہ نے ارحم کو اکیلے میں آفر پیش کی،

"تم اگر مجھ سے نکاح کر لو تو میری زندگی کے جو بچے کھچے دن ہیں وہ میں تمہاری اور تمہارے گھر والوں کی سنگت میں سکون سے گزارنا چاہتی ہوں۔ کیونکہ میں تم سے بہت محبت کرتی ہوں۔ میں یہ بھی جانتی ہوں کہ تم وردا کے منگیتر ہو اور اسی سے پیار کرتے ہو۔ میرے بعد تم اسی سے شادی کر کے اپنی محبت کو پا لینا تو میں سکون سے مر سکوں گی۔ میں اپنی بیماری کا اپنے ڈیڈ کو کچھ نہیں بتانا چاہتی ہوں نہ ہی گھر والوں کو۔"

اتفاق سے وردا نے اس کی باتیں سن لیں۔ وہ فوراً کمرے میں آ گئی۔ عشوہ نے چونک کر اسے دیکھا، ارحم نے گردن جھکا لی۔ 

عشوہ اسے پکڑ کر دوسرے کمرے میں لے گئی اور پرس سے دو لاکھ نقد جو اس کے باپ نے جاتے ہوئے اسے پکڑائے تھے اسے دیتے ہوئے بولی، 

"پلیز وردا تم یہ رکھو" 

اور ہاتھ جوڑتے ہوئے بولی، 

"تم مان جاؤ میں عارضی طور پر اس کی بیوی بنوں گی بعد میں وہ ہمیشہ تمہارا رہے گا۔ ارحم کو منا لو۔"

وردا نے پیسے دیکھے اور اس سے جھپٹتے ہوئے بولی، 

'مجھے کوئی اعتراض نہیں ہے۔ مگر مجھے ارحم کو منانے کا مت کہنا، وہ کھبی نہیں مانے گا کیونکہ وہ مجھ سے محبت کرتا ہے۔ ہاں اگر تمہاری بات مانتا ہے تو مجھے کوئی اعتراض نہیں ہے۔"

عشوہ خوش ہو کر بولی، 

"تھینکس۔"

وردا نے مسکراتے ہوئے سوچا، بےچاری کو ایڑی چوٹی کا زور لگانا پڑے گا پھر بھی وہ نہیں مانے گا۔ مفت کے بےچاری کے دو لاکھ بھی گئے۔ میں تو یہ دو لاکھ واپس نہیں کروں گی۔ میرا کیا قصور۔ میں نے تو کہا تھا منالو۔ وردا نے اس کو دیکھانے کے لیے اس سے بات کی مگر ارحم نے صاف انکار کر دیا۔ وہ خوشی خوشی واپس آئی اور بولی، 

"عشوہ ڈیئر ابھی تو اس نے انکار کر دیا ہے مگر تم فکر نہ کرو میں اسے مناتی رہوں گی۔ ابھی میں اپنی دوست کے ہاں چند دنوں کے لیے رہنے جا رہی ہوں۔"

ارحم کے بھائی نے کہا، 

"بھائی جان میری فیس دینے کے دو دن لاسٹ رہ گئے ہیں۔"

ارحم نے سوچا ابھی وردا سے لون لے لیتا ہوں، اس کو ابھی دو لاکھ ملے ہیں۔ اس نے وردا سے بات کی تو وہ صاف مکر گئی کہ وہ تو اس نے اسے تمہیں منانے کے نہیں بلکہ مجھے لیب ٹاپ لینے کے لیے دیے ہیں تاکہ مجھے اس کے نوٹس بنانے میں مدد ملے۔ یہ کہہ کر وہ تیزی سے چل پڑی۔ ارحم کو شدید غصہ آیا۔

اتنے میں عشوہ اس کے پاس آئی اور بولی،

"ارحم میں تمہاری مدد کر سکتی ہوں اگر تم میرے گنتی کے چند دن مجھ سے نکاح کر کے خوشگوار بنا دو۔"

وہ پہلے ہی غصے میں تھا۔ چلا کر بولا، 

'ہرگز نہیں۔ ہر چیز بکاؤ نہیں ہوتی۔"

عشوہ نم آنکھیں لیے فوراً وہاں سے چل پڑی۔ ارحم غصے میں باہر نکل گیا کہ شاید کوئی بندوبست کر سکے۔

عشوہ بیٹھی رو رہی تھی تو ارحم کی ماں جسے سب علم تھا۔ گھر چھوٹا تھا آوازیں کلیئر آتی تھیں اس کے پاس آ کر پیار سے گلے لگا کر تسلی دینے لگیں۔ اسے بولیں، 

"بیٹی، بہتر ہے تم اپنی ماں کے پاس چلی جاؤ۔ اس وقت تمہیں ماں کی ضرورت ہے۔"

وہ روتے ہوئے بولی، 

"میری ماں مر چکی ہے اب آپ ہی میری ماں ہیں۔ ڈیڈ کے باہر ملک جاتے ہی وہ گارڈز بھی منع کر دیتی ہیں۔ وہ مجھ سے اچھا سلوک نہیں کرتیں۔ مجھے آپ کے گھر سکون مل رہا ہے۔"

انہوں نے دکھی ہوتے ہوئے کہا، 

'اچھا میں ارحم کو سمجھاوں گی۔"

وہ روتے ہوئے بولی، 

"نہیں آنٹی جی، مجھے زبردستی کی خوشی نہیں چاہیے۔"

اتنے میں ارحم کے باپ کے کھانسنے کی آواز آئی۔ ارحم مارا مارا پھرتا رہا، کافی لوگوں کے پاس گیا مگر کچھ نہ بنا۔ اس کا جی چاہ رہا تھا کہ خودکشی کر لے۔ عصر کی نماز کا وقت ہو رہا تھا وہ مسجد چلا گیا اور دیر تک اللہ تعالیٰ سے مدد مانگتا رہا۔ مغرب ہو گئی۔ بھوکا پیاسا پھر رہا تھا۔ مغرب کی نماز ادا کر کے وہ گھر کی طرف چلا۔ موبائل بھی گھر بھول آیا تھا۔ 

گھر والے پریشان ہو رہے تھے۔ چھوٹا بھائی ڈھونڈنے نکلا ہوا تھا۔ جب پریشان حال ارحم گھر میں داخل ہوا تو عشوہ سامنے کھڑی تھی۔ اس نے جھٹ عشوہ سے کہا، 

"عشوہ مجھے معاف کر دو، میں تم سے شادی کے لئے تیار ہوں۔"

وہ بولی، 

"نہیں ارحم، میں اپنی عارضی خوشی کے لیے کسی کو زبردستی مجبور نہیں کر سکتی۔"

وہ دل میں پچھتانے لگا کہ ایک ہی راہ تھی وہ بھی گنوا دی۔ اتنے میں بھائی ہانپتا کانپتا آیا اور اسے گلے لگاتے ہوئے جزباتی انداز میں بولا، 

"کدھر چلے گئے تھے آپ۔"

وہ مایوسی سے بولا، 

'میرے منے بھائی، میں ایک بےکار انسان ہوں۔ میں تمہارے لیے کچھ نہیں کر سکا۔"

وہ خوشی سے بولا، 

'بھائی جان، فیس کا بندوبست ہو گیا ہے اور ابو کی دوائی بھی آ گئ ہے۔ سارے ٹیسٹ بھی ہو چکے ہیں اور اب علاج بھی اچھا ہو گا۔"

وہ حیرت سے بولا 

"مگر کیسے۔"

بھائی خوشی سے لبریز ہو کر بولا، 

"عشوہ باجی نے سب کیا ہے۔"

وہ پھر بولا 

"مگر کیوں؟"

اتنے میں عشوہ آ کر بولی، 

"میں نے ادھر اتنا خلوص اور پیار پایا ہے کہ شاید کھبی مجھے زندگی میں ایسا پیار نصیب ہوا ہو۔ میں اپنی زندگی کے بقیہ دن بھی آنٹی کی اجازت سے ادھر ہی گزارنا چاہتی ہوں۔"

ارحم کی ماں نے اسے پیار سے گلے لگاتے ہوئے کہا 

"کیوں نہیں۔ تم اس گھر میں ایک فیملی ممبر کی حیثیت سے رہو گی۔ کل میں تمہارا نکاح ارحم سے کر دوں گی۔"

وہ حیرت سے بولی، 

"مگر۔۔۔"

ارحم کی ماں بات کاٹتے ہوے بولی، 

"ارحم سے کیا تم شادی نہیں کرنا چاہتی؟"

وہ بولی، 

"جی ایسی کوئی بات نہیں۔"

ارحم کی ماں نے کہا، 

'کل بغیر کسی کو بتائے تم نکاح کے بندھن میں بندھ جاؤ گی۔ میں نے بندوبست کر لیا ہے۔ محلے کے چند لوگ شامل ہوں گے۔"

پھر وہ اسے اپنے کمرے میں لے گئیں اور اسے ایک خوبصورت جوڑا دیتے ہوئے کہا 

"یہ انہوں نے ارحم کی دولہن کے لیے سیا تھا۔"

وہ ہچکچاتے ہوے بولی، 

"یہ وردا کے کام آئے گا۔"

ماں غصے سے بولی، 

"وردا اس گھر کو حقیر سمجھتی ہے۔ اس کے خواب اونچے ہیں جو ہم نہیں پورا کر سکتے۔"

ارحم عشوہ پر حیران ہوا کہ میرے انکار کے باوجود اس نے اس گھر کے مسائل کو اپنا سمجھا۔ دوسرے دن عشوہ اسی جوڑے کو پہن کر بہت خوش تھی۔ بہت پیاری لگ رہی تھی۔ چند لوگوں کی موجودگی میں نکاح کی رسم ادا کر دی گئی۔

ارحم کے بھائی نے چند سستے پھولوں سے کمرہ بھی سجا دیا اور سیور فوڈ بھی منگوا لیا۔ اس نے سیور فوڈ اپنے ایک دوست سے ادھار کچھ نقد لے کر منگوایا اور مہمانوں کی شربت اور سیور فوڈ سے تواضع کی۔ عشوہ حیران ہوئی کہ اس نے تو شادی کا کوئی خرچہ نہیں دیا تھا۔

ارحم نے بھائی سے پوچھا تو وہ بولا، 

"اسے آج ہی پارٹ ٹائم نوکری ملی ہے اور ایک اچھا دوست بن گیا تھا اس نے ادھار دیا۔"

عشوہ سنکر بہت متاثر ہوئی کہ اس نے اس کی خوشی منانے کے لیے ادھار لیا۔

ارحم روم میں آیا تو دیکھا عشوہ شیشے کے آگے کھڑی سوچ رہی تھی۔ وہ اس کے قریب ایا تو وہ چونک کر بولی، 

"ارحم آپ اس بندھن کی وجہ سے اپنے آپ کو قید نہ سمجھنا۔ بس مجھے آپ کا نام ہی کافی ہے۔ میں بس اس گھر میں رہنا چاہتی ہوں سب بہت اچھے ہیں۔ اگر آپ اس دوران وردا سے بھی شادی کر لیں گے تو مجھے کوئی اعتراض نہیں ہوگا۔"

وہ اسے پیار سے دیکھتے ہوئے بولا، 

"میں نے زندگی میں ایک ہی شادی کرنی تھی وہ کر لی، اور دل بھی ایک ہی ہے جو تمہیں دے دیا۔ وردا کو بھول جاؤ۔ میں اس سے کھبی شادی نہیں کروں گا۔ اسے ہمارے مسائل سے کوئی سروکار نہیں ہے۔ وہ صرف اپنا سوچتی ہے۔ اس کے مطلب کا کوئی رشتہ ملا تو اس کی شادی کروا دوں گا۔ تم نے میرا دل جیت لیا ہے۔ میرا کیا، میرے تمام گھر والوں کا۔ اب میں تمہارا اچھا سا علاج کراوں گا گو تمہارے پیسوں سے ہی۔ کیونکہ میں ابھی افورڈ نہیں کر سکتا، اور غیرت دکھا کر تمہارا علاج ڈیلے نہیں کرا سکتا۔ اس کے علاوہ میں بلاوجہ تمہارے پیسوں کا خرچہ اس گھر پر نہیں ہونے دوں گا اور جتنا ہو سکا تمہاری زمہ داری اٹھانے کی کوشش کروں گا جتنی میری بساط ہو گی انشاءاللہ۔"

پھر جیب سے ایک شاپر سے نقلی خوبصورت انگوٹھی نکال کر اسے پہناتے ہوئے کہا، 

"یہ تمہارے لیے خریدی تھی۔"

وہ حیرت سے باتیں سن رہی تھی۔ انگوٹھی کو چومتے ہوئے بولی،

"اس سے بڑھ کر دنیا میں میرے لیے قیمتی گفٹ کوئی نہیں ہے۔"

وہ مسکرانے لگا۔

دوسرے دن وہ اسے سوتا چھوڑ کر اس کی رپورٹس لے کر اسی ہاسپٹل میں چلا گیا تاکہ کچھ ڈاکٹر سے بات چیت کر سکے۔ ڈاکٹر نے جب رپورٹس دیکھیں تو خوشی سے بولی، 

"مسٹر یہ رپورٹس تو ہم ڈھونڈ رہے تھے۔ یہ رپورٹس آپ کی مریضہ کی نہیں ہیں۔ نام ایک ہونے کی وجہ سے غلطی سے بدل گئی۔ دراصل یہ رپورٹس جس کی تھیں اس کی شادی تیار تھی۔ پھر شادی روک دی گئی۔ کہ اچانک اس کی بیماری نکل آئی۔ مگر جب آپ کی مریضہ کی صیح رپورٹس ان تک پہنچی تو وہ بہت خوش ہوئے۔ لڑکی نے بھی اپنے آپ کو تندرست سمجھ لیا اور اس کی شادی ہو گئی۔ اب جب ہم نے اس لڑکی کے والدین کو آگاہ کیا تو انہوں نے بتایا کہ ہم نے اس کے سسرال والوں کو نہیں بتایا تھا اور اب بھی نہیں بتائیں گے۔ بچی خوش ہے۔ اور کافی پہلے سے بہتر ہے۔ اسے بتا کر دکھی نہیں کرنا چاہتے۔ آپ کی مریضہ بلکل ٹھیک ہے۔"

ارحم بہت خوش ہوا مگر اس نے سوچا کہ وہ امیر زادی ہے اگر سچائی جان گئی تو شاید وہ پھر پہلے والی ڈگر پر نہ چل پڑے۔ ابھی وہ کم از کم توبہ تو کرے گی اور زندگی کو اور وقت کو قیمتی سمجھ کر جیے گی۔ گھر والوں کو بھی کچھ نہیں بتاؤں گا۔

وہ گھر واپس آیا تو وہ ماں کے پاس بیٹھی چائے پی رہی تھی۔ اس کے ہاتھ میں رپورٹس دیکھ کر بولی، 

"ایسی بھی کیا جلدی ہے۔ میں نے کوئی علاج نہیں کرانا۔ آپ لوگوں کے پیار سے ہی میں ٹھیک رہوں گی اور ٹھیک ہوں۔"

ماں نے پوچھا، بیٹا ڈاکٹر نے کیا کہا۔

وہ بولا،

"وہ کہہ رہی ہے کہ دوائی کی ضرورت نہیں گھر والے ہی پیار سے ٹھیک کریں۔"

عشوا چہک کر بولی، 

"میں جو کہہ رہی تھی۔"

ماں نے پریشانی سے اسے دیکھا۔ ارحم نے ماں کو پریشان دیکھ کر کہا، 

'فکر نہ کریں، دو تین پوتے پوتی دے کر ہی شاید میری جان چھوڑے۔"

وہ قدرے شرما کر شوخی سے بولی، 

"فکر نہ کریں بھوت بن کر ڈراؤں گی۔"

وردا چند بعد واپس آئی تو نکاح کا سن کر شاکڈ ہو گئی۔ اسے یقین نہیں آ رہا تھا کہ ارحم اس کے علاوہ کسی اور کو اپنا سکتا ہے۔ وہ تو یہ سوچ کر بیٹھی ہوئی تھی کہ وہ تو ارحم کو خوب منائے گی اور اپنی محبت کا واسطہ دے گی۔ ادھر عشوہ سے اس بات کا خوب فائیدہ اٹھائے گی۔ 

اسے ارحم کے گھر والوں کا عشوہ کو اتنی اہمیت دینا برداشت سے باہر تھا۔ وہ دل میں خوب پچھتا بھی رہی تھی کہ کاش وہ اس کے بھائی کا داخلہ بھجوا دیتی اور اس کے باپ کی دوا لا دیتی۔ اب تو اسے ارحم پر یقین ہو چکا تھا کہ وہ اب دوبارہ اسے کھبی نہیں اپنائے گا۔

وہ خوب چیخی چلائی مگر کچھ حاصل نہیں ہوا۔ اس نے اس گھر کو چھوڑنے کا فیصلہ کر لیا اور غصے سے گھر سے نکل گئی۔ گھر والے پریشان ہو گئے۔

اس کی فرینڈز کو فون کیے مگر وہ وہاں بھی نہ ملی۔


تیسرا حصہ - 3rd Part


Continue Reading
Episode 3
دل کی ڈھارس تیری یادیں 3

Reader Comments

No comments yet. Be the first to share your thoughts!

Log in to leave a comment.

Related Novels

Selected For You

View More Free Novels

Editor's Choice

Handpicked favorites that you shouldn't miss.

Premium Membership

Unlock the Full Library

One subscription. Every story. Unlimited reading.

PKR 300
30 Days of Unlimited Access
Go Premium Now

Secure payment  ·  Instant access

Full Novel Library
Access every premium & exclusive novel — no episode locked
Unlimited Reading
Read as much as you want, whenever you want, at your pace
Support the Author
Your subscription directly supports Abida Z Shireen's work
New Episodes First
Be the first to read every new episode as soon as it drops
A F S R N
Join thousands of readers already enjoying premium access
Loved by readers
Our Literary World

Experience the Best Urdu Novels Online

Dive into decades of storytelling by Pakistan's most beloved author, now at your fingertips.

50+
Published Novels
30+
Years of Writing
1M+
Readers Worldwide
100%
Authentic Stories
01

The Legacy of Abida Z Shireen

Welcome to the digital sanctuary of Abida Z Shireen, one of Pakistan's most celebrated literary icons. As a premier Urdu storyteller, she has spent decades crafting narratives that capture the soul of our society. This online Urdu reading platform is designed to preserve her vast Urdu literature archive, offering readers a chance to read Urdu novels online that explore the depths of human emotion, culture, and resilience.

Read Her Story
Abida Z Shireen
Author
02

Captivating Novels & Social Sagas

From suspense-filled thrillers to heart-touching social dramas, our collection features the best Urdu novels that have captivated millions in publications like Aanchal Digest. Whether you are looking for new Urdu novels 2024 or timeless classics, Abida's work provides a unique lens into family dynamics and romantic storytelling. Dive into her world and discover why she is considered a top Urdu digest writer by fans globally.

Browse All Novels
Reading Urdu Novels on Tablet and Phone
Novels
03

Soul-Stirring Urdu Poetry Collection

Beyond prose, this platform hosts an extensive Urdu poetry collection. Abida Z Shireen's verses offer a profound look into spiritual and philosophical themes, available in both Urdu and English. As a featured Urdu poet, her work serves as a bridge between traditional rhythms and modern thought. Join our community of literature lovers to explore famous Urdu poems and exclusive literary insights found nowhere else.

Explore Poetry
Elegant Desk with Pens and Books
Poetry