Langri Larki
11 Episodes
پیار کی منزل
جب سے امان ملک سے باہر گیا تھا، اس کے بیٹے جازب کا دل کسی کام میں نہیں لگ رہا تھا۔ اس نے محسوس کیا کہ وہ نمرہ کو مس کر رہا ہے۔ اس کی بھولی صورت اس کی آنکھوں سے نہیں ہٹ رہی تھی۔ وہ اس سے ہنسی مذاق کرتا رہتا اور وہ پیار بھری مسکان سجائے رہتی اور اسے کوئی جواب نہ دیتی۔ وہ کبھی اس کی باتوں ہنسی نہ اونچی آواز میں بولی اور نہ کبھی گرجی برسی ۔ وہ تو ہر وقت خوشیاں اور پیار بکھیرتی رہتی تھی۔ جازب کو سمجھ نہیں آرہا تھا کہ وہ اس کو اتنا شدت سے کیوں یاد کر رہا ہے۔ اس نے اپنے چند دوست سے بات کی جنہوں نے نمرہ کو کبھی نہ دیکھا تھا۔ ایک نے نمرہ کا حلیہ پوچھا تو جازب نے اس کی خوبصورتی میں زمین آسمان کے قلابے ملا دیے کہ وہ اتنی پیاری ہے۔ اس کے دوست نے حیرانگی سے اسے دیکھا اور پریقین انداز میں بولا
تمہیں نمرہ سے پیار ہو گیا ہے
اس کے تمام دوست اس کی ہاں میں ہاں ملانے لگے، وہ یک دم چپ ہو گیا اور اپنے دوستوں کی بات کا فوری یقین کر لیا۔ اس نے سوچ لیا کہ نمرہ جیسے ہی واپس آئے گی وہ اسے اپنے دل کی بات بتا دے گا کہ وہ اس سے پیار کرتا ہے۔
بیس دن بعد وہ لوگ واپس آگئے۔ نمرہ بہت نکھری نکھری لگ رہی تھی۔ پہلی بار کسی دباؤ کے بغیر ایک آزاد فضا میں رہ سکی تھی۔ اس نے اپنی مرضی کا سانس لیا تھا۔ وہ بہت ہی زیادہ خوش تھی کہ اس کی وجہ سے امان کو یہ پراجیکٹ ملا اور اسے اپنی شاعری کی وجہ سے لاکھوں روپے ملے۔ ان چند دنوں میں ہی اس کی چہرے کی تازگی میں بہت اضافہ ہو گیا تھا جو سبھی نے محسوس کیا تھا۔
شاکر بھی بہت خوش تھا مگر رافعہ جل گئی کہ دونوں نے وہاں خوب انجوائے کیا ہو گا۔ وہ خود بچپن سے یورپ جانے کا خواب دیکھ رہی تھی مگر اس کے ڈیڈ لارے ہی لگاتے جا رہے تھے۔ اب کی بار بھی انہوں نے وہاں سے ہی پیغام بھیج دیا تھا کہ یہ کنٹریکٹ نمرہ کی وجہ سے ملا ہے اور اس ٹور کی فاتح نمرہ ہے اور سارا کریڈٹ اسی کو جاتا ہے۔ اس کی وجہ سے ہی میرا کئی برسوں کا پرانا خواب تکمیل تک پہنچا ہے اور اس کی واپسی پر بھرپور پذیرائی کی جائے۔
واپسی پر امان کی بیوی نے اسے گلے لگایا تو اسے بہت ہی سکون کا احساس ہوا۔ اسی وقت امان کا بیٹا جازب تیزی سے آیا اور سب کے سامنے نمرہ سے پوچھنے لگا
کیا تم نے مجھے وہاں۔ Miss کیا
نمرہ ہلکا سا مسکرائی اور اثبات میں گردن ہلا دی۔ وہ بولا
ڈن ہو گیا کہ تم بھی مجھے پسند کرتی ہو۔
پھر وہ اونچا اونچا سب کو بتانے لگا۔
میں اور نمرہ ایک دوسرے سے پیار کرتے ہیں، بتاؤ ہماری شادی کب ہوگی؟
سب نے اسے مذاق سمجھا اور نمرہ نے بھی اسے سیریس نہ لیا۔ مگر جب جازب روزانہ اپنے ماں باپ سے اصرار کرنے لگا تو وہ پریشان ہو گئے۔ وہ بھی اس سے پہلے اسے بچگانہ مذاق سمجھ رہے تھے۔ انہوں نے اسے پیار سے سمجھانے کی کوشش کی تو اس نے کہا
آپ ہم دو پیار کرنے والوں کے درمیان دیوار کیوں بن رہے ہیں۔ آپ ہمارے پیار کی منزل کو سمجھیں۔
وہ حیران ہوئے کہ نمرہ کب ایسا چاہتی ہے تو اس نے انہیں یقین دلانے کی پوری کوشش کی کہ وہ بھی اسے پسند کرتی ہے اور اس میں اس کی بھی مرضی شامل ہے۔
جازب پوری طرح نمرہ کی طرف سے غلط فہمی کا شکار تھا حالانکہ نمرہ اسے چھوٹا سمجھ کر اس کی باتوں کو مذاق سمجھتی رہی اور اس کی باتوں میں ہاں سے ہاں ملاتی رہی ہمگر وہ سچ سمجھ بیٹھا۔
رافعہ کو موقع مل گیا تھا، وہ اس نے اسے طعنے دینے شروع کر دیے کہ دو ٹکے کی ملازمہ ہو کر بڑے گھر کا خواب دیکھنے لگی اور چھوٹے معصوم بچے کو ورغلانے لگی۔ نمرہ رونے لگی مگر جواب میں کوئی صفائی نہ دی، جانتی تھی کہ وہ لاکھ صفائیاں دے مگر اس نے نہیں ماننا۔ وہ پریشان رہنے لگی۔ آفس سے آ کر سیدھی اپنے کواٹر میں بند ہو جاتی اور صرف امان یا اس کی بیوی کے بلانے پر ہی آتی۔ جازب اب بھی جب ملتا،
رومانٹک ڈائیلاگ بولتا مگر اب وہ نہ ہی مسکراتی اور نہ کوئی احتجاج کرتی بلکہ خاموش رہتی۔ نمرہ اب شاکر کی آنکھوں میں اپنے لیے پیار کا واضح پیغام دیکھ رہی تھی۔ شاکر نے کافی حد تک اس کا اعتماد بحال کر دیا تھا۔ وہ جب موقع ملے اسے سمجھاتا تھا۔
تمہارے اندر اتنی ڈھیر ساری خوبیاں ہیں کہ شاید ہی کسی اور لڑکی میں ہوں۔ اگر تم اسی طرح اپنے آپ کو دوسرے سے کمتر سمجھتی رہی تو یہ خدا کی ناشکری میں آجائے گا۔
اس کے بعد سے اس نے آنے آپ کو کمتر سمجھنا چھوڑ دیا تھا۔ جازب کے والدین امان اور اس کی بیوی، نمرہ کو اچھی طرح جانتے تھے اور انہیں یقین تھا کہ جاذب کسی غلط فہمی کا شکار ہے۔ امان ذیادہ حیران تھا کیونکہ اس نے نمرہ کی آنکھوں میں شاکر کے لیے محبت کے جذبات دیکھے تھے، اس نے ایک دن نمرہ کو بلا بھیجا اور اس سے جازب کے بارے میں پوچھا۔
نمرہ نے انہیں یقین دلایا
آپ لوگوں کی طرح میں بھی اس بات پر حیران ہوں۔ نہ جانے جازب نے کس بنیاد پراتنی بڑی بات کہہ دی۔ میں اس کی باتوں کو ہمیشہ مذاق میں لیتی تھی کہ چھوٹا ہے اور مذاق کر رہا ہے۔ آپ پلیز اس کی غلط فہمی کو دور کریں۔
نمرہ، امان انکل کی بہت عزت کرتی تھی وہ انہیں نہ کہہ سکی کہ یہ بات سن کر اسے بہت ذہنی اذیت ملی ہے کیونکہ وہ ان کا بیٹا تھا لیکن انتہائی مؤدبانہ انداز میں اس نے اپنا مدعا بیان کر دیا۔
نمرہ اب شاکر کے خواب دیکھنے لگی تھی۔ وہ اب اس سے ایسی بات کر جاتا جس سے اس کا چھپا ہوا پیار ظاہر ہونے لگتا۔
اچھی بات یہ تھی کہ شاکر میں چھچھورا پن نہیں تھا۔ وہ بہت سوبر اور سلیقے سے بات کرتا تھا۔
شاکر سوچتا تھا کہ ایک دم سے اس پر پیار کا اظہار کرنا ٹھیک نہیں ہے۔ اسے آہستہ آہستہ اس طرف لائے گا اور تب اس کی رائے کا بھی پتہ لگ جائے گا کہ وہ اسے پسند کرتی ہے یا نہیں۔ ویسے تو اسے پورا یقین تھا، وہ اس کی آنکھوں میں کئی بار چھپا ہوا پیار دیکھ چکا تھا۔ اسے یہ سوچ کر بھی بہت مسروریت ہوتی تھی۔ خاص طور پر جب وہ اس سے بات کر رہا ہوتا تھا تو اس کی شرمائی ہوئی آنکھوں میں چھپا پیار اسے بہت ہی اچھا لگتا تھا۔ وہ اس کی کسی بات پر ہلکا سا مسکرا دیتی تو وہ بعد میں بہت دیر تک سوچ سوچ کر خوش ہوتا رہتا تھا۔ ابھی اظہار کا وقت آیا نہیں تھا کہ جازب نے بیچ میں بکھیڑا کھڑا کر دیا۔
امان جو شا کر اور نمرہ دونوں کی آنکھوں میں ایک دوسرے کے لیے پیار دیکھ چکا تھا اور انہیں ملانے کا سوچا بھی تھا مگر اب جازب نے اسے پریشان کر دیا تھا۔ امان کی بیوی کو نمرہ کی عادتیں بہت پسند تھیں۔ اسے جازب اور نمرہ کی شادی پر کوئی زیادہ اعتراض نہ تھا، صرف اس کے لنگ کی وجہ سے دنیا کے طعنوں پر ڈرتی تھی۔ اس نے اپنا خدشہ جب امان کو بتایا تو اس نے مسکراتے ہوئے کہا
اب جو بات میں تمہیں بتانے جا رہا ہوں وہ سوائے میرے یہاں کوئی نہیں جانتا ہے۔ نمرہ کا لنگ ٹھیک ہوسکتا ہے۔
امان کی بیوی نے حیرت کے مارے چیخ ماری
”وہ کیسے"
امان نے مسکراتے ہوئے کہا
جب ہم ملک سے باہر گئے تھے تو وہاں جس بزنس مین سے ہمارا پراجیکٹ شروع ہوا ہے، اس نے مجھے وہاں کے مشہور سرجن کے پاس نمرہ کی ٹانگ چیک کروانے بھیجا تھا۔ نمرہ بمشکل چیک اپ پر راضی ہوئی تھی اور اس نے یہ شرط لگائی تھا کہ ٹیسٹ کا جو بھی رزلٹ آئے، میں کسی سے اس کا تزکرہ نہیں کروں گا۔ میری مکمل یقین دھانی پر اس وہاں چیک اپ کروایا تھا، جس کا شاکر کو بھی پتہ نہیں ہے حالانکہ وہ وہاں ہمارے ساتھ گیا تھا۔ اب اس ٹیسٹ کی رپورٹ آگئی ہے اور اس کا نمرہ کو ابھی پتہ نہیں ہے۔ جو مثبت ہے اور اس میں یہ واضع لکھا ہوا ہے کہ نمرہ کا لنگ ٹھیک ہو سکتا ہے۔
امان کی بیوی نے خوش ہوتے ہوئے کہا
آپ فکر نہ کریں میں اس کا پردہ ہمیشہ رکھوں گی اور اس بات کا کسی سے ذکر نہیں کروں گی۔ اب مجھے اس کی جازب سے شادی پر کوئی اعتراض نہیں ہے۔ اگر نمرہ راضی ہوئی تو اس رشتہ کو کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔ بلکہ نمرہ سے بہتر کوئی لڑکی ہمیں نہیں مل سکتی ۔ ہمارے سامنے پلی بڑھی ہے۔
امان نے احتجاج کیا
بات یہ نہیں ہے کہ اس کی ٹانگ میں نقص ہے بلکہ بات یہ ہے کہ وہ جازب سے بڑی ہے۔
وہ کسی ثبوت کے بغیر نمرہ اور شاکر کے پیار کی بات نہیں کر سکتا تھا، اس سے وہ بدنام ہو سکتے تھے۔ اس لیے اس کا نام چھپا گیا، اسے یہ کہنا ہی بہتر لگا۔
بیوی بولی
یہ کون سی بری بات ہے۔ ہمارے پڑوس میں جو بوا جی ہیں، ان کے بیٹے نے تین سال بڑی لڑکی سے پسند کی شادی کی۔ آج وہ دونوں بہت خوش ہیں۔ ان کا سات سال کا بچہ بھی ہے۔ بات عمر کی نہیں انڈرسٹینڈنگ کی ہوتی ہے
امان لاجواب سا ہو گیا، بولا
پہلے میں سب سے رائے لوں گا۔ نمرہ کے والدین سے بھی پوچھنا پڑے گا جو سب سے زیادہ اہم ہے۔ ان کی بیٹی ہے ان کا حق ہے۔
امان کی بیوی نے بھی ہاں میں ہاں ملائی۔
جازب نے جس طرح شور مچایا تھا اس سے یہ بات سب کو پتہ چل گئی۔ سبھی حیران تھے مگر نمرہ کی ماں بہت خوش تھی۔ نمرہ نے ماں سے کہا
ماں جازب کم عمر اور نا سمجھ ہے اس لیے تم اس کو ہاں نہ کرنا بلکہ پیار سے سمجھانا۔
ماں بولی
تم تو پاگل ہو، بھلا اتنا اچھا رشتہ مل رہا ہے۔ تجھے تو کوئی عام آدمی بھی نہ ہو چاھے گا۔ شکر نہیں کرتی، میں تو ہر پل تیری شادی کے خواب دیکھ رہی ہوں۔ تیری شادی ہو جائے تو میں سکون سے جی سکوں گی اور پھر سکون سے مرسکوں گی۔ تجھے تو سگے خالہ کے بیٹے نے لارا لگا کر ٹھکرا دیا تھا۔ سگی خالہ بے وفا ہو گئی تو تم اور کس سے امید رکھے بیٹھی ہو۔
نمرہ دکھی ہوگئی، پرانا زخم ہرا ہو گیا۔ جب خالہ ان کے گھر آئی اور ماں نے پھر اس سے نمرہ کے لیے کسی اچھے رشتے کا رونا رویا تھا۔ خالہ ہمیشہ کہتی تھی کہ میرا خدا کوئی اچھا بر بھیج دے گا مگر اس دن خالہ نے کہا
میرے بیٹے کو اپنے صاحب سے کہہ کر نوکری لگوا دو تو میں اس کے بدلے میں تمہاری نمرہ کو بہو بنالوں گی۔
ماں نمرہ کے پاؤں میں لنگ کی وجہ سے پریشان تھی اور اسے بھی بہت ڈرایا ہوا تھا کہ اس نقص کی وجہ سے اس کی شادی ہو جانا ایک معجزہ ہو گا۔ اس لیے وہ رشتے یا شادی کے معاملے پر بہت ڈرتی تھی اور یہی سمجھنے لگی تھی کہ میری شادی ہو جانا بہت مشکل ہے۔
جب خالہ نے اس کی شادی کی بات کی تو وہ ایک دم بول پڑی
خالہ ادھر نوکری لگی ادھر آپ کا وعدہ ختم۔
خالہ نے پیار سے اسے دیکھتے ہوئے کہا
نہ بیٹی میں ایسی نہیں ہوں اور نہ میرا بیٹا ایسا ہے۔ ہم جو وعدہ کریں وہ پورا کرتے ہیں۔ میں تو اس ڈر سے اس رشتے کا نام نہیں لیتی تھی کہ تم پڑھی لکھی ہو اور وہ ہے سات جماعتیں پاس، ایک بے روز گار۔ تم اسے کیسے قبول کرو گی۔ اگر تم راضی ہو تو اس کی نوکری کا مسئلہ حل کروا دو۔ اس میں تمہارا بھی فائدہ ہے، پھر میں جلد ہی تم دونوں کی شادی کروا دوں گی۔
نمرہ سے زیادہ اس کی ماں نے اپنی بہن سے اس کے بیٹے کو نوکری پر لگوانے کا وعدہ کر لیا اور پھر جلد ہی اپنا وعدہ پورا بھی کر دیا۔ نوکری ملنے کے بعد خالہ کے گھر کے چکر کم ہو گئے اور پھر پتہ چلا کہ اس نے بیٹے کا کسی اور جگہ رشتہ کر دیا ہے اور جلد ہی شادی ہونے والی ہے۔ نمرہ کی ماں نے خالہ سے پوچھا تو اس نے بہانہ بنایا کہ میں اپنی نند کے آگے مجبور تھی اور وٹے سٹے میں شادی کرنا پڑی۔
نمرہ کی ماں اس واقعے کے بعد بہت دل برداشتہ ہوئی اور شدید بیمار پڑگئی۔ اس دن نمرہ بہت روئی تھی اور ساتھ ہی ساتھ اسے ماں کی طرف سے ہاتھ پیر پڑ گئے۔ اس نے پہلے اپنا دل مضبوط کیا اور پھر بڑی ہمت سے ماں کو سنبھالا۔ جب ماں کی طبیعت خراب ہوتی گئی تو اس نے اپنی خالہ کے بیٹے کو فون کیا۔
خدا کے لیے میری ماں کو بچالو، بے شک ساری زندگی مجھ سے رابطہ نہ رکھو مگر مجھ سے نکاح کر لو تاکہ میری ماں کو سکون مل سکے، وہ شدید بیمار ہیں۔ جب تک میری ماں زندہ ہے میں کوئی حق نہیں جتاؤں گی۔ تم اور شادی کر لینا میں تم دونوں کے بیچ میں نہیں آؤں گی اور ماں کے بعد مجھے بے شک طلاق دے دینا۔
وہ تمسخر سے بولا
اری لنگڑی پری! آج میری مہندی ہے اور کل شادی، میرا ٹائم خراب نہ کرو۔ تم تو بیچ میں نہ آؤ گی مگر میری بیوی تجھے ہم دونوں کے بیچ میں کیا آنے دے گی۔ جاؤ جا کر کسی اور بے وقوف کو ڈھونڈو، جو تم سے شادی پر راضی ہو جائے۔
شاکر، جو اتفاق سے ادھر سے گزر رہا تھا، نے اس کی کچھ باتیں سن لیں اور پاس آکر اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا اور کہا
نمرہ پلیز اپنے آپ کو اتنا چھوٹا مت کرو۔ تم کیا جانو کہ تم جس سے شادی کرو گے وہ اپنے آپ کو دنیا کا سب سے خوش نصیب انسان سمجھے گا۔
اس نے روتی ہوئی غمگین آنکھوں سے شاکر کو دیکھا اور آہستہ سے بولی
ہمدردی کا شکریہ۔
اس سے پہلے کہ شاکر کچھ اور کہتا وہ فون بند کر کے وہاں سے چل دی۔ اس دن پہلی بار اس نے شاکر کے بارے میں سوچنا شروع کیا تھا۔ اس نے ماں کو کچھ نہ بتایا تھا۔ اسی دن خالہ نے فون کر کے انہیں شادی کا بلاوہ دیا۔ ماں اس سے خوب لڑی، طعنے دیے مگر اس کے پاس ہر بات کا جواب تھا۔ آخر نمرہ نے ماں کو سمجھایا اور تسلی دی۔
خدا پر بھروسہ رکھو۔ وہ ہر بات کا اچھا بدلہ دیتا ہے۔ ہماری نیت میں کھوٹ نہیں ہے شاید اسی لیے ان بدنیت لوگوں سے جان چھوٹ گئی ہے۔
نمرہ کی ماں کی رضامندی کا امان کو پتہ چل چکا تھا اس نے بیوی سے مشورے کے بعد نمرہ کی پسند جاننے کے لیے اس نے شاکر کی ڈیوٹی لگا دی۔ اس نے نمرہ کی پسند کو اہمیت دینے کا فیصلہ کر لیا۔ اس نے شاکر سے کہا
نمرہ ہر لحاظ سے ایک بہترین لڑکی ہے، تمہارا کیا خیال ہے۔ اگر تم اس سے شادی کرنا چاہتے ہو تو پہلی اہمیت تمہیں دی جائے گی کیونکہ تم جازب سے زیادہ اس کے لیے بہتر ہو اور سمجھدار ہو۔
امان نے کھلے دل کے ساتھ اسے اپنے بیٹے پر فوقیت دے دی اور اس کی صلاحیتوں کی تعریف بھی کی۔
شاکر اپنے چچا کی اس بات سے بہت متاثر ہوا۔ اسے بالکل اندازہ ہو گیا کہ اس کے چچا نمرہ کو بہت پسند کرتے ہیں مگر اس کے لیے وہ اپنے بیٹے جازب کے پیار کی قربانی دینے کو بھی تیار ہیں۔ اس نے وہیں بیٹھے بیٹھے فیصلہ کر لیا کہ اتنے اچھے چچا اور ان کے بیٹے کی خوشیوں میں رکاوٹ نہیں بنے گا اور اپنی محبت کی قربانی دے دے گا۔ اس نے سوچا کہ نمرہ کے لیے جازب اس سے زیادہ بہتر ہے کیونکہ وہ ایک امیر باپ کا بیٹا ہے، جبکہ وہ ایک معمولی آدمی کی اولاد ہے، جو اپنے چچا کی مہربانیوں سے پڑھ لکھ گیا ہے۔ اب اس احسان کو اتارنے کا وقت آگیا ہے۔ اس نے سوچ لیا کہ وہ اپنے ارمانوں کا گلا گھونٹ لے گا اور نمرہ کو بھی اسی بات پر منائے گا۔
ابرار اور اس کی بیوی کو اس کے بیٹے شاکر نے اپنے پیسے جمع کر کے عمرے پر بھیجا ہوا تھا۔ سعودی عرب میں ابرار کا ایک پرانا دوست بھی رہ رہا تھا اور وہ اب اس کے گھر میں تھے۔ ان کا ویزہ چھ ماہ کا تھا اور امان نے گھر میں سب کو منع کیا ہوا تھا کہ گھر کی کوئی بات انہیں نہ بتائی جائے تا کہ وہ مکمل سکون اور اطمینان سے اپنا وقت وہاں گزاریں، اسی لیے جازب کی شادی کی رٹ والی بات ان کے علم میں نہ آ سکی۔
شاکر کو آفس میں موقع مل گیا اور جب اس نے نمرہ سے جازب کے لیے بات کی تو وہ تڑپ گئی۔ اس نے جازب کے بارے میں کبھی خواب میں بھی نہ سوچا تھا۔ اس کی محبت کی منزل تو شا کر تھا۔ وہ نہ مانی، منہ بنا کر، اٹھ کر چلی گئی اور آئندہ اس سے بات کرنے سے بھی کترانے لگی۔ شاکر نے مختلف موقعوں پر اسے جاذب کی سچی اور بے لوث محبت کا یقین دلا تا رہا مگر نمرہ نے ایک نہ سنی۔ وہ اسے ہر بار یہی کہتی رہی
جازب ابھی کچے ذہن کا ہے، نا سمجھ ہے۔ وہ ویسے ہی میری کسی بات سے متاثر ہو گیا ہو گا اور اسے پیار سمجھ بیٹھا ہو گا۔ اسے جب غلطی کا احساس ہوگا تو اپنی زندگی برباد کر چکا ہو گا۔ اس لیے اس کا جوش وقتی ہے۔
شاکر کی چچا نے ڈیوٹی لگائی تھی لہذا وہ ڈٹا رہا۔

Reader Comments
No comments yet. Be the first to share your thoughts!
Log in to leave a comment.