Muhabbat Dil Ka Zehr Ya Suroor
30 Episodesمحبت دل کا زہر یا سرور
فواد کی طبیعت سخت خراب تھی۔ ڈاکٹر صاحب آئے ہوئے تھے اور اسے انجکشن لگا رہے تھے۔ ان کا سوتیلا بھائی قیوم حویلی میں کھڑا بندوق کندھے سے لٹکائے مونچھوں کو تاو دیتا ڈاکٹر صاحب کی ہدایات کا منتظر کھڑا تھا۔ فواد کا چودہ سالہ بیٹا باپ کے سرہانے پریشان حال بیٹھا ہوا تھا۔ ڈاکٹر صاحب نے بتایا کہ چند دن ان کی زندگی کے بچے ہیں۔ ان کے کھانے کے لیے کوئی ٹھوس غزا نہیں دے سکتے ورنہ ان کو نقصان پہنچے کا اندیشہ ہے۔ قیوم ان کا سوتیلا بھائی روتے ہوئے بولا
"ڈاکٹر صاحب کوئی تو علاج ہو گا میں اپنے بھائی کو بڑے شہر لے کر جاؤں گا۔ اپنی ساری جاہیداد بیچ دوں گا۔"
ڈاکٹر صاحب نے تسلی دیتے ہوئے کہا
"آپ پریشان نہ ہوں اللہ تعالیٰ بہتر فرمائے گا۔"
اس کا بیٹا رونے لگا۔ ڈاکٹر تیزی سے باہر نکل گیا فواد شاید انجکشن کی وجہ سے نیند میں چلا گیا تھا۔ قیوم نے اس کے چودہ سالہ بیٹے کو گلے سے لگاتے ہوئے کہا
"تم فکر نہ کرو۔ میں تیرے باپ کا علاج اچھے سے اچھے ڈاکٹر سے کراؤں گا۔ کل میں اس سلسلے میں شہر جاوں گا اور میرے ہوتے ہوئے تجھے فکر کرنے کی ضرورت نہیں ہے تیرا تایا ہے نا۔"
بچہ روتے ہوئے باہر چلا گیا۔
چند روز ڈاکٹر آتا اور ڈرپ میں انجکشن لگا کر چلا جاتا۔ فواد نے اپنے سوتیلے بھائی قیوم سے کہا
"میرا بچہ ابھی بہت چھوٹا ہے، اس سے پہلے کہ مجھے کچھ ہو جائے تو میرے بیٹے کی جاہیداد کا نگران بن جا۔ جب وہ جوان ہو کر اس قابل ہو جائے تو پھر اسے دینا۔ میں کسی اور پر بھروسہ نہیں کر سکتا تم میرے بھائی ہو۔"
ایکدم سے قیوم کی آنکھوں کی چمک بڑھ گئی جسے فواد نے واضح طور پر محسوس کیا اور حیران ہوا۔ قیوم پہلو بدل کر بولا
"تم بلکل فکر نہ کرو میں اس کی پوری حفاظت کروں گا"
اور ملازم کو زور زور سے آوازیں دیں کہ پانی دے جائے۔ ایسے لگا جیسے یہ خبر سن کر اس کی دیرینہ مراد بھر آئی ہو۔
فواد نے اپنے پرانے ملازم جس پر اسے بھروسہ تھا موقع پا کر اس کے کان میں کچھ کہا۔ ملازم دین نے فواد کے بیٹے امر کو موقع پا کر باپ کا پیغام دیا۔ وہ حیران ہوا تو دین نے مدد کی حامی بھری۔ امر باپ کے پاس گیا تو باپ نے کچھ ہدایات دیں اور دین کی مدد سے اس پر عمل کرنے کا حکم دیا۔ امر نے بیگ بنا کر دین کو دیا۔ اس نے موقع لگا کر اس بیگ کو میلے کپڑوں کی گٹھڑی میں باندھا اور باہر جا رہا تھا کہ قیوم آگے سے آ رہا تھا اس سے پوچھا
"کدھر جا رہے ہو اس نے کہا صاحب میلے کپڑے دھلائی کے لیے دینے جا رہا ہوں دھوبی کے پاس۔"
وہ بولا
"اچھا"
دین نے سانس لیا اور جلدی سے راستے میں بیگ امر کو دیا وہ لے کر جیپ میں رکھ کر تیزی سے چل پڑا۔
پھر دین جلدی سے دھوبی کے پاس کپڑے لے گیا تاکہ ثبوت ہو جائے۔ قیوم گھر گیا کھانا کھایا۔ پھر سو گیا۔ دین نے فواد کو بتایا
"امر بابو اب پہنچ گئے ہوں گے گاؤں۔"
شام کو قیوم فواد کے کمرے میں آیا اور پوچھا
"میرے بھائی کیسے ہو"
اس نے آہستہ آواز میں کہا
"ٹھیک ہوں تم وکیل کو تیار رکھنا آج بدھ ہے جمعہ کے مبارک دن پر میں جائیداد کی اٹارنی تمھارے نام کر دوں گا۔"
اتنے میں اس کا بڑا بیٹا اندر آیا اور بولا
"چچا اب طبیعت کیسی ہے۔"
وہ بولا
"میں دن گزار رہا ہوں۔"
اس نے باپ سے پوچھا
"ابا! امر جیپ لے کر کدھر گیا ہے۔"
دین بولا
"امر بابو کہہ رہے تھے شکار پر جا رہا ہوں"
وہ بولا
"باپ کی یہ حالت ہے اور اسے شکار کی سوجی ہے"
قیوم بولا
"پتر حیوان عمر ہے نا اسی لیے تیرا چاچا پرسوں جائیداد کی اٹارنی میرے نام کروا رہا ہے۔"
وہ اسے چمکتی آنکھوں سے دیکھنے لگا باپ نے کہا
"پتر وکیل کا بندوبست کر لینا۔"
وہ بولا
"ابا فکر نہ کر سب ہو جائے گا۔"
وہ بولا
"میں کل شہر جا رہا ہوں کسی اچھے ڈاکٹر صاحب کو لانے جو بتا سکے کہ کیسے اچھا علاج ہو سکتا ہے۔"

Reader Comments
No comments yet. Be the first to share your thoughts!
Log in to leave a comment.