Logo
‏Muhabat Chupane ka Zem
4 Episodes
‏Muhabat Chupane ka Zem EP 3
Episode 3

محبت چھپانے کا زعم3

‏Muhabat Chupane ka Zem

تیسرا حصہ - Part 3


سجل باپ کے جانے کے بعد سوچتی رہی کہ وہ سمجھتی رہی کہ پھوپھو نے رشتہ مانگا اور میرے ڈیڈ نے، نہ نہیں کی اور دے دیا مگر ادھر تو معاملہ ہی الٹا ہے.

ڈیڈ نے اس کے کزن ماموں زاد عمار میں ایسا کیا دیکھا کہ اسے رشتہ نہ دیا. بظاہر تو ایسا اس میں کچھ نہیں نظر آتا. ہو سکتا ہے کہ وہ سموکنگ کرتا ہے شاید اس وجہ سے. کیونکہ اس کے ڈیڈ نے تو کھبی سگریٹ نوشی نہیں کی.

وہ تو سگریٹ نوشی کو نشے پر معمور کرتے ہیں. اس کا بھائی بھی تو سگریٹ پیتا تھا اور ڈیڈ اسے لعن طعن کرتے تھے اور اسے نشئی کہتے تھے. یہ ہی وجہ ہو گی وہ مسکرائی.

ڈیڈ ہر وقت بھائی کو کوستے رہتے تھے.

ماں دو بار اس سے ملنے آئی مگر آ کر پھوپھو کو زلیل ہی کرتی رہی. زارون اور پھوپھو ان کی عزت ہی کرتے رہے. آخر اس نے ماں کو آنے سے صاف منع کر دیا اور ناراضگی دکھائی.


چھ ماہ کا عرصہ بیت گیا.

زارون اسکا دیوانہ بنا رہتا. وہ ان سے والدہ کے رویے کی معافی مانگتی.

وہ کہتے 

"کوئی بات نہیں. ان کا غصہ بجا ہے. ان کے تمہارے حوالے سے بہت سے خواب ٹوٹے ہیں وہ اپنے بھانجے عمار کو رشتہ دینا چاہتی تھیں."

شادی کے بعد جب عمار نے اسے فون کیا اور سنانے لگا تو سجل نے اسے بلاک کر دیا. سجل امید سے تھی. سسرال والے اس کو پھولوں کی طرح رکھتے.

بہن اس کا روٹین چیک اپ کروانے اچھے ہاسپٹل میں لے جاتی. کیونکہ وہ خوشحال تھی. سجل کے گھر والے اسے بچہ گرانے کا کہتے آخر اس نے مجبور ہو کر ان کو دھمکی دی کہ وہ ان کو بلاک کر دے گی.

نوواں ماہ چڑھ آیا اور اچانک اسے ایک دن پھوپھو کے رونے دھونے کی آوازیں سنائی دی تو اسے پتا چلا کہ اس کے ڈیڈ اب اس دنیا میں نہیں رہے.

اسے یقین ہی نہیں آیا کیونکہ رات دیر تک اس کی ان سے لمبی چوڑی بات ہوتی رہی وہ اسے بہت دعائیں دیتے رہے.

وہ کچھ حیران تھی کہ آج انہیں کیا ہوا ہے اور اتنی دعائیں کیوں دے رہے ہیں. وہ لوگ اسے سنبھالتے روتے دھوتے اس کے باپ کے گھر پہنچے.

سجل باپ کو دیکھ کر تڑپ گئی اس کی طبیعت خراب ہو گئی. اس کو ہاسپٹل لے گئے اس کا بھائی اور بھابھی بھی پہنچ چکے تھے. پھوپھو کو اور زارون کو جنازے کے بعد گھر والوں نے ذلیل کرنا شروع کر دیا.

زارون کی بہن جوابی ان کو سنا کر اپنے بھائی اور ماں کو گھر لے آئی. سجل کے گھر والوں نے صاف کہہ دیا کہ اب سجل کو واپس نہیں بھیجیں گے اور جلد خلع کا کیس دائر کریں گے. اسے سجل سے ملنے نہ دیا. سجل نے ایک بچے کو جنم دیا. سجل کا کیس نارمل تھا اس لیے اسے جلد ہاسپٹل سے فارغ کر دیا گیا.

سجل کے شوہر وغیرہ کو سجل اور بچے سے بھی ملنے پر پابندی لگا دی گئی. 

زارون اور پھوپھو بچے کے لئے تڑپنے لگے تو بہن نے اپنی بیوہ نند جو بے اولاد بھی تھی اور شوہر کے مرنے کے بعد اور شادی نہیں کرنا چاہتی تھی. اس سے زبردستی منا کر دونوں کا نکاح پڑھوا دیا کہ وہ اپنے بھائی اور ماں کو سجل اور بچے کے لئے تڑپتا نہیں دیکھنا چاہتی تھی.

زارون کو خلع کا نوٹس مل گیا اور سجل کو زبردستی خلع دلوا دی گئی اسے زارون کے نکاح کا بڑھا چڑھا کر بتایا گیا.

سجل جانتی تھی کہ اس کی نند اپنی بیوہ نند سے بھائی کی شادی کروانا چاہتی تھی مگر وہ بیوہ نند نہیں مانتی تھی.

اب نہ جانے نند کیسے مان گئی ہو گی کیونکہ نند کی ماں بھی جلد فوت ہو گئی تھی شاید وہ اب بھائی بھابھی پر بوجھ نہ بننا چاہتی ہو گی.

باپ کے مرنے کے تھوڑے عرصے بعد ہی اسے پھوپھو کے مرنے کی ہفتے بعد اطلاع ملی. سجل بہت تڑپی روئی. عمار کی آمدورفت ان کے گھر میں شروع ہو چکی تھی. وہ اسے اور اس کے بچے پر بہت پیار لٹاتا.

اسے بچے سمیت قبول کرنے پر تیار تھا گھر والے اس کو سر آنکھوں پر بٹھاتے. عدت کے بعد سجل کا نکاح زبردستی عمار سے کر دیا گیا.

عمار شروع کا کچھ عرصہ اس کے ساتھ ٹھیک رہا. اسے شادی کے کچھ عرصے بعد اسے الگ گھر میں لے گیا. اس کے بچے کا والدیت میں عمار کا نام لکھ دیا گیا.

بچہ بڑا ہونے لگا.

زارون کی بیوی ایک بچی کو جنم دے کر مر گئی. بہن نے بچی کو گود لے لیا اور اپنے شوہر کے ساتھ امریکہ چلی گئی.

زارون کی بہن اسے ہر فون پر اور شادی کرنے کا مشورہ دیتی مگر وہ نہ مانتا. آخر تنگ آ کر اس نے اپنی بہن کو ایک دوست کے زریعے اپنے مرنے کی جھوٹی خبر دے دی.

وہ بہت روئی تڑپی مگر کرونا کی وجہ سے آ نہ سکی.

زارون اب سخت دل برداشتہ تھا چھوٹی موٹی نوکری کرتا اور اپنا گزارا چلا لیتا. اسے سجل کی یاد ستاتی.

بہن نے بھی جاتے ہی بیٹی کے مرنے کی خبر بھائی کو دے دی. وہ بہت رویا مگر قسمت کا لکھا سمجھ کر چپ کر گیا.

اب زارون کے جینے کا کوئی مقصد نہ بچا تھا وہ اپنے بیٹے کو دیکھنے کے لیے تڑپنے لگا. بڑی مشکل سے اسے اپنے بیٹے کا پتا چلا. وہ عمار کے آفس گیا اور اس کی منت کی کہ وہ اسے اپنے بیٹے کا ملازم رکھ لے.

وہ کھبی کسی کو کچھ نہیں بتائے گا.

عمار نے کہا  کہ وہ خود اس کی تلاش میں تھا. اس نے اسے کہا 

"وہ اسے ملازمت دے دے گا اپنے گھر کے سرونٹ کوارٹر میں بھی رہائش دے گا مگر جس دن اس کی زبان کھلی وہ اس کی سزا سجل کو دے گا."

زارون نے وعدہ کر لیا.

زارون کی حالت ابتر تھی. داڑھی بڑھا لی تھی. کمزور ہو گیا تھا. آنکھوں پر حلقے پڑ چکے تھے.

اس کو پہچاننا مشکل تھا. بچہ چھ سال کا ہو چکا تھا.

جب عمار  زارون کو اپنے گھر لایا اور سجل کو آواز دے کر کہا کہ یہ ہمارا نیا نوکر ہے. یہ آج سے ادھر ہی رہے گا.

سجل نے خاص دھیان سے نہیں دیکھا اور اچھا کہہ کر ایک اچٹتی نظر ڈال کر چل پڑی. زارون نے جب اپنے بیٹے احد کو دیکھا تو آنکھوں سے آنسو نکل پڑے اور وہ ایک ٹک اسے ٹیبل پر بیٹھے کھانا کھاتے دیکھنے لگا.



عمار گھر پر نہیں تھا.

سجل اسے کھانا کھلا رہی تھی. جب اچانک سجل کی نظر اس پر پڑی اور وہ اسے ایک ٹک دیکھتے روتے پا کر غور سے دیکھنے لگی.

وہ تیزی سے اپنے کوارٹر چلا گیا. سجل کو اسے پہچاننے میں دیر نہ لگی. وہ بہت حیران ہوئی.

سجل اسے پہچان چکی تھی اس نے عمار سے آنے پر اس کا زکر کیا تو عمار نے ایک زوردار تھپڑ سجل کے منہ پر جڑ دیا اور چلا کر بولا، 

"کیسے اپنے یار کو جھٹ پہچان لیا ہے. وہ تم سے ملنے ادھر تک پہنچ گیا. تم نے ہی اسے گھر کا راستہ بتایا ہو گا تم اس سے رابطے میں ہو گی."

سجل روتے ہوئے صفائی دینے لگی کہ جب سے شادی ہوئی ہے موبائل میرا آپ کے پاس ہوتا ہے.

باہر زارون تک ان کی آوازیں آ رہی تھی وہ سجل کے رونے سے تڑپ گیا.

اس کے پرانے ملازم سے اس کی دوستی ہو چکی تھی. اس نے جو بتایا اسے سنکر زارون سخت دکھی ہو گیا.



عمار کھانے کی ٹیبل پر بیٹھا ہوا تھا. سجل ڈری سہمی ساتھ بیٹھی بچے کو کھلا رہی تھی.

سجل کے منہ پر نیل پڑا تھا اور وہ چہرہ چھپا رہی تھی.

اتنے میں سجل کا بھائی اور بھابھی کے آنے کی اطلاع ملی. وہ لوگ اندر آئے اور عمار کھڑا ہو کر بڑے تپاک سے انہیں ملا.

بھائی نے آ کر سجل کو ڈانٹا کہ تم فون بند کیوں رکھتی ہو.

سجل کے جواب دینے سے پہلے ہی عمار نے جھٹ سجل سے کہا، 

'دیکھا ناں ہنی میں بھی یہ گلہ کر کر کے تھک چکا ہوں مگر ہماری ہوم منسٹر کو کوئی پرواہ ہی نہیں ہوتی. چلیں آپ لوگ کھانا کھائیں."

وہ بڑھ چڑھ کر انہیں کھانا پیش کرنے لگا اور بچے پر محبت ظاہر کرنے لگا.

بھائی نے کہا، 

"ہم لوگ آج رات کی فلاہیٹ سے واپس جارہے ہیں."

بھائی نے ناراضگی دیکھاتے ہوئے کہا 

"سجل تم ملنے بھی نہیں آتی اور منہ پر کیا ہوا ہے."

سجل نے  نظریں جھکا کر کہا،

"وہ گر گئی تھی چوٹ لگ گئی.

عمار نے فوراً کہا، 

"ہنی کھانا کھاتے ہی پہلے تمہیں ڈاکٹر کے پاس لے کر جانا ہے."

سجل نے کہا، 

"اس کی کوئی ضرورت نہیں، خود ہی ٹھیک ہو جائے گی انشاءاللہ."

عمار نے مکاری بھرے انداز میں کہا، 

"دیکھا میں نہ کہتا تھا کہ یہ میری نہیں سنتی."

بھائی نے کہا، 

"سجل کیا بات ہے تم اتنی خاموش کیوں ہوں."

وہ کچھ نہ بولی.

بھائی نے کہا، 

"جانتا ہوں تم اب تک ہم سب سے ناراض ہو مگر خود سوچو، زارون تمہارے قابل نہ تھا کسی لحاظ سے بھی. عمار کے ساتھ تمہارا میچ زبردست ہے. اس نے کنوارہ ہونے کے باوجود تمہیں اور تمہارے بچے کو اپنایا. اسے باپ کا پیار دیا. تمہیں الگ گھر لے کر دیا. تم ناشکری کیوں کرتی ہو. اس کے ساتھ پیار و محبت سے رہو. وہ کتنی بار گلہ کر چکا ہے. تم اس کے ساتھ زیادتی کرتی ہو، وہ تم پر جان چھڑکتا ہے اور تم اسے لفٹ نہیں دیتی. آخر تم اس زارون کمبخت کو بھول کیوں نہیں جاتی. عمار بتا رہا تھا تم اس سے رابطے میں رہتی ہو"

بھابھی مسکہ لگا کر بولی، 

"کتنی بری بات ہے ایک شادی شدہ عورت اپنے سابقہ شوہر سے روابط میں رہے، یہ عمار کا ہی حوصلہ ہے جو برداشت کرتا ہے."

سجل نے کچھ جواب نہیں دیا.

عمار نے کہا، 

"ارے آپ لوگ کھانا کھائیں، میں تو اب ان چیزوں کا عادی ہو چکا ہوں بس میری ہنی میرے ساتھ رہ رہی ہے میرے لیے یہی کافی ہے."

بھائی نے کہا 

"نہیں اب سجل کی من مانی نہیں چلے گی. میں فلاہیٹ کینسل کروا دیتا ہوں اس مسئلے کا حل نکال کر جاتا ہوں."

عمار تیزی سے بولا، 

"نہیں آپ لوگ جائیں، مجھے اسی حالت میں بھی سجل قبول ہے."

بھابھی سجل کو سمجھاتے ہوئے بولی، 

"تمہیں عمار کی قدر کرنی چاہیے. بھلا اس زمانے میں بھی ایسے مرد ہوتے ہیں کہ جانتے ہوئے بھی تم پر جان لٹاتا ہے. اتنا برداشت کرتا ہے. تمہیں اور کیا چاہیے."

سجل چاے بنانے کے بہانے اٹھ گئی.

بھائی بولا، 

"بیٹھو تم، ملازم بنا دے گا. تم نے آخر کب تک ہمیں رسوا اور ذلیل کروانا ہے. ہم عمار کے مشکور ہیں. تم اسے کب دل سے قبول کرو گی."

زارون دور کھڑا سب داستان سن رہا تھا اور اسے عمار کی مکاری اور اداکاری پر سخت غصہ آ رہا تھا.

سجل نے کوئی جواب نہ دیا. آخر بھائی بھابھی عمار کے مشکور ہو کر چل پڑے.


سجل کو عمار نے ان کے جاتے ہی ذلیل کرنا شروع کر دیا. وہ روتی ہوئی کمرے میں چل پڑی.

عمار کے ملازم نے بتایا کہ وہ شروع سے ہی ان کے ساتھ رہ رہا ہے. عمار صاحب اس کو اپنی زبان بند رکھنے کے پیسے بھی دیتے ہیں اور دھمکیاں بھی.

مگر اب اس سے سجل بیبی کا دکھ برداشت سے باہر ہوتا جا رہا ہے. عمار اس کے گھر والوں کے سامنے بہت اچھا بنا رہتا ہے. مگر پیچھے سے بہت ظلم کرتا ہے. اسے دھمکی دیتا ہے کہ کچھ بھی کسی کو بتانے کی کوشش کی تو تمہارے بچے کو مروا دے گا. وہ بچے کی وجہ سے مجبور ہے.

سجل بیبی کے ماں باپ مر چکے ہیں. بہن کم کم آتی ہے. بھائی باہر ہوتا ہے. سب سمجھتے ہیں کہ سجل بیبی ان سب سے ناراض ہے. اور فالتو بات نہیں کرتی.  مگر کوئی نہیں جانتا کہ وہ سجل بیبی پر کتنا ظلم کرتا ہے. کوئی اس کو نجات دلانے والا نہیں. اسی لیے ادھر اکیلے قید میں رکھا ہوا ہے.

موبائل کی اجازت نہیں.

کہیں جا نہیں سکتی.

بس ظلم سہہ رہی ہے.

اسے طعنے دیتا ہے کہ تم نے اس کے مقابلے میں اس دو ٹکے کے کزن کو فوقیت دی. راضی خوشی اس کے ساتھ شادی کر لی. اسکا بچہ پیدا کیا. اب ہر پل تمہیں اس کی سزا ملے گی. بچے کا بلیک میل کر کے اس کو تڑپاتا ہے وہ بہت ڈرتی ہے کسی کو کچھ بتا بھی نہیں سکتی.

عمار نے زارون کو گرج کر آواز دی اور کہا 

"دیکھو تم اپنی آنکھوں سے سجل کو تڑپتے، کیسے یہ تمہارے ساتھ چل پڑی تھی. میرا فون بلاک کر دیا تھا. میں اپنی اس توہین کا اتنے سالوں سے بدلے لے رہا ہوں. تمہارے بچے کو بظاہر بڑے اچھے طریقے سے پال کر واہ واہ سمیٹ رہا ہوں مگر یہ میرا اصل مہرہ ہے. اس کی وجہ سے یہ بھی میرے آگے بے بس اور مجبور ہے. تمہاری اوقات کیا ہے تم اسے نجات نہیں دلا سکتے. پال نہیں سکتے. یہ دنیا کی نظروں میں میری بیوی ہے مگر میں نے اسے بتایا نہیں کہ کئی سال پہلے میں اسے طلاق دے چکا ہوں اور یہ میرے ساتھ رہ رہی ہے. میرے بیڈ روم کے صوفے پر سوتی ہے. میں نے اس پر یہ کرم کیا کہ طلاق کے بعد اسے سٹور روم میں بھیج دیا."

سجل حیرت سے اسے تکنے لگی. زارون نے بےبسی سے اسے دیکھا.

عمار نے غرور سے کہا، 

"دیکھا تم دونوں کو کیسے تباہ کیا، جدائی ڈالی، تم سے تمہارے بچے کو دور کیا. تمہاری ولدیت اس سے چھین لی. یہ میرا انتقام تھا اور مزے کی بات یہ ہے کہ اس کا بھائی اور بہن مجھ پر اندھا اعتماد کرتے ہیں. میں نے انکا اعتماد جیتا ہے. یہ کرائے کا گھر ہے اور ان لوگوں کو بتایا کہ یہ میں نے نکاح کے وقت سجل کو منہ دکھائی تحفے میں دیا ہے. وہ میرے گرویدہ ہو گئے ہیں. میں نے انہیں کہا کہ مجھے سجل کی جائیداد میں سے کچھ نہیں چاہیے نہ ہی سجل کو. اس کو میں سب لے کر دوں گا. بہن بھائی اور بھابھی میرے مشکور ہو گئے ہیں. میں انہیں دیکھاتا کچھ ہوں اور کرتا کچھ ہوں. تم دونوں میرا کچھ نہیں بگاڑ سکتے. بس اپنی بےبسی کا تماشا دیکھو اور میرے انتقام کو تقویت پہنچاؤ. میں میٹھی چھری سے دونوں کو زبح کرتا رہوں گا. پورے گھر میں کیمرے لگے ہوئے ہیں. میری غیر موجودگی میں بھی تم کچھ نہیں کر سکتے ہو اور میرے پہرے دار موجود ہیں. اس لئے میرے ساتھ کسی قسم کی ہوشیاری دیکھانے کی کوشش نہ کرنا، ورنہ اتنی اذیت دوں گا کہ تم موت مانگو گے. سنو سجل ڈارلنگ، تمہیں الگ گھر میں اس لیے رکھا ہوا ہے کہ میرے گھر والے، میری بیوی وغیرہ ڈسٹرب نہ ہوں. میں نے اپنی سیکرٹری سے شادی کی ہوئی تھی. اس کی ایک بیٹی بھی ہے جو میری جان ہے. تمہارے ڈیڈ نے مجھے سیکرٹری کے ساتھ دیکھ لیا تھا تب ہی انہوں نے میرا رشتہ ٹھکرا دیا تھا. وہ مجھے اچھا نہیں سمجھتے تھے کیونکہ میں ڈرنک بھی کرتا تھا اور وہ سب جانتے تھے. مگر سجل کی بھولی ماں کو میں نے رام کیا ہوا تھا وہ مجھے بہت اچھا سمجھتی تھی اس کا بھائی اور بہن بھی ماں پر یقین رکھتے تھے اور مجھے بہت پسند کرتے تھے کیونکہ میں ان کو سجل کے حوالے سے بہت سبز باغ دیکھاتا تھا. مجھے بس سجل سے ٹھکرانے کا بدلہ لینا تھا. میرے باپ کو چھوڑ کر باقی سب گھر والے میرے ساتھ ہیں. میرے باپ کو بھی میں وہ دیکھاتا ہوں جو ان کو مطمئن رکھے. اب تو ویسے بھی وہ تھوڑے عرصے کے مہمان ہیں. سجل تم اب ساری زندگی میری قید میں گزارو گی اور اپنے اس بچے کے باپ کو ساری زندگی ادھر نوکر بنا کر رکھوں گا. ویسے اس کو مار بھی دوں تو کوئی پوچھنے والا نہیں ہے کیونکہ اس نے خود ہی اپنی بہن کو اپنے مرنے کی جھوٹی اطلاع دی ہے."

پھر اس نے دو باڈی گارڈ بلائے اور زارون کو ہنٹر سے مارنے لگا. وہ تڑپ کر برداشت کرتا اف تک نہ کرتا.

سجل آنسو بہاتی رہی.

وہ ملازموں کو حکم دے کر گیا کہ اسے ایک وقت کا کھانا دینا ہے بس یہ زندہ رہ سکے مرنا نہیں چاہیے. پھر اسے قید میں ڈلوا دیا.

بچہ سخت خوفزدہ تھا. وہ چھوٹی عمر سے ہی ماں پر ظلم دیکھ رہا تھا. اب سات سال کا تھا اور چھوٹی عمر سے ہی کافی سمجھدار ہو چکا تھا. اسے عمار نے بتایا کہ یہ تمہارا سگا باپ ہے. تو وہ بہت پریشان ہو گیا تھا تب ہی اس کی سمجھ میں آیا کہ زارون اسے اتنا پاگلوں کی طرح کیوں چوم رہا تھا اور اسے بار بار گلے لگا کر رو رہا تھا.

عمار گھر سے چلا گیا.

عمار کا پرانا ملازم شریف چپکے چپکے اسے پانی اور کچھ کھانے کو پہنچا دیتا.

وہ کہتا 

"کسی طرح سے تم اس قید سے نکل کر کسی کی مدد سے سجل بیبی کو رہائی دلاؤ. میں نے جوانی میں اس کے ساتھ ملکر چند پیسوں کے لالچ میں بہت برے کام کیے. جس کا صلہ مجھے یہ ملا کہ میری بیوی اور میرا بچہ مجھے چھوڑ گئے اور نہ جانے کدھر چلے گئے میں آج تک ان کی تلاش میں ہوں. جن کے لئے پیسے کا لالچ کیا وہ ہی نصیب نہ ہوئے. اب میں اپنے گناہوں پر نادم ہوں.

عمار صاحب مجھ پر مکمل بھروسہ کرتے ہیں اور اب میں بھی موقع کی تلاش میں رہوں گا اور تم لوگوں کو اس قید سے رہائی دلا کر دم لوں گا.

سجل کو عمار اپنی نگرانی میں بہن بھائیوں سے وڈیو کال کرواتا اور خوب مکھن لگاتا. سجل ڈر کر کچھ نہ بتاتی. کیونکہ اس کے بیٹے پر ایک ملازم پسٹل تان کر کھڑا ہوتا. ویسے بھی وہ دونوں ملک سے باہر تھے. سجل کس کے پاس جاتی.



Continue Reading
Episode 4
محبت چھپانے کا زعم4

Reader Comments

No comments yet. Be the first to share your thoughts!

Log in to leave a comment.

Related Novels

Selected For You

View More Free Novels

Editor's Choice

Handpicked favorites that you shouldn't miss.

Premium Membership

Unlock the Full Library

One subscription. Every story. Unlimited reading.

PKR 300
30 Days of Unlimited Access
Go Premium Now

Secure payment  ·  Instant access

Full Novel Library
Access every premium & exclusive novel — no episode locked
Unlimited Reading
Read as much as you want, whenever you want, at your pace
Support the Author
Your subscription directly supports Abida Z Shireen's work
New Episodes First
Be the first to read every new episode as soon as it drops
A F S R N
Join thousands of readers already enjoying premium access
Loved by readers
Our Literary World

Experience the Best Urdu Novels Online

Dive into decades of storytelling by Pakistan's most beloved author, now at your fingertips.

50+
Published Novels
30+
Years of Writing
1M+
Readers Worldwide
100%
Authentic Stories
01

The Legacy of Abida Z Shireen

Welcome to the digital sanctuary of Abida Z Shireen, one of Pakistan's most celebrated literary icons. As a premier Urdu storyteller, she has spent decades crafting narratives that capture the soul of our society. This online Urdu reading platform is designed to preserve her vast Urdu literature archive, offering readers a chance to read Urdu novels online that explore the depths of human emotion, culture, and resilience.

Read Her Story
Abida Z Shireen
Author
02

Captivating Novels & Social Sagas

From suspense-filled thrillers to heart-touching social dramas, our collection features the best Urdu novels that have captivated millions in publications like Aanchal Digest. Whether you are looking for new Urdu novels 2024 or timeless classics, Abida's work provides a unique lens into family dynamics and romantic storytelling. Dive into her world and discover why she is considered a top Urdu digest writer by fans globally.

Browse All Novels
Reading Urdu Novels on Tablet and Phone
Novels
03

Soul-Stirring Urdu Poetry Collection

Beyond prose, this platform hosts an extensive Urdu poetry collection. Abida Z Shireen's verses offer a profound look into spiritual and philosophical themes, available in both Urdu and English. As a featured Urdu poet, her work serves as a bridge between traditional rhythms and modern thought. Join our community of literature lovers to explore famous Urdu poems and exclusive literary insights found nowhere else.

Explore Poetry
Elegant Desk with Pens and Books
Poetry