Logo
Intzaar Taweel Tha
8 Episodes
Intzaar Taweel Tha EP 2
Episode 2

انتظار طویل تھا 2

Intzaar Taweel Tha



دوسرا حصہ - 2nd Part

فریال کا شوہر فریال کو ایک زوردار تھپڑ رسید کرتا ہے کہ تم اس شخص کے پاس کھڑی ہنس ہنس کر تولیا پکڑا رہی تھی.

فریال روتے ہوئے 

"وہ اماں بزی تھیں اور وہ سارم کے والد تھے سر جاوید میرے ٹیچر تھے"

فریال کا شوہر غصے سے پھنکارتے ہوئے 

"اچھا پرانا یارانہ تھا"

فریال ہاتھ جوڑ کر صفائی دیتے ہوئے 

"وہ تو بزرگ ہیں"

فریال کا شوہر 

"اچھا فیشن دیکھے ہیں اس کے وہ کسی طرف سے بزرگ لگتا ہے بس سر سفید ہے اور"

فریال کی ماں داماد کی منت کرتے ہوئے 

"بیٹا مجھ سے غلطی ہو گئ میں نے کہا تھا اسے تولیا پکڑانے کو معاف کر دو."

فریال کا شوہر 

"خالہ یہ سب آپ کی شہہ ہے بیٹیوں کو، لگام ڈال کر رکھی ہوئی ہوتی تو آج ہم سب کو یہ دن نہ دیکھنا پڑتا سب ہنسی خوشی رہ رہے ہوتے آپ کو تو اب ہم اپنوں سے زیادہ پرائے عزیز ہیں۔ اگر بسمل کا رشتہ میرے چھوٹے بھائی کو دے دو تو بڑھاپے کا سہارا ہم بھانجے ہوں گے تمہیں اپنے ساتھ رکھیں گے، تیری خدمت کریں گے سوچو اگر لوگوں میں کرو گی تو وہ تو تمہیں اپنے پاس نہیں رکھیں گے، ہمارے گھر میں اپنی بہن کے ساتھ تمھارا دل بھی لگا رہے گا دیکھو تمھاری بیٹی کی پانچ سال سے اولاد نہیں ہو رہی۔ پھر بھی ہم نے رکھا ہوا ہے ورنہ پرائے لوگ ہوتے تو کب کے فارغ کر چکے ہوتے۔ اوپر سے یہ تمھاری لاڈلی چھوٹی بیٹی سارے خاندان میں زبان کی تیز مشہور ہے پھر بھی ہم تیرے بھلے کے لیے اس کا رشتہ لے رہے ہیں"

بسمل غصے سے 

"جناب بدقسمتی سے میرے بہنوئی صاحب (ہاتھ جوڑ کر) آپ مجھ پر رشتہ لینے کی مہربانی نہ کریں میں خود خاندان میں شادی نہیں کرنا چاہتی ایک بہن کا رشتے داروں میں کر کے حال دیکھ رہے ہیں۔ 

اتنے میں مہمان خالہ کمرے کے دروازے پر آ کر رک گئی۔ فریال کے شوہر نے گھور کر دیکھا اور غصے سے بولا 

"آپ لوگ جائیں ہم لوگ آپ کے ساتھ رشتہ نہیں کرنا چاہتے۔

مہمان خالہ غصے سے بولی 

"ہمیں بھی کوئی شوق نہیں ہے ادھر رشتہ کرنے کا آپ لوگ نہ ہماری حیثیت کے ہیں نہ اس بدزبان لڑکی کو کوئی تمیز ہے" 

پھر زور زور سے چلا کر بولی 

"جاوید چلو"

جاوید صاحب بوکھلائے ہوئے آئے اور گھر والوں سے معزرت کرنے لگے اور بیٹے کو بلا کر جلدی سے چل پڑے۔ سارے راستے خالہ ان لوگوں کی برائیاں کرتی رہی اور جاوید صاحب کا بیٹا ایان وقفے وقفے سے صفائی پیش کرتا رہا۔

بسمل نے فریال کے شوہر پر چلانا شروع کر دیا کہ 

"تم کون ہوتے ہو ہمارے معاملات میں انٹر فیئر کرنے والے، ویسے تو خالہ کا کھبی خیال نہ آیا، بجلی کے بل کی آخری ڈیٹ تھی اور تم لوگوں نے معمولی رقم دینے سے بھی انکار کر دیا تھا تم لوگوں سے کیا اچھائی کی امید رکھی جائے۔ تم جان بوجھ کے آئے تاکہ میرا رشتہ خراب کروانے۔ میں سب سمجھتی ہوں آپ لوگوں کی چالیں۔ میری معصوم بہن ہی برداشت کرتی ہے ظلم، تم لوگوں کو مجھ سے ہمدردی نہیں ہے صرف مجھے نیچا دیکھانے کے لیے میری زندگی اپنے اس نکھٹو جو اپنا پیٹ نہیں پال سکتا وہ بیوی کو کیا پالے گا، اس جاہل سے شادی کرنے سے بہتر ہے میں کنواری مر جاؤں۔ میں سچ بولتی ہوں آہینہ دیکھاتی ہوں اس لیے بدزبان مشہور ہوں۔ 

وہ روتے ہوئے بولی 

"میں کھبی آپ کے بھائی سے شادی نہیں کروں گی سمجھے آپ" 

وہ چیخ کر بولی،

ماں نے داماد کے تیور دیکھتے ہوئے اس کو ایک تھپڑ رسید کیا۔ وہ روتی ہوئی باہر چلی گئی۔

فریال کے شوہر نے کہا 

"خالہ اگر آپ نے اسے نہ مارا ہوتا تو میں اس کو مارتا۔ اب کان کھول کر سن لو اگر تم نے اسے منایا نہ اور یہ نہ مانی تو تمھاری ایک بیٹی تو بدزبان سارے خاندان میں مشہور ہے ہی، تمھاری دوسری بیٹی کو ایسا بدنام کر کے طلاق دوں گا کہ تم ماں بیٹیوں کو کوئی سارے خاندان میں منہ نہیں لگائے گا اور سنو فریال تم آج اسے سمجھاؤ میں تمھیں بعد میں آ کر لے جاؤں گا ورنہ نہ سمجھا سکی تو جو میں کہہ رہا ہوں کر دیکھاوں گا سمجھی۔"

اور غصے سے باہر بکل گیا،

فریال بہن کو چپ کروانے لگی اور بولی 

"چپ کر جا میری بہن ہم بہت بے بس لاچار عورتیں ہیں، ہمارا کوئی بھائی نہیں، باپ کی وفات ہو چکی ہے۔ اس نے عزت کی زندگی گزاری اور اب ہم اس کی بدنامی کر کے قبر کی مٹی گندی نہیں کر سکتیں۔ تم پلیز مان جاو ضد نہ کرو ہم دونوں ہوں گی اماں ساتھ ہوں گی تو وہ لوگ بھی ہم سے خوش رہیں گے اور ہم سب اکھٹے خوش رہیں گے۔ تم سوچو تو سہی ہم ان لوگوں کا مقابلہ نہیں کر سکتیں نہ ہی اکیلی رہ سکتی ہیں۔ ہم سب کا اس میں فائیدہ ہے۔ اماں کی بہن اماں کو مل جائے گی جس سے یہ بہت پیار کرتی ہیں۔"

بسمل روتے ہوئے 

"آپا اماں کی وہ سوتیلی بہن ہیں اماں کا کوئی بہن بھائی نہ تھا۔ ماں پیدا ہوتے ہی چل بسی، دادی نے پالا، پھر باپ کی شادی ہو گئی تھی مگر اماں دادی کی جان تھی۔ اماں کی شادی ہونے تک دادی زندہ رہی، جلدی شادی کر دی۔ جانتی تھی سوتیلی ماں کیسی ہے، ایک بیٹی وہ پچھلے شوہر سے لائی تھی پھر بھی اماں اسے بڑی بہن کا درجہ دیتی ہیں۔ بس رشتوں سے ترسی ہوئی ہیں، مگر آپا یاد کرو جب تمھارا رشتہ چاہیے تھا لالچی لوگ ہیں تم نوکری کرتی تھی اس لیے بچھے رہتے تھے۔ خوب اماں کو سبز باغ دیکھاتے تھے، تمھارا شوہر بھی کیسے وعدے کرتا تھا کہ تمھارا بیٹا بن کر رہوں گا اور اب الٹا تمھاری ساری تنخواہ بھی لے لیتا ہے، اور دھونس الگ جماتا ہے۔ شوہر ہونے اور بچہ نہ ہونے کے باوجود رکھنے کا احسان جتاتا رہتا ہے۔ اس نے تمھاری زندگی جہنم بنا رکھی ہے، کیا فائیدہ ایسی زندگی کا، پہلے ہماری کیا سکھی زندگی تھی، سکون تھا زندگی میں معاشی مسئلہ بھی کم تھا تمھاری تنخواہ بھی ہوتی تھی، گزارا آسان تھا۔ اماں سلائی کر لیتی تھیں میں شام میں اون لائن پڑھاتی تھی تو گزارا ہو جاتا تھا۔ پہلے وہ لوگ کہتے تھے کہ تمھاری تنخواہ پر تمھاری ماں کا حق ہے مگر شادی ہوتے ہی مالک بن کر سارے وعدے بھلا بیٹھے اور آنا جانا بھی بغیر مطلب کے کم کر دیا، اماں مروت میں بولتی نہیں ہے۔

"اماں بس کر دے کم بخت کیوں تو ہماری زندگی عزاب بنا رہی ہے کیوں بہن کا گھر اجاڑنا چاہتی ہے، مرے باپ کو بدنام کروانا چاہتی ہے، چپ کر کے تو مان جا تو سارے بکھیڑے ہی ختم ہو جاہیں۔ مفت میں بھلے مانس لوگوں کی بے عزتی کروائی۔

بسمل دل میں پیچ و تاب کھاتے ہوئے 

"اماں شکر ہے آپ کو اتنا فرق تو پتا چلا کہ بھلے مانس لوگوں کا، کتنا بے عزت کیا ہے ان لوگوں کو۔ وہ لوگ کیا سوچتے ہوں گے کہ کس قسم کا انکا خاندان ہے۔

ماں 

"چپ کر جا، وہ لوگ بھی ہمیں بے عزت کر کے گیے ہیں انکی خالہ نے ہمیں کمتر کہا۔"

بسمل 

"اماں ایک خالہ ہی تھی نا ایسی وہ مجھے ایان نے پہلے ہی ان کی نیچر کے بارے میں بتا دیا تھا اماں کی ضد تھی کہ کوئی عورت بھی ساتھ ہو ورنہ لوگ کیا کہیں گے، انہوں نے خالہ کو باہر ملک سے اسپیشل بلایا، اب وہ لوگ خالہ کے آگے بھی شرمندہ ہیں۔ خالہ سخت غصے میں ہے، کیا اچھا ہوتا آپ خالہ کو بلانے کی ضد نہ کرتی اور آپ کو وہ لوگ بھلے مانس بھی لگے تھے آرام سے رشتہ طے ہو جاتا ایسی بدمزگی بھی نہ ہوتی۔ مگر ایک تو وہ آپا کے سسرالیے اسی محلے میں رہتے ہیں اور ہر وقت ٹو میں لگے رہتے ہیں، میں بھی سوچوں آپا کو ادھر بھیجنے پر راضی کیسے ہو گئے۔ اب سمجھی وہ مہمانوں کو ذلیل کر کے تماشا بنانا چاہتے تھے تاکہ وہ لوگ غیرت میں خود ہی پیچھے ہٹ جاہیں۔ ان کی سازش انشاءاللہ ناکام ہو گی، کیونکہ ایان نے بہت معزرت کی ہے آپ سب سے اور جاوید انکل نے بھی مجھے فون پر معزرت کی ہے اور تسلی دی ہے کہ آپ سب بہت اچھے لوگ ہیں بس وہ بھی آپا کا گھر خراب نہیں کرنا چاہتے، انہوں نے کہا ہے کہ وہ ایان کی شادی مجھ سے ہی کریں گے، انشاءاللہ۔"

اماں روتے ہوئے 

"ارے فریال کا شوہر ہم سب کو چھوڑے گا نہیں، کیوں دشمنیاں بڑھاتی ہے، وہ امیر لوگ ہیں ان کے مطابق ہم جہیز بھی نہیں دے سکتے"

بسمل 

"اماں ایان نے کہا ہے کہ شادی سے لے کر سب خرچے وہ اٹھائیں گے ایک روپیہ بھی آپ لوگوں کو خرچ نہیں کرنے دیں گے اور شادی کے بعد اماں کو بھی ساتھ رکھیں گے۔"

اماں 

"تجھے شرم نہیں آتی میں کیا اب اپنوں کو چھوڑ کر غیروں کے پاس رہوں گی۔ ان سے خرچے کرواتے شرم اور غیرت نہ آئے گی ہمیں۔"

بسمل 

"اماں پھر کوئی حل بھی تو نہیں ہے نا، کہاں سے کریں اتنے خرچے ان کا ایک ہی بیٹا ہے دھوم دھام سے کریں گے باہر ملکوں سے بھی رشتے دار آئیں گے ان کے۔"

اماں اسے کمر پر تھپڑ مارتے ہوئے 

"کیوں ہمیں ان کے سامنے ذلیل کروانے کا ارادہ ہے ایک بہن چھوٹے دوسرا بہن کا گھر خراب ہو تیسرا ان امیروں کے احسان تلے دب جائیں۔ ایک یہ تیرے سر سے عشق کا بھوت اتر جائے تو سب کچھ ٹھیک ہو جائے اگر مجھے پتا ہوتا کہ تو کالج جا کر لڑکوں سے پیار کا چکر چلائے گی تو میں تجھے پڑھاتی ہی نا۔"

"ایک تیری بہن بھی تو ہے نا اس نے کھبی کسی لڑکے سے پیار کا چکر نہیں چلایا"

بسمل تڑپ کر ماں کے گلے میں باہیں ڈال کر بولی 

"اماں آپ کو اپنی بیٹی پر بھروسہ نہیں ہے کیا، میں ان لڑکیوں میں سے نہیں جو پیار کے چکر میں لڑکوں کے اگے بے وقوف بن کر اعتبار کر کے اپنا سب کچھ لٹا کر ان کے ہاتھوں میں کھلونا بن کر بلیک میل ہوتی رہتی ہیں۔ نہ ہی مجھے دولت کا لا لچ ہے۔ اماں اگر آپا کا دیور اگر کم پڑھا بھی ہوتا اور اچھی عادتوں والا ہوتا جیسی ایان کی ہیں اور آپا اس گھر میں سکھی ہوتی تو میں خوشی خوشی اس رشتے کو قبول کر لیتی۔ مگر افسوس کہ آپا بھی زندہ لاش کی طرح زندگی جی رہی ہے جو اپنی مرضی سے سانس بھی نہیں لے سکتی اور آپ اس کی وجہ سے دکھی رہتی ہیں اور دنیا کے طعنوں سے ڈرتی ہیں۔ لوگ تو شریفوں پر بھی کیچڑ اچھالتے ہیں، میں اپنے آپ کو شریف سمجھتی ہوں مگر پھر بھی برے لوگوں کے طعنوں کا شکار ہوں، کوئی بدزبان کہتا ہے اور شریف لوگ جاوید انکل کی فیملی جنہوں نے مجھے کوئی طعنہ نہیں دیا کوئی نقص نہیں نکالا ان کو آوازیں آ رہی تھیں جب میں بول رہی تھی انہوں نے مجھے بدزبان نہیں بولا، ہاں ان کی خالہ اس نیچر کی ہے اس نے اپنے انداز سے سوچا اور بولا"

فریال پریشان سی آئی اور بولی 

"اماں میری ساس اور شوہر بسمل کی بات پکی کرنے آ رہے ہیں"

 

شعر

جس زمین پر غرور پرور انسان تکبر سے چلتا ہے،

سانس نکلتے ہی اسی زمین میں پناہ ملتی ہے،

#شاعرہ_عابدہ_زی_شیریں


تیسرا حصہ - 3rd Part


Continue Reading
Episode 3
انتظار طویل تھا 3

Reader Comments

No comments yet. Be the first to share your thoughts!

Log in to leave a comment.

Related Novels

Selected For You

View More Free Novels

Editor's Choice

Handpicked favorites that you shouldn't miss.

Premium Membership

Unlock the Full Library

One subscription. Every story. Unlimited reading.

PKR 300
30 Days of Unlimited Access
Go Premium Now

Secure payment  ·  Instant access

Full Novel Library
Access every premium & exclusive novel — no episode locked
Unlimited Reading
Read as much as you want, whenever you want, at your pace
Support the Author
Your subscription directly supports Abida Z Shireen's work
New Episodes First
Be the first to read every new episode as soon as it drops
A F S R N
Join thousands of readers already enjoying premium access
Loved by readers
Our Literary World

Experience the Best Urdu Novels Online

Dive into decades of storytelling by Pakistan's most beloved author, now at your fingertips.

50+
Published Novels
30+
Years of Writing
1M+
Readers Worldwide
100%
Authentic Stories
01

The Legacy of Abida Z Shireen

Welcome to the digital sanctuary of Abida Z Shireen, one of Pakistan's most celebrated literary icons. As a premier Urdu storyteller, she has spent decades crafting narratives that capture the soul of our society. This online Urdu reading platform is designed to preserve her vast Urdu literature archive, offering readers a chance to read Urdu novels online that explore the depths of human emotion, culture, and resilience.

Read Her Story
Abida Z Shireen
Author
02

Captivating Novels & Social Sagas

From suspense-filled thrillers to heart-touching social dramas, our collection features the best Urdu novels that have captivated millions in publications like Aanchal Digest. Whether you are looking for new Urdu novels 2024 or timeless classics, Abida's work provides a unique lens into family dynamics and romantic storytelling. Dive into her world and discover why she is considered a top Urdu digest writer by fans globally.

Browse All Novels
Reading Urdu Novels on Tablet and Phone
Novels
03

Soul-Stirring Urdu Poetry Collection

Beyond prose, this platform hosts an extensive Urdu poetry collection. Abida Z Shireen's verses offer a profound look into spiritual and philosophical themes, available in both Urdu and English. As a featured Urdu poet, her work serves as a bridge between traditional rhythms and modern thought. Join our community of literature lovers to explore famous Urdu poems and exclusive literary insights found nowhere else.

Explore Poetry
Elegant Desk with Pens and Books
Poetry