Logo
Ihtiram-e-Muhabbat
4 Episodes
Ihtiram-e-Muhabbat EP 4
Episode 4

احترام محبت 4

Ihtiram-e-Muhabbat


چوتھا حصہ - Part 4

 

بچے سارے دادی کے روم میں بیٹھے ہوئے تھے۔ دونوں میاں بیوی اکثر گاڑی ہوتے ہوئے بھی بائیک پر کچھ سودا وغیرہ لینے جاتے رہتے تھے۔ شوہر نے بیوی سے کہا چلو باہر چلتے ہیں۔ ان کا بیٹا سامنے باہر آیا تو اسے بتا کر کہ ہم کچھ لینے جا رہے ہیں باہر چلے گئے۔ وہ ایک سنسان پارک میں جا کر بیٹھ گئے خوب روئے اور جی جب ہلکا ہوا تو انہوں نے فیصلہ کر لیا کہ ہمیں جو دوبئی سے آفر آئی تھی ایک سال کے لیے اور وہ ان سب کو چھوڑ کر جانا نہیں چاہ رہے تھے انہوں نے جانے کا فیصلہ کر لیا اور وعدہ کیا کہ اب وہ ان کی بیٹیوں کو واپس کر دیں گے اور ایک روپیہ بھی مدد نہ کریں گے یہ لوگ تو ہمارے بیٹے کو جان سے مارنے سے بھی دریغ نہ کریں۔

 

وہ بہت دیر سے گھر واپس آئے ۔ ماں نے دو بار فون کیا تو کام کا بہانہ کیا۔ کھانا بھی نہیں کھایا گیا اور اگلے دن سے ہی انہوں نے تیاری شروع کر دی۔ والدین کو ہلکا پھلکا بتانا شروع کر دیا۔ مگر انہیں یقین نہ آیا ۔ بیٹیوں سے بھی کچھ کھنچے رہنے لگے مگر انہوں نے محسوس نہ کیا۔ شفق نے محسوس کیا کہ تایا ابا اور تائی اماں کچھ پریشان لگتے ہیں اس نے ان سے پوچھا تو وہ اس کے خلوص پر حیران ہوئے۔ اسے تسلی دی کہ کچھ ایسی بات نہیں ہے۔



اسی طرح تقریباً ایک سال کے عرصہ بیت گیا۔ شفق کی ماں نے ساس سسر کی خدمت شروع کر دی، گھر کے کاموں میں دلچسپی لینے لگی۔ کھبی کھبی اسے  ماہرہ اور ناہرہ پر غصہ آتا جو اس کی کام میں ہیلپ کرنے سے بہانے بناتی تھیں۔ صرف شفق، ماں کے پاؤں کی مالش کرتی اس کی کاموں میں ہیلپ کرتی۔ شفق کی ماں بڑی بیٹیوں کو ڈانٹتی تو تب وہ کام کرتیں۔ یہ سب اسی کی پڑھائی پٹیاں تھیں کہ گھر کے کام نہ کیا کرو۔ اب اس کا کیا، آگے آ رہا تھا وہ پچھتا رہی تھی۔ شوہر کا رویہ اسی طرح تھا فالتو بات نہ کرنا۔ 

اسے اب گھر کی زمہ داریوں کی عادت پڑ چکی تھی اور وہ پورے کام نمٹانے کے بعد سونے جاتی اسے تسلی نہ ہوتی۔ 

شوہر اسے دیکھ کر اندر سے خوش اور حیران ہو رہا تھا۔ شوہر کو ماں نے کہا 

بچیوں کو گھمانے پھرانے لے جاؤ۔ ویسے بھی ماہرہ کے سسرال والے شادی پر زور دے رہے ہیں ۔ پھر اکھٹے کہاں موقع ملے گا ۔ 

شفق کے پاپا نے ایک وین منگوائی اور والدین سمیت سب کو گھمانے پھرانے لے گیا۔ والدین کو اب وہ پوچھنے لگا تھا وہ بہت خوش تھے۔ 

سب کو بہت مزہ آیا شمالی علاقے کی سیر کی۔ کچھ موقعوں پر ماہرہ اور ناہرہ کے منہ سے بے اختیار نکل جاتا اماں ابا اور گلفام بھی ہوتا تو زیادہ مزہ آتا ۔

شفق کی ماں دل میں پچھتاتے اور افسوس کرتی کہ بچیاں ان کو یاد کرتی ہیں ۔

سب کے لیے یہ یادگار سفر تھا۔ 

شفق کے پاپا نے بیٹی کا جہیز بنانے کا ارادہ کیا۔ 

تایا اور تائی نے اب کھبی کبھار بھائی سے  مختصر بات چیت شروع کر دی ۔

وہ بتانے لگا کہ ماہرہ کے سسرال والوں کو بتا دیا ہے کہ بھائی اور بھابھی کے بغیر شادی نہیں ہو گی ان کی شرکت لازمی ہے۔ 

شفق کے تایا نے ڈیٹ بتا دی کہ وہ ایک ماہ کے لیے چھٹی آئیں گے تو شادی کر لینا۔ اسی دوران اس نے ماہرہ کی شادی کی ڈیٹ رکھ دی۔ 

شفق کے پاپا نے شادی کی شاپنگ شروع کر دی۔ تمام بچیوں اور بیوی کواور ماں باپ کو بھی ساتھ رکھتا وہ منع کرتے مگر نہ مانتا۔ سب نے اپنی اپنی پسند سے شاپنگ کی۔ 

ماہرہ کو اس نے اہمیت دی کہ ہر چیز تمہاری پسند سے خریدیں گے۔ ماہرہ بہت خوش تھی اس کو اپنی پسند سے ہر چیز لینا اچھا لگ رہا تھا۔ سب بچیاں خوش تھیں۔ ماہرہ کے سسرال والوں نے آفر دی کہ ہم بری کی شاپنگ دولہن کی پسند سے کرنا چاہتے ہیں تو شفق کے پاپا نے صاف منع کر دیا کہ ماں بہنوں کے سو ارمان ہوتے ہیں آپ جو مرضی اپنی پسند سے خریدیں ہمیں کوئی اعتراض نہ ہو گا۔ 

شادی والے دن وہ ہمارے جوڑے میں رخصت ہو گی۔ آپ کو کچھ بھی زیور کپڑا لانے کی ضرورت نہیں ۔ گھر لے جا کر سے آپ جو مرضی زیور کپڑا اپنی پسند سے پہنائیں ۔

اس کے گھر والوں نے جہیز بنانے سے سختی سے منع کر دیا۔

شفق کے پاپا نے اپنی حصے کی جائیداد تینوں بیٹوں کے نام شرعی طور پر کر دی اور اس پیسے سے تینوں کے لیے ایک ایک پلاٹ نام کر دیا۔

شادی پر دولہے اور اس کے گھر والوں کو قیمتی تحفے دیے۔ دولہے کو گفٹ میں لیب ٹاپ دیا۔ بیٹی کو قیمتی فرنیچر دیا۔

شادی سے چند دن پہلے تایا تائی گھر واپس آ گئے۔ سب کو جیسے کھوئی ہوئی خوشی مل گئی۔

ائیرپورٹ پر جب وہ اترے تو شفق بھاگ کر تائی کے گلے لگی۔ 

والدین گھر پر انتظار کر رہے تھے، شفق ضد کر کے پاپا کے ساتھ آ گئی تھی۔ گلفام کو دیکھ کر حیران رہ گئی، ماشاللہ قد کاٹھ سے وہ کوئی جوان لڑکا لگ رہا تھا۔ شفق اس سے جا کر ملی تو وہ بھی بہت تپاک سے ملا۔

شفق کا بھائی جب اپنے بھائی جان سے گلے ملا تو پھوٹ پھوٹ کر رونے لگا۔ سب لوگ اسے دیکھنے لگے تو شفق نے احساس دلایا کہ سب دیکھ رہے ہیں تو وہ ادھر ادھر دیکھ کر ہٹا پھر جا کر ان کے گلے لگ کر جزباتی انداز میں بولا، 

بھائی جان میں نے آپ کو بہت مس کیا۔ 

بھابھی نے اسکا ماتھا چوما اور پیار سے تسلی دی۔ 

شفق کی ماں بھی دوڑ کر اپنی بہن کے گلے لگی اور روتے ہوئے بولی، 

آپا میں نے آپ کو بہت مس کیا۔ آپ کے بغیر میں تنہا رہ گئی تھی ۔ آپ مجھے اکیلا چھوڑ کر چلی گئی تھی ۔

آپا نے کوئی جواب نہ دیا اور اس کو چوم کر پیچھے ہو گئی ۔

شفق کی ماں نے محسوس کیا کہ ماہرہ اور ناہرہ تائی سے بھاگ کر گلے لگیں اور کافی دیر چمٹی رہیں اور روتی رہیں ۔

شفق کی ماں نے سوچا اتنی گرمجوشی سے تو وہ اسے بھی نہیں ملی تھی، جب وہ اتنے دن میکے رہ کر آئی تھی۔ شفق کی ماں نے ایک سرد آہ بھری۔




شادی والے دن شفق دولہن کو ڈھونڈنے لگی جو کہیں مل نہیں رہی تھی ۔ اسے فکر لگی۔ وہ چھت پر گئی تو ماہرہ تائی کے گلے لگ کر بہت رو رو کر التجا کر رہی تھی کہ اپ لوگ واپس مت جائیں اور وہ اسے تسلی دے رہی تھیں۔ 

شفق نے اسے ڈانٹتے ہوئے کہا، 

دیر کروا رہی ہو پارلر بھی جانا ہے۔ 

اسے ساتھ لیکر پارلر چلی گئی۔ شادی دھوم دھام سے ہو گئی، سب نے بہت تعریف کی۔ شفق کے تایا تائی نے ایک بڑی رقم شادی کے خرچے کیلئے دینا چاہی تو شفق کے والد نے بہت شکریے کے ساتھ ان کو واپس کی اور کہا 

یہ ہمارے گلفام کا حق ہے۔ 

شفق کا باپ روتے ہوئے بولا، 

آپ نے ان کو جس محنت اور لگن سے پالا ہے وہ آپکا احسان ساری زندگی نہیں اتار سکتا۔ اب میں اس کا سارا خرچہ تعیلم کا اٹھاؤں گا۔ 

بھائی جان نے اسے قدرے غصے سے کہا، 

میں ابھی زندہ ہوں۔ بس تم اسے زندہ رہنے دو۔  

کیا مطلب بھائی جان۔ 

شفق کے پاپا نے حیرت سے پوچھا۔



تب اس کے بھائی جان نے اس دن کا سارا واقعی اسے کہہ سنایا۔

شفق کے پاپا نے شرمندہ لہجے میں اعتراف کرتے ہوئے کہا 

میں مانتا ہوں کہ میں نے یہ سب حسد اور جلن میں کہا تھا مگر میں حقیقت میں ایسا کرنے کا کھبی سوچ بھی نہیں سکتا تھا۔

میں اور میری بیوی ہم دونوں ایک ہی مزاج کے تھے اسی لیے ہم دونوں کی بہت بنتی تھی۔ جب انسان ایک باربےراہ روی کا شکار ہو جائے اور کوئی سمجھانے والا نہ ہو تو وہ دلدل میں پھنستا ہی چلا جاتا ہے۔ آپ نے بھی کھبی ہم سے بازپرس نہیں کی نہ روکا نہ ٹوکا۔ ہر وقت تم من وارتے رہے اپنی اور بھابھی کی جان جوکھوں میں ڈال رکھی۔ یہ نہیں کہتے تھے کہ ہم مشکل میں ہیں ایک بیٹی تم پالو۔ وہ کافی دیر ان کے پاؤں پکڑ کر روتا رہا۔ شور سنکر سب آ گئے۔ وہ بھابھی کے پاؤں پڑ کر معافی مانگنے لگا تو بھابھی نے اس کے سر پر شفقت سے ہاتھ پھیرا اور روتے ہوئے بولی، 

تم سے زیادہ مجھے اپنی بہن پر گلہ ہے۔ 

شفق کی ماں نے روتے ہوئے 

آپا کے پاؤں پکڑ لیے اور کافی دیر روتی رہی جیٹھ سے بھی ہاتھ جوڑ کر معافی مانگی۔ 

شفق کی دادی نے کہا، 

تم دونوں اب ان کو معاف کر دو۔ 

تو انہوں نے بڑھ کر ان کو گلے لگا لیا۔ شفق سب کو پانی پلانے لگی۔ 

ناہرہ تائی کو پانی پلا رہی تھی تو تب شفق کی ماں نے دل میں خوش ہو کر سوچا چلو ان کی نیکیوں کا صلہ ہماری بچیاں تو ادا کر رہی ہیں۔ پہلی بار اس کے دل میں حسد نے جگہ نہ لی۔ کیونکہ اس نے اور اس کے شوہر نے راتوں کو جاگ جاگ کر اوپر والے سے بہت معافیاں مانگی تھیں۔


 

شفق دیکھتی اس کی شادی شدہ بیٹی روز تائی کو فون کرتی۔ ناہرہ نے پھر وہاں تائی کے پورشن میں سونے کی کوشش کی کی مگر دادی نے منع کر دیا کہ شفق کے ساتھ سو۔ کیونکہ گلفام بڑا ہو گیا تھا ۔ 

شفق کی تائی واش روم میں گری تو اس کی ٹانگ فریکچر ہو گئی اور وہیل چیئر پر آ گئی۔ ان کا دوبئی کا کنٹریکٹ بھی ختم ہو چکا تھا۔ سب ان کے واپس ہمیشہ آنے پر بہت خوش تھے۔

ناہرہ اور شفق تائی کی جی جان سے خدمت کرتیں۔ شفق کی ماں نے بھی گھر کا سارا نظام سنبھال لیا تھا۔ گھر کے درمیان والی دیوار جو پہلے چڑھائی گئی تھی وہ مسمار کر دی گئی تھی۔ اب ایک جگہ کھانا بنتا تھا سب بہت خوش تھے۔ تایا اب شفق کے باپ کے مشکور تھے کہ ان کی بیوی کی سب اتنی خدمت کر رہے ہیں ۔

وہ ٹھیک بھی ہو گئی تو تب بھی شفق کی ماں اسے کسی کام کو ہاتھ نہ لگانے دیتی کہ آپ نے میکے میں بھی جان ماری ہے اور سسرال میں بھی۔ 

ساس سسر مطمئن رہنے لگے۔ وہ یکے بعد دیگرے دنیا سے رخصت ہو گئے ۔


تائی اب زیادہ وقت عبادت میں گزارتی۔ 

ناہرہ کی شادی پڑوس میں ہی ہوئی ۔ شفق کے والد نے ایک روپیہ بھی بھائی کو لگانے نہ دیا۔ ناہرہ روز دن میں کتنے چکر لگاتی ۔اس کا شوہر بھی کھبی آ جاتا اس کے ساس سسر نہیں تھے۔ وہ اکیلی رہتی تھی۔ تائی کی بہت خدمت کرتی۔ شفق بھی جی جان سے تائی اور تایا پر جان وارتی۔ 

ایک دن شفق کی ماں کمرے میں بیٹھی شوہر سے بڑے دکھی لہجے میں کہہ رہی تھی 

جب شفق بھی بیاہ کر چلی جائے گی تو ہم اکیلے رہ جائیں گے۔ کاش شفق کے لیے کوئی گھر داماد مل جائے۔ ناہرہ کے شوہر کو ساتھ رہنے کو کہا مگر وہ مانتا ہی نہیں۔ حالانکہ وہ اکیلا ہے، رہ سکتا ہے۔ اس کے بہن بھائی اسے رہنے نہیں دیتے تو شفق کے لیے ایسا رشتہ کہاں سے ملے گا ۔

اسی خواہش کا اظہار وہ دونوں اکثر بھائی بھابھی کے سامنے بھی کرتے رہتے۔

وہ تسلی دیتی کہ اوپر والے سے اچھی امید رکھو ۔ سب اچھا ہو گا ۔

شفق کے تایا نے ریٹائرمنٹ کے بعد بزنس کرنا چاہا اور اپنی ساری جمع پونجی بزنس پر لگا کر فیکٹری بنا لی۔ 

اب بیٹا پڑھ بھی رہا تھا اور شام کو فیکٹری بھی دیکھتا تھا۔ شفق کے پاپا نے بھی شام کو فیکٹری کو وقت دینا شروع کردیا اور کوئی فائدہ نہ اٹھاتا نہ ہی اجرت لیتا۔ اگر بھائی کچھ دینا بھی چاہتا تو وہ بڑے پیار سے انکار کر کے کہتا، بھائی جان آپ کے مجھ پر اتنے احسانات ہیں کہ میں ساری زندگی لگا رہوں تو اتار نہیں سکتا۔

شفق کی ڈگری مکمل ہو چکی تھی۔ اس نے پاپا سے خواہش ظاہر کی کہ وہ بھی تایا کے بزنس میں ہاتھ بٹانا چاہتی ہے۔ پہلے تو کوئی بھی نہ مانا پھر گلفام نے اپنے باپ اور چچا سے کہا 

اس کے ساتھ ہونے سے مجھے بڑی سہولت ہو جائے گی کیونکہ گھر بیٹھے یہ مجھے ہیلپ کرتی رہتی ہے سارا کام سیکھ چکی ہے ۔

تایا اور شفق کے پاپا نے جب شفق کا کام دیکھا تو کافی متاثر ہوئے۔ اب وہ باقاعدہ سے ساتھ جانے لگی۔ گھر آ کر بھی شام کو گلفام اور شفق آفس کے کام میں لگے رہتے اکھٹے چائے پیتے کھانا کھاتے گپ شپ لگاتے ۔



شفق کے رشتے آنے لگے اور شفق کے پاپا بھائی جان سے اس بارے میں صلاح ومشورہ لینے لگے۔

تائی نے ایک دن شوہر کو کیا، 

میری بڑی خواہش ہے کہ شفق ہماری بہو بنے مگر عمر کا فرق ہے۔ ہمیں تو اس کی عمر سے فرق نہیں پڑتا۔ بیٹا بھی شاید مانے یا نہ مانے۔ منایا بھی جا سکتا ہے اسے۔


شفق کی ماما نے اتفاق سے سن لیا۔

اس نے شوہر سے بات کی تو وہ لیٹا ہوا تھا ایکدم سے اٹھ کر بیٹھ گیا اور بڑی دلچسپی سے پوچھنے لگا 

کیا واقعی بھائی جان اور بھابھی ایسا چاہتے ہیں۔ مگر ہم اپنے منہ سے یہ بات کرتے اچھے نہیں لگتے۔ وہ پھر کہیں گے ہم لالچ کر رہے ہیں اس لیے تم نے زبان پر نہیں لانا۔ یہ ممکن نہیں ہے بچے بھی نہیں مانیں گے ۔میں دیکھتا ہوں ایک دو رشتے مجھے پسند ہیں اور جلد ان میں سے ایک فائنل کر کے جلد اس فرض سے سبکدوش ہو جاؤں گا، پھر حج کرنے چلیں گے۔ 

شفق کے پاپا نے ایک رشتہ بھائی جان کے مشورے سے فائنل کر دیا ۔

شفق کے تایا نے بیوی کو منع کر دیا 

یہ رشتے کی بات کر کے ہم ان کی ناراضگی مول لے لیں گے۔ ہم خود غرض کہلائیں گے۔


شفق کی شادی کی تیاریاں شروع ہو گئی ۔

گلفام ہر وقت کہتا۔ شفق چلی گئی تو میرے کام کا کیا ہو گا۔ وہ اداس رہنے لگا۔ جبکہ شفق نارمل تھی۔ سب گھر والوں نے محسوس کیا کہ گلفام شفق کی جدائی سے پریشان ہے شاید وہ اسے چاہنے لگا تھا۔ وہ اس رشتے میں نقص نکالنے لگا۔ وہ لوگ آتے تو ان سے رکھائی سے ملتا۔ اس کا کھانا پینا چھوڑ گیا تھا اس نے سموکنگ شروع کر دی تھی۔ 

شفق کی تائی ایک دن کمرے میں گئی تو وہ ماں کے آ گے رو پڑا۔ اب تو شفق کو بھی کچھ کچھ اندازہ ہونے لگا تھا، وہ اس کو ڈھکے چھپے لفظوں میں سمجھانے کی کوشش کرتی ۔ مگر ایک دن اس نے برملہ اپنی محبت کا اظہار کر دیا تو شفق نے روتے ہوئے اس کے آگے ہاتھ جوڑ کر کہا  

مجھے تم سے شادی کرنے پر کوئی اعتراض نہیں۔ کیونکہ تم مجھے اس لیے عزیز ہو کہ میرے پیارے تایا تائی کے بیٹے ہو۔ وہ کیا سوچیں گے میں خود غرض ہو گئی ہوں۔ اس گھر میں اور اس گھر کے لوگوں میں ہمیشہ ان کے ساتھ رہنا میرے لیے خوش قسمتی ہے۔ سچ بات تو یہ ہے کہ میں ان سب سے بہت پیار کرتی ہوں اور مجھے دشوار لگ رہا ہے ان سب کے بغیر رہنا۔ 

ان دونوں کو اندازہ نہ تھا کہ باہر سب کھڑے تھے۔ دراصل شفق کو کمرے میں جاتا دیکھ کر سب کو تائی نے بلا لیا کہ چلو ملکر گلفام کو سمجھاتے ہیں تو ان کی گفتگو سن کر سب خوش ہو گئے کہ جب ان دونوں کی خوشی اسی میں ہے تو پھر ہمیں بھلا کیا اعتراض ہے۔ 

تایا نے شفق کے پاپا سے کہا، 

میرے چھوٹے بھائی کیا تم مجھے شفق بیٹی کا رشتہ دو گے کوئی اعتراض تو نہیں ۔ 

شفق کے پاپا نے آگے بڑھ کر فرط جذبات سے کہا  

بھلا مجھے کیا عتراض ہو سکتا ہے ایک اور احسان کے نیچے مجھے آپ نے دبا دیا ہے ۔ 

شفق کے تایا بولے 

پگلے احسان تو تم ہم پر کر رہے ہو اتنی سلجھی ہوئی اورہم سب پر جان نچھاور کرنے والی بہو ہمیں اور کہاں سے ملے گی۔ 

سب کے چہرے خوشی سے دھمکنے لگے۔ سب ایک دوسرے سے گلے ملکر مبارک باد دینے لگے۔ شفق شرما کر جانے لگی تو تائی نے اسے روک کر جھٹ اپنی انگوٹھی اسے پہنا دی۔ 

شفق کے پاپا نے اپنی قیمتی گھڑی گلفام کی بازو میں پہناتے ہوئے اسے پیار سے وارننگ دی 

مجھے پہلے والا گلفام چاہیے ۔

شفق کی ماما نے کہا، 

ارے آپ سب لوگ بچوں کو ٹرخا رہے ہیں اپنے پرانے گفٹ دے کر انہیں بازار لے جا کر نئے دلائیں ۔

تو یکمشت شفق اور گلفام تیزی سے بولے،

 یہ گفٹ ہمیں سب تحفوں سے عزیز ہے یہ ہمارے لیے تبرک کا درجہ رکھتا ہے ۔

سب نے بڑھ کر دونوں کو پیار کیا اور تائی جلدی سے بولی، 

اب ان کی شادی کی تاریخ بھی رکھ دیتے ہیں ۔ 

گلفام نے شرارت سے کہا، 

زیادہ دور کی نہ رکھیے گا۔ 

ماں نے پیار سے ہلکی سی چپت لگائی اور پیار بھری ڈانٹ سے کہا، 

بے شرم۔ 

شفق باہر بھاگ گئی۔ 



🎉

ناول اختتام پذیر ہوا

You've reached the end of this journey. We hope you loved every episode!

Reader Comments

No comments yet. Be the first to share your thoughts!

Log in to leave a comment.

Related Novels

Selected For You

View More Free Novels

Editor's Choice

Handpicked favorites that you shouldn't miss.

Premium Membership

Unlock the Full Library

One subscription. Every story. Unlimited reading.

PKR 300
30 Days of Unlimited Access
Go Premium Now

Secure payment  ·  Instant access

Full Novel Library
Access every premium & exclusive novel — no episode locked
Unlimited Reading
Read as much as you want, whenever you want, at your pace
Support the Author
Your subscription directly supports Abida Z Shireen's work
New Episodes First
Be the first to read every new episode as soon as it drops
A F S R N
Join thousands of readers already enjoying premium access
Loved by readers
Our Literary World

Experience the Best Urdu Novels Online

Dive into decades of storytelling by Pakistan's most beloved author, now at your fingertips.

50+
Published Novels
30+
Years of Writing
1M+
Readers Worldwide
100%
Authentic Stories
01

The Legacy of Abida Z Shireen

Welcome to the digital sanctuary of Abida Z Shireen, one of Pakistan's most celebrated literary icons. As a premier Urdu storyteller, she has spent decades crafting narratives that capture the soul of our society. This online Urdu reading platform is designed to preserve her vast Urdu literature archive, offering readers a chance to read Urdu novels online that explore the depths of human emotion, culture, and resilience.

Read Her Story
Abida Z Shireen
Author
02

Captivating Novels & Social Sagas

From suspense-filled thrillers to heart-touching social dramas, our collection features the best Urdu novels that have captivated millions in publications like Aanchal Digest. Whether you are looking for new Urdu novels 2024 or timeless classics, Abida's work provides a unique lens into family dynamics and romantic storytelling. Dive into her world and discover why she is considered a top Urdu digest writer by fans globally.

Browse All Novels
Reading Urdu Novels on Tablet and Phone
Novels
03

Soul-Stirring Urdu Poetry Collection

Beyond prose, this platform hosts an extensive Urdu poetry collection. Abida Z Shireen's verses offer a profound look into spiritual and philosophical themes, available in both Urdu and English. As a featured Urdu poet, her work serves as a bridge between traditional rhythms and modern thought. Join our community of literature lovers to explore famous Urdu poems and exclusive literary insights found nowhere else.

Explore Poetry
Elegant Desk with Pens and Books
Poetry