Logo
Wo Mera Baap Nahi
1 Episodes
Wo Mera Baap Nahi EP 1
Episode 1

وہ میرا باپ نہیں-پورا ناول

Wo Mera Baap Nahi

 

شمس گھر جارہا تھا۔ سوچوں کی یلغار اس کے دل ودماغ پر چھائی ہوئی تھی۔ دماغ میں آندھیاں سی چل رہی تھیں۔ اس کی کچھ سمجھ میں نہیں آ رہا تھا کہ وہ اب کیا کرے گا کیونکہ نوکری سے تو اسے جواب مل چکا تھا۔ وہ اپنے اکلوتے بیٹے کے اخراجات کیسے اٹھائے گا۔ اسے تو اس نے ہمیشہ اچھے مہنگے اسکولوں کالجوں میں پڑھایا تھا۔ ابھی چند دن پہلے ہی اس نے چھ ماہ کی اس کی سمسٹر کی فیس ادا کی تھی۔ اگلے چھ ماہ کی فیس وہ کہاں سے ادا کرے گا۔ یہی سوچتا ہوا وہ پیدل ہی گھر کی طرف جا رہا تھا۔ اس کا اپنے باس کے بہنوئی سے آج جھگڑا ہو گیا تھا، لڑائی میں اس کے کپڑے بھی پھٹ چکے تھے۔

وہ ایک درخت کےسائےمیں بیٹھ گیا۔ اس نے جیب سے رومال نکال کر منہ سے پسینا پونچھا اور رومال پاس پھینک دیا اور خود بازو آنکھوں پر رکھ کر لیٹ گیا۔ وہ سوچ رہا تھا کہ اب وہ اس حلیے میں گھر کیسے جائے گا۔ نوکری بھی چلی گئی بیٹے کی فیس کیسے ادا ہو گی۔ اسے اعلیٰ تعلیم دلانے کا خواب کیسے پورا کرے گا گھر کا خرچہ کہاں سے پورا ہو گا۔



شمس کا تعلق ایک متوسط گھرانے سے تھا ۔اس کے باپ کی ایک کریانے کی دوکان تھی۔ سات مرلے کا گھر تھا اوپر والے پورشن میں خود رہتے تھے اور نیچے والے پورشن میں دوکانیں بنا کر ایک دوکان کو اپنے پاس رکھ لیا۔ کچھ عرصے میں ہی ان کی کریانے کی دوکان ایک بڑے اسٹورمیں بدل گئی اوران کے گھر خوشحالی آ گئی۔ انہوں نے وہ گھر بیچ کر اچھی جگہ اسٹور کھول لیا اور اچھی سوسائٹی میں گھر بھی لے لیا۔



شمس کا ایک تایا تھا جو گاؤں میں رہائش پذیر تھا۔ اس کی بیوی کی کچھ عرصہ قبل وفات ہو چکی تھی اور وہ خود بھی کافی بیمار رہتا تھا۔ اس کی ایک ہی بیٹی تھی۔ جو تقریباً چھبیس سال کی ہونے والی تھی۔ اس کے والدین ایک تو غریب تھے دوسرے بیمار رہتے تھے، جس کی وجہ سے اس کی شادی نہ ہو سکی تھی۔ اسکا نام رخسانہ تھا۔ وہ بمشکل میٹرک تک پڑھ سکی تھی۔ اسے آگے پڑھنے کا بہت شوق تھا مگر والدین کی دیکھ بھال کرنے والا اور کوئی نہ تھا۔ والدہ کی وفات کے بعد وہ بہت پریشان اور اداس رہتی تھی۔ اکثر روتی رہتی تھی۔

 


شمس کے والد اپنے بھائی کی مدد کرنا چاہتے تھے مگر بھائی بہت غیرت مند تھا وہ اس کی مدد لینا پسند نہ کرتا تھا۔ رخسانہ کی ماں کی وفات کے بعد شمس کے والد نے اپنے بھائی سے جا کر غصے سے کہا کہ اب وہ ان کی ایک نہ سنیں گے اور ان کو اور رخسانہ کو اب اپنے ساتھ رکھیں گے اور انکا شہر میں اچھے ڈاکٹر سے علاج کروائیں گے ۔

رخسانہ کے والد نے روتے ہوئے کہا 

مجھے تو ڈاکٹر نے جواب دے دیا ہے ۔ میرے تو دن ہی کم رہ گئے ہیں۔ مجھے بس اپنی بیٹی کی فکر ہے کہ کاش میں اس کی وقت پر شادی کر سکتا۔ اس سے اب کون شادی کرے گا۔ مجھے تو اس کی فکر کھائے جا رہی ہے ۔ میرے مرنے کے بعد میری روح بھی اس کے لیے بے چین رہے گی۔ 

شمس بھی اپنے والد کے ساتھ اپنے تایا کے گھر موجود تھا۔ 

شمس کے والد نے ایک التجاء بھری نظر اپنے بیٹے شمس کی طرف ڈالی اور اسے اپنے پیچھے باہر آنے کا اشارہ کیا ۔

شمس جواپنے باپ کا مدعا کافی حد تک سمجھ چکا تھا وہ خاموشی کے ساتھ پیچھے چل پڑا۔ شمس کے والد اسے کمرے سے دور صحن میں باتھ روم کے پاس کھڑے ہو کر بیٹے سے بھرائی ہوئی آواز میں، دکھ بھرے اور ڈگمگائے ہوئے لہجے میں اس کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر گویا ہوئے 

بیٹا اس وقت میں تم سے کچھ کہنا ۔۔۔۔۔

 اتنا ابھی وہ بولے ہی تھے کہ شمس نے باپ کا ہاتھ پکڑ کر نظریں چراتے ہوئے کہا 

بابا جان آپ جو کہنا چاہتے ہیں وہ میں سمجھ رہا ہوں مجھے رخسانہ سے شادی کرنے پر کوئی اعتراض نہیں ہوگا اور یہ فیصلہ میں تایا جان کا بوجھ ہلکہ کرنے یا ان پر ترس کھانے کے لیے نہیں کر رہا، بلکہ میں اسے دل ❤️ سے اپنانا چاہتا ہوں۔ کیونکہ اس میں ایک اچھی بیوی اور اچھی بہو بننے کی پوری صلاحیت موجود ہے۔ اس کا ساتھ میرے لیے خوش قسمتی کا باعث ہو گا۔ آپ بےفکر ہو کر جائیں اور ان سے شادی کی بات کریں اور پھر ہم انہیں جلد یہاں سے لے جا کر ان کا اچھے سے علاج کروائیں گے۔ پہلے ہی ہم سے کوتاہی ہو چکی ہے۔ اب ایک منٹ بھی یہاں رک کر دیر نہیں کریں گے اور جلد شہر روانہ ہو جائیں گے۔ اب ان کی ایک نہ سنیں گے۔ 

شمس کے والد نے حیرت سے اپنے بیٹے کی طرف دیکھا اور جوش و خوشی سے اسے گلے لگا کر روتے ہوئے کہا 

میرے بہت ہی سیانے اور مخلص بیٹے میرا سینہ آج فخر سے بلند ہو گیا ہے۔ تمہیں میں بہت عقلمند تو سمجھتا تھا مگر اتنا بھی نہ سمجھتا تھا کہ تم وقت اور حالات کے تقاضوں کے پیش نظر اتنا بڑا فیصلہ اتنے آرام سے کر دو گے۔ میں نے تو ابھی اپنی بات بھی مکمل نہ کی تھی کہ تم میرے دل کا حال جان گئے۔ شاباش بیٹا، شاباش 

وہ اسے تھپکی دیتے ہوئے چلنے لگے تو باتھ روم کے پیچھے ہاتھ میں جھاڑو اٹھائے خاموشی سے پیچھے کھڑی رخسانہ کو دیکھ کر شوخی سے بولے، 

اچھا جی آپ ادھر چھپ کر ہماری باتیں سن رہی تھیں۔

پھر اس کے سر پر شفقت سے ہاتھ رکھ کر دعا دی 

خوش رہو۔ 

رخسانہ نے شرما کر سر جھکا لیا۔


شمس کے والد بھائی کے پاس جا کر بیٹھے اور بیٹے کو بات کرنے کا اشارہ کیا۔ شمس نے قدرے جھجکتے ہوئے بات شروع کی اور کہنے لگا 

تایا جی میں رخسانہ سے شادی کرنا چاہتا ہوں ۔

شمس کے تایا کو تو یقین ہی نہیں آ رہا تھا کہ شمس جیسا ہیرا لڑکا۔ جو سارے خاندان میں بہت سلجھا ہوا  سمجھداراور والدین کا نہایت فرمانبردار بیٹا تھا۔ وہ انکا داماد بننے کو تیار ہے۔ ان کی بیٹی تو عمر میں اس سے بڑی تھی اور اس کے مقابلے میں کم تعلیم یافتہ تھی۔ وہ مہنگی یونیورسٹی میں اعلیٰ تعلیم حاصل کر رہا تھا۔ وہ کیسے اتنی آسانی سے مان گیا۔


شمس کے تایا نے شمس کو پیار سے سر پر ہاتھ پھیر کر کہا 

بیٹا تمہارا بہت شکریہ کہ تم نے ہم دونوں کا بھلا سوچا۔ مگر ایک مروت میں اور ترس کھا کر کی گئی شادی زیادہ عرصہ تک نہیں چل سکتی اور میری بیٹی، عمر میں لگ بھگ تم سے تین سال بڑی ہو گی۔ پھر وہ تمہارے مقابلے ۔۔۔۔ 

شمس نے انہیں ٹوکتے ہوئے کہا 

تایا جان، میرا اور رخسانہ کا مقابلہ نہیں چل رہا۔ اور نہ ہی میں اتنا بےوقوف ہوں کہ مروت میں ساری زندگی داؤ پر لگا دوں۔ اب مجھے بے شرموں کی طرح اپنے بزرگوں کے سامنے یہ اقرار کرنا پڑے گا کہ میں رخسانہ کو بچپن سے پسند کرتا ہوں اور میں نے رخسانہ کی ماما سے اپنی پسند کا اظہار بھی کیا تھا مگر موت نے انہیں مہلت نہ دی اور پھر میں جھجک رہا تھا کہ آپ سے رخسانہ سے شادی کی کیسے بات کروں۔ ابھی تھوڑا عرصہ گزرا تائی جان فوت ہوئیں ہیں پھر آپ بھی بیمار ہیں۔ پلیز میری بات کا یقین کریں تین سال بڑی ہونے سے مجھے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ اگر کوئی لڑکی مجھ سے چھوٹی ہو گی اور اس کے ساتھ میرا مزاج نہ ملتا ہو تو ایسی شادی کا کیا فائدہ ہے۔ رخسانہ میری ہم مزاج ہے۔ میں اسے بچپن سے جانتا ہوں۔ میں رخسانہ سے شادی کرنے کا بہت پہلے سے ہی فیصلہ کر چکا تھا اور اس کے علاؤہ میں کسی اور سے شادی کرنے کا نہ پہلے سوچ سکتا تھا اور نہ اب سوچ سکتا ہوں۔ 

یہ کہہ کر وہ کمرے سے باہر نکل گیا۔ 

شمس کے والد نے شمس کی والدہ کو فون پر ساری صورتحال بتائی اور اس کی رائے مانگی۔ وہ تھوڑی ناراض انداز میں آہستہ سے گلہ کرتے ہوئے بولی 

آپ باپ بیٹے نے فیصلہ کرنے کے بعد مجھ سے رائے پوچھی ہے۔ جب آپ دونوں نے فیصلہ کر ہی لیا ہے تو میں کون ہوتی ہوں اس فیصلے کے خلاف جانے والی۔

شمس کے والد نے معزرت کرتے ہوئے کہا 

بھائی کی بات سنکر میں اپنے جذبات پر قابو نہ رکھ سکا اور جزباتی ہو کر جلدی سے یہ فیصلہ کر لیا۔ واقعی یہ میری غلطی ہے۔ تم شمس کی ماں ہو سب سے پہلا حق تمہارا ہے۔ مجھے تم سے پہلے مشورہ کرنا چاہئے تھا۔ اگر تم اس فیصلے سے متفق نہیں ہو تو 

 نہیں نہیں ایسی کوئی بات نہیں ہے۔ ظاہر ہے میں ماں ہوں مجھے دکھ تو ہو گا نا خیر۔ مجھے رخسانہ بچپن سے ہی بہت پسند تھی میں اسے بہو تو بنانا چاہتی تھی مگر مجھے لگتا تھا کہ وہ عمر میں شمس سے بڑی ہے تو آپ اور شمس نہیں مانیں گے 

پھر قدرے مزاح بھرے لہجے میں بولی 

مگر یہاں تو معاملہ ہی الٹ ہے۔ بیٹا تو چھپا رستم نکلا۔ میں نے لگتا ہے مجنوں پیدا کیا ہے۔ 

شمس کے والد یہ سنکر زور سے کھلکھلا کر ہنسے اور بولے،

بیگم میرا دل اور دماغ پر سکون ہو گیا ہے۔ میرا خیال ہے کہ ہمیں کیسے بھی حالات ہوں اپنے حواس کو قابو میں رکھنا چاہیے اور جلد بازی میں کوئی فیصلہ نہیں کرنا چاہیے۔

بیوی نے مبارک ہو دی اور کہا 

آپ بھائی صاحب کی اناء کو مدنظر رکھتے ہوئے انہیں کہیں کہ آپ سوچنے کا وقت لے لیں۔ ہم انتظار کرلیں گے۔ اس طرح ان کی عزت نفس کو ٹھیس نہیں پہنچے گی۔

شمس کے والد نے کہا 

بیگم آپ تو ماشاءاللہ سے بہت عقلمند ہیں۔ کاش میں نے ان سے بات کرنے سے پہلے مشورہ کیا ہوتا اور اتنی جلدبازی کا مظاہرہ نہ کیا ہوتا تو ان کی اناء کو ٹھیس نہ لگتی۔ اسی لیے اللّٰہ تعالٰی نے زندگی کا ساتھی دیا اس سے ہم ہر وقت ساتھ رہ کر اپنی خدمتیں کرواتے ہیں اور اہم معاملات میں مشورہ تک کرنا ضروری نہیں سمجھتے۔ بیوی کو اطلاع دی جاتی ہے ۔

شمس کی ماں نے جواب دیا 

آپ کا احساس کرنا ہی میرے لیے کافی ہے۔ اب آپ رخسانہ کے والد سے طریقے سے بات کریں۔

شمس کے والد بیوی کو فون کرنے کیلئے باہر نکل آئے تھے۔ انہوں نے ابھی بڑے بھائی سے رخسانہ کے رشتے کی بات ابھی نہیں کی تھی وہ رخسانہ کے والد سے رخسانہ کے رشتے کی بات کرنے لگے تو رخسانہ کے والد نے ہاتھ ✋ کے اشارے سے انہیں چپ کروا کر کہا  

میں سونے لگا ہوں۔

شمس کے والد نے کہا 

بھائی جی اب میں آپ کی ایک نہیں سنوں گا اور شمس آپ کا شہر میں اچھے سے علاج کروائیں گے اور جلدی سے جانے کی تیاری پکڑیں۔ میں رخسانہ بیٹی کو ضروری سامان پیک کرنے کا بولتا ہوں ۔

شمس کے تایا چپ ہو گئے اور رخسانہ کو آواز دے کر بولے  

بیٹی ادھر آؤ۔

وہ کمرے میں آئی تو اسے ہلکہ سا قہقہہ لگا کر بولے، 

بیٹی تیرا چچا بہت ضدی ہے یہ مجھے ٹیکے لگوا کر ہی چھوڑے گا جلدی سے ضروری سامان پیک کر اور شہر چلنے کی تیاری کر، ساتھ والی خالہ نینوکو بلوا لے اورایک چابی اسے دے دینا، گھر 🏠 کی صفائی وغیرہ کر دیا کرے گی۔ شمس کو بھی ساتھ مدد کے لیے بلوا لے تاکہ کام جلدی ہو شام ہونے کو ہے۔ اندھیرا ہونے سے پہلے یہاں سے روانہ ہو سکیں ۔

شمس کے والد نے کہا 

بھائی صاحب پڑوسیوں کو چابی دینا ٹھیک نہیں ہے ۔

شمس کے تایا نے جواب دیا 

 نینو ایک تو بیوہ ہے اور اکیلی عورت ہے۔ رشتےدار اسے پوچھتے نہیں۔ وہ ہمارا بہت ساتھ دیتی ہے۔ ایک بیٹی تھی  جو شادی شدہ تھی  اس کا پہلا بچہ ہوا اور بچہ اور وہ دونوں مر گئے ۔

شمس کے والد بولے 

تو آپ اسے پاس رکھ لیتے۔ 

شمس کے تایا نے جواب دیا 

اگر رخسانہ کی ماں زندہ ہوتی تو رکھ سکتا تھا ۔

شمس کے والد نے مشورہ دیا 

ہم اسے بھی شہر ساتھ لے چلتے ہیں اور اس کو بھی سہارا مل جائے گا اور میری بیوی کو بھی ہیلپ ہو جائے گی۔ 

شمس کے تایا نے کہا، 

اگر ایسا ہو جائے تو کتنا اچھا ہو جائے۔ بہت خودار اور نیک عورت ہے۔ سمجھدار بھی ہے۔    میں نے اسے بہن بنایا ہوا ہے۔ میری بھی اس کی طرف سےٹینشن بھی ختم ہو جائے گی اور تسلی ہو جائے گی۔ رخسانہ بیٹی ادھر آو

 شمس کے تایا پرجوش انداز میں بیٹی کو آوازیں دینے لگے اور بولے 

بیٹی نینو بہن کو میرے پاس بھیجو ضروری بات کرنی ہے۔ 

شمس کے والد اپنی بیوی سے مشورہ کرنے کیلئے فون کرنے لگے۔ شمس کی والدہ نے خوشی کا اظہار کیا اور نینو کو ساتھ رکھنے پر رضامند ہو گئی۔



نینو پہلے تو مان نہیں رہی تھی۔ پھر رخسانہ نے بھی بڑے پیار سے اس کے گلے میں باہیں ڈال کر کہا 

نینو ماسی، آپ جانتی ہیں کہ جب سے ماما کی وفات ہوئی ہے تب سے آپ نے مجھے کتنا سنبھالا ہے اور اب گاؤں کی تازہ ہوا اور ہریالی چھوڑ کر شہر کے پلوشن میں جا کر رہنا۔ آپ کے بغیرمیرا دل وہاں کیسے لگے گا۔ بےشک وہ میرے چچا کا گھر ہے۔ آپ ادھر اکیلی ہوں گی تو میرا دل ❤️ آپ کی فکر میں لگا رہے گا۔ آپ ساتھ ہوں گی تو میں بھی وہاں خوش رہوں گی۔ 

شمس کے تایا اور رخسانہ کے منانے پر وہ اس شرط پر رضامند مند ہو گئی کہ شمس کی والدہ اسے فون کر کے آنے کا کہیں۔ ایسا نہ ہو کہ گھر کی مالکن کی مرضی ہی نہ ہو اور میں وہاں جا کر شرمندگی محسوس کروں۔


 

شمس کے والد جب فون بند کر کے کمرے میں داخل ہوئے تو ایکدم جھجک سے گئے۔ انہیں پتا نہیں تھا کہ اندر نینو بیٹھی ہوئی ہے۔ وہ معزرت کرتے ہوئے باہر جانے لگے تو شمس کے تایا نے کہا  

آؤ یار یہ میری بہن نینو ہے۔ 

تو شمس کے والد نے سلام کیا تو نینو نے بڑے پروقار انداز میں وعلیکم السلام کہا اور نظریں جھکا کر خاموشی سے بیٹھ گئی۔ 

شمس کے تایا اس کی شرط شمس کے والد کو جب بتائی تو وہ اس کی سمجھداری کے قائل ہو گئے کیونکہ وہ ایکدم اسے دیکھ کر چونک گئے تھے کہ وہ تو سمجھ رہے تھے کہ وہ گاؤں کی عام سی عورت ہو گی مگر وہ تو ایک پروقار شخصیت کی مالکہ تھی۔ اسے تو وہ اپنے گھر ایک نوکرانی بنا کر لے جانا چاہتے تھے مگر اس کی پرسنیلٹی دیکھ کر سوچنے پر مجبور ہو گئے تھے کہ وہ کام بھی کرے گی یا نہیں۔ انہوں نے بیوی کو فون ملایا اور رخسانہ کو اشارے سے اسے دینے کا کہا۔

جب شمس کی والدہ نے فون پر بات ختم کی تو نینو مسکرا کر بولی، 

میں جانے کی تیاری کرتی ہوں۔

شمس کے تایا اس کی تعریف کرنے لگے اور اس کے بارے میں بتانے لگے

وہ ایک شہر کی پڑھی لکھی خاتون تھی مگر اس کے نشئی باپ نے اسے جائیداد کے لالچ میں اپنے انپڑھ بھتیجے سے بیاہ دیا۔ اس عورت نے دل سے اس کے ساتھ نباہ کیا۔ وہ اچھا انسان تھا۔ ایک بیٹی ہوئی۔ غربت کا گھر تھا۔ شوہر غریب مزدور تھا۔ بیٹی کو زیادہ پڑھا نہ سکی۔ شوہر بیمار ہوا اور علاج کے پیسے نہ تھے۔ آپریشن بہت ضروری تھا۔ گاؤں کے ملک صاحب نے اس شرط پر مدد کرنے کا وعدہ کیا کہ وہ اپنی بیٹی کا رشتہ اسے دے۔ اس کی صابر بیٹی نے بھی شرط مان لی اور ملک کی تیسری بیوی بن گئی۔ ملک کچھ عرصہ زندہ رہا اور پھر مر گیا اس کی بیٹی کو ملک کی بیویوں نے گھر سے نکال دیا۔ اس کی بیٹی کا بچہ ہوا اور دونوں مر گئے۔ نینو بہت دکھی عورت ہے اور خوداربھی ہے۔ کسی کی مدد لینا گوارا نہیں کرتی۔ میں خود غریب ہوں۔ میری بیٹی کو اسکا بہت آسرا ہے۔ وہ سوائے ہمارے کسی کے گھر نہیں جاتی۔ میری بیوی سے اس کی خوب دوستی تھی۔ تم نے اچھا کیا جو اسے ساتھ لے جانے کا فیصلہ کیا۔ 

شمس کے والد جب گھر پہنچے تو شمس کی والدہ نے کھانے کا بہت اہتمام کیا ہوا تھا۔ اس نے جب نینو کو دیکھا تو حیرت زدہ رہ گئی۔ اتنی پرسنیلٹی والی عورت تھی۔ شمس کی ماں شوہر سے سرگوشی میں بولی 

یہ تو کسی بیگم سے کم نہیں لگتی۔ اس سے کام کیسے کراؤں گی۔ میں تو فون پر ہی اس کی گفتگو سے کافی متاثر ہو رہی تھی ۔

شمس کے والد نے رخسانہ کے باپ کا بہت اچھا علاج کروایا۔ اس سے وہ کافی بہتر تو ہو گیا مگر اس کو ڈاکٹروں نے کہا کہ اس کے پاس وقت کم ہے۔ 

نینو نے آتے ہی بغیر شمس کی والدہ کے کچھ کہے پہلے سارے کام کر دیتی تھی۔ رخسانہ بھی اس کے ساتھ گھر کے کاموں میں لگی رہتی تھی۔ شمس کی والدہ کو اب کافی سہولت ہو چکی تھی وہ اب نینو کی بہت عزت کرتی تھی۔ پھر اس نے رخسانہ کے باپ کو شمس کے رشتے کیلئے راضی کر لیا۔ 

رخسانہ کے باپ کو لگتا تھا کہ شمس رخسانہ کو کچھ عرصے کے بعد چھوڑ دے گا۔ مگر شمس کے ساتھ رہ کر اسکا رویہ دیکھ کر وہ راضی ہو گیا۔


 

شمس کے تایا رخسانہ کا رشتہ دینے پر راضی نہ ہو رہے تھے۔ جب وہ مانے تو سب نینو کو اس کا کریڈٹ دیتے تھے۔ نینو کی سب گھر میں عزت کرتے تھے۔ رخسانہ کی شمس سے شادی ہو گئی۔ نینو کچھ بیمار سی رہنے لگی۔ شمس کی ماں اسے زبردستی ہاسپٹل لے گئی۔ اس کے سارے ٹیسٹ ہوئے تو اس کو موزی مرض لاحق ہو چکا تھا اور آخری اسٹیج تھی۔ 

نینو بچ نہ سکی اور جلد ہی مر گئی۔ 

رخسانہ کے ساتھ شمس کی ماں بھی بہت رو رہی تھی کہ کچھ لوگ بہت تھوڑے عرصے کے لیے ہی ملتے ہیں مگر ہمیشہ کیلئے ہمارے دل ❤️ میں جگہ بنا لیتے ہیں۔ رخسانہ کو اس نے ڈانٹ ڈپٹ کر کے گھرداری میں کافی ایکسپرٹ کردیا تھا۔ ورنہ رخسانہ گھرداری کی طرف دھیان نہ دیتی تھی۔ رخسانہ کا باپ  صحت کے لحاظ سے معجزاتی طور پر کافی بہتر ہوتا جا رہا تھا۔ نواسے کو دیکھ کرنہال ہو جاتا تھا۔ دادا دادی کی وہ جان تھا۔ اس کے نانا نے ہی شمس کے والد کے کہنے پر اپنی پسند سے عون نام رکھا تھا۔ عون اپنی توتلی زبان سے سب کا دل بہلائی رکھتا۔


 

شمس پڑھ لکھ کر ایک پرائیویٹ کمپنی میں اچھی جاب پر لگ گیا تھا۔ اس کے والدین کار حادثے میں وفات پا چکے تھے۔ شمس بہت دکھی ہوا تھا مگر رخسانہ کے والد سے اسے بہت سہارا ملا تھا۔ وہ اس کی دلجوئی میں لگے رہتے۔ وہ روتے ہوئے کہتے 

جانا میں نے تھا مگر وہ دونوں چلے گئے۔ وقت بڑا مرہم ہے۔ 

ایک سال کے بعد رخسانہ کے باپ کی بھی وفات ہو گئی۔

 

شمس نے رخسانہ کی دلجوئی میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ رخسانہ بھی عمر کے ساتھ کافی سمجھدار ہو چکی تھی۔ 

عون کو اچھے اسکول 🏫 میں داخل کروا دیا گیااور وقت گزرتا گیا اور عون یونیورسٹی میں پہنچ گیا۔ رخسانہ اچانک ہارٹ اٹیک سے مرگئی۔

 

شمس نے بیٹے کی حالت دیکھتے ہوئے اپنے آپ کو کافی سنبھالنے کی کوشش کی۔ اب دونوں باپ بیٹا اکیلے ہو گئے۔ 

ساتھ والےپڑوسی اچھے تھے۔ جن کی بیٹی سے عون کا نکاح بھی ہو چکا تھا۔ رخصتی اس کی پڑھائی ختم ہونے کے بعد رکھی گئی تھی۔ وہ کھانے پینے سے لیکر تمام گھر 🏡 کی ذمہ داری سنبھالے ہوئے تھے۔ اس وجہ سے شمس کو تسلی رہتی تھی۔



شمس جس آفس میں کام کرتا تھا اسکا مالک شمس کو اس کی ایمانداری اور محنت کی وجہ سے بہت پسند کرتا تھا۔ شمس سے آفس میں لوگ کافی حسد کرنے لگے تھے اور تب سے ان کی سازشیں تیز ہو گئی تھیں، جب سے باس کا بہنوئی، اس آفس میں ملازمت کرنے لگا تھا۔ شمس باس کے بہنوئی سے بہت تنگ تھا کیونکہ وہ اس سے بہت جلتا تھا اور اس پر ہر وقت دھونس جماتا رہتا تھا ۔

شمس یہ بات بھی جانتا تھا کہ باس اپنی بہن سے بےانتہا پیار کرتا تھا اور وہ اپنے بہنوئی کو بھی بہت اہمیت دیتا تھا۔ اس کے خلاف ایک دن ایک کلرک نے اس کے بہنوئی کے خلاف کچھ شکایت کر دی تو باس نے شکایت پوری سنے بغیر ہی اسے زلیل کر کےآفس سے نکال دیا تب سے شمس ڈر گیا کہ اگر اس نے بھی باس کو اس کے بارے میں کچھ بتایا تو وہ اسے بھی نوکری سے نکال دے گا اور وہ جانتا تھا کہ اتنی اچھی نوکری اسے کہاں ملے گی۔ وہ تو سڑک پر آ جائے گا۔ کیونکہ اس کے باپ نے گھر بیچ کر سٹور بڑا کر لیا تھا مگر کچھ عرصے کے بعد ایک اوراس سے بھی بہت بڑا مارٹ کھل گیا تو یکدم ان کے اسٹور کی سیل گر گئی اور شمس نے والدین کی وفات کے بعد اس اسٹور کو اونے پونے داموں بیچ دیا کیونکہ اسے اچھی نوکری مل چکی تھی ۔ اپنا گھر وہ پہلے ہی بیچ کر اسٹور کھول چکے تھے۔ شمس کے والد کو سب نے بہت منع کیا کہ گھرمت بیچو۔ اچھا گزارہ چل رہا ہے۔ مگر وہ نہ مانے۔

شمس کا بیٹا اعلیٰ تعلیم حاصل کر رہا تھا۔


 

شمس آفس میں باس کے بہنوئی سے بہت تنگ تھا۔ وہ اسے ایک غلط کام کرنے پر اکسا رہا تھا۔ جس کے کرنے کا شمس بلکل ارادہ نہ رکھتا تھا ۔ مگر وہ دھمکی دے رہا تھا کہ اگر اس نے یہ کام نہ کیا تو وہ باس سے کہہ کر اسے نوکری سے نکلوا دے گا۔ اگر وہ اس کی بات مانتا ہے تو باس کو اگر پتا بھی چلتا ہے تو وہ یہ اپنے سر لے کر اسے بچا لے گا کیونکہ وہ جانتا ہے کہ باس اس کو کتنی اہمیت دیتا ہے۔

شمس مجبور ہو گیا اور یہ سوچ کر اس نے اس کام کو کردیا کہ وہ پتا چلنے پر باس کو ساری حقیقت بتا دے گا۔ 

مگر باس نے جب اسے اپنے آفس کے روم میں بلوایا تو باس انتہائی غصے میں تھا ۔

باس نے گرج کر اس سے پوچھا، 

یہ سب کیا ہے مجھے تم سے ایسی بےایمانی کی بلکل بھی امید نہ تھی۔ میں نے تم پر اندھا بھروسہ کیا تھا 

شمس نے بے بسی سے باس کے بہنوئی کی طرف دیکھا جو پاس ہی کھڑا ہوا تھا ۔

شمس نے گلے سے تھوک نگلتے ہوئے اس کے بہنوئی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا،

سر یہ سب کرنے کیلئے مجھے اس نے کہا تھا، 

باس نے انتہائی غصے سے گرجتے ہوئے کہا 

بکواس مت کرو۔ ان کاغذات پرتمہارے دستخط موجود ہیں تم نے جس بندے کو فون کیا وہ ریکارڈنگ موجود ہے۔ 

بہنوئی نے مکاری سے مسکین سی شکل بنا کر کہا 

وہ تو اس کے کمرے میں کھبی جاتا تک نہیں ۔ پھر اسے اتنا بڑا کام کرنے کا کیسے کہہ سکتا ہے۔ 

بہنوئی پھر بولا،

مجھے تو پہلے دن سے ہی یہ مشکوک لگتا تھا مگرآپ اسے بہت اہمیت دیتے تھے تو میں اس کے بارے میں کچھ بھی بتانے سے جھجکتا تھا کہ کہیں آپ ناراض نہ ہو جائیں۔ میں اس کے خلاف کوئی پکا ثبوت ڈھونڈ رہا تھا۔ اچھا ہوا آپ کو خود ہی اس کے بارے میں پتا چل گیا  

باس نے شمس کو ذلیل کر کے آفس سے نکال دیا اور تنخواہ بھی نہیں دی۔ شمس کے پیچھے ہی بہنوئی آیا اور فاتحانہ نظروں سے اسے دیکھ کر بولا،

دیکھا میرا کمال کیسے تمہیں ذلیل کر کے نکلوا دیا۔ بڑا باس کا چہیتا بنا پھرتا تھا۔

شمس نے اس کا گریبان پکڑ کر غصے سے کہا 

تم اللہ پاک کی پکڑسے نہیں بچ پاؤ گے ۔

وہ اسے جھٹکے سے چھڑا کر بولا،

دفع ہو جاؤ میرے آفس سے۔ ایک دن میں اس آفس کا مالک بنوں گا۔ 

دونوں گتھم گتھا ہو گئے۔ باس کے بہنوئی نے اس کے کپڑے بھی پھاڑ دیے اور پھر خود بھی اپنے کپڑے پھاڑے اور باس کے پاس چلا گیا، اسے بتایا 

شمس نے اسے بہت برا بھلا کہا ہے اور کپڑے بھی پھاڑ دیے۔ دھمکی بھی دی ہے کہ وہ اسے زندہ نہیں چھوڑے گا۔ مجھے تو اب اس سے اپنی جان کا خطرہ بھی پڑ گیا ہے ۔

باس نے اٹھ کر اسے تسلی دی اور پانی پلایا اور بولا 

وہ اس کے ہوتے ہوئے اسکا کچھ نہیں بگاڑ سکتا۔ 

گھر سے اس کے لیے کپڑے منگوائے اور اس کی دلجوئی کی۔


 

شمس لیٹے ہوئے آنسو بہانے لگا کہ وہ اب گھر کس منہ سے جائے گا اور بیٹے کے سسرال والوں کا سامنا کیسے کرے گا ۔ گھر کا خرچہ کیسے چلائے گا۔ 

روتے ہوئے اس کی آنکھ لگ گئی ۔

کافی دیر بعد اس کی آنکھ کھلی تو اس کے ارد گرد کافی پیسے پڑے ہوئے تھے۔ کچھ لوگ اور آئے اور اسے بھکاری سمجھ کراس کے پاس پیسے پھینک گئے۔

وہ رونے لگا اپنی حالت دیکھ کر۔ بھوک اور پیاس سے برا حال تھا۔ اسکا موبائل بھی باس کے بہنوئی نے توڑ دیا تھا۔ اس نے بہت بےبسی سے ان پیسوں کو دیکھا اوران کو اٹھایا اور اپنی جیب میں ڈال کر پیٹ کا دوزخ بجھانے چل پڑا۔ 

شاپ پر رش تھا اس کا پیاس سے برا حال تھا۔ مگر اس کی ظاہری حالت دیکھ کر لوگ اسے حقارت سے دیکھ رہے تھے اور کچھ نے تو اسے آگے جانے پر جھڑک کر دھکا دے کر پیچھے کیا۔ ایک دو نے اس کے ✋ پر پیسے بھی رکھ دیے۔ وہ فرش پر بیٹھ گیا اور ایک آدمی سے التجاء کرتے ہوئے پانی مانگا کہ اسے بہت پیاس لگی ہے۔ مہربانی کر کے اسے دوکان سے پانی لا دیں کیونکہ اس میں اب کھڑے ہونے کی بھی ہمت نہ تھی۔ ہونٹ خشک ہو چکے تھے بولا بھی نہیں جا رہا تھا ۔ ایک جوان لڑکے نے اس کی حالت کو دیکھتے ہوئے اپنی جوس کی بوتل اور کچھ بسکٹ نمکو وغیرہ کا پیکٹ اسے پکڑا کر واپس دوکان پر چل پڑا۔

شمس نے اسے دعائیں دیں تو چند اور لوگوں نے اس کی طرف پیسے پھینکنے شروع کر دیے۔

جوس پی کر اور بسکٹ نمکو کھا کر اس میں کچھ ہمت آ گئی۔ 

اس نے پاس پڑے پیسے بھی اٹھا لیے۔ اس نے دیکھا اس کے پاس کافی پیسے جمع ہو چکے تھے۔ اس کے ذہن میں ایک آئیڈیا آ گیا کہ چلو ابھی فلحال اسی سے گزارہ چلاتا ہوں ۔ اس نے راہ چلتے ہوئے لوگوں سے فون کرنے کی اجازت مانگی تو وہ انکار کرتے ہوئے گزرنے لگے۔ ایک بوڑھے ریڑھی والے نے کہا کہ اس کے پاس بہت کم بیلنس ہے تو جب شمس نے اسے پانچ سو روپے دینے کی آفر کی تو وہ خوشی سے مان گیا۔ شمس نے بیٹے کو فون کر کے کہا کہ وہ آفس کی طرف سےبزنس ٹور پرلمبے عرصے کیلئے جا رہا ہے۔ چونکہ باس نے اسے اچانک بتا کر ریکوسٹ بھی کی ہے کہ وہ اس ٹور کے اسے بہت فائدے دے گا۔ کپڑے رہائش سب اسے وہاں پر مل جائیں گے۔  اس کا ٹھکانا مختلف شہروں میں ہو گا۔ وہ بہت بزی ہو گا اور فون کم ہی کر سکے گا۔ 

بیٹا پریشان ہو کر بولا، 

بابا میرا لاسٹ سمسٹر ہے اور پھر جاب بھی ڈھونڈنی ہے۔ جب مجھے جاب مل گئی تو میں آپ کو پھر جاب نہیں کرنے دوں گا۔ اپنا بہت خیال رکھیے گا اور جب بھی موقع ملے مجھے فون ضرور کیجئے گا۔ 

شمس نے اس ریڑھی والے سے کہا کہ اس کے پاس رہنے کا ٹھکانا نہیں ہے۔ وہ ریڑھی والا بولا،

ہماری کوئی اولاد نہیں ہے۔ ہم دونوں میاں بیوی اپنے ایک چھوٹے سے گھر میں رہتے ہیں جس کو مشکل سے ہم نے بنایا تھا۔ 

شمس نے اسے کرایہ دینے کی آفر کی تو وہ مان گیا۔ 

شمس اب اس بوڑھے کے گھر رہنے لگا۔ اس نے اب باقاعدہ طور پر بھیک مانگنی شروع کر دی۔ داڑھی بھی بڑھا لی۔ بال بھی بڑھا لیے۔ بیٹے کو کھبی کھبی فون کر دیتا تھا۔ اس دوران اس نے کافی جگہ نوکری تلاش کرنے کی کوشش کی مگر زبانی اس کی بات پر کوئی اس کا یقین نہیں کرتا تھا کیونکہ اس کے پاس کوئی کاغذات نہیں تھے۔ وہ ہر ماہ  باقاعدگی سے پیسے جمع کر کے بیٹے کو خرچہ  بھیجنے لگا۔ 

وہ مختلف شہروں میں جاتا اور بھیگ مانگتا۔ 

کھبی کھبی اپنی حالت زار پر رو پڑتا۔ بس وہ بیٹے کی نوکری لگنے کا انتظار کر رہا تھا۔ بیٹا اچھے نمبروں سے پاس ہو چکا تھا۔ اس وقت کیلئے اس نے کتنے خواب دیکھے تھے۔ بہت جشن منانے کا سوچا تھا۔ مگر بہت دکھی بھری آواز میں اس نے اسے مبارکباد دی تھی۔ 

بیٹا اسے بتاتا کہ ابھی تک اسے کوئی نوکری نہیں ملی ہے۔ پھر بیٹے نے بتایا کہ اس کی رخصتی سادگی سے ہو گئی ہے کیونکہ اس کے سسر کی بہت طبعیت خراب ہو گئی تھی اور وہ فرض ادا کرنا چاہتے تھے۔ وہ بہت رویا کہ اپنے بیٹے کی شادی میں وہ شرکت نہ کرسکا تھا۔ اسکا دل ❤️ دکھ سے بھرگیا۔ وہ بہت رویا۔ ریڑھی والے دونوں اس کو بہت تسلیاں دینے لگے۔ کیونکہ وہ انہیں سب سچائی بتا چکا تھا۔ 

بیٹا اس کو واپس بلا بلا کر تھک چکا تھا مگر وہ بزنس سے چھٹی نہ کرنے کا بہانہ کرتا رہتا 

رشتےداروں نے باتیں بنانی شروع کر دیں کہ شاید اس کے باپ نے دوسری شادی کر لی ہو گی اسی لیے واپس نہیں آ رہا بہانے بنا رہا ہے۔


 

شمس ایک مہنگے ہوٹل کے باہر بھیک مانگ رہا تھا کہ اسکا بیٹا اور بہو اور اس کے سسرال والے باہر نکلے ۔ شمس اپنے خیالوں میں مگن بیٹھا ہوا تھا کہ شمس کے بیٹے عون کے سسر نے جب شمس کو دیکھا تو اسے وہ جانا پہچانا چہرہ لگا۔ غور کیا تو وہ عون کا باپ تھا۔ اس نے عون کو بتایا تو عون بھی اسے پہچان گیا۔ عون کے ہوش اڑ گئے جب سسر کے سامنے باپ کو ایسی حالت میں دیکھا۔ 

شمس اب پھنس چکا تھا۔ وہ سچائی بتانا چاہتا تھا مگر وہ اسے ذلیل کرنے لگے۔ 

عون کے سسرال والوں نے عون کو دھمکی دی 

وہ اگر باپ سے رشتہ رکھے گا تو ہم سے اسکا رشتہ ختم ۔

شمس اپنے بیٹے عون کی طرف امید بھری نظروں سے دیکھنے لگا کہ شاید بیٹا اس کی بات سمجھ سکے کیونکہ اس نے جلدی سے اپنی ساری آپ بیتی ان لوگوں کو بتا دی تھی مگر پھر بھی وہ اس کو ذلیل کر رہے تھے ۔ 

شمس کے بیٹے عون نے باپ کی طرف نفرت سے دیکھتے ہوئے کہا، 

یہ میرا باپ نہیں ہے اور  نہ ہی میں اس سے کھبی کوئی ناطہ رکھنا چاہتا ہوں۔ 

عون ایک نفرت بھری نظر ڈال کر بولا  

میں اتنا چھوٹا بچہ نہ تھا جو آپ کی مجبوری نہ سمجھ سکتا۔ اپنے خواب پورے کرنے کیلئے آپ نے یہ گھٹیا راستہ اپنایا۔ مجھے سچائی بتا دیتے تو ہم ملکر کوئی نہ کوئی حل نکال لیتے۔ آج آپ نے مجھے ہمیشہ کیلئے سب کی نظروں میں ذلیل کروا دیا۔ اب میں کھبی ان سب کے سامنے نظر نہیں اٹھا سکوں گا۔ 

یہ کہہ کر وہ روتا ہوا چل پڑا۔ لوگوں کا تماشا لگ چکا تھا۔ 

شمس وہیں بیٹھ کر رونے لگا اور پچھتانے لگا کہ کاش وہ یہ گھٹیا کام نہ کرتا۔ کاش وہ اپنے اللہ پاک پر بھروسہ کرتے ہوئے ایک امید لیکر بیٹے کو آ کر ساری سچائی بتا دیتا۔ اس وقت شاید اس کے سسرال والے بھی اس کا ساتھ دیتے۔ 

کچھ بھی ہو کھبی گناہ کا راستہ نہیں اپنانا چاہیے اس سے دنیا میں بھی ذلت ملتی ہے اور آخرت میں دوزخ کا عزاب بھی ملتا ہے۔ نہ دنیا سنورتی ہے نہ ہی آخرت۔ 

وہ بمشکل ریڑھی والے کے گھر پہنچا اور بولا 

وہ یہ کام چھوڑنے لگا ہے۔ 

وہ بہت خوش ہوا اور بولا،

ہم نے کافی مرتبہ دبے لفظوں میں تمہیں اس کام سے روکنے کی کوشش کی مگر کھل کر جرات نہ کرسکے۔ 

ریڑھی والے نے بتایا 

میری بیوی نے تمہارے دیے ہوئے پیسوں کو خرچ کرنے سے سختی سے منع کر دیا تھا۔ وہ بولا 

میری بیوی بہت نیک ہے۔ میں نے تو تم سے پیسے لے لیے تھے مگر میری بیوی نے مجھ سے لیکر رکھ لیے اور کہنے لگی ابھی وہ مصیبت میں ہے وہ ہماری بات نہیں مانے گا۔ مگر وقت کے ساتھ ساتھ اسے سمجھاتے رہیں گے اور ہم سے جو ہو سکا ہم اس کی مدد کرتے رہیں گے۔ تمہارے سارے پیسے جمع ہیں ان کو غریبوں میں بانٹ دو اور کوئی رزق حلال والا کام کرو۔ 

شمس نے ایسا ہی کیا۔ پھر وہ سوچنے لگا کہ وہ حیران ہوتا تھا کہ وہ تو ان کو کھانے پینے کے پیسے زیادہ دیتا تھا مگر کھانا پھر بھی نارمل سا ہی پکا ہوتا تھا۔ اب اسے سمجھ آیا کہ وہ اپنی بساعت کے مطابق اسے دال سبزی جیسا نارمل کھانا دیتے تھے۔ اس لیے وہ اب زیادہ تر باہر ہی کھانے لگا تھا۔ چند ایک بار ان کیلئے کچھ لایا تو انہوں نے بہانہ بنایا کہ وہ صرف اپنے ہی گھر کا بنا کھانا کھاتے ہیں اور وہ ضائع کر دیا۔ 

ایک بار وہ پھل لیکر آیا تو بھی انہوں نے کھانے سے انکار کر دیا وجہ نہیں بتائی تو اس نے بھی زیادہ غور وفکر نہیں کیا۔

شمس کے بیٹے عون کی بری حالت ہو گئی۔ وہ باپ کو چھوڑ کر آنے پر پچھتانے لگا۔ دوبارہ اسی جگہ گیا تو باپ کو وہاں نہ پایا۔ قریب کے لوگوں سے پوچھا، فقیر کا لفظ کہتے ہوئے بھی اس کی زبان لڑکھڑا رہی تھی۔ کافی تلاش کے بعد بھی اسے باپ نہ ملا۔ اس کا کھانا پینا چھٹ چکا تھا۔ اس سے رشتے داروں کے طعنے بھی برداشت نہ ہو رہے تھے۔ وہ بیمار ہو گیا۔ روز وہاں جانے پر بھی اسکا باپ اسے وہاں نہ ملا۔ وہ بیوی سے لڑنے لگا۔ اسے روز لعن طعن کرتا۔ وہ اس سے پیار کرتی تھی۔ وہ اپنے باپ سے لڑتی کہ آپ نے اسے بلیک میل کیوں کیا تھا۔ 

عون کے سسر نے بھی اسے تلاش کرنے کیلئے پولیس میں رپورٹ لکھوا دی۔

عون کے سسرال والے عون سے معافیاں مانگنے لگے۔ وہ سوچنے لگے کہ عون کے باپ نے جو بھی گھٹیا پیشہ اپنایا تھا وہ عون کی بہتری کیلئے اپنایا تھا بے شک وہ غلط تھا مگر ہم لوگوں کو اسے ایسے بےیارومددگار نہیں چھوڑنا چاہیے تھا۔ عون نے بیوی سے بات چیت چھوڑ دی تھی۔ ساس سسر بھی شرمندگی سے اس سے بات چیت نہ کرتے تھے۔ گھر کا بوڑھا ملازم اس کی دلجوئی میں لگا رہتا۔ وہ اسی کے ہاتھوں سے کچھ تھوڑا  بہت کھا پی لیتا تھا۔ کافی کمزور ہو چکا تھا۔ گاڑی نکال کر سارا دن سڑکوں پر باپ کو تلاش کرتا رہتا۔ ہر بھکاری کو غور سے دیکھتا۔ ان سے اپنے باپ کے بارے میں پوچھتا مگر کوئی کامیابی حاصل نہ ہوتی۔



شمس نے پٹرول پمپ پر نوکری کر لی۔ لوگوں کی گاڑیوں کے شیشے بھی صاف کرتا۔ 

عون کی بیوی امید سے تھی۔ اس کے والدین اسے باقاعدگی سے چیک اپ کرواتے۔ 

عون کو جب پتا چلا تو وہ اندر سے خوش ہوا مگر زیادہ کھل کر خوش نہ ہو سکا۔ مگر اتنا فرق پڑا کہ وہ اب بیوی کے ساتھ نرم رویہ اختیار کرنے لگا اور ساس سسر سے بھی تھوڑی بہت بات چیت کرنے لگا ۔ سب نے اسے بھی غنیمت سمجھا۔ اب عون ان کے ساتھ ڈائیننگ ٹیبل پر بیٹھ کھانا کھانے لگا اور بوڑھے ملازم کے سمجھانے پر آفس بھی جانے لگا۔ 

اسے باپ کے ساتھ اپنے برے رویے پر سخت ندامت تھی۔ وہ روز رو رو کر اللہ تعالیٰ سے اپنے رویے کی معافی مانگتا اور ان سے ملنے کی رو رو کر دعائیں کرتا۔ اس نے نماز کی پابندی بھی شروع کردی تھی ۔

پہلے اسے باپ کہتا تو وہ دھیان نہ دیتا۔ اب اسے افسوس ہوتا تھا۔ نماز پڑھ کر اسے سکون ملنے لگا۔ ہر روز آفس جاتے ہوئے اس کی نظریں باپ کی تلاش میں لگی رہتیں۔

پہلے وہ بھکاریوں کو ڈانٹ دیتا تھا بقول اس کے باپ کے کہ یہ انکا پیشہ ہے۔ ان کو دے کران کی حوصلہ افزائی نہیں کرنی چاہیے۔ اس کے بدلے ان غریب لوگوں کو دینا چاہیے جو سخت محنت کے باوجود تنگ دستی کا شکار رہتے ہیں۔ مزدور طبقہ ،ریڑھیوں والے وغیرہ ۔

عون سوچتا کہ اس کے باپ نے سوچا ہو گا کہ اس کے سمسٹر کی فیس ادا ہو جائے۔ تاکہ تعلیم حاصل کرنے کے بعد اس کو اچھی نوکری مل سکے۔ اسکی تعلیم ادھوری نہ رہے اور اسکا مستقبل تابناک ہو سکے۔ مگر اس کو کیا معلوم تھا کہ اس کوقسمت سے سسرال ہی ایسا مل گیا تھا۔ جن کی اکلوتی بیٹی عون پر مرتی تھی اور اس کے سسر نے اپنا شاندار بزنس سب کچھ عون کے سپرد کر دیا تھا اور وہ اسے بہت محنت اور ایمانداری سے نبھا رہا تھا ۔ یہ سب اس نے اپنے باپ سے ہی سیکھا تھا۔ جو اسے ہمیشہ محنت اور رزق حلال کمانے کی تلقین کرتے رہتے۔ 

عون باپ کے آفس بھی گیا تھا۔ اسے وہاں جا کر ساری سچائی کا علم ہوا تھا۔ باس بھی شمس کو نکال کر پچھتا رہا تھا۔ کیونکہ اس کے بہنوئی نے اس کے ساتھ بھی فراڈ کرنے کی کوشش کی تھی اور جب باس کو علم ہوا تو اس نے اسے جیل بھجوا دیا۔ جیل سے بھاگنے کی کوشش میں وہ پولیس کی گولی کا شکار ہو کر مر گیا۔


 باس کو عون سے شمس کی سچائی سنکر بہت پچھتاوا اور دکھ ہوا۔ وہ سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ شمس اس قدر مسائل کا شکار ہو جائے گا۔ وہ سوچنے لگا کہ ہم امیر لوگ کس آسانی سے اپنے ملازموں کو نوکری سے نکال دیتے ہیں یہ بھی نہیں سوچتے کہ ہمارے اس اقدام سے ان کا پورا گھر متاثر ہو جائے گا۔ ہر کسی کو اس کی غلطی سدھارنے کا ایک موقع ضرور دینا چاہیے۔ پھر اسے وارننگ دینی چاہیے کہ اس غلطی کے بعد دوسری غلطی سے اس کو نوکری سے فارغ کر دیا جائے گا۔

باس بھی اب سڑکوں پر اسے تلاش کرنے لگا۔ ہر بھکاری کو غور سے دیکھتا۔ 

باس ایک دن پٹرول ڈلوا رہا تھا کہ دوسری گاڑی میں پٹرول ڈالتے انسان کا چہرہ اسے جانا پہچانا لگا۔ 

بے شک شمس نے اپنی داڑھی اور بال بڑھا لیے تھے۔ ورنہ وہ ہر وقت کلین شیو رہتا تھا۔ اور اپنے لباس کا بہت خیال رکھتا تھا۔ مگر پھر بھی باس نے اسے پہچان لیا۔ اس کی حالت دیکھ کر باس بہت شرمندگی محسوس کرنے لگا۔ اس کی اس حالت کا وہی زمہ دار تھا۔ وہ تیزی سے گاڑی سے اترا اور عون کے کندھے کو پکڑ کر بولا،

شمس میرے بھائی مجھے معاف کر دو۔ 

شمس نے حیرت سے باس کو دیکھا اور نظریں چراتے ہوئے بولا، 

صاحب میں شمس نہیں آپ کو کوئی غلط فہمی ہوئی ہے ۔

باس نے دکھ سے بھرائی ہوئی آواز میں کہا، 

میرے یار میں تمہیں لاکھوں میں پہچان سکتا ہوں ۔

وہ زبردستی اسے کھینچ کر اپنی گاڑی کے قریب لایا اور ہاتھ جوڑ کر معافی مانگنے لگا اور جلدی جلدی اس نے اسے عون کے بارے میں بھی سب بتا دیا 

وہ اسے پاگلوں کی طرح ڈھونڈ رہا ہے۔ سخت پچھتا رہا ہے۔ 

مگر شمس کا دل سب سنکر بھی نہ پسیجا۔

شمس نے دوسری طرف منہ کر کے لاپروائی سے کہا 

اسکا کوئی بیٹا نہیں ۔

باس نے دیکھا اس کی آنکھیں نم تھیں ۔

باس نے بہت منتیں کر کے معافیاں مانگ کر اسے اپنی گاڑی میں انگلی سیٹ پر بٹھایا۔ باس اکیلا تھا۔ شمس خاموشی سے اس کے ساتھ بیٹھ گیا۔ اسے باس پر اتنا غصہ اور دکھ نہ تھا جتنا اسے اپنے بیٹے کے رویے سے ہوا تھا۔ وہ اندر سے ٹوٹ چکا تھا۔ جس بیٹے کیلئے اس نے یہ گناہ کا راستہ چنا تھا۔ جانتا تھا کہ بھیک مانگنا سخت گناہ ہے۔ قیامت والے دن ان کیلئے سخت عزاب ہے اور ان کے چہرے پر گوشت نہیں ہڈیاں ہوں گی۔ اسی بیٹے نے اس کو بڑے آرام سے بول دیا کہ وہ اسکا باپ نہیں ہے۔

باس نے اسے کافی سمجھانے بجھانے کے بعد اس کو اپنے ساتھ رہنے کی آفرپیش کر دی۔ اس کو پہلے کھلایا پلایا پھر اسکا حلیہ درست کیا۔ اس کی حجامت کروائی۔ شیو کروائی۔ 

شمس اب کافی نکھرا سا لگ رہا تھا ۔ 

باس نے اسے اپنے ایک دوسرے آفس میں جاب کی آفر دی، جسے اس نے قبول کر لی۔ دراصل وہ آفس اس کی بہن کا تھا۔ اس نے شوہر کے مرنے کے بعد بزنس اسٹارٹ کر دیا۔ بھائی نے اسے جائیداد میں سے حصہ دے کر اس کا بزنس سیٹ کرنے میں مدد کی۔ وہ بھی پڑھیں لکھی عورت تھی۔ بزنس خود چلانے لگی۔ 

شمس نے اس کے بزنس کو اچھی طرح سے سنبھال لیا اور وہ کافی مطمئن ہو کر گھر بیٹھ گئی، اس کی دوسری شادی کی تیاریاں زوروں پر تھیں۔ اس کا منگیتر روز آفس بھی آ جاتا۔ باس کی بہن نے اسے شادی سے پہلے اسے گھر آنے سے منع کر رکھا تھا۔ نہ ہی اس کے ساتھ باہر کہیں جاتی تھی۔ بس آفس میں اس سے ملتی تھی۔ مگر آدھے گھنٹے سے زیادہ اسے بیٹھنے سے منع کرتی تھی۔

شمس اپنے کام پر دھیان دیتا۔

 

باس نے شمس کے بیٹے عون کو فون کر کے سب بتا دیا تھا۔ بیٹا خوشی سے بھاگتا چلا آیا مگر شمس نے اسے دیکھ کر منہ پھیر لیا۔  اپنے کمرے میں چلا گیا، جانتا تھا کہ بیٹا اس سے معافی مانگے گا۔ وہ بیٹے کو سب کے سامنے شرمندہ نہیں کرنا چاہتا تھا۔ وہ اسکا لخت جگر تھا۔ جسے سامنے دیکھ کر اسے گونا سکون سا ملا تھا۔ جس سے وہ شدید پیار کرتا تھا اس کیلئے ہی اس نے گناہ کا گندہ اور بدنام پیشہ اپنایا تھا۔ اسے کس قدر ذلت اور شرمندگی محسوس ہوتی جب وہ لوگوں کے آگے ہا تھ پھیلاتا تو کچھ لوگ اسے حقارت سے غصے سے کہتے کہ ہٹے کٹے کو کماتے کیوں نہیں ہو حرام خور۔

 

بیٹے نے شمس کے سامنے ہاتھ جوڑ لیے اور شمس کے پاؤں میں پڑ گیا اور زاروقطار روتا رہا۔ شمس کا دل ❤️ چاہ رہا تھا ۔ پکڑ کر اسے گلے لگا لے۔ اس کے آنسو اسے تکلیف دے رہے تھے۔ اس نے بمشکل اس سے پاؤں چھڑوائے اور اسے گرج کر بولا، 

میرا کوئی بیٹا نہیں ۔

یہ الفاظ عون کے دل ❤️ پر ہتھوڑے کی طرح لگے۔ اسے احساس ہوا کہ اس کے ان الفاظ سے اس کے باپ کے دل کو بھی اتنی ہی ٹھیس لگی ہو گی۔ وہ تڑپ کر بولا، 

نہیں بابا میں آپ کا ہی بیٹا ہوں اور ہمیشہ رہوں گا ۔

شمس نے اسے دھمکی دی کہ اگر وہ یہاں سے فوراً نہ گیا تو وہ خود کمرے سے چلا جائے گا ۔عون روتا ہوا باہر نکلا تو باس کی بیٹی نے اسے پکڑ کر پیار سے کرسی پر بٹھایا اور اسے پانی پلایا اور تسلی دیتے ہوئے بولی،

بیٹا ،تسلی رکھو ،تم  نے اپنے ہیرے جییسے باپ کو چوٹ بھی بہت بڑی پہنچائی ہے۔ اتنی جلدی ان کے زخم بھریں گے نہیں۔ تم ابھی ان کی بات مان کر ان سے کم کم ملو۔ کوشش جاری رکھو۔ آخر باپ ہیں مان ہی جائیں گے، تم سے پیار بھی بہت کرتے ہیں اور چوٹ کھائے ہوئے ہیں۔ شکر کرو کہ وہ تم سے ملنے کیلئے کمرے میں چلے گئے۔ جانتے تھے کہ تم ان سے معافی مانگو گے وہ تمہیں سب کے سامنے شرمندہ نہیں کرنا چاہتے تھے۔ اگر وہ تم سے نہ ملنا چاہتے تو باہر سے ہی تمہیں ذلیل کر کے روانہ کر دیتے۔ وہ خود بھی تمہارے لیے ترسے ہوئے تھے۔ مگر فوری معاف کرنا بھی ان کی اناء کو گوارا نہ تھا۔ تم نے تو سب کے سامنے انہیں ذلیل کیا تھا۔ وہ پھر بھی تمہارا پردہ رکھ گئے۔ 

باس نے بھی آ کر کہا 

رخسانہ بلکل ٹھیک کہہ رہی ہے۔ میری بہن بہت سمجھدار ہے۔ اسے شمس کے تمام حالات سے آگاہی ہے۔ وہ اپنے مرحوم شوہر کی طرف سے شمس سے شرمندہ ہے اور معافی بھی مانگ چکی ہے۔ اسے شمس نے معاف کر دیا ہے تمہیں بھی معاف کر دیں گے انشاء اللہ۔


شمس روتا دھوتا واپس چلا گیا۔ گھر والوں نے اسے بہت حوصلہ دیا اور کہا 

وہ ساتھ چلتے ہیں انہوں نے بھی شمس سے معافی مانگنی ہے۔ 

مگر شمس نے جواب دیا 

ابھی وہ کسی کو معاف نہیں کریں گے۔ رخسانہ آنٹی نے مجھے بڑا اچھا مشورہ دیا ہے کہ وہ کوشش جاری رکھے وقت کے ساتھ وہ ضرور مان جائیں گے۔ وہ بہت سمجھدار عورت ہیں ۔ انکا نام بھی میری ماما والا رخسانہ ہے تو مجھے ان کی باتوں سے بہت سکون ملا ہے اور اچھی امید دلائی ہے۔ مجھے ان سے کافی انسیت محسوس ہونے لگی ہے۔ 

پھر وہ ماں کو بھی یاد کر کے رونے لگا۔ اسے تایا بھی یاد آنے لگے جو اس کی پیدائش کے کچھ سال بعد وفات پا چکے تھے ۔

 

شمس اندر کمرے میں بیٹھا رخسانہ کی ساری گفتگو سن رہا تھا اور اس کی باتوں سے متاثر بھی بہت ہوا تھا ۔ اس کے نام سے اسے اپنی بیوی رخسانہ یاد آ گئی وہ آنسو صاف کرنے لگا۔ وہ اسے شدید پیار کرتا تھا۔ اس کے پھوہڑپن سے اس کی ماں کھبی عاجز آ جاتی تھی تو وہ اس کی صفائیاں دینے لگ جاتا تھا۔ نینو نے اسے ڈانٹ ڈپٹ کر کے کھانا پکانا سکھایا تو تھا مگر پھر بھی اس سے نہ روٹی گول پکتی تھی نہ سالن مزے کا بنتا تھا۔ 

عون اکثر باپ کے پاس جانے لگا۔ اس نے اسے دادا بننے کی بھی خبر سنائی مگر شمس پر کوئی اثر نہ ہوا۔ وہ اس سے بات نہ کرتا تھا۔ جب وہ آتا تو پانچ منٹ بعد ہی شمس کمرے میں جا کر منہ دیوار کی طرف کر کے لیٹ جاتا۔ 

عون کافی دیر کمرے میں خاموش بیٹھا رہتا۔ پھر اٹھ کر واپس آ جاتا کہ اس کے بابا ریلیکس ہو جائیں۔ وہ اسے کمرے سے جانے کا نہیں بولتے تھے۔

عون کی موجودگی ہی شمس کے دل ❤️ کو سکون دیتی تھی۔ جب وہ چلا جاتا تو شمس اداس ہو جاتا۔ 

باس کے گھر اسے ایک فیملی کے فرد کی سی حیثیت حاصل تھی۔ باس کے والدین اس کی کمپنی سے بہت خوش ہوتے تھے۔ وہ ان سے گپ شپ کرتا تھا۔ اس کی بیوی نے اسے بھائی کا مقام دیا تھا اور اس کا بہت خیال رکھتی۔ باس کے دونوں بچے بیٹا اور بیٹی جن کی عمریں پندرہ اور سولہ سال تھیں اس سے بہت مانوس ہو چکے تھے، اسے ماموں پکارتے تھے ۔

عون نے جب آنا ہوتا تھا تو وہ رخسانہ کو فون کر دیتا تھا۔ رخسانہ سے اس کی اچھی دوستی ہو چکی تھی ۔ دونوں نے آپس میں بزنس ڈیل بھی کر لی تھی اور کافی کامیابی بھی حاصل کی تھی۔


 

عون آفس آنے لگا تھا مگر شمس ہنوز اس سے بات چیت نہ کرتا تھا۔ وہ اس کے سلام کا بھی دل ❤️ میں جواب دیتا۔ 

عون اب روز آفس آنے لگا تھا اور رخسانہ کے کمرے میں چلا جاتا۔ سارے کمرے شیشے کے تھے جہاں سب بیٹھے ہوئے نظر آتے تھے ۔ 

شمس بہانے بہانے سے عون کو دیکھتا رہتا۔ عون کو بھی سب اندازہ ہو گیا تھا کہ اسکا باپ اسے کن اکھیوں سے دیکھتا ہے۔ پہلے وہ بھی باپ کو دیکھتا رہتا تھا مگر اب وہ جان بوجھ کر نہیں دیکھتا کیونکہ اس ایک بار اس نے نظر اٹھائی تو شمس اسے دیکھ رہا تھا۔ وہ قدرے شرمندہ سا ہو گیا تو عون اب باپ کو شرمندہ نہیں کرنا چاہتا تھا۔ وہ روز آتا ہی باپ کے لیے تھا۔ رخسانہ سے تو بزنس ڈیل فون پر بھی ممکن تھی۔ مگر رخسانہ کے کہنے پر ہی وہ روز آتا تھا۔ اس کے لیے وہ رخسانہ کا مشکور تھا جو بغیر کسی کام کے اسے روز آنے دیتی تھی اورشمس کو دیکھانے کے لیے اس کو ایسے وقت دیتی تھی جیسے دونوں بہت ضروری بزنس ڈیل کر رہے ہیں۔ اس بہانے ان کا بزنس بھی بڑھنے لگا اور رخسانہ پر اسکا ٹیلنٹ بھی کھلنے لگا۔ اب وہ دونوں اکھٹے چائے بھی پیتے تھے اور لنچ بھی کرتے تھے۔ رخسانہ کا منگیتر بھی اکثر آ جاتا اور لنچ میں شامل ہو جاتا تھا۔  

رخسانہ کی شادی کی شاپنگ زوروں پر تھی۔ وہ اپنے والدین کے ساتھ شاپنگ پر جاتی تھی اسکا منگیتر بہت اصرار کرتا مگر وہ دو ٹوک جواب دے دیتی کہ یہ شادی سے پہلے ممکن نہیں۔ اس کا منگیتر ایک دن تپ کر بولا،ہم میچور عمر میں ہیں اور تم ایک کنواری لڑکی کی طرح نخرے دیکھتی ہو۔ 

رخسانہ نے اس کی بات کا کافی مائینڈ کیا تو اس کے منگیتر نے جھٹ سوری بول دیا تو رخسانہ نے اسے معاف کر دیا ۔

شمس حسب معمول اپنے کام میں مصروف رہتا۔ عون کے ساس سسر اور بیوی بھی باس کے گھر آئے۔ رخسانہ نے خوب ان کی آؤبھگت کی۔ مگر شمس نے ان کی طرف سے بلکل انجان بن کر اپنے کمرے میں چلا گیا۔ عون نے روک کر منانے کی کوشش بھی کی 

آپ کی بہو آئی ہے۔ 

تو شمس یہ کہہ کر چل دیا کہ میرا کوئی بیٹا ہی نہیں تو بہو کہاں سے آ گئی۔ 

پھر رخسانہ نے ان لوگوں سے کہا کہ شکر کریں کہ وہ اب آپ لوگوں کو ادھر آنے سے تو منع نہیں کرتے۔ انہیں وقت دیں ۔ آخر وہ اپنی اولاد سے کب تک دور رہ سکیں گے، ایک دن موم ہو جائیں گے انشاء اللہ ۔

سب نے کہا 

انشاء اللہ ۔

رخسانہ نے ان لوگوں کو بھی اپنی شادی پر انوائیٹ کیا ۔انہوں نے خوشی کا اظہار کیا اور پھر وہ بھر پور انداز میں شادی کی تیاریوں میں مدد کرنے لگے۔ 

عون کی بیوی کی چوائس رخسانہ کو بہت پسند آئی۔ اس نے شادی کی شاپنگ کی ساری ذمہ داری عون کی بیوی کو دے دی۔ خود وہ عون کے ساتھ بزنس وسیع کرنے میں مصروف ہو گئی۔ دونوں بزنس پارٹنر بن گئے ۔

عون کے ساس سسر بھی عون کے اس اقدام سے خوش ہوئے اور کوئی اعتراض نہ کیا۔ کیونکہ ان کی آمدنی میں کئی گنا اضافہ ہو چکا تھا ۔

جس دن مہندی تھی۔ اس دن سب ہوٹل 🏨 میں کافی انجوائے کررہے تھے ۔

رخسانہ کا منگیتر کافی لیٹ آیا۔ عذر یہ پیش کیا کہ بزنس کی ایک ضروری میٹنگ میں مصروف تھا۔ 

مہندی تقریبا ختم ہو چکی تھی۔ مہمان اب کھانا کھانے میں مصروف تھے ۔ 

رخسانہ کا منگیتر رخسانہ کے پاس بیٹھ گیا اور معزرت کرنے لگا۔ 

وہ رخسانہ کیلئے کافی مہنگا ہیرے کا سیٹ لیکر آیا تھا۔ عون نے چپکے سے اپنے ایک جاننے والے جیولر سے رابطہ کیا اور ایک انگوٹھی رخسانہ سے مانگی۔ وہ رخسانہ سے میسج پر سب بات کر چکا تھا کی وہ تسلی کرنا چاہتا ہے کہ واقعی یہ سیٹ اصلی ہیرے کا ہے یا نقلی ہے۔ رخسانہ بھی تسلی کروانا چاہتی تھی۔ کیونکہ اس کے منگیتر کے لباس وغیرہ  بہت مہنگے برانڈ کے ہوتے تھے۔ بہت مہنگی گاڑی میں آتا تھا۔ جب عون نے جیولر سے پتا کروایا تو اس کی حیرت کی انتہا نہ رہی کہ وہ واقعی اصلی ہیرے کا سیٹ ہی تھا۔ 

رخسانہ اتنا مہنگا سیٹ لینے پر جزبز کا شکار تھی۔ جبکہ اس کے منگیتر کے والدین اسے پہننے پر اصرار کر رہے تھے اوروہ کہہ رہی تھی 

نکاح کے بعد اسے قبول کرے گی۔ 

مگر اس کے والدین اسے واپس لینے پر آمادہ نہ تھے۔ 

شادی کے بعد تمہیں ہم ہیرے جواہرات سے لاد دیں گے۔ وہ خود بھی ان جواہرات سے لدے ہوئے تھے۔ 

رخسانہ نے کہا 

اسے زیورات پہننے کا شوق نہیں ہے ۔ 

جب وہ نہ مانی تو وہ سیٹ واپس لے جانے پر مجبور ہو گئے ۔

رخسانہ نے سکھ کا سانس لیا اور عون سے بولی 

 عون بیٹا تم میرے منگیتر کو فون کر کے منع کر دو کہ وہ اسے اتنے مہنگے گفٹس نہ دے۔ میں نے شادی سے پہلے اسے فون کرنا بند کیا ہے۔ 

عون نے جب اسے فون کیا تو وہ بولا،

رخسانہ پر تو میں دولت کے ڈھیر نچھاور کروں گا۔ میرے پاس پیسے کی کوئی کمی نہیں ہے


 

دو دن کے بعد  رات کی بارات تھی اور شہر کے سب سے مہنگے 🏨 ہوٹل میں بارات کا انتظام کیا گیا تھا۔ 

دن کے وقت رخسانہ سے ان کے پرانے ملنے والے آئے تو رخسانہ کے والدین ان کی باتیں سنکر شاک ہو گئے ۔

انہوں نے بتایا 

رخسانہ کا منگیتر شادی شدہ ہے اور دو بچوں کا باپ ہے۔ اس کی بیوی کو تو علم ہی نہیں ہے کہ وہ کیا کرنے جا رہا ہے۔ اس کی بیوی کو ہم نے بتا دیا ہے اور وہ ابھی تھوڑی دیر میں ثبوت کے ساتھ آ رہی ہے۔ 

جب رخسانہ کو پتا چلا تو وہ بولی  

بغیر ثبوت کے وہ اس پر شک نہیں کرسکتی۔ 

جب سب ثبوت مل گئے تو رخسانہ کے والدین سر پکڑ کر بیٹھ گئے ۔ 

پھر باہمی صلاح ومشورہ اور رخسانہ کی رضامندی سے انہوں نے شمس کو ریکوسٹ کی تو اس نے صاف انکار کر دیا 

محض دنیا دیکھانے کیلئے کسی عورت کو زبردستی بیوی نہیں بنا سکتا۔ 

دو دن، دن رات شمس کو سب مناتے رہے مگر وہ مسلسل انکار کرتا رہا۔ عون نے جب رخسانہ سے اس کی مرضی پوچھی تو قدرے شرماتے اور جھجکتے ہوئے اس نے بتایا 

وہ شمس سے متاثر ہونے لگی تھی۔ حتکہ شاید وہ اس سے پیار کرنے لگی تھی چونکہ وہ کسی کی منگیتر بن چکی تھی حالانکہ اس کی عادتوں سے وہ نالاں تھی مگر اسے سب کی عزت کا پاس تھا اور وہ مجبور تھی۔  

عون یہ کہہ کر خوشی سے اٹھا اور جزباتی انداز میں بولا، 

اب آپ کو میری ماما بننے سے کوئی نہیں روک سکتا ۔

عون نے چپکے سے رخسانہ کی باتیں ریکارڈ کر لی تھیں ۔

اس نے وہ باتیں باپ کو فارورڈ کر دیں۔ 

شمس جو رخسانہ کی عادتوں سے متاثر تھا۔ وہ اس پر زبردستی نہیں کرنا چاہتا تھا۔ جب اسے عون کے زریعے رخسانہ کی مرضی پتا چلی تو وہ رخسانہ کے والدین کے پاس گیا اور بولا 

میں باقاعدہ طور پر رخسانہ کا رشتہ مانگتا ہوں۔ 

وہ غصے سے بولے، 

پہلے کیوں اتنا نخرہ کر رہے تھے۔ 

انہوں نے صاف انکار کر دیا۔ اب شمس انہیں دن رات منانے لگا۔ پھر عون نے جب ان کو رخسانہ کی مرضی بتائی تو تب انہوں نے رخسانہ سے خود تسلی کے لیے پوچھا تو اس نے شرما کر ہاں کر دی تو وہ مان گئے ۔

عون باپ کے کمرے میں جا کر روتے ہوئے باپ کے پاؤں پکڑ کر کہا،

بابا پلیز مجھے معاف کر دیں اور گھر چلیں۔ وہاں سے ہم عزت سے بارات لیکر آئیں گے اور رخسانہ آنٹی بھی وہیں رہیں گی۔ میں اب تھک گیا ہوں۔ پلیز اب ساری ناراضگی ختم کریں۔ خوشیاں ہماری منتظر ہیں۔ 

عون کے ساس سسر بھی اندر آ گئے۔ باس اور اس کے والدین بھی آ کر منانے لگے تو شمس بیٹے کو گلے لگا کر دیر تک روتا رہا سب رونے لگے۔



شمس عون کے ساتھ گھر آ گیا۔ بہو نے آگے بڑھ کر سلام کیا تو شمس نے اس کے سر پر ہاتھ رکھ کر دعائیں دیں۔ عون کے سسر سے بھی گلے ملے۔ عون کی خوشی کا کوئی ٹھکانہ نہ تھا ۔

عون نے والد کی شادی دھوم دھام سے کرنی چاہی مگرشمس نے روندھی ہوئی آواز میں کہا،

بیٹا تم جانتے ہو کہ میں تمہاری ماں سے کس قدر پیار کرتا تھا۔ اس کی زندگی میں کیا اس کی وفات کے بعد بھی میں کسی اور سے شادی کا تصور تک نہیں کر سکتا تھا مگر حالات کچھ ایسے بن گئے ہیں کہ مجھے شادی کرنی پڑی۔

عون ایکدم صوفے پر بیٹھ گیا اسے اپنی پیاری ماں یاد آ گئی اور وہ رونے لگا۔ سب اس کے ارد گرد جمع ہو گئے اور اسے تسلیاں دینے لگے۔ 

عون نے روتے ہوئے کہا 

میں نے ماما کے مرنے کے بعد دل میں تہیہ کرلیا تھا کہ کھبی بھی آپ کو دوسری شادی نہیں کرنے دوں گا۔ میں جانتا تھا کہ ہمارے گھر میں ایک عورت کی سخت ضرورت ہے۔ ہم کس قدر مشکل وقت گزار رہے تھے۔ مگر پھر نہ آپ نے کھبی اپنی پریشانیوں کا رونا 😭 رو کر شادی رچانے کا ارادہ کیا۔ 

میں تو سمجھتا تھا کہ آپ جلد شادی کر لیں گے مگر آپ کی ثابت قدمی دیکھ کر میں دل میں حیران ہوتا تھا ۔ میں نے اکثر دیکھا بھی تھا جو پہلے بیوی کی محبت کا دم بھرتے تھے وہ بیوی کے مرتے ہی دوسری شادی کر لیتے تھے۔ مجھے دنیا والے بھی کہتے تھے کہ تماری جلد سوتیلی ماں آ جائے گی۔ کچھ لوگ تو آپ کو اپنی جوان بیٹی کے ساتھ بھی شادی کی آفر کرتے رہے مگر آپ نہ مانے۔ حتکہ وہ یہ تک کہتے تھے کہ جب ہمیں کوئی اعتراض نہیں تو آپ کو کیا اعتراض ہے۔ مگر آنٹی جیسی اگر میری سوتیلی ماں بھی بنے گی تو مجھے خوشی ہو گی۔ کیونکہ انہوں نے اکثر مجھے یہ احساس دلانے کی کوشش کی ہے کہ ماں سے محبت کا اظہار رونا 😭 نہیں ہے بلکہ ان کے ایصال ثواب کے لئے ان کو پڑھ کر ثواب پہنچانا ہے۔ جن سے ان کے درجات بلند ہوں۔ اب وہ مزید نیکیاں کرکے ایسا نہیں کرسکتے۔ مگر نیک اولاد ہی والدین کو فائیدہ پہنچاتی ہے۔ اور ان کی مغفرت کی دعائیں بھی کرتی ہے۔ تب سے میں نے ایک قاری صاحب کو بھی کہا ہے کہ ہر مہینے میری ماں کیلئے گھر آ کر مدرسے کے بچوں کے ساتھ قرآن مجید ختم کریں اور میں خود بھی جتنا ہو سکے پڑھنے لگا ہوں۔ ہم ادھر ادھر اتنے پیسے ضائع کرتے ہیں اگر ہر ماں اپنے فوت شُدگان کے لیے ایسا عمل کرتے رہیں تو مدرسے کے بچوں کا بھی بھلا ہوتا رہے گا۔ ان کی مالی مدد بھی ہوتی رہے گی اور ان کو اچھا کھانا بھی اکثر میسر آتا رہے گا۔ رخسانہ آنٹی نے مجھے کہا ہے کہ میں شادی کے بعد اس بات کا ذمہ خود لوں گی اور شوہر کو ان کی پہلی بیوی کا حق بھلانے نہیں دوں گی۔ یہ ان کو بھی چاہیے اگر معاشی مسئلہ نہ ہو تو مدرسے والے یتیم بچوں کی فوت شُدگان کے نام  کی امداد کرتے رہیں ۔ایسی سوتیلی ماں بھی قسمت والوں کو ملتی ہے۔ 

شمس نے کہا 

بیٹا جو رقم ہم فضول دکھاوے میں خرچ کریں گے وہی رقم ہم غریبوں کی مدد میں خرچ کریں تو ہمیں بہت ذہنی اور قلبی سکون بھی ملے گا اور دنیا اور آخرت دونوں سنور جائیں گی۔ ہوسکتا ہے ایسے عمل سے ہمارے یا ہمارے بچوں پر آئی مصیبت ٹل جائے۔ صدقہ بلاؤں اور مصیبتوں کو ٹالتا ہے۔ قیامت کے روز ہر انسان اپنے صدقے کے سائے میں ہو گا جب سورج ☀️ سوا نیزے پر ہو گا ۔

رخسانہ نے بھی سادگی کی تائید کی۔ 


اس کے گھر 🏡 آتے ہی دنیا جنت بن گئی۔ عون اسے ماما بلانے لگا۔ وہ عون کے بچے پر جان چھڑکتی۔ عون اور شمس نے آفس سنبھال لیا۔ 

رخسانہ نے گھرداری شروع کر دی اور صاف کہہ دیا کہ اب اسکا آفس سے کوئی لینا دینا نہیں۔ باس بہت خوش تھا۔ عون کی بیوی اتنی اچھی ساس پا کر بہت خوش تھی۔ اس کے والدین بھی رخسانہ کے شکر گزار تھے۔ جس نے ان کی لاڈلی بیٹی کو کھبی گھرداری نہ آنے کا طعنہ نہ دیا بلکہ اسے ہمیشہ پیار سے گائیڈ کیا۔

کوئی پیدائشی مجرم نہیں ہوتا۔ وقت اور حالات اسے بنا دیتے ہیں۔


شمس رخسانہ کے پہلے شوہر کے ایصال ثواب کیلئے اس کے لیے بھی اتنا ہی اہتمام کرتا جتنا رخسانہ اس کی بیوی کا کرتی۔ وہ سوچتا کہ اس کی کوئی اولاد نہیں ہے تو اس کے پیچھے پڑھنے والا کوئی نہیں ہے۔

رخسانہ شمس کو ایک عظیم انسان سمجھتی اور اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتی جس نے اسے ایسا جیون ساتھی دیا ۔ 



رائٹر عابدہ ذی شیریں۔

 



🎉

ناول اختتام پذیر ہوا

You've reached the end of this journey. We hope you loved every episode!

Reader Comments

No comments yet. Be the first to share your thoughts!

Log in to leave a comment.

Related Novels

Selected For You

View More Free Novels

Editor's Choice

Handpicked favorites that you shouldn't miss.

Premium Membership

Unlock the Full Library

One subscription. Every story. Unlimited reading.

PKR 300
30 Days of Unlimited Access
Go Premium Now

Secure payment  ·  Instant access

Full Novel Library
Access every premium & exclusive novel — no episode locked
Unlimited Reading
Read as much as you want, whenever you want, at your pace
Support the Author
Your subscription directly supports Abida Z Shireen's work
New Episodes First
Be the first to read every new episode as soon as it drops
A F S R N
Join thousands of readers already enjoying premium access
Loved by readers
Our Literary World

Experience the Best Urdu Novels Online

Dive into decades of storytelling by Pakistan's most beloved author, now at your fingertips.

50+
Published Novels
30+
Years of Writing
1M+
Readers Worldwide
100%
Authentic Stories
01

The Legacy of Abida Z Shireen

Welcome to the digital sanctuary of Abida Z Shireen, one of Pakistan's most celebrated literary icons. As a premier Urdu storyteller, she has spent decades crafting narratives that capture the soul of our society. This online Urdu reading platform is designed to preserve her vast Urdu literature archive, offering readers a chance to read Urdu novels online that explore the depths of human emotion, culture, and resilience.

Read Her Story
Abida Z Shireen
Author
02

Captivating Novels & Social Sagas

From suspense-filled thrillers to heart-touching social dramas, our collection features the best Urdu novels that have captivated millions in publications like Aanchal Digest. Whether you are looking for new Urdu novels 2024 or timeless classics, Abida's work provides a unique lens into family dynamics and romantic storytelling. Dive into her world and discover why she is considered a top Urdu digest writer by fans globally.

Browse All Novels
Reading Urdu Novels on Tablet and Phone
Novels
03

Soul-Stirring Urdu Poetry Collection

Beyond prose, this platform hosts an extensive Urdu poetry collection. Abida Z Shireen's verses offer a profound look into spiritual and philosophical themes, available in both Urdu and English. As a featured Urdu poet, her work serves as a bridge between traditional rhythms and modern thought. Join our community of literature lovers to explore famous Urdu poems and exclusive literary insights found nowhere else.

Explore Poetry
Elegant Desk with Pens and Books
Poetry