Aitram-e-Mohabat
4 Episodesتیسرا حصہ - Part 3
شفق بہت اچھی بچی تھی ۔ اسے گھر میں بوریت محسوس ہوتی اور اسے دادا دادی کا پورشن اچھا لگتا۔ وہاں اس کا خوب دل لگتا۔ وہ اب زیادہ وقت ادھر گزارتی۔ تو دادا دادی اور تایا تائی بھی اسے پیار کرنے لگے کیونکہ وہ والدین سے بہت مختلف تھی۔ بہت اچھی نیچر کی تھی۔ اس کی اسی نیچر کی وجہ سے دادا دادی کا دل پسیج گیا۔
وہ دادی کے چھوٹے چھوٹے کام کر کے دیتی۔ جبکہ بڑی بیٹیاں زیادہ نہ کرتیں۔ کیونکہ ان کی سگی ماں جب بھی موقع ملتا ان کو تائی تایا کے خلاف کرتی رہتی۔ وہ شروع سے ہی اپنی بڑی بہن سے جلتی تھی کیونکہ والدین کی وہ خدمت گزار تھی وہ اس کی تعریفیں کرتے اسے کوستے مگر وہ ڈھیٹ تھی زرا نہ سنتی۔ اس کے دل میں بچپن سے بڑی بہن کے لیے نفرت بھری تھی کہ سب اسے پیار کرتے اور اس کے گن گاتے۔ شادی ہو کر بھی اسی کے پاس آئی تو ساس سسر اس کے دیوانے نکلے اور اس سے نالاں رہتے۔ وہ اپنے شوہر سے شکایت کرتی تو وہ اسے پیار سے سمجھانے لگتا
میں جو تم سے ڈھیروں پیار کرتا ہوں۔
وہ جواب میں شکوہ بھرے لہجے میں کہتی،
آپ کے بھائی بھی تو آپا سے اتنا پیار کرتے ہیں ۔
شفق کا باپ اسے سمجھاتا کہ وہ ہر وقت دوسروں کے کاموں میں لگی رہتی ہے سب کو آرام پہنچاتی ہے اپنا آپ بھولا ہوا ہے اس نے۔ تم ہر وقت اپنی طرف دھیان دیتی ہو پارلر جاتی ہو۔ بھابھی کو تو کپڑے بدلنے کنگھی کرنے کی بھی فرصت نہیں ملتی۔ ایسے تو نہیں تعریفیں ہوتیں۔
شفق کی ماں کو بہت غصہ آیا اور غصے سے بولی،
آپ بھی لگے ہیں تعریفیں کرنے۔ آپ کو میرا ساتھ دینا چاہیے۔ اپنے بھائی کو کچھ تو سمجھائیں۔ وہ کتنے بڑے عہدے پر ہیں اور ان کی بیوی کتنی پینڈو بن کر رہتی ہے۔ اپنے کولیگ کی بیویوں کو نہیں دیکھتے کیسے بن سنور کر آتی ہیں۔
شفق کا پاپا بولا
ارے میری جان سب کڑوا ہوتا ہے، تم سے اپنی سگی بہن برداشت نہیں ہوتی۔ شکر کرو میرے والدین اچھے ہیں اور تم الگ رہتی ہو تمہارے حصے کے کام بھی بھابھی کر دیتی ہیں تمہیں تو انکا شکر گزار ہونا چاہیے ۔
شفق کی ماں نے سوچا، شوہر ساری باتیں سچ کر رہا ہے بہتر ہے ٹاپک چینج کیا جائے تو اس نے لاڈ سے کہا، چلیں آج باہر کھانا کھانے چلتے ہیں۔ وہ سب سمجھتا تھا مسکرا کر بولا، روز ہی تو جاتے ہیں
ایسے کہو نا چلیں آج بھی کھانا باہر کھانے چلتے ہیں ۔
شفق کی ماں کھسیانی ہنسی ہنستے ہوئے کشن اس کو مارتے ہوئے بولی،
تیار ہوں جلدی سے ۔
وہ مؤدبانہ انداز سے بولا،
جو حکم میری ملکہ عالیہ کا۔
شفق کے تایا نے اچانک جو بم پھوڑا وہ سب کے لیے حیرت کا باعث تھا۔ وہ ہمیشہ کے لیے دوبئی شفٹ ہو رہے تھے اور بتا رہے تھے کہ ماہرہ اور ناہرہ ان کی بیٹیاں نہیں ہیں ۔
ماہرہ اور ناہرہ ہکا بکا ایک دوسرے کا منہ دیکھنے لگیں تو شفق کے پاپا نے روہانسا ہو کر بھائی سے ہاتھ جوڑتے ہوئے کہا
بھائی جان ایسی باتیں مت کریں یہ دونوں آپ کی ہی بیٹیاں ہیں اور جانے کا نام مت لیں۔
سارا گھر عجیب کشمکش میں مبتلا ہو گیا تھا شفق کے تایا تائی نے چپکے سے ساری تیاری کر لی تھی کسی کو کانوں کان خبر نہ ہونے دی تھی اور وہ یہ کہہ کر رائیڈ منگوائی اور گاڑی کی چابی والد صاحب کو دیتے ہوئے کہا
یہ آپ رکھیں۔ ہمیں دیر ہو رہی ہے
اور وہ جلدی سے گاڑی میں سوار ہو کر بغیر کسی کو ملے روانہ ہو گئے۔ شفق کا پاپا پیچھے بھاگتے ہوئے چیختا رہا
نہ کریں بھائی جان میں بھی ائیرپورٹ چلتا ہوں
مگر وہ رکے نہیں ۔
شفق کے پاپا نے جلدی سے گاڑی نکالی اور ان کے پیچھے چل پڑا۔
شفق کے پاپا کی حالت غیر ہو رہی تھی وہ واپس گھر آ چکا تھا۔ اس نے بتایا کہ بھائی جان نے صرف دور سے ہاتھ ہلایا ہے اور میں ائیرپورٹ سے واپس آ گیا ۔
شفق کی ماما بھی بہت حیران تھی کہ آخر وہ اتنی اچانک وہ بھی ہمیشہ کے لیے کیوں چلے گئے۔
شفق کے پاپا نے دیکھا ان کے والدین رو رہے تھے، شفق پاس بیٹھی ان کو چپ کروا رہی تھی۔
جبکہ ماہرہ و ناہرہ دونوں کے چہرے خوشی سے دھمک رہے تھے کہ یہ سوچ کر کے جنہیں وہ چچا چچی سمجھتی تھیں، جن سے امپریس ہوتی تھیں، وہ ان کے والدین ہیں مگر انہیں یہ سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ ان کے والدین نے انہیں تایا تائی کو کیوں دیا۔
ان کو گلے سے خوشی سے لگائے شفق کی ماما کھڑی تھی۔ خوشی اس کے چہرے سے دھمک رہی تھی۔ وہ خوش تھی ایک تو پلی پلائی اس کی بیٹیاں اس کو واپس مل گئی تھیں دوسرے سارا گھر اب اس کے قبضے میں ہو گا ۔
شفق کے پاپا نے والدین سے بھی پوچھا
کیا جانے کے بارے میں بھائی جان نے پہلے کھبی آپ سے ذکر وغیرہ کیا تھا
تو وہ اداسی سے بولے
چند دن پہلے ہلکا پھلکا ذکر کر رہا تھا کہ شاید ہم لوگ باہر ملک شفٹ ہو جائیں تو ہم نے تو غور ہی نہیں کیا نہ ہی دھیان دیا کہ وہ ایسا کیسے کر سکتا ہے۔ ہم نے سوچا کہ اگر اس نے ایسا کیا بھی تو ہم اسے جانے نہ دیں گے ۔
شفق کا پاپا اداس رہنے لگا۔ وہ کہتا کہ میری کمر لگتا ہے خالی ہو گئی ہے۔ میرے بھائی جان نے جو اچانک اتنا بڑا آ فیصلہ کر لیا ضرور اس کے پیچھے کوئی بڑی وجہ ہے۔
شفق کی ماں تنک کر کہتی
کوئی بڑی وجہ نہیں ہے۔ بچی کا رشتہ کر کے چلتے بنے ہیں تاکہ شادی کا خرچہ نہ اٹھانا پڑے۔ ویسے تو ان کو اپنی بیٹیاں کہتے تھے۔ اب اپنے بیٹے کا لالچ آ گیا ہو گا کہ جو ہے وہ ہمارے بیٹے کے لیے بچے۔
شفق کا پاپا غصے سے کہتا،
میرے بھائی جان پیسے لگانے سے کھبی نہیں رکتے ۔ جس طرح انہوں نے میری بچیاں پالی ہیں۔ فیسیں تک میں نے کھبی ادا نہیں کیں۔ عید پر بچیوں کی شاپنگ نہیں کی۔ اب میں اپنی بیٹی کی شادی خود کروں گا اور ایک روپیہ بھی بھائی جان کا نہیں لگنے دوں گا۔
شفق کی ماں نے پھر کوسا،
ہم نے ان پر احسان کیا تھا وہ بےاولاد تھے ان کو اپنی جگر کی ٹکڑیاں دونوں دے دیں۔
شفق کے پاپا نے غصے سے کہا،
بکواس ہے سب۔ تم بچیوں کو پالنے کا کشت اٹھانا ہی نہیں چاہتی تھی۔ انہوں نے تو آفر دی تھی تم نے ہی انکار کر دیا تھا۔ کتنی مشکل سے وہ دو بچیوں کو سنبھالتے تھے۔ تم نے تو کھبی پلٹ کر نہیں دیکھا تھا۔ تمہیں تو ہر وقت اپنے بننے سنورنے اور پارلر بھاگنے کی پڑی رہتی تھی جو ابھی تک قائم ہے۔ خبردار آج کے بعد تم پارلر نہیں جاؤ گی ۔
شفق کی ماما شوہر کے بدلتے رویے سے ڈرنے لگی تھی وہ تو اپنی بیٹیوں کو بھی پارلر کے جا کر ماڈرن بنانا چاہتی تھی مگر یہاں تو اس کے جانے پر بھی پابندی لگ چکی تھی۔
شفق کی ماں نے شفق کے تایا کا پورشن استعمال کرنا چاہا مگر شفق کے پاپا نے سختی سے اس کو استعمال کرنے سے منع کر دیا۔ اس نے بیٹیوں کا سارا سامان نکلوا کر اپنے پورشن میں رکھوا دیا اور ان کے پورشن کو لاک کر دیا اور حکم دے دیا
ہفتے میں دو دن صفائی کرنی ہے اور بس ۔
شفق کی ماما پاپا میں روز جھگڑے ہونے لگے ۔
وہ کہتا
میرے والدین کو بھی تم ہی کھانا پکا کر دو۔ جواب میں وہ انکار کرتی باتیں بناتی۔
شفق کے تایا نے پلٹ کر کھبی کسی کو کال نہیں کی۔ صرف والدین کو کرتے وہ بھی چند دن بعد اور مختصر بات کرتے ۔
شفق کے پاپا کے فون کا بھی نہ اٹھاتے۔ کھبی اٹھا بھی لیں تو مصروفیت کا بہانہ کر کے بند کر دیتے۔ بیوی سے بات کرنے کا یا بچے سے تو صاف کہہ دیتے ان کو موبائل کی خرافات سے دور رکھا ہے ۔
شفق اکثر روتی رہتی گلفام کو یاد کرتی سب کا شکر کرتی۔ دادی اسے امید دلاتی کہ اوپر والے سے اچھی امید رکھنی چاہیے ۔ وہ ضرور واپس آئیں گے ۔
شفق ہر وقت ان کی واپسی کی دعائیں کرتی رہتی۔
اس کی بہنیں سے بدلتے ماحول سے پریشان تھیں وہ سوچتی تھیں کہ ہمیں اب آزادی مل گئی ہے۔ ہم فیشن کریں گے، جس طرح وہ لوگ گھومتے پھرتے ہیں، اس طرح گھومیں پھریں گے مگر یہاں تو ان کے پاپا نے ساری امیدوں پر پانی پھیر دیا تھا ۔
شفق کی ماں جو پہلے اپنی بیٹیوں کو تائی کے کام نہ کرنے پر اکساتی رہتی تھی اب وہ اس کے آگے بھی بہانے بناتی تھیں تو اسے غصہ آتا کہ اس کے سر پر کام کا بوجھ بڑھ گیا ہے اور وہ اکیلی کرتے تھک جاتی ہے۔
وہ ان سب باتوں سے تنگ آ کر ناراض ہو کر میکے چلی گئی تھی مگر چند دنوں میں ہی بھائی حتکہ بھائی نے بھی اسے خوب سنائی تھیں اور سارا قصور اس کے ذمے لگا دیا تھا ۔شوہر نے سب کو سختی سے اسے فون کرنے سے منع کر دیا تھا۔ سالے کو صاف کہہ دیا تھا کہ اگر وہ اب میرے والدین کے ساتھ نہیں رہنا چاہتی تو میں اسے طلاق بھجوا دوں گا۔
وہ سمجھتی تھی کہ پہلے کی طرح اسکا شوہر بھاگا آئے گا اور منتیں کرئے گا کہ وہ اس کے بغیر نہیں رہ سکتا مگر وہ تو اس کو طلاق تک دینے پر تیار تھا۔ اس کا مان ٹوٹ چکا تھا۔ بھابھی قدرے اچھی تھی اسے پیار سے سمجھاتی
تم شوہر کو بےوفا کہہ رہی ہو تمہیں اس کی قدر نہیں ہے۔ وہ ابھی جوان نظر آتا ہے اچھی پوسٹ پر ہے اسے تو لوگ بھاگ کر کنواری لڑکی کا رشتہ دینے پر خوشی سے راضی ہو جائیں گے۔ کھبی اپنا گھر نہیں چھوڑنا چاہیے اپنی جگہ خالی نہیں کرنی چاہیے۔ لوگ تاک میں بیٹھے ہوتے ہیں فورا رشتہ بھی دے دیں گے، تمہاری طلاق کا انتظار نہیں کریں گے۔ مجھے سن گن ملی ہے کہ خاندان والے اسے تمہارے خلاف کر رہے ہیں اور دوسری شادی پر اکسا رہے ہیں۔ تمہاری خامیوں کو بڑھا چڑھا کر بیان کر کے اس کا دل میلا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں جو تم نے اپنی نادانی سے کر دیا ہے۔ اس نے ساری زندگی تم سے وفا نبھائی۔ اس کے آفس میں ہزاروں خوبصورت لڑکیاں موجود تھیں، ان میں سے کچھ تو اس سے شادی کی خواہش مند بھی ہوں گیں۔ ابھی نہیں جھکو گی تو پچھتاؤ گی ورنہ بعد میں کچھ باقی نہیں بچے گا۔ واپسی کا راستہ بھی بند ہو جائے گا، آنے والی تمہیں آنے نہیں دے گی۔
شفق کی ماں روتے ہوئے بولی،
اس نے مجھے منانے کی بھی کوشش نہیں کی نہ مجھے لینے آیا نہ فون کیا۔ میرے دکھ کا اسے اندازہ نہیں، احساس بھی نہیں ۔
اس کی بھابھی نے کہا
یہ دکھ تم نے خود اپنی جھولی میں ڈالے ہیں ورنہ تمہاری تو آئیڈیل لائف ہے۔ پلی پلائی بچیاں مل گئی ہیں، ان کے ساتھ وقت گزرو۔ کل کو وہ بیاہ کر چلی جائیں گی اور تمہارا شوہر اس وقت شدید ڈپریشن کا شکار ہے۔ بھائی اچانک چلا گیا ہے۔ تمہیں بجائے اس مشکل وقت میں ساتھ دینے کے اپنے نخرے دیکھا رہی ہو۔ خود ہی واپس بھائی کے ساتھ چلی جاؤ، تمہاری آنا کو کوئی ٹھیس نہیں پہنچے گی جا کر خود اسے منا لینا۔ شکر کرو تمہارے ساس سسر اچھے ہیں ان کی خدمت کرو تو شوہر خود ہی راضی ہو جائے گا۔ ابھی اسے تم سے راضی ہونے میں وقت لگے گا، وہ بھی تب راضی ہو گا جب تم اس کی باتوں پر عمل کرو گی۔ اپنی بیٹی کے رشتے پر اعتراض کرنا بند کر دو۔ بہت اچھے لوگ ہیں لڑکا بہت سلجھا ہوا ہے
شفق کی ماما منہ بنا کر بولی
سخت پینڈو لوگ ہیں، ہر وقت ان کی عورتیں سر پر بڑے دوپٹے وڑھے رکھتی ہیں۔ کوئی فیشن نہیں کرتیں۔ ہر چیز میں وہ روایات کو لے آتے ہیں۔ گھومنے پھرنے فیشن کرنے کی آزادی نہیں ہے۔ میں نے جو رشتے بتائے تھے وہ لوگ ماڈرن تھے لڑکے بھی ماڈرن تھے۔ آزادی تھی۔ مگر میری بات کسی نے نہیں مانی۔ میں ماں ہوں میرا زیادہ حق ہے۔
اس کی بھابھی نے تحمل سے اسے سمجھایا
تم بےشک ماں ہوں مگر ماں والی زمہ داریاں تم نے نہیں نبھائیں۔ جن لوگوں کو تم اچھا سمجھ رہی ہو ان کے بیٹے بگڑے ہوئے شہزادے ہیں۔ یہ جو تمہاری بیٹی کا منگیتر ہے یہ بہت سلجھا ہوا لڑکا ہے سموکنگ تک نہیں کرتا۔ بڑوں کا احترام کرتا ہے۔ شکر کرو جو ایسا رشتہ ملا ہے۔ تم اختلاف ختم کرو۔ تمہاری بچیاں پریشان ہیں۔ شفق چھپ کر دادی کے فون سے کتنی بار فون کر چکی ہے۔ دوسری بیٹیاں تو اپنے مگن ہیں ان کو تم سے اس طرح اٹیچمنٹ نہیں ہے جتنی ان کو پالنے والی تائی سے ہو گی۔
بھائی نے بھی اسے بہت سمجھایا تب اسے جا کر عقل آئی وہ تنگ پڑ چکی تھی ادھر رہ کر۔ اس کے بھائی نے اسے تیار ہونے کا کیا
شفق کا پاپا بیوی سے سخت ناراض تھا۔ جب وہ گھر آیا تو وہ سب کے ساتھ بیٹھی چائے پی رہی تھی۔ اس نے، اس کو دیکھا اور چپ کر کے کمرے میں چلا گیا ۔
شفق باپ کی بہت خدمت کرتی تھی۔ جلدی سے پانی کا گلاس لے کر آ گئی اور خوشی سے بتانے لگی
پاپا ماما خود ہی ماموں کے ساتھ آ گئی ہیں۔
شفق کے پاپا نے جواب نہ دیا اور گلاس پانی پی کر زور سے ٹرے میں پٹخ دیا۔ شفق اس کے سلیپر لے آئی اس نے انتہائی سنجیدہ شکل بنا رکھی تھی اب وہ ہنسنا بھول گیا تھا۔ سلیپر پہن کر چپ کر کے واش روم چلا گیا۔
شفق کا باپ بیوی سے بات نہ کرتا۔ بھابھی اسے سمجھاتی
شکر کرو وہ تمہیں ادھر رہنے کی اجازت دے رہا ہے۔
شفق کی ماں سوچنے لگی کیسے وہ اس گھر پر راج کرتی تھی۔ اس کا شوہر صرف اسی کا تھا اس کے ساتھ وقت گزارتا۔ اس کی بیٹیاں بھی آپس میں گپ شپ کرتی رہتیں۔ اس کا حال احوال تک نہ پوچھتیں۔ صرف شفق اس سے ہمدردی کرتی۔ اس نے سوچا اگر بیٹیاں میری گود میں پلی ہوتیں تو آج اس کی ہوتیں۔ وہ تائی کو اماں کہتی تھیں بات بات میں اسکا ذکر لے آتیں۔
شفق کی ماں کو کچھ بھی اچھا نہ لگ رہا تھا۔ اب تو اسکا پارلر جانے کا بھی دل نہ کرتا۔ نہ فیشن کرنے کا۔ اس نے اب اپنی طرف دھیان دینا ہی چھوڑ دیا تھا۔ گھریلو بنتی جارہی تھی ساس سسر کی خدمت کرتی۔ گھر کے سارے کام کرتی۔ تب جا کے اس کے شوہر نے ضرورت کے وقت اس سے بات کرنی شروع کی تھی۔ یہ منا منا کے تھک چکی تھی اس کے آنسو بھی اسے موم نہ کر سکے تھے۔ وہ تو جیسے پتھر ہو گیا تھا۔
شفق کی ماما کو اس کی بھابھی نے سمجھایا
وقت کے ساتھ ٹھیک ہو جائے گا تم بس اس کی مرضی کے مطابق چلو۔
شفق کے تایا تائی نے اچانک فیصلہ اس لیے کیا تھا کہ دونوں میاں بیوی شفق کے پورشن میں آ رہے تھے، ویسے وہ بہت کم ادھر آتے تھے۔
انہوں نے اپنے جاننے والوں کے ہاں ماہرہ کا رشتہ کر دیا تھا۔ پہلے انہوں نے شفق کے پاپا اور والدین سے بات کی تھی۔ شفق کی ماں سے نہیں کی تھی، جانتے تھے اس کے مزاج کو کہ اسے صرف ظاہری چمک دھمک نظر آتی ہے۔ شفق کے والد کے بھی وہ لوگ جاننے والے تھے۔ اس کے بھائی کے کولیگ تھے اور ان سے مراسم بھی تھے۔ شفق کے والد کے دل میں اس وقت لالچ بھرا رہتا تھا اس نے بڑے جوش سے کہا تھا کہ بھائی جان آپ کی بیٹی ہے جدھر آپ کو مناسب لگے کر دیں میں کون ہوتا ہوں، اعتراض کرنے والا۔
اس نے دل میں سوچا بھائی جان شادی کا سارا خرچہ اٹھا لیں گے اس کی بچت ہو گی۔
گھر آ کر اس نے بیوی کو جب بتایا تو وہ غصہ دیکھانے لگی
میری بیٹی ہے اور مجھے ہی پوچھا نہیں گیا
تو شوہر نے اسے بڑے تمسخر بھرے انداز میں بتایا
ارے میری ملکہ جب سے ہماری بیٹیاں پیدا ہوئیں ہیں تب سے اب تک انہوں نے ہی خرچے کیے ہیں، ہماری تو بس نام کی بیٹیاں ہیں۔ ہم نے تو سوچا تھا ان کو بیٹیاں دیں گے، ایک تو وہ بےاولاد ہیں ان پر احسان بھی بڑھ جائے گا اور دوسرا ان کی جائیداد کی وارث بھی بن جائیں گی۔ اب جب سے وہ سانپولیا گلفام پیدا ہوا ہے، ہماری ساری سکیم فیل ہو گئی ہے۔ اب ساری جائیداد کا وارث وہ بن گیا ہے۔ میرا جی چاہتا ہے اس کا گلا دبا دوں۔
شفق کی ماں غصے سے بولی،
سچ کہہ رہے ہیں میرا بس چلتا تو اسے پیدا ہوتے ہی مار دیتی۔
شفق کے تایا تائی شفق کی ماں سے مائرہ کے رشتے کی بات چیت کرنے آئے تھے مگر اندر ہونے والی گفتگو نے ان کے ہوش اڑا دیے تھے۔ وہ دبے پاؤں واپس چلے گئے اور دل دکھ سے بھر گیا تھا۔

Reader Comments
No comments yet. Be the first to share your thoughts!
Log in to leave a comment.