Muhabat Chupane ka Zem
4 Episodesچوتھا حصہ - Part 4
سجل نے بچے کو سمجھایا
"تم بیمار بن جاؤ میں تمہیں ہاسپٹل کے بہانے لے کر جاؤں گی وہاں سے ہم فرار ہو جائیں گے اور ادھر سے تمہارے بابا زارون کو شریف ملازم فرار کروا دے گا."
بچہ اب کافی سمجھدار ہو چکا تھا.
سجل باہر آئی اور اس کے خاص بندے کو منت کر کے کہنے لگی
"وہ ہاسپٹل جانا چاہتی ہے بچہ بہت بیمار ہے."
وہ پہلے بھی اس کے ساتھ ہاسپٹل جب بھی بچہ بیمار ہو وہ جاتی رہی ہے وہاں سے وہ آسانی سے فرار ہو سکتی تھی مگر اس کی ہمت نہ تھی.
اب زارون اور شریف نے ہمت دلائی تھی کہ بچے کو لیکر آٹو میں پھوپھو کے پرانے گھر کی طرف چلی جانا۔ وہاں کے پڑوسی بہت اچھے ہیں ان کو سب بتانا اور ادھر ہی رہنا میں ادھر ہی آؤں گا.
عمار کے بندے نے عمار کو اطلاع دی تو وہ اسے ساتھ ہاسپٹل لے جانے پر راضی ہو گیا.
سجل نے کہا
"وہ بچے کو لاتی ہے."
وہ لوگ ہاسپٹل پہنچے.
سجل نے لیڈی ڈاکٹر کو ایک پیج دیا کہ اس پر ساری ڈیٹیل لکھی ہوئی ہے جو میں نے دوائی اور خوراک دی ہے.
اس پیج میں اس نے مختصر کہانی لکھی اور ہیلپ مانگی.
لیڈی ڈاکٹر نے جب اسے پڑھا تو ساتھ اس کے ہٹے کٹے شخص کو بیٹھے دیکھا اور اسے دیکھ کر بولی.
"محترمہ آپ کے بیٹے کی بیماری مجھے بڑی لگ رہی ہے میرے پاس اس کا علاج نہیں ہے. آپ فوراً اسے کسی اور ہاسپٹل لے جائیں."
پھر اس کے پیج پر لکھا
'سوری میں اس جھنجھٹ میں نہیں پڑ سکتی.'
سجل مایوس ہو کر بیٹھ گئی اتنے میں عمار کے بندے کا فون آ گیا. وہ باہر فون سننے گیا تو سجل بچے کو لیکر واش روم میں گھس گئی. وہ اندر آیا تو ڈاکٹر سے سجل کا پوچھا.
ڈاکٹر نے لاپرواہی سے کہا،
"مجھے علم نہیں یہاں سے وہ باہر چلی گئی تھی."
وہ تیزی سے باہر نکلا. ادھر ادھر سجل کو تلاش کرنے لگا. سجل واش روم کے دروازے سے ایک نظر باہر دیکھتی تو اسے وہ باہر جاتا نظر آیا.
وہ تیزی سے بچے کو لیکر نکلی اور چھپتی چھپاتی باہر آئی اور ایک آٹو والے سے کہا اسے فلاں جگہ جانا ہے. وہ راضی ہو گیا اور اسے لیکر چل پڑی.
اپنا منہ ڈھانپ لیا. اور بچے کو چادر میں چھپا لیا.
اچانک اس نے جھانک کر دیکھا تو وہ آٹو چیک کر رہا تھا.
وہ فوراً بولی،
"سنو وہ آٹو چیک کر رہا ہے تم ہمیں اتارو اور باہر نکل کر کھڑے ہو جانا. میرے پیچھے وہ دشمن لگا ہے. میں موقع لگا کر باہر آ جاؤں گی پھر تمہارے ساتھ چلوں گی."
سجل نے ہزار کا نوٹ اسے دیا اور بولی،
"تم مجھے ادھر سے چھپا کر لے جانے میں مدد کرو تو میں تمہیں پانچ ہزار روپے دوں گی."
وہ خوش ہو گیا اور مدد کا وعدہ کیا.
سجل بچے کو لیکر نظر بچاتی باہر نکل گئی اور اس آٹو میں بیٹھ گئی جسے وہ چیک کر چکا تھا اور نارمل انداز میں چلنے کا کہا،
وہ بابا سا تھا اس نے کہا،
"چلو بیبی میں خود یہاں سے نکلنا چاہتا ہوں. نہ جانے ادھر کون غنڈہ آ گیا ہے میں پھنس نہ جاؤں."
سجل نے نظر بچا کر پیچھے دیکھا تو وہی رکشے والا اس غنڈے سے باتیں کر رہا تھا.
سجل پھوپھو کے محلے میں آئی. خالہ رشیدہ سے ملی جو بیوہ تھی اور اپنی کنواری بیٹی کے ساتھ اکیلی رہتی تھی.
پھوپھو اس کی امداد کرتی رہتی تھی. سجل بھی اس کے ساتھ اچھا برتاو کرتی تھی.
خالہ نے بتایا
"اس نے بیٹی کی شادی کر دی ہے اور وہ شوہر کے ساتھ سعودیہ چلی گئی ہے اور اس کا داماد بہت اچھا ہے اس کو خرچہ بھیجتا ہے اور وہ ادھر اکیلی رہتی ہے."
اسے دیکھ کر اس کی روئیداد سنکر وہ فکرمند دکھی دل سے بولی،
"تو میری بیٹی جیسی ہے. تم اور تمہاری پھوپھو نے آڑے وقت میں میرا ساتھ دیا ہے، میری بیٹی کا رشتہ انہوں نے ہی کروایا اور شادی کی. میں تم لوگوں کی احسانات بھول نہیں سکتی. زارون نہ جانے کہاں چلا گیا ہے. میں اسے اپنے پاس رکھ لیتی. تمہیں بہت یاد کرتا تھا. بہن نے زبردستی غریب بیوہ سے شادی کروا دی کیونکہ تمہاری پھوپھو بیمار تھی. تم جب تک حالات سنبھل نہیں جاتے ادھر ہی رہو. میری بیٹی کے شوہر کا دوسرے شہر ایک فلیٹ خالی پڑا ہوا ہے. میں تمہیں وہاں لے جاتی ہوں. ادھر وہ لوگ نہیں پہنچ سکتے. میں اکیلی تھی اس لیے میرا وہاں دل نہ لگتا تھا. بیٹی داماد بہت کہتے تھے کہ یہ گھر تو کرائے کا ہے وہ اپنا سامان سے بھرا گھر ہے. داماد کے والدین فوت ہو چکے تھے اکیلا رہتا تھا. اب ہمیں وقت ضائع کیے بغیر ادھر چلنا چاہیے."
وہ اپنا ضروری سامان لے کر روڈ سے ٹیکسی لے کر اس میں بیٹھ کر چل پڑیں. احتیاطی طور پر محلے داروں کو بھی نہیں بتایا اور نہ ہی محلے دار کے رکشے میں گئیں.
شریف ملازم نے زارون کو باہر نکالا اور دوسرے ملازموں سے کہا، دروازہ جلدی کھولو اسے ڈاکٹر کے پاس لے کر جانا ہے یہ مرنے لگا ہے. عمار سر نے کہا تھا کہ یہ زندہ رہنا چاہیے.
وہ جلدی سے اسے گاڑی میں بٹھانے لگے تو وہ بولا،
"نہیں اسے میں رکشے میں لے جاتا ہوں. تم لوگوں کا یہاں رہنا زیادہ ضروری ہے ابھی سجل بیبی بھی واپس آ رہی ہو گی."
شریف اسے لے کر سجل کے بتائے ہوئے فلیٹ پر پہنچا. سجل نے شریف کو فون کر کے لوکیشن بھیج دی تھی.
اب سجل نے اپنی بہن اور بھائی کو فون پر ساری حقیقت بتائی تو وہ بہت زیادہ حیران اور پریشان ہوئے.
بہن اور بھائی نے آپس میں صلاح مشورہ کیا اور بھائی نے اپنے سورسز سے سجل کے گھر پولیس کا پہرہ بٹھا دیا.
دونوں نے پاکستان آنے کا فیصلہ کیا اور جلد ہی دونوں آ گئے. زارون اور سجل کو اپنے گھر بھائی لے آیا. ادھر عمار کو فون پر بہت دھمکیاں دیں کہ صرف اپنے ماموں کی وجہ سے تمہیں پولیس کے حوالے نہیں کر رہے.
اس نے اپنے گناہوں کا اعتراف کر لیا اور کہا
"اس کو اب احساس ہو چکا ہے کہ اس نے بہت غلط کیا ہے. سجل سے صرف اپنے انکار کی توہین کا بدلہ لینے کے لیے وہ اس حد تک چلا گیا تھا. ورنہ وہ کوئی عادی مجرم نہ تھا. میری ماں نے مجھے کھبی کسی غلط کام پر تنبیہ نہیں کی. باپ کی انہوں نے خود بھی نہ سنی. اور مچھے بھی یہی تربیت کی. میں نے باپ کی کسی نصیحت پر دھیان نہیں دیا. کیونکہ ماں نے اپنے آپ کو ہمیشہ مظلوم بنا کر پیش کیا اور باپ کو ظالم. مگر حقیقت میں وہ خود ظالم تھیں اور باپ مظلوم. اب مجھ پر ساری حقیقت واضح ہو چکی ہے. باپ میری ماں کو غلط باتوں سے روکتے ٹوکتے تھے. اور وہ آزاد رہنا چاہتی تھیں. میری بیوی کا کردار مشکوک تھا. پہلے میں اسے وہم سمجھتا رہا مگر اب وہ میرے بچے کو لے کر کسی کے ساتھ فرار ہو گئی ہے. میں نے زارون سے اسکا بیٹا جدا رکھا. اس کے صلے میں میرا بیٹا مجھ سے جدا ہو گیا. یہ مکافات عمل ہے. میری ماں رو رو کر میرے باپ سے معافیاں مانگتی ہے. پوتے کے لیے تڑپتی ہے مگر بہو نے خلع کا کیس دائر کر دیا ہے. میں ہر طرح سے مجبور ہو کر رہ گیا ہوں. بیٹے کے لیے تڑپ رہا ہوں. سجل اور زارون کا مجرم ہوں. میں کوئی غنڈہ بدمعاش نہ تھا نہ ہی میرا کوئی گینگ تھا. صرف انتقام کی آگ میں جلتے ہوئے میں نے پیسے کے بل بوتے پر مجرم بنا. اور سجل پر ظلم کیے. اب نہ میرے پاس بیوی رہی نہ ہی بچہ. بیوی نے خلع لے لیا ہے اور ماں مجبور ہو کر چوکیدار کی بیٹی سے میرا نکاح کرنے پر مجبور ہو گئی ہے کیونکہ وہ میرا ہمراز ہے اب شریف کی بیٹی میری بیوی بن کر راج کر رہی ہے اور شریف اس گھر کا راجہ بن گیا ہے. ماں بھی اب اس گھر میں بے حیثیت ہے. یہ مکافات عمل ہے. میں نے زارون سے اس کی بیوی اور بچے کو چھینا اور مجھ سے میری بیوی اور بچہ چھن گیا. آپ لوگ چاہیں تو مجھے جیل بھیج سکتے ہیں."
سجل کے کہنے پر اسے ماموں کی وجہ سے معاف کر دیا گیا کیونکہ انسان کے انتقام سے قدرت کا انتقام بہت سخت ہوتا ہے. معاف کرنے سے اپنے گناہوں کا کفارہ بھی ادا ہوتا ہے.
سجل کے بھائی اور بہن نے زارون سے معافی مانگی.
زارون کی بہن کو بھی اطلاع کر دی گئی. وہ بھی پاکستان چھٹیاں گزارنے آ گئی اور زارون کو اپنے گھر لے گئی.
زارون کی خوشی کی انتہا نہ رہی جب اس نے بیٹی کو دیکھا. زارون کی بہن نے معافی مانگتے ہوئے کہا کہ یہ تمہاری بیٹی نہیں ہے. وہ بیمار ہو کر جلد فوت ہو گئی تھی. میں تمہاری امانت کی حفاظت نہ کر سکی. مجھے معاف کر دو. یہ میری اپنی بیٹی ہے. جو اب تم چاہو تو لے سکتے ہو.
زارون نے روتے ہوئے کہا یہ بھی مجھے بیٹی کی طرح عزیز ہے. اگر میری بیٹی مر گئی تو اس میں آپ کا کیا قصور ہے.
اس کی بیٹی کو اٹھا کر پیار کرنے لگا. زارون کو بہن نے اپنا گھر بنانے کا ٹھیکہ دے دیا.
اس نے بہت اچھے میٹریل سے کام کروانا شروع کیا تو سامنے والے پلاٹ کے مالک نے اس کے کام کو دیکھتے ہوئے اسے ساتھ ہی اپنا گھر بنانے کا ٹھیکہ دے دیا. اور اچھی رقم ایڈوانس میں دی.
اس سے زارون نے ایک گاڑی اور اسی سوسائٹی میں ایک گھر رینٹ پر لے لیا.
سجل کے بھائی نے زارون کے ساتھ سجل کے نکاح کی بات اس کی بہن سے کی اور اپنے سابقہ رویے کی معافی طلب کی. بھائی نے سجل کو باپ کی جائیداد میں سے حصہ بھی دیا.
سجل اور زارون کا نکاح سادگی سے کر دیا گیا.
زارون کا کام اچھا چل پڑا. اس کے کام کو دیکھتے ہوئے اسے اور بھی ٹھیکے ملنے لگے.
زارون اور سجل ہنسی خوشی زندگی بسر کرنے لگے.
اسی سوسائٹی میں انہوں نے اپنا گھر بھی بنا لیا. شریف کو سجل نے سمجھایا کہ گھر میں امن امان سے رہو.
وہ معافی مانگتے ہوئے بولا، میں تو ان لوگوں سے آپ کا بدلہ لے رہا تھا. عمار کو ایک بیٹی کی پیدائش نے سدھار دیا.
وہ تیز زبان کی بیوی کو بیٹی کے لئے برداشت کرنے لگا.
سجل نے بھی اسے معاف کر دیا.
ناول اختتام پذیر ہوا
You've reached the end of this journey. We hope you loved every episode!

Reader Comments
No comments yet. Be the first to share your thoughts!
Log in to leave a comment.