Logo
Intzaar Taweel Tha
8 Episodes
Intzaar Taweel Tha EP 5
Episode 5

انتظار طویل تھا 5

Intzaar Taweel Tha


پانچواں حصہ - 5th Part

 

بسمل نے آفس جانا شروع کر دیا قدرے فیشن ایبل تھی مگر اس میں بھی پردہ رہتا، لباس میں کوئی عریانی نہ ہوتی۔ دوپٹے میں جاتی سر پر نہ کرتی۔ ماں ٹوکتی تو کہتی 

"اماں مجھے چادروں میں الجھن ہوتی ہے اور لوکل جانا ہو تو مشکل لگتا ہے گرمی حبس اور دھکے کھا کر جانا ہوتا ہے تو بہت مشکل پیش آتی ہے"

فریال نے ماں کو سمجھاتے ہوئے کہا 

'اماں ہماری پھول جیسی بہن کملا گئی ہے اسے نہ روکیں ٹوکیں"

فریال نے عدت ختم ہوتے ہی زبردستی نوکری کر لی مگر اسکول کی نوکری تھی گھر کے قریب تھا جلدی گھر آ سکتی تھی۔ ماں بھی اب قدرے بہتر ہونے لگی تھی۔

ایان گھر کے روم میں بیٹھا سوچ رہا تھا کہ اتنا زیادہ وقت گزر چکا ہے سال بھر ہونے کو ہے مگر بسمل کی کوئی خبر نہیں ہے کہ کدھر چلی گئی ہے۔ وہ کافی بار پرانے محلے پتا کرنے جا چکا تھا اور فون بھی کرتا مگر بسمل کسی میسج کسی فون کا جواب نہ دیتی تھی اور نہ ہی اسے اس کے گھر کا ایڈریس معلوم تھا۔

فریال نے بسمل سے پوچھا 

"کھبی ایان کا فون آیا" تو بسمل نظریں چراتے ہوئے بولی

" نہیں"

فریال نے اس کی طرف غور سے دیکھتے ہوئے پوچھا 

"ذرا میری طرف دیکھ کر بتاؤ تو کیا سچ بول رہی ہو تمھیں اماں کی قسم سچ بتاؤ کیا بات ہے ورنہ میں ناراض ہو جاوں گی سمجھی تم"

ایان روتے ہوئے بولی 

"آپا اس کا فون اس دن چوری ہو گیا تھا جس کی وجہ سے اس نے رابطہ نہیں کیا پھر اسی دن اس خالہ کا بیٹا باہر فوت ہو گیا تھا تو وہ لوگ ادھر مصروف ہو گئے تھے پھر جب ادھر سے فارغ ہوئے تو ایان نے مجھے فون کیا مگر میں نے اسے سختی سے منع کر دیا کہ ہم لوگ اتنے بھی مجبور نہیں ہیں کہ اپنی عزت کا سودا کر لیں۔ تمھاری خالہ کون ہوتی ہیں ہماری بے عزتی کرنے والی اور آئندہ کے بعد مجھ سے رابطہ کرنے کی کوشش نہ کرنا پھر میں نے اسے بلاک تو نہ کیا مگر اس کے فونز اور میسیجز کا جواب نہیں دیا"

"کیا اب بھی کرتا ہے فون یا میسیجز"

"نہیں کچھ عرصے سے بند ہیں ظاہر ہے مرد ذات ہے اتنا ہی حوصلہ ہوتا ہے ان مردوں میں اب تک تو شادی بھی کر چکا ہو گا شاید صاحب اولاد بھی ہو چکا ہو"

فریال نے چلاتے ہوئے کہا 

"مگر تم نے ایسا کیوں کیا-"

بسمل نے ٹھنڈی آہ بھر کر کہا 

"اگر میں شادی کر کے چلی جاتی تو امی جان اور تمھارا کیا بنتا۔ اگر ان کے گھر لے کر جاتی تب بھی خالہ بے عزتی کرتی رہتی جو مجھ سے سہنا مشکل ہوتا۔"

فریال نے غصے سے کہا 

"تم نے پھر اسکا نمبر ابھی تک موبائل میں سیو کیوں کیا ہوا ہے لاؤ موبائل میں ابھی اسے ڈیلیٹ کرتی ہوں" 

اس نے اسکا موبائل فون اس سے چھین کر اسکا نمبر ڈیلیٹ کر دیا اور موبائل اس کے بیڈ پر پھینک کر تیزی سے کمرے سے نکل گئی۔ بسمل نے آنسوؤں بھری آنکھوں سے سوچا کہ نمبر تو دل پر لکھا ہے بھلے موبائل سے ڈیلیٹ کر دو۔

اماں آج پھر بچیوں کو سمجھا رہی تھی کہ رشتے والی بہت سے رشتے بتا چکی ہے عمر گزرتے دیر نہیں لگتی تم لوگ جلدی کسی جگہ ہاں کر دو تاکہ مجھے سکون مل سکے-

فریال ماں سے بولی 

"بسمل کی شادی ہو جانی چاہیے میں نے دوبارہ شادی نہیں کرنی ایک تجربہ ہی کافی ہے، ویسے بھی آپ کا ساتھ نہیں چھوڑ سکتی ہوں۔"

ماں نے فریال سے پوچھا 

"بیٹی آج تھوڑی دیر نہیں ہو گئی تمھارے آنے میں کیا؟"

فریال نے چادر اتارتے ہوئے کہا 

"اماں بس نکلتے نکلتے دیر ہو گئی ہے"

ماں کے پاس پڑوسن بیٹھی بتا رہی تھی کہ اس کی بیٹی اس کے کالج میں پڑھتی ہے وہ بتا رہی تھی کہ فریال آج کالج نہیں آئی۔ اماں کو سن کر شاک لگا مگر خود پر قابو پا کر بولی 

"ہاں آج وہ کسی کام سے باہر گئ ہے"

عورت کے جاتے ہی فریال گھر میں داخل ہو کر بولی 

"اماں آج کیا پکایا ہے بہت بھوک لگی ہے"

ماں نے کہا 

"پہلے کالج کی کوئی بات نہیں بتائی آج یہ ہوا وہ ہوا-"

فریال ٹالتے ہوئے بولی 

"اماں آج کچھ خاص نہیں ہوا جو بتاؤں۔ میں روٹی بنا لوں پھر مل کر کھاتے ہیں۔

اماں بولی 

"مجھے آج بھوک نہیں ہے"

فریال اس کو پیار کرتے ہوئے بولی 

'نو ناغہ آپ نے دوائی کھانی ہوتی ہے روٹی لازمی کھانی پڑے گی"

اماں دل میں سوچنے لگی مجھے اپنی بیٹیوں پر بھروسہ ہے مگر آج فریال کدھر گئی تھی چلو دیکھتے ہیں خود بتا دے گی۔

چند دن گزرے، اماں جمعرات بازار سے سودا لینے پڑوسن کے ساتھ رکشے میں جا رہی تھی کہ پاس سے گزرتی گاڑی میں انہیں فریال نظر آئی ساتھ کون تھا وہ نہ پہچان سکیں انہوں نے ڈرتے ڈرتے پڑوسن کو دیکھا مگر وہ منہ دوسری طرف کیے دیکھ رہی تھی۔ اماں نے شکر کیا کہ اس نے نہیں دیکھا وہ دکھ سے نڈھال ہو رہی تھیں مگر خود پر قابو پا رہی تھیں۔ پڑوسن نے ان کی بدلتی رنگت دیکھ کر پوچھا کہ کیا ہوا پسینہ کیوں آ رہا ہے۔

وہ نڈھال ہو کر بولی 

"طبیعت خراب ہے" 

اور بے ہوش ہوگئی _

پڑوسن نے چیخ کر رکشے والے کو قریبی کلینک لے جانے کا بولا اور اماں کے موبائل سے فریال کو فون کرنے لگی- 

اماں ٹھیک ہو کر گھر آ چکی تھی بیٹیوں نے رو رو کر اپنا حال خراب کر لیا تھا وہ کہتیں کہ اماں کے علاوہ ہمارا اس دنیا میں کون ہے۔

اماں بیٹیوں کو دیکھتی تو سوچتی کیا یہ مجھ سے اتنا پیار کرنے والیں مجھے دھوکہ کیسے دے سکتی ہیں خاص طور پر فریال سے تو مجھے بلکل بھی امید نہ تھی کہ وہ کسی کے ساتھ گاڑی میں جاے اور مجھ سے جھوٹ بولے۔ پہلے بھی ایک عورت نے مجھے بتایا تھا مگر میں نے یقین نہیں کیا تھا مگر اب تو خود میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے۔ آج میں فریال سے سچ پوچھوں گی اور اجازت دے دوں گی جہاں دل کرتا ہے شادی کر لو مگر ایسے دھوکہ نہ دو۔ پھر اس کا ذہن اس طرف چلا گیا کہ کہیں دولت کا لالچ تو نہیں آ گیا توبہ توبہ اللہ رحم فرمائے کھبی ایسا نہ ہو۔ آج میں ضرور پوچھوں گی۔

جاوید صاحب نے ایان سے پوچھا 

"بیٹا کب تک انتظار کرو گے کچھ تو بتاؤ۔ میں تمھاری شادی کر کے فرض سے فارغ ہونا چاہتا ہوں۔ خالہ جی کو بیٹے کی وفات کا جو غم ملا ہے اس نے ان کی کمر توڑ دی ہے۔ گھر میں بہو آئے تو کچھ رونق لگے تم کب تک بسمل کا انتظار کرو گے آفس جا جا کر بھی منتیں کر چکے ہو مگر وہ تیار نہیں ہوتی ہے۔"

ایان نے غصے سے کہا

"آپ لوگ بھی تو میرے ساتھ ضد لگا کر بیٹھے ہوئے ہیں کہ خالہ معافی نہیں مانگیں گی اب بس آپ لوگ مجھے میرے حال پر چھوڑ دیں اس نے شرط رکھی ہے کہ بے شک فون پر بول دیں۔ اماں کو تاکہ اسے یقین ہو جائے کہ آپ لوگوں نے دل سے انہیں قبول کر لیا ہے وہ حق بجانب ہے۔ میں بھی ہوتا تو ایسا ہی کرتا"

 


چھٹا حصہ - 6th Part



Continue Reading
Episode 6
انتظار طویل تھا 6

Reader Comments

No comments yet. Be the first to share your thoughts!

Log in to leave a comment.

Related Novels

Selected For You

View More Free Novels

Editor's Choice

Handpicked favorites that you shouldn't miss.

Premium Membership

Unlock the Full Library

One subscription. Every story. Unlimited reading.

PKR 300
30 Days of Unlimited Access
Go Premium Now

Secure payment  ·  Instant access

Full Novel Library
Access every premium & exclusive novel — no episode locked
Unlimited Reading
Read as much as you want, whenever you want, at your pace
Support the Author
Your subscription directly supports Abida Z Shireen's work
New Episodes First
Be the first to read every new episode as soon as it drops
A F S R N
Join thousands of readers already enjoying premium access
Loved by readers
Our Literary World

Experience the Best Urdu Novels Online

Dive into decades of storytelling by Pakistan's most beloved author, now at your fingertips.

50+
Published Novels
30+
Years of Writing
1M+
Readers Worldwide
100%
Authentic Stories
01

The Legacy of Abida Z Shireen

Welcome to the digital sanctuary of Abida Z Shireen, one of Pakistan's most celebrated literary icons. As a premier Urdu storyteller, she has spent decades crafting narratives that capture the soul of our society. This online Urdu reading platform is designed to preserve her vast Urdu literature archive, offering readers a chance to read Urdu novels online that explore the depths of human emotion, culture, and resilience.

Read Her Story
Abida Z Shireen
Author
02

Captivating Novels & Social Sagas

From suspense-filled thrillers to heart-touching social dramas, our collection features the best Urdu novels that have captivated millions in publications like Aanchal Digest. Whether you are looking for new Urdu novels 2024 or timeless classics, Abida's work provides a unique lens into family dynamics and romantic storytelling. Dive into her world and discover why she is considered a top Urdu digest writer by fans globally.

Browse All Novels
Reading Urdu Novels on Tablet and Phone
Novels
03

Soul-Stirring Urdu Poetry Collection

Beyond prose, this platform hosts an extensive Urdu poetry collection. Abida Z Shireen's verses offer a profound look into spiritual and philosophical themes, available in both Urdu and English. As a featured Urdu poet, her work serves as a bridge between traditional rhythms and modern thought. Join our community of literature lovers to explore famous Urdu poems and exclusive literary insights found nowhere else.

Explore Poetry
Elegant Desk with Pens and Books
Poetry