Dil ki Dharas Teri Yaadein
4 Episodesچوتھا حصہ - 4th Part
نوید صاحب کی بیوی نے اسے گلے لگا کر تسلی دیتے ہوئے کہا،
"پہلے تو اسے سمجھ نہ تھی کہ وہ کیا کرے، اس کی ساس نے اسے صاف لفظوں میں بتا دیا تھا کہ وہ شوہر کو اپنا مشکل سے بنا سکے گی۔ اس لئے اسے صبر وشکر سے کام لینا ہوگا کیونکہ وہ عشوہ کی ماں کا دیوانہ تھا وہ تو اس کہتا تھا کہ دل کی ڈھارس ہیں اس کی یادیں۔ وہ انہیں یادوں کے سہارے زندگی بسر کر لے گا مگر والدین نے زبردستی اس کی شادی مجھ سے کروا دی۔ مجھے سب سچ بتا دیا گیا۔ میرے شوہر ویسے بہت اچھے انسان تھے۔ میرے حقوق و فرائض میں کوتاہی نہیں برتتے تھے۔ مجھے انہوں نے کھبی کوئی تکلیف نہیں دی۔ کھبی لڑے نہیں۔ میں نے بھی وقت و حالات سے سمجھوتہ کر لیا تھا۔ مگر جب تمہاری بات آئی تو ساس سسر نے اسے مجھے پالنے نہ دیا۔ انہوں نے یہ منظور کر لیا کہ وہ چھ ماہ باہر اور چھ ماہ پاکستان رہے۔ وہ یہ سمجھتے تھے کہ اگر عشوہ ادھر آ گئی تو انکا پوتا پوتی اگنور ہو جائیں گے کیونکہ باپ ہر وقت عشوہ کے چکر میں لگا رہے گا۔ وہ سامنے نہیں ہو گی تو بچوں پر توجہ دے گا۔ ساس سسر نے شرط رکھی کہ جب تم ہمارے پاس ہو تو کھبی کبھار دو منٹ خیریت دریافت کر سکتے ہو، باقی سارا وقت اپنے بیوی بچوں کو دو گے۔ وہ وعدے کے مطابق ایسا ہی کرتے تھے۔ مجھے تم سے ملنے کا تجسس رہتا تھا مگر ساس سسر نے مجھے تمہارا ذکر کرنے کا سختی سے منع کیا تھا۔ جب وہ اچانک بیمار ہوئے تو انہوں نے مجھے سب تفصیل سے آگاہ کر دیا۔ انہوں نے بتایا کہ تمہاری رقم سے انہوں نے ایک چلتی فیکٹری اور گھر خریدا اور جو رقم تمہاری تھی اور جو خرچ کرتے تھے سب حساب کتاب رکھتے تھے۔ وہ گھر تمہارے نام ہے اور جو رقم تمہاری خرچ کی تھی اس سے دگنی وہ تمہارے اکاؤنٹ میں جمع ہے۔ باقی وہ اپنی محنت سے کمایا ہوا پیسہ اپنے بیوی بچوں کے نام کر گئے تھے۔ انہیں دوسری بیوی کی حقیقت کا پتہ چل گیا تھا۔ وہ جاتے ہی اس سے فون پر لڑے اور اسے طلاق بھیج دی جب سنا کہ تم نے نکاح کر لیا ہے۔ اس کے بعد وہ زیادہ بیمار ہو گئے اور مجھ سے بھی معافی مانگی، اور مجھے نصیحت کی کہ میں تمہاری دولت اور گھر تمہیں اس عورت سے دلوا سکوں۔ اس کے علاوہ تمہارا خیال رکھوں کہ وہ عورت تمہیں نقصان نہ پہنچا سکے کیونکہ اس نے اپنی طلاق چھپا لی تھی اور وہ جائیداد اور دولت کی حصے دار بننے کی کوشش کرے گی۔ انہوں نے طلاق کے کاغذات کی کاپی مجھے بھی دی تاکہ اس کا سچ سامنے لا سکوں۔ ساس سسر تو چند سال پہلے ہی فوت ہو چکے تھے۔ اب وہ پچھتا رہے تھے کہ مجھے رازداں کیوں نہ بنایا۔ وہ مجھ سے خوش تھے کہ میں نے اور میرے بچوں نے ان سے وعدہ کیا تھا کہ ہم پاکستان جا کر تمہیں بہت پیار اور مان دیں گے اور اب انشاءاللہ ایسا ہی ہو گا۔ تم ہماری بیٹی ہو۔ میرے بچوں کی بہن۔"
عشوہ کے دل میں سکون سا اتر آیا۔
تیسرے دن قل اور چالیسواں کروا دیا گیا اور ان ماں بیٹی کو قانون کی مدد سے نکال دیا گیا۔ ان کی بہو کے گھر والے بیٹی کے کہنے پر انہیں اپنے گھر رکھنے پر راضی ہو گئے۔
وردا کو بچہ سنبھالنے کے لیے ملازمہ رکھ دیا گیا۔ وردا کو بچے سے بہت پیار ہو گیا تھا پھر اس نے خفیہ طور پر بچے کے باپ سے نکاح کر لیا تھا۔ نکاح کے بعد اسے معلوم ہوا کہ وہ ماں بننے کی نعمت سے محروم ہے تو اس نے بچے کو ہی اپنا سب کچھ مان کر دل سے اس کی دیکھ بھال کرنے لگی۔ اس بچے کے ننھیال والے اسے بیٹی کی نشانی سمجھ کر اسے پال رہے تھے پھر بچے کے باپ اور دادی کو بیٹی کی وفات کے بعد سرونٹ کوارٹر میں جگہ مل گئ اور بیٹے کو ان کے آفس میں نوکری۔
وہ بیٹے سے پیار کرتا تھا اس وجہ سے وہاں رہنے پر مجبور تھا کہ بچہ اچھی تعلیم پا سکے گا خوشحالی کی زندگی بسر کرے گا۔ وہ وردا کے نکاح کو بھی جان چکے تھے۔ وردا بچے پر جان چھڑکتی تھی۔ دادی ادھر ملازمہ بنی گھر کے کام سنبھالتی۔
عشوہ کو نوید صاحب کی بیوی اب بلکل بیٹی کی طرح چاہنے لگی تھی اور اسے زبردستی اس کے سسرال والوں سمیت ادھر شفٹ کر لیا تھا اور نوید صاحب کے دونوں بچے عشوہ سے بہت پیار کرتے۔ نوید کی بیٹی کو عشوہ کے دیور سے بیاہ دیا گیا تھا۔
عشوہ نے نوید کی بیوی جسے وہ اب ماما کہتی تھی بتایا کہ نکاح کے بعد اس نے شوہر کو آزمانے کے لیے اس کے ساتھ غربت میں رہنے لگی اور بتایا کہ اس کے پاس کچھ نہیں ہے سب اس عورت نے چھین لیا ہے۔ اس نے بتایا کہ ماما آپ جانتی ہیں کہ ارحم نے کھبی اسے کریدنے کی کوشش نہیں کی۔ کھبی اس کی دولت کی طرف دھیان نہیں دیا۔
وہ فخریہ انداز میں بولی،
"ماما میں بہت لکی ہوں کہ مجھے اتنا اچھا شوہر اور اتنے اچھے سسرالی ملے۔"
پاس بیٹھی ان کی بیٹی فخر سے بولی،
"شکریہ آپ کا کہ آپ کے طفیل مجھے بھی اتنا اچھا سسرال ملا۔"
نوید کی بیوی نے کہا،
"بیٹی تمہارا بہت شکریہ کہ میری بیٹی کو دیور سے بیاہنے کا آئیڈیا تمہارا تھا۔ جب میں نے پاکستان شوہر کی خواہش کے مطابق ادھر مستقل رہائش پذیر ہونے کا ارادہ کیا تو میں خاص طور پر اپنی بیٹی کے رشتے کے لیے بہت پریشان تھی۔ مگر تم نے میری یہ مشکل بھی اللہ تعالیٰ کے حکم سے آسان کر دی۔ تم بہت گریٹ لڑکی ہو۔ تم تو وردا کو بھی، نہیں بھولی، اسے بھی اپنے گھر آنے جانے کے لیے ویلکم کرتی ہو۔ تم اس کے بارے میں اتنا سوچتی ہو کہ یہ اسکا میکہ ہے۔ اب تو تمہاری سوتیلی ماں بھی مرتے مرتے معافیاں مانگتی رہی۔ اب بھائی کی شادی بھی تم نے ہی کرنی ہے اور لڑکی بھی تم نے تلاش کرنی ہے۔"
وہ مسکرا کر بولی،
"میرے بھائی نے ہماری یہ مشکل بھی آسان کر دی ہے۔"
ماں نے حیرت سے پوچھا
"وہ کیسے؟"
عشوہ نے بتایا کہ وردا کی نند کو بھائی پسند کرتا ہے اور وہ بھی کرتی ہے۔ اس کے گھر والے بھی ادھر رشتہ کرنا چاہتے ہیں آپ کا کیا خیال ہے۔
نوید صاحب کی بیگم نے خوشی سے بتایا
"مجھے تو وہ لوگ شروع سے ہی بہت اچھے لگے تھے جو اس عورت کی اصلیت کو جانتے ہوئے بھی اسے اور اس کے بیٹے بہو کو نواسے کے لیے اپنے گھر میں رکھے ہوئے تھے۔ ورنہ وہ صرف نواسے کو بھی رکھ سکتے تھے۔ انہوں نے وردا کے شوہر کو بھی اپنے آفس میں اچھی پوسٹ دے دی کہ وہ بزنس کے نقطے جانتا ہے۔ نوید صاحب نے اسے بزنس میں طاق کر دیا تھا۔
وہ اب نوید صاحب کو یاد کرتا ہے اور عشوہ سے بھی معافی مانگتا ہے۔
جب سے اس کی ماں فوت ہوئی ہے وہ اب اپنے آپ کو اکیلا سمجھتا ہے۔ اب تو وہ عشوہ کو بہن مانتا ہے اور اسے اور اس کے بچے سے بہت پیار کرتا ہے۔
عشوہ کے ساس سسر وفات پا چکے تھے۔ نوید صاحب کے بیٹے کی شادی بہت دھوم دھام سے وردا کے دیور سے ہو چکی تھی۔ عشوہ کا بیٹا سب کی آنکھ کا تارا تھا۔ عشوہ کو اب ڈھیروں رشتے مل چکے تھے۔ نوید صاحب کا بیٹا اور بیٹی اسے بہن کا درجہ دیتے۔
عشوہ کو نوید صاحب کی بیوی بیٹی کی طرح چاہتی۔ وہ اکثر اس بات کا زکر کرتی رہتی کہ نوید نے اس کے پیسے سے بزنس شروع کیا جو اتنا ترقی کر گیا کہ اج سب کا مستقبل سنور گیا۔ عشوہ بڑے پیار سے انہیں ماما کہہ کر گلے میں بانہیں ڈال کر کہتی،
"ماما یہ میرے لیے گھاٹے کا سودا نہیں ہوا۔ انہوں نے مجھے سگے باپ سے بڑھکر پیار دیا اور اتنے ڈھیروں پیارے رشتے مل گئے۔ انہوں نے مجھے پیار سے پالا پوسا، پڑھایا لکھایا۔ یہ ان کا مجھ پر بہت احسان ہے۔"
نوید کی بیوی نے ڈرتے ڈرتے کہا،
"بیٹی ایک بات کہوں تو مانو گی کیا؟"
وہ تڑپ کر بولی،
"ماما کیسی باتیں کرتی ہیں آپ حکم کریں بس۔ میری کیا مجال کہ میں نہ مانوں۔"
انہوں نے جھجکتے ہوئے کہا
"تمہارا سگا باپ آیا تھا ملنے، وہ رو رو کر معافی مانگ رہا تھا۔ اس نے شادی خاندان میں والدین کی پسند سے کی۔"
عشوہ ایکدم غصے سے بولی،
"ماما میں اس شخص کا نام بھی نہیں سننا چاہتی ہوں۔"
مسز نوید نے یاد دلایا،
"بیٹی تم مجھ سے بات ماننے کا پرامس کر چکی ہو۔"
وہ کچھ بولنے لگی تو وہ جھٹ سے بولیں،
"اچھے لوگ پرامس نہیں توڑتے، پھر وہ تمہارا باپ ہے۔
وہ غصے سے بولی،
"وہ میرا باپ نہیں۔۔۔۔۔"
مسز نوید نے اس کی بات کاٹتے ہوے کہا،
"دیکھو پہلے سکون سے پوری بات تو سن لو۔"
اتنے میں عشوہ کا بچہ رونے لگا۔ ارحم نے اسے گود میں لیتے ہوئے کہا،
"میں کسی کو کہہ کر اس کی فیڈر بنوا لیتا ہوں اور اسے سلا دیتا ہوں۔ تم فکر نہ کرو۔"
وہ بچے کو لیکر باہر چلا گیا۔ عشوہ نے آہستہ سے کہا،
"لگتا ہے میرے علاوہ اس گھر میں سب کو اس بات کا علم ہے۔"
مسز نوید نے کہا،
"سچ ہے، کیونکہ تمہارے بابا روز آ کر منتیں کرتے ہیں۔ ان کے تین بیٹے ہیں۔ ان کی بیوی بہت اچھی ہے۔ اسے بیٹی کا بہت شوق تھا۔ جب اسے پتا چلا کہ اس کے شوہر کی ایک بیٹی بھی ہے تو وہ تڑپ گئی اور بولی، جب میری اپنی بیٹی موجود ہے تو وہ مجھ سے اور اپنے باپ بھائیوں سے دور کیوں ہے۔ تمہارے دادا دادی بہت ضعیف ہو چکے ہیں۔ وہ بھی اپنے کیے پر شرمسار ہیں۔ تم پلیز مان جاؤ۔"
عشوہ آنکھوں میں آنسو بھر کر تیزی سے کمرے سے چلی گئی۔ عشوہ کو سب نے بہت منانے کی کوشش کی، مگر وہ اس معاملے میں پتھر کی بن گئی۔ کسی کی بات نہیں مان رہی تھی۔
دادا دادی مسز نوید سے فون پر منتیں کرتے کہ ہماری پوتی کو منا لو۔ اس کی سوتیلی ماں اسکا باپ، سوتیلے بھائی، ایک بھائی شادی شدہ تھا اس کی بیوی کو بھی اپنی نند سے ملنے کا بہت شوق تھا۔ مگر عشوہ کسی کے آگے نہ پگھل رہی تھی۔
روز سب منتیں کرتے اور فون پر انہیں مایوس کر دیتے۔ سب نے فیصلہ کیا کہ وہ اب اپنے کیے پر شرمندہ بھی ہیں اور بزرگ ہو کر معافیاں مانگ رہے ہیں۔ ہیں تو وہی اس کے سگے۔ ہمیں ان کو ملانا چاہیے۔
آخر انہوں نے انہیں گھر دعوت پر انوائیٹ کیا اور کہا
"آمنے سامنے بات چیت ہو گی تو ہمیں امید ہے کہ وہ پگھل جائے گی اور معاف کر دے گی۔"
عشوہ کو یہ بتایا گیا ہے ہمارے قریبی عزیز ملنے آ رہے ہیں۔ وہ ملک سے باہر تھے۔ گھر میں ان کی آمد کی خوب تیاریاں کی گئیں۔ جب وہ لوگ آئے تو عشوہ کو کچھ شک گزرا۔ کیونکہ اس نے ملازمہ سے پوچھا کہ کتنے لوگ ہیں۔ جب اس نے تعداد بتائی تو عشوہ نے سوچا بہتر ہے کہ وہ طبیعت خرابی کا بہانہ کر کے کھانے کے بعد ملے۔ مسز نوید کو اندازہ ہو گیا کہ اسے شک پڑ چکا ہے۔
پانچواں حصہ - 5th Part
عشوہ بچے کو فیڈر دے کر لیٹ گئی. ارحم اندر آیا تو عشوہ نے خشمگیں نگاہوں سے اسے دیکھا اور گلہ کیا
“مجھے تم سے یہ امید نہ تھی”
وہ نظریں چراتے ہوئے انجان لہجے میں بولا
“کیا مطلب؟”
وہ پھر ناراضگی والے لہجے میں بولی،
کیا مہمانوں نے کھانا کھا لیا. آپ سمجھ کر انجان بن رہے ہیں”
وہ ادھر ادھر دیکھتے ہوئے بولا،
ہاں
وہ سپاٹ لہجے میں بولی
پھر انہیں مہربانی فرما کر رخصت کر دیں”
ابھی وہ یہ بات کر ہی رہی تھی کہ اس کی دادی کھونٹی پکڑے مسز نوید کے ساتھ اندر داخل ہوئیں
پیچھے ہی سب اندر آ گئے
سوتیلی ماں قریب آئی
اتنے میں عشوہ دوپٹہ درست کرتے ہوئے سیدھی ہو کر بیڈ پر سے اتر کر کھڑی ہو گئ
بچہ سو چکا تھا
سوتیلی ماں نے آگے بڑھ کر اسے گلے لگا کر پیار سے پوچھا
بیٹی کیا تم مجھ سے بھی ناراض ہو اور میرے بچوں سے جو تمہارے بھائی لگتے ہیں اور یہ تمہاری بھابھی ہے جسے تم سے ملنے کا بہت اشتیاق تھا
بھابھی نے اسے زبردستی گلے لگا کر ملتے ہوئے کہا
ارے بابا ہمارے ساتھ کیسی ناراضگی
اتنے میں اس کے بھائی آگے بڑھے اور بڑے پرجوش طریقے سے اسے سلام کر کے گلے لگا کر بولے
ہم بہت لکی ہیں کہ آج اپنی بہن کو دیکھ رہے ہیں. اب ہم آپ سے کھبی ناطہ نہیں توڑیں گے. انشاءاللہ
سب نے پیچھے انشاءاللہ بولا
عشوہ مروت میں سپاٹ چہرے سے سب سے ملتی رہی
دادی دادا کو بھی بہت ادب سے ملی جب انہوں نے معافی کے لیے ہاتھ جوڑے تو ان کے ہاتھ پکڑ لیے
جب باپ کو دیکھا وہ ایک کونے میں کھڑا روتے ہوئے اسے محبت بھرے جزبات سے دیکھ رہا تھا
جب سوتیلی ماں نے شوہر کو پکڑ کر آگے کرتے ہوئے کہا کہ اپنے بابا سے ملو،
وہ تیزی سے پیچھے ہٹتے چلا کر بولی،
میں آپ سب کو معاف کر سکتی ہوں مگر اس شخص کو معاف کھبی نہیں کر سکتی جس شخص نے میری ماں کو تڑپتے ہوئے مرنے کے لیے چھوڑ دیا
وہ روتی چلاتی غصے سے بھری تیزی سے باہر نکل گئی
باپ نے روتے ہوئے کہا،
میں اسی سلوک کا حقدار ہوں
اس کی جگہ کوئی بھی ہوتا میرے ساتھ ایسا ہی برتاؤ کرتا
میری بچی تو پھر بھی نیک ہے جس نے میرے گھر والوں کو معاف کر دیا اور ان کو عزت دے کر بڑے پن کا مظاہرہ کیا
میں نے اسے دیکھ لیا، میرے لیے یہی بہت ہے. میں زندگی کے آخری سانس تک اس سے معافی مانگتا رہوں گا
جب تک وہ مجھے معاف نہیں کرے گی مجھے موت نہیں آئے گی
ہم نوجوانی کی عمر میں اپنے آپ کو خودمختاری کی چادر اوڑھ کر جب چاہیں کسی کے نازک شیشے جیسے دل کو توڑ کر آگے بڑھ جاتے ہیں کہ اس زعم میں کہ ہم جو چاہیں کر سکتے ہیں دوسرا ہمارا کچھ نہیں بگاڑ سکتا
مگر یہ بھول جاتے ہیں کہ اوپر والے نے ڈھیل دی ہوئی ہے.
جس کا شیشے جیسا دل توڑتے ہیں وہی شیشے کی کرچیاں ایک دن قدرت کا انتقام بن کر ہمارے دل میں پیوست ہو کر ہمارے دل کو لہو لہان کر کے خون کے آنسو رلاتی ہیں
بچوں نے اسے پکڑ کر بٹھایا اور کسی نے پانی لا کر دیا
اسے پانی پلا کر بیوی نے کندھے پر ہاتھ رکھ کر اسے تسلی دی
اس نے اس کی طرف روتی نظروں سے دیکھ کر کہا،
شاید قدرت کو میری کوئی نیکی پسند آ گئ تھی جس کے صلے میں تم مجھے ملی ہو
اب میرے پاس ایک وفاشعار بیوی ہے. فرمانبردار بیٹے ہیں، خوشحالی ہے. مگر دل کا سکون ختم ہے
اکثر ضمیر ملامت کرتا رہتا تھا اور میں اپنے اللہ تعالیٰ سے بہت معافیاں رو رو کر مانگتا رہتا تھا
بیٹی سے ملنے کی بہت آس لگی رہتی. مگر نوید صاحب پر بھروسہ تھا اور میں خبر رکھتا تھا کہ وہ میری بیٹی کو شہزادی کی طرح پال رہے ہیں
اپنی بیوی بچوں سے بیٹی سے ملنے کی خواہش کا اظہار اس لیے نہیں کرتا تھا کہ مجھے ڈر تھا کہ وہ روٹھ کر مجھے چھوڑ کر چلی نہ جائے
اور بیٹے ناراض نہ ہو جائیں
مگر مجھے کیا پتا تھا کہ میری بیوی اتنے بڑے دل کی مالک ہے اور میرے بچوں کی تربیت بھی اسی نے کی ہے
کاش یہ جرم مجھ سے سرزد نہ ہوا ہوتا
دادی روتے ہوئے بولی، نہ بیٹا تیرا اتنا قصور نہیں بنتا
تو ہمارا فرمانبردار بیٹا تھا، تو نے پسند کی شادی اپنی مرضی سے کی تو ہماری اناء کو دھچکہ لگا اور انتقام کی آگ دل میں بھڑکنے لگی
ہم نے ہی تمہارے دل میں اس کے خلاف شک ڈالا کہ وہ تجھ سے پیسوں کے چکر میں آئی ہے
ورنہ اسے تجھ سے کوئی محبت وغیرہ نہیں ہے. اور ہمیں پورا یقین ہے کہ یہ بچی بھی تمہاری نہیں ہے
تم جلد سے جلد اس گند سے جان چھڑاؤ
تم اس پر سختی کرنے لگے اور وہ نوید کو فون کر کے دکھڑے سنانے لگی
اس کے فون کالز کی وجہ سے تمہارا دل اس سے بدگمان ہوا اور تم نے اسے طلاق دے کر بچی کو بھی قبول نہ کیا
ہماری مراد بھر آئی اور تمہاری جھٹ شادی کر دی
ہمیں بھی گناہ کا احساس ستاتا، ہم دونوں میاں بیوی آپس میں کہتے کہ کاش ہم نے ایسا نہ کیا ہوتا
ہم ہر وقت اللہ تعالیٰ سے معافی مانگتے رہتے
ہمیں یہ بھی تسلی تھی کہ نوید اسے بیٹی کی طرح نازونعم سے پال رہا ہے
اس گناہ کے احساس کے بوجھ تلے ہم دب کر اور زیادہ نیکیاں کرنے کی کوشش کرتے رہے. اس بہانے ہم غریبوں کا بہت احساس کرنے لگے. اور غریبوں کی دعائیں لینے لگے
اب پوتی ہمیں دل سے معاف کر دے تو ہم سکون سے مر سکیں گے
مسز نوید نے تسلی دیتے ہوئے کہا، ابھی اسکا غم تازہ ہے. اللہ تعالیٰ سے اچھی امید رکھیں. وہ ضرور اس کے دل میں رحم ڈالے گا انشاءاللہ
اسے اب تھوڑا وقت دینا چاہیے
عشوہ کو اس کی بھابھی اور گھر کے دوسرے لوگ تسلی دینے لگے
مہمانوں کے جانے کے بعد وہ دیر تک روتی رہی اور ماں کو یاد کرتی رہی
سب کی توجہ سے وہ جلد اس بھنور سے نکل آئی
سب اس سے ملنے آنے جانے لگے اور وہ بھی اب ان سے اخلاق سے پیش آنے لگی
مگر باپ کے معاملے میں وہ کھٹور ہی رہی
اس کا دل سب کے سمجھانے کے باوجود بھی نہ پگھلا
وہ ان سب کے ہزار اصرار کے باوجود بھی ان کے گھر نہیں گئی کہ وہاں اس کی ماں کا دشمن رہتا ہے
باپ روتا تڑپتا، اس سے معافیاں مانگتا مگر عشوہ نہ پگھلتی
سب نے بہت سمجھانے کی کوشش کی مگر اس پر کچھ اثر نہ ہوا
باپ کو ہارٹ اٹیک ہوا تو عشوہ تڑپ گئی
سب کے ساتھ بھاگی ہاسپٹل پہنچی
بروقت ہاسپٹل پہنچنے سے جان تو بچ گئ مگر ڈاکٹر نے آپریشن تجویز کیا
بیٹوں نے اسٹنٹ کا مشورہ مانگا مگر ڈاکٹروں نے کہا کہ اندر بہت خرابا ہو چکا ہے اس لیے بائے پاس ہی کرنا پڑے گا
عشوہ کا رو رو کر برا حال تھا. وہ رو رو کر اس کی سلامتی کی دعائیں کر رہی تھی
باپ بیماری سے نڈھال تھا مگر خوش تھا کہ بیٹی راضی ہو گئی ہے
دادی کو فالج کا اٹیک ہوا اور وہ بیٹے کی بیماری کے دوران ہی چل بسی
بیٹے کو ایک ماں کا غم تھا حالانکہ اس سے چھپایا گیا تھا مگر اسے علم ہو گیا
عشوہ نے بہت دلاسے دیے جس سے وہ کافی بہل گیا
بیٹوں نے علاج میں کوئی کسر نہیں چھوڑی. شہر کے اچھے ہاسپٹل سے اسکا آپریشن کروایا
عشوہ نماز میں رو رو کر باپ کی سلامتی کی دعائیں کرنے لگی
اسے دادی کی موت کا بھی بہت غم تھا
وہ سوچ رہی تھی ساری زندگی ان رشتوں کی لگاوٹ میں وہ منہ بولے رشتوں میں ان رشتوں کو تلاش کرتی رہی
اب جب قدرت اس پر مہربان ہو کر اسے حقیقی رشتوں سے نواز رہی ہے تو پھر وہ کیوں ان رشتوں سے منہ موڑ کر نعمت خداوندی کی ناشکری کر رہی ہے
آپریشن کے بعد اس کے باپ کو ہوش نہ آیا تو ڈاکٹرز گھبرا گئے
عشوہ کے بھائی بہت پریشان ہو گئے مگر انہوں نے کسی کو نہ بتایا
پھر ان کا خون نہیں رک رہا تھا. ڈاکٹرز نے فوری طور پر خون کا بندوبست کرنے کا کہا
تین بیٹوں میں سے صرف ایک بیٹے کا خون میچ کرتا تھا
بڑے بیٹے کو سائن کرنے کا کہا گیا. اس نے کانپتے ہاتھوں سے سائن کیے
دوسرے بھائی ان بندوں کو گھر سے بلانے چل پڑے جن کو احتیاطی طور پر صبح سے بٹھایا ہوا تھا
وہ کافی تھک چکے تھے. دوبارہ دو تین لڑکوں کو واپس بلایا گیا اور ان سے خون لیا گیا
تب جا کر ان کو ہوش بھی آ گیا اور خون بھی رک گیا
عشوہ نے اپنے بیٹے کو بھی بھلا رکھا تھا
گھر والے اسے دیکھتے تھے
عشوہ مسلسل ہاسپٹل رہی
سوتیلی ماں کو بھی نہ رہنے دیتی کہ آپ گھر جا کر آرام کریں
دن رات ادھر رہتی اور باپ کی خدمت میں لگی رہتی
باپ سوچتا، واقعی بیٹی اللہ تعالیٰ کا ایک بہت بڑا انعام ہوتی ہے
بےشک بیٹے بھی بہت خدمت کر رہے تھے مگر بیٹی کو چھوٹی چھوٹی باتوں کی طرف دھیان ہوتا
باپ اسے دیکھ دیکھ کر خوش ہوتا اور اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتا
جب اسے گھر لایا گیا تو عشوہ ساتھ آئی
سوتیلی ماں نے اس کے لیے پہلے ہی سے اسکا ایک کمرہ تیار کر کے مخصوص کر دیا تھا
عشوہ ارحم اور بچے کے ساتھ باپ کے گھر میں رہنے لگی
باپ نے مسز نوید سے ریکویسٹ کی کہ ارحم اور عشوہ کو باپ کے گھر رہنے کی اجازت دے دیں. ارحم چاہے تو اپنے گھر والوں کو بھی ادھر رکھ سکتا ہے
مسز نوید نے کہا کہ آپ کی امانت تھی. اچھا ہے وہ باپ کے پیار اور قربت کو ادھر زیادہ پا سکے گی
ارحم بھی شفٹ ہو گیا مگر اس کے گھر والے نہ ہوے
باپ جلد صحتیابی کی طرف جا رہا تھا
دادا پوتی کی خوب دوستی ہو چکی تھی
مسز نوید کی فیملی وغیرہ بھی ملنے آتے جاتے رہتے
عشوہ کے دو بھائیوں کی منگنیاں خاندان میں ہی دونوں بہنوں سے ہو چکی تھیں
وہ سب بھی بہت اچھے لوگ تھے
سارے خاندان والے عشوہ کو مبارک باد دینے آتے اور تحفے تحائف بھی لاتے
عشوہ دل میں اپنے اللہ تعالیٰ کا بہت شکر ادا کرتی جس نے اس کی زندگی میں سچے رشتوں سے نوازا تھا
مسز نوید کی اور ان کی فیملی کی بھی عشوہ کو بہت قدر تھی وہ اکثر ان لوگوں سے ملنے چل پڑتی. وہ لوگ اس کی آمد پر کھل جاتے
آج سے اس کے دونوں بھائیوں کی شادیاں شروع تھیں
عشوہ نے بہت ارمانوں سے بہت خوبصورت ڈریسز سلوائے تھے
وہ ان کی شادی کو خوب انجوائے کر رہی تھی ساتھ میں اللہ تعالیٰ کا شکر بھی ادا کر رہی تھی
ختم شد
ناول اختتام پذیر ہوا
You've reached the end of this journey. We hope you loved every episode!

Reader Comments
No comments yet. Be the first to share your thoughts!
Log in to leave a comment.