Logo
Intzaar Taweel Tha
8 Episodes
Intzaar Taweel Tha EP 6
Episode 6

انتظار طویل تھا 6

Intzaar Taweel Tha


چھٹا حصہ - 6th Part


 

فریال گھر واپس آئی تو اماں کو ناراض سا پایا۔ اماں سے کھانے کا پوچھا تو وہ بولی 

"زہر دے دو مجھے، ایک ہی بار مار دو، روز روز یہ سوچ کر مرنا نہ پڑے کہ میری وہ بیٹی جس پر مجھے اندھا اعتماد تھا وہ مجھ سے جھوٹ بولے گی مجھے دھوکہ دے گی اگر میں اس دن تجھے رکشے میں کسی کے ساتھ کار میں جاتا نہ دیکھتی تو مجھے محلے کی عورت کی بات کا یقین نہ آتا، سچ بتا کس کے ساتھ گل چھڑے اڑاتی پھرتی ہے۔

فریال یہ بات سن کر دم بخود رہ گئی اور اماں کے پاوں میں بیٹھ کر پیر پکڑ کر روتے ہوئے بولی

"اماں میں آپ کو دھوکہ دینے کا کھبی سوچ بھی نہیں سکتی"

اماں نے گرج کر پاوں سے ٹھوکر مارتے ہوئے کہا 

"پھر بتا کس یار کے ساتھ گاڑی میں جا رہی تھی اور پرسوں تو سکول گئی ہی نہیں بتا کدھر گئ تھی" 

وہ چیخ کر گرجیں

فریال نے آنسو صاف کرتے ہوئے بتایا 

"اس نے اس لیے سچ چھپایا کہ آپ پریشان نہ ہوں ورنہ خدا گواہ ہے آپ کی بیٹی ایسی نہیں۔ آپ بھروسہ رکھیں، اس نے اپنی اور بسمل کی ساری گفتگو اماں کو بتا دی۔

اماں سن کر پریشان سی ہو گئی اور پوچھنے لگی

"آخر کیا بات تھی کہ جاوید صاحب نہیں مان رہے تھے"

فریال نے بتایا

"اس نے ایان کا نمبر زبانی یاد کر کے بسمل کے فون سے ڈیلیٹ کر دیا اور واپس آ کر ایان سے فون پر چھپ کر بات کی تو اس نے بتایا کہ جب خالہ ہمیں سنا کر گئی تو بسمل نے ایان کو گلہ کیا اور شرط رکھ دی کہ وہ اماں سے معزرت کریں گی تو شادی کروں گی"

ایان نے جواب دیا 

'مجھے بھی خالہ پر سخت غصہ آ رہا ہے انہیں معزرت کرنی پڑے گی، پھر خالہ کا بیٹا فوت ہو گیا اور وہ لوگ ادھر بزی ہو گئے"

جب ایان نے جاوید صاحب سے بات کی تو انہوں نے یہ شرط ماننے سے انکار کر دیا کہ خالہ کسی صورت معافی نہیں مانگیں گی جس کی وجہ سے باپ بیٹے میں ٹھن گئی اور ادھر بسمل بھی اڑ گئی کہ میری ماں سے چلو فون پر ہی سہی معزرت کر لیں تو ہمارے دل کو اناء کو بھی سکون مل جائے گا مگر جاوید صاحب نہ مانے اور خالہ تو پہلے ہی بمشکل مانی تھی اب اور اسے دوسری جگہ شادی پر اصرار کرنے لگی اور نخوت سے کہتی معافی مانگتی ہے میری جوتی ان لوگوں کی اوقات کیا ہے یہ تو ہمارا بچہ ہمیں ذلیل کروا رہا ہے ورنہ ان کی اتنی جرات کہاں جو ہم سے مقابلہ کر سکیں، ہمارے لڑکے کو عقل نہیں آتی کہ ایسی لڑکیاں پیچھے لگانے میں ماہر ہوتی ہیں بس لڑکا دولتمند ہو۔

ایان پیچ وتاب کھا کر رہ جاتا، باپ سے کہتا 

"خالہ کی آپ اتنی فیور کیوں کرتے ہیں تو وہ جواب دیتے وہ میری ماں کا نعمل بدل ہیں"

فریال نے ماں کو بتایا کہ میں فون کر کے ایان سے ملنے گئی تھی تاکہ اس مسئلے کا کچھ حل نکل سکے یا تو بسمل مان جائے تو مسئلہ ہی حل ہو جائے۔ اب تو خالہ کا بیٹا بھی فوت ہو چکا ہے اور جاوید صاحب کی ہمدردی اب مزید پکی ہو چکی ہے۔

اماں نے پیار سے فریال کو روتے ہوئے گلے لگا کر معزرت کی تو فریال نے کہا 

"اماں جان ہم بیٹیاں آپ کا غرور ہیں جو کھبی ٹوٹے گا نہیں، بسمل کو بہت سمجھایا کہ اپنی ضد چھوڑ دے ورنہ اتنا پیار کرنے والا انسان کھو دے گی کب تک وہ انکار کرے گا اسے گھر والے اموشنل بلیک میل کر کے بھی منا سکتے ہیں مگر وہ کہتی ہے میں ماں کی عزت نفس پر کمپرومائز نہیں کروں گی چاہے مجھے ایان کو ہی کھونا کیوں نہ پڑے، ہم نے یہ سب آپ سے اس لیے چھپایا کہ آپ پریشان نہ ہوں"

اماں نے کہا 

"میں ان کی خالہ کو افسوس کرنے کے لیے جانا چاہتی ہوں مگر بسمل کو پتا نہ چلے اور اس مسئلے کا بھی شاید کوئی حل نکل سکے"

ایان نے باپ کو منا لیا کہ فریال اور اس کی اماں خالہ کے پاس افسوس کے لئے آنا چاہتی ہیں۔

وہ خوشی سے بولے 

"بہت اچھی بات ہے ان لوگوں کو ہمارے دکھ کا احساس ہوا ہے ضرور تشریف لائیں اگر وہ نہ آتے تو شاید مجھے افسوس ہوتا مگر اب میں متاثر ہوا ہوں۔"

خالہ جل کر بولی

"ارے بےوقوفو وہ اپنی بیٹی لگانے کے چکر میں آ رہی ہے اسے اب آنے کا موقع مل رہا ہے۔"

ایان غصے سے بولا 

"پلیز ان کی نیت پر شک نہ کریں ان کو بیٹی لگانے میں کیا مسئلہ ہے ان کی بیٹی کی طرف سے دیر ہے جس کو اپنی خوشیوں سے زیادہ ماں کی عزت پیاری ہے اور اس کی اسی خوبی نے مجھے اور زیادہ اس کا گرویدہ بنا دیا ہے ورنہ اگر وہ آسانی سے مان جاتی تو شاید میں بھی اسے عام لڑکی سمجھتا مگر وہ بہت خاص لڑکی ہے اور میں اس کا ساری زندگی انتظار کر سکتا ہوں"

فریال نے اسکول سے چھٹی لی اور ماں کو لے کر آٹو میں چل پڑی۔

ایان نے آفر کی تھی بتانا میں لینے آ جاوں گا فریال نے کہا چند دن تک چکر لگائیں گے جس دن آنا ہوا تو بتا دوں گی مگر وہ اچانک جانا چاہتی تھی تاکہ اس پر برڈن نہ پڑے۔ دونوں بسمل کو بتائے بغیر چل پڑیں اس نے باتوں باتوں میں لوکیشن پوچھ لی تھی۔ راستے سے فروٹ کی باسکٹ اچھے طریقے سے پیک کروا کر لے لی۔

عین گھر کے گیٹ پر پہنچ کر ایان کو فون کیا تو وہ کافی حیران ہوا اور فوراً گھر سے باہر بھاگا آیا اور باپ کو بھی فون کر دیا وہ گھر سے باہر تھا اس نے کہا 

"میں میٹنگ میں ہوں میرے آنے تک انہیں جانے نہ دینا۔"

ایان خوشی سے پاگل ہو رہا تھا فریال اسے جوس کے علاوہ کچھ تکلف نہ کرنے دے رہی تھی۔ فریال نے اماں سے کہا تھا رشتے کے ٹاپک پر آج کوئی بات نہیں کرنی آج ہم صرف افسوس کے لیے جا رہے ہیں ان لوگوں کو یہ نہ لگے کہ ہم اس کی آڑ میں اپنا الو سیدھا کر رہے ہیں۔

خالہ نے پہلے تو منہ بنائی رکھا پھر وہ پگھلنے لگی کیونکہ فریال نے ہی چاے خود بنائی اور پھر برتن بھی دھو دیے۔ خالہ نے دوائی کھانی تھی تو اس نے جلدی سے آلو کی بجیا پکا کر خالہ کو روٹی پکا دی۔ خالہ کو ان کے آنے سے رونق سی لگنے لگی اس کا دل بھی بہلنے لگا اس نے فریال کو مجبور کیا کہ ماں کے لئے بھی روٹی پکاؤ۔ خالہ اتنے دنوں سے ہوٹل کی روٹی سالن کھا رہی تھی کام والی خالہ کے رویے کی وجہ سے ٹکتی ہی نہ تھی، خالہ نے شکر کیا کہ آج گھر کا کھانا نصیب ہوا اور وہ بھی اتنی جلدی اس نے پکا بھی لیا۔

ایان کو بھی کھانا بہت اچھا لگا فریال نے بسمل کو دیر ہو جانے کی وجہ سے سب سچ بتا دیا۔ فریال لوگ جانے لگے تھے مگر جاوید صاحب نے کہا جب تک میں آ نہ جاؤں آپ لوگ ملے بغیر مت جائیں۔ جاوید صاحب آئے تو خالہ کو خوشگوار موڈ میں فریال کی ماں سے گھل مل کر باتیں کرتے دیکھ کر بہت خوش ہوئے۔ خالہ اکیلی بور ہوتی رہتی تھی جب اس نے فریال کی ماں سے باتیں کرنی شروع کیں تو اس کی سمجھداری سے اور مہزب گفتگو سے دل میں متاثر ہونے لگی اس نے نوٹ کیا کہ اسے گھر جانے کی جلدی تھی اور اس نے اس ملاقات سے فائدہ اٹھاتے ہوئے رشتے کی کوئی بات نہ کی۔اسے ان کی کمپنی اچھی لگنے لگی ان کے جانے کا سوچ کر اسے پریشانی ہونے لگی۔ خالہ کے کپڑوں پر جوس گر گیا تو ان کے کپڑے پریس کر کے دیے اور ان کے کپڑوں کو ہاتھ سے ہی دھو کر ڈال دیے۔ خالہ بھی انہیں مزید بیٹھنے پر اصرار کرنے لگی۔ جاوید صاحب باہر سے کھانا آرڈر کرنے لگے تھے مگر خالہ نے سالن کی بہت تعریف کی اور فریال سے کہا کہ جاوید کو روٹی پکا دو۔ جاوید صاحب کو بھی گھر کا سادہ کھانا کھا کر بہت مزہ آیا اور انہوں نے بہت شکریہ ادا کیا۔

فریال نے ماں کو جانے کا بولا 

"بسمل گھر میں اکیلی ہے" 

تو جاوید صاحب نے کہا کہ وہ خود چھوڑ کر آتے ہیں خالہ نے بھی چھوڑنے پر اصرار کیا۔ جاوید صاحب نے کہا کہ وہ گاڑی میں پٹرول ڈلوا کر ابھی آتے ہیں اتنے میں آپ لوگ گپ شپ لگائیں۔ فریال نے سوچا چلو میں اتنی دیر میں ایک سالن بنا دیتی ہوں جو بعد میں ان کے کام آ جائے گا اس نے فریزر سے چکن نکال کر جلدی جلدی میں پکانا شروع کر دیا۔ وہ چکن پکا کر فارغ ہو چکی تھی، جاوید صاحب نے آنے میں دیر کر دی تھی۔

ایان نے فون کیا مگر فون پک نہیں کر رہے تھے سب پریشان ہونے لگے ادھر بسمل بھی بار بار آنے کا پوچھ رہی تھی۔

ایان کو فون آیا تو اس نے زور سے چلا کر کہا کیا کون سے ہاسپٹل میں اور فون بند کر کے پریشانی سے بولا، 

"ڈیڈ کا ایکسیڈنٹ ہو گیا ہے شکر ہے بچ گئے ہیں ٹانگ میں فریکچر آیا ہے میں ہاسپٹل جا رہا ہوں۔

فریال نے کہا کہ میں بھی ساتھ چلتی ہوں۔ خالہ فریال کی ماں کا ہاتھ پکڑ کر بولی 

"پلیز آپ نہ جانا مجھے اکیلا چھوڑ کر"

بسمل کو فریال سب بتا رہی تھی خالہ کے positive رویے کی رپورٹ بھی دے رہی تھی۔

جاوید صاحب کی ٹانگ پر پلاسٹر چڑھا دیا گیا تھا اور ایان بسمل کو لے کر اپنے گھر چھوڑ گیا تھا خالہ اسے دیکھ کر نارمل رہی، مگر بسمل نے سلام کے بعد فالتو بات نہ کی۔ خالہ چونکہ اکیلی تھی اور بسمل بھی اکیلی لحاظہ سب کو اس گھر میں اکٹھے رہنا پڑا۔ ایان رات باپ کے پاس رکا۔ فریال نے سوپ بنا دیا اور ایان کو بھی زبردستی تھوڑا بہت کھانا کھلا دیا۔

دونوں بہنوں نے ملکر گھر کے کام سنوارے، ڈیجیٹل مشین میں کپڑے دھو کر پریس کر دیے کہ اماں کا حکم تھا کہ ان کے پہننے والے کپڑے ریڈی کر دو۔ صبح خالہ کو گھر کا پراٹھہ ملا تو بہت خوش تھی کام والی صفائی کر کے چلی گئی۔ دوسرے دن جاوید صاحب گھر واپس آ گئے تو یہ سن کر انہیں افسوس ہوا کہ دونوں بہنیں لاؤنج کے صوفوں پر سوئی تھیں۔

خالہ بھی ان کی شرافت کی دل میں قاہل ہونے لگی۔ انہوں نے مردوں کے خالی بیڈ روم میں سونا بھی مناسب نہ سمجھا۔ اماں تو خالہ کے ڈبل بیڈ پر سو گئی۔

فریال نے ماں کے کہنے پر دو تین سالن پکا دیے کہ پیچھے ان لوگوں کو مسئلہ نہ ہو۔ جب وہ لوگ جانے لگیں تو خالہ پریشان ہو کر بولی کم از کم فریال کو ادھر چھوڑ دو میری کل فلاہیٹ ہے میں نہ جاتی مگر وہاں پنشن کا مسئلہ ہے جانا ضروری ہے۔ یہ لوگ مسئلے میں ہیں جیسی عورت دیکھ بھال کر سکتی ہے ویسے ایان نہیں کر سکے گا۔

فریال کی ماں بولی بہن جی میری بیٹی بھی جوان ہے بسمل اور اسے پیچھے اکیلا نہیں چھوڑ سکتی ہوں ورنہ فریال کے ساتھ میں رہ جاتی آپ میری مجبوری کو سمجھنے کی کوشش کریں میں اکیلے ادھر فریال کو نہیں چھوڑ سکتی دنیا کیا کہے گی نامناسب ہے۔

خالہ نے پھر تجویز پیش کر دی کہ آج ہی فریال کا نکاح جاوید سے کر دیتے ہیں آپ کی بیٹی کو بھی سہارا مل جائے گا اور جاوید کو بھی اچھی بیوی مل جائے گی۔ جاوید صاحب نے انکار کرتے ہوئے کہا 

"میں کسی کو اپنی مجبوری کی بنا پر قربانی دینے پر مجبور نہیں کر سکتا میری اور اس کی عمر میں بہت فرق ہے۔"

 


ساتواں حصہ - 7th Part



Continue Reading
Episode 7
انتظار طویل تھا 7

Reader Comments

No comments yet. Be the first to share your thoughts!

Log in to leave a comment.

Related Novels

Selected For You

View More Free Novels

Editor's Choice

Handpicked favorites that you shouldn't miss.

Premium Membership

Unlock the Full Library

One subscription. Every story. Unlimited reading.

PKR 300
30 Days of Unlimited Access
Go Premium Now

Secure payment  ·  Instant access

Full Novel Library
Access every premium & exclusive novel — no episode locked
Unlimited Reading
Read as much as you want, whenever you want, at your pace
Support the Author
Your subscription directly supports Abida Z Shireen's work
New Episodes First
Be the first to read every new episode as soon as it drops
A F S R N
Join thousands of readers already enjoying premium access
Loved by readers
Our Literary World

Experience the Best Urdu Novels Online

Dive into decades of storytelling by Pakistan's most beloved author, now at your fingertips.

50+
Published Novels
30+
Years of Writing
1M+
Readers Worldwide
100%
Authentic Stories
01

The Legacy of Abida Z Shireen

Welcome to the digital sanctuary of Abida Z Shireen, one of Pakistan's most celebrated literary icons. As a premier Urdu storyteller, she has spent decades crafting narratives that capture the soul of our society. This online Urdu reading platform is designed to preserve her vast Urdu literature archive, offering readers a chance to read Urdu novels online that explore the depths of human emotion, culture, and resilience.

Read Her Story
Abida Z Shireen
Author
02

Captivating Novels & Social Sagas

From suspense-filled thrillers to heart-touching social dramas, our collection features the best Urdu novels that have captivated millions in publications like Aanchal Digest. Whether you are looking for new Urdu novels 2024 or timeless classics, Abida's work provides a unique lens into family dynamics and romantic storytelling. Dive into her world and discover why she is considered a top Urdu digest writer by fans globally.

Browse All Novels
Reading Urdu Novels on Tablet and Phone
Novels
03

Soul-Stirring Urdu Poetry Collection

Beyond prose, this platform hosts an extensive Urdu poetry collection. Abida Z Shireen's verses offer a profound look into spiritual and philosophical themes, available in both Urdu and English. As a featured Urdu poet, her work serves as a bridge between traditional rhythms and modern thought. Join our community of literature lovers to explore famous Urdu poems and exclusive literary insights found nowhere else.

Explore Poetry
Elegant Desk with Pens and Books
Poetry