Aitram-e-Mohabat
4 Episodesدوسرا حصہ - Part 2
شفق اور اس کے تایا کے بچے ایک ہی اسکول میں پڑھتے تھے۔ شفق اپنی کزنوں کو اپنی بہنیں بتاتی۔ جبکہ وہ دونوں اس کو کزن بتاتیں۔ شفق ان کے بھائی کو اپنا بھائی بتاتی اور اس کا پورا خیال رکھتی۔ جبکہ وہ بھائی کو لفٹ ہی نہ کراتیں جیسے وہ انکا بھآئی ہی نہیں ہے۔ تائی کی اولاد ان کو اماں اور ابا پکارتے تھے۔ شفق بھی ان کو بڑے پیار سے اماں ابا پکارتی تھی اور ان پر رشک کرتی تھی کہ کتنے نیک اور مخلص والدین ان کو ملے ہیں اور ان کو قدر ہی نہیں ہے۔ جبکہ وہ دونوں شفق پر رشک کرتی تھیں اور اکثر کہتی کہ کاش ہم ان کی اولاد ہوتیں۔ چچا چچی جن کو وہ دادی کے حکم کے مطابق شفق کی طرح ماما پاپا پکارتی تھیں۔ دادی کا کہنا تھا اس طرح پکارنے سے ان میں پیار بڑھے گا۔
جب تایا کے ہاں اتنے سالوں کے بعد بیٹے کی پیدائش ہوئی تو دادا دادی خوشی سے نہال ہو گئے ۔ خوب مٹھائی بانٹیں گئی خوشیاں منائی گئی۔ اس کا دھوم دھام سے عقیقہ کیا گیا۔
شفق اس وقت چار سال کی تھی اس کی خوشی کا کوئی ٹھکانہ نہ تھا۔ وہ ہر وقت اس کے پاس چپکی رہتی۔ گود میں لینے کی کوشش کرتی۔ شفق کی تائی اسے محبت سے دے دیتی۔
دادی کہتی
اسے مت دو یہ گرا دے گی
مگر تائی کا جواب ہوتا
یہ خود گر جائے گی مگر اسے گرنے نہیں دے گی کھبی ۔
اس کا نام گلفام رکھا گیا کیونکہ وہ گورا چٹا خوبصورت بچہ تھا۔ پیار سے اسے گوگی کہتے تھے ۔
جب سے گلفام پیدا ہوا تھا تب سے شفق کے پاپا اور ماما اس کو سنپولیا کہہ کر زکر کرتے ۔شفق کو بہت غصہ آتا کہ اس معصوم بچے نے انکا کیا بگاڑا ہے جو ہر وقت یہ لوگ اس بچے کی طرف سے اس کی بہنوں کا بھی دل خراب کرتے رہتے۔
ان کی وجہ سے ہی گلفام کی بہنیں اس کو نفرت کی نگاہ سے دیکھتیں۔ ان کے دل میں انہوں نے جائیداد کا اتنا لالچ بھر دیا تھا کہ انکا بس چلتا تو اس کو مارنے سے بھی گریز نہ کرتیں۔ ہر بات میں وہ لالچ کرتیں۔ اسے تو شفق کی ماں اتنی پسند تھی کہ وہ ان کی ہر بات مانتی تھیں اور شفق کی ماں سے گٹھ جوڑ کر کے ماں کی برائیاں کرتی تھیں کہ وہ مطلب پرست اور کنجوس ہے
شفق بڑی ہو رہی تھی اور اس کی تایا کی بیٹیوں کی شادی کی عمر ہو چکی تھی۔
ایک دن تایا تائی شفق کے پاپا کے پاس آئے اور کہا
دادی کے کمرے میں آنا ضروری بات کرنی ہے۔ شفق کے کان کھڑے ہو گئے کہ آخر ایسی کیا بات ہے۔ وہ بھی پیچھے چل پڑی۔ ویسے بھی اسے اکیلے اپنے پورشن میں ڈر لگتا تھا تو جب وہ وہاں پہنچی تو تایا نے شفق کے پاپا سے کہا
ہمیں آفس کی طرف سے ملک سے باہر جانا ہے پانچ سال کے لیے تو ہم نے ساری تیاری مکمل کر لی ہے اور پرسوں ہماری فلائیٹ ہے۔ میں، میری بیوی اور گلفام جا ئیں گے ۔ چھ ماہ بعد والدین کو بھی بلا سکیں گے۔ اب ہم تمہاری امانتیں تم کو واپس لوٹنا چاہتے ہیں بچیاں چونکہ جوان ہیں ان کی شادیاں کرنی ہیں ۔ ہم ادھر ہوں گے نہیں تم لوگ ہی ان کی شادیاں کرو گے۔
شفق کے ماما پاپا حیرت سے ان کا منہ تکتے ہوئے بولے
“مگر ہم کیوں کریں گے ان کی شادیاں۔
تایا نے بڑے تحمل سے کہا
کیونکہ تم نے ہی پیدا کی ہیں تمہاری ہی بیٹیاں ہیں ۔
شفق لیٹی ہوئی تھی ایکدم اٹھ کر بیٹھ گئی۔ تایا کی دونوں بیٹیاں بھی حیرت سے ان کی طرف دیکھنے لگی ۔
تایا نے سب کی حیرت کو بھانپتے ہوئے دھیرے سے مسکرا کر بڑے تحمل سے جواب دیا
شفق کے تایا اور والد دونوں بھائی تھے۔ تایا کی کوئی اولاد نہ تھی۔ تائی اپنی چھوٹی بہن کو دیور کے لیے بیاہ کر لے آئیں۔ وہ اپنی چھوٹی بہن سے بہت پیار کرتی تھی ۔ ساس سسر کو بھی کوئی اعتراض نہ ہوا کہ چلو دونوں بہنیں ہیں اور اتفاق سے رہیں گی۔ کیونکہ ساس سسر اولاد نہ ہونے کے باوجود اپنی بڑی بہو سے بہت خوش تھے۔ وہ بہت خدمت گزار اور نیک عورت تھی۔ دادا دادی کو اپنے ہوتا پوتی کا شوق تو تھا مگر وہ کہتے تھے اس میں بھی کوئی مصلحت ہو گی۔ ہماری بہو کا اس میں کیا قصورہے۔
جب چھوٹی بہو بیاہ کر آئی تو ساس سسر کو محسوس ہوا کہ دونوں بہنوں کی عادات میں زمین وآسمان کا فرق ہے جیسے ان کے اپنے دونوں بیٹوں میں تھا۔ بڑا بہت ذمہ دار اور نیک سیرت تھا، اپنے چھوٹے بھائی پر جان دیتا تھا جیسا اس کی بیوی اپنی چھوٹی بہن پر دیتی تھی۔ دونوں میاں بیوی بہت خوش تھے کہ چلو اچھا ہے ہمارے چہتے ہمارے پاس آ جائیں گے۔
مگر دونوں ہی لاڈلے تھے۔ اور اپنے بڑے بھائی اور بہن سے خوب خدمتیں کرواتے تھے۔
ساس سسر سب دیکھتے تھے مگر بولتے نہ تھے مجبور تھے۔ ان کا ماننا تھا کہ شادی کے بعد بچے اپنی مرضی کرنا چاہتے ہیں اگر والدین انہیں اچھی نصیحت بھی کرنا چاہیں تو انہیں ناگوار گزرتی ہے وہ آزاد رہ کر اپنی مرضی سے زندگی گزارنا چاہتے ہیں گو کہ والدین ان کا بھلا ہی چاہتے ہیں اور روکتے ٹوکتے ہیں مگر پھر وہ ان سے تنگ آ کر الگ ہو جاتے ہیں تاکہ ادھر ان کو روکنے ٹوکنے والا کوئی نہ ہو ۔اس لیے وہ ڈرتے تھے ان میں جدا نہ ہوں غلطیوں سے خود ہی سیکھ لیں گے ۔
چھوٹی بہو فیشن ایبل اور گھومنے پھرنے کی شوقین تھی۔ اس کا شوہر بھی اس کا ساتھ دیتا تھا اس کو ہر طرح کی آزادی دے رکھی تھی۔
وہ کسی کام کو ہاتھ نہ لگاتی تھی۔ مگر شوہر اسے کچھ نہ کہتا تھا۔ بڑے بھائی کی بیوی سسرال کی مخلص تھی وہ دیور کے بھی سارے کام کر دیتی تھی تاکہ اس کی چھوٹی بہن کو نہ کرنے پڑیں۔
چھوٹی بہن آتے ہی امید سے ہو گئی ۔ ساس سسر اور بڑا بھائی بھابھی خوشی سے دیوانے ہو گئے۔
مگر وہ بہت تنگ پڑنے لگی اب اس کے نخرے اور بڑھ گئے۔ بڑی بہن اسے حوصلہ دیتی اور اس کی خوب خدمت کرتی۔
وہ ابھی بچوں کے جھنجھٹ میں پڑنا نہیں چاہتی تھی۔ آزاد رہنا چاہتی تھی تو بڑی بہن نے اسے کہا
تم فکر نہ کرو بس یہ بچہ پیدا ہو جائے تو تم ہمیں دے دینا ہم پال لیں گے۔
اسکا شوہر بھی بیوی سے بولا
اس سے اچھی اور کیا بات ہو گی کہ یہ پال لیں، ان پر سو فیصد بھروسہ ہے ۔ ہماری اولاد ہماری نظروں کے سامنے ہی ہو گی اور چونکہ بھائی بھابھی کی اپنی کوئی اولاد بھی نہیں ہے توان کی جائیداد بھی ہماری اولاد کو مل جائے گی اور اگر ہم خوشی ظاہر کرتے ہوئے ان کو پکا گود دے دیں اور ایک تو وہ اس احسان کے نیچے ساری زندگی دبے رہیں گے اور وہ لوگ تربیت بھی اچھی کریں گے ہم ان کو بلکل روکیں روکیں گے نہیں۔ ان سے کہیں گے والدیت میں اپنا نام لکھوا لیں۔ ہم ان پر اپنا کوئی حق دعویٰ نہیں کریں گے
شوہر کے سمجھانے پر بیوی سمجھ گئی کیونکہ پالنے والی بھی اس کی اپنی سگی بہن تھی۔
مگر جب وقت قریب آیا تو پتا چلا کہ جڑواں بچے ہیں اور وہ بھی بیٹیاں۔
چھوٹی بہن بہت پریشان ہو گئی کہ اب ایک اسے پالنی پڑے گی وہ رونے لگی تو بہن نے تسلی دی
دونوں ہم پال لیں گے
تو چھوٹے بھائی نے موقع سے فائیدہ اٹھاتے ہوئے کہا
ہم دونوں آپ کو گود دیتے ہیں اور والدیت میں بھی آپ اپنا نام لکھوانا۔ ہم ساری زندگی ان پر کھبی ظاہر نہیں ہونے دیں گے کہ ہم ان کے والدین ہیں۔ آپ جیسے چاہیں ان کی تربیت کرنا ہم پلٹ کر بھی نہیں پوچھیں گے ۔
بڑا بھائی اؤر بڑی بھابھی تو خوشی سے پاگل ہو گئے اور ان کے بہت مشکور ہو گئے ۔
جب بیٹیاں پیدا ہوئیں اور نارمل ڈیلیوری کے باوجود چھوٹی بہن کافی وقت بیڈ پر آرام فرماتی اور خدمتیں کرواتی رہی۔ اس نے بچیوں کو پلٹ کر بھی نہ دیکھا ان کے رونے سے اسے الجھن ہوتی تھی۔
ساس سسر پوتیوں کو سنبھالنے میں بڑی بہو کی بہت مدد کرتے تھے۔ کیونکہ دونوں بیٹیاں انہوں نے ان کو دے دی تھیں۔ خود اپنی پرانی روٹین میں آ گئی تھی۔
وہ اب الگ رہنا چاہتی تھی کہ اسے بچیوں کو نہ پالنا پڑے ۔ اس نے شوہر سے کہا کہ پورشن الگ کر دو۔ مجھے بچوں کے رونے کے شور سے الجھن ہوتی ہے۔
بیٹے نے والدین سے بات کی تو وہ مان گئے کہ اگر ادھر ہی الگ نہ کیا تو یہ لوگ دور چلے جائیں گے ۔
چھوٹی بہو نے کہا
بیچ میں دیوار ہونی چاہیے تو دروازہ بھی بمشکل اس نے رکھنے دیا۔ ان کو چھوٹا پورشن دے دیا گیا کیونکہ وہ دو لوگ تھے اور یہ چار بڑے اور دو بچیاں۔
چھوٹی بہو نے شوہر کو اعتراض کیا
چھوٹا پورشن ہمیں ملا خود ان کو بڑا تو اس کے شوہر نے سمجھایا
چھوٹا ہو یا بڑا کیا فرق پڑتا ہے تم اتنے بڑے پورشن کی صفائی وغیرہ کیسے کرو گی۔ ہمارے لیے یہی بہت ہے ۔ ویسے بھی بڑا پورشن بھی ملنا تو ہماری بچیوں کو ہی ہے سب کچھ ہمارا ہی ہو گا۔ اس طرح وہ مان گئی ۔
ساس سسر سوچتے تھے کہ کیسی ماں ہے جسے اولاد سے زیادہ اپنی آزادی پیاری ہے بچیوں سے ایسے لاپرواہ رہتی ہے جیسے یہ اس کی ہیں ہی نہیں۔ انہیں غصہ تو بہت آتا کہ وہ اپنی زمہ داری سے بھاگ رہی ہے۔ مگر ان کا بیٹا بھی مطلب پرست تھا وہ اس کی نیچر جانتے تھے مگر خاموش رہتے تھے کچھ بول نہ سکتے تھے کہ دونوں میاں بیوی ہی لالچی اور مطلب پرست تھے۔ ادھر بڑا بھائی اور بھابھی نیک نیتی سے ان بچیوں کو اپنی اولاد کی طرح پال رہے تھے اور بہت خوش تھے اولاد کے لیے ترسے ہوئے تھے وہ ان کا احسان مانتے تھے کہ انہوں نے فری ہینڈ دیا ہوا ہے آ کر دخل اندازی نہیں کرتے۔ گود میں بھی نہیں لیتے۔ وہ سمجھتے تھے کہ الگ رہنا اور دیوار چڑھانا ان کا اچھا فیصلہ ہے تاکہ ہم ان کی بچیوں کو اپنی مرضی سے پال سکیں۔ اس بات کا اظہار وہ اکثر کرتے رہتے تھے۔ ان کا احسان مانتے تھے اور وہ دونوں اس بات کا خوب فائیدہ اٹھاتے اور ان بچیوں سے بالکل بے گانے بن کر رہتے۔
پانچ سال بعد چھوٹی بہو دوبارا امید سے ہو گئی تو وہ بہت تنگ پڑی۔ اسے پرانی پریگنینسی یاد آ گئی وہ رونے دھونے لگی کہ اسے بچے نہیں چاہیے۔ وہ آزاد رہنا چاہتی ہے تو شوہر نے کہا
اب کچھ نہیں ہو سکتا، ڈاکٹر نے کہا ہے۔ چار ماہ گزر چکے ہیں تم جیسے تیسے اسے پیدا کر لو اس کے بعد آپریشن کروا لینا۔
مجھے اور بچے نہیں چاہیے ۔ بچوں کی بہت زمہ داری ہوتی ہے۔ ہم اپنی لائف انجوائے کرنا چاہتے ہیں ۔
جب ساس سسر نے سنا کہ وہ پھر امید سے ہے تو انہیں ہوتے کی آس لگ گئی اور دبے لفظوں میں وہ اپنی اس خواہش کا اظہار بھی کرنے لگے۔
بڑی بھابھی نے بڑی مشکلوں سے ان کی بیٹیوں کو پالا تھا مگر اس کے باوجود وہ دونوں اس کا جی جان سے خیال رکھتے۔ ان کے پورشن میں آ کر بیڈ پر اسے کھانا پینا دیتے۔ اس کا کیس گھمبیر تھا ڈاکٹر نے بڑا آپریشن بتایا تھا۔
اب پھر بیٹی پیدا ہوئی تو ساس کا منہ بند گیا اور ان کا رویہ قدرے بدل گیا۔
اب وہ دوبارا ماں نہ بن سکتی تھی ۔ اسے اب اس بات کا احساس ہونے لگا تھا کہ شاید دوبارا وہ ماں بنتی تو بیٹا ہو جاتا۔ اب ساس سسر اس پر پہلے کی طرح واری صدقے نہ جاتے تھے۔ اس کی بیٹی کو بھی زیادہ لفٹ نہ دیتے۔ اسے پکڑا جاتے۔ بڑی بہو اسے بھی پالنا چاہتی، دیکھ بھال کرنا چاہتی تھی مگر ساس نے سختی سے منع کر دیا
اس کو اپنی ذمہ داری کا احساس ہونے دو۔
بڑی بہو ساس کا بہت ادب کرتی تھی۔ اس نے ان کی بات مان لی۔
اب میاں بیوی خود بچی کی دیکھ بھال کرتے تو ان کو بچی سے لگاؤ ہونے لگا۔ وہ اب ان کی آنکھ کا تارا بن گئی۔ شفق نام رکھا گیا ۔

Reader Comments
No comments yet. Be the first to share your thoughts!
Log in to leave a comment.