Logo
Ishq Ka Idrak Hua
1 Episodes
Ishq Ka Idrak Hua EP 1
Episode 1

عشق کا ادراک ہوا-پورا ناول

Ishq Ka Idrak Hua

 

عشق کا ادراک ہوا 

 

 

ارشما اپنے ہاتھ کی انگلی میں پہنی انگوٹھی کو دیکھ رہی تھی، ساتھ ہی سوچوں میں گم تھی۔ سر حمدان اپنی کلاس لینے کلاس روم کی طرف جا رہے تھے ارشما پر نظر پڑی جو سوچوں میں گم غور سے انگوٹھی کو دیکھ رہی تھی۔ ارشما نے سر اٹھایا تو سامنے سے سر حمدان گزر رہے تھے ایک اچٹتی نظر اس پر ڈال کر گزر گئے۔ 

ارشما کو ہوش آیا کہ اس کی کلاس ہے وہ تیزی سے بھاگتی ہوئی سانس بھی پھولا ہوا، جب کلاس میں پہنچی تو دیکھا نیو سر اس کی کلاس میں کھڑے تھے۔

ارشما جب کلاس میں جانے کی اجازت مانگنے لگی تو سر نے یس کہا اور اس سے پوچھا 

کیا آپ نیو سٹوڈنٹ ہیں 

تو اس نے کنفیوز ہوتے ہوئے کہا 

نو سر میں تو بہت پرانی ہوں۔ 

اس کے جواب پر پوری کلاس ہنسنے لگی تو سر نے سب کو ٹوکا تو ارشماہ کو اپنے جواب پر شرمندگی محسوس ہوئی۔

سر نے اس سے پھر سوال کیا، 

اگر آپ پرانی ہیں تو میں یہاں نیا آیا ہوں، ون ویک سے زیادہ مجھے یہاں آئے ہو چکا ہے۔ آپ پورا ویک کلاس میں نظر نہیں آئیں۔ کیا آپ کلاس چھوڑ کر وقت ضائع کرتی ہیں؟ کیا آپ کو تعلیم کی قدر نہیں ہے؟ یا پڑھنے کا شوق نہیں ہے؟

ارشما نے بڑی معصومیت سے جواب دیا 

نو نو نو سر مجھے تعلیم کی بہت قدر ہے اور مجھے پڑھنے کا بھی بہت شوق ہے۔ وہ میری منگنی تھی اس وجہ سے میں پورا ویک نہ آ سکی۔ 

سر حمدان نے اسے طنزیہ بھرے لہجے میں کہا

کیا آپ کے ہاں پورا ویک منگنی رہتی ہے۔

ارشما پھر صفائی دیتے ہوئے بولی

نو سر منگنی تو ایک دن تھی مگر ہمیں پھوپھو کے گھر دوسرے سٹی جانا تھا، وہاں رہنا تھا اس وجہ سے پھوپھو بھی آنے نہیں دے رہی تھی، بڑی مشکل سے ان کو سمجھایا کہ میرے کالج کا حرج ہو رہا ہے تو وہ بولیں، پڑھ کر کیا کرو گی۔ 

سر حمدان نے ایک گہری سانس لی اور سوچا اس بھولی بھالی لڑکی کی شادی کہاں ہو رہی ہے، جہاں اس کی ساس کو تعلیم کی قدر ہی نہیں ہے۔ ہو سکتا ہے اس کا منگیتر ایسا نہ ہو۔ پھر انہوں نے اسے منگنی کی مبارک باد دی، ساری کلاس نے تالیاں بجائیں۔

سر حمدان نے اسے کہا 

پورے ویک کے لیکچرز مجھے تیار چاہئیں ۔

ارشما بڑے مؤدب انداز میں بولی

یس سر۔


 

ارشما کے والد ایک سرکاری عہدے پر اٹھارویں گریڈ کے افسر تھے۔ ان کی دو ہی بیٹیاں تھیں۔ ارشما اور اس سے دو سال چھوٹی سنبل۔ 

سنبل شوخ وشریر تھی اور چھوٹے ہونے کا بھی فائدہ اٹھاتی تھی۔ کسی کام کو ہاتھ نہ لگاتی تھی۔ اس کے ڈیڈ مزاج کے سخت تھے جبکہ ان کی بیوی ایک گھریلو خاتون تھی۔ ارشما کے والد اپنی بیوی کے ساتھ  اکڑے رہتے تھے وہ ان کی کزن تھی۔


ارشما کی دادی نے اپنی بھتیجی کا رشتہ بچپن میں ہی طے کر دیا تھا۔ وہ ابھی میٹرک کر کے فارغ ہوئی تھی کہ ارشما کی دادی نے زبردستی بیٹے کی شادی کروا دی۔ وہ ابھی شادی کرنا نہیں چاہتا تھا مگر ماں نے عذر پیش کیا کہ تیرا باپ بھی زندہ نہیں ہے، میں بھی بیمار رہتی ہوں، میں چاہتی ہوں میری زندگی میں تیرا گھر بس جائے۔ 

 

شادی کر کے جب ارشما کی ماں جب آئی تو شوہر کی بے اعتنائی کا شکار رہی۔ چونکہ ساس بہت اچھی تھی تو بیٹے کو ہر وقت سرزنش کرتی رہتی تھی۔ ارشماہ کی ماں کو ساس کا بہت سہارا تھا۔

ارشما کی ماں بہت نیک سیرت عورت تھی شوہر کی عزت وقار کرنے والی تھی۔ شوہر کے رویے کو برداشت کرتی تھی اور صبر کرتی تھی. اسے قسمت کا فیصلہ سمجھ کر قبول کرتی تھی۔

 

سنبل کے والد کی یہ خوبی تھی کہ وہ بیٹیوں پر جان چھڑکتا تھا اور اس نے کھبی اسے بیٹا نہ ہونے کا طعنہ نہیں دیا۔ 

ساس نے بھی بیٹے کو ہمیشہ یہ تاثر دیا کہ اس میں عورت کا کیا قصور ہے۔ یہ تو اوپر والے کی مرضی پر منحصر ہے۔ وہ کہتی تھی کہ بیٹوں کے ذہن میں بھی ایسے فتور مائیں ہی ڈالتی ہیں کہ نسل آگے بڑھانی ہے۔ وہ غصے سے کہتی، ماں بیٹے کی شادی کر کے اپنے آپ کو ملکہ سمجھ لیتی ہے جیسے اس کا بیٹا کسی سلطنت کا بادشاہ ہو اور اس کے بیٹے نے اس کے بعد  اس کا تخت سنبھالنا ہے۔ بیٹے باپ کے مرنے کے بعد اس کی قبر پر فاتحہ پڑھنے بھی نہیں جاتے۔ چند دن سوگ مناتے ہیں پھر اپنی دنیا میں مگن ہو جاتے ہیں۔ بچوں کو تو دادا پردادا کا نام بھی نہیں پتا ہوتا۔ کچھ بہویں تو بیٹیاں پیدا کرنے کے جرم میں ساری زندگی ساسوں کے تعنے سننے میں عمر گزار دیتی ہیں اور آخر میں ذهنی مریضہ بن کر بیماریاں لگوا کر اس دنیا سے رخصت ہو جاتی ہیں۔


سنبل کے والد نے اب بیوی سے رویہ قدرے بہتر کر لیا تھا مگر اب بھی، اس سے کسی بات کی صلاح ومشورہ لینا ضروری نہیں سمجھتا تھا۔


 

ان کے چچا کی بیٹی تھی، شبانہ عرف شبو۔ سنبل کی دادی چونکہ نیک سیرت تھی اس وجہ سے وہ اپنے دیور کی بیٹی کو بھی اپنی بیٹی کی طرح چاہتی تھی اور بیٹے کو کہتی تھی یہ میری بیٹی ہے۔ تمہاری کوئی بہن نہیں ہے، اس لیے اسے ہمیشہ بہن کا درجہ دینا۔ 

شبانہ بیاہ کر اپنی خالہ کے گھر چلی گئی تھی۔ سنبل کی دادی اپنے بیٹے اور بہو کے ساتھ اس شادی میں پیش پیش تھی۔ بہت لین دین بھی کیا تھا۔

سنبل کی دادی کی وفات کے بعد اب شبانہ، سنبل کے والد اور اس کے گھر بار پر بہت حق جتانے لگی تھی۔ 

سنبل کے والد اس کی بہت آؤبھگت کرتے تھے۔ بیوی بچوں کی شامت آ جاتی تھی جب وہ آتی تھی۔ اس نے ارشماہ اور سنبل کا رشتہ بچپن میں ہی اپنے دونوں بیٹوں کے لیے مانگ لیا تھا۔ وہ باقاعدہ ان کو بہویں ہی کہہ کر ذکر کرتی تھی۔ وہ اس گھر کی بے تاج بادشاہ تھی۔ اسکا شوہر بہت سادہ سا انسان تھا مگر شبانہ  کی ساس بہت تیز طرار تھی۔ بہو اس سے بھی زیادہ تیز نکلی۔ وہ ساس کے واری صدقے جاتی۔ ساس اس پر واری صدقے جاتی کہ اس نے دو پوتے پیدا کیے تھے۔ اس کا میاں ایک ماہر درزی تھا۔ 

شبانہ سنبل کے اور تمام گھر والوں کے کپڑے فری میں سلوا دیتی اور خوب احسان چڑھاتی۔ جواب میں سنبل کے والد سلائی سے دوگنے چگنے پیسے دیتے۔ ویسے وہ بہت کنجوس مشہور تھی۔ مگر اس فیملی کو قابو کرنے کےگر سے وہ واقف تھی۔ سنبل کے والد کو سوجی کا حلوہ بہت پسند تھا تو وہ بنا کر لے آتی۔

 

سنبل کو کھبی بھی شبانہ پسند نہ آتی تھی۔ وہ اس سے چڑتی تھی کہ وہ اس کے پاپا پر اتنا حق جتاتی ہے جتنا اس کی ماما بھی نہیں جتاتی۔ اس کے گھر داخل ہوتے ہی سنبل کے پاپا اس کی ماما کی بات بات پر بےعزتی کرتے رہتے۔ 

حالانکہ اس کی ماما شوہر پرست عورت تھی وہ جی جان سے شبانہ کی خدمت کرتی۔ مگر وہ جواب میں طنز کے تیر چلاتی رہتی۔

 

سنبل جب بڑی ہوئی تو اس نے دبے لفظوں میں ماں کو کہنا شروع کر دیا کہ وہ شبو کے بیٹے سے ہرگز شادی نہیں کرے گی اور نہ ہی باجی کی شادی وہاں کریں۔ کچھ خدا کا خوف کریں، وہ لڑکے بمشکل میٹرک پاس ہیں، پتا نہیں پاس بھی ہیں یا شبو ویسے ہی کہتی رہتی ہے۔ 

ماں اس کے باپ کے ڈر سے خوفزدہ ہو کر کہتی

بیٹی تمیز سے شبو پھوپھو کا نام لیا کر تیرے پاپا نے سن لیا تو وہ میری شامت لے آئیں گے۔ 

سنبل بےخوف ہو کر ماں کو اکتائے ہوئے لہجے میں کہتی

او ماما ایک تو آپ ہر وقت ہر کسی سے ڈرتی رہتی ہیں۔ ڈرنا چھوڑیں۔ آپ اس گھر کی مالکہ ہیں، شبو نہیں ہے۔ اسے زیادہ سر چڑھانے کی ضرورت نہیں ہے۔ آپ کی بےعزتی کرئے تو آپ بھی جواب میں کڑوا جواب دے دیا کریں، دیکھنا سیدھی تیر ہو جائے گی۔ 

سنبل کی ماں ڈر کر کہتی

تمہارے پاپا مجھے طلاق دے کر گھر سے باہر نکال دیں گے۔ 

سنبل جواب میں سمجھانے والے انداز میں کہتی

میری بھولی ماما، پاپا صرف دھمکی دیتے ہیں ان کا اس عمر میں آپ کے بغیر گزارا نہیں ہے۔  

مگر اس کی ماں نہ مانتی۔



شبانہ کا بیٹا ارشما سے دس سال بڑا تھا۔ شبانہ نے گھر آ کر شادی پر زور دینا شروع کیا کہ میرے بیٹے کی شادی کی عمر ہو چکی ہے اور اب میری امانت  فی الحال بڑی دے دیں، چھوٹی بعد میں لوں گی۔

ارشما کے والد نے بیوی کی طرف دیکھا اور کچھ سوچتے ہوئے کہنے لگا  

دیکھو شبو  

وہ اسے شبو ہی پکارتے تھے  

ابھی چند ماہ بعد میری پنشن کلیئر ہو گی اور پیسے مل سکیں گے 

تو جھٹ سے ارشما کی ماں بولی

آپا ابھی ارشی کا پڑھائی کا آخری سمسٹر رہتا ہے۔ 

شبانہ نے ارشما کے والد سے شکایت بھرے لہجے میں رونے والے انداز میں کہا

دیکھا تمہاری گھر والی نہیں چاہتی، ہمارا ہمیشہ کا رشتہ جڑے۔ ارے سادگی سے رخصت کر دو۔ ہم بھی ولیمہ بعد میں کر دیں گے۔ اس کی پڑھائی ہمارے ذمے ہے۔ ہم پورا کروائیں گے۔ تم اس بات کی فکر نہ کرو۔ میری ساس بیمار ہے وہ پوتے کی خوشی دیکھنا چاہتی ہے۔ بس نکاح کر کے سادگی سے رخصت کر دو۔ پھر ان کی بیماری کے بعد ہم سارا کچھ رسمیں ولیمہ جہیز سب کر لیں گے۔ تم جانتے ہو مجھے جہیز کا لالچ نہیں ہے، بس تین کپڑوں میں رخصت کر دو۔ میرا شوہر اپنی ماں کی خواہش پوری کرنا چاہتا ہے، ہم سب پریشان ہیں۔ میں اسی پریشانی میں صرف مٹھائی کا ایک ڈبہ لا سکی۔ امید ہے تم مجھے مایوس نہیں کرو گے۔ اب تو میرے بیٹے کے دھدیھال والوں کے آگے عزت رکھ لو۔ میں سب کو بڑے مان کر اور امید سے آئی ہوں کہ تم میری مجبوری سمجھ سکو گے۔ مجھے مایوس نہیں لوٹاؤ گے۔

ارشما کے والد نے بیوی کو گرجتے ہوئے کہا، 

دیکھ نہیں رہی شبو کتنی پریشان ہے تم نے اپنا منہ ضرور کھولنا ہے۔ جاؤ جا کر مٹھائی پلیٹ میں رکھ کر لاؤ اور ساتھ چائے بناؤ۔ 

ارشما کی ماں اپنے آنسو پونچھتے ہوئے اٹھ کر چلی گئی۔

شبو نے مکاری سے مسکرا کر اسے جاتے دیکھا اور چائے جب بنا کر لائی تو شبو سارا شادی کا پلان کر چکی تھی۔ 

طے یہ پایا کہ شبو صرف اپنے گھر والوں اور سسرال والوں کو لائے گی۔ مولوی بھی وہی لیکر آئے گی اور ایک انگوٹھی لائے گی اور باقی سب بری وغیرہ ولیمے پر لیکر آئے گی۔ ناپ کا سوٹ سلوانا ابھی مشکل ہے کہ وقت نہیں ہے۔ تم گھر سے ہی کوئی اچھا سا سوٹ پہنا دینا۔ 

سنبل اور ارشما دونوں کمرے میں بیٹھی رو رہی تھیں۔ سنبل کو شدید غصہ آ رہا تھا وہ ارشما کو سمجھا سمجھا کر تھک چکی تھی کہ انکار کر دو مگر وہ ٹس سے مس نہ ہوتی تھی۔ وہ کہتی تھی 

میرے پاپا نے بچپن میں ہی زبان دی ہوئی تھی اور اب میں ان کی زبان کا ان کے فیصلے کا احترام کروں گی۔ اپنے پاپا کا سر جھکنے نہیں دوں گی ۔

سنبل نے جزبات سے کہا، 

اللہ کرے تم وہاں سے بہت جلد اجڑ کر آ جاؤ تو میں اس دن لڈیاں ڈالوں گی اور خوشی مناؤں گی ۔

ان کے پاپا کمرے سے باہر سب سن رہے تھے اندر آ کر انہوں نے شفقت سے ارشما کے سر پر ہاتھ رکھ کر کہا  

بیٹی تم نے میرا دل خوش کر دیا ہے سدا خوش رہو اچھی قسمت پاؤ۔ 

ایک غصے بھری نظر سنبل پر ڈال کر بولے

خبردار جو کل تم نے کچھ الٹا سیدھا کرنے کی کوشش کی تو میں تمہاری ماں کو طلاق دے دوں گا، اسی کی شہہ پر تم ایسا کرتی ہو۔ 

سنبل کی ماں صفائیاں دیتے ہوئے بولی

قسم لے لیں جو میں نے کھبی اس کو ایسی باتیں سکھائی ہوں۔ میں تو اسے ہر وقت منع کرتی رہتی ہوں۔ 

پھر وہ بیٹی کو ڈانٹنے لگیں تو سنبل کے پاپا خاموشی سے باہر چلے گئے۔

انہوں نے اپنے چند قریبی رشتے داروں کو فون کر کے ساری سچویشن بتائی کہ ارشما کا نکاح اور رخصتی عجلت میں کرنی پڑ رہی ہے۔ شبو کی ساس بیمار ہے اور وہ پوتے کی خوشی دیکھنا چاہتی ہے۔



اگلے دن عصر کی نماز کے بعد نکاح تھا۔ 

ارشما کو ماں نے تیار ہونے کا حکم دے دیا تھا۔ سنبل اکڑی ہوئی تھی، ماں کے سمجھانے پر وہ بھی تیار ہونے لگی۔

سب رشتے دار دبے لفظوں میں اس رشتے کی برائیاں کر رہے تھے اور بہانے بہانے سے ارشما کے والد اور والدہ کو سمجھانا چاہ رہے تھے کہ ابھی بھی وقت ہے یہ بے جوڑ شادی ہے۔  مگر وہ ناراض ہونے لگے تو رشتے دار چپ کر گئے ۔


شبانہ چند اپنے دونوں بیٹوں اور لڑکے کی پھوپھو کے ہمراہ آئی۔ اس کا شوہر ساتھ نہیں تھا۔ وجہ یہ بتائی کہ ماں کی بیماری کی وجہ سے ان کو اکیلا نہیں چھوڑ سکتے تھے۔

ارشما کے والد نے گھر والوں کو سختی سے منع کیا کہ کسی نے رخصتی کے وقت ملنا نہیں اور نہ ہی رونا ہے۔

ارشما کی ساس کھانا کھا پی کر ساتھ بھی کھانا لے کر گئی اور افراتفری مچا کر جلدی سے ارشما کو گاڑی میں بٹھا کر رخصت کر کے لے گئی۔

نکاح کے وقت رشتے دار آڑے آ گئے اور کچھ لکھوانے نہ دیا اور ایک لاکھ حق مہر لکھوایا۔

گھر پہنچ کر بوڑھی ساس کو ملوانے گئے تو وہ کہیں سے بھی بیمار نہ لگ رہی تھی۔ بےدلی سے اس نے اس کے سر پر ہاتھ پھیرا۔

 

شبانہ کی نند بولی

بھابھی اپنا وعدہ نہ بھولنا ورنہ تم مجھے اچھی طرح سے جانتی ہو۔ 

دولہے نے اسے پیار سے کہا

پھوپھو آپ فکر کیوں کرتی ہیں۔

ارشما کو ساس کے کمرے میں کرسی پر بٹھا دیا گیا۔ ارشما کی کمر درد کرنے لگی اور وہ پہلو بدلنے لگی۔ 

شبانہ نے اسے دیکھ کر کہا

لڑکی میرے ساتھ والے بیڈ پر لیٹ جا۔

ارشما کو شبانہ کا اس طرح پکارنا کچھ عجیب سا لگا۔ اس نے سوچا پہلے تو وہ اس کو میری پیاری بیٹی کہتے نہ تھکتی تھی۔ بڑے احترام سے آپ کہہ کر بلاتی تھی۔

ارشما نے شکر کیا اور جلدی سے بیڈ پر لیٹ گئی تو کمر کو کچھ آرام ملا۔ لمبا سفر تھا۔ وہ بہت تھک چکی تھی۔

سنبل کے کئی فون آ چکے تھے وہ مختصر جواب دے رہی تھی۔ پھر اس نے اس کی تسلی کے لیے اسے وڈیو کال کر کے بتایا کہ وہ پھوپھو کے کمرے میں آرام کر رہی ہے اور پلیز اب فون نہ کرنا، کل بات ہو گی۔

سنبل نے پوچھا 

کچھ کھایا پیا ہے ۔ 

ارشما نے ابھی تک پانی تک نہیں پیا تھا نہ کسی نے پوچھا تھا۔ گھر میں دولہے کی پھوپھو اس کی بیٹی اور اسکا ایک بیٹا تھے۔ باقی گھر کے لوگ تھے۔ سنبل کو اس نے جھوٹ بولا، کھا پی چکی ہوں پھوپھو کہہ رہی ہیں اب آرام کرو۔ اب تم مجھے سونے نہیں دے رہی۔ 

دولہے کی کزن زرا فاصلے پر بیٹھی اسے مسلسل گھور رہی تھی۔ پھر وہ بچے کے رونے کی وجہ سے اسے باہر لے گئی تو اسی وقت ارشما کا دولہا کمرے میں آیا اور کھڑے کھڑے ہی اس سے پوچھنے لگا 

کچھ کھانا پینا ہے

 اس کا پیاس سے حلق خشک ہو رہا تھا تو اس نے اشارے سے پانی مانگا۔ بھوک بھی سخت لگی ہوئی تھی، کیونکہ شادی کی ٹینشن میں اس نے کچھ کھایا پیا نہ تھا۔ ماں چھپ کر اسے زبردستی دو کیلے کھلا دیے تھے۔ اسے ماں شدت سے یاد آئی۔ اس کی آنکھیں چھلک پڑیں۔ اس نے پلکوں سے آنسو صاف کیے۔ اتنے میں اسکا دولہا گلاس اُٹھائے اندر آیا۔ اسے جلدی سے گلاس پکڑایا اور ساتھ ایک چاٹ کی پلیٹ اسے پکڑا کر بولا، 

اسے کھا لو۔

ارشما نے بمشکل اٹھتے ہوئے معزرت کرتے ہوئے کہا، 

میں کل سے سارے گھر کے کام شروع کر دوں گی۔ پھوپھو کو جتنا ہو سکا آرام دوں گی۔ دادی جان کی خدمت کروں گی۔ آپ کی ہر بات مانوں گی شکایت کا موقع کھبی نہیں دوں گی۔

 

اتنے میں دولہے کا باپ کمرے میں داخل ہوا اس کی باتیں سنکر خوش ہو کر اس کے قریب آیا تو ارشما نے جلدی سے دوپٹہ سر پر کے لیا جو سر سے سرک گیا تھا۔ ابا نے اس کے سر پر ہاتھ رکھ کر دعا دی 

سدا خوش رہو۔ 

دادی بھی اس کی باتیں سنکر حیرت سے اسے دیکھنے لگی جس نے سسر کو بڑے ادب سے بیڈ سے اتر کر سلام کیا تھا۔

دادی نے دولہے کو ڈانٹتے ہوئے کہا

جا باہر دیکھ ماں کیا کر رہی ہے۔ 

پھر دل میں بڑبڑانے لگی اور کھا جانے والی نظروں سے ارشما کو دیکھنے لگی۔ ارشما کو گرج کر بولی، 

چاٹ کھا لے کیوں رکھی ہے ۔

ارشما نے جلدی سے چند نوالے مارے۔ اس سے کھائی نہ گئی۔ وہ ان سب کے رویے سے حیران ہو رہی تھی۔ 

وہ پلیٹ لیکر باہر کچن میں رکھنے گئی تو اس نے دیکھا اسکا شوہر اور اس کی کزن دونوں کھڑے ہنس ہنس کر باتیں کر رہے تھے، اسے دیکھ کر چونکے۔ اتنے میں دولہے کی پھوپھو اپنے نواسے کو گود میں اٹھائے آئی اور ارشما کے دولہے سے بولی، 

لے اسے باہر لے جا آئس کریم کھلا۔ یہ مانگ رہا ہے۔ اس کی ماں کو بھی ساتھ لے جا تجھ سے سنبھلے گا نہیں۔ ہاں سن میری بیٹی کو باہر سے کھلا پلا دینا۔ تجھے پتا ہے میری بیٹی ایک ٹائم جو کھا لے وہ دوسرے ٹائم نہیں کھاتی۔ تیرے سسرال والوں نے تو دن کا بچا کھانا باندھ کر دے دیا۔ 

ارشما کے دل کو ٹھیس لگی۔ اس نے دیکھا کیسے اسکا شوہر اس کو اور بچے کو بائیک پر بٹھا کر باہر لے گیا۔ 

ارشما  غمگین دل کے ساتھ  واپس اسی کمرے میں چلی گئی۔

سب کا کھانا کمرے میں میز پر لگا دیا گیا اور ارشما نے بڑی مشکل سے تھوڑا سا کھایا۔ 

ساس نے اسے حکم دیا 

اسی بیڈ پر سو جا۔ میرا بیٹا تو دیر سے آئے گا۔ اس کی کزن جب بھی آتی ہے اسے باہر کھانا کھلاتا ہے ۔ 

ارشما سے رہا نہ گیا تو اس نے پوچھ لیا کہ اس کا شوہر کدھر ہوتا ہے تو شبانہ نے جواب دیا 

سعودیہ ہوتا ہے۔


ارشما کا سر درد سے پھٹا جا رہا تھا۔ اسے چائے کی طلب ہو رہی تھی۔ دو دن سے رو رہی تھی۔ سنبل اسے مسلسل انکار کرنے پر اکسا رہی تھی۔ مگر اسے باپ کا بوڑھا چہرہ آنکھوں کے آگے آ جاتا۔ وہ باپ کو انکار کر کے زمانے کے آگے رسوا نہیں کرنا چاہتی تھی۔

اتفاق سے سب چائے پینے لگے، اسے بھی ایک کپ مل گیا۔ اس کے پرس میں سردرد کی گولی پڑی تھی اس نے وہ کھا لی۔ اسے قدرے سکون ملا اور وہ سو گئی۔

اس کی فجر کی اذان کے وقت آنکھ کھلی۔ سب سو رہے تھے۔ وہ وضو کرنے کے لیے اٹھی اس کا بیگ اس کے دولہے کے کمرے میں رکھا گیا تھا۔ وہ کپڑے چینج کرنا چاہ رہی تھی۔ تو اس نے دیکھا اس کے دولہے کی کزن اس کے دولہے کے روم سے نکلی۔ اسے دیکھ کر ٹھٹکی اور گرج کر بولی، 

تم اتنی صبح کیوں آٹھ گئی۔ 

ارشما نے کہا

میں اپنا بیگ لینے آئی تھی کپڑے چینج کرنے تھے۔ 

اس کی کزن کمرے سے اسکا بیگ اٹھا کر فرش پر پٹختے ہوئے بولی

لو پکڑو اور جہاں سوئی تھی ادھر رکھ لو اسے۔

ارشما بہت کچھ سوچتے ہوئے بیگ اٹھا کر کمرے میں چلی گئی ۔

اگلے دن پھوپھو نے اسے کہا 

تم مکلوا کرنے جاؤ اور جب تک ہم نہ بلائیں، واپس نہ آنا کیونکہ ایک دو دنوں تک تمہارا شوہر سعودیہ جا رہا ہے، جلد تمہیں بھی بلوا لے گا۔ 

ارشما نے احتجاج کرتے ہوئے کہا  

پھوپھو میں آپ کے پاس رہو گی آپ کی خدمت کروں گی۔ 

مگر وہ بڑی رکھائی سے بولی

تو رہنے دے، مجھے تجھ جیسی نک چڑھی، پڑھی لکھی اور نخرے والی بہو سے خدمت کروانے کا کوئی شوق نہیں ہے۔ چل تیار ہو اور سن یہاں کی کوئی بات ادھر بتائی تو اچھا نہ ہو گا۔

شبانہ اس کو بیٹے کے ساتھ چھوڑنے آئی تو اس کو ان کو آنے کی اطلاع دینی یاد نہ رہی۔ 

جب یہ تینوں پہنچے تو سنبل کے باپ نے دروازہ کھولا اور بیٹی کے ہاتھ میں بیگ دیکھ کر ٹھٹھک سا گیا۔ کیونکہ بیگ ارشما نے اٹھایا ہوا تھا جبکہ اس کا شوہر خالی ہاتھ ساتھ کھڑا تھا۔ وہ بیگ اٹھانے لگا تھا مگر ماں نے اسے ڈانٹتے ہوئے منع کر دیا تھا۔

شبانہ بڑے غرور سے گھر میں داخل ہوئی۔ ارشما کو دیکھ کر سنبل سب کو نظر انداز کرتے ہوئے دوڑ کر اس کے گلے لگ کر بولی، 

اب میں تمہیں واپس نہیں جانے دوں گی۔ 

وہ بھی بیگ اٹھائے ارشما کو دیکھ چکی تھی ۔

ارشما کی ساس نخوت سے بولی

فکر نہ کرو لمبے عرصے کے لیے آئی ہے۔

ارشما کی ماں جلدی سے آگے بڑھ کر شبانہ کے گلے لگی تو اس نے ہلکا سا ملکر اسے پیچھے کر دیا۔ 

ارشما کی ماں نے شوہر کی طرف دیکھا تو اس نے نظر انداز کر دیا۔

ارشما کی ماں داماد سے بہت عزت سے ملی۔ اس نے احترام سے کندھا آگے کر دیا تو ارشما کی ماں نے محبت سے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا اور دعا دی خوش رہو۔

شبانہ لاؤنج میں صوفے پر اکڑ کر بیٹھ گئی اور ارشما سے بولی، 

زرا جلدی چائے پانی کرنا، جو ہم نے جلدی جانا ہے۔

ارشما کی ماں کے ہاتھ پاؤں پھول گئے اور وہ کچن میں بھاگی اور جلدی سے جوس بنا کر کے آئی۔ 

شبانہ نے نخرے سے جوس پکڑا اور بولی  

میں نے چائے پانی کا بولا تھا تم جوس پر ٹرخا رہی ہو۔ 

ارشما کے پاپا نے کہا

چائے پانی جادو سے تو نہیں بنتے ٹائم لگتا ہے۔

شبانہ کے ساتھ ارشما کی ماں نے بھی حیرت سے شوہر کو دیکھا۔ جس نے پہلی مرتبہ شبانہ کو جواب دیا اور بیوی کی طرف داری کی۔

ارشما کچن میں چائے کا پانی رکھنے لگی تو ماں نے کہا، 

تم لوگ فون کر دیتے، میں کچھ اچھا بنا لیتی۔ 

ارشما فریزر سے چکن نکالنے لگی اور اس کو پانی میں ڈال کر سنبل سے بولی، 

تم لہسن پیاز بناؤ۔ 

اتنے میں ارشما کے شوہر نے جلدی ڈالی 

کچھ بھی کھانا پینا نہیں ہے میں نے ضروری کام سے جانا ہے۔ 

اس کی ماں بڑبڑائی اور غصے سے کھڑی ہو کر ارشما کے پاپا سے پوچھنے لگی 

پنشن کب آئے گی۔ اب آپ نے جہیز نہیں دینا، رقم دے دینا آپ کی بیٹی کے کام آئے گی، اپنی مرضی سے خرید لے گی۔ ویسے بھی اس نے سعودیہ چلے جانا ہے تو فرنیچر کی ضروریات نہیں۔ ویسے کب تک پنشن آ جائے گی تاکہ پھر ولیمہ کر سکیں دھوم دھام سے۔ 

ارشما کے پاپا نے کہا

ابھی کچھ پرابلم ہو رہی ہے، کچھ وقت لگ سکتا ہے، آپ ولیمہ کر لیں۔ 

وہ کھسیانی سی ہو کر بولی، 

چلو لیٹ کر لیں گے ویسے بھی یہ سعودیہ جا رہا ہے بیٹے کی طرف اشارہ کر کے بولی، 

اتنا عرصہ یہ آپ کے پاس رہے گی۔ جب وہ واپس آئے گا تو اسے لے جائے گا۔

سنبل سن رہی تھی خوشی سے بولی

باجی کیا آپ اتنا عرصہ ہمارے پاس رہیں گی۔ 

ارشما کی ماں پریشان ہو کر بولی

آپا آپ اسے ساتھ رکھ لیں ۔ شادی کے بعد سسرال میں ہی رہنا چاہیے۔ 

ارشما کا شوہر بولا  

نہیں ارشما کو پاس رکھیں، اس کی تعلیم مکمل کریں۔ 

اس کی ماں غصے سے بیٹے سے بولی

اب کیا ضرورت ہے ۔

وہ ماں کو ٹوکتے ہوئے بولا

پیچھے کیا کرئے گی ۔

پھر وہ دونوں تیزی سے، کسی سے ملے بغیر گھر سے باہر نکل گئے۔

ارشما کی ماں پریشان سی ہو کر تیزی سے پیچھے گئی اور گھبرائی ہوئی بولی

آپا ناراض نہ ہوں میں اسے کالج نہیں جانے دوں گی ۔

ارشما کے پاپا نے اسے خاموش نظروں سے دیکھا۔

شبانہ کے جانے کے بعد سنبل نے زوردار چیخ ماری کر خوشی سے بہن کو گلے لگا کر کہا 

 باجی شکر ہے آپ میرے پاس واپس آ گئی ہیں میں نے آپ کی واپسی کی بہت دعائیں کی تھیں۔ اکیلے کمرے میں دل نہیں لگ رہا تھا۔

سنبل کی ماں نے اسے ڈانٹتے ہوئے کہا 

بکو مت بیٹیاں اپنے سسرال میں ہی اچھی لگتی ہیں۔ کیا ہوا جو اسکا شوہر ملک سے باہر جا رہا ہے۔ میں کچھ دن بعد اسے آپا شبو کے پاس واپس بھیج دوں گی۔ وہ ادھر رہے، ان کی دلجوئی کرے۔ ان کا بیٹا پردیس چلا گیا، ماں سے جدا ہوا ہے۔ ساس سسر کی خدمت کرے۔ شبو آپا کی ساس بھی سخت بیمار ہیں۔ بےچاری شبو آپا کیسے اکیلی ان کی دیکھ بھال کریں گی۔ ان کی ساس کی اب کیسی طبعیت ہے۔

ارشما نے کہا 

بلکل ٹھیک ہیں۔ 

ارشما کی ماں بولی

شکر الحمدللہ، بزرگ ویسے بھی گھر میں رحمت ہوتے ہیں ۔

سنبل نے منہ بنا کر کہا

ماما بس کریں ان کی بے جا طرف داری نہ کریں۔ دیکھا نہیں کیسے شبو اکڑ کر گئی ہے۔ پنشن کے پیسے کب آئیں گے۔ 

وہ نقل اتارتے ہوئے بولی، 

لالچی عورت، ایک ٹکہ بھی نہیں ملنا چاہیے ایسے لوگوں کو۔



رات کو ارشما کے شوہر کی فلائٹ تھی۔ ارشما کی ماں کہہ رہی تھی کہ ہمیں اور ارشما کو ایئرپورٹ جانا چاہیے مگر ارشما کر پاپا نہیں مانے۔ وہ بتا رہے تھے کہ اس نے اپنے گھر والوں کو بھی منع کر دیا ہے اکیلا گیا ہے۔

رات کو سب سونے جانے لگے تو ارشما کے شوہر کی کال آ گئی۔ ارشما کو ماں نے اشارہ کیا کہ اپنے کمرے میں جا کر سنو۔ 

ارشما حیران تھی کہ وہ فون پر بہت رو رہا تھا اور بہت معافیاں مانگ رہا تھا۔ اس نے کہا، ایک دن تم سب سب جان جاؤ گی۔ میری ماں کے دل میں لالچ بھرا ہوا ہے۔ وہ ساری زندگی آپ کے پاپا کو لوٹتی رہی ہیں۔ اس گیم میں میرے تمام گھر والے ابا، دادی اور پھوپھو شامل ہیں۔ چھوٹے بھائی کو میں ہمیشہ سمجھاتا آیا ہوں تو وہ میری بات کو سمجھ گیا ہے۔ اسے ویسے بھی محلے کی ایک لڑکی پسند ہے، وہ تمہاری بہن سے شادی نہیں کرنا چاہتا۔ اس سے میں نے وعدہ کیا ہے کہ میں اس معاملے میں اس کا ساتھ دوں گا۔ 

روتے روتے اس کی ہچکی بندھ گئی تو اس نے فون بند کر دیا۔

ارشما کو پاپا نے تعلیم مکمل کرنے کا کہا  

اس نے کہا

وہ تو چھوڑ چکی ہے، اب نہ جانے سمسٹر کے اینڈ میں ایڈمشن ملتا ہے یا نہیں۔ 

ارشما کے پاپا نے تسلی دی 

کالج چھوڑا نہیں تھا ایک ویک کی چھٹیاں لی تھیں۔ تم کل سے کالج جا سکتی ہو۔ 

ارشما نے ماں سے پوچھا،

پاپا تو میری تعلیم چھڑوانا چاہتے تھے تو پھر چھٹیاں کیسے لی ہیں۔

اس کی ماما نے بتایا 

تمہارے کوئی سر تھے حمدان وہ آفس میں پرنسپل کے پاس بیٹھے تھے۔ انہوں نے تمہارے پاپا کو سمجھایا کہ قسمت کا کچھ پتا نہیں ہوتا پھر آخری سمسٹر میں تعلیم ادھورے چھوڑنا عقلمندی نہیں۔ تب تمہارے پاپا نے ان کی بات مان لی۔ 

ارشما نے پوچھا، 

کیا انہوں نے اسٹوڈنٹ کا نام پوچھا تھا تو اس کی ماما نے بتایا نہیں۔

دوسرے دن جب ارشما کالج پہنچی تو اس کی سہیلیوں نے اس کے گرد گھیرا ڈال دیا اور سب ناراض ہونے لگیں کہ تم نے خاموشی سے نکاح کر کے رخصتی بھی کروا لی۔ ہمیں انوائیٹ نہیں کیا۔ اب ادھر کیوں آئی ہو۔ ہمیں تمہارے پاپا ملے تھے انہوں نے بتایا تھا کہ سادگی سے نکاح ہو گا کسی کو نہیں بلایا اور ساتھ ہی رخصتی ہو گی۔

ارشما نے ایک سرد آہ بھر کر بتایا 

میرے شوہر کل سعودیہ چلے گئے ہیں اور مجھے میکے چھوڑ گئے ہیں تعلیم مکمل کرنے کے لیے۔ 

سر حمدان ادھر سے گزر رہے تھے۔ لڑکیوں نے انہیں سلام کیا تو سر نے ارشما سے پوچھا، آپ کدھر غائب تھیں۔ 

ارشما کی ایک دوست نے جلدی سے ان کو اس کے نکاح اور رخصتی کی ساری سٹوری سنا دی۔ 

سر حمدان نے ایک سرد آہ بھری اور کہا، 

چلو اچھا ہے آپ کی تعلیم مکمل ہو جائے گی۔ 

وہ چلے گئے تو ایک دوست نے کہا، 

لگتا ہے سر حمدان کو اس سے ہمدردی ہونے لگی ہے کیونکہ ہم نے بتایا تھا کہ اس کا منگیتر درزی ہے اور میٹرک پاس ہے۔

ارشما نے برا مناتے ہوئے کہا  

پیشہ کوئی چھوٹا بڑا نہیں ہوتا۔ تعلیم کا اور عمر کا بھی کوئی فرق نہیں پڑتا۔ انسان کا کردار اچھا ہونا چاہیے۔ 

ایک دوست اسے چھیڑتے ہوئے بولی

لگتا ہے ہمارے جیجو جی نے ہماری دوست کو متاثر کر دیا ہے جو یہ ان کے خلاف سن نہیں سکتی۔


 

سر حمدان ابھی بمشکل ابھی سولہ سال کے تھے تو ان کی زبردستی ان کی شادی چھ سال بڑی تایا کی بیٹی سے کر دی گئی۔ جو نہ صرف موٹی تھی بلکہ پورے خاندان میں زبان دراز مشہور تھی۔

سر حمدان نے کافی احتجاج کیا تو ان کے والد اس کے تایا کے احسانات گنوانے لگ گئے 

جب ان کو خون کی ضرورت تھی تو انہوں نے خون بھی دیا تھا اور میٹرک کی داخلہ فیس تایا نے ادھار دی تھی۔ پھر حمدان کے والد نے اسے سمجھایا کہ تم اگر تایا کا بوجھ ہلکا تم  نہیں کرو گے تو کون کرے گا۔ تم بعد میں اپنی پسند سے اور کرتے رہنا۔ تایا بیمار ہے پریشان ہے اور بیٹی کے لیے بہت پریشان ہے۔

سر حمدان پریشر میں آ گئے اور شادی کر لی۔ وہ عورت پہلے سال ہی ایک بیٹے کی ماں بن گئی۔ اب تو وہ اور غرور میں آ گئی۔ 

سر حمدان کے ماں باپ تو پوتے کو پا کر بہت خوش ہوئے۔ ان کی آنکھ کا تارا تھا۔ پوتا عدیم بہت پیارا تھا بلکل باپ کی کاپی تھا۔ جس طرح سر حمدان گورے چٹے اور ہینڈسم تھے۔ 

سر، عدیم کو پا کر سارا غم بھول گئے اور اپنی بدزبان بیوی کو قسمت کا لکھا سمجھ کر قبول کرلیا۔ انہیں بیوی سے کوئی شکوہ نہ تھا۔ ان کے والدین بچے کو سنبھالتے۔

ان کے آبا کی کریانے کی دوکان تھی۔ جو اتفاق سے بہت چلنے لگی تھی اور وہ خوشحال ہوتے گئے۔ کاروبار کو بھی وسیع کر لیا۔ سر حمدان ساتھ ساتھ تعلیم حاصل بھی کرتے رہے۔ 

ان کی ماں گھر کے سارے کام کرتی اور بہو کو بس آرام کرنا کھانا پینا ہوتا۔ اس کو اپنے بچے سے بھی کوئی خاص لگاؤ نہ تھا۔ وہ کہتی 

اگر دادا دادی نہ سنبھالتے تو میں اسے سے ڈے کیئر چھوڑ دیتی۔ 

اس کے پیدائش کے دو ماہ بعد اسکا باپ فوت ہو گیا۔ پھر ماں کو سر حمدان گھر لے آئے کیونکہ ان کا بیٹا بہو ان کو خوش نہ رکھتے تھے۔ 

بیٹے سے سر حمدان بہت پیار کرتے۔ اس کی پرورش پر بہت دھیان دیتے۔ وہ چاہتے تھے کہ جاہل ماں کے پاس بیٹا کم سے کم وقت میں رہے۔ سر حمدان نے اسے کھبی کسی بات پر کچھ نہ کہا تھا۔ 

والدین بھی بیٹے کا دکھ سمجھتے تھے۔ بڑی بہن بیاہی ہوئی تھی وہ شادی میں شرکت نہ کر سکی تھی۔ بہت سادگی سے شادی کی گئی تھی۔ بہن ملک سے باہر ہوتی تھی۔ نکاح کا سنکر اس نے کافی واویلہ مچایا تھا اور اس نے والدین کو بہت سمجھایا کہ ہم ان کے احسانوں کے بدلے بہت کچھ کر چکے ہیں۔ وہ باپ سے لڑی کہ آپ کو اس وقت بھائی کی محبت نظر آ رہی ہے بیٹے کے ساتھ ظلم نظر نہیں آ رہا۔ میں کوشش کر کے اس کی شادی کہیں نہ کہیں کروا دوں گی۔ میرے بھائی کی زندگی برباد نہ کریں۔ اس نے بھائی کو بھی بہت سمجھایا تو سر حمدان کو باپ اور تایا کی روتے ہوئے ہاتھ جوڑ کر التجائیں یاد آ گئیں اور اس نے فیصلہ کر لیا اور بہن کو ناراض کر دیا۔ وہ جب بھی پاکستان آتی اسے دوسری شادی پر زور دیتی۔ 

سر حمدان کی بیوی نند سے لڑتی۔ 

پھر جب بیٹا چار سال کا ہوا تو سر حمدان کی بیوی کو فارغ بیٹھ بیٹھ کر فالج کا اٹیک ہو گیا۔ 

سر حمدان کی بہن باہر ملک سے آ گئی اور اس کا اچھے سے علاج کروانے لگی۔ تائی بہت روتی تو وہ تائی کو بھی تسلی دیتی۔ مگر وہ جانبر نہ ہو سکی اور دنیا سے کوچ کر گئی۔ بیٹی کے غم میں اس کی ماں بھی ایک ماہ بعد وفات پا گئی۔


سر حمدان نے اپنی زندگی بیٹے کے لیے وقف کر دی۔ بہن شادی پر زور دینے لگی۔ خاندان بھر ان کو رشتہ دینا چاہتا تھا، جو شادی کے بعد بھی پڑھتا رہا اور اعلیٰ تعلیم حاصل کر لی۔

مگر سر حمدان نے بہن سے التجا کی 

میری شادی کا خواب دیکھنا چھوڑ دو۔ میں اب دوبارہ اس بندھن میں بندھنا نہیں چاہتا۔ بیٹے پر سوتیلی ماں نہیں لانا چاہتا۔ آپ مجھے خوش دیکھنا چاہتی ہیں تو میں شادی کے بغیر بہت خوش ہوں۔ 

اس کے بعد سر حمدان نے بیٹے کے ساتھ وقت گزارنا شروع کر دیا۔ 

دونوں باپ بیٹا ایک دوست کی طرح رہتے۔ وہ جوان ہو رہا تھا اس کے دادا دادی کو اکثر بیٹی اپنے پاس بلا لیتی۔ جن کے دو بیٹے اور ایک بیٹی تھی۔


 

سر حمدان نے جب سے ارشما کو دیکھا تھا اس کی بھولی صورت اور بھولا انداز ان کے دل کو چھو گیا تھا۔ مگر وہ اپنے دل ودماغ کو سمجھانے لگ جاتے کہ وہ کسی کی منگیتر ہے پھر پتا چلا کہ اس کی شادی ہو چکی ہے۔ مگر وہ پھر بھی اس کو دیکھ کر دل کو سمجھانے کی ناکام کوشش کرتے مگر دل پھر بھی اس کی طرف کھنچا چلا جاتا۔ 

ان کا بیٹا عدیم ان کو کتنی بار شادی پر زور دے چکا تھا 

آپ ابھی ینگ ہیں میری شادی ہو گئی تو میں بھی مصروف ہو جاؤں گا۔ اس وقت آپ کو ایک ساتھی کی ضرورت پڑے گی۔ 

پھر وہ مزاق میں کہتا، 

ڈیڈ کان کھول کر سن لو میں شادی کے بعد آپ کو پہچانوں گا بھی نہیں۔ کوئی لفٹ نہیں، سب دوستی ختم ۔ اگر میری زوجہ محترمہ کی طرف سے اجازت ہوئی تو آپ کو کھبی کبھار سلام کر لیا کروں گا ۔ 

باپ اس کے کان مروڑ کر کہتا، 

تم میرے باپ نہیں میں تمہارا باپ ہوں۔ میں تو اپنی اکلوتی بہو سے خوب خدمتیں کراؤں گا۔ دونوں کی نوک جھونک چلتی رہتی۔ 

عدیم مزاق میں کہتا، 

ڈیڈ کسی بیوہ کی بیٹی سے میں شادی کر لیتا ہوں اور بیوہ سے آپ کر لینا۔ کم سے کم روز روز بیوی کو میکے کے جانے کے جھنجھٹ سے جان چھوٹ جائے گی۔

سر حمدان مزاق میں کہتے، 

کیوں میاں خود جوان اور میرے لیے بوڑھی عورت۔ میں تو کسی ینگ کنواری لڑکی سے شادی کروں گا۔ 

بیٹا بھی مزاق میں کہتا، 

کنواری اور ینگ لڑکیاں آندھی نہیں ہیں اور نہ ہی ان کے والدین اندھے۔ شکر کریں جو کوئی بوڑھی بیوہ یا طلاق یافتہ مان جائے۔

پھر وہ ہاتھ اٹھا کر دعا کرتا 

خدا کرئے میرے ڈیڈ کی شادی بھی میرے سسرال میں ہو جائے پھر مزہ آئے گا۔ وہ باقاعدہ ہاتھ اٹھا کر دعا کرتا اور اونچی آواز میں آمین کہتا۔ 

عدیم کالج کی کینٹین پر کھڑا تھا اور سخت گرمی پڑ رہی تھی۔ اس نے پانی کی بوتل خریدی۔ 

سنبل تیزی سے کینٹین کی طرف آئی رش دیکھ کر عدیم کے ہاتھ میں بوتل دیکھ کر ریکوسٹ کرتے ہوئے بولی  

پلیز یہ مجھے دے دیں میں پیاس سے مر رہی ہوں۔

عدیم نے جھٹ اس کو اپنی بوتل پکڑا دی۔

سنبل نے جھٹ بوتل پکڑی اور کھول کر غٹا غٹ ساری ہی کر بولی،

شکریہ۔ 

عدیم مسکرایا، سنبل نے اسے سو کا نوٹ پکڑانا چاہا تو وہ بولا،

 نہیں رہنے دیں تھینکس۔ 

سنبل بغیر کچھ بولے 

پیسے پرس میں ڈال کر تیزی سے مڑ گئی، عدیم دیکھتا رہ گیا۔ 

عدیم سر حمدان کا بیٹا تھا اسے سنبل کو دیکھتے ہی پیار ہو گیا۔ ایسا ہی کچھ سنبل کا بھی حال تھا۔ اب دونوں کالج میں ایک دوسرے کو، نظروں سے تلاش کرتے رہتے۔ دونوں ایک ہی کلاس میں تھے۔ یہ انہیں بعد میں پتا چلا۔ دونوں ابھی ٹین ایج کے تھے۔

سر حمدان کو ان کے پیار کی خبر ہو گئی کیونکہ اب وہ ہر جگہ اکھٹے پائے جاتے تھے۔ 

سر حمدان کو سنبل کا جب پتا چلا کہ وہ ارشما کی بہن ہے تو وہ کافی حیران ہوئے کہ ایک بہن اتنی سلجھی ہوئی خاموش طبع اور دوسری اتنی ہی لاابالی سی شوخ و چنچل تھی۔ 

بیٹے نے صاف کہہ دیا تھا 

وہ شادی کرے گا تو سنبل سے ورنہ زہر کھا لے گا ۔

ادھر سنبل بھی بہن پر زور دے رہی تھی کہ وہ میرے بارے میں پاپا سے بات کرے جبکہ ماں کو وہ دو ٹوک الفاظ میں بتا چکی تھی ۔

سنبل کی بات سنکر ماں بہت پریشان ہو گئی تھی وہ شوہر سے ڈر بھی رہی تھی کہ ان کو پتا لگا تو وہ کیا قیامت لائیں گے اور شبو سے کیسے پوری ڈالے گی۔


 

وہ پہلے ہی پریشان تھی کہ ارشما کے سسرال والے اس کی، نہ ہی خیر خبر لیتے تھے نہ خرچہ بھیجتے تھے۔ ساس کھبی فون بھی کرتی تو ایک ہی سوال ہوتا پنشن کے پیسے آئے۔

ارشما کے پاپا کا جواب آتا 

میں نے کافی رقم گھر کے اخراجات میں خرچ کر دی تھی، اب تھوڑی سی رہ گئی ہے، وہ اپنے بڑھاپے کے لیے رکھ دی ہے۔ اب آپ کو بہو خالی ہی لے کر جانی پڑے گی۔ 

شبو نے فون پر بہت لڑائی کی کافی باتیں سنائیں اور دھمکی دے دی کہ اگر ہماری ڈیمانڈ پوری نہ کی تو ارشما کو طلاق ہو جائے گی۔ اس کے جواب میں ارشما کے باپ نے مہلت مانگ لی کہ جب سال بعد ارشما کا شوہر واپس آئے گا، تب تک میں کچھ نہ کچھ بندوبست کر لوں گا چاہے لون لینا پڑے۔ 

ارشما کی ماں سن کر پریشانی سے بولی  

اب کیا ہو گا۔ دوسری کا رشتہ بھی خطرے میں پڑ گیا ہے۔

جواب میں ارشما کے پاپا نرمی سے بولے، 

اوپر والا سب بہتر کرئے گا۔



عدیم جو باپ سے بہت فرینک تھا کھبی باپ کو buddy،کھبی سر بلاتا، کھبی حمدان صاحب بلاتا۔ دونوں ایک دوست کی طرح رہتے تھے۔ 

عدیم نے سر حمدان کو صاف لفظوں میں کہہ دیا کہ وہ فون پر پہلے سنبل کے پاپا سے بات کریں پھر رشتہ کے کر جائیں۔ اگر وہ نہ مانیں تو زبردستی جا کر منائیں۔ شادی بے شک چار سال بعد کردیں۔ مگر نکاح کر دیں تاکہ مجھے تسلی ہو جائے ۔

سر حمدان بہت پریشان ہوئے۔ انہوں نے ارشما سے بات کی کہ آپ کی پڑھائی ختم ہونے والی ہے اور پھر اسے ساری بات بتائی۔ اس سے کہا، 

وہ اپنے والد صاحب کا نمبر دے۔ 

ارشما نے کہا

سر میں ہمت کر کے خود پاپا سے بات کرتی ہوں۔ ویسے اس کے رشتہ میرے دیور کے ساتھ طے ہے۔ 

پھر ساری تفصیل بتائی کہ وہ کیا کرتا ہے۔ 

ارشما نے کہا

سر میں تو سسرال میں گزارا کر لوں گی مگر میں نہیں چاہتی میری بہن کی شادی وہاں ہو۔ 

سر حمدان نے کہا  

پھر تو میں ایڑی چوٹی کا زور لگا کر یہ رشتہ لوں گا ورنہ آپ کی طرح اس کی بھی زندگی تباہ ہو جائے گی۔ ویسے آپ اس بے جوڑ شادی کے لیے مان کیسے گئی تھیں۔ 

ارشما نے بتایا کہ اس کے پاپا نے بچپن سے زبان دی ہوئی تھی تو میں ان کی زبان اور وعدے کو جھوٹا نہیں بنانا چاہتی تھی۔ ان کی خوشی اسی میں تھی مجھے ان کی خوشی کے آگے اپنی زندگی کی تباہی کی پرواہ نہیں ہے۔ 

سر حمدان نے تعریف کی اور کہا

آپ جیسی بیٹی والدین کے سر کو جھکنے نہیں دیتی شاباش۔

وہ اس سے پہلے ہی بہت متاثر تھے اب ان کے دل میں اس کی عزت اور بڑھ گئی اور اپنے بیٹے کا رشتہ ادھر ہی کرنے کا فیصلہ کر لیا۔

ارشما نے وعدہ کیا کہ وہ ضرور پاپا سے بات کر کے قائل کرنے کی کوشش کرئے گی۔ 

سر نے اسے اپنا نمبر دینا چاہا تو اس نے کہا، 

سر اس کی ضرورت نہیں ہے میں روز کالج آتی ہوں، جو بات ہو گی ادھر ہی کر لوں گی۔

سر حمدان اس کا نمبر مانگنا چاہتے تھے مگر اس نے ٹال دیا۔ 

وہ خود ہی یہ سوچ کر دل کو تسلی دینے لگے کہ وہ کسی کی منکوحہ ہے میں اس کا نمبر لے کر کیا کروں گا۔ مجھے اس کے بارے میں نہیں سوچنا چاہیے۔ مگر دل تھا کہ بار بار سوچنے پر مجبور کر دیتا تھا شاید وہ ان کے دل میں بس چکی تھی مگر وہ اس بات کو محسوس تو کر سکتے تھے مگر ماننے کو تیار نہ تھے۔

ارشما جب گھر پہنچی تو اس نے سنبل کو ساری بات بتائی کہ آج وہ پاپا سے بات کرئے گی۔  سنبل خوشی سے اس کے گلے لگ گئی۔ مگر اس کی ماں بہت پریشان ہو گئی اور ڈر کر اسے منع کرنے لگی 

تمہارے پاپا مجھے طلاق دے دیں گے۔ وہ کہیں گے میری تربیت غلط تھی۔ 

سنبل جل کر برا سا منہ بنا کر بولی

آپ ڈرتی بہت ہیں، طلاق دیتے ہیں تو دیں جان چھوڑیں آپ کی، اس اذیت بھری زندگی سے نجات ملے۔ پھر ان کو آپ کی قدر آئے گی۔ آپ پریشان نہ ہوں۔ شادی کے بعد میں آپ کو اپنے پاس رکھ لوں گی۔ 

ماں نے اس کی کمر پر ایک تھپڑ مارا اور ڈانٹ کر کہا، 

میں تیرے پاپا کے بغیر نہیں رہ سکتی۔ میں ان سے ڈرتی نہیں، ان سے پیار کرتی ہوں۔ 

سنبل کے پاپا نے باہر بیوی کی بات سن لی۔ آہٹ سنکر سنبل کے والد کمرے میں جاتے نظر آئے تو سنبل کی ماں پھر ڈرتے ہوئے بولی

بیٹی میں تیرے ہاتھ جوڑتی ہوں کہ تم میرے حال پر رحم کرو، کوئی بات نہ کرنا۔ پہلے ہی وہ تمہاری وجہ سے بہت پریشان رہتے ہیں۔ تمہاری ساس نے پیسوں کے لیے طلاق کی دھمکی دی ہے۔

سنبل نے ہاتھ اٹھا کر دعا والے انداز میں کہا

خدا کرئے باجی کو طلاق ہو جائے ان جاہلوں سے جان چھوٹے۔ 

ماں نے گرج کر کہا

بکواس بند کرو خدا نہ کرے۔

ارشما کو والد نے آواز دی تو ساتھ بیوی کو بھی بلایا۔ 

سنبل کی ماں کی آنکھوں میں خوف اتر آیا۔ وہ لرزتے ہوئے اندر گئی تو سنبل کے پاپا نے اسے اور ارشما کو نرمی سے سامنے صوفے پر بیٹھنے کا کہا۔ سنبل کی ماں ڈرتے ڈرتے بیٹھ گئی ۔ سنبل دروازے کے باہر کھڑی پریشانی سے اندر ہونے والی گفتگو سننے لگی تو اس کے پاپا نے اسے بھی آواز دے کر کہا، 

سنبل تم بھی اندر آ جاؤ۔

وہ بھی جھجکتے ہوئے حیران سی اندر آ کر ماں کے پہلو میں بیٹھ گئی۔ وہ دل میں سوچ رہی تھی کہ اگر اب اس کے پاپا نے اس کی ماما کی بےعزتی کی تو وہ پولیس بلانے کی دھمکی دے گی۔ اس کی وجہ سے اس کے پاپا نے بیوی پر ہاتھ اٹھانا چھوڑ دیا تھا کیونکہ وہ ڈٹ کر سامنے کھڑی ہو کر ماں کو بچا لیتی تھی۔ خود ان سے مار کھا لیتی تھی مگر ماں کو مارنے نہ دیتی تھی۔ جس کی وجہ سے اس کے پاپا کئی کئی دن اس سے بات نہ کرتے تھے اور اب بیوی کو مارنا ترک کر دیا تھا مگر بےعزتی کرنی نہیں چھوڑی۔ 

سنبل کے پاپا نے ارشما کو مخاطب کر کے پوچھا، 

مجھ سے کیا بات کرنی تھی تم نے سنبل کے بارے میں۔

ارشما نے سنبل اور ماں کی طرف دیکھا تو ماں نے خوفزدہ سی نظروں سے دیکھا مگر سنبل نے آنکھوں سے ارشما کو اشارہ کیا اور ہمت دلائی۔

ارشما نے قدرت لرزتی آواز میں سر حمدان کے اور ان کے بیٹے کے مطلق بتایا کہ انہیں سنبل اپنے بیٹے کے لیے پسند ہے اور وہ رشتہ کرنا چاہتے ہیں۔ وہ سنبل اور عدیم کی محبت والی بات گول کر گئی حالانکہ وہ جان چکے تھے۔ 

سنبل کے پاپا نے نرمی سے کہا

پرسوں سنڈے ہے، لڑکے کو بھی اور اس کے باپ وغیرہ کو گھر کھانے پر بلا لو۔

تینوں نے حیرت سے باپ کی طرف اور پھر ایک دوسرے کی طرف حیرت اور خوشی سے دیکھا۔

سنبل کی ماں نے لڑکھڑاتی آواز میں کہا

مگر شبو آپا چھوڑیں گی نہیں۔ سنبل کے سسرال کا معاملہ ہے۔ نازک معاملہ ہے وہ طلاق کی دھمکی دے چکی ہیں۔

سنبل نے برا سا منہ بنا کر ماں کو گھورا اور فرط محبت سے پاپا کی طرف دیکھا تو اس کے پاپا نے جواب میں قدرے برہمی سے کہا

میری بیٹی ہے میں جو مرضی کروں۔ 

سنبل نے جوش سے کہا، 

پاپا یو آر گریٹ۔

ماں نے اسے گھورا۔

اس کے پاپا نے ارشما سے کہا

ان کے لیے بہترین ڈنر ہونا چاہیے۔ کسی چیز کی کمی نہ ہو۔ کافی اہتمام کرنا۔

تینوں نے خوشی سے انہیں دیکھا۔

وہ یہ کہہ کر کمرے سے باہر چلے گئے تو سنبل نے خوشی سے پاگل ہوتے ماما اور بہن کو گلے لگا لگا کر برا حال کر دیا ۔

دونوں نے ہنستے ہوئے کہا

یہ پاگل ہو گئی ہے۔ 

تینوں کو باپ سے یہ امید نہ تھی۔

تینوں نے دو دن میں گھر کو چمکا دیا۔ سنبل جو کسی کام کو ہاتھ نہ لگاتی تھی، خوب کام کروا رہی تھی۔ اس نے زندگی میں اتنا کام کھبی نہیں کیا تھا۔ 

اس کے پاپا ان تینوں کو پہلی بار زندگی میں اتنا خوش دیکھ کر حیران ہو رہے تھے۔

سر حمدان نے اپنی آپی کو فون پر عدیم کے رشتے کے بارے میں جب بتایا تو وہ کافی حیران ہو کر بولی  

دانی 

وہ  پیار سے اسے دانی بلاتی تھی۔ 

ابھی تو وہ صرف سولہ سترہ سال کا ہے اتنی جلدی کیا ضرورت ہے اور وہ لڑکی بھی بتا رہے ہو اس کی ہم عمر ہے۔ تھوڑی چھوٹی پونی چاہیے ۔ 

سر حمدان ایک دم بھڑک کر بولے

کیا میں سوتیلا تھا کیا میرا حق نہیں تھا اپنے سے چھوٹی یا اپنی پسند سے پڑھی لکھی لڑکی کے ساتھ شادی کرتا۔ میرے نزدیک عمر کچھ معنی نہیں رکھتی مگر زہنی ہم آہنگی اور تعلیم کا معیار تو ہونا چاہیے تھا۔ پھر کردار بھی اہمیت رکھتا ہے آپ سب نے میرے ساتھ بہت زیادتی کی تھی۔ شکر ہے مجھے بیٹے کا ساتھ ملا جس سے مجھے زندگی سے لگاؤ ہو گیا ورنہ مجھے جینے کی تمنا بھی نہیں رہی تھی۔

سر حمدانی کی بہن روتے ہوئے بولی  

میری جان میرے دانی کے پاپا، میرے پیارے بھائی، میں تو پہلے دن سے ہی اس رشتے کے خلاف تھی۔ تمہیں دوسری شادی کا کتنا کہا مگر تم ہی نہیں مانتے تھے۔

سر حمدان نے روندھی ہوئی آواز میں کہا

آپا آپ جانتی ہیں مجھے شکل یا عمر سے کوئی سروکار نہیں تھا اور نہ اب ہے۔ بس کردار اچھا ہونا چاہیے۔ تایا ابا کو اس کی پسند والی جگہ اس کی شادی کر دینی چاہیے تھی۔ وہ آپ جانتی ہیں کہ اپنے نوکر کے بیٹے سے شادی کرنا چاہتی تھی اور تایا ابا کو بس خاندانی رشتہ چاہیے تھا اور خاندان والے اسے کرنے کو تیار نہ تھے۔ اس نے مجھے پہلے دن ہی صاف کہہ دیا تھا کہ میں تمہیں پسند نہیں کرتی۔ تم مجھے طلاق دے دینا جب میرے ابا اس دنیا میں نہ رہے تو۔ مگر عدیم ہو جانے کے بعد میں اپنے بچے کی ماں کو کیسے چھوڑ سکتا تھا۔ پھر تایا ابا کی روح بھی بے چین ہوتی۔ وہ ہر وقت مجھ سے طلاق کا مطالبہ کرتی رہتی۔ اس سے رابطے میں رہتی۔ میں نے سوچا جا کر اس لڑکے کو منع کروں کہ اس سے شادی کا خیال دل سے نکال دو اس کا پیچھا چھوڑ دو۔ کیونکہ میرے ہزار بار منع کرنے کے باوجود وہ اس کا اچھا نہیں چھوڑتی تھی۔ 

آپا نے کہا  

اگر عدیم کی بہت مرضی ہے تو پھر تم اس کا رشتہ طے کر دو۔ منگنی کر دو ہم منگنی پر آئیں گے اور خوب دھوم دھام سے منگنی کریں گے۔ اماں ابا کو میں منا لوں گی۔ 

سر حمدان نے مطمئن ہو کر فون بند کر دیا اور صوفے پر آنکھیں موندے ماضی میں کھو گئے۔



جب حمدان کی بیوی اس لڑکے سے تعلقات نہیں چھوڑتی تھی تو وہ اپنے آپ کو دنیا کا بے غیرت ترین شخص سمجھتے تھے، جس کی بیوی ان کے سامنے اپنے عاشق سے باتیں کرتی تھی۔ اس کے والدین کو بھی اس بات کا شادی سے پہلے علم تھا۔ وہ بھی اس کی نوکر کے بیٹے سے شادی کروانے پر راضی نہ تھا ان کو اپنی خاندان کی پڑی تھی۔

سر حمدان نے اس لڑکے سے ملنے کا سوچا تاکہ اس کو منع کیا جائے۔ ان کے بیٹے پر برا اثر پڑے گا ۔

سر حمدان بیوی کے گاؤں گئے تو گاڑی دور کھڑی کر کے، دور بیٹھے اس لڑکے کو پہچان کر اس کی طرف چل پڑے۔

جب قریب پہنچے تو وہ اپنے دوست کے پاس بیٹھا شاید ان کی بیوی سے ہی فون پر بات کر رہا تھا۔

سر حمدان کو دیکھ کر چونکا اور ڈر سا گیا۔

سر حمدان نے اسے کہا 

ڈرو نہیں میں تمہاری خواہش پوری کرنے آیا ہوں۔ تمہاری شادی اپنی بیوی کو طلاق دے کر تم سے کراؤں گا۔ مگر یادرکھو۔ میرے تایا اپنی زندگی میں ہی اس کی تمام جائیداد میرے نام کر گئے تھے۔ جو اب میں نے بیٹے کے نام کر دی ہے۔ تمہیں صرف وہ عورت ہی ملے گی جو تمہیں بہت پسند ہے، تم اس کے لیے مرے جا رہے ہو۔ تمہاری شادی کا خرچہ میں اٹھا لوں گا مگر اس کے بعد پھوٹی کوڑی بھی نہیں ملے گی۔ بولو کب کرنی ہے شادی تاکہ میں عدت کے بعد تاریخ رکھ سکوں۔ 

اس لڑکے کا دوست پاس کھڑا تھا۔ اس دوست نے حیرت سے پوچھا

یار یہ سر کیا کہہ رہے ہیں۔ تم تو میری کزن کو پسند کرتے ہو اس پر مرتے ہو اس سے تمہاری شادی ہونے والی ہے۔ میں جا کر ابھی اسے بتاتا ہوں۔

وہ لڑکا اپنے دوست کی منتیں کرنے لگا اور اسے روتے ہوئے بتانے لگا کہ وہ تو صرف اس سے فائدے اٹھا رہا تھا وہ گاہے بگاہے اسے نوازتی رہتی تھی۔ ایزی پیسہ کر دیتی تھی بیلنس ڈلوا دیتی تھی۔ جتنے پیسے مانگوں دے دیتی تھی۔ میں نے تو کھبی اس کو انگلی تک نہیں لگائی۔ بس میٹھی باتوں سے ہی وہ خوش ہو جاتی تھی۔ ورنہ اس موٹی بھینس سے میں بھلا شادی کرتا اتنا پاگل نہیں ہوں ۔

پھر وہ دوست سے روتے ہوئے بولا

یار پلیز میں ابھی اس سے رشتہ ختم کرتا ہوں۔ میں تو شغل لگا رہا تھا۔ تم اپنی کزن سے کچھ مت کہنا، اس سے رشتہ نہ تڑوانا۔ بڑی مشکل سے میں نے اپنی محبت کو پایا ہے۔ میں ابھی اس کو فون سے بلاک کرتا ہوں۔ دیکھا تو کال لگی ہوئی تھی اور جب اس نے کال لگی دیکھی تو زور سے چلا کر بولا، موٹی بھینس خبردار جو اب میرا نام بھی اپنی زبان پر لائی۔ تم سے تو خواب میں بھی شادی نہ کرتا۔ تم اپنے اتنے اچھے شوہر کی نہ ہو سکی تو میری کیا خاک ہو گی۔ شکر کرو اس نے تجھے رکھا ہوا ہے۔ ورنہ تم اس قابل بھی نہیں۔ 

سر حمدان نے اسے ایک زوردار تھپڑ مارا 

تم کون ہوتے ہو میری بیوی کی تذلیل کرنے والے۔

وہ معافی مانگنے لگا اور وعدہ کرنے لگا کہ دوبارا کال نہیں کرے گا ۔

سر حمدان واپس گاڑی کی طرف آئے ان کو اس بات سے تسلی ہو گئی کہ ان کی بیوی کا اس سے صرف فون کی حد تک تعلق تھا۔

جب وہ گھر پہنچے تو ماں نے بتایا کہ تمہاری بیوی صبح سے کمرے میں لیٹی پڑی ہے اور مسلسل روئے جا رہی ہے کچھ بتا بھی نہیں رہی۔ جب وہ کمرے میں گئے تو وہ رو رو کر بدحال ہو چکی تھی۔ اس نے شوہر سے معافی مانگی تو سر حمدان نے اس کا ہاتھ پکڑ کر اسے تسلی دی 

مجھے اب تم سے کوئی شکوہ نہیں۔ مجھے تمہارے عمر میں بڑھا ہونے کم پڑھا ہونے یا موٹاپے سے فوق نہیں پڑتا تھا اگر تم اس لڑکے سے تعلق نہ رکھتی۔ میرے والدین کی عزت کرتی۔ ان سے ہر وقت بدتمیزی نہ کرتی تو کوئی مسلہ نہ تھا مگر تم نے بارہا میرے والدین کو خون کے آنسو رلایا ہے۔ 

وہ روتی رہی معافیاں مانگتے رہی اور شدت غم سے اس کو پہلے دل کا مسئلہ اور پھر فالج کا اٹیک ہو گیا۔ ساس سسر نے بہت اچھا علاج کروایا۔ مگر وہ جانبر نہ ہو سکی اور چل بسی۔



سر حمدان کی بہن اور والدین جنہوں نے رشتہ ہونے کے بعد آنا تھا وہ اگلے دن ہی فلائٹ پکڑ کر پہنچ گئے۔ اس سے اگلے دن انہوں نے سنبل کے گھر جانا تھا، رشتے کے لیے۔ 

سر حمدان کی بہن نے پوچھا

تمہیں یقین ہے کہ وہ لوگ رشتہ دے دیں گے۔ یہ نہ ہو ہماری بےعزتی ہو جائے۔ 

سر حمدان نے پہلے ارشما کو فون کیا اور ساری بات بتائی اور بتایا کہ میرے والدین اور بہن بھی ساتھ آئیں گی۔ اپنے پاپا سے بات کروا دو۔ ارشما فون سن کر کنفیوز سی ہو گئی اسپیکر ان کر کے بات کرتے ہوئے پاپا کو پکڑا دیا۔

دوسری طرف سر حمدان نے بڑے ادب سے سلام دعا کی، حال احوال پوچھا پھر گھر والوں کا بتایا کہ وہ بھی ساتھ آئیں گے اگر ممکن ہو تو ہم اچھی امید رکھیں کہ دونوں خاندان رشتے دار بن سکیں گے۔ اگر کوئی مسئلہ ہے تو ہماری بھی بےعزتی نہ ہو اور آپ کی بھی نہ ہو۔ اس لیے ہم ایک ہی بار منگنی کر کے جانا چاہتے ہیں۔

سنبل کے والد نے کہا

آپ تشریف لائیں آپ کو مایوسی نہیں ہو گی ہم آپ کا منہ بھی میٹھا کروائیں گے اور آپ کو رسم کرنے کی اجازت بھی ہو گی۔

سنبل کے والد کا جواب سنکر سر حمدان بہت خوش ہوئے اور سب گھر والے جوش وخروش سے عدیم کی منگنی کی تیاری کرنے لگے۔

عدیم کی خوشی کا کوئی ٹھکانہ نہ تھا۔ سنبل اس سے بات نہیں کر رہی تھی فون بند کر دیتی کہ بزی ہوں۔

 

بہت سی تیاریوں کے ساتھ  سرحمدان کی فیملی بمع عدیم کے، سب مٹھائیاں اور پھل لیکر ان کے گھر پہنچے۔ 

سر حمدان کے گھر والے تو بہت سے تحفے تحائف لیکر جانا چاہتے تھے مگر سر حمدان نے صرف مٹھائی اور پھل لیکر جانے کی اجازت دی۔ رنگ بھی سونے کی جبکہ اس کی بہن ہیرے کی انگوٹھی لیکر جانا چاہتی تھی ۔

بہن نے پھر مٹھائی اور پھل بہت زیادہ لے لیے۔ سر حمدان کہتے رہے کہ اتنا زیادہ اچھا  نہیں لگتا مگر بہن نہ مانی۔

سنبل اور ارشما نے کھانا وغیرہ بہت طریقے سلیقے سے میز پر سجایا اور صفائی والی میڈ اور اس کی ماں کو روکے رکھا۔

سر حمدان کی فیملی جب پہنچی تو گھر کے تمام افراد نے ان کا بہت تمیز اور ادب سے استقبال کیا۔ سر حمدان کی بہن نیلو کو فیملی بہت اچھی لگی۔ سر حمدان کے والدین بھی سب کی تعریف کرنے لگے۔

سب نے بہت سلجھے انداز سے ان کی آؤبھگت کی۔ وہ لوگ مسلسل ہر چیز کی، کھانوں کی تعریفیں کر رہے تھے۔ 

اچانک سنبل بولی  

آنٹی جی ان سب چیزوں میں سے میں نے صرف سلاد بنایا اور ڈیکوریٹ کیا ہے مجھے کچھ بھی پکانا نہیں آتا، ماما اور باجی ہی کرتی ہیں ۔

عدیم طنزیہ مسکرا کر بولا

اسے صرف کھانا آتا ہے۔ 

سرحمدان کی بہن نے بھتیجے کو گھورا۔ سنبل بھی غصے میں اسے گھور رہی تھی۔ 

سرحمدان کی والدہ نے پہلو بدلا۔ مگر سرحمدان نے سنبل کی طرف داری کرتے ہوئے کہا، کوئی بات نہیں بیٹا آپ ابھی چھوٹی بھی تو ہو ابھی بہت وقت ہے، سیکھ لینا۔ 

وہ جواب میں صفائی دیتے ہوئے بولی  

جی سر میں نے باجی کو دیکھا بے چاری اتنا کام کرتی ہیں۔ جب سے یہ میرے جتنی ہوئی ہیں یہ سکول سے آ کر پھر ماما کو کچھ کرنے نہیں دیتی تھی۔ مجھے بھی کچھ نہیں کہتی تھیں کہ میری ہیلپ کرو۔ رات تک کرتی رہتی تھیں۔ اب میں سوچتی ہوں کہ مجھے باجی کی ہیلپ کرنی چاہیے۔ پہلے ہی یہ اپنے سسرال کی وجہ سے بہت ٹینس رہتی ہیں۔

سر حمدان نے دعا کرتے ہوئے کہا

خدا ان کی ساری مشکلیں آسان کرے۔ 

سنبل کی ماں نے جلدی سے جوش سے کہا

امین۔ 

سب کھانا پینا کھا پی چکے تو سنبل کے والد نے کہا

میں نماز پڑھ کر آتا ہوں۔ 

وہ سب بھی بولے

چلیں مسجد چلتے ہیں۔ 

مرد مسجد چلے گئے اور عورتوں نے گھر میں نماز ادا کی۔ سر حمدان کی بہن بہت کچھ نوٹس کر رہی تھی۔ اس نے ماں سے سرگوشی میں کہا، 

بچیاں نماز وغیرہ کی پابند ہیں۔ بس چھوٹی زرا بچوں جیسی ہے لیکن سلجھی ہوئی فیملی ہے۔  ہمیں اب انگوٹھی پہنا دینی چاہیے۔ ایسا اچھا گھرانہ ہمیں نہیں ملے گا اور عدیم کی خوشی بھی اسی میں ہے۔ ہم بھی اس کی خوشی میں خوش ہیں۔ پہلے دانی کی زندگی کا بہت افسوس ہے۔ 

ماں نے ایک سرد آہ بھری اور بولی

ٹھیک ہے تم ہی پہنا دینا۔ 

سنبل بڑے اعتماد سے باجی کی ہیلپ کر رہی تھی۔ 

کام والیوں کو بھیج دیا گیا تھا کہ اب گھر کی باتیں ہیں باہر نہ نکلیں کیونکہ ارشما کے سسرال والوں کو پل پل کی خبر رہتی تھی۔


سنبل کافی بار کہہ چکی تھی ان کام والیوں کو نکالیں ان کا شبو سے رابطہ ہے، مجھے شک ہے مگر ان کے پاپا نہیں نکالتے تھے کہ کام اچھا کرتی ہیں۔ چور نہیں ہیں۔ 

سنبل منہ بنا کر جواب دیتی 

خاک کام کرتی ہیں ایک صفائی ہی تو کرتی ہیں۔ اس میں بھی اتنی دیر لگا دیتی ہیں۔

 

جب سب مرد گھر واپس آئے تو عصرکا وقت تھا۔ سر حمدان کی بہن نے سب کو بلا کر کہا، اب جس کام کے لیے آئے ہیں وہ کر لیتے ہیں۔

سب ہمہ تن گوش ہو گئے۔ سنبل کمرے سے باہر نکل گئی۔ باجی کو اس کی شرم اچھی لگی۔

سرحمدان نے سنبل کے والد سے زرا آگے بیٹھ کر بات شروع کی 

سر ہم اپنے بیٹے عدیم کے لیے سنبل بیٹی کا رشتہ مانگتے ہیں۔ آپ کو یا بھابھی جی کو کوئی اعتراض تو نہیں۔ بیٹا ابھی پڑھ رہا ہے۔ 

باجی بھی کچھ بتانے لگی کہ ہمارا گھر اپنا ہے 

سنبل کے والد نے کہا

کسی تفصیل کی ضرورت نہیں۔ ان مادی چیزوں کی کوئی اہمیت نہیں انسان قدردان ہو، عزت دینے والا ہو رشتوں کو نبھانے والا ہو۔

سر حمدان نے متاثر ہوتے ہوئے کہا

بلکل بجا فرما رہے ہیں۔ آپ کی دونوں بچیاں بہت سلجھی ہوئی ہیں۔ ارشما جیسی سلجھی پورے کالج میں نہیں۔ بہت باکردار لڑکی ہے۔ میں ان سے بہت متاثر ہوں۔

سر حمدان کی بہن نے بھائی کو دیکھا جو پہلی بار کسی عورت کی کھل کر تعریف کر رہا تھا۔ وہ سوچنے لگی کاش یہ شادی شدہ نہ ہوتی تو شاید بھائی اس سے شادی کرنے پر رضامند ہو جاتا۔

سنبل کے والد نے اپنی بیوی کی طرف فخر سے دیکھا اور بولے

اس میں میرا کوئی کمال نہیں میرے بچوں کی اچھی تربیت میری بیوی کا کمال ہے۔ جس نے میری جی جان سے خدمت کی میں نے بہت پر سکون وقت گزارا۔ اس نے میری جی جان سے خدمت کی۔ میرا رواں رواں اس سے خوش ہے۔

سنبل کی ماں کی آنکھوں میں آنسوں آگئے، شدت جذبات سے شوہر کو حیرانگی سے دیکھا ارشما نے بھی ماں کے ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر تسلی دی۔ 

سنبل جو باہر سے سب کے لیے جوس بنا کر لا رہی تھی۔ باپ کی بات سنکر حیرت سے اندر آ کر بولی، 

پاپا  آج آپ کیسے ماما کی تعریف کر رہے ہیں آپ نے تو ہمیشہ انہیں بےعزت ہی کیا ہے سب کے سامنے بھی لحاظ نہیں کرتے تھے ان کی کھبی تعریف نہیں کی ہمیشہ شبو کی باتوں میں آ کر ماما کو سناتے تھے پھر باجی کا رشتہ بھی اس لالچی شبو کو دے دیا جو صرف پیسوں کے لیے ہی لڑنے آتی ہے۔ میں تو کہتی ہوں باجی کی ان سے طلاق کروائیں ان کی زندگی عزاب میں نہ ڈالیں جو نہ باجی کو خرچہ دیتے ہیں نہ پوچھتے ہیں شوہر صاحب سعودیہ بیٹھے ہیں ریال کما رہے ہیں مگر باجی کے نصیب میں کچھ بھی نہیں۔

ماں تیزی سے اٹھی اور ڈانٹتی ہوئی مارنے لگی تو ارشما نے بھی اسے ڈانٹا اور کہا

کیسی بہن ہو بہن کا گھر اجاڑنے کا کہہ رہی ہو۔ 

اتنے میں سنبل کے پاپا اٹھے تو سر حمدان نے ان کو روکنے کی کوشش کی 

مت کیجیے گا بچی ہے بہن کا بھلا سوچ رہی ہے۔ 

سنبل رونے لگی تو سنبل کے پاپا نے کہا

میں اسے مارنے نہیں، پیار کرنے آیا ہوں۔

انہوں نے اسے گلے لگا کر کہا

یہ عرصے سے دہائی دے رہی تھی۔ میں ہی پاگل تھا جو ہیرے کو نہ پہچان سکا اور بیوی سے بدسلوکی کرتا رہا اور شبو جیسی لالچی عورت کی باتوں میں آ کر اپنی بیٹی کو طلاق کے داغ لگوا دیا۔

ارشما ،سنبل اور سب حیرت سے ان کی طرف دیکھنے لگے ۔

ارشما نے روتے ہوئے پاگلوں کی طرح باپ سے پوچھا

پاپا یہ آپ کیا کہہ رہے ہیں۔ مجھے کب طلاق ہوئی۔ تو اس کے باپ نے اسے روتے ہوئے بتایا بیٹی مجھے معاف کر دینا میں نے تمہیں تباہ کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی تھی مگر شکر ہے اوپر والے کا جس نے تمہیں تباہ ہونے سے بچا لیا۔ 

اس کو سنبل نے پانی پکڑایا اور بولی  

پاپا ریلیکس ہو جائیں اگر ابھی بھی آپی کی جان چھوٹ گئی ہے تو تب بھی فائدہ ہے۔ 

وہ ماں کو بھی پانی پلانے لگی تسلیاں دینے لگی۔ 

بہن سے بولی

میں نے تمہاری ان لوگوں سے نجات کے لیے بہت دعائیں کی تھیں شکر ہے وہ قبول ہو گئیں۔

ارشما نے اسے خشمگیں نگاہوں سے دیکھا۔ ماں نے سنبل کو ڈانٹا اور اسے کہنے لگی

 بےوقوف لڑکی طلاق یافتہ لڑکی کو کوئی آسانی سے قبول نہیں کرتا ہے۔ سب لڑکی پر شک کرتے ہیں۔ اب اس کا کیا بنے گا دیکھیں اگر کوئی رجوع کی صورت ہو تو نکالیں۔

سر حمدان نے کہا

ایسی بات نہیں ہے آپ کی بیٹی کو جو بھی قبول کرئے گا۔ وہ بہت خوش قسمت ہو گا آپ کی بیٹی بےقصور ہے اور بہت اعلیٰ کردار کی سلجھی ہوئی لڑکی ہے۔ جس نے اتنی پڑھی لکھی ہونے کے باوجود کم پڑھے شخص کو صرف اس وجہ سے قبول کیا کہ باپ کا حکم تھا۔ 

سر حمدان بھائی کو حیرت سے دیکھ رہی تھی جو ارشما کی مسلسل تعریف کر رہا تھا۔


کب دی طلاق بتائیں نا کوئی رجوع کی صورت ہے آخر پیسے کا مسئلہ تھا تو میں شبو آپا کو یقین دلاؤں گی کہ ہم ان کی ڈیمانڈ ہر صورت جلد پوری کر دیں گے۔ چاہے اس کے لیے یہ گھر ہی کیوں نہ بیچنا پڑے۔

ارشما کے پاپا نے گرج کر کہا

کوئی ضرورت نہیں اس لالچی عورت کو فون کرنے کی۔ 

وہ معزرت کرتے ہوئے سرحمدان کے گھر والوں سے بولے

آپ لوگ جس مقصد سے آئے تھے وہ ضرور پورا ہو گا، پہلے میں یہ طلاق والی بات کلیئر کر دوں۔ میری چچا زاد شبانہ نے میرے بچوں کے بچپن میں ہی میری دونوں بیٹیوں کے رشتے اپنے دونوں نکمے کم پڑھے لکھے بیٹیوں کے لیے مانگ لیے۔ میں نے اپنی سادگی میں کچھ اس عورت کے چلتر سے اس کے قابو میں آیا رہا اور اس کے بھڑکانے پر ہی میں اپنی فرشتہ صفت بیوی کی قدر نہ کر سکا۔ قصہ مختصر یہ کہ میری سنبل بیٹی نے ہمیشہ مجھے سمجھانا چاہا مگر میں اسے بچی تصور کرتے ہوئے اگنور کرتا رہا۔ شادی والے دن بھی اس نے مجھے روکنا چاہا تو مجھے کچھ احساس ہونے لگا۔ چند قریبی رشتے داروں نے بھی کہا، یہ بے جوڑ شادی ہے تو میں سوچنے لگا مگر اناء آڑے آ گئی۔

مجھے شادی والے دن رات کو داماد کی کال آئی تو اس نے مجھے ساری تفصیل بتائی

 

میری ماں بچپن سے آپ کو لوٹتی آ رہی تھی۔ جس میں میرا باپ میری دادی بھی شامل تھے۔  مجھے احساس ہوا تو میں نے اپنے چھوٹے بھائی کو راہ راست پر لانے کی کوشش کرتا رہا وہ مانتا رہا۔ وہ بتاتا ہے کہ اسکا باپ درزی تھا لوگوں کے کپڑے بچا لیتا اور ماں ان کپڑوں سے فائدہ اٹھاتی، اسے برا لگتا۔ پھر اس نے باپ کو گھر بٹھا دیا اور چھوٹے بھائی کے ساتھ ملکر حلال کمانے لگا۔ میری پھوپھو اپنی بیٹی کی شادی مجھ سے کرنا چاہتی تھی۔ سب نے ملکر سازش کی کہ ارشما تو شادی پر رضامند ہے چھوٹی نہیں مانتی۔ ہم بڑی کا نکاح سادگی سے کروا کر بہانے سے گھر لے آئیں گے دادی کی بیماری کا بہانہ کر کے۔ پھر خوب اس کے باپ سے فائدہ اٹھا کر طلاق دے دیں گے۔ میری پھوپھو کو جلدی تھی۔ اس نے خفیہ طور پر میری شادی اپنے گاؤں کے جا کر کروا دی۔ میرا اس میں سے ایک بچہ بھی ہے۔ میں اکثر گاؤں چکر لگا لیتا۔ پھر جب میں نے دیکھا کہ آپ لوگ بھی نکاح پر راضی ہیں تو میں نے سعودیہ جانے کی کوشش کی تھی وہ نوکری مجھے ایک دوست کے توسط سے مل گئی اور نکاح سے دو دن بعد میں نے جانا تھا۔ میرا ارشما سے نکاح کرانے کی سکیم بنی تو میں نے محلے کے مولوی کو چند رقم بھی دی اور اسے ساری بات بتائی کہ یہ نکاح اصلی نہ ہو بلکہ ڈرامہ ہو۔ نکاح اصلی نہ تھا اور دولہن گھر آ گئی تو میں نے اسے ماں کے کمرے میں سونے کا کہا، ماں خوش ہوئی کہ چلو اس کو لفٹ نہ دے اوقات میں رکھے۔ اگلے دن میں اسے گھر واپس چھوڑ گیا ماں ساتھ تھی۔ ماں کو بتایا کہ باہر ملک جا رہا ہوں پھر ان کو طلاق کا بلیک میل کرتے رہیں گے اور واپس نہیں بلائیں گے جب پیسے وغیرہ جہیز کے مل جائیں گے تو کوئی بہانہ کر کےطلاق دے دیں گے۔ اب میری ماں کو نہیں پتا تھا کہ میں سب ڈرامہ کر رہا ہوں کیونکہ وہ کسی صورت میرا نکاح کرنے سے باز نہ آتی اور آپ دینے سے باز نہ اتے۔ ارشما کی زندگی برباد ہو جاتی۔ مجھے ان مولوی صاحب نے ہی تبلیغ کی تھی جو میں راہ راست پر رہا۔ انہوں نے مجھ سے پیسے لیکر یتیم خانے جمع کروا دیے تھے۔ آپ بیٹی کی شادی جہاں مرضی کر دیں۔ عدت گزارنے کی بھی ضرورت نہیں ہو گی۔ یہ سب ریکارڈنگ میں اس لیے بھیج رہا ہوں تاکہ ثبوت رہے۔ ماں کو یہ سب اس وقت بتاؤں گا جب آپ ارشما کی کسی پڑھے لکھے شخص سے شادی کریں گے جو اس کے قابل ہو گا۔ لوگ والدین پر فخر کرتے ہیں مگر میں شرمندہ ہوں ان کے اس اقدام پر۔ مجھے اچھا نہیں لگ رہا ان کے خلاف بول کر مگر آپ کو ساری سچائی بتانا ضروری تھا۔ شادی کیے بغیر آپ بھی میری بات پر یقین نہ کرتے۔

 

ارشما نے حیرت سے ساری باتیں سنیں۔ سب کو جیسے سانپ سونگھا گیا تھا۔ سنبل خوشی سے چلائی اور جوش سے بولی

باجی غم کے دن ختم اب خوشیوں کے دن آئے ہیں۔ بس کریں سب سوگ منانا شکر کریں پاپا کو اور اس شبو کے بیٹے کو عقل ا گئی۔

 وہ مٹھائی لیکر آ گئی اور سب کو پیش کرنے لگی۔ سب نے خوشی سے مٹھائی کھا لی۔ ماحول یکسر بدل گیا تو سر حمدان نے کہا

اب اگر ہم جس کام سے آئے تھے وہ کر لیں۔ 

وہ بولے

سر ہم آپ کی بیٹی سنبل کا رشتہ اپنے بیٹے عدیم کے لیے کرنا چاہتے ہیں۔ شادی بھلے آپ چار پانچ سال بعد کریں مگر رشتہ پکا کرنا چاہتے ہیں۔

سنبل شرما کر باہر نکل گئی۔ تو اس کے پاپا نے کہا

ہمیں منظور ہے۔

سرحمدان کی آپا نے کہا

مجھے ایک رشتہ نہیں دو رشتے چاہیں۔

سب نے چونکہ کر دیکھا۔ سر حمدان کی بہن نے کہا

مجھے اپنے بھائی حمدان کے لیے ارشما کا رشتہ چاہیے ۔

سر حمدان نے گھبرا کر کہا

آپا یہ آپ کیا کہہ رہی ہیں۔ میرا ور ارشما کی عمر کا بہت فرق ہے پھر ارشما کی بہن ہماری بہو بننے والی ہے۔ 

سر حمدان نے کہا

عمر کا کوئی خاص فرق نہیں ہے 

دانی ان کی بہن نے جواب دیا۔ 

سر حمدان نے پہلو بدلا اور ارشما کو دیکھا جو کافی کنفیوز لگ رہی تھی۔ 

سنبل خوشی سے بولی

ارشما کیوں اعتراض کرے گی عمر اتنی بھی چھوٹی نہیں ہے اس کی۔ اچھا ہے ہم دونوں ایک ہی گھر میں ہوں گی۔ 

سنبل کی ماما نے گرج کر سنبل سے کہا

بےشرم لڑکی چپ کر کے اپنے کمرے میں چلی جا۔ ہوش کر یہ لوگ تیرے ہونے والے سسرال کے لوگ ہیں۔ 

سر حمدان کی بہن نے پکڑ کر سنبل کو پیار سے پاس بٹھاتے ہوئے کہا

نہیں یہ تو ایک برج ہے سب کے درمیان، اس کی ہی کوششوں سے اس کی بہن کی زندگی برباد ہونے سے بچ گئی۔ یہ تو بہت ذہین اور ہمدرد بچی ہے جو سب کا بھلا سوچتی ہے۔ ہم تو اس سے بہت متاثر ہوئے ہیں۔ اس کی آپ یہ والی بھی بات مان لیں۔ ارشما بھی ہمیں دے دیں۔ 

سرحمدان نے کہا

آپا پلیز کسی سے زبردستی نہ کریں ارشما پر زبردستی نہ کریں۔ پہلے ہی وہ زبردستی کا خمیازہ بھگت چکی ہے۔ 

سرحمدان کی بہن نے غصے سے بھائی کو کہا

دانی ابھی تو تم اس کی تعریفیں کر رہے تھے اب بہانے بنا رہے ہو۔

سر حمدان نے جلدی سے جواب دیا

نو نو آپا میں بہانے نہیں بنا رہا بلکہ اگر ان کا ساتھ تو میرے لیے خوش نصیبی ہو گا۔

ارشما نے حیرت سے سر حمدان کو دیکھا جو بہت پیار بھری نظروں سے اس کی طرف دیکھ رہے تھے۔ 

سر حمدان کی بہن نے خوش ہو کر ارشما کے باپ سے پوچھا 

سر آپ کیا کہتے ہیں۔

اس کے والدین نے بھی کہا ہمیں دونوں بچیاں چاہیے۔ 

ارشما کے پاپا نے کہا

اب میں اپنی بیٹی پر کوئی زبردستی نہیں کروں گا اگر اس کو منظور ہے تو مجھے بھلا کیا اعتراض ہو گا۔ دونوں بیٹیاں ایک اچھے پڑھے لکھے گھرانے میں جائیں گی تو یہ ان کی خوش قسمتی ہو گی۔

ارشما سے سر حمدان کی بہن نے پوچھا

ارشما پلیز کیا رائے ہے تمہاری ۔

سنبل نے بڑے لاڈ سے پوچھا

پلیز ارشی باجی مان جاؤ۔ ہم دونوں اکھٹی رہیں گی۔ میں تمہاری ایک بہو کی طرح خدمت کروں گی۔ سب اس کی بات پر مسکرانے لگے تو ارشما نے اٹھ کر جاتے ہوئے شرما کر کہا

 مجھے اس رشتے پر کوئی اعتراض نہیں ہے۔

اور باہر بھاگ گئی۔ 

سب کے چہرے کھل گئے۔ ایک دوسرے کو مبارکباد دینے لگے۔

سر حمدان کی بہن نے مشورہ دیا کہ ایسا کرتے ہیں دانی اور ارشما کی شادی کر دیتے ہیں اور ان دو چوزوں کا نکاح کر دیتے ہیں۔ جب یہ تعلیم مکمل کر لیں گے تو تب ان کی شادی کر دیں گے۔ 

ارشما کے پاپا نے کہا

نہیں میں سنبل کی اور ارشما کی شادی اکھٹی کرنا چاہتا ہوں پھر میری بیوی بہت نیک ہے اس فرض سے سبکدوش ہونے کے بعد ہم حج کرنے جائیں گے۔ میری بیوی کو حج کرنے کا بہت شوق ہے اور میں پنے گناہوں کی معافی مانگنے جاؤں گا۔ 

سر حمدان کی بہن نے پھر والدین سے سرگوشی کی جو وہ بار بار ان سے سرگوشی میں مشورے کر رہی تھی۔ 

سر حمدان کی بہن نے کہا

چلیں ٹھیک ہے ہمارے گھر رونق زیادہ ہو جائے گی۔ یہ دونوں ساتھ ساتھ پڑھتے بھی رہیں گے۔



بہت دھوم دھام سے شادی کی گئی۔ ایک دن ہی باپ اور بیٹا ایک جیسے لباس میں دولہے بنے بیٹھے تھے۔ دونوں بہت پیارے شہزادے جیسے لگ رہے تھے۔ 

دونوں لڑکیاں ان کے پہلو میں بیٹھی کسی پریوں سے کم نہ لگ رہی تھیں۔ 

سر حمدان نے ارشما کا گھونگھٹ اٹھا کر کہا، 

یار دیکھنا میں بے ہوش نہ ہو جاؤں۔ 

ارشما کو یقین نہیں آ رہا تھا کہ وہ سر حمدان کی بیوی بن چکی ہے۔ جن کو وہ دل میں بسا چکی تھی۔ 

سر حمدان اس کا بہت خیال رکھتے تھے۔ وہ سب بہت خوش تھے۔ سنبل کی شوخیاں عروج پر تھیں۔ سب اس کی بچگانہ حرکتوں کو بہت انجوائے کرتے تھے۔ اس کی شوخیاں دیکھ کر گھر میں رونق لگی رہتی تھی۔ ساس سسر اب پاکستان رہنے لگے تھے ارشما اور سنبل نے انہیں جانے نہ دیا۔ آپا بھی کافی وقت گزار کر گئیں۔


 

ایک سال کے بعد ہی سنبل کو بیٹا پیدا ہو گیا۔ اس سے سنبھالا نہیں جا رہا تھا تو ارشما نے فل زمہ داری اس سے لے لی۔ بچے کو وہی دیکھتی  سارے گھر کو بھی سنبھالتی۔ ساس سسر کی خدمت کرتی ۔ سنبل بھی اب احساس کرنے لگی تھی۔ عدیم بہت خوش تھا ان کا بیٹا سب کی آنکھ کا تارا تھا۔

تین سال بعد ارشما کے ہاں ایک بیٹی کی پیدائش ہوئی تو سر حمدان خوشی سے پاگل ہو گئے۔ ان کو بیٹی کا بہت شوق تھا ۔ 

سنبل مزاق میں کہتی، 

میری نند پیدا ہو گئی ہے اب میری خیر نہیں۔ 

عدیم خوشی سے کہتا 

شکر ہے میری بھی بہن ہوئی۔ 

پاپا کو پھوپھو دانی دانی کہہ کر پکارتیں ان پر جان چھڑکتیں۔ مجھے بہت رشک آتا اور شوق ہوتا کاش میری بھی کوئی بہن ہوتی میرے ناز اٹھاتی۔

 

سب گھر والے اپنی زندگی کو بہت خوشی سے کی رہے تھے۔ اپنی جگہ سب مطمئن اور خوش تھے۔ ان کے والدین بھی بہت خوش تھے۔ 



🎉

ناول اختتام پذیر ہوا

You've reached the end of this journey. We hope you loved every episode!

Reader Comments

No comments yet. Be the first to share your thoughts!

Log in to leave a comment.

Related Novels

Selected For You

View More Free Novels

Editor's Choice

Handpicked favorites that you shouldn't miss.

Premium Membership

Unlock the Full Library

One subscription. Every story. Unlimited reading.

PKR 300
30 Days of Unlimited Access
Go Premium Now

Secure payment  ·  Instant access

Full Novel Library
Access every premium & exclusive novel — no episode locked
Unlimited Reading
Read as much as you want, whenever you want, at your pace
Support the Author
Your subscription directly supports Abida Z Shireen's work
New Episodes First
Be the first to read every new episode as soon as it drops
A F S R N
Join thousands of readers already enjoying premium access
Loved by readers
Our Literary World

Experience the Best Urdu Novels Online

Dive into decades of storytelling by Pakistan's most beloved author, now at your fingertips.

50+
Published Novels
30+
Years of Writing
1M+
Readers Worldwide
100%
Authentic Stories
01

The Legacy of Abida Z Shireen

Welcome to the digital sanctuary of Abida Z Shireen, one of Pakistan's most celebrated literary icons. As a premier Urdu storyteller, she has spent decades crafting narratives that capture the soul of our society. This online Urdu reading platform is designed to preserve her vast Urdu literature archive, offering readers a chance to read Urdu novels online that explore the depths of human emotion, culture, and resilience.

Read Her Story
Abida Z Shireen
Author
02

Captivating Novels & Social Sagas

From suspense-filled thrillers to heart-touching social dramas, our collection features the best Urdu novels that have captivated millions in publications like Aanchal Digest. Whether you are looking for new Urdu novels 2024 or timeless classics, Abida's work provides a unique lens into family dynamics and romantic storytelling. Dive into her world and discover why she is considered a top Urdu digest writer by fans globally.

Browse All Novels
Reading Urdu Novels on Tablet and Phone
Novels
03

Soul-Stirring Urdu Poetry Collection

Beyond prose, this platform hosts an extensive Urdu poetry collection. Abida Z Shireen's verses offer a profound look into spiritual and philosophical themes, available in both Urdu and English. As a featured Urdu poet, her work serves as a bridge between traditional rhythms and modern thought. Join our community of literature lovers to explore famous Urdu poems and exclusive literary insights found nowhere else.

Explore Poetry
Elegant Desk with Pens and Books
Poetry