Mera Taviz ho Tum
1 Episodesمیرا تعویذ ہو تم
ابرج اور فرہاد ڈائننگ ٹیبل پر بیٹھے تاش کھیل رہے تھے۔ ان کی ماما پاس بیٹھی مٹر چھیل رہی تھی اور ان کے پاپا پاس بیٹھے موبائل میں مگن تھے۔
انمول سب کے لیے چائے بنا کر لے آئی اور سب کو باری باری پکڑانے لگی۔
فرہاد نے انمول سے کپ پکڑا، شکریہ کہا اور پاس رکھ کر تاش کھیلنے لگا۔ پھر اس نے نعرہ لگایا
"میں جیت گیا۔"
ابرج نے اس کی نقل اتارتے ہوئے اسے کوستے ہوئے کہا
"بڑے آئے جیتنے والے۔ بے ایمانی سے جیتتے ہو ہر دفعہ۔"
فرہاد نے ابرج کی ماما سے شکوہ کرتے ہوئے کہا،
"دیکھیں نا آنٹی میں اس سے تین سال بڑا ہوں مگر یہ میری رتی بھر عزت نہیں کرتی۔"
ابرج کی ماں نے مٹر ایک طرف کرتے ہوئے چائے کا کپ پیتے ہوئے مسکرا کر ان دونوں کو دیکھا۔
فرہاد اور ابرج کے والد دونوں کالج کے زمانے کے پرانے دوست تھے۔ پھر ان کا بزنس اکھٹا ہوا اور دونوں نے خوب ترقی کی۔
دونوں کی شادیاں ہوئیں تو کچھ عرصے کے بعد دونوں نے اکٹھے گھر بنائے۔ جڑے ہوئے پلاٹ ہونے کے باعث گھر کے اندر سے ہی ایک دوسرے کے گھر آسانی سے آ جا سکتے تھے۔
پھر ابرج کے بھائی کی شادی فرہاد کی بہن سے ہو گئی۔
فرہاد کی ایک بڑی بہن تھی اور ایک فرہاد سے چھوٹا بھائی تھا۔
ابرج کا بڑا بھائی تھا، اس سے چھوٹی انمول تھی پھر ابرج، انمول سے تین سال چھوٹی اور بہت لاڈلی تھی۔
انمول اس پر جان چھڑکتی تھی۔ اس کو کوئی کام نہیں کہتی تھی۔ ماں اس کو اکثر ٹوکتی کہ اس کو اتنا نہ سر چڑھاؤ اس نے اگلے گھر جانا ہے۔ تم کوئی اس کے ساتھ نہیں جاؤ گی۔ مگر وہ مسکرا کر اچھا کہہ کر چل پڑتی مگر پھر بھی اس کو کسی کام کو ہاتھ نہ لگائے دیتی اور جلدی سے خود کر دیتی۔
فرہاد جب پڑھائی ختم کر چکا تو اس نے اپنے باپ کے ساتھ کام شروع کر دیا۔ اس کے باپ نے اس کو پڑھائی کے دوران ہی ٹرینڈ کرنا شروع کر دیا تھا اور ابرج کے بھائی نے تو فل کام سیکھ لیا تھا۔
اس لیے ابرج کے والد اور فرہاد کے والد کافی ریلیکس ہو گئے تھے۔
وہ دونوں شام کو جلدی گھر آ جاتے اور چیس کھیلتے، گپیں لگاتے اور چائے پیتے۔
فرہاد ابھی نیا تھا اورفرہاد کا بہنوئی اس کو چھوٹے بھائی کی طرح پیار کرتا تھا اس لیے اس پر کام کا زیادہ بوجھ نہ ڈالتا۔
بہت سے لوگ ان دونوں گھرانوں کی محبت اور اتفاق کی مثالیں دیا کرتے تھے، جن کا آپس میں کوئی خونی رشتہ نہ تھا مگر ایمانداری سے بزنس چلا رہے تھے۔
انمول نے بڑے ہوتے ہی گھر کے سارے کام سنبھالیے تھے۔ وہ کالج جانے سے پہلے اور واپس آنے کے بعد ماں کو کسی کام کو ہاتھ نہ لگانے دیتی۔ نہ اپنا خیال رکھتی نہ کوئی فیشن کرتی نہ کوئی فرمائش کرتی۔ ماں یا ابرج جو بھی کپڑے وغیرہ لا دیتیں چپ کر کے قبول کر لیتی۔
ابرج بہت خوبصورت اور گوری چٹی تھی۔ جبکہ انمول کوئی فیشن نہ کرتی وہ اس کے مقابلے میں گندمی رنگت کی تھی۔
ابرج کی ماں انتہائی سفید رنگت کی تھی اور شوہر گندمی رنگت کا۔
ابرج فخر سے کہتی،
"میں اپنی امی پے گئی ہوں۔ اور انمول ابو پے۔"
فرہاد کے والدین فوری رنگت کے تھے تو وہ سب بہن بھائی گوری رنگت کے مالک تھے اور خوبصورت جوان تھے۔
جبکہ ابرج کا بھائی زیادہ گورا نہ تھا اس کی بیوی گوری تھی۔ ابھی تک ابرج کے بھائی کی کوئی اولاد نہ ہوئی تھی، تین سال ہونے والے تھے۔ ان کے رشتے دار باتیں بناتے تھے مگر ابرج کی ماں ایک سرد آہ بھر کر جواب دیتی
"اس میں بہو کا کیا قصور ہے۔"
مگر اندر سے ان کو اکلوتے بیٹے کی اولاد کی بہت خواہش تھی۔ بیٹا بھی محسوس کرتا تھا کہ ماں بچوں کے نام سے دکھی ہو جاتی ہے۔
اکثر لوگ انہیں سمجھاتے کہ وقت کا کچھ پتا نہیں ہوتا ابھی سے اپنا اپنا بزنس الگ کر لو مگر ابرج کے والد اور فرہاد کے والد دونوں بھڑک جاتے اور کہنے والے کو غصے سے جواب دیتے کہ دنیا ادھر سے ادھر ہو جائے مگر وہ قیامت تک اکھٹے ہی بزنس کریں گے کھبی الگ کرنے کا نہیں سوچیں گے۔
انمول ڈھیروں پکوڑے بنا بنا کر سب کو ڈائننگ ٹیبل پر سرو کر رہی تھی، سب مزے سے چائے کے ساتھ کھاتے جا رہے تھے اور خوش گپیوں میں مشغول تھے۔ سخت گرمی پڑ رہی تھی۔ فرہاد نے دیکھا کہ سب اپنی باتوں اور کھانے میں مشغول ہیں اور آج کوئی اہم بات کرنے آئے ہیں۔
پھر چائے کا دور ختم ہوا اور فرہاد کے والد نے سب کو مخاطب کر کے کہا،
"آج ہم سب ایک اہم فیصلہ کرنے آئے ہیں۔"
انمول کچن کے دروازے کے باہر کھڑی پسینہ پونچھ رہی تھی کہ فرہاد کے والد نے سب کو دیکھتے ہوئے کہا،
"ہم آج فرہاد اور انمول بیٹی کے رشتے کو جوڑنے کیلئے آئے ہیں۔"
سب نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا۔
انمول نے فرہاد کو دیکھا جو اسے ہی دیکھ کر مسکرا رہا تھا۔ فرہاد کے والد نے پوچھا،
"کسی کو اعتراض تو نہیں۔"
فرہاد شوخی سے ✋ اٹھا کربولا،
"مجھے اعتراض ہے۔"
اس کے چھوٹے بھائی نے اس کو ہلکہ سا تھپڑ مارتے ہوئے کہا،
"تم چپ کرو تم دولہا ہو۔"
اس کی بات سنکر سب ہنسنے لگے۔
انمول کچن سے تیزی سے نکلی اور اپنے کمرے میں چلی گئی۔
انمول کی ماں انمول کے کمرے میں گئی تو وہ بیٹھی رو رہی تھی۔ ماں نے جلدی سے دروازہ بند کیا اور اس سے رونے کی وجہ پوچھی تو وہ اتنا بولی،
"مجھے یہ شادی نہیں کرنی۔"
اس کی ماں نے اسے غصے سے گھور کر دیکھا اور پوچھا
"اعتراض کرنے کی کوئی وجہ"
تو انمول نے روتے ہوئے کہا،
"کوئی وجہ نہیں۔"
ماں نے دل ❤️ کو تھامتے ہوئے پوچھا
"کہیں اور کرنا چاہتی ہو خاندان میں اور پسند ہے"
تو وہ نفرت سے بولی،
"زہر لگتے ہیں مجھے سارے۔"
ماں نے کپکپائی ہوئی آواز میں پوچھا
"تو کیا باہر کوئی پسند ہے"
تو وہ بولی،
"نہیں امی ایسی کوئی بات نہیں، مجھے بس اس سے شادی نہیں کرنی۔"
ماں نے جیسے سکھ کا سانس لیا اور بولی،
"بےوقوف لڑکی، فرہاد جیسے رشتے کے لیے تو اس کا بھی اور ہمارا بھی سارا خاندان رشتہ دینے پر تیار ہے۔ سب کوششیں بھی کر چکے ہیں، اس لیے سب نے سوچا اور خاص طور پر ہم نے بھی زور دیا کہ یہ رشتہ ہاتھ سے نہ نکل جائے۔ ایسا رشتہ تیرے لیے کہاں سے لائیں گے۔ ابھی چھوٹی کا بھی کرنا ہے اور خبردار جو تو نے منہ سے کوئی الٹی سیدھی بات نکالی تو میرا مرا ہوا منہ دیکھے گی۔"
اتنے میں باہر دروازہ کھٹکا۔ اس کی چھوٹی بہن، فرہاد کی ماں اور بہن سب کھڑے پوچھ رہے تھے
"سب خیریت ہے"
تو انمول کی ماں نے بات کو بناتے ہوئے کہا،
"کوئی بات نہیں بس بچی زرا گھر چھوڑنے کے تصور سے جزباتی سی ہو گئی تھی میں نے اسے اب سمجھا دیا ہے۔"
فرہاد کی ماں نے اسے پیار کیا اور تسلی بھرے انداز میں بولی،
"گھر کونسا دور ہے، میری بیٹی بھی تو قریب رہتی ہے، جب چاہے آ جا سکتی ہے، اسی طرح تم بھی جب چاہے آنا جانا کوئی پابندی تھوڑی ہے۔"
سب بہت خوش تھے، مٹھائی سب کو کھلائی گئی۔ انمول کو سب نے سلامی دی۔
ابرج اسے مزاق میں بولی،
"باجی آپ تو اچانک سے امیر بھی ہو گئی ہیں اور پرائی بھی۔ سچی باجی مجھے اس گھر سے بڑا لگاؤ ہے میں بھی آپ کے ساتھ جاؤں گی۔"
فرہاد کن اکھیوں سے انمول کو دیکھ کر مسکرا رہا تھا۔
ابرج نے فرہاد سے پوچھا،
"کیوں فادی تم خوش ہو۔"
وہ روتی صورت بنا کر بولا،
"اب میری ایک ماسی سے شادی کروا رہے ہیں جو لڑکی کم اور کام والی ماسی زیادہ لگتی ہے، نہ وہ اتنی خوبصورت گوری چٹی ہے بلکہ بدشکل اور کالی سی ہے۔ تو چلو پھر بھی اگر کوئی اور میسر نہیں تو یہی سہی۔"
انمول نے فرہاد کی طرف غصے سے دیکھا تو وہ مسکرا کر ادھر ادھر چھت کو دیکھنے لگا۔
فرہاد کو سب پیار سے فادی کہتے تھے۔
دونوں گھرانوں میں شادی کی تیاریاں شروع ہونے لگیں۔ مگر انمول نے اس شادی میں کوئی دلچسپی ظاہر نہ کی۔ وہ لاتعلق بنی رہی۔ ابرج بڑھ چڑھ کر شادی کی تیاریوں میں مصروف تھی ساتھ ساتھ ہر وقت یہی کہتی رہتی تھی
"انمول باجی تم بہت خوش قسمت ہو جو اس گھر میں جا رہی ہو کاش میں بھی جا سکتی۔ مجھے وہ سارے لوگ بہت اچھے لگتے ہیں۔"
ابرج اور فرہاد دونوں اکھٹے شادی کی شاپنگ کرنے جاتے۔ ساتھ بیٹھ کر پلان بناتے اور ہنستے بولتے۔
انمول اسی روٹین میں سب کام کرتی رہتی اور چائے بنا کر پیش کرتی۔ فادی کو بھی پکڑاتی وہ مسکرا کر پکڑ لیتا۔ اسی طرح روز آتا۔
جب انمول سامنے آتی تو دونوں اس کو دیکھ کر سرگوشی کرنے لگتے۔
فرہاد انمول کی طرف کن اکھیوں سے دیکھ کر کہتا،
"میرے والدین کی نظر لگتا ہے کمزور ہے۔ گوری چٹی لڑکی کو چھوڑ کر کالی کلوٹی سے رشتہ جوڑ دیا۔ اب ساری زندگی بھگتنا پڑے گا"
پھر ٹھنڈی سانس بھرتا۔
مہندی والے دن انمول نے پھر ماں سے چپکے چپکے کہنا شروع کر دیا کہ وہ یہ شادی نہیں کرنا چاہتی مگر پھر ماں نے اسے کسی نہ کسی طرح منا لیا۔
جب ابرج نے سنا کہ انمول شادی سے انکار کر رہی ہے تو وہ اس سے لڑنے لگی
"کیا کمی ہے فادی میں اتنا ہینڈسم ہے۔ لڑکیاں تمہاری قسمت پر رشک کر رہی ہیں اور تم ناشکری بنی ہو۔ میں تو اس گھر کے خواب دیکھتی ہوں۔"
پھر وہ انمول سے ناراض ہو گئی۔
انمول جو اس پر جان دیتی تھی اس کی ناراضگی انمول کو بہت دکھی کر رہی تھی۔
شادی ہو گئی اور ابرج ابھی بھی اس سے اکھڑی اکھڑی سی رہتی تھی۔
فرہاد حیران تھا کہ عام دولہنوں کی طرح نہ وہ خوش لگ رہی تھی نہ فرہاد کو لفٹ کراتی تھی۔ فرہاد اس کی طرف سے پریشان رہنے لگا تھا۔ وہ گھر کے کسی کام میں بھی دلچسپی نہ لیتی تھی جیسے کی جان سے میکے میں کرتی تھی۔
فرہاد نے ابرج سے انمول کے رویے کے بارے میں بات کی تو ابرج کو اور بھی غصہ آنے لگا۔ وہ اسے بات بات پر طعنے دیتی
"فادی کی تمہیں قدر نہیں ہے۔ اس گھر کی قدر نہیں ہے گھر کے لوگوں کی نہیں ہے۔"
گھر والے مروت برتنے لگے کیونکہ ان کی بیٹی انمول کی بھابھی تھی، کراس میرج تھی۔
انمول زیادہ وقت میکے میں گزارتی۔ اس کی والد اسے ہلکی پھلکی تنبیہہ کرتے رہتے مگر اس کی ماں شوہر کو ٹوک دیتی کہ ان کی بیٹی کو ہم نے کھبی میکے جانے سے روکا ہے حالانکہ وہ بہت کم میکے جاتی تھی اور جاتی بھی ہفتے بعد تھی اور جلدی واپس آ جاتی تھی۔
انمول امید سے ہو گئی تو اس کے سسرال والے بہت خوش ہوئے اور اسے سر آنکھوں پر بٹھایا مگر اسکا رویہ بدستور سب کے ساتھ سپاٹ سا ہی رہا۔
ابرج فرہاد کی دلجوئی میں لگی رہتی۔ وہ اس کے ساتھ شروع سے فرینک تھی اس لیے چھوٹی ہونے کے باوجود اس کو فادی کہہ کر پکارتی۔ اس کے گھر آنے پر اس کی خاطر مدارت کرتی رہتی۔
جبکہ انمول اس سے لاتعلق ہی رہتی۔ اس کے والد بیٹی کو سمجھاتے کہ شوہر پر توجہ دو تو وہ جواب نہ دیتی۔
اب انمول زیادہ وقت میکے رہنے لگی۔ اس کی ماں اس کو بہت شہہ دینے لگی اب وہ اپنی فرمانبردار بہو سے بھی الجھنے لگی۔ اس کو اولاد نہ ہونے کے طعنے دینے لگی۔
ابرج ماں کو سمجھاتی تو ماں اسے بھی جھڑک دیتی۔ بہو بےچاری اور زیادہ خدمت کرتی نند کو بیڈ سے پاؤں نہ اتارنے دیتی۔ مگر ساس کا رویہ بدلنے لگا۔ اب وہ فرہاد کے گھر والوں سے بھی سرد رویہ رکھنے لگی۔ جب وہ لوگ آتے تو منہ بنا لیتی۔ شوہر سمجھا سمجھا کر تھک گیا
"نہ ایسا کرو آخر تمہیں ہو کیا گیا ہے۔"
وہ جواب دیتی
"میری بیٹی کو وہ خوش نہیں رکھتے۔ اس کے ساتھ اچھا سلوک نہیں کرتے۔"
ابرج کے والد حیران نظروں سے دیکھتے انہیں یقین نہ آتا مگر وہ کوئی صفائی بھی نہ دیتے کہ بیوی مانتی ہی نہ تھی۔ اپنے دوست سے بہت معزرت کرتے تو وہ بڑی خوش دلی سے کہتا،
"یار ہماری یاری نہیں ٹوٹنی چاہیے۔ باقی سب جو مرضی کریں۔ وقت گزرتے ہوئے سب ٹھیک ہو جائے گا انشاللہ۔"
انمول کے ہاں بہت پیارے بیٹے نے جنم لیا۔ سب نے بہت خوشی منائی۔ مگر انمول کی ماں نے ہاسپٹل سے اسے اپنے گھر لے جانے کی ضد کی جبکہ سسرال والے اسے اپنے گھر لے جانا چاہتے تھے۔
فرہاد بچے کو پا کر بہت خوش تھا۔ گو انمول اس سے فالتو بات نہ کرتی تھی اور نہ ہی وجہ بتاتی تھی نہ ہی فرہاد کا یہ پوچھنے کا حوصلہ تھا کہ کیا تم مجھ سے شادی نہیں کرنا چاہتی تھی۔ اگر اس نے یہ کہہ دیا کہ نہیں تو یہ وہ لفظ سننا نہیں چاہتا تھا۔ اس کے لیے یہی غنیمت تھا کہ وہ اس کے آنے پر اور بچے کو اٹھانے پر اعتراض نہیں کرتی۔
بچے کی پیدائش کے دو ماہ گزر جانے پر بھی جب وہ واپس جانے پر راضی نہ ہوئی تو اس کے سسرال والے اس سے بات کرنے آئے۔
ادھر انمول نے ماں کو رو رو کر منا لیا کہ وہ سسرال واپس نہیں جانا چاہتی بلکہ خلع لینا چاہتی ہے۔
جب اس کے سسرال والوں کو اس کے خیالات کا پتا چلا تو وہ بھڑک اٹھے اور لڑنے لگے۔
انمول کے والد نے بہت منانے کی کوشش کی مگر فرہاد کے والد اور والدہ نے خوب بھڑاس نکالی۔ ادھر انمول کی ماں نے بھی خوب جوابی کارروائی کرتے ہوئے ان کو خوب بےعزت کیا۔ جب انمول کی ماں نے بہو کو بانجھ ہونے کا طعنہ دیا تو فرہاد کے والدین نے بیٹی کو حکم دیا
"وہ ساتھ چلے۔ ورنہ ہمارا مرا ہوا منہ دیکھے گی۔"
فرہاد نے بہت کوشش کی کہ بات نہ بگڑے۔ انمول کے والد نے اپنی دوستی کا واسطہ دیا مگر فرہاد کے والد نے انمول کے والد کو پیچھے دھکیلتے ہوئے کہا،
"کیسی دوستی اولاد سے بڑھ کر دوستی اہم نہیں ہے۔ ہماری بیٹی کے ساتھ ظلم ہو رہا ہو تو ہم دوستی نبھاتے رہیں۔"
انمول کا بھائی بھی بہت دکھ سے بیوی سے بولا،
"تم جا تو رہی ہو مگر کھبی رشتہ نہ ٹوٹنے دینا۔"
وہ بھی روتی ہوئی چل پڑی۔
ابرج اب انمول سے باقاعدہ اکھڑی رہتی۔ فرہاد باہر آتا تو ابرج بھاگی جاتی اور بچے سے اسے ملواتی۔ انمول اسے جاتے دیکھتی مگر منع نہ کرتی۔
بہو کے جانے سے انمول کی ماں کو اب کام کاج بہت کرنا پڑتا۔ ابرج پہلے کی طرح کسی کام کو ہاتھ نہ لگاتی۔ اب تو انمول بھی زیادہ گھر کے کام کاج میں دلچسپی نہ لیتی۔ بچے کے کاموں میں لگی رہتی۔
اس کی ماں کو بہو کی بہت قدر آنے لگی۔ کیونکہ ان کا بیٹا بھی سسرال جاتا اور بیوی سے مل کرآتا۔ وہ اسے آنے سے نہ روکتے۔
دونوں دوست اب ایک دوسرے کے گھر نہ جاتے، بس مسجد میں سامنا ہوتا تو سرسری سے ملتے۔
سب لوگ ان کو دیکھ کر چہ میگوئیاں کرتے۔ دونوں شرمندہ ہوتے اور کوشش کرتے کہ سامنا نہ ہو۔
فرہاد اور ابرج کو اکھٹا بیٹھا دیکھ کر انمول کو برا محسوس ہوا۔
وہ ابرج کو کمرے میں آنے کا اشارہ کر کے چلے پڑی۔
ابرج نے دل میں سوچا کہ انمول نے سارے گھر کا سکون میکے اور سسرال والوں کا سکون تباہ کر دیا ہے۔ اس کو بھائی اور ابو بھی فالتو بات نہیں کرتے۔ اس کو احساس تک نہیں ہے۔ امی بھی اس کا بھرپور ساتھ دے کر بھابھی کو گھر سے نکال چکی ہیں۔
اب ابرج گھر کے کام کرنے لگی تھی۔ بھائی اور ابو کے کام کرتی رہتی۔ وہ اس سے خوش تھے۔ موقع پا کر وہ ساتھ والے گھر میں بھی چلی جاتی۔ بھابھی سے ملتی، اس کی ماں سے معزرت کرتی رہتی۔ اس کا دل تو نہیں چاہ رہا تھا مگر یہ سوچ کر کہ ضرور کوئی خاص بات ہو گی۔ وہ منہ بنا کر اس کے کمرے کی طرف چل پڑی اور جا کر دروازہ کھٹکھٹایا۔
فرہاد کو بچے سے ملنے اس کو اٹھانے اس کو گھر دادی دادا سے ملوانے کے جانے پر کوئی روک ٹوک ابرج کی ماں نہ کرتی تھی۔ اس بات کا شکر ادا کرتی تھی۔ ابرج کا والد اور فرہاد کے گھر والے بچے سے بہت پیار کرتے تھے۔
جب ابرج کمرے میں گئی تو فرہاد بچہ اٹھائے آیا۔ ابرج کی ماں کو تجسس ہو رہا تھا کہ انمول نے ابرج سے کیا بات کرنی ہے۔ فرہاد ذرا فاصلے پر کھڑا ہو کر ابرج کے باہر آنے کا انتظار کرنے لگا۔ اس کی ماں بھی قریب کھڑی ہو گئی۔
اندر سے ابرج نے چلا کر پوچھا،
"مجھے کیوں کمرے میں بلایا ہے۔"
دونوں کے زور زور سے بولنے کی آوازیں باہر آنے لگیں۔
انمول نے روتے ہوئے کہا،
"میں جانتی ہوں تم اور فادی ایک دوسرے کو پسند کرتے تھے۔"
ابرج نے حیرانگی سے چلا کر کہا،
"کیا"
انمول نے روتے ہوئے کہا،
"جب میرا فادی کے ساتھ رشتہ ہوا تو وہ اسے زبردستی مانا۔ کہہ رہا تھا چلو کوئی اور نہیں تو یہی سہی۔ پھر وہ اکثر کہتا کہ میں گوری چٹی نہیں ہوں، اسے تم جیسی گوری چٹی لڑکی چاہیے تھی۔ میں فادی کو پسند کرتی تھی مگر وہ تمہیں پسند کرتا تھا۔ میں تم سے پیار کرتی ہوں میں تمہاری خوشی تمہیں لوٹانا چاہتی تھی میں نے شادی سے انکار بھی کیا مگر امی نے مجھے منا لیا۔ مگر اب میں فادی کے بغیر نہیں رہ سکتی میں اس سے بہت پہلے سے پیار کرتی تھی اور سوچا تھا کہ چلو شادی کے بعد طلاق لے کر تمہارا پیار تمہیں لوٹا دوں گی مگر اب ایسا کرنا مشکل ہے۔ اب تو وہ میرے بچے کا باپ بھی بن گیا ہے۔ پلیز تمہیں کنوارا اور اچھا لڑکا مل جائے گا تم میرا فادی مجھے لوٹا دو۔ اسے سمجھاؤ شاید وہ تمہاری بات مان کر مجھے واپس گھر لے جائے۔ دیکھو میں تمہارے آگے ہاتھ جوڑتی ہوں۔"
ابرج نے سر پکڑ لیا پھر جلدی سے دروازہ کھولا اور باہر فادی کو بلانے لگی۔ وہ اور اس کی امی باہر خاموش کھڑے تھے۔ وہ فادی کو پکڑ کر کمرے میں لائی۔ پیچھے ہی ماں بھی آ گئی۔
ابرج نے انمول کا ہاتھ پکڑا اور فرہاد کے ہاتھ میں دیتے ہوئے کہا،
"لو محترمہ پکڑو اپنا شوہر۔ ارے بےوقوف لڑکی میں تو فادی کو بھائی سمجھتی ہوں اور وہ تو شادی سے پہلے کے تم سے پیار کرتے تھے اور مجھے بتاتے رہتے تھے۔ میں نے ہی انہیں منع کیا ہوا تھا کہ شادی کے بعد بتانا۔ وہ تو ویسے ہنسی مزاق میں ایسی باتیں کرتے تھے۔ تم اتنا پیار مجھ سے کرتی ہو کہ میرے لیے اپنا گھر تباہ کرنے لگی تھی۔"
فرہاد نے اس کا ہاتھ پکڑا اور بولا،
'پگلی ہو بالکل۔ اسی لیے مجھ سے خفا خفا رہتی تھی۔"
ماں نے ابرج کو بچہ پکڑنے کا اشارہ کیا اور اسے باہر چلنے کا اشارہ کیا۔
ابرج کی ماں نے شوہر کو ساری بات بتائی اور معافی بھی مانگی
"میں سمجھتی تھی کہ میری بیٹی کی مرضی نہیں ہے۔ اس کے ساتھ زیادتی ہوئی ہے۔ اب میں خود اس کو اس کے گھر چھوڑنے جاؤں گی۔"
فرہاد اسے واپس گھر چلنے پر راضی کر کے باہر آیا تو ابرج کی ماں نے اسے کہا،
"بیٹا جو ہوا سب غلط فہمی کی بنا پر ہوا۔ مجھے معاف کر دو۔ میں نے ہی بیٹی کا غلط ساتھ دے کر دونوں گھرانوں کو پریشان کیا۔ اب میں خود انمول کو چھوڑنے جاؤں گی اور اپنی بہو کو گھر واپس لاؤں گی۔ میں سمجھتی رہی میری بیٹی کی مرضی کے بغیر شادی ہوئی ہے۔ یہ نہیں پتا کہ وہ بہن کی محبت میں اپنی محبت قربان کر رہی تھی۔ ابھی تو وہ طلاق لینے کا سوچ رہی تھی شاید اسی لیے کہ بہن کی شادی فادی سے ہو سکے۔"
فرہاد نے سر پکڑ کر کہا
"توبہ ہے۔"
ابرج نے روتے ہوئے اسے گلے لگا کر معافی مانگتے ہوئے کہا،
"انوں مجھے معاف کر دو۔ میں نے تمہارے ساتھ برا رویہ رکھا۔ ارے میں تو فرہاد کے چھوٹے بھائی سے پیا۔۔۔۔"
یہ کہتے کہتے رک کر اس نے ماں کی طرف دیکھا تو ماں اسے حیران نظروں سے دیکھ رہی تھی۔
ماں کو سمجھ تو آ گئی مگر اگنور کرتے ہوئے بولی،
"چلو اب میں بیٹی کو سسرال بھیجنے میں ایک منٹ کی بھی دیر نہیں کروں گی۔"
فرہاد نے کہا،
"آنٹی جی مجھے تو دنیا کی دولت مل رہی ہے، میری محبوب بیوی اور میرا لاڈلا بچہ۔ مگر پہلے مجھے گھر جا کر امی ابو وغیرہ سے بات چیت کرنے دیں پھر عزت سے انمول کا استقبال کریں گے۔ ویلکم کریں گے خوشی منائیں گے زرا صبر کریں۔"
پھر مڑ کر اپنی بیوی سے کہا
"انمول تم اپنا سامان پیک کرو۔"
ابرج نے خوشی سے نعرہ لگایا اور ڈانس کرنے لگی۔ اس کو اندازہ ہو گیا تھا کہ اس کی ماں کو اس کی ادھوری بات سے اس کے پیار کا اندازہ ہو گیا ہے۔ اب امی خود ہی اس کے رشتے کی کوشش کریں گی، اسے اب کچھ کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔
فرہاد نے گھر جا کر جب سب کو ساری بات بتائی اور ساتھ یہ بھی بتا دیا کہ میرا چھوٹا بھائی ایان بھی ابرج کو پسند کرتا ہے اور دونوں شادی کرنا چاہتے ہیں۔
فرہاد کی ماں چپ کر گئی کوئی جواب نہ دیا۔ اس نے فرہاد کی بات پر یقین نہ کیا اور خود سے نتیجہ اخذ کیا کہ اب ان کی اکڑ نکل چکی ہے۔ ہم نے بھی لفٹ نہیں کرائی تو سیدھے ہو گئے ہیں۔
"تم تو بےوقوف ہو ان کی باتوں میں آ کر اسے لانے کی سفارش کر رہے ہو۔ اگر اس کی گود میں میرا پوتا نہ ہوتا تو پھر دیکھتی میں وہ کیسے اس گھر میں قدم رکھتی۔ میری بیٹی کو کیسے ذلیل کیا ہے انہوں نے۔"
فرہاد نے سوچا ماں سے بحث کرنا فضول ہے شکر الحمدللہ کہ وہ انوں کو گھر لانے پر راضی ہیں اور ایان کے رشتے کے بارے میں بھی سنکر کوئی بات نہ کی۔
ایان بھائی کی طرف تشکر بھری نظروں سے دیکھ رہا تھا، جس نے والدین کے سامنے ابرج کے ساتھ رشتے کی بات کر کے اس کے سر سے پہاڑ جتنا بوجھ اتار دیا تھا۔
فرہاد کے والد بہت خوش ہوئے کہ چلو دونوں گھرانے پھر سے ایک ہو جائیں گے اور ان کی بیٹی بھی واپس اپنے گھر چلی جائے گی۔
فرہاد کی بہن خوشی سے بولی،
"اماں میں اپنا بیگ تیار کروں"
تو ماں نے گرج دار آواز سے کہا،
"چپ کر کے بیٹھی رہ۔ میں اتنی آسانی سے تجھے نہیں بھیجوں گی۔"
فرہاد نے بہن کو اشارہ کر کے چپ رہنے کا کہا، پھر اس کے پاس جا کر بولا،
"شکر ہے انوں واپس آ رہی ہے تو رستہ کلیئر ہو رہا ہے تم جلدی نہ کرو۔ سب ٹھیک ہو جائے گا انشاللہ۔"
فرہاد کے گھر میں رونق لگی ہوئی تھی۔ دونوں خاندانوں میں صلح ہو چکی تھی۔
فرہاد کی بہن نے کھیر پکائی تھی۔ سب کھانا کھانے کے بعد ڈائننگ ٹیبل پر بیٹھے کھیر کھا رہے تھے، ساتھ خوش گپیوں میں مصروف تھے۔
ابرج کی ماں کھیر کھاتے ہوئے بولی،
"شکر ہے کافی عرصے کے بعد بہو کے ہاتھوں کا کھانا نصیب ہوا ہے۔"
بہو کو پیار سے مخاطب ہو کر بولی،
'بیٹی جلدی سے گھر واپس آ جا۔ اب تو مجھے اپنے ہاتھ کے بنے کھانے بھی مزہ نہیں دیتے۔ حالانکہ مجھے کسی کے ہاتھ کا کھانا کھبی پسند نہیں آتا تھا۔ جب سے تم نے کھانے کھلانے شروع کیے تو اپنا ذائقہ بھی اب اچھا نہیں لگتا۔ ماشاءاللہ سے اتنا لذیذ بناتی ہو۔"
کھانے کے بعد سب نے قہوہ پیا۔ ابرج خوب چہک رہی تھی۔ بھانجے کو گود میں اٹھاتی کھبی کچن میں جاتی، بھابھی کی ہیلپ کرتی۔ ابرج کا بس نہیں چل رہا تھا کہ وہ بغیر پروں کے اڑنے لگے۔
وہ کھانا سرو کر رہی تھی، برتن سمیٹ رہی تھی۔ اس کا بھائی بھی خوش ہو رہا تھا کہ اس کی بیوی واپس جائے گی۔
فرہاد کے والد ابرج کے والد سے ہنستے ہوئے بولے،
"یار ہم سے زیادہ تو ہمارے بیٹے عقلمند نکلے۔ جنہوں نے آپس میں نہ بزنس الگ کیا نہ دوستی چھوڑی اور نہ ہی کسی سے بھی ناراض ہوئے اور نہ آنا جانا ایک دوسرے کے گھر چھوڑا۔ اگر یہ بھی ہماری طرح بےوقوفی کرتے جیسے ہم نے منہ بنائے رکھا تھا۔" دونوں ایک دوسرے کے ہاتھ پر ہاتھ مار کر قہقہ لگاتے ہوئے بولے۔
"دنیا کو باتیں بنانے کا موقع الگ سے دیا۔ چلو جو ہونا تھا ہو گیا اب ایسا نہیں ہو گا۔ اب ہم اس رشتے کو اور مضبوط کرتے ہیں اور ایان اور ابرج کا رشتہ بھی طے کر دیتے ہیں اور کل ہی سادگی سے نکاح کر دیتے ہیں پھر دھوم دھام سے بعد میں تیاری کر کے شادی کر لیں گے۔"
فرہاد کی ماں نے کوئی اعتراض نہ کیا۔
جب سب کچھ طے ہو گیا تو فرہاد کا باپ جیب سے پیسے نکال کر دینے لگا تو ابرج کے باپ نے اس کا ہاتھ پکڑ کر کہا،
"یار کل دے دینا۔ ابھی ضرورت نہیں ہے۔"
ابرج شرما رہی تھی وہ کمرے میں جا کر بیٹھ گئی تھی۔
ابرج کی ماں نے چلتے وقت بہو سے کہا،
"شازیہ بیٹی بیگ بنا لیا اب چلیں گھر۔"
شازیہ کی ماں نے جلدی سے کہا،
"کل اس کے بھائی کا نکاح ہے یہ کیسے ابھی جا سکتی ہے۔"
تو ابرج کی ماں نے چونک کر دیکھا اسے امید نہ تھی کہ شازیہ کی ماں بیٹی کو روکے گی۔ مگر جب اس کے شوہر نے اشارہ کیا کہ کوئی بات نہیں رہنے دو اور چلو تو وہ جھٹ سے بولی،
"کوئی بات نہیں کل آ جائے گی"
ابرج اور ایان دونوں اپنے نکاح کا سنکر بہت خوش ہوئے تھے۔ فون پر دونوں آدھی رات 🌃 تک باتیں کرتے رہے۔
فرہاد انمول کو اپنے کمرے میں پا کر ڈانس کر رہا تھا۔ بچہ دادی اور پھوپھو کے پاس سو گیا تھا۔ ابرج جب بھی انمول فون کرتی وہ انگیج مل رہا ہوتا۔ فرہاد نے اسے چھیڑتے ہوئے کہا،
"بھول جاؤ بہن کو اب وہ تمہاری نہیں رہی۔ نہ وہ تمہاری طرح بےوقوف ہے جو بہن کے پیچھے اپنا گھر اجاڑنے لگی تھی۔"
انمول نے شرمندگی سے سر جھکا لیا۔ اسے بھی اپنے بیڈ روم میں واپس آ کر سکون محسوس ہو رہا تھا۔
اگلے دن فرہاد کی بہن نے کہا، ہمیں نکاح کا جوڑا خریدنا چاہیے تو اس کی ماں نے سختی سے منع کر دیا
"شادی سے پہلے کچھ خرچہ نہیں کرنا ہے۔ یہ انکا مسئلہ ہے۔"
ابرج کے لیے ایان بازار گیا اور اپنی پسند سے ایک سوٹ خرید کر لے آیا۔ گھر میں فرہاد اور اس کی بہن شازیہ کو پتا تھا۔ ماں سے چھپایا تاکہ کوئی اور مسئلہ نہ ہو جائے۔ ابرج کو بھی بتا کر منع کر دیا۔
اس بات سے ابرج کی ماں کو کچھ دھچکا سا لگا کہ کہیں ایان کی ماں بدلے تو نہیں لے گی مگر بیٹی کی خوشی دیکھ کر خاموش ہو گئی۔ اس سے بڑھ کر اور اچھا رشتہ بھی موجود نہ تھا اور دونوں بہنیں ایک گھر میں رہیں گی، یہ بھی اچھی بات تھی۔
ابرج اکیلی ہی تیار ہوئی کیونکہ گھر میں ماں کے علاوہ کوئی اور عورت موجود نہ تھی۔ ادھر سے ایان کی ماں نے سختی سے کسی کو بھی انوائیٹ کرنے سے منع کیا تھا۔ اس کا حکم تھا کہ صرف ہم دو فیملیز ہوں گی۔ انمول کو بھی آنے کی اجازت نہ دی۔ سب اس کے حکم کو مان رہے تھے۔
گھرکے کھانے کا بھی ایان کی ماں نے آرڈر دیا تھا مجبوراََ ابرج کی ماں کو اور ابرج کو کام والیوں کی مدد سے سارا کھانا تیار کرنا پڑا۔ دونوں کل سے تیاریوں میں لگی ہوئی تھیں۔ ابرج نے بہن کے گھر آ جانے کے بعد کافی کام سیکھ لیا تھا۔ اس میں پھرتی بھی تھی سارے کام جلدی سے نمٹا لیتی تھی۔ ایان کی ماں کو اس کا پتا نہیں تھا۔ وہ اسے ابھی بھی لاابالی لڑکی کی سمجھتی تھی۔ وہ سوچ کر خوش ہو رہی تھی کہ ہم فکس ٹائم پر پہنچ جائیں گے اور ابرج کی ماں نے ابھی کچھ تیاری نہ کی ہو گی۔ اس بہانے اسے نیچا دیکھانے کا موقع مل سکے گا۔ وہ اندر سے اس کی طرف سے بہت بھری ہوئی تھی۔ اس کی وجہ سے وہ اپنے پوتے کی خوشی نہ منا سکیں تھی اس کے دل میں سو ارمان تھے۔ اس نے انمول کو آتے ساتھ کاموں میں لگا دیا تھا۔ اپنی بیٹی کو ہاتھ بھی نہیں لگانے دیا وہ انمول سے بہت معزرت کرنے لگی۔
انمول جانتی تھی یہ سب کیا دھرا اس کا اور اس کی ماں کا ہے۔ وہ اس سلوک کے لیے پہلے ہی سے اپنے آپ کو تیار کر کے لائی تھی کہ اس کی ساس اس کے ساتھ خندق نکالیں گی مگر وہ سوچ کر آئی تھی کہ سب برداشت کرئے گی، اپنے شوہر کے لیے اور اپنے بچے کے لیے۔
اس کی بھابھی شازیہ بہت اچھی تھی اس کے بچے کا بہت خیال رکھتی۔
جب فرہاد لوگ ٹھیک عصر کی نماز پڑھ کر اگئے۔ فرہاد کی ساس نے یہی وقت طے کیا تھا اور ساتھ یہ کہا تھا کہ گھر کا کھانا ہو چاہے ایک ڈش ہو باہر کا ہم نہیں کھا سکتے، ہضم نہیں ہوتا۔
فرہاد کی ماں کا خیال تھا، بوڑھی عورت وہ بھی اکیلی۔ ابرج تو لاڈلی بنی ہے کسی کام کو ہاتھ نہیں لگاتی۔ کیسے ابرج کی ماں اتنے ڈھیر لوگوں کا کھانا بنا سکے گی۔
جب وہ لوگ گھر پہنچے تو ڈائننگ ٹیبل پر برتن سلیقے سے پڑے تھے۔ سلاد بھی سجا ہوا پڑا تھا۔ اس کی ماں نے پیغام بھیجا تھا کہ ہم لوگوں نے ناشتہ کیا ہوا ہے سب کو بھوک لگی ہے جاتے ہیں پہلے کھانا کھائیں گے۔
اس کی حیرت کی انتہا نہ رہی جب ابرج نے سب کو بڑے پر اعتماد طریقے سے سلام کیا۔ اس نے نیا جوڑا زیب تن کیا ہوا تھا۔ ہلکی سی لپ اسٹک اور ہلکی پھلکی جیولری پہنی ہوئی تھی۔ وہ بہت پیاری لگ رہی تھی۔
شازیہ کو گھر میں داخل ہوتے ہی اپنے کمرے کا خیال آیا اور وہ اپنے کمرے میں چلی گئی۔ وہاں اس کا شوہر اس کے لیے بیٹھا ہوا تھا۔ ابرج نے اسے کہا تھا۔ شازیہ کی آنکھیں بھر آئیں اس کے شوہر کی آنکھیں بھی بھر آئیں۔ اتنے میں ابرج نے دروازہ کھٹکھٹایا اور بولی،
"بھائی سب آپ کا پوچھ رہے ہیں۔"
فرہاد کی ماں دیکھ کر حیران رہ گئی کہ کافی کھانے پکے ہوئے تھے اور سب گھر کے تھے۔ کام والی ماسی کو ابرج نے ان کے آنے سے پہلے بھیج دیا تھا کہ سارا کریڈٹ یہ لے لیں گی۔ صرف روٹیاں پکانے باقی تھیں۔
بریانی بھی پکی ہوئی تھی تو فرہاد نے کہا،
"وہ روٹی بازار سے لے آتا ہے"
تو جھٹ ایان کی ماں بولی،
"گھر کی روٹی کھانی ہے"
تو انمول پکانے لگ پڑی۔
شازیہ ہیلپ کرنے لگی تو اس کی ماں نے غصے سے اسے بیٹھے رہنے کا اشارہ کیا اور وہ مہمان بن کر کرسی پر بیٹھ گئی۔
ابرج نے ماں کو بیٹھے رہنے کا اشارہ کیا، ماں بھی کافی تھک چکی تھی۔ جب بیٹھی تو فرہاد کی ماں اس کے تھکن زدہ چہرے کو دیکھ کر مسکرانے لگی۔
کھانے کی اتنی ڈشیں دیکھ کر فرہاد کی ماں حیران رہ گئی اور اس نے پوچھنا گوارا نہ کیا کہ یہ کس نے بنائی ہیں۔ فرہاد بہت تعریف کر رہا تھا اس کے والد بھی بہت خوش ہو کر پوچھنے لگے
"یہ اتنا کچھ اتنے کم وقت میں بھابھی آپ نے کیسے تیار کیا ہے"
تو وہ تھکے لہجے میں بولی،
"ابرج نے بہت ہیلپ کی ہے۔"
فرہاد کے والد ابرج کو شاباش دینے لگے فرہاد بھی اس کی تعریفیں کرنے لگا اور بولا، "ویل ڈن گڑیا۔"
ابرج سارے برتن سمیٹ چکی۔ اس کی بہن ساتھ ہیلپ کرنے لگی۔ وہ برتن دھونے لگی۔
شازیہ جب بھی اٹھنے لگتی ماں اسے گرج کر بٹھا دیتی۔
فرہاد کے والد اور ابرج کے والد دونوں فرہاد کی ماں کے رویے کو سمجھ رہے تھے مگر دونوں ہی بیویوں کے ہاتھوں مجبور تھے۔ اس لیے ایک دوسرے سے سرگوشی میں معزرت کر رہے تھے۔ فرہاد کو اور ایان کو بہت غصہ آ رہا تھا مگر دونوں ماں کے احترام میں بول نہیں رہے تھے۔
فرہاد کے والد اور ابرج کے والد دونوں بہت خوش لگ رہے تھے۔
ابرج کے والد نے فرہاد کی والدہ کو مخاطب کر کے پوچھا،
"بھابھی چائے بن جائے۔"
ابھی وہ جواب دینے لگی تھی کہ فرہاد کے والد گرج کر بولے،
"کمال کرتے ہو یار ہم یہاں کھانے پینے نہیں نکاح کے لیے آئے ہیں۔ پہلے ہی بھابھی نے اتنا اہتمام کر ڈالا۔ وہ تھکی ہوئی ہیں۔ جس کام سے آئے ہیں پہلے وہ کر لیں۔ مولوی صاحب کی دو بار کال آ چکی ہے انہوں نے کہیں اور بھی جانا ہے۔"
انمول کچن میں کام کر رہی تھی تو اس کی ساس بار بار بہانے سے اس کو بلا لیتی تھی۔
ابرج بھی جلدی جلدی کام ختم کرنے کی کوشش کر رہی تھی تاکہ اس کی لاڈلی بہن اور ماں کو آرام ملے۔
نکاح کے وقت ابرج کو ایان کے ساتھ بٹھا دیا گیا تو ساس نے اعتراز کیا کہ ابھی نکاح نہیں ہوا اس لیے میرے پاس بیٹھو۔
ابرج اٹھ کر ساس کے قریب بیٹھ گئی۔ ایان غصے سے پہلو بدل کر رہ گیا۔
جب نکاح ہوا تو مولوی صاحب جلدی میں تھے وہ چلے گئے۔ تو ایان تیزی سے اٹھ کر ابرج کے پاس بیٹھ گیا۔ ماں نے گھور کر اسے دیکھا اور منہ میں بڑبڑانے لگی۔
ایان نے ابرج کو غصے سے کہا،
"یہ گھونگھٹ تو پیچھے کرو۔"
پھر فرہاد کو آواز دے کر بولا،
"فادی بھائی! یار ہماری فوٹو وغیرہ تو بنا لو۔"
فرہاد وڈیو بنانے لگا اس نے انمول سے کہا،
"تم پنکچرز بناؤ۔"
ساس کا منہ بنا ہوا تھا۔ ایان نے سامنے ڈبل صوفے پر ابرج کا ہاتھ پکڑ کر اٹھایا اور بولا، "اب بناو۔ ماما کی وجہ سے پیکچرز خراب ہوں گی منہ بنا کر بیٹھی ہیں"
وہ قدرے دھیمی آواز میں بولا، مگر اس کی ماں نے سن لیا۔ وہ نماز کا کہہ کر وہاں سے اٹھ گئی اور باہر چلی گئی۔
نکاح کے وقت فرہاد کے والد نے سلامی دی مگر فرہاد کی ماں نے نہ دی اور اگنور کیے بیٹھی رہی۔ فرہاد نے بھی اسے سلامی دی۔ جب شازیہ پرس سے پیسے نکالنے لگی تو ماں نے گھورا تو وہ ڈر کر بیٹھ گئی۔
ساس نے واپس جانے کی جلدی ڈال دی کہ گھر جا کر خوشی بھی منانی ہے۔
فرہاد کے والد نے ابرج کے والد سے کہا،
"یار تم سب بھی آ جاؤ شغل میلہ ہو گا"
تو جھٹ سے فرہاد کی ماں بولی،
"یہ لوگ کیسے آ سکتے ہیں بیٹی پیچھے اکیلی ہو گی۔"
فرہاد کے والد بولے،
"وہ بھی ساتھ چلی چلے۔ نکاح تو ہو چکا۔"
فرہاد کی ساس جلدی سے بولی،
"کیسی باتیں کر رہے ہیں وہ بیٹی والے ہیں وہ کیسے آ سکتے ہیں۔"
فرہاد کے والد اور ابرج کے والد دونوں نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا اور آہستگی سے بولے،
"یار ان دونوں عورتوں کو ان کے حال پر چھوڑ دیتے ہیں ایک ٹھیک ہو گئی ہے دوسری بھی وقت کے ساتھ ٹھیک ہو جائے گی انشاللہ۔"
ایان کی شکل بن گئی مگر فرہاد نے کہا،
"میرے بھائی فکر نہ کرو شادی پر ساری کسریں نکال لیں گے شکر کرو نکاح ہو گیا ہے۔ اب چلو خوشی مناؤ۔"
ایان ایک اداس نظر ابرج پر ڈال کر چلنے لگا تو وہ منہ پر ہاتھ رکھ کر ہنسی روکنے کی کوشش کرنے لگی سب نکل گئے تو وہ پھر واپس مڑ کر غصے بولا،
"کیوں ہنس رہی ہو"
تو وہ پھر ہنستے ہوئے بولی،
"تمہاری روتی صورت دیکھ کر۔"
وہ شرمندہ سا ہو کر بولا
"اچھا اب دیکھنا میں کیسے خوش ہو کر جشن مناتا ہوں۔"
ماں نے اسے آواز دی تو وہ تیزی سے اسے مکے دکھاتا چل پڑا اور وہ ہنستی رہی۔
ابرج کی ماں بیٹی کو خوش دیکھ کر خوش ہو گئی۔ کچن میں گئی تو انمول نے وقت نکال کر جلدی جلدی سارے برتن دھو دیے تھے۔
اب انمول کی ساس کے ہاتھوں شامت آنے لگی۔ وہ اسے فون کرنے پر بھی ٹوکتی تو اس نے ماں اور ابرج کو صاف منع کر دیا کہ وہ بسنا چاہتی ہے تو پلیز میں ٹھیک ہوں مجھے فون نہ کیا کریں ویسے بھی سوائے ساس کے فادی، شازیہ اور انکل سب میرے ساتھ ہیں، میری فیور کرتے ہیں۔
ابرج کی ماں اب بیٹی کے فرض سے سبکدوش ہونا چاہتی تھی۔ اس کو یہ بھی تھا کہ ادھر انمول اکیلی ہے ساس کا رویہ بھی اس کے ساتھ اچھا نہیں ہے تو چلو دونوں بہنیں ہوں گی تو دل لگا رہے گا، آسرا ملا رہے گا۔ ویسے بھی وہ شازیہ کو اس بہانے روکے ہوئے تھی کہ ایان کی شادی کے بعد آئے گی۔ چلو اس بہانے بہو جلدی گھر آ جائے گی۔ وہ اکیلی کام کر کے تھک جاتی تھی۔ سارا کام انمول نے سنبھال رکھا تھا۔ اب ابرج بھی اس کی مدد کرتی ہے مگر جب وہ بھی چلی جائے گی پھر وہ کیا کرئے گی بیٹا بھی شازیہ کے بغیر اداس رہتا ہے۔ اس کے آفس کے لیے کپڑے وغیرہ تیار کرنے ہوتے ہیں۔
جب ایان کی شادی کی بات کی تو اس کی ماں جھٹ مان گئی اور دونوں گھرانوں میں شادی کی تیاریاں ہونے لگیں۔ اب ایان چاہتا تھا کہ وہ شادی کے کپڑے ابرج کی پسند سے ساتھ لے جا کر لے، نکاح بھی ہو چکا ہے مگر ایان کی ماں نہ مانی تو ایان نے سوچا صرف چند جوڑے ان کی پسند کے کے لیتے ہیں زیادہ نہیں اور پھر باقی بعد میں وہ اسے ساتھ لے جا کر دلوا دے گا۔
شادی کا پہلا جوڑا ایان نے ابرج سے کچھ آئیڈیا لے کر خود اپنی پسند سے خریدا۔
ابرج اپنے والد کے ساتھ جا کر ساری شاپنگ کر رہی تھی اس کا بھی یہی آئیڈیا تھا کہ باقی سوٹ وہ بعد میں ایان کے ساتھ جا کر خرید لے گی۔
انمول کو ادھر آنے کی بلکل اجازت نہ تھی۔ اس کی ماں ہی بہانے سے جا کر مل آتی تھی اور بیٹی کی نوکروں جیسی حالت دیکھ کر دکھی ہو کر واپس آتی تھی واپس آ کر شوہر سے شکایت کرتی تو وہ اسے ہی مودر الزام ٹھہراتا۔
ابرج ماں کو تسلی دیتی تو وہ ایک سرد آہ بھرکر چپ کر جاتی۔ دل میں غصے سے پیچ و تاب کھاتی رہتی۔
ابرج اور ایان کی شادی بہت دھوم دھام سے منائی گئی مگر ایان کی ماں نے انمول اور شازیہ کو ایک منٹ کے لیے بھی ابرج کے گھر قدم نہیں رکھنے دیا۔ فرہاد نے اور اس کے والد نے بہت سمجھایا مگر وہ مرنے مارنے کی دھمکی دیتی۔
ابرج دولہن ہونے کے باوجود ماں کی ہیلپ کرتی رہی۔ پھر رشتے داروں نے جب باتیں بنائیں ساتھ ہیلپ بھی کی تو ابرج کی ماں کو بہت غصہ آتا رہا۔
ابرج دولہن بن کر ایان کے گھر آئی تو تب بھی ساس کا رویہ اس کے ساتھ ناروا رہا۔
تیسرے دن ہی ساس نے اسے گھر کے کاموں میں لگا دیا۔ دونوں بہنوں کو بات بات پر طنز کرنا اس کا معمول بن گیا۔
ابھی تک اس نے شازیہ کو واپس گھر جانے نہیں دیا۔ سب سمجھاتے رہے مگر وہ اموشنل بلیک میل کرتی رہی۔
شازیہ کا شوہر بھی اب کم آتا کیونکہ اب وہ اسکا آنا بھی پسند نہ کرتی تھی۔
ابرج کی ماں نے بیٹے کو کہنا شروع کر دیا کہ تمہاری دوسری شادی کروانی ہے ویسے بھی وہ اولاد پیدا نہیں کر سکتی بانجھ ہے۔
وہ اب بیٹیوں کو بھی گھر نہ بلاتی نہ ان کی ساس آنے دیتی۔
ابرج کی ماں نے رشتے والی سے رابطہ کیا اور ایک غریب گھر کی لڑکی جو کم عمر اور کافی خوبصورت تھی اس کے والدین فوت ہو چکے تھے ماں کی سہیلی کے پاس رہتی تھی جو اس کی شادی کر کے اس سے جان چھڑانا چاہتی تھی۔
ابرج کے والد سمجھانے لگے مگر وہ دیکھ رہے تھے کہ ان کے دوست کے گھر میں ان کی بیٹیوں کے ساتھ زیادتی ہو رہی ہے تو انہوں نے اجازت دے دی کہ جو مرضی کرو۔
وہ دیکھ رہے تھے کہ ان کی بیوی اکیلی کام کاج کر کے ہلکان ہو جاتی ہے۔ اور دوست اپنی بیٹی کو بھیج نہیں رہا۔ بیٹا الگ پریشان رہتا ہے۔
جب ابرج کی ماں نے لڑکی کو دیکھا جو فوری چٹی اور خوبصورت تھی اس نے جھٹ اس کی ماں کی سہیلی کو معقول رقم دے کر اپنے گھر رکھ لیا۔
بیٹا پہلے تو انکار کرتا رہا جب ماں نے اموشنل کیا تو وہ مجبوری رضامند ہو گیا۔
ابرج کی ماں نے اپنی بیٹیوں تک کو خبر نہ ہونے دی اور اس کا خاموشی سے نکاح کروا دیا۔
بیٹا بھی اتنی خوبصورت اور جوان لڑکی کو پا کر خوش ہو گیا۔
وہ لڑکی جس کا نام رانی تھا وہ کافی سمجھدار تھی۔ وہ شوہر کی بہت دلجوئی کرتی کہ وہ اس کے پیار سے پگھلنا شروع ہو گیا۔ اب وہ اس کے ساتھ خوش رہنے لگا کیونکہ وہ اس کی ماں کی پسندیدہ بہو تھی جو ساس سسر کی بہت خدمت کرتی۔
جب شازیہ نے نکاح کا سنا تو بہت روتی رہی ۔اس کی نندیں الگ پریشان ہو گئیں کہ اب نہ جانے ان کی ساس ان کے ساتھ کیا سلوک کرتی ہے۔
ساس بیٹی کے آنسو دیکھ کر پچھتانے لگی جب بیٹی نے کہا، اماں جب کوئی جگہ خالی ہو جائے اور کوئی انسان جائے نہ جائے جنات وہاں بسیرا کر لیتے ہیں جگہ خالی کھبی نہیں رہتی۔ آپ نے میری جگہ خالی کروائی تو وہ جگہ سوکن نے کے لی۔ اب اگر مجھے وہاں جانے دیتیں تو میرا شوہر اور میری ساس نے کھبی مجھے بچہ نہ ہونے کا طعنہ نہیں دیا تھا۔ آپ کو پتا تھا کہ میں بانجھ ہوں آپ کے ساتھ جا کر کتنی بار خفیہ ٹیسٹ کروا چکی ہوں۔ نقص مجھ میں ہے شوہر میں نہیں مگر پھر بھی آپ اکڑی رہیں یہ تو دیکھتیں کہ شکر ہے بیٹی کو وہ لوگ اپنے گھر میں رکھے ہوئے ہیں۔
اس کی بانجھ والی بات سنکر اس کی نندیں حیران رہ گئیں۔ ساس نے چور نظروں سے بہوؤں کو دیکھا اور دل میں فیصلہ کر لیا کہ وہ اب بیٹی کو بھیج دے گی اور بہوؤں سے اچھا سلوک کرئے گی۔ وہ دل میں پچھتانے لگی۔ کیونکہ ابرج کی ماں نے مٹھائی بھجوائی تھی کہ ان کی بہو امید سے ہے اور خیر سے پانچواں مہینہ چل رہا ہے۔
اب شازیہ کو اپنا گھر اجڑتا نظر آنے لگا۔ وہ رو رو کر منتیں کر رہی تھی کہ اسے واپس جانا ہے۔
فرہاد اور ایان بھی ماں کو مود الزام ٹہرا رہے تھے۔ شوہر الگ چیخ رہا تھا کہ تم نے میری بیٹی کا گھر برباد کر دیا اپنی بے جا ضد میں۔
وہ مجرم بنی سر جھکائے اپنی غلطی پر نادم تھی اور اس سے کہہ رہی تھی
"اب جو ہونا تھا ہو چکا وہ لڑکی اب ساری عمر کے لیے قسمت میں لکھی جا چکی ہے۔ اب ہم واویلا مچائیں گے تو کچھ حاصل نہ ہو گا ہمیں اس کو بھی کھلے دل سے قبول کرنا پڑے گا تاکہ تمہاری ساس کا دل نرم پڑ سکے اور وہ شازیہ کو اپنے گھر میں جگہ دے سکے۔"
نندیں خاموش تھیں اور اندر سے بھائی کے لیے بہت خوش ہو رہی تھیں کہ اتنے عرصے کے بعد اس کے گھر اولاد کی خوشی ہونے والی ہے۔
فرہاد کے والد نے دوست کو فون کیا اور ریکوسٹ کی ساری بات بتا کر کہا کہ شازیہ کو گھر واپس رہنے کی اجازت مل جائے۔
ابرج کے والد نے بیوی سے بات کی تو وہ بولی،
"ٹھیک ہے اگر رانی کو اعتراض نہ ہو اس وقت اس گھر میں اس کی دیکھ بھال کے لئے ایک عورت کی ضرورت ہے اگر شازیہ اس کو تنگ نہ کرئے اور اس کا خیال رکھے تو مجھے کوئی اعتراض نہیں۔"
شازیہ اور اس کی ماں نے شکر کیا کہ ابرج کی ماں مانی تو۔
فرہاد نے کہا، ہم سب جائیں گے اور تحفے اور مٹھائی لیکر جائیں گے رانی کو سلامی اور گفٹس بھی دیں گے۔
ماں نے کہا،
"ابھی تحفے خریدنے کا وقت نہیں ہے۔ صرف مٹھائی وغیرہ لے لیتے ہیں اور سلامی دے دیں گے۔ تمہاری بہن اپنے گھر جانے کے لیے بے چین ہو رہی ہے۔"
ابرج کے سسر نے دوست کو فون کر دیا تھا اور وہ لوگ آ رہے تھے۔
رانی نے ساس سے کہا
"ان کی آؤبھگت کے لیے کیا پکانا ہے"
تو ساس نے غصے سے کہا،
"کچھ بھی نہیں باہر سے منگوا لیں گے۔ بس کولڈ ڈرنکس پلا دینا۔"
فرہاد وغیرہ سب جب پہنچے دوسرے گھر ہی تو جانا تھا فوراً پہنچ گئے تھے۔ فرہاد اور ایان مٹھائی وغیرہ پہلے ہی لے آئے تھے۔ ساس نے ان سب کو ڈرائینگ روم میں بٹھایا۔
بیٹیوں کو بھی ادھر ہی بیٹھنے کا اشارہ کیا۔ بیٹیاں ماں کے لیے ترسی ہوئی تھیں مگر ماں نے سرسری سا ان سے ہاتھ ملایا اور سب کے ساتھ اسی سرد مہری سے ملی۔
تھوڑی دیر بعد رانی اور اسکا شوہر اندر داخل ہوئے۔ جوش سے بہنیں اور شازیہ آٹھ کھڑے ہوئے۔ لڑکے کھڑے ہوئے اور ابرج کے بھائی سے گلے ملکر مبارک باد دی۔ دونوں دوست بھی گلے ملے اور ایک دوسرے کو مبارکباد دی۔ ابرج اور انمول دوڑ کر رانی کے گلے لگ گئیں اور بڑے جوش اور محبت سے بولیں،
"امی یہ تو بہت پیاری سی ہے۔"
شازیہ بھی مروت میں اٹھی اور اس کو گلے لگ کر آنکھوں سے آنسو بھر کر مبارک باد دی۔ اور شوہر کو بھی دکھی نظروں سے دیکھا اور مبارکباد دی۔ شوہر نظریں چرانے لگا۔
ابرج کی ساس نے اٹھ کر رانی اور اس کے شوہر کو مبارکباد دی اور سلامی پکڑائی۔
ابرج کے سسر اور فرہاد اور ایان نے بھی سلامی دی۔ بہنوں نے بھی ان کے شوہروں نے پیسے پکڑائے تو انہوں نے رانی کو پکڑا دیے۔
پھر ابرج کی ساس ابرج کی ماں کے پاس آئی اور پاس کھڑی ہوئی وہ ہنوز اکڑی بیٹھی رہی۔ ابرج کی ساس نے کہا،
"بہن بہت مبارک ہو۔ جو سب ہوا کہا سنا معاف کرنا۔ اب شازیہ ادھر ہی رہے گی۔ اور دونوں بہنیں بھی آج بھائی کی خوشی میں ادھر ہی رہیں گی چاہے جتنے دن مرضی رہیں۔"
جب وہ اکڑی رہی تو ابرج کے والد نے بیوی کو غصے سے دیکھا تو وہ تب اٹھی اور مروت میں گلے ملی اور شکریہ کہا اور بولی،
'بیٹھیں ادھر میرے پاس۔"
ابرج کی ساس خوشی سے پاس بیٹھ گئی اور بیٹی کو اشارہ کیا تو شازیہ پاس آئی اور ساس سے بولی،
"آنٹی مجھے معاف کردیں۔"
اس کی ماں جلدی سے بیٹی کی صفائی میں بولی،
"اس کا قصور نہیں ہے اس کی بھابیاں گواہ ہیں میری ہی عقل پر پردہ پڑا گیا تھا۔"
پھر ایک سرد آہ بھر کر بیٹی سے بولی،
"ساس کے پاؤں پکڑو۔"
ایکدم ابرج کے والد اٹھے اور اس کو پیچھے کرتے ہوئے بولے،
"نہیں بیٹا تم بھی ہماری بیٹی ہو۔ تمہارا بھی حق اتنا ہی ہے جتنا رانی کا ہے"
پھر بیٹے اور رانی سے مخاطب ہو کر بولے،
"شازیہ کو بھی برابر کا مقام ملے گا۔ ایک ویک یہ شازیہ کے ساتھ رہے گا اور ایک ویک رانی کے ساتھ۔"
ابرج کا بھائی بولا،
'جی ابا جی ایسا ہی ہو گا برابر مقام ملے گا۔"
شازیہ کے دل کو ٹھیس لگی اب اسکا شوہر آدھا اسے ملے گا۔
رانی جوس لے آئی اور چائے بنانے لگی تو اس کی ساس نے شازیہ سے کہا
'جاؤ اب تم کچن میں جاؤ۔ اس کو ریسٹ دو۔ وہ امید سے ہے۔"
شازیہ جلدی سے اٹھ گئی۔ ساتھ نندیں بھی اٹھ گئیں۔
لڑکے بازار سے کھانا وغیرہ لے آئے اور ابرج کے والد نے کہا،
"اب درمیان سے دروازہ کھلا رہے گا کسی کو گھوم کر باہر سے نہیں آنا پڑے گا۔ سب پہلے کی طرح ایک دوسرے کے گھر آیا جایا کریں گے۔"
دروازہ کھول دیا گیا جو کافی عرصے سے بند تھا۔
شازیہ کو اپنا پرانا بیڈ روم ہی ملا۔ اس کی ساس نے اپنے برابر والا کمرہ رانی کو دیا اور شازیہ سے بولی،
"اس نے خود یہ کمرہ چنا ہے میں تو اسے تمہارے والا کمرہ دے رہی تھی۔ تمہارے آنے کی کوئی امید نہ تھی مگر رانی بولی، میں خود آپی کو منا کر لاؤں گی پہلا حق ان کا ہے میں ان کا کمرہ نہیں لے سکتی۔ اس نے میرا دل جیت لیا ہے۔"
رانی نے دو جڑواں بچوں ایک بیٹا اور ایک بیٹی کو جنم دیا تو ساس نے بیٹی شازیہ کے حوالے کر دی اور پوتے کو اٹھا کر چومنے لگی۔
بہت خوشی منائی گئی۔ سارے خاندان کو بلا کر حقیقہ کیا گیا۔
وقت گزرنے لگا۔ دونوں عورتوں میں پہلے جیسی محبت اور دوستی نہ رہی۔
شازیہ سب برداشت کرتی۔ اس نے محسوس کیا کہ اسکا شوہر رانی کی زیادہ طرف داری کرتا ہے اس نے اسے دو بچے جو دیے۔
رانی بہت اچھی تھی وہ شازیہ سے بہت پیار سے پیش آتی۔ اپنی بیٹی کو اس نے پکا سونپ دیا تھا۔ دادی ہوتی کی طرف دھیان نہ دیتی اسے پیار نہ کرتی۔ باپ بھی زیادہ بیٹے کی طرف متوجہ ہوتا۔
رانی زبردستی شوہر کو شازیہ کے پاس بھیجتی تو اسے رانی کی فکر ہی لگی رہتی کہ بچہ کیا کر رہا ہو گا۔
شازیہ نے رانی کو اپنی قسم دے کر کہا، کہ تم نے جو مجھے بیٹی کا تحفہ دیا ہے وہ میرے لیے بہت بڑا آسرا ہے تم اب دل شوہر کو سنبھالو۔ میں نے اس کے ساتھ کافی وقت گزارا ہے ان مجھے صرف بیٹی کی ضرورت ہے۔
شوہر نے بھی شکر کیا اور شازیہ کی طرف سے لاپرواہ ہوتا گیا۔
شازیہ اپنی بیٹی کے ساتھ بہت خوش رہتی۔
ابرج کے ہاں ایک بیٹا اور ایک بیٹی نے جنم لیا۔ جبکہ انمول کا صرف ایک ہی بیٹا تھا۔
فرہاد اور ابرج کے بھائی نے بزنس بڑھا لیا اور اتفاق سے اسے چلتے رہے۔
لوگ ان کے اتفاق کی مثالیں دیتے تھے کہ کیسے وہ ایک ہو کر کام کرتے ہیں ایسے تو سگے بھائی بھی نہیں رہتے۔
ابرج کے ہاں تیسرا بچہ ہونے والے تھا۔ اس کا مس کیرج ہو گیا۔
اس کی دوائی ختم ہو گئی تو اس نے ایان کو فون کیا کہ دوائی لے آنا ایان نے اس کے بھائی سے کہا
"آپ گھر جا رہے ہیں تو دوائی بھی لے آنا۔"
اتنے میں انمول نے فرہاد کو کال کی
"بچے کے اسکول میں فنکشن ہے تو اس کے کپڑے آج لازمی لانے ہیں"
وہ بولا،
"میں تو آج بہت مصروف ہوں۔"
ابرج کا بھائی پاس کھڑا تھا بولا،
"چلو میں اس کو مارکیٹ کے جاتا ہوں تم فکر نہ کرو۔"
ایان اور فرہاد نے آج کسی سے ملنا تھا بزنس کے سلسلے میں۔
انمول کو فرہاد نے بتا دیا کہ بھائی کے ساتھ چلی جانا۔ وہ اس کے ساتھ مارکیٹ چلی گئی۔
ایک گھنٹہ گزر گیا تو ایان نے ماں کو کال کی کہ ابرج کے بھائی اور انمول کا ایکسیڈنٹ ہو گیا ہے اور وہ دونوں جاں بحق ہو گئے ہیں۔
ماں نے سینہ پیٹ لیا۔ فرہاد کے ابو اپنے دوست کو سنبھالنے میں لگ گئے۔ ابرج کی ساس روتی ہوئی شازیہ کی ساس کو سنبھال رہی تھی۔ جس کے دو بچے ایک بیٹا ایک بیٹی اکھٹے چلے گئے۔
ابرج کی ماں رانی کو کوسنے دینے لگی کہ یہ منحوس ہے جس کے آتے ہی میرے دو بچے اس دنیا سے چلے گئے۔
ابرج کا برا حال تھا اسے ہسپتال داخل کروا دیا۔
شازیہ شوہر کے غم سے نڈھال ہو رہی تھی۔ رانی کا بھی بہت برا حال تھا وہ کہہ رہی تھی اب وہ کس کے سہارے رہے گی۔
ابرج کو رشتے دار دیکھ رہے تھے۔ فرہاد انمول کی چارپائی کے پاس بیٹھا داڑھیں مار کر رو رہا تھا اس کا بچہ ماں کو پکار رہا تھا۔ ہر آنکھ اشک بار تھی۔
وقت بڑا مرہم ہے زندگی معمول پر آ گئی تھی۔ رانی کا جینا ساس نے حرام کر رکھا تھا۔ اب تو وہ پوتی پر بھی فدا ہونے لگی کہ یہ میرے بیٹے کی نشانی ہے۔
رانی نے شکر کیا تھا کہ دادی نے کم سے کم اس کے بچوں کے ساتھ برا سلوک نہیں کیا۔
ساس بچوں کو رانی کو نہ ملنے نہ دیکھنے دیتی تھی۔
ایک کمرے میں بند رہتی اور روتی رہتی۔ اس کا کوئی آسرا نہ تھا ماں کی جو سہیلی تھی پتا چلا کہ اس کو ساس نے اپنے گھر دوبارہ آنے سے سختی سے منع کر دیا تھا۔ اس کے بعد وہ آئی بھی نہ تھی۔ رانی نے شازیہ کو بتایا تھا کہ وہ عورت اس کی ماں کی سہیلی نہیں تھی بلکہ ان کی ملازمہ تھی پھر اس کے والد کا بزنس میں دیوالیہ ہو گیا اور یکے بعد دیگرے دونوں اس غم سے چلے گئے۔ رانی کے پاس کچھ بھی نہ بچا تھا نہ جیولری نہ بینک بیلنس نہ ہی جائیداد تھی۔ اس ملازمہ نے ان کے اچھے سلوک کی وجہ سے اس کو سہارا دیا تھا۔ اس کی ماں بہت ڈرتی تھی کہ جن لوگوں نے دیوالیہ کیا ہے وہ اس کو بھی نہ کوئی نقصان پہنچا دیں اس لیے مرنے سے پہلے ماں نے اسے کہا تھا کہ جو بھی کوئی مناسب رشتہ ملے فوراً شادی کر کے محفوظ ہو جانا۔ کسی کو نہ بتانا کہ تم اتنا پڑھیں لکھی ہو۔
شازیہ نے یہ ساری باتیں ابرج کو بتا دیں تو وہ بہت خوش ہوئی کہ چلو اچھا ہے پڑھیں لکھی ہے۔ دونوں نے سوچا کہ فرہاد کی ماں اس کی دوسری شادی کے پیچھے پڑی ہے اور وہ مسلسل انکار کر رہا ہے۔ رانی سے فرہاد کی شادی کروا دیں اس کو بھی سہارا مل جائے گا اور رانی کی ساس کے ظلم سے جان بھی چھوٹے گی۔
ان دونوں نے بہانے سے رانی کو اپنے کام کاج کے لیے گھر بلایا۔
ابرج کی ساس کو بھی اس بات پر اعتراض نہ ہوا کیونکہ انمول کے جانے کے بعد ابرج کے دو بچے اور گھر کے کام کاج پھر انمول کا بچہ بھی جسے اسکول بھیجنا ہوتا تھا۔
رانی کو اپنے بچوں کے معاملے میں شازیہ پر مکمل بھروسہ تھا۔ دونوں اسے ہی ماں کہتے تھے۔
رانی ابرج کے گھر آئی تو اس نے گھر کے کافی کام سنبھال لیے اور فرہاد کے بچے کو اپنے پاس سلانا اس کو تیار کر کے اسکول بھیجنا۔ اس کو ہوم ورک کرانا۔ پھر ابرج کی ساس کی بھی خدمت کرنا جس سے وہ رانی کو اب اچھے طریقے سے بات کرنے لگی تھی۔
شازیہ دن میں کافی بار چکر لگاتی ماں کے سامنے رانی کی تعریفیں کرتی۔ جب اس نے ماں کو فرہاد کی رانی سے شادی کرانے کا مشورہ دیا تو اس کی ماں بھڑک اٹھی کہ میرے شہزادے جیسے بیٹے کے لیے ایک کام والی ہی رہ گئی تھی ابھی بھی خاندان میں کتنے لوگ مجھے فرہاد کے رشتے کے لیے پیغام بھجوا چکے ہیں۔ یہ گھر کے کام کاج کے لیے تو گھر میں رکھی جا سکتی ہے مگر گھر کی مالکہ بہو کا درجہ نہیں دیا جا سکتا۔ پھر وہ طنزیہ بولی،
"تمہاری ساس ہی کا یہ لیول ہو گا میرا نہیں ہے۔"
اتفاق سے فرہاد نے یہ سب سن لیا اور رانی کو کمرے میں روتے جاتے دیکھا تو اس نے ماں سے کہہ دیا
"مجھے اپنے لیے بیوی نہیں اپنے بیٹے کے لیے ماں چاہیے اور رانی سے بڑھ کر کوئی اور عورت اس کا خیال نہیں رکھا سکتی۔"
پہلے تو ماں نہ مانی شازیہ اور ابرج نے رانی کے بارے میں کچھ نہ بتایا۔
پھر سب کے سمجھانے پراور ابرج کے والد نے بھی بہت سمجھایا کہ دونوں ایک دوسرے کے لیے مناسب ہیں۔ تب وہ مان گئی۔
سادگی سے چند رشتےداروں کی موجودگی میں نکاح ہو گیا اور فرہاد کے باپ اور ابرج کے والد نے ان دونوں کو زبردستی شمالی علاقہ جات کی سیر کو بھیج دیا۔ ایان نے تسلی دی کہ وہ آفس کا نظام سنبھال لے گا۔
رانی نے بچے کو بھی ساتھ لے جانے کی ضد کی جس سے فرہاد کا دل بہت خوش ہو گیا اور وہ بچے کو بھی ساتھ لے گئی۔ اپنے بچوں کو چھوڑ گئی جو اب شازیہ کو ہی اپنی ماں سمجھتے تھے۔ ابرج بھی ان پر جان دیتی تھی ۔
دونوں پورا مہینہ ادھر رہے۔ رانی کو وہاں پرانے ملنے والے مل گئے تو فرہاد کے سامنے اس کی حقیقت سامنے آ گئی۔ وہ خوش ہو گیا کہ اس کے بچے کو ایک پڑھی لکھی ماں مل گئی جو اس کے ہوم ورک میں مدد کر سکتی ہے۔ وہ کھبی سوچتا کہ یہ اسے ہوم ورک کیسے کراتی ہے پھر سوچتا ابرج سے مدد لیتی ہو گی۔
رانی بچے کا ایسے خیال رکھتی تھی جیسے اپنا بچہ ہو۔
اس نے فرہاد کو جب پہلی بار دیکھا تھا تو دل میں خواہش مچلی تھی کہ کاش اس دوسرے کی جگہ اس سے شادی ہوتی تو پھر اس نے اپنی خواہش کو دبا کر قسمت کا فیصلہ قبول کر لیا اور شوہر کی جی جان سے قدر کرنے لگی کہ اس کے علاوہ اس کا کوئی سہارا نہیں ہے۔
فرہاد بھی رانی کی سمجھداری سے بہت متاثر ہوا تھا اور اس کے ساتھ خوش رہنے لگا تھا کھبی کھبی اسے انمول بہت یاد آتی تو وہ اس کی قبر پر چلا جاتا۔ اسے اپنا بھائی جیسا دوست اور پارٹنر انمول کا بھائی بھی بہت یاد آتا۔
دونوں کی قبریں پاس پاس تھیں۔ وہ کی بھر کر روتا اور کی ہلکا ہو جاتا تو گھر واپس آ جاتا۔
رانی بہت سمجھدار تھی وہ اسے انمول کی تصویر بھی کمرے سے ہٹانے نہ دیتی تھی۔ رانی کے ساتھ اب وہ خوش رہنے لگا تھا اور کھبی کبھار اس کو باہر گھمانے اور کھانا کھلانے بھی لے جاتا تھا۔ وہ بچے کو ہمیشہ ساتھ رکھتی۔
اپنے بچوں سے فالتو بات نہ کرتی ضبط کرتی رہتی۔ فرہاد اسے اب سمجھاتا کہ وہ بھی اب ہمارے بچے ہیں۔ شازیہ کو بھی سمجھاتا کہ وہ ماں ہے اور اس پر اتنا جبر کرنا مناسب نہیں۔
شازیہ کو بھی اعتراض نہ تھا کہ آخر رانی ہی ان کی ماں ہے۔ جب رانی کی حقیقت سب کو پتا چلی تو سب بہت خوش ہوئے۔
فرہاد نے کہا،
"مجھے اس کے غریب ہونے سے کوئی فرق نہیں پڑتا تھا مگر اس بات کی زیادہ خوشی ہے کہ رانی پڑھی لکھی ہے اور بچے کی تربیت بہتر کرئے گی۔"
جب رانی کی حقیقت ابرج کی ماں کو پتا چلی تو وہ بہت پچھتائی کہ اس کو رانی کے جانے کا صدمہ لگ گیا کہ وہ ایک پیرے کو کھو چکی تھی۔
فرہاد اب بچوں کو بھی رانی کے پاس رکھتا کہ ماں سے دور کرنا مناسب نہیں۔ وہ اب تینوں بچوں سے برابر سلوک کرتی۔ ابرج اور ایان ملک سے باہر شفٹ ہو گئے۔
شازیہ کے ساس سسر یکے بعد دیگرے بچوں کے غم سے جلدی فوت ہو گئے۔
شازیہ کو فرہاد اپنے گھر لے آیا۔
شازیہ کو بیٹی سے بہت لگاؤ تھا وہ اس کے ساتھ زیادہ وقت گزارتی۔
بچے جوان ہو گئے۔ فرہاد رانی کو دیکھتا تو سوچتا کہ قسمت سے اسے اچھی بیوی مل گئی اس کی اور اس کے بچے کی دنیا سنور گئی ہے۔
رانی اپنے رب کا شکر ادا کرتی کہ اسے بہترین سہارا ملا ہے۔
رانی اپنے بچوں کو دیکھتی فرہاد کو دیکھتی تو سوچتی کہ کسی نیکی کے صلے میں اسے یہ سب ملا ہے وہ اپنے رب کا شکر ادا کرتی نہ تھکتی۔
ابرج ایان کو منا کر ملک سے باہر شفٹ ہو گئی کیونکہ اسے اپنی بہن انمول اس وقت زیادہ یاد آتی جب وہ رانی کو فرہاد کے ساتھ ہنستے مسکراتے دیکھتی۔
وہ سوچتی کیسے فرہاد انمول کا دیوانہ تھا اور اب تو اس نے اس کی قبر پر بھی جانا چھوڑ دیا ہے اپنی دنیا میں مگن ہو گیا ہے۔ انمول کی تمام تصویریں گھر سے اپنے کمرے سے ہٹا دی تھیں۔ بہانہ یہ کیا تھا کہ اس سے انمول بہت یاد آتی ہے۔ حالانکہ اب یہ سچ نہ رہا تھا۔ وہ رانی کے ساتھ بہت خوش تھا۔
شازیہ کی شادی کسی بوڑھے سے کر دی گئی تھی جس کی بیوی فوت ہو چکی تھی اور بچے شادی شدہ تھے۔
رانی کو شازیہ بوجھ لگنے لگی تھی۔ ساس سسر کی وفات کے بعد وہ اپنی من مانی کرنے لگی تھی۔ فرہاد اس کی ہر بات مانتا تھا۔
ایان نے باہر نوکری تلاش کر لی تھی کیونکہ رانی اب حساب کتاب رکھنے لگی تھی۔
ابرج نے بھی باہر نوکری کر لی تھی۔ انہوں نے وہاں اپنا چھوٹا سا بزنس شروع کیا جو جلد ترقی کر کے بڑا ہو گیا اور وہ دولت میں کھیلنے لگے۔
ابرج نے شازیہ کو بھی اپنے پاس بلا لیا کیونکہ اسکا بوڑھا شوہر فوت ہو گیا تھا اور اس کے بچوں نے اس کا جینا حرام کر دیا تھا۔
بچے بڑے ہو چکے تھے۔
ابرج اب پردیس سے اکتا چکی تھی۔ کیونکہ اب وہ اس قابل ہو چکی تھی کہ پاکستان میں اپنا کاروبار سیٹ کر سکے۔
جب وہ لوگ پاکستان واپس آئے تو رانی کا رویہ ان کے ساتھ سرد ہو گیا۔ اس کو پتا چلا کہ وہ مستقل آ گئے ہیں اس کو فکر لگ گئی اب شاید یہ جائیداد سے حصہ بھی مانگیں گے۔ شازیہ کا بھی حصہ بنتا تھا۔ اب فرہاد اکیلا ہو گیا تھا تو اس کا کاروبار بھی مانند پڑ رہا تھا بمشکل گزارا ہو رہا تھا۔ فرہاد بھی بیوی کی زبان بولنے لگا تھا۔
ابرج نے ایان سے کہہ کر بنا بنایا گھر خرید لیا اور فرہاد اور رانی کو سبق سکھانے کے لیے ان سے جائداد سے مقدمہ کر کے حصہ لے لیا اور شازیہ کو بھی دلوا دیا۔ وہ گھر بک گیا۔
پوش علاقے میں ابرج نے گھر لیا۔ شازیہ کو بھی اپنے پرانے محلے دار مل گئے انہوں نے اپنے بیٹے کے لیے اسکا رشتہ کر لیا۔ بیٹا طلاق یافتہ تھا۔ انگریز سے شادی کی تھی جو چل نہ سکی۔ شازیہ اس کی ہم عمر تھی۔ دونوں بہت خوش تھے۔
شازیہ رانی کے بچوں کو بہت چاہتی تھی خاص طور پر بیٹی کو جس کو اس نے پالا تھا۔ بعد میں رانی نے اس سے واپس لے لی تھی۔
ابرج کے بیٹا اور بیٹی جوان تھے اور بہت پڑھے لکھے اور سلجھے ہوئے بچے تھے۔
فرہاد نے ایک چھوٹا گھر خرید لیا تھا اور ایک کریانے کی شاپ ڈال کر بمشکل گزارا کر رہا تھا۔ رانی نے ٹیوشن پڑھانی شروع کر دی تھی۔ بہت تنگی والے حالات سے گزر رہے تھے۔
ابرج نے ان سب کی دعوت کی اپنے گھر بلایا اس کا گھر دیکھ کر وہ دنگ رہ گئے۔ اندر سے ناراض تھے مگر رانی نے فرہاد کو ناراض نہیں رہنے دیا، جانتی تھی وہ امیر ہیں اور ان سے میل ملاپ سے فائدہ ہی ملے گا۔ کیونکہ وہ باہر ملک سے ان کے لیے ڈھیروں تحفے لائے تھے مگر اس وقت رانی کو ان کی قدر نہ تھی اب اپنے رویے پر پچھتا رہی تھی کہ کاش وہ انہیں اچھی طرح ویل کم کرتی تو شاید وہ گھر سے حصہ نہ مانگتے۔ اسے اندازہ ہو گیا تھا کہ وہ اس سے بدلہ لے رہا تھا۔
پھر ان لوگوں کا میل ملاپ بڑھا اور جب ابرج نے فرہاد کے بچوں کے ساتھ اپنے بچوں کے رشتے کی بات کی تو وہ رونے لگے اور معافی مانگنے لگے کہ ہم نے آپ کے ساتھ برا سلوک کیا آپ کو گھر سے جانے کا کہا۔
ابرج اور ایان نے انہیں معاف کر دیا اور ان کے بچوں کے ساتھ اپنے بچوں کی شادی اس شرط پر رکھی کہ آپ دونوں بھی ہمارے ساتھ ہی رہیں گے ہم نے بڑا گھر اسی لیے لیا تھا کہ اکھٹے رہیں اور اکھٹا کاروبار کریں۔ آپ ہمارے ساتھ کاروبار میں بھی شامل ہوں گے۔ ہم دو سے گیارا بن جائیں گے مضبوط ہو جائیں گے۔
فرہاد نے حامی بھر لی۔
بچوں کی شادیاں ہو گئیں اور سب اکھٹے رہنے لگے۔ رانی بار بار اپنی کوتاہیوں کا ذکر کرتی اور معافی مانگتی۔
ایک دن رانی اچانک چل بسی۔ فرہاد اب رانی کو کم یاد کرتا اور انمول کو زیادہ ۔
وہ کہتا انمول نے کھبی مجھے کسی کے خلاف نہیں بھڑکایا تھا وہ بہت نیک تھی۔
اس نے اس کی اور اپنی فوٹو واپس اپنے کمرے میں لگا لی۔
رانی کے بچے باپ سے بہت پیار کرتے تھے کہتے تھے کہ انہوں نے ہمیں آگے باپ کی طرح پالا ہے۔ وہ ماں سے نالاں تھے کہ ابرج آنٹی اور ایان انکل کو گھر سے کیوں نکالا تھا۔
ابرج سوچتی کہ اس سے فرہاد کے ساتھ رانی برداشت نہ ہوتی تھی کہ اس کا سلوک اچھا نہ رہا تھا۔ وہ ان کی قدر نہ کر سکی۔
ابرج بہن کو یاد کر کے تڑپ جاتی تھی۔ شازیہ آتی تو اس کو تسلی دیتی رہتی۔
ابرج کے دل کو تب سکون ملا جب انمول کے بیٹے کے ہاں بیٹے نے جنم دیا۔ وہ خوشی سے نہال ہو کر سارے غم بھول گئی۔ اس کو بھائی کی یاد بھی ستاتی مگر بہن سے اس کی دوستی بہت تھی۔ بچپن سے ایک کمرے میں رہتی تھیں۔ پر وقت کا ساتھ تھا۔
فرہاد نے بھی اب بچوں کے بچوں کے ساتھ دل لگا لیا تھا۔بچوں نے کاروبار سنبھال لیا تھا اب ایان اور فرہاد ہر وقت گھر پر وقت گزارتے۔ چیس کھیلتے اور دوستوں کی طرح رہتے۔
ابرج بیٹھی سوچنے لگی۔ وقت کیا کیا کروٹ لیتا ہے۔ میری ماں نے ایک گھر میں بیٹیاں بیاہیں تاکہ وہ ساتھ رہیں تو قسمت کو کچھ اور منظور تھا انسان کچھ اور پلان بناتا ہے مگر خدا کے کچھ اور پلان ہوتے ہیں اور قسمت انسانوں کے بنائے پلان پر مسکرا رہی ہوتی ہے ۔
The end
عابدہ ذی شیریں
ناول اختتام پذیر ہوا
You've reached the end of this journey. We hope you loved every episode!

Reader Comments
No comments yet. Be the first to share your thoughts!
Log in to leave a comment.