Muhabat Chupane ka Zem
4 Episodesسجل نے ماں سے روتے ہوئے کہا
"مام آپ نے کیسے میری شادی کا اتنا بڑا فیصلہ کر لیا. وہ بھی زارون سے جو صرف میٹرک پاس ہے، نہ ہی اسکا کوئی اسٹیٹس ہے. ایک چھوٹے سے گھر میں اپنی بیوہ ماں کے ساتھ رہتا ہے. مانا وہ میری پھوپھو کا بیٹا ہے جسے ڈیڈ بہت پیار کرتے ہیں. اپنی بہن کو ماں کا درجہ دیتے ہیں ان کی بات کو رد نہیں کرتے ہیں. اس کا مطلب یہ تو نہیں کہ میری قسمت خراب کر دیں. میں پڑھی لکھی ایم بی اے پاس لڑکی بھلا اس کے ساتھ کوئی میچ ہے میرا."
ماں نے بے بسی سے کہا،
"بیٹا میرا بھتیجا شایان جو تمہارے ساتھ میچ کرتا ہے. اعلیٰ تعلیم یافتہ ہے. باہر سے انجینئرنگ کی ڈگری لے کر آیا ہے. میرے بھائی نے رشتہ بھی مانگا مگر تمہارے ڈیڈ نے انہیں چھوڑ کر بہن کو ہاں کر دی. اب وہ پرسوں نکاح کرنے آ رہی ہیں."
سجل نے اپنا سر دونوں ہاتھوں سے پکڑ لیا اور بولی،
"اف مام یہ بھی پھوپھو کی چالاکی ہو گی کہ جلدی سے نکاح کر لوں تاکہ کام پکا ہو جائے."
سجل کی ماں سر جھکا کر آہستہ سے بولی،
"نہیں تمہارے ڈیڈ کا فیصلہ ہے. وہ تو کہہ رہی تھی کہ سجل سے بھی پوچھ لیں مگر انہوں نے اسے یقین دلاتے ہوئے کہا کہ میری بیٹی میرا غرور ہے. میں راہ چلتے فقیر سے بھی کر دوں تو وہ انکار نہیں کرے گی. اب بتاؤ میں کیا کروں. ان کو بہت سمجھایا مگر انہوں نے مجھے صاف کہہ دیا کہ تم نے اس رشتے میں رکاوٹ ڈالنے کی کوشش کی تو میں اپنے آپ کو گولی مار دوں گا پھر تم اپنی مرضی پوری کرتی رہنا."
سجل ماں کا منہ دیکھتی رہ گئی.
ماں نے اس سے سرگوشی میں کچھ کہا تو وہ مان گئی.
عمار نے اسے فون کر کے بہت گلہ کیا
"سجل یہ میں کیا سن رہا ہوں. ہم دونوں ایک دوسرے کو پسند کرتے ہیں. ہم دونوں تعلیم یافتہ اور پڑھی لکھی فیملی سے belong کرتے ہیں. پھر انکل تمہارے ساتھ اتنی بڑی ناانصافی کیسے کر سکتے ہیں. میں تمہارے بغیر مر جاؤں گا."
سجل نے اسے ماں والی بات بتائی تو وہ بولا
"سچ. ٹھیک ہے پھر تم نکاح کے لئے راضی ہو جاؤ. انکل بہت ہٹ دھرم اور قول کے پکے شخص ہیں. وہ صرف دھمکی دینے والوں میں سے نہیں ہیں."
شمس صاحب کی دو بیٹیاں اور ایک بیٹا تھا. سب سے بڑی بیٹی پھر بیٹا اور سب سے چھوٹی سجل تھی. سب کی لاڈلی. بڑے بھائی بیاہ کر دوبئی شفٹ ہو گئے تھے.
بیٹی قریبی شہر میں بیاہی ہوئی تھی. وہ بھی شادی شدہ اور دو بچوں کی ماں تھی. بھائی کا ایک بیٹا تھا.
سجل کی بہن اور بھائی بھی باپ کو سمجھا سمجھا کر تھک چکے تھے مگر ان کا وہی جواب تھا
"یا تو میں اس گھر سے کہیں بغیر بتائے ہمیشہ کے لیے چلا جاؤں گا یا میں اپنے آپ کو ختم کر لوں گا."
بہن بھی آ چکی تھی. بھائی وڈیو کال پر اسے بہت تسلی دے رہے تھے.
گھر میں ایک ٹینشن والا ماحول بنا ہوا تھا. اس کی آپی کی چھ سالہ بیٹی بار بار اس کو مخاطب کر رہی تھی اور چار سالہ بھانجا اس کی گود میں آتا کھبی موبائل پر کارٹون دیکھنے کی فرمائش کرتا مگر وہ دونوں کی طرف دھیان نہیں دے رہی تھی اور وہ بچے حیران ہو رہے تھے کہ جان دینے والی خالہ کو آج کیا ہوا ہے.
شمس صاحب کھنکار کر سجل کے کمرے میں داخل ہوئے، سب نے حیرت سے انہیں دیکھا. سجل نے رو رو کر اپنا حشر کر لیا تھا. وہ حیران تھی کہ ڈیڈ اس کے منہ سے نکلی ہر بات کو ماننے والے آج زندگی کی سب سے اہم بات کو ماننے سے انکار کر رہے تھے. وہ سر جھکا کر بیٹھی تھی.
شمس صاحب نے کہا،
"سب باہر جائیں میں نے بیٹی سے بات کرنی ہے."
آپی اور ماں بچوں کو منہ بنا کر زبردستی ڈانٹ کر بچوں کو باہر لے گئیں.
شمس صاحب اس کے سامنے بیڈ پر بیٹھ گئے. اس کے سر پر شفقت سے ہاتھ رکھا.
پھر اس سے سوال کیا
"بتاؤ کیا میں نے کھبی تمہاری زندگی میں کوئی فرمائش رد کی ہے."
سجل نے گردن اٹھا کر دیکھا اور نفی میں گردن ہلا دی.
وہ آہستہ آہستہ بولنا شروع ہوئے،
دیکھو بیٹی میں نے دنیا دیکھی ہے مجھے انسانوں کی پہچان ہے. بعض اوقات جو چیز بظاہر سونا نظر آتی ہے وہ پیتل سے بھی کم درجے کی ہوتی ہے اور بعض اوقات گدڑی میں لال ہوتا ہے.
زاران ان میں سے ایک ہے. وہ بہت چھوٹا تھا بمشکل میٹرک پاس ابھی کیا تھا کہ باپ کا سایہ سر سے اٹھ گیا. بڑی بہن اور ماں دونوں بے آسرا تھیں کوئی آمدنی کا زریعہ نہ تھا کیونکہ باپ کی بیماری پر گھر بیچ کر اسکا علاج کروانا پڑا مگر وہ بھی ڈاکٹر نے کہا تھا کہ آپریشن میں بھی ففٹی پرسنٹ چانس ہے.
مجھے غصہ آتا تھا کہ یہ گھر کیوں بیچ رہا ہے جب کہ اس کے باپ کا بچنا مشکل ہے. میں نے زارون کو سمجھانا چاہا، تو اس نے جواب دے کر مجھے شرمندہ کر دیا. اس نے کہا کہ ماموں جان اگر آپریشن کروانے سے میرے باپ کو چند سانسوں کی زندگی بھی مل سکتی ہے تو میں ضرور کرواؤں گا. میں نے تمھاری پھوپھو ان کو سمجھانا چاہا کہ گھر نہ بیچو، کہاں جاؤ گے.
میری بہن نے کہا کہ کرائے پر بھی تو دنیا رہتی ہی ہے ناں. اس وقت مجھے شوہر کی زندگی سے زیادہ کوئی چیز عزیز نہیں.
میری نے بیٹی کو سمجھانا چاہا کہ تم کافی سمجھدار ہو ابھی تمہاری شادی کا فرض بھی بھائی نے ادا کرنا ہے تو گھر نہ بیچو. مگر وہ بھی نہ مانی. ساری فیملی ہی مخلص اور جانثار ہے.
زارون نے آگے پڑھنا چھوڑ کر تین تین جگہ نوکری کی. گھر کا چولہا جلتا رہے وہ اس کے لیے سخت محنت کرتا تھا. دو گھنٹے سوتا تھا. باپ دو ماہ بمشکل زندہ رہا.
اس کو گھر کے بیچنے کے بارے میں کچھ نہیں بتایا گیا. جب خریدار نے آ کر کہا کہ میں نے ترس کھا کر دو ماہ رہنے دیا ہے اب گھر خالی کرو. باپ کو یہ حقیقت سنکر صدمہ لگا اور وہ اسی دن فوت ہو گیا.
میں ہنوز بہن سے نالاں تھا. ان دونوں کو بہت سنائی کہ اب بھگتو. کہتا ناں تھا کہ گھر نہ بیچو. میں کھٹور بنا رہا اور جان بوجھ کر ان کی طرف سے لاپرواہ رہنے لگا تاکہ ان کو میری بات نہ ماننے کا سبق حاصل ہو. ایک بار ترس آیا کیونکہ وہ ایک چھوٹے سے مکان میں کرائے پر شفٹ ہو گئے تھے. میں نے کہا کہ اگر کسی مدد کی ضرورت ہے تو بتاؤ. مگر ان لوگوں نے صاف منع کر دیا کہ الحمدللہ، ہمیں اللہ تعالیٰ پر بھروسہ قائم ہے. یہ مشکل بھی کٹ جائے گی.
اس نے غیرت میں کسی کے آگے ہاتھ نہیں پھیلایا. مجھے بھی ان کی اکڑ پر غصہ آتا کہ سانپ مر گیا پر بل نہ گیا. بہن کا ایک شریف کھاتے پیتے گھرانے میں رشتہ ہو گیا. ان لوگوں نے جہیز نہیں لیا.
بیٹا تمہیں جو یہ چمکدار اسٹیٹس والے لوگ نظر آتے ہیں یہ میری طرح خود غرض لوگ ہیں. میں نے بھانجے کی مدد نہ کی آپریشن کے لئے لون نہیں دیا کہ وہ پیسہ ضائع ہو جائے گا. اس کے بعد بھی اپنے غصے پر قائم رہا کہ یہ لوگ اگر اس وقت میری بات مان جاتے اور بےوقوفی نہ کرتے تو آج اتنے بدحال نہ ہوتے. زارون پڑھ لکھ جاتا.
مگر بیٹا میں نے بہت سوچا آخر تم میرے جگر کا ٹکڑا ہو. تمھارے بارے میں میں کھبی برا نہیں سوچ سکتا. نہ ہی کوئی والدین سوچتے ہیں. اگر قسمت خراب نکلے تو اس میں والدین کی نیت کا کوئی قصور نہیں ہوتا.
میں نے خاندان بھر کے لڑکوں کو جانچا پرکھا ان کے گھر والوں کو سمجھا مگر مجھے کوئی پرفیکٹ نہ لگا. کسی میں مجھے کوئی خاص خوبی نظر نہ آئی.
سواے تعلیم کی کاغزی ڈگری کے. انسان اچھا ہونا چاہیے.
زارون کے پاس کوئی کاغزی ڈگری کی خوبی موجود نہیں ہے مگر باقی اس میں تمام خوبیاں موجود ہیں. وہ کوئی جائل انسان بھی نہیں ہے. ڈگریوں والے سے زیادہ سمجھدار انسان ہے. شریف ہے. محنتی ہے ایماندار ہے. غیرت مند ہے. سگریٹ تک نہیں پیتا. پھر اچھے خاندان سے ہے جس کے گھر والے سب بہت اچھے اور رشتوں کو اہمیت دینے والے ہیں.
تم اس اچھے انسانوں کے ساتھ اچھی پرسکون زندگی بسر کرو گی. میں جائیداد میں سے تمہیں حصہ دوں گا تمہارا گھر بن جائے گا. اس کو بزنس کرنے میں سیٹل کر دوں گا. تم سے بس ایک التجا ہے کہ میرا کہا مان لو اور میری بہن کے آگے مجھے سرخرو کر دو.
میری بہن نے کھبی مجھ سے کچھ نہیں مانگا پہلی بار کچھ مانگا ہے اور اس کی بات ماننے میں کوئی نقصان نہیں ہے.
انہوں نے اس کے آگے ہاتھ جوڑ دیے اور نم آنکھوں سے التجا کی.
سجل شرمندہ ہو کر ان کے ہاتھوں کو چومتے ہوئے بولی
"جیسے آپ کی مرضی"
اور دوڑ کر واش روم گھس گئی. وہ کمرے سے باہر آ گئے.
سجل کے ضبط کے تمام بندھن ٹوٹ گئے اور وہ ہچکیوں سے رونے لگی. عمار کی کال آئی تو اس نے اسے صاف کہہ دیا کہ اب وہ دوبارہ اسے کھبی رابطہ نہیں کرے گی کیونکہ اس نے ہاں کر دی ہے اور پرسوں اسکا نکاح ہے. یہ کہہ کر اس نے اسے بلاک کر دیا.
اس کی بہن نے منہ بنا کر کہا،
"یقیناً ڈیڈ نے تمہیں اموشنل بلیک میل کیا ہو گا."
بھائی نے بھی کہا،
"وہ اس جاہل کے ساتھ اسکا نکاح نہیں ہونے دیں گے."
ماں نے کہا
"تم اپنی زندگی برباد نہ کرو. تمہارے ڈیڈ کو ہم سنبھال لیں گے."
ماں نے غصے سے کہا،
"پرسوں تمہاری پھوپھو کو میں ذلیل کر کے بھیجوں گی."
بہن نے بھی ہاں میں ہاں ملائی تو سجل نے سب کو دھمکی دی
"کوئی اس کے نکاح میں رکاوٹ نہیں بنے گا. وہ یہ نکاح اپنی مرضی سے کر رہی ہے. اگر کسی نے ان لوگوں کی ےعزتی کی تو میں ان کے ساتھ ہی رخصت ہو جاؤں گی."
نکاح کا دن بھی آ گیا.

Reader Comments
No comments yet. Be the first to share your thoughts!
Log in to leave a comment.