Ihtiram-e-Muhabbat
4 Episodes
شفق کو فکر لگ گئی تھی کہ آخر اس کی بڑی بہن ماہرہ کدھر چلی گئی۔ آج اس کی شادی تھی اور وہ کہیں بھی نظر نہیں آ رہی تھی۔ بارات بھی آنے والی تھی ۔ دادی بھی آ کر پوچھ چکی تھیں۔ وہ ان کو پریشان نہیں کرنا چاہتی تھی اور بہانہ بنا دیا کہ باتھ روم میں ہے جبکہ باتھ روم بھی خالی تھا۔
شفق جب زرا شعور کو پہنچی تو اسے اپنے تایا ابا اور تائی اماں بہت پسند تھے۔ ان کا شفقت
بھرا رویہ ان کا خلوص بھرا انداز اس کے دل کو موہ لیتا تھا۔ جبکہ اس کے اپنے والدین کو اس کی زرا بھر بھی فکر نہ تھی۔
شفق کی ماما فیشن کی شوقین تھی۔ اس کے پاپا سیر سپاٹے کے۔ دونوں اکثر گھومنے پھرنے نکلے رہتے اور باہر سے کھانا پینا کھا کر گھر لوٹتے۔ اپنی لاڈلی بیٹی کے لیے کھبی کوئی پیزا وغیرہ لے آتے۔ اور ساتھ کھبی اس کی تایا کی بیٹیوں کو بھی چھپ کر دیتے۔
تایا اور تائی نے اپنی دونوں بیٹیوں کو باہر کے کھانے کھانے سے سختی سے منع کیا ہوا تھا اور وہ انہیں گھر کے فریش کھانے پکا کر دیتی۔
شفق کی ماں چند سال بعد ہی شوہر کو مجبور کر کے لڑ جھگڑ کر الگ ہو گئی تھی ۔ اس کے ساس سسر حیات تھے، وہ ان کے بیٹے کی پسند تھی۔ اس لیے وہ بہو کی ہر ناجائز ضد ماننے پر مجبور تھے کیونکہ وہ دھمکی دے چکی تھی کہ پھر وہ اس گھر سے الگ ہو کر دور چلی جائے گی ورنہ اسے ادھر ہی ایک پورشن دے دیں اور اس کے معاملات میں کوئی دخل اندازی بھی نہ کرے۔
اب ساس سسر بے چارے صلح جو طبیعت کے مالک تھے وہ بیٹے کو اپنے سے دور نہیں بھیجنا چاہتے تھے ۔
شفق کے دادا ایماندار سرکاری ملازم تھے۔ کچھ گاؤں کی زمینیں بیچ اور کچھ اپنی جمع پونجی لگا کر اپنے دونوں بیٹوں کے لیے گھر بنایا تھا۔ خود بچت کر کے پنشن پر گزرا کرتے تھے۔
دونوں بیٹوں کو اعلیٰ تعلیم دلوائی تھی۔ اپنا پیٹ کاٹ کاٹ کر ماں نے اپنا زیور بھی تعلیم پر لگا دیا تھا۔
بڑا بیٹا شفق کا تایا اور شفق کا باپ دونوں اچھے عہدوں پر فائز تھے۔ گھر بھی بڑا تھا گزارا اچھا ہو رہا تھا۔ شفق کی ماں الگ ہوتے ہوئے بھی یہاں سے جانے کا نہیں سوچتی تھی کہ یہاں اس کو بہت فائدے مل رہے تھے۔ شفق کو چھوڑ کر چلی جاتی تھی سب سنبھال لیتے تھے ۔
شفق ہر وقت تایا کی بیٹیوں کو کہتی رہتی کاش میں بھی ان کی بیٹی ہوتی۔ تایا کا ایک بیٹا پیدا
ہوا ۔ جو شفق سے چار سال چھوٹا تھا۔
شفق سے وہ بہت مانوس تھا۔ اس کی اپنی بہنیں اس کو لفٹ نہ کراتی تھیں ۔ اکثر کہتی رہتیں کہ یہ کیوں پیدا ہو گیا ۔والدین کا پیر بٹ گیا۔ جبکہ شفق ان کو منع کرتی
ایسے مت بولو۔ اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرو کہ اس نے بھائی جیسی نعمت سے نوازا ہے۔ مجھے دیکھو نہ میرا کوئی بھائی ہے نہ بہن۔
وہ دونوں اس کو تڑکا سا جواب دیتیں۔
سارے لاڈ بھی تو تمہارے ہی اٹھائے جاتے ہیں۔ دادا دادی بھی تم پر واری صدقے جاتے ہیں ۔
شفق اداسی سے کہتی
میں بھی تو ان کی قدر کرتی ہوں کہ شکر ہے مجھے دادا دادی کا پیار نصیب ہوا ہے۔ میرے پاس تو بھائی والی اور بہن والی نعمت بھی نہیں ہے۔
شفق کی تایا کی دونوں بیٹیاں جڑواں تھیں۔ ان کی شکلیں فرق تھیں۔ دونوں میں خوب دوستی تھی۔ وہ شفق کو ذیادہ پسند نہیں کرتی تھیں۔ جبکہ وہ بے چاری ان کو آپی آپی کہتی نہ تھکتی تھیں۔ وہ تو اپنے بھائی کو بھی لفٹ نہ کراتی تھیں۔ وہ شفق کے پیچھے پھرتا رہتا اور باجی باجی کہتا رہتا۔ وہ بھی جی جان سے اسے پیار کرتی ۔ اس کو ہوم ورک کراتی، پڑھاتی۔ وہ اس سے بہت مانوس ہو گیا تھا اپنی سگی بہنوں سے زیادہ وہ شفق کے پاس رہتا۔ دادا دادی سامنے سامنے اکلوتے پوتے سے بھی زیادہ پیار نہ جتاتے کہ چھوٹی بہو طعنے دیتی تھی۔ وہ خود بیٹے کی نعمت سے محروم تھی اور اس معصوم بچے کو بھی حسد سے دیکھتی اور اس کو اکثر ڈانٹتی رہتی ۔ جبکہ شفق ہر بات میں ماما کو ٹوکتی رہتی۔ مگر ماں باز نہ آتی الٹا اسے ہی ڈنٹ دیتی۔ اس کو ہر وقت تائی کی چمچی کہتی رہتی۔ وہ تو اس کے تایا کی بیٹیوں کو بھی ماں باپ کے خلاف کرتی رہتی۔ وہ دونوں بھی ماں سے زیادہ چچی کو پسند کرتی تھیں ۔ وہ شفق پر رشک کرتیں۔ کہتیں کاش یہ ان کی بیٹی ہوتی اور ہم چچی کی۔
ماں کی لاکھ اچھی تربیت کے باوجود چچی کے ورغلانے پر ماں کے خلاف ہو جاتیں اور ماں کو اچھا نہ سمجھتیں۔
شفق تائی اماں کے پاس بیٹھی مٹر چھیل رہی تھی۔ وہ اکثر ان کی کاموں میں ہیلپ کرتی رہتی۔ ان سے پکوان پکانے سیکھتی رہتی۔ اسے ماں کے روز روز کے لائے ہوئے پیزے برگر کھانے سے چڑ ہونے لگتی تھی وہ ماں کو اکتا کر کہتی،
ماما کھبی تو گھر پر کھانا بنا لیا کریں۔ روز روز میں یہ چیزیں نہیں کھا سکتی۔
وہ چڑ کر کہتی
اپنی تائی سے کھا لیا کرو ویسے بھی تمہیں ماں سے زیادہ وہ اچھی لگتی ہیں ۔
شفق دکھی لہجے میں بولتی،
تائی اماں میں ممتا کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی ہے وہ اپنی زندگی صرف بچوں کی تربیت میں صرف کرتی ہیں ۔ دن رات کاموں میں لگی رہتی ہیں ۔ ان کی ناقدری بیٹیاں بھی ان کا احساس نہیں کرتی ہیں۔ ان کے کام کو ایسے کرتی ہیں جیسے ان پر احسان کر رہی ہیں ۔ وہ ان کو ہر کام میں ماہر کرنا چاہتی ہیں۔ وہ کوکنگ بھی ایسے سیکھتی ہیں جیسے ان پر احسان کر رہی ہیں۔ یہ نہیں سوچتی کہ کہ یہ سب ان کے کام آئے گا ۔ میں تو ہر ممکن ان سے فائدہ اٹھاتی ہوں۔ بہت سی ڈشیں مجھے بنانی آ گئی ہیں ۔اب آپ میرے لیے باہر سے گندے پیزے برگر مت لانا میں خود بنا لیا کروں گی ۔
ماں نے اسے ڈانٹتے ہوئے کہا
شکر نہیں کرتی یہ چیزیں مل رہی ہیں ۔ تمہارے تایا کی بیٹیاں ان چیزوں کے لیے ترستی رہتی ہیں ۔ مگر وہ ظالم کنجوس لوگ ان کو کسی قسم کی عیاشی نہیں کرواتے۔
شفق ماں باپ کے رویے پر دکھی ہوتی رہتی۔ وہ اکثر سوچتی کہ ایک ماں کی اولاد ہیں میرے پاپا اور تایا۔ مگر دونوں کی عادات میں زمین آسمان کا فرق ہے ۔ دونوں اچھا کماتے ہیں مگر تایا زیادہ خرچہ کرتے ہیں والدین کی ضروریات کا بھی وہی خیال رکھتے ہیں ۔ بڑی بچت سے چلتے ہیں اپنی ضروریات کو بہت محدود رکھتے ہیں۔ جبکہ اس کے والدین تو اپنی ساری تنخواہ اپنی عیاشیوں پر لگاتے ہیں ۔ اس کی ماں ریگولر پارلر جاتی ہے۔ شفق کو پارلر جانا سخت ناپسند تھا۔ وہ ماں کے ساتھ کھبی جانے پر خوش نہ ہوتی۔ ماں نے بھی اس کے باپ کے کہنے پر اس کو اس کے حال پر چھوڑ دیا تھا۔ وہ سادگی پسند تھی۔ ماں چڑ کر اسے طعنہ دیتی
یہ تائی پر چلی گئی ہے پینڈو۔ جیسے ان کی اپنی بیٹیاں ہیں ۔
شفق کھبی اپنے والدین کی سوچ پر دکھی ہو جاتی جن کا ہر وقت یہ مقصد ہوتا کہ وہ اس کے تایا کے پیسوں سے فائدے اٹھاتے رہیں۔ چھوٹی چھوٹی چیزوں سے ٹکہ ماری کرتے رہتے۔ ان کی چھوٹی سوچ پر اسے افسوس یوتا۔ اسے اپنے تایا تائی پر رحم آتا جو بہت مخلص تھے۔ وہ اپنے بھائی کی نیچر کو سمجھتے ہوئے بھی نظر انداز کرتے رہتے اور جی جان سے ان کے لیے فائدے سوچتے رہتے۔
شفق کو اپنی تائی کی کمپنی میں وقت گزارنا بہت پسند ہوتا۔ وہ ان کے ساتھ بہت خوش رہتی۔ اسے ان کے پورشن میں رونق لگتی۔ جہاں دادا دادی کے کمرے میں سب جمع ہو کر وہیں بیٹھے رہتے گپ شپ چلتی رہتی۔ اکھٹے کھانا کھاتے۔ گپ شپ لگاتے۔
شفق سوچتی اس کے والدین تو کھانا کھانے کے وقت اکثر ادھر گپ شپ لگانے آ جاتے۔ شفق کی تائی تقریباً روز ان کے آگے بھی کھانا رکھ دیتی اور وہ مزے سے کھا کر تعریفیں کر کے آٹھ جاتے کہ ہم زرا تھکے ہوئے ہیں جلدی سوئیں گے۔ حالانکہ اپنے پورشن میں آ کر لیٹ نائٹ سوتے۔ بس وہاں کھانا کھانا مقصد ہوتا تھا۔ شفق کے پاپا شفق کی تائی سے بڑے پریم سے پوچھتے،
بھابھی جی بڑی اچھی خوشبو آ رہی ہے کیا پکا ہے بہت زور کی بھوک لگی ہے۔
تو وہ بہت محبت سے ان کے آگے کھانا پیش کر دیتی۔
بوڑھے والدین تو اپنے چھوٹے بیٹے اور بہو کو ادھر دیکھ کر نہال ہو جاتے۔ کیونکہ سارا دن
تو وہ ان کو نظر ہی نہ آتے تھے۔
کھبی شفق کو یہ دیکھ کر غصہ آتا کہ وہ کھانے کے وقت نازل ہو جاتے اور کھانا لگنا شروع ہوتا تو وہ آٹھ جاتے کہ روز روز اچھا نہیں لگتا۔ مگر شفق کے تایا تڑپ جاتے اور پیار بھری ڈانٹ سے کہتے
میں تمہیں اپنا بھائی نہیں بیٹا سمجھتا ہوں۔ اپنے بیٹے کی طرف اشارہ کر کے کہتے میں اپنے بیٹے اور تم میں کوئی فرق نہیں سمجھتا۔ شفق کی تائی بھی محبت پاش نظروں سے دیکھتے ہوئے کہتی
میرے لیے بھی یہ دونوں بچوں کی طرح ہیں۔
دادا دادی تائید میں سر ہلا کر کہتے
واقعی تم دونوں نے کھبی ان کو اپنے سے الگ نہیں سمجھا۔
تایا محبت سے اپنے چھوٹے بھائی کی طرف دیکھ کر کہتے
اس کا ہم پر بہت بڑا احسان بھی تو ہے جو ہم نہیں چکا سکتے۔
تائی بھی تشکر بھری نظروں سے دیکھ کر کہتی
ان کا احسان تو ہم کھبی نہیں چکا سکتے۔
شفق کے پاپا چمکتی ہوئی آنکھوں سے دیکھ کر کہتے
کیوں شرمندہ کرتے ہیں بھائی۔ میں آپ کو والدین سے کم درجہ نہیں دیتا۔
شفق کی ماں کی آنکھیں چمک جاتیں اور وہ شفق کی تائی کی طرف دیکھ کر کہتی
بار بار اس احسان کو یاد دلا کر شرمندہ کر دیتے ہیں ۔
دادی ایک ٹھنڈی سانس بھر کر ادھر ادھر دیکھتی ایک نظر شفق کے دادا کی طرف دیکھتی تو وہ اس کو جوابی دیکھ کر نظریں چرا لیتے۔
شفق کی ماں اپنے پورشن میں آ کر دادا دادی کی خوب برائیاں کرتی
مجال ہے جو وہ کھبی ہمارا احسان مانیں۔ ہمیشہ ہمارے ساتھ زیادتی کرتے رہتے ہیں۔ وہ دونوں ہی ان کے چہیتے اور سگے ہیں ہم سے تو سوتیلوں والا سلوک ہوتا ہے۔ گھر کے بڑا پورشن ان لاڈلوں کو دیا ہوا ہے اور ہمارے حصے میں چھوٹا پورشن۔
جب شفق پوچھتی
آپ لوگوں نے ان پر کونسا احسان کیا ہے کہ وہ اتنے مروت میں رہتے ہیں تو دونوں میاں بیوی ایک دوسرے کو دیکھتے اور نظریں چراتے ہوئے کہتے،
ہم وہ بتا کر اپنا احسان ضائع نہیں کرنا چاہتے۔ ہم نے ان کو بھی منع کیا ہوا ہے سختی سے کسی کو بتانے سے۔
شفق اکثر سوچتی، میرے والدین کسی پر احسان کرنے والے لگتے تو نہیں ہیں پھر آخر ایسی کیا مجبوری تھی کہ وہ ان کے احسان کے بوجھ کے نیچے آ گئے۔
شفق اپنی تایا کی بیٹیوں سے بھی پوچھتی تو وہ بھی لاعلمی کا اظہار کرتیں کہ ہمیں کچھ نہیں پتا ۔ سب نے چھپایا ہوا ہے۔

Reader Comments
No comments yet. Be the first to share your thoughts!
Log in to leave a comment.