Pyar Ka Idraak
عنایہ چیخ کر بولی،تمھاری جرآت کیسے ہوئی ادھر آنے کی جبکہ میں تمھاری شکل بھی نہیں دیکھنا چاہتی ہوں
ارمان مکارانہ مسکراہٹ سے بولا ڈارلنگ ساری زندگی میری ہی شکل تو تم نے دیکھنی ہے، جلد ہماری شادی ہونے والی ہے اب تم پڑھائی سے فارغ ہو چکی ہو چند دنوں تک میرے والدین تمھارے بھائی کے پاس شادی کی ڈیٹ فکس کرنے آنے والے ہیں،
عنایہ غصے سے بولی تم سے شادی کرنے سے بہتر ہے کہ میں خودکشی کر لوں، نہ جانے میرے بھیا اور بھابھی کو تم میں کیا خوبی نظر آتی ہے کہ تم کتنی منگنیاں توڑ چکے ہو،پھر بھی انہیں تم میں کوئی خرابی نظر نہیں آتی،
ارمان سینے پر ہاتھ رکھ کر بولا ارے میری جان تمہیں سب سچ بتا دوں گا جب شادی کی ڈیٹ فکس ہو گی،آج گھر میں کوئی نہیں ہے، تمھارا چوکیدار بھی میرے لالچ میں آ چکا ہے، تمھارے بھائی، بھابھی لیٹ واپس آہیں گے آج میرے پاس بہت وقت ہے،
وہ اس کی طرف لپکا تو عنایہ کو اس کے ارادے ٹھیک نہ لگے، اس نے فوراً تیزی سے گیٹ کی طرف بھاگنا شروع کر دیا، وہ گیٹ پر پہنچی تو چوکیدار بابا نے اسے میز کے نیچے چھپنے کا کہا اور میز پر چادر ڈال کر اوپر چاے کا کپ رکھ دیا،
ارمان اسے تلاش کرتا ہوا باہر آیا تو چوکیدار نے اسے پریشانی سے کہا صاحب جلدی کریں ادھر بھاگی ہے، وہ تیزی سے باہر نکل کر اپنے کمرے کی طرف بھاگی اور اندر سے کنڈی لگا لی، حواس کچھ بحال ہوئے تو اس نے بیگ میں ضروری سامان، اپنے ڈاکومنٹس ڈالے اور لباس بدل کر ایک بڑی چادر اوڑھ کر کھڑکی کے راستے لان میں گئ وہ اب چوکیدار پر بھی بھروسہ نہیں کرنا چاہتی تھی حالانکہ ابھی اس نے اس کی مدد کی تھی مگر ارمان نے بتایا تھا کہ اس نے اسے خرید لیا ہے،
وہ لان کے پیچھلی طرف سے بیگ اٹھاے ماسک پہنے کچے راستے پر احتیاط سے جا رہی تھی، اسے ایک گاڑی آتی نظر آئی وہ دل میں ورد کرتی اسے ہاتھ کے اشارے سے روکنے لگی،
گاڑی فوراً رک گئی،
عنایہ نے اسے دیکھا پیچھے اسے ارمان اپنی طرف آتا نظر آیا تو اس نے کہا پلیز مجھے اس شخص سے بچا لیں،
ارسل تیزی سے گاڑی سے اترا،
ارمان نے آتے ہی عنایہ کو بازو سے پکڑ کر کہا بھاگتی کہاں ہو، تم نے سمجھا میں پہچان نہ سکوں گا،
عنایہ چلا کر اس اجنبی شخص سے مدد کے لیے پکارنے لگی،
ارسل نے اسے چھڑوانا چاہا تو ارمان اسے دھکا دے کر بولا تم بیچ میں مت آو یہ ہم دونوں میاں بیوی کا معاملہ ہے،
عنایہ چلا کر بولی یہ جھوٹ بول رہا ہے میں اس کی بیوی نہیں ہوں،
ارمان بڑے پیار سے بولا جان مانتا ہوں تم جلدی ناراض ہو جاتی ہو مگر دیکھو کہا نا کل تمھیں شاپنگ پر لے جاوں گا کیوں اس بے چارے اجنبی کو کنفیوز کر رہی ہو،
ارمان ارسل کی طرف مکارانہ مسکراہٹ سے بولا یار جب یہ ناراض ہوتی ہے تو ایسے ہی ڈرامے کرتی ہے تم جاو پلیز اپنا وقت برباد مت کرو، ابھی منا لوں گا اسے،
عنایہ نے اسے باتوں میں مگن دیکھ کر جھٹ دروازہ کھول کر گاڑی میں بیٹھ کر گاڑی لاک کر کے اسٹارٹ کر کے آگے لے گئی،
پھر دور سے اجنبی کو ہاتھ سے بلانے لگی،
ارسل تیزی سے گاڑی کی طرف بھاگا ساتھ ہی ارمان بھی بھاگا،
ارسل گاڑی کے قریب پہنچ کر دروازہ کھول کر اس میں بیٹھنے لگا تو ارمان نے اسے دھکا دے کر گاڑی میں بیٹھنے لگا تو عنایہ نے پاس پڑی پانی کی بوتل اس کی ناک پر زور سے ماری تو وہ درد سے کراہ اٹھا اتنے میں ارسل نے اسے کھینچ کر گاڑی سے باہر کھینچا اور اسے دھکہ دے کر جلدی سے اس میں بیٹھ گیا،
عنایہ نے جلدی سے گاڑی چلا دی،
ارمان ناک پکڑے خون بہتے کھڑا دیکھتا رہ گیا،
اور گاڑی اس کی نظروں سے اوجھل ہو گئی،
عنایہ رو رہی تھی کافی آگے جا کر ارسل نے کہا، پلیز آپ مجھے گاڑی چلانے دیں، وہ تیزی سے اتر کر پیچھے بیٹھ گئ،
ارسل نے کہا میرا نام ارسل ہے اور آپ کو کس نام سے پکاروں،
عنایہ نے آنسو بہاتے ہوئے کہا میرا نام بدنصیب عنایہ ہے،والدین کا ابھی چند ماہ پہلے ہی انتقال ہوا ہے ایکسیڈنٹ میں،
دونوں کے جاتے ہی بھائی سے بزنس سنبھالا نہیں گیا تو ارمان کمبخت نے میرے بھائی اور بھابھی کو بزنس میں مدد کی اور بہت سبز باغ دیکھاے، ان کو خوب شیشے میں اتارا اور جواب میں میرا رشتہ مانگ لیا،
اتفاق سے میں نے ایک کالج فیلو کی شادی پر ارمان کو وہاں دیکھا جو لڑکیوں کے آگے پیچھے پھر رہا تھا اس کے بارے میں پتا چلا کہ وہ بلیک میلر ہے، لڑکیوں سے منگنی کر کے ان کی پکچرز وغیرہ کے زریعے بلیک میل کر کے پیسے بٹور کر منگنی توڑ دیتا ہے،مگر بھیا اور بھابھی اس کو اپنا ہمدرد سمجھتے ہیں، آج وہ لوگ گھر پر نہیں تھے تو اس نے مجھے بھی ٹارگٹ کرنا تھا، مگر میں بھاگنے میں کامیاب تو ہو چکی ہوں اس سے تو بچ گئ اب نہ جانے قسمت میں آگے کیا لکھا ہے میں اب گھر بھی نہیں جانا چاہتی، کہاں جاوں اگر خودکشی حرام نہ ہوتی تو میں کر چکی ہوتی، آپ،،،
اس کی ہچکی بندھ گئی اور بات نہ نکل سکی وہ ہچکیوں سے رونے لگی،
ارسل نے ٹشو کا ڈبہ اسے پکڑا کر کہا کہ اب آپ محفوظ ہاتھوں میں ہیں فکر نہ کریں، میں آپ کی رکھوالی کروں گا،
عنایہ گلے بھرے انداز سے دیکھتی ہوئی بولی کیا آپ کی فیملی مجھے قبول کر لے گی یا یقین کر لے گی،
ارسل کچھ سوچتے ہوئے بولا میں اس حقیقت کو بھی نظر انداز نہیں کر سکتا کہ میری فیملی کو آپ کے لئے منانا مشکل ہے، میں آپ سے نکاح کر کے ہمیشہ کی عزت دینا چاہتا ہوں،
عنایہ جزباتی ہو کر بولی پلیز مجھے نوکرانی بنا کر رکھ لیں پر پلیز آج ہی مجھ سے نکاح کر لیں، میں کسی نامحرم کے ساتھ رات بسر نہیں کرنا چاہتی، میرا کوئی سہارا نہیں،
ارسل نے ایک لمبی سانس بھری اور کہا کہ عورت ہی کھبی مجبور نہیں ہوتی کھبی مرد بھی بے بس ہو جاتا ہے،
دراصل میں نے اپنی شادی کا فیصلہ والدین پر چھوڑا تھا اور ماما نے اپنی بھانجی سے میرا رشتہ طے کر دیا ہے جو ماما کی سگی بہن نہیں ہے بلکہ کزن ہے، دونوں فرینڈز بھی ہیں، اب بتاو میرا ایک فلیٹ بھی ہے جو گھر والوں نے عارضی طور پر لیا تھا پھر گھر نیا تعمیر کیا اور وہاں شفٹ ہو گئے ہیں، میرا آفس ادھر سے نزدیک تھا تو پاپا نے تجویز دی کہ وہ فلیٹ ارسل کو دے دیا جائے تاکہ اسے آفس نزدیک پڑے، اور میں ویک اینڈ پر گھر جاتا ہوں، اگر آپ کو اعتراض نہ ہو تو میں آپ سے خفیہ نکاح کر کے ادھر رکھ سکتا ہوں جب تک ممکن ہوا اسے راز میں رکھیں گے جب راز نہ رہا تو اوپن کر دیں گے مگر میں والدہ کا دل ان کے ارمانوں کو نہیں بھول سکتا جو خواب ان کی آنکھوں نے دیکھے ہیں، مجھے ان کی بھانجی سے بھی شادی کرنی پڑے گی مگر میں آپ کے حقوق بھی پورے کروں گا اور اس کے بھی،
عنایہ نے کہا مجھے منظور ہے بس مجھے شیلٹر چاہیے، میں کھبی آپ سے کچھ نہیں مانگوں گی کوئی حق نہیں جتاوں گی، آپ دونوں کے درمیان نہیں آوں گی،
ارسل نے وقت دیکھا اور اپنے ایک دو دوستوں جو کزن بھی تھے سب حالات بتائے اور انہیں نکاح کے گواہ بننے کے لیے بلایا،
عنایہ قسمت کے اس کھیل پر حیران تھی، عنایہ نے بھائی کو میسج کر دیا کہ وہ اپنی مرضی سے نکاح کر رہی ہے اور اب اسکا ان سے کوئی واسطہ نہیں،
بھائی کا میسج آیا وہ بھی اب ان کے لیے مر گئ ہے دوبارہ اپنی شکل مت دیکھانا، یہ پڑھ کر عنایہ نے فون آف کر دیا،
عنایہ لیٹی چھت کو دیکھ رہی تھی اور سوچوں میں گم تھی، پاس ارسل سکون سے سو رہا تھا اسے نیند ساری رات نہ آئی تھی، وہ سوچ رہی تھی کہ گھر سے بھاگتے وقت اسے فکر تھی کہ کہاں جائے گی باہر تو انسان کے روپ میں بھیڑیے بیٹھے ہوئے ہیں، مگر سچ ہے پانچوں انگلیاں برابر نہیں ہوتی ہیں، ارسل جیسا اچھا انسان اس کی قسمت میں لکھا تھا، کتنی عزت دی اس نے، نکاح کے بعد اس کے دوستوں نے کہا کہ تم لوگ جاو فریش ہو جاو ہم کھانا لے کر آتے ہیں،
فلیٹ فل فرنیشڈ تھا، ارسل نے کہا کہ تم فریش ہو جاو،
وہ اپنے بیگ سے کپڑے نکال کر تیار ہو گئی،
ارسل بھی ٹراوزر اور ٹی شرٹ پہن کر آ گیا، اتنے میں ارسل کے دوست مٹھائی کے ٹوکرے اور کھانے اور بوکے سمیت داخل ہوئے،
عنایہ کچن میں کھانا سرو کرنے آئی تو اس کے دوستوں نے بٹھا دیا اور کہا ابھی آپ نئ نویلی دولہن ہیں کام نہ کریں کھانے کے بعد آپ چاے ٠پلا دیجئے گا، ہم کھانا سرو کرتے ہیں،
انہوں نے بڑی عزت اور خلوص سے اسے سلامی بھی دی اور کہا کہ آپ کا گفٹ ادھار رہا، اس کے بارے میں تعلیم کے بارے میں پوچھا تو بہت متاثر ہوئے کہ وہ تو آرکیٹیکٹ تھی، انہوں نے ارسل کو مشورہ دیا کہ بھابھی کو جاب کرنے دے تاکہ ان کا ٹیلنٹ بھی ضائع نہ ہو اور انکا دل بھی لگا رہے، ایک دوست نے انکل کی کمپنی میں جاب کی پیشکش بھی کر دی،
ارسل نے کہا کہ وہ بھی ایسے ہی سوچ رہا ہے، کہ عنایہ کے لیے یہی بہتر رہے گا،
سب چاے پی کر خوشی خوشی رخصت ہوئے اور ارسل کو کہنے لگے کہ بھابھی ہیرا ہے، اس کی قدر کرنا زندگی میں کوئی دکھ نہ دینا آج سے یہ ہماری بہن ہے اور ہم تمہیں سالے بن کر ملیں گے اگر ہماری بہن کو زرا بھی تکلیف دی تو،
عنایہ نے انکا بہت شکریہ ادا کیا اور کہا کہ مجھ سے ایک بھائی چھوٹا تو اللہ تعالیٰ نے مجھے دو بھائی عطاء کر دیے، اور ایک اچھا جیون ساتھی بھی دے دیا،
عنایہ کو ارسل نے منہ دکھائی ایک خوبصورت انگوٹھی بھی دی جو اس نے ماں کے کہنے پر اپنی شادی کے لئے خریدی تھی، جو عنایہ کو ساہز میں پوری تھی،
عنایہ نے فجر کی نماز پڑھی اور رو رو کر اپنے رب کی عنایتوں کا شکر ادا کیا پھر اس کی آنکھیں بوجھل ہونے لگیں،
ارسل نے کروٹ لیتے دیکھا تو وہ فجر کی نماز میں مگن تھی،
عنایہ نماز کے بعد سکون سے سو گئی، ارسل نے پیار سے اسے دیکھا اور دعا کی کہ کاش اس کے درمیان کوئی نہ آئے، پھر سانس بھر کر دکھ سے سوچتا رہ گیا کہ وہ کچھ نہیں کر سکتا، اس نے اپنی منگیتر کو کھبی اہمیت نہ دی تھی اس کا ماننا تھا کہ منگنی کی وجہ سے وہ اس کے ساتھ کوئی رابطہ نہیں رکھے گا اگر منگنی ٹوٹ جائے تو شرمندگی ہوتی ہے، اس لیے وہ اس سے فالتو بات ہی نہیں کرتا تھا، اس نے کھبی کسی لڑکی کو نظر بھر کر نہیں دیکھا، کالج، یونیورسٹی میں بھی اسی ڈگر پر رہا، وہ دوستوں کو بھی منع کرتا تھا وہ کہتا تھا جب میری کسی لڑکی پر نظر پڑے تو مجھے اس میں اپنی بہن کا چہرہ نظر آتا ہے، وہ جوان کزنز کو بھی بیٹے کہہ کر پکارتا تھا، یا بہنا کہہ دیتا تھا،
ارسل اور اس سے ایک سال چھوٹی بہن فرح ارشد صاحب کی اولاد تھے جو فوجی بریگیڈیئر ریٹائرڈ تھے،اانہوں نے بچوں کو اعلیٰ تعلیم دلائی، ارسل انجنیئر تھا اور فرح ڈاکٹر تھی،
فرح کا رشتہ رشتے کی خالہ کے گھر ہوا تھا جبکہ خالہ کی بیٹی کا ارشد صاحب کے بیٹے ارسل کے ساتھ طے پایا تھا،
ارشد صاحب نے یہ رشتہ اس وجہ سے بھی قبول کیا تھا کہ خالہ کا شوہر بھی انکا کزن تھا،
ان کی اولاد انکا غصہ جانتی تھی اور فرمانبردار بھی تھی
ارشد صاحب اپنی بات کو منواتے تھے غصے کے تیز تھے، سب گھر والے ان سے ڈرتے تھے، بیوی بھی سادہ طبیعت کی مالک تھی، ان کی کسی بات سے اختلاف سے اختلاف نہیں کر سکتی تھی،
فرح ڈاکٹر تھی جبکہ اسکا منگیتر نومان بی اے تھا، اس کی بہن زارا ایم اے تھی جس پر وہ بہت اتراتی تھی،
زارا کو ماں باپ نے بہت سر چڑھا رکھا تھا، زارا
کا باپ بھی بریگیڈیئر ریٹائرڈ تھا اس وجہ سے بھی ارشد صاحب کی اس سے بنتی تھی،
ارسل نے جب فرح کو فون پر تمام تفصیل بتائی تو وہ بہت پریشان ہوئی اسی وقت گاڑی چلا کر فلیٹ پہنچ گئی،
عنایہ سے ملکر فرح بہت خوش اور مطمئن ہو گئی، اس نے ارسل سے کہا دیکھو بھائی، عنایہ میں وہ سب خوبیاں موجود ہیں جس کی میں بہن کے ناطے بھابھی میں دیکھنا چاہتی تھی، کاش تمھاری منگنی نہ ہوئی ہوتی تو کتنا اچھا ہوتا،
عنایہ کی جاب لگ گئی، وہ جاب پر جاتی اور دوپہر تک واپس آ جاتی، اس کے منہ بولے بھائی کا آفس تھا وہ اس کو کافی فیور دیتا کیونکہ پرائیویٹ فرم تھی اور شروع میں عنایہ کو کام کی دقت تھی اس نے پہلی بار جاب کی تھی کچھ غلطیاں بھی کرتی تو وہ لوگ گاہیڈ کر دیتے،
ارسل عنایہ سے بہت خوش تھا ادھر فرح اور عنایہ میں دوستی ہو چکی تھی، فرح نے گھر میں اعلان کر دیا کہ اس کی نئی دوست بنی ہے ہاسپٹل میں ملی تھی، اس کے والدین فوت ہو چکے ہیں اور صرف میاں ہے وہ بھی باہر ملک چلا گیا ہے وہ اکیلی رہتی ہے، میرا دل کرتا ہے اسے اپنے گھر رکھ لوں جب تک اسکا شوہر واپس پاکستان نہیں آتا،
ماں باپ سے بمشکل اجازت مل چکی تھی کیونکہ عنایہ شادی کے دس ماہ بعد ہی ایک خوبصورت بیٹے کی ماں بن چکی تھی اور فرح نے ہی اسے اپنے ہاسپٹل میں رکھا تھا، اب وہ بھتیجے اور بھابھی کو کسی طرح اپنے گھر میں لانا چاہتی تھی تاکہ وہ اس کے زریعے گھر میں اس کی جگہ بنا سکے، کیونکہ ارسل کا آفس اس کے گھر کے قریب شفٹ ہو گیا تھا اور گھر والے اسے فلیٹ بیچنے پر مجبور کر رہے تھے،
ارسل کی عنایہ اور بچے کے ساتھ پرسکون اور خوشگوار زندگی گزر رہی تھی اس کے دوست اسے مشورہ دیتے کہ وہ منگنی توڑ دے اور اپنی شادی اوپن کر دے کیونکہ اب بچہ بھی ہو چکا تھا،
اس کے برعکس عنایہ اسے اپنی قسمیں اور محبت کا واسطہ دے کر منع کرتی تھی کہ وہ بچے کے سہارے اور ارسل کے نام کے سہارے زندگی بسر کر لے گی مگر ارسل کے والدین کو ہرٹ نہیں ہونے دے گی نہ ہی زارا کے خواب ٹوٹنے دے گی جو اس نے ارسل کے حوالے سے دیکھے تھے، وہ جتنا ممکن ہو سکا اس رشتے کو چھپانے کی کوشش کرے گی اور کوئی حق نہیں مانگے گی نہ ہی ارسل اور زارا کے درمیان آئے گی،
فرح حیران تھی کہ زارا کے والدین نے شادی ایک سال کے لئے ڈیلے کر دی تھی، اب سال پورا ہو چکا تھا،
عنایہ فرح کے ساتھ گھر داخل ہوئی ارسل ساتھ چھوڑنے آیا تھا، بچہ ارسل نے اٹھایا ہوا تھا،
فرح نے اپنے ساتھ اسے اپنے کمرے میں رکھنا چاہا تھا مگر اچانک ارشد صاحب نے عنایہ کے ساتھ بدلحاضی دیکھاتے ہوے اس کے سلام کا جواب بھی بے رخی سے دیا جبکہ ماں اسے اچھے طریقے سے ملی بچے کو پیار کیا،
ارشد صاحب نے آرڈر سنا دیا کہ وہ سرونٹ کوارٹر میں رہے گی،
فرح کے ساتھ سب نے حیرت سے دیکھا،
ارشد صاحب نے وجہ یہ پیش کی کہ ارسل اور فرح کی شادی ہونے والی ہے مہمانوں کے لیے پہلے ہی رومز کم ہیں،
فرح نے غصے اور دکھ سے احتجاج کرتے ہوئے کہا کہ وہ ایک پڑھی لکھی آرکیٹکٹ ہے معزر خاندان سے ہے، امیر شوہر کی بیوی ہے پھر ہم کیسے اسے ملازموں کے ساتھ رکھ سکتے ہیں، وہ غصے سے اندر جا کر رونے لگی،
عنایہ نے کہا فرح جان اگر مجھے اس گھر کے سرونٹ کوارٹر میں بھی جگہ مل جائے تو میں اسے اپنے اور بچے کی خوش نصیبی سمجھوں گی،
ارسل نے بھی پریشان ہو کر کہا فرح ابھی بابا جانی کی بات مان لو دیکھنا سب کچھ ٹھیک ہوتا جائے گا،
عنایہ نے ارسل سے کہا کہ اسکا سامان سرونٹ کوارٹر میں رکھوا دیں،
سرونٹ کوارٹر کا آخری کمرہ جسکا باتھ اٹیچ تھا اسے دے دیا گیا،
فرح نے کھانا کھانے سے انکار کیا تو عنایہ نے اسے فون کر کے سمجھایا کہ وہ اپنی وجہ سے گھر کا ماحول خراب نہیں کرنا چاہتی تو پلیز میری فیور میں مت بولو ورنہ انکل مجھے یہاں سے جانے کا بھی کہہ سکتے ہیں، پھر کیا کریں گے شکر ہے ادھر بھی رہنے دیں،
سب گھر والے حیران تھے کہ اچانک ارشد صاحب کے رویے کو کیا ہوا ہے، انہوں نے اسے کھانا بھی سرونٹ کوارٹر میں بھجوایا،
زارا کے گھر والے اب شادی پر زور دینے لگے، فرح بھائی کو سمجھاتی کہ تم انکار کر دو یا مجھے بتانے دو مگر عنایہ اور ارسل نے اسے سختی سے منع کر دیا،
فرح کو بہت غصہ آتا یہ دیکھ کر کہ عنایہ گھر میں آفس سے آ کر کچن کا کام سنبھال لیتی اور نوکروں کی طرح کام میں جتی رہتی، ارشد صاحب اسے مخاطب بھی نوکر کی طرح کرتے، اس کے بچے کے رونے پر چلاتے، فرح بھاگ کر اسے سنبھال لیتی، کیونکہ عنایہ تو کام میں مصروف ہوتی، اگر کھبی ارسل آ کر بچے کو پیار کرتا یا اٹھاتا تو ارشد صاحب اسے ڈانٹ دیتے،
عنایہ کا حلیہ بھی ملازموں والا ہوتا اسے اپنے آپ کی فکر ہی نہ رہی، آفس بھی سادہ لباس میں جاتی،

Reader Comments
Be the first to leave a comment on this episode!
Log in to leave a comment.