Muhabat Chupane ka Zem
4 Episodesدوسرا حصہ - Part 2
سجل کی بڑی بہن نے ماں سے پریشان ہو کر کہا
"موم لگتا ہے ڈیڈ نے اسے اچھی طرح اموشنل کر کے منایا ہے جو سجل پہلے اس رشتے سے بہت پریشان تھی اب راضی ہو گئی ہے."
ماں نے آہ بھر کر کہا،
"پر اب سجل ہی نہ مانے تو ہم کیا کر سکتے ہیں."
سجل کا بھائی ماں سے بولا،
"موم ہم سجل کی زندگی برباد نہیں ہونے دیں گے اگر ڈیڈ زبردستی نکاح کرواتے ہیں تو ہم رخصتی نہیں ہونے دیں گے. اسے سمجھا دینا."
ماں نے سرد آہ بھر کر کہا،
"وہ بھی تو باپ کے ساتھ مل گئی ہے."
زارون کی ماں بہن اور بہنوئی اور ساس نکاح کے لئے آئے. عمار کے گھر سے کوئی انواہیٹ نہیں ہوا.
سجل کے باپ نے کیٹرنگ والوں سے ہی کھانا منگوایا اور انہوں نے ہی مہمانوں کو کھانا سرو کیا.
سجل کے گھر والے منہ بنائے پھرتے رہے. سجل خود ہی تیار ہوئی. پھوپھو اس کے لیے ایک خوبصورت سا سوٹ لیکر آئیں. زارون کی بہن نے اسے تیار کیا.
سجل بہت پیاری لگنے لگی. زارون بھی ڈارک براون سوٹ پہنے بہتر لگ رہا تھا.
نکاح کے وقت زارون کی بہن سجل کے ساتھ رہی. نکاح ہو گیا تو شمس صاحب نے سب کو کھانا کھانے کا انتظام کیا.
سجل کا بھائی باہر سے مسلسل فون پر رابطے میں تھا. شمس صاحب کمرے میں آئے جہاں ان کی بیوی اور بیٹی فون پر سجل کے بھائی سے فون پر ساری رپورٹس دے رہی تھیں. دونوں کی شکلیں بنی ہوئی تھیں.
دونوں نے مہمانوں کو لفٹ نہیں کرائی. شمس صاحب نے ایک سانس بھر کر دیکھا اور ایک دکھی شکل بنا کر بغیر کچھ کہے خاموشی سے ایک نظر ان کو دیکھ کر خاموشی سے باہر نکل گئے.
جب سب کھانے سے فارغ ہوئے تو پھوپھو نے سجل کو خوب پیار کیا اور پانچ ہزار کا نوٹ اس کی ہتھیلی پر زبردستی رکھا.
شمس صاحب کمرے میں آئے تو پھوپھو نے کہا،
"بھائی اب ہمیں اجازت دیں."
وہ بولے،
"ٹھیک ہے اپنی بہو کو بھی ساتھ لے کر جاؤ. میں اس کی ابھی رخصتی کروں گا."
سب نے حیرت سے انہیں دیکھا. سجل نے بھی گردن اٹھا کر باپ کو دیکھا تو اسے وہ بہت دکھی بہت بےبس اور لاچار سے نظر آئے.
انہوں نے اسے التجایا نظروں سے دیکھا. سجل اٹھ کھڑی ہوئی اور باپ کے گلے لگ گئی. باپ نے اسے بہت پیار کیا اور ڈھیروں دعائیں دیں.
وہ باپ کے ساتھ خاموشی سے چلتی ہوئی پھوپھو کی لائی ہوئی گاڑی میں بیٹھ گئی جو زارون کے بہنوئی کی تھی.
سجل کی ماں اور بہن غصے سے باہر آئیں اور سجل کو ڈانٹ کر بولیں
"باہر نکلو"
سجل ٹس سے مس نہ ہوئی اور بولی،
"مام میں اپنی مرضی سے جا رہی ہوں."
بہن چلا کر بولی، تم پچھتاؤ گی اس جاہل سے تمہارا گزارا نہیں ہو گا."
شمس صاحب نے ان لوگوں کو جلدی سے چلنے کا اشارہ کیا. وہ لوگ جلدی سے نکل گئے. سجل کے جانے کے بعد بیوی اور بیٹی نے شمس صاحب کو سنانا شروع کیا.
بیٹی کے شوہر نے بیوی سے کہا،
"چلو گھر چلیں"
وہ غصے سے بولی،
"ہاں چلو، اب میں دوبارہ اس گھر میں قدم نہیں رکھوں گی."
وہ ماں سے ملکر غصے سے بچوں کو ڈانٹ کر ساتھ لیکر چل پڑی جو حیرت سے ڈرے سہمے ساتھ چل پڑے.
شمس صاحب بیڈ پر خاموشی سے لیٹ گئے. بیوی ادھر دوسرے روم میں بیٹے کو رو رو کر ساری روئداد سنانے لگی. بھائی بھی سخت غصے میں تھا.
ماں نے اسے گلہ کرتے ہوئے کہا
"تم موجود ہوتے تو اس طرح تمہاری بہن کی زندگی برباد نہ ہوتی."
وہ غصے سے صفائی دیتے ہوئے بولا،
"مام میں نے چھٹی پلان کر لی تھی. مگر مجھے کیا پتا تھا کہ ڈیڈ ساتھ ہی رخصتی بھی کر دیں گے."
شمس صاحب خاموشی سے لیٹے رہے.
ملازم آیا اس نے کھانے کا پوچھا،شمس صاحب نے اسے چائے لانے کا کہا اور کھانے سے انکار کر دیا.
وہ پرانا ملازم تھا بولا،
"سر آپ نے دوا بھی لینی ہے تھوڑا بہت کچھ کھا لیں."
وہ چائے کے ساتھ سینڈوچ لے کر آیا اور زبردستی کھلانے لگا.
شمس صاحب سوچنے لگے، اپنوں سے تو یہ پرایا ہی اچھا ہے جس کو میرا اتنا خیال ہے.
پھر وہ اسے بولے،
"شرفو بہت شکریہ"
اور دوا کھا کر لیٹ گئے.
وہ تسلی دیتے ہوئے بولا،
"سر پریشان نہ ہوں. سجل بیبی بہت سمجھدار ہیں وہ ادھر خوش رہیں گی."
شرفو کی بات سے شمس صاحب کو کافی ڈھارس ملی. انہیں شاید اس وقت کسی کی تسلی کی ضرورت تھی.
وہ جواب میں گردن ہلا کر رہ گئے اور نم آنکھوں سے دیکھ کر اسے بولے،
"دروازہ اور لائٹ بند کر کے جانا، میں سونے لگا ہوں."
بیوی سجل کو فون کرنے لگی مگر وہ فون پر مختصر بات کر کے بولی،
"مام میں ٹھیک ہوں بعد میں بات کرتی ہوں."
ماں نے بڑی بیٹی کو فون ملا کر دکھڑے سنانے لگی ساتھ میں رونے لگی. وہ ماں کو تسلیاں دینے لگی اور کچھ کھانے کا بولنے لگی.
پھر اس نے ملازمہ کو ماں کو زبردستی کچھ کھلانے کی ہدایت کی اور دوا بھی کھانے کی تاکید کی. باپ کا پوچھا تو اس نے بتا دیا کہ شرفو نے انہیں کھلا دیا ہے.
زارون گاڑی کی اگلی سیٹ پر بیٹھا سوچ رہا تھا کہ کیا وہ اتنا خوش قسمت ہے کہ جسے بچپن سے وہ دل میں بسائے پھرتا تھا وہ آج اس کی ہو گئی ہے. اسے ابھی تک یقین نہیں آ رہا تھا.
سجل دکھی دل کے ساتھ بیٹھی ہوئی تھی. وہ سوچ رہی تھی کہ اس کے ڈیڈ کتنے لاچار نظر آ رہے تھے. اب اگر اس نے ان کو خوش کیا ہے تو خوشی خوشی اس رشتے کو نبھائے گی اور کھبی باپ کو دکھی نہیں کرے گی. اسے باپ کی بہت یاد آ رہی تھی. دو آنسو نکل کر اس کے گالوں تک آ گئے.
زارون کی بہن نے بڑے پیار سے اس کو ٹشو پکڑاتے ہوئے کہا
"وہ پریشان نہ ہو. زارون تمہیں بہت خوش رکھے گا. وہ بچپن سے تمہارا دیوانہ ہے. اور عادتوں کا بھی بہت اچھا ہے. تم تو بچپن سے اسے جانتی ہو."
اس کے موبائل پر اس کی بہن کا فون آنے لگا اور اس نے پک نہیں کیا.
پھر زارون کی بہن کے موبائل پر فون بجا، سجل نے انہیں منع کر دیا کہ پک نہ کریں. پھر زارون کے موبائل پر فون بجا تو بہن نے منع کیا مگر اس نے اٹھا لیا.
دوسری طرف سجل کی بہن کی کوسنوں کی زور زور سے آوازیں آنے لگیں.
پھر اس کی ماں نے خوب سنائی، زارون خاموشی سے سنتا رہا.
ان کی آوازیں باہر تک سنائی دے رہی تھیں وہ اسے گالیوں سے نواز رہی تھیں اور دھمکی دے رہی تھیں
"ہم اسے تم سے واپس لا کر دم لیں گے چاہے جتنا مرضی وقت گزر جائے. ہم اسے تمہارے ساتھ بسنے نہیں دیں گے."
پھوپھی اپنے داماد کے سامنے شرمندگی محسوس کر رہی تھیں وہ بظاہر انجان بنا ہوا تھا مگر سب سن رہا تھا. سجل کو بھی ماں کی باتوں سے شرمندگی محسوس ہو رہی تھی.
زارون کی بہن غصے سے پہلو بدل رہی تھی. اس کا بچہ گود میں سویا ہوا تھا. کھبی وہ اتنا زور سے چیختی کہ وہ ڈسٹرب ہو جاتا. کافی دیر بھڑاس نکال کر جب وہ تھکی تو چپ ہوئی.
جب وہ کمرے میں آئی تو شوہر بیڈ پر سیدھا لیٹا ہوا تھا.
اور چھت کو تکتے ہوئے اسے مخاطب کرتے ہوئے بولا،
"داماد کو ذلیل کر آئی."
وہ غصے سے بولی،
"آپ یہ نہ سمجھنا کہ آپ نے اسے رخصت کر دیا. میں اسے وہاں بسنے نہیں دوں گی."
وہ تحمل سے بولے،
"بعد میں پچھتاؤ گی بھی تم. مجھے تم لوگوں سے کوئی اچھی امید بھی نہیں ہے. لگتا ہے کہ اسے اجاڑ کر ہی تم سب لوگ دم لو گے."
بیوی منہ بنا کر بولی،
"جی ضرور، میری بھائی اور بھابھی سے بات ہو چکی ہے وہ اسے دوبارہ اپنانے پر راضی ہیں. بس کسی طرح سجل مان جائے بس."
سجل سسرال میں پہنچی تو زارون کی بہن بولی،
"ماما بچے سو گئے ہیں اس لیے ہمیں اجازت دیں ہم کل آئیں گے اور گھر میں ہی چھوٹا سا ولیمہ رکھیں گے."
پھر وہ سجل کو ڈھیروں پیار کر کے دعائیں دیتی چلی گئی.
گھر میں اب سجل اور اس کی پھوپھو اور زارون تھے. پھوپھو اسے زارون کے روم میں پہنچا کر دودھ کا گلاس پلا کر رسم کر کے دعائیں دے کر بولی،
"بیٹی اب یہ تمہارا گھر ہے. شرمندہ ہوں تمہارے شایانِ شان نہیں ہے پر قسمت کا لکھا کون ٹال سکتا ہے. اب تم آرام کرو میں نے دوائی کھائی ہے، اب سونے جا رہی ہوں."
وہ اپنے روم میں سونے چلی گئی.
سجل کو زارون نے کہا،
"آپ بھی لباس تبدیل کر لیں تھک گئی ہوں گی."
سجل نے اپنے بیگ سے لباس نکالا مگر واش روم تو باہر تھا وہ جانتی بھی تھی. وہ کپڑے لے کر باہر چلی گئی.
زارون کی سمجھ میں نہیں آ رہا تھا کہ اتنی جلدی اس نے اپنی بچپن کی محبت کو پا لیا ہے. آج وہ اپنے آپ کو دنیا کا سب سے خوش نصیب انسان سمجھ رہا تھا.
سجل کو زارون نے اتنا پیار اتنی اہمیت اتنی عزت دی کہ وہ نہال ہو گئی. سجل کو والد روز فون کرتے اور اسے خوش پا کر مطمئن ہو جاتے.
پھوپھو اس پر واری صدقے جاتی. بہن بھابھی سے ملنے آتی تو بہت خوش ہوتی. سجل کی ماں اس کو کہتی
"میں تجھے ادھر بسنے نہیں دوں گی."
سجل انہیں مختصر جواب دے کر خاموش کروا دیتی
"میں بہت خوش ہوں."
باپ اکثر ملنے آتا تو وہ کھل جاتی.
ایک دن باپ اور پھوپھو کمرے میں بیٹھے چائے پی رہے تھے کہ پھوپھو نے سجل کے باپ سے کہا،
"بھائی آپ نے ہمیں سجل کا رشتہ زبردستی دے کر اس کے ساتھ بہت ظلم کیا ہے. بےشک میرا بیٹا اسے بچپن سے پسند کرتا تھا مگر وہ اس کے قابل نہ تھا. عمار پڑھا لکھا تھا اگر کچھ عادتیں خراب تھیں تو وقت کے ساتھ سب سدھر جاتے ہیں."
سجل کے باپ نے کہا،
"نہیں وہ عادتیں اگنور کرنے والی نہیں تھیں. میری بیٹی کی زندگی برباد ہو جاتی."
سجل کی پھوپھو بولی،
"مگر ان دونوں کا کوئی جوڑ نہ تھا. کوئی اور اس کے جوڑ کا اچھا رشتہ مل سکتا تھا کتنے تو رشتے اس کے آئے تھے. بھابھی سمجھتی ہیں کہ میں نے لالچ کیا ہے اپنے بیٹے کا رشتہ مانگ کر، حالانکہ میں تو آپ کو بہت منع کرتی رہی مگر آپ کا ہاتھ جوڑ کر منت کرنا کہ میری بیٹی کو ان برے لوگوں سے بچا لو. میں اپنی لاڈلی کا تم پر ہی بھروسہ کر سکتا ہوں. میری زندگی کا کوئی بھروسہ نہیں ہے."
اتنے میں سجل کمرے میں آئی اس نے تمام باتیں سن لیں تھی.

Reader Comments
No comments yet. Be the first to share your thoughts!
Log in to leave a comment.