Pyar Ka Idraak
ارسل کی ماں کو عنایہ پہلی نظر میں ہی بہت سلجھی ہوئی لڑکی لگی اب تو وہ ان کے گھر کو سنبھالنے میں پوری مدد کرتی، سارے کاموں کی زمہ داری اس نے اپنے زمہ لے لی تھی،
ارسل کی ماں اس سے نرم رویہ رکھتی اگر کھبی شوہر کو سمجھانے کی کوشش کرتی کہ وہ اس گھر کی ملازمہ نہیں ہے، بس بے چاری مجبور ہے، اکیلی ہے،
ارشد صاحب غصے سے کہتے دنیا میں یہ واحد اکیلی لڑکی نہیں ہے، ہزاروں لوگ اکیلے رہتے ہیں، یہ آخر کب تک ادھر رہے گی، ویسے بھی کسی جوان لڑکی کا ادھر رکھنا مناسب نہیں ہے ہمارا بیٹا جوان ہے، کل کو فرح بھی شادی کے بعد چلی جائے گی ارسل کی بیوی آئے گی وہ اسے برداشت نہیں کرے گی، بس ارسل کی شادی میں تمہیں اس کی مدد کی ضرورت ہے جوں ہی ہو جائے تو اس کے بعد اسے فوراً نکال دو،اس کے شوہر کی زمہ داری ہے ہماری نہیں،
ارسل کی ماں کو عنایہ سے انسیت ہو گئی تھی اس کے بچے کا بھی خیال رکھتی،
عنایہ بچے کو جاب پر ساتھ لے جاتی تھی، کھبی فرح گھر ہو تو وہ زبردستی رکھ لیتی تھی،
ارسل آتے جاتے اسے پیار کرتا، ماں سے کہتا کتنا پیارا بچہ ہے ناں ماما،
وہ کہتی اسے دیکھ کر مجھے تمھارا بچپن یاد آ جاتا ہے تم اس جیسے لگتے تھے،
ارسل نے ماں کی بات سنکر سامنے سے آتی عنایہ کو دیکھا جس نے بات سنی مگر اگنور کر دی اور چائے کی ٹرے رکھ کر واپس چل پڑی،
ارسل کی ماں نے نوٹ کیا کہ عنایہ جب بھی سامنے آتی ہے ارسل مسلسل اسے دیکھتا رہتا ہے، وہ سوچنے لگی کہ واقعی ارسل کے پاپا ٹھیک کہتے ہیں ارسل کی شادی ہونے والی ہے اب جلد از جلد اسے اس گھر سے بھیجنا ہو گا،
عنایہ کچن میں تھی کہ ارسل پیچھے گیا اور پاس کھڑا ہو کر مسکرا کر اسے دیکھنے لگا،
عنایہ نے مڑ کر دیکھا تو ارسل نے آگے بڑھ کر اسکا ہاتھ پکڑ لیا،
عنایہ نے جھٹکے سے ہاتھ چھڑوا کر اسے وارننگ دی کہ دیکھیں ارسل میں اپنے وعدے پر قائم ہوں، میں نے آپ سے کہا تھا کہ میں جب اس گھر جاوں گی تو پھر میں آپ سے کوئی تعلق قائم نہیں کروں گی نہ ہی بچے کی زمہ داری آپ پر ڈالوں گی، آپ کی شادی ہونے والی ہے اور میں آپ کے گھر والوں کے خواب نہیں توڑ سکتی، اب میں آپ کے درمیان کھبی نہیں آوں گی، اگر آپ نے پھر بھی مجھ سے تعلق جوڑنے کی کوشش کی تو میں آپ سے دور چلی جاوں گی اور خلع لے لوں گی، میرے لئے یہی کافی ہے کہ میرا بیٹا اپنے ددھیال میں پل رہا ہے، اور میں سسرال میں رہ رہی ہوں اس سے زیادہ مجھے کچھ نہیں چاہیے اور آئندہ سے مجھ سے بھول کر بھی بات کرنے کی کوشش نہ کرنا ورنہ،،،،،،
ارسل آنکھوں میں آنسو بھر کر بولا میرے دل میں تمھاری عزت اور بڑھ گئی ہے کہ یہ سب تم اپنے شوہر اور سسرال کے لیے کر رہی ہو دیکھنا تمہیں اس کا کتنا اجر عطاء ہو گا کہتے ہوئے باہر نکل گیا،
عنایہ اپنے روانی سے بہتے آنسوؤں کو صاف کرنے لگی،
ارسل کی ساس بہت خوشی سے بیٹے کی شادی کی تیاریاں کر رہی تھی، وہ عنایہ کو کپڑے زیور دیکھاتی اور کہتی کب میری زارا اسے پہن کر اس گھر میں پھرے گی، سسر صاحب جواب دیتے جلد ہی ہمارے خواب پورے ہونے والے ہیں فکر نہ کرو،
فرح نے عنایہ کی طرف دیکھا جو ضبط کی حد سے گزر رہی تھی،
فرح نے عنایہ سے پوچھا تمہیں کوئی حسد نہیں ہوتا جبکہ کوئی عورت اپنے شوہر کو کسی کا نہیں دیکھ سکتی،
عنایہ نے سرد آہ بھر کر نم آنکھوں سے اسے دیکھتے ہوئے کہا کہ وہ جس پوزیشن میں ہے وہ کچھ نہیں کر سکتی اگر احتجاج کروں تو بہت سے دل ٹوٹ جاہیں گے میں کسی کا دل توڑ کر خوشیوں کا محل نہیں تعمیر کر سکتی،
فرح اسے دکھ سے جاتا دیکھنے لگی،
ارسل کی ماں عنایہ کے بچے سے بہت پیار کرنے لگی اور دعائیں کرتی کہ میرے ارسل کو بھی ایسا بچہ ہو، اب تو مجھے یہ بھی بہت پیارا لگتا ہے ان دنوں کی وجہ سے گھر میں خوب رونق ہے، عنایہ بہت اچھی بچی ہے کاش میری زارا بھی ایسی ہی ہوتی،
فرح نے گھر میں ماں کے سامنے شادی سے انکار کر دیا،
خوب ہنگامہ برپا ہوا، فرح کے سسرال والوں نے کہا کہ کوئی بات نہیں ہم پھر بھی بیٹی کا رشتہ نہیں توڑیں گے،
فرح کے باپ نے کہا کہ وہ اب فرح کو برداشت نہیں کر سکتا، یہ جس سے چاہتی ہے دو دن تک اسے لاے تاکہ میں اسے اس کے ساتھ نکاح پڑھوا کر ہمیشہ کے لیے رخصت کر سکوں،
فرح نے رو رو کر قسمیں کھائیں کہ اسکا کسی سے کوئی تعلق نہیں ہے میں نے تو بھائی کی شادی روکنے کے لئے ایسا کیا تھا،
عنایہ نے اپنے آفس میں اپنے منہ بولے بھائی کو فون کر کے سب بتایا اور پوچھا کہ کیا وہ فرح سے شادی کرنا چاہتے ہیں،
اس نے جواب دیا کہ کون بدنصیب ہو گا جو اتنی باکردار لڑکی سے شا
دی نہ کرنا چاہے گا جو بھائی کے لئے اتنا سوچ رہی ہے پہلے گھر والوں کی لاج رکھی،
ارسل کی مدد سے فرح کا نکاح ہو گیا اس کے سسرال والے بہت اچھے تھے، دور کے رشتے دار بھی تھے، سب حالات جانتے تھے،
فرح کا شوہر بہت خوش تھا، فرح روتے دھوتے سادگی سے رخصت ہو گئی،
عنایہ اب فرح کے بغیر تنہائی محسوس کرنے لگی،
ارسل کی شادی کی تیاریاں عروج پر تھیں، فرح کو شامل ہونے کی اجازت نہ تھی،
گھر مہمانوں سے بھر گیا تھا،
عنایہ افسوس کرتی کہ فرح بھائی کی شادی میں شرکت نہیں کرسکے گی،
فرح عنایہ کو روز فون کرتی کہ وہ خود بھی بھائی کی اس شادی میں شامل نہیں ہونا چاہتی،
عنایہ رات کو لیٹی تو اسے فرح کی باتیں یاد آنے لگیں کہ اس نے بھائی کو بہت کہا کہ وہ اس شادی سے انکار کر دے مگر وہ نہ مانا،
کہنے لگا کہ میں والدین کے خواب نہیں توڑ سکتا،
ارسل نے والدین کو فرح کو اور اس کے سسرالیوں کو انواہیٹ کرنے پر راضی کر لیا،
باپ اس شرط پر راضی ہوا کہ وہ فرح سے کلام نہیں کرے گا،
عنایہ فرح کے آنے سے بہت خوش ہوئی اس کے سسرال والوں نے اسے شادی تک رکنے کی اجازت دے دی،
جوں جوں شادی کے دن قریب آتے گئے عنایہ کی اداسی بڑھتی گئ، ارسل سب سے عنایہ کی تعریفیں کرتی نہ تھکتی، سب اس کے حسنِ اخلاق کی تعریف کرتے،
فرح بہت خوش تھی اسے اچھا جیون ساتھی اور پیار کرنے والے سسرالی ملے تھے، وہ سوچتی فرح نے اس رشتے سے جان چھڑوا کر اس کی زندگی سنوار دی ایک اچھے جیون ساتھی کا انتخاب کر کے، مگر وہ اس کے لئے کچھ بھی نہیں کر پا رہی ہے،
فرح موقع پا کر باپ کے پاس کمرے میں چلی گئ باپ نے اس سے کوئی بات نہ کی،
فرح نے کہنا شروع کردیا کہ وہ بھائی کی زندگی برباد نہ کریں اسکا ایک بچہ بھی ہے ساری تفصیل اس نے باپ کو بتائ،
باپ نے سپاٹ لہجے میں کہا کہ میری اجازت کے بغیر اس نے اتنا بڑا قدم اٹھایا تم نے اپنی مرضی کی اب اس کی سزا یہی ہے کہ وہ یہ شادی کرے گا شکر کرو میں اس کی بیوی کو گھر سے جانے کا نہیں کہہ رہا،میں جانتا تھا فون سن لیاتھا،
اگر تم نے اس شادی میں رکاوٹ ڈالی تو میں اپنے آپ کو ختم کر لوں گا ساتھ میں تمھاری ماں کو بھی ختم کر لوں گا،
فرح حیرت اور بے بسی سے انکا چہرہ دیکھنے لگی، ہارے ہوئے جواری کی طرح کمرے سے باہر آ گئ،
اس نے بچپن سے قصہ سنا تھا کہ ان کی بہن نے جاہیداد میں سے حصہ مانگا تھا تو اس کو انہوں نے حصہ دے کر ہمیشہ کے لیے گھر سے اور اپنے رشتے سے ناطہ توڑ لیا تھا،
شادی میں چند دن باقی تھے گھر میں ڈھولک بج رہی تھی، عنایہ سے یہ سب برداشت کرنا مشکل ہو رہا تھا اسے ارسل کی جدائی اور کسی اور کا ہو جانا تڑپا رہا تھا وہ رونے لگی اور ہچکی بندھ گئی،
فرح کمرے کے قریب آئ تو اندر سے اسے عنایہ کی سسکیوں کی آوازیں سنائی دی،
فرح نے سوچا کاش وہ شادی کر لیتی اور بھائی کو بچا لیتی اس طرح والدین کے خواب تو کچھ بچ جاتے، مگر اب کیا کر سکتی ہے ہر کوشش کر کے دیکھ لی،
عنایہ نے موبائل میں پرانی سم ڈالی اور بھابھی کا نمبر ملا دیا،
ادھر بھابھی نے نمبر دیکھا اور خوشی سے بھاگتی شوہر کے پاس گئی اور سپیکر آن کر کے جلدی سے بولی عنایہ میری جان کدھر ہو ہم ڈھونڈ ڈھونڈ کر پاگل ہو گئے تھے،
بھائی نے کہا بیٹا جلدی بتاو کدھر ہو ٹھیک ہو میں لینے آ رہا ہوں میں نے تو وقتی غصے میں کہا تھا،
عنایہ نے روتے ہوئے تفصیل بتا دی،
بھائی نے کہا ٹھیک ہے ہم تمہیں لینے آ رہے ہیں اگر تم ان کو سچائی نہیں بتانا چاہتی تو تم ہم پر بھاری نہیں ہو،تم لوکیشن سینڈ کر دو،
فرح نے لوکیشن سینڈ کر دی تو تھوڑی دیر بعد بھائی کا فون آ گیا حیرت سے بولا کہ یہ تو ہمارے ماموں کے گھر کا ایڈریس ہے، میں اکثر پاپا اور ماموں جب موجود نہیں ہوتے تھے تو ممانی بتا دیتی تھیں اور نانو سے ملنے آتا تھا جب نانو فوت ہو گئ تو تب آنا بند ہو گیا میں اس وقت ٹین ایج میں تھا، کیا تم ماموں کی بہو ہو جنہوں نے ہماری ماں سے جھگڑا کیا اور ماں کا داخلہ بند رکھا، تمہیں اب میں ادھر نہیں رہنے دوں گا ان سے طلاق دلواوں گا تم تیار رہو میں آ رہا ہوں،
عنایہ پریشان ہو گئ وہ ارسل کے نام پر ہی زندگی بتا دینا چاہتی تھی وہ تو اس سے پیار کرتی تھی اس سے جدائی سہنا اس سے ہمیشہ کے لیے دور ہونا نہیں چاہتی تھی،
فرح کمرے میں آئی تو عنایہ نے اسے ساری بات بتا دی وہ بھی پریشان ہو گئ،
بھائی آیا اور آ کر ماموں سے لڑنے لگا، سب کو سچائی کا علم ہو گیا، فرح کی ماں خوشی سے پوتے کو چومنے لگی اور عنایہ کو پیار کرنے لگی ارسل بھی باپ کو سمجھانے لگا کہ پاپا پلیز اس شادی کو روک دیں ورنہ ہم برباد ہو جاہیں گے میرا بچہ مجھ سے دور ہو جائے گا، ماں بھی بولی مجھے زارا جیسی بہو نہیں عنایہ جیسی بہو چاہیے،
ارسل نے کہا کہ زارا کو اور اچھا رشتہ مل جائے گا، مگر اسکا باپ بولا میں کسی باپ کی عزت کا جنازہ نہیں نکال سکتا، جس کی بیٹی کی شادی میں چند دن باقی رہ گئے ہوں،
ایک رشتے دار نے کہا تم اپنے بچوں کی زندگی برباد نہ کرو میں زارا کو بہو بنانے کو تیار ہوں اپنے خاندان کی بچی ہے،
عنایہ کا باپ ماموں کو سنانے لگا کہ آپ نے ساری زندگی میری ماں اور نانی کو تڑپایا ہے آپ اتنے لالچی تھے کہ بہن کو حصہ نہیں دینا چاہتے تھے،
ارسل کا باپ غصے سے بولا تم مجھے لالچی بولتے ہو تم سچائی نہیں جانتے، تمھارا باپ گھٹیا، لالچی اور کمینہ انسان تھا، سچائی سننا چاہتے ہو تم آج سارے خاندان کو بھی علم ہو جائے کہ میں کتنا مجبور تھا اس گھٹیا انسان کے آگے،
عنایہ کا بھائی غصے سے بولا آپ میرے باپ کی توہین کر رہے ہیں، بتائیں کیا گھٹیا پن تھا ثبوت بتائیں،
ارسل کا باپ بولا تمھارا باپ غریب تھا دولت کے لیے تمھاری ماں کو پیار کے جال میں پھنسا کر نکاح کر لیا، پھر اس کو بلیک میل کرتا رہا کہ وہ تمھاری پکچرز واہرل کر دے گا جسے اپنی بیوی کی عزت پیاری نہ تھی وہ کچھ بھی کر سکتا تھا، میں بھی مجبور تھا مگر اس کی دھمکیوں میں نہ آتا تھا مگر تم پیدا ہو چکے تھے بہن مجبور کرنے لگی کہ میرے بچے کا باپ ہے، آپ جاہیداد سے حصہ دے دیں میں اسے پولیس کے حوالے کرنا چاہتا تھا مگر بہن نہیں مانتی تھی میں نے کہا کہ میں تمہیں جاہیداد دینے کو تیار ہوں اس صورت میں کہ اسے پولیس کے حوالے کروا کر تمہیں خلہ دلوا دوں، مگر وہ نہ مانی کہ تمھاری بہن کی پیدائش بھی ہو چکی تھی وہ صابر عورت تھی شوہر پرست تھی، اپنے بچوں کے سر سے باپ کا سایہ نہیں چھیننا چاہتی تھی، میں اس سے ناراض ہو گیا اور شرط رکھ دی کہ اگر تم اسے نہیں چھوڑو گی تو میں ناطہ توڑ لوں گا اور ماں سے بھی ملنے نہیں دوں گا، اس نے مجھ پر شوہر کو ترجیح دی،میرے پاس تمھارے باپ کی دھمکیوں کی ریکارڈنگ موجود ہے اگر تم کہو تو دیکھا،،،،،،
عنایہ کے بھائی نے ہاتھ کے اشارے سے منع کر دیا اور چکرا کر سر پکڑ لیا،
ارسل نے بڑھ کر سہارا دیا اور اسے کرسی پر بٹھایا اور فرح سے بولا پانی لے آو،
اتنے میں ارسل کے باپ کا موبائل بجا اور کسی رشتے دار نے بتایا کہ زارا کا بھائی کسی نومان نامی شخص کے ساتھ اسمگلنگ کے جرم میں پکڑا گیا ہے، ارسل نے نومان کے نام سے حیرت سے عنایہ کو دیکھا، عنایہ کا بھائی بولا یہ نومان وہی ہو گا کمبخت جس سے عنایہ کی منگنی کی تھی، بعد میں اس کی اصلیت پتا چلی تو شکر کیا کہ عنایہ بچ گئی مگر عنایہ کے لیے پریشان تھا میں نے عنایہ کو بہت تلاش کیا، بھابھی بولی چلو عنایہ بیٹا گھر چلو،
ارسل کے باپ نے کہا عنایہ کا یہ گھر ہے، اور اب میں عنایہ کی شادی دھوم دھام سے ارسل سے کروں گا بشرطِ زارا کو ابھی بھی کوئی اپنا لے اسکا بھائی گناہگار ہے وہ تو محصوم ہے،
رشتے دار عورت بولی دراصل میرا بیٹا زارا سے شادی کرنا چاہتا تھا مگر،،،،،
ارسل کا باپ بولا اگر مگر کچھ نہیں میں ابھی برگیڈیر صاحب کو فون کر کے حالات معلوم کرتا ہوں اور سچویشن بتاتا ہوں،
ارسل بولا پاپا میں جاتا ہوں ان کے پاس،
عنایہ کا بھائی بولا ٹہرو میں بھی چلتا ہوں،
عنایہ کا بھائی ارسل کے باپ کے پاس آیا اور معزرت کرتے ہوئے بولا ماموں جان مجھے معاف کر دیں میں نے آپ کے ساتھ گستاخی کی،
ارسل کے باپ نے اسے گلے لگا کر کہا تم میرے بھانجے ہو، میں جانتا تھا کہ تمھاری ماں میری غیر موجودگی میں اپنی ماں سے ملتی ہے اس بات کی گواہ میری بیوی ہے اسے میں نے سختی سے ہدایت کی تھی کہ میرا کھبی نہ بتانا اور میں بزنس ٹور پر جاوں تو اسے خفیہ طور پر بلا لینا تاکہ ماں بیٹی مل سکیں،
سب کے چہرے کھل گئے تھے عنایہ بھابھی کے پہلو میں بیٹھی ہوئی تھی فرح نے خوشی سے عنایہ کو دیکھا، وہ مسکرا دی اور دونوں گلے ملنے لگیں،
زارا کے بھائی کو ضمانت پر رہا کرا دیا گیا اس کی اس کے ساتھ صرف دوستی تھی وہ کسی برے کام میں ملوث نہ تھا، زارا کا رشتہ بھی طے ہو گیا،
عنایہ آج دولہن بنی اپنے کمرے میں ارسل کے پہلو میں بیٹھی باتیں کر کے اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کر رہی تھی، دونوں بہت خوش تھے، اپنے رب کے کرم پر،
ختم شد،
شعر،
قبضہ دل تم سے چھڑانا ہے
دل کا مالک خود کو بنانا ہے
بن مول اس میں رہتے ہو
اب مول اس کا لگانا ہے،
ناول اختتام پذیر ہوا
You've reached the end of this journey. We hope you enjoyed it!

Reader Comments
Be the first to leave a comment on this episode!
Log in to leave a comment.