Meri Chorni
1 Episodesمیری چورنی
جیا اپنے کمرے میں بیٹھی سوچ رہی تھی کہ کتنی جلدی اسکا رشتہ طے ہو گیا ہے. وہ لوگ آئے اسے پسند کیا اور گھر والوں کو انوائیٹ کر گئے. گھر والے بھی گئے اور سیدھا شادی کی ڈیٹ فکس کر کے آ گئے. نہ جانے وہ کیسا ہو گا فوٹو بھی نہیں لائے. میری بھی انہوں نے نہیں مانگی. میں نے بھابھی سے کتنا احتجاج کیا کہ فوٹو تو دیکھا دیں. بھابھی نے بہت تسلیاں دیں کہ بہت ہینڈسم ہے۔
ماں نے ڈانٹ کر کہا
جب انکا بیٹا تمہیں بغیر دیکھے قبول کر رہا ہے گھر والوں پر بھروسہ کرتا ہے اور انہوں نے کہا شادی کے بعد ایک دوسرے کو دیکھ لیں گے. پھر ہم کس منہ سے ان سے فوٹو مانگیں. جی ہماری بیٹی او تاولی ہو رہی ہے، صبر کرو
ماں نے جیا کو ڈانٹ دیا تو وہ شرمندہ ہو کر بیٹھ گئی
جیا کو چند دن پہلے اس کے پاپا کے دوست کی جاننے والی فیملی دیکھنے آئی اور پسند کر گئی. جیا کے گھر والے بھی کل جا کر لڑکے کو پسند کر کے بات پکی کر آئے اور فضول رسموں میں پڑ کر وقت ضائع کرنے کی بجائے سیدھا شادی کی تاریخ مقرر کر دی. ایک ماہ بعد شادی تھی
جیا بہت پریشان تھی کہ جس کو دیکھا تک نہیں اس سے زندگی بھر کا ناطہ جڑنے لگا تھا. اس کی بھابھی نے اسے بہت تسلیاں دی تھیں. اس کی آٹھ سال کی بھتیجی نے بھی کہا
زلفی انکل بہت اچھے ہیں اس سے باتیں بھی کیں اور چاکلیٹ بھی دی
جیا کے والد بینک آفیسر ریٹائرڈ تھے۔ ان کا ایک بیٹا اور ایک بیٹی جیا تھی. بیٹے کے دو بچے تھے ایک بیٹی پھر ایک بیٹا
بیٹا بھی بینک میں جاب کرتا تھا اور اعلیٰ عہدے پر فائز تھا
جیا ابھی ابھی ایم بی اے مکمل کر چکی تھی. گھر بھر کی لاڈلی تھی. بھائی کی جان تھی بھابھی اس کی کزن تھی مگر اس کی اچھی دوست اور محبت کرنے والی تھی
جیا بھابھی سے منہ بسور کر بولی
کم سے کم ایک فوٹو ہی دکھا دیتیں. جسے ساری زندگی میں نے بھگتنا ہے. بس تسلی دے دی، شریف ہے ہینڈسم ہے
ماں نے محبت سے اسے دیکھتے ہوئے سمجھایا
ان لوگوں نے فوٹو نہیں مانگی تو ہمیں بھی شرم آ گئی مانگتے ہوئے
بھابھی اسے چھیڑتے ہوئے بولی
گڑیا رانی بس زرا رنگ کالا ہے. تھوڑا قد چھوٹا ہے. آواز زنانہ سی ہے. ناک تھوڑی موٹی ہے باقی کوئی عیب نہیں
جیا نے منہ بسورتے ہوئے کہا
بھابھی کہیں سچ میں ایسا تو نہیں. خاندان میں ایک لڑکی کے ساتھ ایسا ہو چکا ہے وہ کتنی پیاری تھی۔ گھر والوں نے کہا کھاتے پیتے شریف خاندانی لوگ ہیں اور کیا چاہیے
پلیز بھابھی آپ کو میری چوائس پتا ہے. قد لمبا ہو. ہینڈسم ہو اور آواز تو لازمی اچھی ہو بس. ورنہ اگر ایسا کچھ نہ ہوا تو میں خودکشی کر لوں گی
بھابھی نے کہا
گڑیا رانی بلکل تمھاری فرمائش کے مطابق ہے سچی. میں جو کہہ رہی ہوں. بھروسہ رکھو
اس نے ایک ٹھنڈی سانس بھری اور کہا
اچھا دیکھتے ہیں کیا نصیب میں لکھا ہے آپ لوگوں کو ان سے فوٹو مانگتے شرم آ گئی
بھائی اور اسکا باپ دونوں آ کر بیٹھے اور بولے
کیا ہو رہا ہے
اس کے پاپا نے کہا
جیا بیٹا اپنی پسند کی چیزوں کی لسٹ بنا لو اور کل سے بھابھی کے ساتھ جا کر شاپنگ شروع کر دو. دن کم ہیں جو فرمائش ہے سب بتا دو
بھائی نے فوراً کہا
جان گڑیا جو چیز دل کرتا ہے، خرید لینا، ہماری گڑیا کا کوئی ارمان باقی نہ رہے
ماں نے کہا
تم لوگ جانتے تو ہو یہ فضول خرچ ہے. مہنگی اور برینڈڈ چیزیں خریدتی ہے اتنی ڈھیروں شاپنگ کرنی ہے تو زرا سنبھل کر چلنا پڑے گا
باپ نے کہا
خبردار میری بیٹی کو کوئی چیز لینے سے روکا تو. جو اس کا دل کرے لے لے
بھائی بولا
ہماری لاڈلی بہن ہے میں چاہتا ہوں دنیا کی نعمتوں کا ڈھیر اس کے قدموں میں ڈال دوں. ہماری ایک ہی تو بہن ہے۔ ماما آپ شاپنگ میں کنجوسی مت کیجیے گا
بیوی سے مخاطب ہو کر بولا
اسکا کوئی ارمان ادھورا نہیں رہنا چاہیے، سمجھی
بیوی نے کہا
آپ فکر نہ کریں ہماری لاڈو کی ڈولی شان وشوکت سے جائے گی۔ دنیا دیکھتی رہ جائے گی
ماں نے غصے سے منہ بناتے ہوئے کہا
تم سب لوگ اس کے ناجائز لاڈ اٹھاتے ہو. اس نے پرائے گھر جانا ہے. پتا نہیں وہ لوگ کیسے نکلیں. میرا تو دل ہول کھاتا رہتا ہے. ہم انہیں جانتے نہیں. بس دوسروں کی گارنٹی پر ہاں کر دی
بیٹے نے ماں کو تسلی بھرے انداز میں بتاتے ہوئے کہا
ماما میں نے ان سب کی اور لڑکے کی آفس تک سے پوچھ گچھ کر لی ہے. سب ان کی اور لڑکے کی شرافت کی تعریف کرتے ہیں
جیا کے باپ نے کہا
ارے ہم جگر کے ٹکڑے کو بغیر تسلی کیے کیسے ہاں کر سکتے ہیں. پوری چھان بین کر لی ہے۔ بہت خاندانی لوگ ہیں. کچھ لوگ تو کہہ رہے تھے کہ آپ کی بیٹی خوش قسمت ہے جس کو ایسا گھرانہ ملا ہے
ماں نے آہ بھر کر کہا
ماں جو ٹھہری دل ڈرتا تو ہے ناں. اس کی اچھی قسمت کی دعائیں کرتی رہتی ہوں
اتنے میں بہو سب کے لیے چائے لیکر آ گئی تو جیا نے لاڈ سے گلہ کرتے ہوئے کہا بھابھی میں نے ساتھ سموسے منگوانے کو کہا تھا
بھابھی اس کے گال پر لاڈ سے چٹکی کاٹتے ہوئے بولی
جی مہارانی صاحبہ کا آرڈر ہو اور سموسے نہ حاضر کیے جائیں تو میری اس گھر سے چھٹی نہ کر دی جائے
سب مسکرانے لگے اور بھابھی نے چائے کے ساتھ سموسوں کی پلیٹ اس کے آگے کی
زلفی جیا کا منگیتر سلجھا ہوا والدین کا فرمانبردار بیٹا تھا
زلفی کا باپ کامیاب بزنس مین تھا. زلفی کو انہوں نے اعلی تعلیم دلائی اور تعلیم سے فراغت حاصل کرنے کے بعد اسے اپنے بزنس میں ساتھ شامل کر لیا اور کم عرصے میں ہی اس نے سب بزنس سنبھال کر باپ کو آرام کرنے کا مشورہ دیا
زلفی کی ایک بڑی بہن شادی شدہ تھی، جسکا چار سال کا بیٹا تھا۔ وہ اپنے گھر میں خوشحال تھی۔ دو ہی بہن بھائی تھے
زلفی کے لیے رشتہ تلاش کیا جا رہا تھا. کافی لڑکیوں کے بعد جیا پسند آ گئی تھی. اس کے گھر والے بھی سب کو پسند آئے اور ان کی تلاش ختم ہوئی. وہ خوب سے خوب تر لڑکی زلفی کے لیے لانا چاہتے تھے
جیا پڑھی لکھی خوبصورت اور حیادار لڑکی تھی۔ سب کی لاڈلی ہونے کے باوجود ماں نے اس کو کھانا بنانا اور امور خانہ داری، بچپن سے ہی سکھانی شروع کر دی تھی اور اب وہ کافی ہر کام میں تاک ہو چکی تھی. باپ بھائی مخالفت کرتے مگر اس معاملے میں ماں ان کی نہ سنتی. کہتی
اس نے پرائے گھر جانا ہے. آپ لاڈ اٹھاتے رہیں مگر مجھے مت روکیں
بھابھی کے آ جانے سے جیا کو اچھی کمپنی مل گئی تھی۔ وہ بھابھی کی خوش مزاجی کی وجہ سے خوش رہتی اور کچن میں بھابھی سے نئی نئی ڈشیں سیکھتی اور نٹ پر سے بھی دیکھ کر، بھابھی کی مدد سے بناتی. سب بہت تعریف کرتے. باپ بھائی سے انعام بھی ملتا
زلفی سلجھا ہوا والدین کا فرمانبردار بیٹا تھا اس نے شادی کے لئے والدین کی پسند کو فوقیت دی
بہن نے رشتہ ہو جانے پر زلفی کے آگے جیا کی تعریفوں کے پل باندھے. مگر کہا
تم دونوں کو ایک دوسرے کی فوٹو نہیں دیکھانی. سرپرائز رکھنا ہے
زلفی نے ازرائے مزاق کہا
کیا پتا آپ لوگوں کا اتنی لڑکیاں دیکھ دیکھ کر تھک گئے ہوں اور رشتے والی نے بھی وارننگ دے دی ہو کہ اب دنیا میں کوئی اور لڑکی نہیں بچی یہ آخری ہے. کالی ہے مگر دل والی ہے، گھر میں نوکرانی کی کمی پوری کر دے گی
ماں نے ڈانٹ کر خفگی سے اسے دیکھتے ہوئے کہا
چل ہٹ میں اپنی بہو کو نوکرانی تھوڑا بنا کر رکھوں گی وہ تو اس گھر کی شہزادی بن کر آئے گی اور راج کرے گی
شوہر نے بیوی سے کہا
بیگم اپنی بہو کے سامنے ایسی باتیں نہ کرنا
بیوی جھٹ سے بولی
کیوں جی کیوں نہ کروں
شوہر نے جواب دیا
بیگم بیٹا اسے کدھر ڈاکٹروں کے پاس لیے لیے پھرے گا
بیوی حیرانگی سے دیکھتے ہوئے پوچھنے لگی
کیوں لیے لیے پھرے گا زرا بتائیں
شوہر نے کہا
ارے ایسی باتیں سن کر اس کو دل کا اٹیک نہ ہو جائے گا کہ کھبی کسی ساس نے بہو کو ایسا رکھا ہے کھبی. دیکھنا آپ اسے کیسے کیسے تنگ کریں گی، روایتی ساسوں کی طرح
ساس نے کہا
جی نہیں کھبی نہیں، وہ میری بیٹی بن کر آئے گی دیکھ لینا میں اسے کیسے پیار سے ہاتھ کا چھلا بنا کر رکھوں گی انشاءاللہ
شوہر نے کہا
اللہ کرے جی ایسا ہی ہو
سب مسکرا کر ان کی باتوں سے لطف اندوز ہونے لگے
بہن نے کہا
ماما میں نے تو شادی پر چھ مہنگے جوڑے لینے ہیں.
پورے چھ دن فنکشن ہوں گے، خوب ہلہ گلہ ہو گا. بس جلدی سے شاپنگ مکمل ہو جائے پھر میں ڈھولکی اسی دن رکھ لوں گی اور خاندان کی لڑکیوں کو گھر بلا لوں گی آخر میرے اکلوتے بھائی کی شادی ہے
باپ نے کہا
کیوں نہیں بیٹا جو جی میں آئے کرنا. میں بیٹے کی شادی ایسی دھوم دھام سے کروں گا کہ دنیا دیکھے گی. بس تم لیڈیز کی شاپنگ مکمل ہو جائے جو مجھے امید ہے کہ آخری دن تک چلے گی
بیٹی نے تسلی دیتے ہوئے کہا
پاپا آپ فکر نہ کریں سب سے اچھا ٹیلر، اس سے بات ہو گئی ہے وہ اب ڈبل سلائی کے ساتھ ارجنٹ کپڑے سی کر دے گا
اتنے میں اسکا چار سال کا بچہ موبائل لینے کی ضد کرنے لگا تو اس نے کارٹون لگا کر اسے کرسی پر بٹھا دیا
جیا شاپنگ سینٹر میں کھڑی چیزیں دیکھ رہی تھی کہ اس کی نظر تھوڑے فاصلے پر کھڑی اپنی سسرال کی فیملی پر پڑی
ساس، سسر، بہن اور ساتھ ایک ہینڈسم سا لڑکا کھڑا تھا جو غالباً اسے ہی دیکھ رہا تھا باقی سب اپنی شاپنگ میں مگن تھے
جیا نے دل میں حسرت سے سوچتے ہوئے دعاء کی اللہ میاں جی یہی لڑکا میرا منگیتر ہو. بالکل میرے آئیڈیل کے عین مطابق ہے، کاش یہ سچ ہو. پھر اس کی نظروں سے گھبرا کر سامنے چیزوں کی طرف دیکھنے لگی۔ دل چاہ رہا تھا دوبارہ دیکھے مگر شرم آ رہی تھی ہمت نہ ہو رہی تھی. اتنے میں زلفی کی بہن کی نظر جیا پر پڑی تو وہ خوش ہوتے ہوئے بولی
او مائی گاڈ ماما وہ دیکھیں سامنے جیا کھڑی ہے
ساس کی نظر پڑی تو خوش ہو کر بولی
اجی سنیے وہ دیکھیں ہماری شہزادی بہو جیا
سسر نے دیکھا تو خوش ہو کر بولے
چلو پھر چل کر ملتے ہیں
زلفی نے سنا تو دل میں اللہ تعالیٰ کا بہت شکر ادا کیا کہ وہ اس کی منگیتر ہے. کیونکہ جیا اسے دیکھتے ہی دل کو بھا گئی تھی
زلفی کی بہن نے تیزی سے جا کر اسے پیچھے سے پکڑا تو جیا نے مڑ کر دیکھا وہ بھی جوش سے اسے ملی
زلفی محبت پاش نظروں سے اسے دیکھ رہا تھا
ساس نے محبت سے ‘میری شہزادی بہو’ کہہ کر گلے لگایا
سسر زرا فاصلے پر کھڑے تھے جیا نے پہلے سر پر دوپٹہ درست کیا اور ادب سے سسر کے آگے سر جھکا دیا
انہوں نے سر پر شفقت سے ہاتھ رکھتے ہوئے کہا
ماشاء اللہ یہ ہوتی ہے تربیت. بزرگوں کا احترام. کیسے اس نے میرا احترام کرتے ہوئے سر پر آنچل درست کیا
زلفی متاثر بھرے انداز میں جیا کو دیکھنے لگا. اتنے میں جیا کے گھر والے والدین بھائی، بھابھی بھی جو زرا فاصلے پر کھڑے تھے، قریب آ گئے اور آپس میں بہت تپاک سے ملے
زلفی کے باپ نے جیا کے والدین کے آگے جیا کی تعریف کی اور کہا
آپ لوگوں نے بہت اچھی تربیت کی ہے بچی کی
وہ بولے
جی بس کوشش تو کرتے ہیں کہ آج کے زمانے کی ہوا نہ لگے
زلفی دل میں جیا کی تعریفیں سن کر خوش ہو رہا تھا۔ بہن نے اس کے کان میں سرگوشی کی
کیوں کیسی لگی ہماری چوائس
زلفی نے آہستہ سے کہا
گزارہ ہو جائے گا
بہن نے محبت سے گلہ بھری نظروں سے اسے دیکھا تو وہ مسکرا دیا
زلفی کے باپ نے کہا
چلیں کہیں بیٹھ کر کچھ کھاتے پیتے ہیں۔ سب کھانے والے پورشن کی طرف چل پڑے
سب اپنی اپنی کرسیوں پر بیٹھ گئے
جیا شرما رہی تھی. کیونکہ زلفی کی پیار بھری نظریں بار بار جیا کی طرف اٹھ رہی تھیں اور وہ شرما رہی تھی
جیا کی بھابھی نے ہلکی سی چٹکی کاٹ کر سرگوشی میں جیا سے پوچھا
کیسا لگا زلفی؟
جیا جواب میں صرف مسکرا کر رہ گئی.
سب جوس پی رہے تھے کہ شاپنگ مال کے اسٹاف کے لوگ جو یونیفارم میں تھے. جیا کی طرف دیکھ کر بولے
میڈم آپ کو ہمارے ساتھ آفس چلنا پڑے گا
سب چونک گئے
زلفی کے باپ نے گرج کر پوچھا
کیوں جانا ہے ادھر.
اسٹاف مینجر نے کہا
سر ہم ادھر کوئی تماشا نہیں کرنا چاہتے. آپ سب فیملی ممبرز چلیں، میڈم کی وڈیو دکھانی ہے
جیا کے بھائی نے غصے اور پریشانی سے پوچھا
کیا ہے اس وڈیو میں
مینجر بولا
سر آپ پلیز آ کر خود دیکھ لیں
جیا کے بھائی نے کہا
چلیں دیکھ لیتے ہیں
سب آفس روم کی طرف چل پڑے
مینجر نے جیا کی طرف اشارہ کر کے پوچھا
ان میڈم کے پیرنٹس کون سے ہیں؟
زلفی کا باپ جھٹ سے بولا
ہماری بیٹی ہے یہ
جیا کے بھائی نے اکتاہٹ بھرے لہجے میں پوچھا
آخر قصہ کیا ہے
مینجر نے جیا کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا
ان میڈم نے چوری کی ہے
سب چونک گئے
جیا کے بھائی نے اس کا گریبان پکڑتے ہوئے چلا کر کہا
تمھارا دماغ تو ٹھیک ہے
زلفی گھوم کر آیا اور اسے دھکہ دیتے ہوئے بولا
تمھاری جرآت کیسے ہوئی اتنا بڑا الزام لگانے کی
وہ صوفے پر گرا اور سنبھلتا ہوا کھڑا ہو کر بولا
بغیر ثبوت کے ہم بات نہیں کرتے یہ دیکھیں وڈیو
جیا مسلسل رو رہی تھی۔ بھابھی کی آنکھیں بھی برس رہی تھیں۔ ماں صدمے سے نڈھال تھی
زلفی کے باپ نے گرج کر کہا
ہم خاندانی لوگ ہیں تمہیں ضرور کوئی غلط فہمی ہوئی ہے
مینجر بولا
میں بھی ماں بہن والا ہوں آپ کو سب کے سامنے بدنام نہیں کیا اسی لئے آفس میں لایا ہوں تاکہ آپ لوگوں کا تماشہ نہ بنے
ابھی وڈیو لگا کر دیکھاتا ہوں
زلفی کے باپ نے گرج کر کہا
اگر جھوٹ ہوئی تو تمہیں ادھر سے سلامت نہیں بھیجیں گے، سوچ لینا
مینجر نے اسٹاف کو وڑیو لگانے کا اشارہ کیا
سب اس طرف متوجہ ہو گئے
سب حیرت زدہ رہ گئے۔ یہ دیکھ کر کہ جیا ادھر ادھر احتیاط سے دیکھ کر شیمپو کی بوتل اپنے پرس میں ڈال کر چل پڑی
اسٹاف لیڈی کو مینجر نے کہا
میڈم کا پرس چیک کرو. جب پرس چیک کیا گیا تو شمپو کی بوتل اس کے پرس سے برآمد ہو گئی
بھائی نے ایک زوردار تھپڑ جیا کو مارا. وہ روتے ہوئے کہنے لگی
وہ چور نہیں ہے
مگر زلفی کے باپ نے کہا
آنکھوں سے دیکھ کر ہم تمھاری باتوں پر یقین نہیں کر سکتے
جیا کے باپ نے کہا
آج سے یہ ہمارے لیے مر چکی ہے. اس کو گھر لے کر چلو اور چوکیدار سے بات کرتا ہوں اگر وہ اپنے بیٹے سے اسکا نکاح کروا لے تو میں ابھی اسے رخصت کر دوں گا. اب ان شریف لوگوں کے لائق تو یہ رہی نہیں
سب جیا کے گھر روانہ ہوئے. جیا مسلسل رو رہی تھی. ماں سے فریاد کر رہی تھی
وہ چور نہیں
مگر ماں نے حقارت سے کہا
تو آج سے میرے لیے مر گئی ہے.
بھابھی بھی خاموشی سے آنسو بہا رہی تھی
جب گھر آیا تو سب اترے
زلفی کے باپ نے کہا
ہم ادھر کھڑے کھڑے یہ فیصلہ سنانے آئے ہیں کہ ہم اب اس رشتے کو قائم نہیں رکھ سکتے ہیں
جیا کا بھائی آیا اور باپ سے بولا
چوکیدار نکاح کے لئے تیار ہے۔ بیٹے کو بلانے اور مولوی صاحب کو لینے گیا ہے
جیا کے بھائی نے زلفی کے باپ سے کہا
پلیز آپ تھوڑی دیر رک جائیں. نکاح کے گواہ بن جائیں
جیا کے باپ نے کہا
میں اس گندگی کو ایک منٹ بھی برداشت نہیں کر سکتا ہوں
یہ سن کر وہ لوگ بیٹھ گئے
بھابھی نے شوہر سے کہا
چوکیدار کا بیٹا نشہ کرتا ہے چوری کے الزام میں جیل بھی رہ چکا ہے
جیا کا باپ بولا
ہماری کون سی دودھ کی دھلی ہے
زلفی کی ماں اور بہن آہستہ آہستہ باتیں کر رہی تھیں کہ شکل سے کتنی محصوم لگتی ہے شکر ہے وقت پر پتہ چل گیا ورنہ ہم برباد ہو جاتے
جیا نے جب سنا کہ چوکیدار کے بیٹے سے اسے بیاہا جا رہا ہے تو وہ منتیں کرنے لگی کہ اسے جان سے مار دیں مگر اتنی بڑی سزا نہ دیں
زلفی کی ماں طنزیہ بولی
بی بی یہ چوری کرنے سے پہلے سوچنا تھا ناں
زلفی کی بہن بولی
جگہ جگہ کیمرے لگے ہیں تم نے سمجھا بچ نکلو گی
جیا نے کہا
میں چور نہیں ہوں
جیا کے باپ نے اٹھ کر اسے مارنا شروع کر دیا
کیا ہم سب اندھے ہیں
بھابھی نے بمشکل بچا کر اسے کمرے میں لے گئی
جیا کا باپ روتے ہوئے بولا
آج میری برسوں کی عزت خاک میں مل گئی۔ شاید اسی لیے لوگ بیٹیوں کی پیدائش پر خوش نہیں ہوتے کہ وہ عزت سے اٹھا ہوا سر جھکا دیتی ہیں
جیا کا بھائی بولا
چوکیدار کا بیٹا مولوی کو لانے گیا ہے بس آئے تو نکاح کروا کر ہمیشہ کے لیے رخصت کر دیتے ہیں
بھابھی نے شوہر سے کہا
اسے اتنی بڑی سزا نہ دیں آخر وہ آپ کی بہن ہے
شوہر نے گرج کر کہا
مر گئی ہے وہ آج سے میرے لیے. تم نے اب اس کی فیور میں ایک لفظ بھی کہا تو میں تمہیں بھی اس گھر سے نکال دوں گا
ماں نے بیٹے کو سمجھانا چاہا تو وہ غصے سے بولا
اب کسی نے مجھے روکا تو میں اپنے آپ کو ختم کر لوں گا
باپ بولا
تمہیں اپنے آپ کو ختم کرنے کی ضرورت نہیں۔ اس گندگی کو اس گھر سے جلدی سے ختم کرو۔ مجھ سے اب اسکا وجود اب زیادہ دیر برداشت نہیں ہو رہا ہے
زلفی سر تھامے ماں اور بہن کے پاس بیٹھا تھا. ماں بار بار اس کی کمر پر پیار سے ہاتھ پھیر کر کہہ رہی تھی
شکر ہے میرا اکلوتا بیٹا تباہ ہونے سے بچ گیا
زلفی کوئی جواب نہیں دے رہا تھا خاموش بیٹھا تھا
زلفی کی بہن کو شوہر کا فون آ رہا تھا کہ بچہ تنگ کر رہا ہے. اسے تفصیل بتا کر جلد آنے کی تسلی دے رہی تھی
مولوی صاحب آ کر بیٹھے اور چوکیدار اور اسکا بیٹا بھی آ گئے. اسکا بیٹا دانت نکالے کھڑا تھا
چوکیدار اور اس کے بیٹے کو جیا کے بھائی نے بیٹھنے کا اشارہ کیا
جیا کے باپ نے گرج کر کہا
بلاؤ اس بے غیرت لڑکی کو ادھر آ کر بیٹھے۔ جلدی سے نکاح پڑھاؤ اور اسے رخصت کرو
بھابھی نے اسے کہا
اپنے آپ کو قسمت کے حوالے کر دو اور اللہ تعالیٰ سے مدد مانگو
جیا دل میں اپنے رب سے مدد مانگنے لگی کہ وہ بے بس ہے تو اس کی مدد فرما
جب اسے چوکیدار کے بیٹے کے ساتھ بٹھا دیا گیا تو جیا کے باپ نے کہا
مولوی صاحب نکاح شروع کریں
چوکیدار کا بیٹا بار بار جیا کو دیکھ کر مسکرا رہا تھا
مولوی صاحب نے نکاح کے لئے جیا سے اجازت مانگی تو اس نے ایک نظر زلفی کو دیکھا اور ہاں کہہ دی. بھابھی نے ٹھنڈی سانس بھر کر اسے دکھ سے دیکھا
اچانک زلفی اٹھا اور بولا
یہ میری منگیتر ہے میری منگ ہے. میں اس کے ساتھ نکاح کروں گا
اس نے جھٹکے سے چوکیدار کے بیٹے کو اٹھایا اور ڈانٹ کر پرے دھکیلا
زلفی کی بات سن کر اس کے گھر والے اٹھ کھڑے ہوئے اور اسے منع کرنے لگے
زلفی نے کہا
اگر آج میرا جیا سے نکاح نہ ہوا تو میں اپنے آپ کو ختم کر لوں گا
اس کے گھر والوں نے آپس میں مشورہ کیا کہ اب زلفی ٹلنے والا نہیں اس لیے اسے شرط رکھ دیتے ہیں کہ تم بعد میں ہماری پسند کی لڑکی سے شادی کرو گے اور جیا کی حیثیت ادھر ملازمہ سے زیادہ نہ ہو گی. اگر منظور ہے تو ہم راضی ہیں
جیا نے ہاتھ جوڑتے ہوئے کہا
میں آپ لوگوں سے کھبی کوئی حق نہیں مانگوں گی نوکرانی کی حیثیت سے رہوں گی سرونٹ کوارٹر میں رہ لوں گی. پلیز مجھے قبول کر لیں. دوسری کیا چار شادیاں کر لیں مجھے کوئی اعتراض نہ ہو گا
زلفی کی ماں نخوت سے بولی
تم اعتراض کر بھی کیسے سکتی ہو. ہمارا بیٹا تو تمھاری اس معصوم شکل پر فدا ہو گیا ہے، جیسے ہم دھوکہ کھا گئے تھے
زلفی نے جلدی سے کہا
پلیز مولوی صاحب نکاح پڑھائیں
نکاح ہو گیا۔ مولوی صاحب نے مبارک باد دی. سوائے زلفی نے کسی نے قبول نہ کی
زلفی کے باپ نے زلفی سے گرج کر کہا
تمھارا شوق پورا ہو گیا ہو تو اب چلیں
بھابھی نے جیا کو اٹھایا تو بھائی گرج کر بولا
تم کیا کر رہی ہو.
زندگی میں پہلی بار وہ اسے تم کہہ کر مخاطب ہوا۔ بھابھی روتے ہوئے بولی
دروازے تک تو چھوڑ دوں
باپ بولا
ہاں چھوڑو اور اس کے لیے اب اس گھر کے دروازے ہمیشہ کے لیے بند ہیں
جیا لاغر قدموں سے چلتی ماں کے قریب آئی تو شوہر نے بیوی کو قہر بھری نظروں سے دیکھا تو ماں نے روتے ہوئے رخ پھیر لیا
زلفی نے اسے پکڑ کر کہا
جیا حوصلہ کرو
جیا کو زلفی کی بات سے کافی انرجی مل گئی. زلفی نے اپنی گاڑی کا فرنٹ ڈور کھول کر اسے بٹھایا
زلفی کے گھر والے دوسری گاڑی میں غضب ناک نظروں سے اسے دیکھ رہے تھے
جیا کے گھر کا دروازہ بند ہو چکا تھا
جیا نے حسرت سے گھر کو دیکھا اور وہ پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی
زلفی نے گاڑی چلا دی. سارے راستے جیا بری طرح ہچکیوں سے روتی رہی. اس نے کیا سوچا تھا اور کیا ہو گیا. اس نے اپنی شادی کے کیا کیا خواب دیکھے تھے۔ کاش وہ ایسا نہ کرتی
زلفی نے سارے راستے اسے چپ نہ کروایا. بس ٹشوز دیتا رہا
گھر پہنچ کر ماں نے چلا کر کہا
اسے سرونٹ کوارٹر میں بھیج دو
زلفی نے زچ ہوتے ہوئے کہا
ماما وہاں سارے میلز رہتے ہیں میں کیسے اس کو وہاں بھیج سکتا ہوں
ماں نے بڑے وثوق سے کہا
میں اب ایک لمحہ ضائع کیے بنا تیری دوسری شادی کر دوں گی، دیکھ لینا تم. ابھی اس مہارانی کو رکھ لو کمرے میں. جب تمھاری شادی کر دوں گی پھر تو اسے سرونٹ کوارٹر میں ہی جانا پڑے گا. میں وہاں ڈرائیور کی فیملی کو بلا لوں گی تاکہ تمھارا یہ بہانہ بھی نہ رہے
زلفی نے جیا سے کہا
چلو اوپر کمرے میں
وہ نڈھال سی چل پڑی
کمرے میں جا کر کھڑی ہو گئی. اتنے میں ماں نے آواز دی
گاڑی سے سامان نکالو جو آج بڑے شوق سے اس چورنی کے لیے چیزیں خریدیں تھی اب یہ تمھاری دوسری بیوی کے لیے رکھوں گی
زلفی نے خاموشی سے شاپر اٹھائے اور ماں کو دے دیے
زلفی نے دیکھا جیا کھوئی کھوئی سی ہے. اسے اس پر بہت ترس آیا جو رو رو کر نڈھال ہو چکی تھی
زلفی نے کہا
جاؤ واش روم میں جا کر فریش ہو جاؤ
جیا واش روم گئی تو سسکی نکل گئی
زلفی کو اس کی سسکیوں کی آوازیں آنے لگیں
اس نے سوچا کھانے کا دیکھ کر نیچے آتا ہوں جیا کو بھی بھوک لگی ہو گی
وہ نیچے آیا تو زلفی کو پھوپھو نظر آئی، پتلی سانولی سی لباس سے بھی غربت ٹپک رہی تھی. اسے زلفی کی ماں ساری سٹوری سنا رہی تھی
آپا ایسی معصوم شکل ہے کہ گمان نہیں ہوتا کہ یہ چورنی ہو سکتی ہے
آپا بولی
لگتی تو نہیں ایسی
زلفی کے ابو جو باہر کی روٹی پسند نہ کرتے تھے ہمیشہ ان کے گھر میں گھر کی روٹی پکائی جاتی تھی۔ زلفی کے ابو نے کھانے کا حکم دے دیا
زلفی کی ماں فرج سے سالن اور آٹا نکالنے لگی
زلفی نے ماں کو پھوپھو سے جیا کے بارے میں باتیں کرتے سنا تو ماں سے بولا
ماما اب جیا میری بیوی اور اس گھر کی عزت ہے، پلیز اب اسے اس گھر میں کوئی چورنی کہہ کر نہیں بلائے گا اور نہ اس گھر کا ماحول خراب ہو گا
ماں نے تنک کر کہا
تم نے تو وعدہ کیا تھا کہ تم اس کو نوکرانی کا درجہ دو گے. ٹھیک ہے میں چورنی نہیں بولوں گی مگر اسے مہارانی بھی نہیں بننے دوں گی
زلفی کے والد نے بیوی کو پاس بلا کر آہستہ سے سمجھایا
بیٹا اس پر فدا ہے اگر اس سے دوسری شادی کا وعدہ پورا کروانا ہے تو بیٹے کی بات مان لو اور اسے چورنی مت کہو. ورنہ بیٹا ناراض ہو جائے گا
پاس کھڑی آپا نے بھی ہاں میں ہاں ملائی
زلفی کی ماں روٹی بنانے لگی تو آپا نے کہا
چھوڑو بھاوج میں پکا دیتی ہوں تم ابھی بازار سے تھکی آئی ہو
زلفی کی ماں جھٹ چولہے سے پرے ہٹتے ہوئے بولی
شکریہ آپا
تھکنے سے زیادہ جو زہنی کوفت ہوئی ہے، کچھ نہ پوچھو دماغ خراب ہو گیا ہے بس
آپا پیڑے بنانے لگی
جیا واش روم سے واپس آئی تو دیکھا زلفی کمرے میں موجود نہ تھا. جیا کی طبیعت خراب ہو رہی تھی. سر دکھ رہا تھا مگر اس نے سوچا وہ اس گھر میں نوکرانی کی حیثیت سے آئی ہے تو رات کے کھانے کا وقت ہے۔ اسے جا کر کھانا بنانا چاہیے
اسے اپنے گھر والے یاد آ گئے۔ وہ شاپنگ سے واپس آتی تھی تو لیٹ جاتی تھی۔ بھابھی اسے کھانا بھتیجی کے ہاتھ کمرے میں بھجوا دیتی تھیں. اس نے شکر کیا کہ بھابھی بچوں کو میکے چھوڑ آئی تھی، شاپنگ پر جانے کے لیے. اس کی بھتیجی کے سامنے یہ تماشا نہ ہوا
جیا نے سر پر دوپٹہ کیے آ کر سلام کیا. آپا نے ایک نظر اسے دیکھا تو اسے وہ بہت اچھی لگی. آپا نے سلام کا جواب دیا
زلفی اس کے اس طرح نیچے آنے پر حیران ہوا
جیا قریب آ کر آپا سے بولی
آپ چھوڑیں میں روٹی بناتی ہوں
انہوں نے نہ نہ کی مگر جیا ان سے زبردستی لے کر روٹی بنانے لگی آپا سے بولی
آنٹی آپ بیٹھیں میں سرو کر لوں گی
آپا سامنے ڈائننگ ٹیبل پر بھائی بھابھی کے ساتھ بیٹھ گئی
زلفی کی ماں بولی
خود کو بھوک لگی ہو گی اسی لیے
زلفی ٹیبل پر بیٹھ گیا اور موبائل پر نظریں جما دیں
زلفی کی ماں کا فون بجا اس کی بیٹی کا فون تھا۔ ماں اسے سب بتانے لگی
وہ زلفی کے کمرے میں رہے گی اب وہ روٹیاں پکا رہی ہے
جیا نے سالن گرم کیا. سلیقے سے کھانا سرو کیا. آپا کچن میں آ گئی اور اسے کھانے پر اصرار کرنے لگی
جیا نے معزرت کی کہ اسے بھوک نہیں اور اوپر کمرے میں آ کر صوفے پر آنکھیں موند کر لیٹ گی
زلفی نے تھوڑا بہت کھانا کھایا اسے پتا تھا کہ جیا بھوکی ہے۔ جب سب کھا چکے تو آپا برتن سمیٹ رہی تھی کہ زلفی سوچ رہا تھا کہ جیا کو کیا دے
اتنے میں آپا بولی
ٹھہرو میں چائے بنا دیتی ہوں جیا کے لیے لے جانا اس کو سر درد کی گولی بھی دینا. میں ساتھ سینڈوچ بنا دیتی ہوں. تم دونوں کھا لینا تم نے بھی چکھا ہے صرف کھانا
آپا کو سب چھوٹے بڑے آپا پکارتے تھے. وہ آپا کے نام سے مشہور تھیں
زلفی کی ماں کچن میں آئی اور بولی
آپا مجھے پتا تھا آپ اس مہارانی کے لاڈ اٹھا رہی ہوں گی
وہ کھسیانی سی ہو کر بولی
ارے بھاوج معصوم بچی ہے چوری ہی کی ہے سمجھایا بھی جا سکتا ہے. معاف بھی کیا جا سکتا ہے. ویسے بھی اللہ تعالیٰ معاف کرنے والے کو پسند کرتا ہے اور معاف کرنے سے اپنے گناہ بھی جھڑتے ہیں
اونہہ کہہ کر زلفی کی ماں بولی
اگر سعودی عرب میں ہوتی تو ایک ہاتھ کٹ چکا ہوتا
زلفی چائے لے کر جا چکا تھا.
آپا نے سمجھایا
دیکھو زلفی بھی بھوکا رہتا، اس بہانے وہ بھی کچھ کھا لے گا وہ کتنا بے سکون ہے اس وقت کچھ اس کا سوچو
آپا برتن دھونے لگی تو زلفی کی ماں نے کہا
آپا نہ کرو صبح ماسی آ جائے گی
آپا نے کہا
اچھا سمیٹ تو لوں
زلفی کی ماں نے کمرے میں جا کر شوہر کو ساری رپورٹ دی
اس نے کہا
آپا ٹھیک کہہ رہی ہیں معاف بھی کیا جا سکتا ہے
وہ بولی
سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ میں ٹلنے والی نہیں. میں زلفی کی شادی کروا کر ہی دم لوں گی
شوہر نے سمجھاتے ہوئے کہا
دیکھو پہلے بھی کتنی لڑکیوں کو ریجیکٹ کر چکی ہو. ان لوگوں کے دل پر کیا گزری ہو گی. اب میں تمہیں رشتے والی کے کہنے پر گھر گھر رشتہ دیکھنے نہیں بھیج سکتا
زلفی کی ماں بولی
اب ایسا نہیں ہو گا۔ میں نے لڑکی سوچ لی ہے. بس اب جلد از جلد میں دھوم دھام سے زلفی کی شادی کروں گی
شوہر نے پوچھا
کون ہے وہ
بیوی آنکھیں مٹکا کر بولی
وہی امریکہ والی. اپنی بیٹی کی ساس کی بھانجی
اچھا اچھا تمھاری تو اسے دیکھتے ہی رال ٹپک پڑی تھی کہ کاش زلفی کا رشتہ نہ کیا ہوتا. ابھی کل ہی کی تو بات ہے. اب تو تمہیں موقع مل گیا ہے ارمان پورا کرنے کا۔ امریکہ والی بہو لا کر خاندان میں عزت بنانا چاہتی ہو
بیوی تنک کر بولی
تو کیا کروں. جیا نے تھوڑی بےعزتی کروا دی ہے
شوہر نے سمجھاتے ہوئے کہا
اب خود بہو کے بارے میں کسی کو مت بتانا. ہماری بے عزتی ہے
بیوی اکڑ سے بولی
ارے ایسی باتیں چھپتی کہاں ہیں. بہرحال جو بھی ہو میں نے تو اب پیچھے نہیں ہٹنا
شوہر نے وارننگ دینے والے انداز میں کہا
کسی کو چوری والی بات پتہ نہ چلے۔ اب سمجھ نہیں آ رہی کہ خاندان والوں کو کیا جواب دیں۔ کیا بتائیں گے کہ جیا کون ہے
بیوی ایکدم بولی
ہم زلفی کی شادی کا بتائیں گے ہی نہیں. جیا کا کہہ دیں گے کام والی ہے. اور زلفی کو بھی میں منا لوں گی آپ فکر نہ کریں
زلفی کمرے میں چائے لیکر آیا تو وہ صوفے پر آنکھیں موندے ترچھی لیٹی ہوئی تھی. سادہ سے کاٹن کے سوٹ میں وہ بہت معصوم اور پیاری لگ رہی تھی. زلفی کو اس پر بے اختیار پیار آ گیا
آہٹ پا کر وہ سیدھی ہو کر اٹھ بیٹھی. اور کھڑی ہو کر جانے لگی تو زلفی نے حیران ہو کر پوچھا
کدھر جا رہی ہو
جیا نے کہا
برتن دھونے
زلفی نے جھڑک کر کہا
بیٹھو آرام سے کل ماسی آ جائے گی
جیا نے کہا
میری حیثیت بھی اسی جیسی ہے
زلفی نے کہا
پکڑو چائے پیو اور یہ سینڈوچ بھی کھاؤ اس کے بعد پین کلر لے لینا سر دکھ رہا ہو گا. میں نے بھی کھانا ہے چلو دونوں کھاتے ہیں. بھلا ہو آپا جی کا ان کو تمھارا خیال آ گیا. یہ ہماری پھوپھو ہیں. ان کی گاؤں میں شادی ہوئی تھی چار بچے ہیں شوہر فوت ہو گیا ہے اور بچے شادی شدہ ہیں. یہ مالی لحاظ سے کمزور ہیں. اس لئے ماما انہیں اتنی اہمیت نہیں دیتی ہیں. ابو بہن سے پیار کرتے ہیں اور مالی امداد بھی کرتے رہتے ہیں. امی کو صرف ان کا کام کرنا پیارا ہے اب میری شادی کے لئے انہیں بلا لیا. وہ کام کی بہت شوقین ہیں. اچھا چلو آرام سے بیڈ پر بیٹھو
دونوں چائے پینے لگے. پھر جیا نے پین کلر کھائی تو قدرے سکون ملا
زلفی نے کہا
اس رات کے تم نے بھی بہت خواب دیکھے ہوں گے اور میں نے بھی۔ دیکھو سب کچھ بھلا کر آج اس رات کو حسین بناتے ہیں
جیا نے کپکپاتی آواز میں کہا
دیکھیں میں آپ کو ساری سچائی بتاتی ہوں کہ میں بے قصور ہوں
زلفی ایکدم غصے میں آ گیا اور بولا
ابھی ابھی ہم سب نے تمھاری سچائی اس وڈیو میں دیکھی ہے اب تم یاد رکھنا دوبارہ مجھ سے زندگی میں کھبی اس ٹاپک پر بات نہ کرنا
وہ موڈ خراب کر کے بیٹھ گیا
جیا قریب آ کر ہاتھ جوڑ کر بولی
مجھے معاف کر دیں میں آئندہ کھبی اس ٹاپک پر بات نہیں کروں گی۔ میں وعدہ کرتی ہوں کہ جتنا ہو سکے سب کی خدمت کروں گی کوئی حق نہیں مانگوں گی۔ آپ کی دوسری شادی میں بھی رکاوٹ نہیں بنوں گی. پلیز آپ کل مجھے سرونٹ کوارٹر میں شفٹ کر دیجئے گا۔ میں اپنی حیثیت سے بڑھ کر آنٹی کو ناراض کر کے اس کمرے میں نہیں رہ سکتی. آپ کا بہت شکریہ کہ آپ نے مجھے قبول کیا
وہ ہاتھ جوڑے کھڑی تھی کہ زلفی نے اٹھ کر اس کے ہاتھ پکڑ لیے اور اسے زور سے گلے لگا کر بولا
میں تم سے بہت پیار کرتا ہوں. کھبی تمہیں چھوڑ نہیں سکتا. تم پہلی نظر میں ہی مجھے پسند آ گئی تھی. میں نے ایک بار مارکیٹ میں تمھاری بھابھی کے ساتھ دیکھا پھر انہوں نے تمہیں جیا پکارا. تم دونوں کی نظر مجھ پر نہ پڑی. میں نے بھی گھر آ کر بھی کھبی کسی کو نہ بتایا پھر
جیا نے اپنا آپ اس سے چھڑایا اور حیرت سے اس کی باتیں سننے لگی
زلفی نے کہا
میرے ایک دوست کی بہن تمھارے کالج میں پڑھتی تھی. دوست نے بہن سے تمھارے بارے میں پوچھا تو ہس نے بتایا کہ وہ تو بہت بھولی سی ہے لگتا ہے گھر کی لاڈلی ہے. بچوں جیسی عادتیں ہیں. بہت معصوم اور شریف لڑکی ہے۔ اپنے کام سے کام رکھتی ہے. کوئی اسکینڈلز نہیں ہے
تب سے میں بہت تسلی میں ہو گیا اور جلد شادی پر زور دینے لگا. تم سے محبت شدید ہو چکی تھی. تم سے ملنے، تمہیں پانے کے لیے بے چین تھا. مجھے اپنی ماما سے ڈر لگتا تھا کہ وہ اکلوتے بیٹے کے لیے خوب سے خوب تر لڑکی لانا چاہتی تھیں. چند دن پہلے ہی انہیں میری بہن کی ساس کی بھانجی امریکہ سے شادی کرنے آئی ہے ان لوگوں کو وہاں اچھا رشتہ نہیں ملا. ہمارا گھرانہ ان کو پسند آ گیا. امی نے دبے لفظوں میں مجھے رام کرنا چاہا مگر میں نہ مانا، شکر ہے۔ ابو نے بھی کہا کہ اب جدھر ہو گیا اب ادھر ہی ہو گی شادی. مگر اب امی کو موقع مل گیا ہے بلکہ تم نے دے دیا ہے اب میں ان کو نہیں روک سکوں گا. میں تمہیں کھبی نہیں چھوڑ سکتا مگر جو وعدہ ماں سے کر کے تمہیں ادھر لایا ہوں وہ امی پورا کروا کر دم لیں گی. اب تم نے ہی ان کو خوش کرنے کی کوشش کرنی ہے شاید وہ باز آ جائیں
جیا نے کہا
میں ان کی خدمت میں کسر نہیں چھوڑوں گی مگر ان کے ساتھ وعدہ خلافی بھی نہیں کروں گی
زلفی نے اسے پیار سے دیکھتے ہوئے کہا
اس نے منہ دکھائی کا گفٹ سب سے چھپا کر لیا تھا اب وہ میں ابھی دیتا ہوں
جیا نے نظریں جھکا کر کہا
نہیں آپ اسے رکھیں بعد میں کام آئے گی
زلفی نے کہا
میرے دل کی ملکہ تم ہو تو کسی اور کو کیسے دوں
جیا سوچ بھی نہیں سکتی تھی کہ آج کی رات اسے زلفی کا بھرپور پیار و توجہ نصیب ہو گی کہ وہ اپنا غم بھول جائے گی. وہ سکون سے سو رہی تھی کہ ساس کی زور زور سے دروازہ بجانے کی آوازیں آئیں. وہ گھبرا کر اٹھ بیٹھی. زلفی نے نیند سے بھری آنکھوں سے دیکھا
جیا نے جلدی سے دوپٹہ درست کر کے دروازہ کھول کر سلام کیا
ساس نے ہونٹ ہلا کر جواب دیا
بیٹے کو غصے سے بولی
آج ڈیوٹی پر نہیں جانا. اور یہ کیوں اتنی دیر سوتی رہی ہے ٹائم دیکھا ہے میری ابھی آنکھ کھلی تو دیکھا کچن خالی پڑا ہے، کوئی ناشتے کا سین نہیں. آپا بھی آج ابھی تک سو رہی ہیں
زلفی نے بے زاری سے کہا
امی آج چھٹی کر
ماں نے بات کاٹتے ہوے غضبناک انداز میں کہا
خبردار چلو تیار ہو اور جاؤ آفس
وہ منہ بنائے آٹھ کر واش روم چل پڑا
جیا نے کہا
میں ابھی ناشتہ بنا کر دیتی ہوں
وہ نیچے چل پڑی
کچن میں پہنچی تو آپا کچن میں کھڑی پیڑے بنا رہی تھیں
جیا نے سلام کیا تو وہ دعائیں دینے لگیں
جیا نے کہا
پھوپھو آپ ہٹیں میں ناشتہ بناتی ہوں مگر وہ نہ مانیں
جیا نے سسر کو سلام کیا تو انہوں نے قدرے نرمی سے جواب دیا
زلفی تیار ہو کر کچن میں آیا اور آپا سے سرگوشی میں بولا
جیا کا خیال رکھنا
وہ مسکرائیں اور اثبات میں گردن ہلا دی
چند دنوں میں ہی ساس نے جیا کا جینا حرام کر دیا ہر وقت ذلیل کرتی. جب زلفی پاس نہ ہوتا تو چورنی کہتی
ساس نے بہت کوشش کی کہ جیا سرونٹ کوارٹر میں رہے۔ اس نے ڈرائیور کی فیملی کو بھی بلا لیا مگر زلفی نے انکار کر دیا
ماں نے کہا
جب تیری دوسری شادی ہو گی پھر تو یہ سرونٹ کوارٹر میں جائے گی
زلفی نے کہا
تب کی تب دیکھی جائے گی
جیا ہر نماز کے بعد اپنے رب سے دعائیں کرتی کہ اس کو سسرال میں عزت سے رہنا نصیب فرما. اپنے پیاروں کے دلوں کو اس کی طرف سے صاف کر. وہ پہلا پیار واپس دلا. وہ اپنے رب پر یقین رکھتی تھی کہ وہ ضرور دعاؤں کو قبول کرتا ہے. اگر دنیا میں قبول نہ ہوں تو وہ آخرت میں زخیرہ ہو جاتی ہیں اور اسکا اتنا اجر ملے گا کہ انسان کہتا کاش میری دنیا میں کوئی دعا قبول نہ ہوئی ہوتی
ساس نے زلفی کا امریکہ والی فیملی سے رشتہ پکا کر دیا اور زلفی کو مجبور کر کے جیا کو سرونٹ کوارٹر میں شفٹ کر دیا اور کہا
سب رشتے داروں کو بتانا ہے کہ تم ملازمہ ہو
جیا نند کے پرانے کھلے کھلے کپڑے پہنتی. کیونکہ ساس نے زلفی کو اس سے بات چیت سے بھی منع کر دیا تھا
زلفی کا رشتہ امریکن فیملی سے طے پا گیا. کافی سارے رشتے دار شادی اٹینڈ کرنے گھر میں رہنے آ گئے
شاندار بری بنائی گئی. ڈھولک رکھ دی گئی. شادی کے گانے بجنے لگے
جیا خاموشی سے کام کرتی رہتی کچھ نہ بولتی. کچھ تو اسے گونگی سمجھ بیٹھے. صرف آپا تھی جو اس کا خیال رکھتی. اسے زبردستی کھلاتی پلاتی
زلفی کو ماں نے اموشنل کر کے منا لیا تھا. زلفی اداس رہتا. گھر میں ماں کی چلتی تھی. باپ بھی بے بس تھا
جیا اپنے رب سے دعائیں کرتی کہ یااللہ تو دلوں کے بھید جانتا ہے میں بے قصور ہوں. میں اپنے شوہر سے پیار کرتی ہوں وہ مجھ سے کرتے ہیں وہ دکھی ہیں. میں بھی اپنے شوہر کو کھونا نہیں چاہتی. میں اس کو کسی اور کا ہوتا نہیں دیکھ سکتی ہوں. تو اپنی ہمت سے بڑھ کر کسی کو نہیں آزماتا. مجھ میں اب اور سکت نہیں ہے یہ سب سہنے کی. اگر یہ ذلت میری کسی گناہ یا اعمال کی سزا ہے تو میں سچے دل سے اس کی معافی کی طلبگار ہوں. تو غفور و الرحیم ہے. درگزر کرنے والا ہے. میری سکت اب اور ذلت سہنے کی نہیں. میں بے بس ولاچار ہوں. میرے پیارے مجھ سے دور ہیں، ناراض ہیں تو اسبل اسباب ہے میرے پیاروں کے دل میری طرف سے صاف فرما دے۔ مجھے ان کا پرانا پیار لوٹا دے. میری التجائیں قبول و منظور فرما تو اپنے بندوں کو مایوس نہیں کرتا. تجھ سے ہی مدد چاہتی ہوں تو ہی میرے حال پر میرے شوہر کے حال پر رحم فرما۔ ہم دونوں کی جدائی ختم فرما اور ہمیں ملا دے. میرے پیاروں کو مجھ سے ملا دے. آمین ثم آمین کہہ کر وہ آنسو صاف کرتی مصلے سے اٹھ گئی. آپا نے اسے چپ کرایا اور کہا
تو صبر کر اللہ تعالیٰ صبر کا بہت اجر دیتا ہے. دیکھنا تو خوشیاں سمیٹے گی انشاءاللہ
جیا کے جانے کے بعد سب دیر تک روتے رہے. کسی نے کچھ نہ کھایا نہ پیا. سب اکٹھے بیٹھے رہے. جیا کی بھابھی نے کہا
اب سب تھک چکے ہیں وہ دودھ گرم کر کے لے آئی اور ساتھ بسکٹ کھلا کر ساس، سسر کو دوا دی. شوہر کو تسلی دی وہ صوفے پر ہی سو گیا. وہ بھی ساتھ والے صوفے پر سو گئی
صبح ہوئی تو جیا کے باپ نے بیوی سے کہا
نہ جانے ہم سے ایسا کون سا گناہ سرزد ہوا کہ ہمیں اتنی ذلت اٹھانی پڑی جو اللہ تعالیٰ کی ناراضگی کا باعث بنی
بیوی بولی
ہم نے تو کھبی کسی کے ساتھ زیادتی نہیں کی
پھر سوچتے ہوئے بولی
ہاں کچھ عرصہ پہلے ملازمہ پر چوری کا الزام لگا کر اسے ڈانٹ کر نکال دیا تھا وہ کہتی رہی کہ اس نے چوری نہیں کی. بعد میں سچائی سامنے آ گئی تھی کہ میں ہی بھول گئی تھی اور وہ سچی تھی مگر میں نے خیال نہ کیا کہ چھوڑو اسے. اللہ تعالیٰ کے لیے یہ بہت آسان ہے بدلہ لینا وہ بھی اس طریقے سے جس کا ہم سوچ بھی نہیں سکتے
وہ رونے اور اللہ تعالیٰ سے معافیاں مانگنے لگی. جیا کے باپ نے کہا
فوراً اس ملازمہ کو بلاؤ اور اس سے ہم سب معافی مانگیں گے
جیا کی بھابھی بولی
مجھے ابھی بھی یقین نہیں آتا کہ جیا چوری کر سکتی ہے. کھبی کھبی آنکھوں دیکھا سچ بھی جھوٹ ہوتا ہے.
بھائی آہستہ آہستہ بولنے لگا
میری لاڈلی بہن کو کیا ہوا کہاں میں نے اسے پیسے کی کمی، خواہشات کی کمی ہونے دی. پھر رونے لگا
کس دھوم دھام سے اسے رخصت کرنا تھا مگر
پھر وہ ہچکیوں سے رونے لگا
بھابھی کے میکے والے ان کے بچوں کو چھوڑنے اور ناشتہ بنا کر لے آئے
ان لوگوں نے زبردستی ان کو ناشتہ کروایا. تسلی دی
وقت بڑا مرہم ہے. ملازمہ کو بلا کر معافی مانگی گئی اور اسے کافی کچھ دے دلا کر رخصت کیا گیا وہ خوشی سے دعائیں دیتی چل پڑی
جیا کی بھابھی نے اپنے شوہر سے پوچھا
شاپنگ سینٹر کے مینجر کو آپ فون نمبر دے کر آئے تھے کہ اس وڈیو کی کاپی دے گا۔ کیا اس کا فون آیا
اسکا شوہر اداسی سے بولا
ہاں کئی بار آیا مگر میں نے اٹینڈ نہیں کیا. جرمانہ جو بھر آیا تھا پھر کاپی لے کر کیا کرنی ہے
جیا کی بھابھی نے کہا
پلیز آپ اسے فون کر کے مانگیں میں غور سے دیکھنا چاہتی ہوں۔ شاید جیا کی بےگناہی کا کوئی ثبوت مل جائے کیونکہ جیا بار بار کہہ رہی تھی کہ وہ بے قصور ہے. پلیز آپ مجھے نمبر دیں میں خود اسے کہتی ہوں
شوہر بولا
میری بات نہ کروانا میرا حوصلہ نہیں ہے. جیا کے باپ نے کہا چیک کرنے میں کوئی حرج نہیں. بہو ٹھیک کہتی ہے
بہو نے نمبر ملایا کافی دیر بعد فون اٹینڈ ہوا. بہو نے اسپیکر آن کر دیا
مینیجر بولا
جی آپ لوگ آ جائیں آ کر اپنا جرمانہ واپس لے جائیں. ہم شرمندہ ہیں آپ کی لڑکی بے قصور ہے اور فون بند ہو گیا
سب نے خوشی اور حیرت سے روتے ہوئے ایک دوسرے کو دیکھا اور اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کیا
وہ لوگ وڈیو دیکھنے کے بعد جیا کے گھر چل پڑے
جیا برتن دھونے میں مصروف تھی کہ اسے کسی نے بتایا کہ اس کے گھر والے آئے ہیں اسے اپنے کانوں پر یقین نہیں آیا
سامنے بھابھی اور ماں کو دیکھ کر برتن پھینکا اور بھاگتی بھابھی کے گلے لگی وہ اسے کافی پیار کرتی رہی دونوں نے روتے ہوئے الگ ہوئیں. پھر جیا آہستہ آہستہ چلتی ماں کے قریب گئی۔ ماں کے قدموں کو چھوا تو ماں نے روتے ہوئے گلے لگا لیا
باپ اور بھائی ڈرائنگ روم میں تھے اور زلفی اور اس کے باپ کو تفصیل بتا رہے تھے. پھر پوچھا یہ ہلہ گلہ کس وجہ سے گھر میں ہے کیا کوئی فنکشن ہے
زلفی اور اسکا باپ ایک دوسرے کو دیکھنے لگے قریب بیٹھا ایک مہمان بولا
تو اچھا یہ سٹوری ہے گھر میں دولہن موجود ہے اور اور نئی دولہن لانے کی تیاری ہے
جیا کا بھائی حیرت سے دیکھنے لگا کہ بھابھی کے ساتھ سامنے جیا آتی دکھائی دی
جیا کی حالت دیکھ کر دونوں ششدر رہ گئے
جیا باپ کے قدموں کو چھونے لگی۔ باپ نے میری شہزادی کہہ کر گلے لگا لیا اور روتے ہوئے بولا
میری بچی ہمیں معاف کر دو. ہم نے تمھارے ساتھ بہت زیادتی کی ہے
دونوں رونے لگے پھر بھائی جان کہہ کر زور سے گلے لگ کر دھاڑیں مار مار کر رونے لگی. بھائی بھی رو رو کر معافیاں مانگتا رہا
پھر رونے دھونے کے بعد بھائی نے کہا
یہ کیا حالت بنا رکھی ہے میری گڑیا.
پھر زلفی کی طرف خشمگیں نگاہوں سے دیکھ کر بولا
زلفی یہ سب کیا ہے کیا تم اور شادی کے چکر میں ہو اور ہماری بہن کو نوکرانی بنا کر رکھا ہوا ہے کیا اسکا یہ حال کرنے اسے بیاہ کر لائے تھے۔ تم لوگوں کو کچھ خدا کا خوف ہے
زلفی کی ماں اکڑ کر بولی
یہ اسے اسی شرط پر لایا تھا کہ اسے ادھر نوکرانی بنا کر رکھے گا اور دوسری شادی کرے گا
جیا کا بھائی بولا
یہ دوسری شادی نہیں کر سکتا ہے میری بہن کی زندگی برباد نہیں کر سکتا
زلفی کی ماں چیخ کر بولی
ہمارے ہی گھر آ کر ہماری ہی بے عزتی کرنے والے تم لوگ ہوتے کون ہو۔ چاہے میں ایک شادی کروں یا چار
اتنے میں کسی نے اطلاع دی کہ امریکہ والے آئے ہیں. زلفی کی ماں گھبرا گئی
وہ لوگ آتے ہی زلفی کے باپ کو ذلیل کرنے لگے
آپ لوگ فراڈی ہیں. ایک بیوی کے ہوتے ہوئے اس کی دوسری شادی کروا رہے تھے شرم آنی چاہیے آپ لوگوں کو کسی کی زندگی برباد کرنے سے پہلے
وہ برا بھلا بولتے رہے. ساتھ میں زلفی کی بہن کی ساس بھی آئی ہوئی تھی. زلفی کی ماں سے بولی
اپنی بیٹی کو رکھو پاس. میں تمھاری بیٹی کو طلاق دلوا کر اپنی بھانجی کی شادی اپنے بیٹے سے کروں گی
زلفی کی ماں رونے دھونے اور منتیں کرنے لگی، معافیاں مانگنے لگی
زلفی کی بہن بولی
پلیز مجھے طلاق نہ دیں. میرا بچہ ہے
وہ بولے
ہم بچہ بھی لے کر جائیں گے
زلفی کی بہن بولی
آپ بےشک دوسری شادی کر لیں. میں اپنے بچے کی آیا بن کر رہ لوں گی. آپ لوگوں کی خدمت کروں گی۔ کوئی حق نہیں جتاؤں گی
زلفی کی بہن کی ساس بولی
تحریری طور پر اجازت دو تو تم دوسری شادی کی اجازت دیتی ہو. دوسرے ملازموں کی طرح تم بھی سرونٹ کوارٹر میں رہو گی اور ان گھر والوں سے ناطہ توڑ دو گی
زلفی کی بہن نے کہا
مجھے سب منظور ہے
زلفی کی ماں روتے ہوئے انہیں روکتی رہی مگر وہ نہ رکے.
ایک رشتہ دار زلفی کی ماں سے بولی،
بہن یہ مکافات عمل ہے ہم تو تمھاری بہو کو نوکرانی سمجھتے رہے. اتنی صابر، خوبصورت پڑھی لکھی اور اچھے خاندان کی بہو کو چھوڑ کر تم اسے برباد کر کے بیٹے کا گھر بسا کر اسے اجاڑنا چاہتی تھی
زلفی ماں کو پکڑ کر تسلیاں دے رہا تھا، ساتھ رو رہا تھا
زلفی کی ماں اٹھی اور جیا سے ہاتھ جوڑ کر معافی مانگنے لگی. سب رشتہ دار تماشا دیکھ رہے تھے
زلفی کی ماں روتے ہوئے بولی
تمہیں بدنام کرتی تھی آج سب کے سامنے خود بدنام ہو گئی
جیا روتے ہوئے اسے بہلا کر کہہ رہی تھی
آنٹی آپ کی عزت میری عزت ہے. آپ سب کے سامنے ایسے مت کریں. مجھے آپ سے کوئی گلہ نہیں
زلفی نے کہا
امی ہم بہن کے سسرال والوں سے کچھ نہیں کہیں گے بس اللہ تعالیٰ سے اور ان بندوں سے معافی مانگیں گے. اللہ تعالیٰ کے بندوں نے معاف کر دیا تو اللہ تعالیٰ بھی معاف کر دے گا
جیا بولی
سب ٹھیک ہو جائے گا
زلفی کا باپ بیوی کو مخاطب کر کے بولا
ہم جیا کو والدین کے گھر بھیجیں گے اور اسی تاریخ کو دھوم دھام سے رخصت کر کے لائیں گے
سب نے ہاں میں ہاں ملائی
جیا اپنے والدین کے گھر آ کر سوچ رہی تھی کہ کیسے سچے دل سے توبہ اور کی گئی دعائیں رب ضرور سنتا ہے
وہ اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرنے لگی. جب دعائیں قبول ہوتی ہیں تو ہم رب العزت کا شکر ادا کرنا بھول جاتے ہیں. شکر ادا لازمی کرنا چاہیے. جو نعمتیں بن مانگے ملتی ہیں ان کا بھی شکر ادا کرو تو رب العزت اور نوازتا ہے. جس نعمت کا شکر نہ ادا کرو تو وہ عارضی طور پر چھین لیتا ہے
جیا سوچنے لگی. شادی سے پہلے اس کی زندگی کتنی سکھی تھی سب کی لاڈلی تھی. شادی کے بعد اسے احساس ہوا کہ اس پر رب العزت کا کتنا کرم تھا. ورنہ کچھ لوگ اس جیسی زندگی کے لیے ترستے ہیں. اس کی بھابھی بہت اچھی تھی
شادی والی رات زلفی نے کہا
پہلی رات تم سادہ کپڑوں میں تھی اور بہت پیاری لگ رہی تھی اب
وہ چلا کر بولی
کیا مطلب سارا دن پارلر میں کھپ کھپ کر تیار ہوئی اور آپ کہہ رہے ہیں کہ اچھی نہیں لگ رہی
زلفی نے مسکرا کر کہا
میری اتنی جرات کہ میں برائی کر سکوں
دونوں مسکرانے لگے. زلفی نے جیا سے معافی مانگتے ہوئے کہا
اگر میں اس دن تم سے تفصیل پوچھ لیتا تو
یہ ہی تو مسئلہ ہے کہ گھر والوں کو اپنے بیٹے، بیٹی سے زیادہ دنیا کی فکر لگ جاتی ہے کہ دنیا کیا کہے گی
میں اکثر اس مارٹ پر شاپنگ کرنے جاتی تھی ایک دن ان کے ورکر نے غلطی سے کسی اور کا شمپو میرے سامان میں ڈال دیا میں تو رسید ادھر ہی پھینک دیتی ہوں. گھر آ کر دیکھا بہت غصہ آیا کیونکہ شمپو بلکل ختم تھا اور میں وہی یوز کرتی تھی. بھابھی کو بتایا تو انہوں نے کہا کل شاپنگ پر جانا ہے اور لے لینا. رسید کے بغیر وہ واپس نہیں کریں گے
دوسرے دن گھر والوں سے نظر بچا کر میں کاونٹر پر گئی اور ساری بات بتائی. وہ بولا رسید کے بغیر ناممکن ہے کیونکہ ہم رسید کے بغیر واپس نہیں لیتے.میں نے
سوچا چپ کر کے یہ شمپو وہیں رکھ دیتی ہوں اور جو شمپو مجھے چاہیے وہ اٹھا لیتی ہوں کیونکہ قیمت برابر تھی۔ میں نے چپکے سے ایسا ہی کیا مگر مجھے نہیں پتا تھا کہ کیمرے لگے ہیں اور یہ سب ہو جائے گا۔ میں نے جو دوسرا شمپو اٹھایا تھا ساری وڈیو کسی نے نہیں دیکھی نہ میری بات سنی۔
زلفی کی بہن کا مسئلہ بن گیا تھا تو اب زلفی سینڈوچ بن گیا ایک طرف بہن کا گھر تباہ ہونے کا رہا تھا اگر وہ وہ اس کے سسرال سے شادی نہ کرتا دوسری طرف اسکا پیار تھا۔
گھر والے اب جیا کے آگے بھی شرمندہ تھے اور معافی کے طور پر اس کو دھوم دھام سے بیاہ کر لانے پر راضی تھے۔
ادھر جیا کے گھر والے پھر سے شادی کی تیاریوں میں مصروف ہو گئے تھے۔ جیا کو زلفی نے سری صورت حال بتائی تو اس نے اس سے باہر ملنے کا بولا، جب وہ دونوں ملے تو جیا نے کہا،
میں اپنی نند کا گھر برباد نہیں کر سکتی صرف اپنی خوشی کے لیے۔ ان کے دو بچے ہیں اب وہ شرط رکھ رہے ہیں کہ اگر زلفی نے ہمارے ہاں شادی نہ کی تو وہ زلفی کی بہن کو طلاق دے دیں گے۔ ادھر زلفی کے والد کہہ رہے ہیں وہ طلاق دیتے ہیں تو دیں مگر اب میں اپنی زبان پوری کروں گا پہلے ہی جیا پر بہت ظلم کر چکے ہیں۔
جیا کسی کو بھی بتائے بغیر سسرال چلی گئی اور سسر کو منتیں کر کے منا لیا کہ زلفی بے شک اور شادی کرلے اسے کوئی اعتراض نہیں ہو گا۔ میں اپنی نند کا گھر برباد نہیں کر سکتی۔ اس کی ساس نے تشکر بھری نظروں سے دیکھا اور مان گئے جب سسر مانے تو زلفی کو وہ پہلے ہی منا کر لائی تھی۔ اس کے دل میں بھی بہن کی محبت تھی۔ اپنے لیے وہ اسکا گھر نہیں اجاڑ سکتا تھا۔ جیا کو ساس نے گلے لگا کر روتے ہوئے خوب پیار کیا اور دعائیں دیں۔
جیا نے زلفی سے کہا،
اب ہم صرف میسج پر بات کریں گے آپ میرا نمبر کسی لڑکے کے نام سے سیو کر لیں میں بھی لڑکا بن کر آپ کو جواب دیا کروں گی تاکہ آپ کا گھر خراب نہ ہو۔ اور اسی ڈیٹ پر آپ کی شادی آپا کے سسرال میں ہو گی ۔
زلفی رونے لگا اور بجھے دل سے گھر واپس آ گیا۔
آپا کے سسرال والوں کو منا لیا گیا وہ بہت خوش ہوئے اور شادی کی تیاریوں میں لگ گئے۔ آپا پر جو وہ لوگ ظلم کرنا شروع ہو گئے تھے شوہر نے بھی رویہ بدل لیا تھا اب وہ سب ٹھیک ہو گئے۔ مگر زلفی کی بہن سمیرا کا دل دکھی ہو گیا کہ اب جیا کا کیا بنے گا وہ اس کی خاطر اپنی خوشیوں کو قربان کر رہی ہے۔ خود برباد ہو رہی ہے۔
جب جیا نے اپنے والدین کو ساری بات بتائی تو اس کے والد اور بھائی بھڑک اٹھے کہ ہوٹل کی بکنگ دوبارہ کروانی پڑی ہے۔ سب رشتے داروں کو پہلے منع کیا اب دوبارا بلایا ہے۔ وہ کیا کہیں گے پہلے بھی کسی نے ہماری سٹوری پر یقین نہیں کیا تھا کافی باتیں بنی تھیں۔ ہم نے سوچا چلو جب وہ دھوم دھام سے بارات لے کر آئیں گے تو لوگوں کی زبانیں بھی بند ہو جائیں گی۔ اب دوبارہ ہم یہ ذلت برداشت نہیں کر سکتے۔ تمہیں کس نے بڑا بنایا ہے کہ تم جا کر یہ فیصلہ کر آؤ۔ دوسروں کا خیال کرو اور والدین کی عزت جائے بھاڑ میں۔
ہم اس فیصلے کو نہیں مانتے۔ انہوں نے جھٹ سے زلفی کو فون کیا تو وہ بولا،
میں نے تو کہا تھا مگر جیا نہیں مانی تھی اب تو ادھر تیاریاں شروع ہو چکی ہیں اب پیچھے ہٹنا ناممکن ہے۔ میری بہن کا گھر اجڑ جائے گا۔
ڈیٹ بعد کی رکھ لیں میں اسے گھر والوں سے خفیہ دھوم دھام سے لے جاؤں گا۔
جیا کے والد نے کہا،
تمہارے پاس دو گھنٹے ہیں الگ گھر ڈھونڈو اور اسے ابھی یہاں سے لے جاؤ۔ ہم اب اس کے لیے مر چکے ہیں۔ جب اس کو ہماری عزت سے زیادہ دوسروں کی عزت پیاری ہے تو پھر ہم اس کو قبول نہیں کرتے۔ نہ جانے اب کی بار پھر نئے سرے سے ہمیں سارے خاندان کے آگے کرنا ذلیل ہونا پڑے گا کس کس کو صفائیاں دینی پڑیں گی۔
تم اپنا سامان سمیٹو اگر وہ نہ آیا تو ہم خود تمہیں تمہارے سسرال چھوڑ آئیں گے۔ جیا کی ماں نے روکنا چاہا تو شوہر نے طلاق کی دھمکی دے دی۔ اسی طرح اسکی بھابھی نے بھی شوہر کو سمجھانا چاہا کہ وہ امید سے ہے تو اس حالت میں اسے مت بھیجیں۔ اس کا خیال کون رکھے گا۔ مگر ان کی ایک ہی ضد تھی کہ اسے یہاں سے جانا ہو گا۔ یہ آج رات ادھر نہیں رک سکتی۔
جیا روتے ہوئے سامان سمیٹ رہی تھی۔ بھابھی بھی روتے ہوئے اس کی سامان سمیٹنے میں مدد کر رہی تھی کہ ساتھ اسے تسلی بھی دے رہی تھی۔ ماں ایک کرسی پر خاموش بیٹھ گئی۔
زلفی نے ایک فرنیشڈ فلیٹ رینٹ پر لیا اور اپنی گاؤں والی پھوپھو کو بلا لیا۔
جیا اسے فون پر امید کی خوشخبری سنا چکی تھی۔ وہ خوشی کے ساتھ بہت پریشان بھی ہو چکا تھا اس نے اس راز میں بہن اور پھوپھو کو شامل کیا۔ دونوں اسے تسلی دی۔
جیا بڑے دکھی دل سے اس گھر سے دوبارہ بےعزت ہو کر جا رہی تھی جس گھر سے وہ بہت لاڈوں سے دھوم دھام سے جانا چاہتی تھی۔
ماں دروازے تک اس کو زلفی کے ساتھ جاتے دیکھتی رہی جب تک اس کی گاڑی نظروں سے اوجھل نہیں ہوئی۔
اس کی بھابھی بھی روتی رہی۔ کیا کے باپ بھائی کی آج پھر بری حالت تھی۔ سب لاونج میں ہی بیٹھے ادھر ہی اٹھے ترچھے سو گئے۔ کسی نے کھانا بھی نہ کھایا۔
جیا کو ایک سوسائٹی میں ایک دو بیڈ روم والا فلیٹ دیکھ کر حیرت ہوئی کہ اتنے کم وقت میں زلفی نے کیسے اسے ڈھونڈ دیا۔ گراسری اور ضرورت کی ہر چیز موجود تھی۔
پھوپھو نے چائے بنائی اور ساتھ سینڈوچ بنا کر اسے زبردستی کھلائے کہ بچے کو ضرورت ہے۔
زلفی دیر تک رات 🌃 گئے بیٹھا رہا پھر گھر سے فون آیا تو اس نے دوست کے گھر کا بہانہ کیا اور جاتے ہوئے بولا
کسی قسم کی فکر نہ کرنا۔ میں نے ڈاکٹر سے بھی رابطہ کر لیا ہے جب ضرورت پڑی تو میں فوراً آ جاؤں گا۔
وہ دکھی دل سے چلا گیا۔
جیا کی یہ رات قیامت کی رات تھی پھوپھو اس کے پاس سوئی اور ڈیرہ تک اسے دلاسے دیتی رہی اور وہ روتے روتے سو گئی۔
جیا کے آس پڑوس میں اچھے لوگ رہتے تھے۔ پھوپھو نے آس پڑوس سے اچھے تعلقات بنا لیے تھے اور جیا کی ساری سٹوری ان کو سنا دی تھی وہ اس کو شاباش دے رہے تھے کہ نند کا گھر بچانے کے لیے اپنا گھر خراب کر لیا ہے۔
زلفی کے گھر شادی کے فنکشن چل رہے تھے پھوپھو نے اپنی بیماری کے بہانہ کر کے شادی میں شرکت سے معزرت کر لی ۔
زلفی کی جس دن بارات تھی وہ ساری رات کروٹیں بدلتی رہی اور آنسو تکیہ بھگوتے رہے۔
زلفی شادی کی مصروفیات کی وجہ سے اب چکر کم لگاتا۔
مارکیٹ نزدیک تھی پھوپھو اس کو ہر چیز لا دیتی۔ زلفی پھوپھو کو بھی خرچے کے پیسے دے گیا اور جیا کو بھی خرچہ دے گیا ۔
زلفی اپنی شادی کے بعد دعوتوں میں مصروف ہو گیا۔ زلفی کی بہن چھپ کر جیا کو فون کرتی رہتی ۔ چند بار ملنے بھی گئی۔ بچوں کو نہ لے کر گئی کہ بچے بتا نہ دیں۔ بچے جیا کو بہت یاد کرتے تھے۔
زلفی کی بیوی سخت نک چڑھی تھی۔ ساس اس کو دیکھ کر اب پچھتا رہی تھی کہ کاش وہ جیا کی قدر کرتی اب تو زلفی کو باپ نے جیا کو طلاق دینے کا کہا تھا تو اس نے جھوٹ بول دیا تھا کہ اس نے طلاق دے دی ہے۔ اسے میکے بھجوا دیا ہے۔
ساس سوچتی گھر والوں نے عدت کے بعد اس کی شادی کر دی ہو گی۔
زلفی کی بیوی ساس سسر کی جب چاہے بےعزتی کر دیتی۔ زلفی اس کو آرام سے سمجھاتا مگر وہ زلفی کو بھی جواب دے دیتی۔ آخر تنگ آکر زلفی کے والدین نے اسے طلاق دینے کا کہا، مگر زلفی نے صاف انکار کر دیا کہ وہ خود سے طلاق نہیں دے گا۔ وہ خود لینا چاہے تو الگ بات ہے۔ زلفی رو پڑا۔ والدین شرمندہ تھے۔ والدہ معافی مانگتے ہوئے بولی، میں تو لالچ میں آ گئی تھی کہ خاندان بھر میں واہ واہ ہو گی کہ اتنی امیر بہو لائی ہے مگر اب احساس ہوتا ہے کہ لالچ بری بلا ہے۔ کاش وہ خود ہی طلاق لے لے۔
زلفی پھٹ پڑا اور پوچھنے لگا کہ آخر جیا میں کیا کمی تھی۔
ماں نے اقرار کرتے ہوئے کہا،
جیا تو کوہ نور تھی کاش اس کو واپس لا سکتی۔
زلفی اٹھ کر چل پڑا۔
زلفی کو جیا کی بہت فکر رہنے لگی تھی جب سے سنا تھا وہ امید سے ہے۔ وہ سوچ رہا تھا کہ اس کا بچہ دنیا میں آنے والا ہے وہ کھل کر خوشی بھی نہیں منا سکتا۔
اس کی بہن بہت معزرت کرتی تھی کہ اس کی وجہ سے یہ سب ہوا وہ خود غرض بن گئی تھی۔ اسے لالچ آ گیا تھا کہ اس طرح اس کا گھر بچ جائے گا مگر اب میں دو ٹوک بات کروں گی تمہاری خوشیاں واپس دلاؤں گی بےشک صلے میں طلاق دے دیں۔
زلفی کی بہن نے سسرال میں زلفی کی بیوی کے بارے میں سب بتایا کہ وہ زبان چلاتی تھی۔ سب کو بےعزت کرتی تھی۔والدین اس کے ہاتھوں ذلیل ہو رہے تھے۔
وہ شرمندہ ہو کر بولے، ہم دراصل اس کا حلالہ کروانا چاہتے تھے کہ وہ شوہر سے لڑ کر طلاق لے کر آ گئی تھی۔ ایک بچہ بھی ہے اب وہ واپس جانا چاہتی ہے اپنے شوہر کے پاس۔ جلد وہ طلاق لے کر شوہر سے شادی کر کے گی۔
زلفی کی بہن نے گھر میں سب کو یہ خوشی کی خبر سنائی۔
جیا سوچ رہی تھی کہ اس کا بچہ نہ ننھیال کا پیار پا سکے گا نہ دھدیال کا۔ باپ کی کمپنی بھی اسے کھبی کبھار میسر ہو گی۔ وہ رونے لگی تو پھوپھو اس کی کیفیت سمجھتی تھی اس کو سمجھانے لگی کہ خدا سے اچھی امید رکھو گی تو وہ کھبی مایوس نہیں کرئے گا دیکھنا تم صبر کر رہی ہو صبر کا پھل انسان کی سوچ سے بھی بڑھ کر ملتا ہے۔ اس لیے پریشان نہ ہو جلد سب مسئلے حل ہو جائیں گے فکر نہ کرو۔
اسے پھوپھو کی باتیں حوصلہ دیتی تھیں۔ ساتواں ماہ شروع ہونے والا تھا۔ زلفی اسے موقع لگا کر ہاسپٹل لے جاتا تھا۔ پھوپھو اس کا بہت خیال رکھتی تھی۔ آس پڑوس بھی اس کی دلجوئی کرتے رہتے تھے تو اس کا دل لگا رہتا تھا۔ سب اس پر ترس کھاتے تھے کہ اتنی بااخلاق لڑکی۔ اتنی سلجھی ہوئی سب اس کی بہت تعریفیں کرتے تھے۔
جیا کی بھابھی اس سے فون پر رابطے میں رہتی تھی اور ان کے فون سے اسے انرجی بھر جاتی تھی اکثر وہ فون پر پھوٹ پھوٹ کر رو پڑتی تھی کہتی تھی آخر میرا قصور کیا ہے۔
اس کی بھابھی نے ایک دن گھر والوں کو کھری کھری سنا کر اس کی حالت زار اور اس کے بچہ ہونے کی بابت بتایا اور صاف کہہ دیا کہ آپ لوگ بہت ظالم ہیں میں اسے گھر لا رہی ہوں چاہے اس کے بدلے مجھے آپ جان سے مار دیں۔
اس کے والدین سنکر تڑپ اٹھے اور بولے ہم سب جائیں گے اور اسے اپنے گھر لائیں گے ہمیں وہ بھاری نہیں ہے تم نے ہماری آنکھیں کھول دی ہیں ہم اپنی بچی کی مجبوریوں کو سمجھنے کی بجائے لوگوں کا سوچتے رہے کہ لوگ کیا کہیں گی بھاڑ میں جائیں لوگ۔
جب جیا کو بھابھی نے فون پر سب بتایا اور کہا کہ وہ اسے لینے آ رہے ہیں تو وہ خاموش ہو گئی۔ پھر اس نے زلفی کو فون پر بلا لیا اور ساری بات بتائی کہ وہ اس کی اجازت کے بغیر ان کے ساتھ نہیں جائے گی۔ زلفی نے کہا،
میری طرف سے اجازت ہے بلکہ میں تسلی میں ہو جاؤں گا۔
زلفی فوراً پہنچ گیا ابھی وہ لوگ نہیں پہنچے تھے۔ زلفی کو پڑوسیوں نے کہا کہ اسے اس حالت میں اکیلا نہیں چھوڑنا چاہیے۔
زلفی بہت خوش تھا کیونکہ اس کی بیوی نے اس سے طلاق مانگ لی تھی اور وہ طلاق دے آیا تھا اس کے والدین کو جب اس نے ساری بات بتائی تو وہ بھی تڑپ گئے کہ ہمارا پوتا یا پوتی اس دنیا میں آنے والا ہے اور ہم بدقسمت ہیں جو اس سے دور ہیں۔ وہ ایڈریس پوچھ رہے تھے مگر زلفی ایڈریس نہیں دے رہا تھا کہ وہ پہلے اپنے والدین کے گھر جائے گی۔ مگر وہ اصرار کرتے رہے آخر بیٹی سے پوچھ کر وہ بھی پہنچ گئے اور جیا کے والدین بھی پہنچ گئے۔
دونوں اس سے معافی مانگ رہے تھے اور وہ رو بھی رہی تھی اور ہنس بھی رہی تھی۔
آخر یہ طے پایا کہ وہ ابھی میکے جائے گی کیونکہ اس کی بھابھی اس کا وہاں خیال رکھے گی پھر بچہ ہو جانے پر وہ دھوم دھام سے دولہن بنا کر اس کی شادی کر کے عزت سے گھرلائیں گے۔
جیا رب کا شکر ادا کر رہی تھی اپنے کمرے میں لیٹی سوچ رہی تھی کہ جیسے غم کے سارے بادل چھٹ گئے ہیں۔
وہ جب ایک پیارے سے بچے کی ماں بنی تو اس کو دولہن بنا کر لے جایا گیا سارا خاندان شامل ہوا۔ جیا کی بھابھی ہنس کر اسے چھیڑ رہی تھی کہ تمہارا بچہ بڑا ہو کر سب کو بتائے گا کہ اس نے بھی والدین کی شادی میں شرکت کی تھی۔
وہ زلفی کے ساتھ دولہن بنی ہنس رہی تھی دل خوشی سے جھوم رہا تھا۔ آج اسکا ولیمہ تھا۔
اسے لگتا تھا کہ سارے جہان کی خوشیاں اسے مل گئی ہوں۔ اس نے رب کا شکر ادا کیا اور اپنے آنسو پونچھ ڈالے۔ یہ خوشی کے آنسو تھے۔زلفی اسے چھیڑ رہا تھا میری چورنی بہت خوبصورت لگ رہی ہے۔ جس نے میرا دل چرا لیا ہے۔ کیا مسکرا پڑی۔
The end
ناول اختتام پذیر ہوا
You've reached the end of this journey. We hope you loved every episode!

Reader Comments
No comments yet. Be the first to share your thoughts!
Log in to leave a comment.