Logo
Ham Ne Dil Ko Behla Lia
10 Episodes
Ham Ne Dil Ko Behla Lia EP 3
Episode 3

ہم نے دل کو بہلا لیا3

Ham Ne Dil Ko Behla Lia

تیسرا حصہ - Part 3


عمرہ کو اب سوزوکی والے سے ڈر محسوس ہو رہا تھا اس نے بیگ کو مضبوطی سے پکڑ لیا.

بائک والے مڑ کر جا رہے تھے. سوزوکی والے نے اسکا بیگ چھیننے کی کوشش کی۔ عمرہ نے زور زور سے ہیلپ ہیلپ کہہ کر چلانا شروع کر دیا.

بائک والے فوراً مڑے انہیں واپس آتا دیکھ کر سوزوکی والا بھاگنے لگا تو ایک لڑکا اتر کر تیزی سے اسے پیٹنے لگا.

دوسرے لڑکے نے اسے چلا کر کہا، 

"شانی یار چھوڑ دفع کر اسے، خون خرابہ کرنے کی ضرورت نہیں ہے."

سوزوکی والا اس سے چھڑوا کر تیزی سے گاڑی چلا کر بھاگ گیا.

عمرہ نے روتے ہوئے ان لڑکوں کو ڈانٹتے ہوئے کہا، 

"پہلے تو بے یارومددگار چھوڑ کر چل پڑے تھے"

ایک لڑکا اسے تسلی دینے والے انداز میں بولا، 

"سسٹر آپ پریشان نہ ہوں. آپ ہماری بہن ہیں"

عمرہ غصے سے بولی، 

"کیسے پریشان نہ ہوں. سوزوکی والے کی بات پر یقین کر لیا آپ لوگوں نے، وہ تین بچوں کا باپ لگ رہا تھا، کیا میں اس کی بیوی نظر آتی ہوں. میری تو ابھی شادی بھی نہیں ہوئی. مجھے کیا پتا آپ لوگوں کا بھی، کیسے بھروسہ کروں. ابھی تو ہیرو بن کر بچانے آ گئے تھے."

جس کو وہ شانی کہہ رہا تھا دوسرے لڑکے سے مخاطب ہو کر بولا، 

"یار سیفی چلو، لوگ جمع ہو رہے ہیں تماشا بن رہا ہے."

اسفند نے کہا، 

"سسٹر آپ بھروسہ کریں میری بھی آپ جتنی ایک بہن ہے. آپ نے جانا کہاں ہے."

اس نے پوچھا.

عمرہ نے جلدی جلدی اپنی سٹوری سنا دی کہ اسکا اب کوئی ٹھکانہ نہیں. اس کی دوست بھی اپنی ماما کے آگے مجبور ہے. انہوں نے نو کری دی تھی کہ وہ ذمہ داری نہیں اٹھا سکتیں. اب میری فرینڈ نے حامی تو بھر لی ہے کہ وہ اسے اپنے روم میں چھپا لے گی. اس کی موم اتنا اس کے روم میں نہیں آتی ہیں.

شانی نے پوچھا، 

"یہ تو عارضی ہے بحرحال یہ میرا فون نمبر رکھ لیں اگر کوئی پرابلم ہو تو بتائیے گا."

اس نے لینے سے انکار کر دیا مگر سیفی نے کہا، 

"بہن لے لیں، یہ بہت اچھا انسان ہے."

عمرہ نے بے دلی سے پکڑ لیا.

سیفی نے کہا، 

"آپ فرینڈ کا ایڈریس تو بتائیں."

جب عمرہ نے ایڈریس بتایا تو شانی اور سیفی نے ایکدوسرے کی طرف دیکھا.

سیفی بولا، 

"سسٹر یہ میرے گھر کا ایڈریس ہے. آپ کی دوست کا نام سحرش تو نہیں."

عمرہ جھٹ جوش اور خوشی سے بولی، 

"جی جی"

شانی نے کہا، 

"یار سیفی تم بائک پر چلو، میں انہیں آٹو میں لے کر چلتا ہوں. پھر کسی طرح تم انہیں سحرش کے روم میں پہنچا دینا."

عمرہ شانی کے ساتھ آٹو میں سمٹ کر بیٹھ گئی. شانی نے ایڈریس بتایا.

عمرہ کو سحرش کا میسج آ گیا. عمرہ نے جلدی سے ساری بات میسج کر دی. سحرش انتظار کرنے لگی.

گھر پہنچے تو سحرش کی موم ناشتہ بنا رہی تھیں. 

شانی ان کے بیٹے کا سکول اور کالج کے زمانے کا دوست تھا. اس گھر میں وہ اکثر آتا جاتا رہتا تھا. شانی سے بڑی ایک بہن تھی جس کی شادی پر سیف کی فیملی بھی انوائیٹ تھی. دونوں ہی بہن بھائی تھے.



شایان عرف شانی کے گھر والوں کو سحرش اور اس کے گھر والے بہت پسند آئے تھے. انہوں نے سحرش کا رشتہ مانگا تو سیف کے گھر والوں نے پہلی بار ہی ان کے آنے پر ہاں کر دی اور سادگی سے رسم ادا کر دی گئی.

سال بعد شادی کا پلان رکھ دیا گیا کہ ابھی ابھی سیف اور شایان پڑھائی سے فارغ ہوئے تھے اور جاب ڈھونڈ رہے تھے.

شانی نے گھر والوں سے کہا کہ وہ سحرش سے فون وغیرہ پر یا کوئی رابطہ نہیں رکھے گا کیونکہ وہ اس کے جگری دوست کی بہن ہے. اس لیے میں نے شادی کے لئے ہاں کر دی.


سحرش کی پڑھائی بھی ختم ہو چکی تھی. اور وہ اب فارغ رہ کر ماں سے گھرداری سیکھ رہی تھی.



آٹو میں بیٹھے ہوئے اچانک زور سے جمپ آیا اور عمرہ کا سر رکشے کے ڈنڈے سے زور سے ٹکرا گیا اور اس کے ماتھے پر گھومڑ سا بن گیا اس نے درد سے ہائے کیا.

شایان آٹو والے کو بری طرح ڈانٹنے لگا. سامنے لگے شیشے میں آئینے میں عمرہ نے دیکھا. ماتھے کے درمیان موٹا سا گھومڑ. عمرہ نے جلدی سے دوپٹے سے پھونک مار کر ہوا دینے لگی.

شایان نے پوچھا، 

"کیا ڈاکٹر کے پاس چلیں."

عمرہ نے انکار کیا، مگر وہ راستے میں ایک کلینک پر رک گیا اور اسکا بیگ اٹھا کر اسے اترنے کا کہا.

آٹو والے سے بولا، 

"ادھر ہی رکو ہم ابھی آتے ہیں." 

اتنے میں سیف کا فون آ گیا کہ کدھر ہو. شایان نے ساری بات بتائی.

سیف نے کہا، 

"امی تمہارا انتظار کر رہی ہیں ناشتہ بنا کر رکھا ہے کہ ابھی ابھی دوبئی سے آئے ہو تو تھکے ہو گے. میں نے بہانہ کیا کہ راستے میں اسکا دوست مل گیا تھا ابھی آ رہا ہے."

کلینک کے اندر گئے تو نرس کھڑی تھی اس نے بتایا کہ ڈاکٹر صاحب ابھی نہیں آئے ہیں.

شایان نے کہا، 

"ان کے ماتھے پر چوٹ لگی ہے."

نرس دیکھ کر اوہو کہہ کر مسکراہٹ دبا کر بولی. 

"یہ کیسے لگی."

شایان کے چہرے پر بھی ہلکی سی مسکراہٹ آ گئی.

عمرہ نے شرمندگی سے کہا، 

'چھوڑیں چلتے ہیں."

نرس بولی، 

"چلیں میں اس پر کچھ لگا کر پٹی کر دیتی ہوں."

اس نے اس کے اوپر کریم لگا دی اور پین کلر دے کر بولی 

"اسے کھا لیں. ناشتہ تو کیا ہوا ہے ناں."

عمرہ بولی. 

"نہیں."

شایان بولا، 

"میں کچھ لے کر آتا ہوں"

وہ باہر نکل گیا اور جوس اور چپس بسکٹ لے آیا کہ یہی ملے ہیں. عمرہ نے ایک بسکٹ اور جوس پی کر پین کلر کھا لی. اسے درد بھی بہت ہو رہا تھا.


سیف کا فون آ گیا 

"یار وہ پھوپھو کی فیملی آ گئی ہے وہ لوگ تو شام تک رکیں گے. سحرش پریشان ہو رہی ہے. میں نے اسے کہا ہے کہ شانی کے والدین عمرے پر گئے ہوئے ہیں۔ اسے کہتا ہوں گھر لے جائے. جب وہ لوگ واپس چلے جائیں تو آ جائے."

اتنے میں سحرش کا فون آ گیا اس نے بھی یہی مسئلہ بتایا.

عمرہ نے روندھی ہوئی آواز میں کہا، 

"ٹھیک ہے اس کے علاوہ اور کیا کر سکتی ہوں."

شایان نے کہا، 

"آپ فکر نہ کریں ہمارے گھر میں ہمارے پرانے وفادار بوڑھے ملازم موجود ہیں میں ان کو سب سچ بتا کر اعتماد میں لے لوں گا."

عمرہ ساتھ چل پڑی، آٹو میں بیٹھتے ہوئے پھر شایان نے اسے تاکید کی کہ آہستہ چلانا. وہ لڑکا سا تھا شیشے میں سے دیکھ کر مسکرا کر سوری بولا.

عمرہ نے بہت کوشش کی کہ اسے چادر میں چھپا سکے مگر وہ نہ چھپ سکا.



شایان کا بہت بڑا اور خوبصورت گھر تھا. عمرہ بہت خوش ہوئی کیونکہ وہ جانتی تھی کہ سحرش کا اس سے رشتہ ہو چکا ہے. فون پر اس نے خوشی سے بتایا تھا. عمرہ نے سحرش کی خوشیوں کی دعا کی.

شایان نے اپنی ملازمہ نورین آپا کو اور اس کے شوہر کو سب سچ بتا دیا تو انہوں نے کہا 

"وہ چاہیں تو ہم اسے اپنی رشتے دار بتا کر اپنے کوارٹر میں ساتھ رکھ سکتے ہیں. ویسے بھی ہم اکیلے رہتے ہیں"

شایان نے عمرہ کو دیکھا،

عمرہ بولی، 

"میں آپ کے گھر ایک ملازمہ بن کر بھی رہ سکتی ہوں. کام کاج کرنے سے میں نہیں تھکتی"

شایان سانس بھر کر خاموش ہو گیا.

عمرہ اتفاق سے جب بھی چند بار سحرش کے گھر گئی تو وہ گھر پر اکیلی ہوتی تھی. اس کے گھر والوں نے اسے نہ دیکھا تھا. عمرہ کو نورین آپا نے محبت سے کھانا کھایا. اس کے ماتھے گرم کپڑے سے سینکا تو اس سے شام تک وہ کافی کم ہو گیا.

شایان کے والدین کا فون آیا تو شایان نے عمرہ کو نورین آپا کی رشتے دار بتایا کہ اس کے والدین فوت ہو چکے ہیں اور وہ اب دنیا میں اکیلی ہے.

سحرش اب اسے فون کرتی رہتی.


عمرہ اس گھر کی اور شایان کی بہت تعریفیں کرتی.

سحرش اب اس کی طرف سے مطمئن ہو گئی تھی. عمرہ نے شایان کو گھر میں کھانا پکا کر دینا شروع کر دیا تھا.

اس کو بھی اب باہر کے پیزے برگر پسند نہ رہے تھے. شایان اس کی ضروریات کا خیال رکھنے لگا تھا.



وہ لان میں چائے کا کپ لے کر پھولوں کے قریب کھڑی چائے پی رہی تھی. شایان بھی چائے کا کپ اٹھائے ادھر چلا آیا.

عمرہ اس کی بہت عزت کرتی تھی ایک تو وہ اسکا محسن تھا دوسرا اس کی بیسٹ فرینڈ کا منگیتر.

شایان نے اسے سلام کیا اور دونوں ادھر ادھر کی باتیں کرنے لگے. شایان نے ملازم سے چیرز لانے کا کہا، اور عمرہ کو بیٹھنے کا اشارہ کیا.

دونوں مختلف موضوعات پر باتیں کرتے. دونوں کی سوچ کافی ملتی جلتی تھی. شام کو دونوں شام کو چائے پیتے ساتھ ساتھ باتیں کرتے. عمرہ سحرش کو ہر بات بتاتی اسے خوش قسمت کہتی.

شایان کو بھی کھبی سحرش کے حوالے سے چھیڑتی تو وہ ہلکہ سا مسکرا کر چپ ہو جاتا.

سیف اکثر ملنے آتا. اسے بہت خلوص سے سسٹر کہہ کر مخاطب کرتا. اس کا حال احوال پوچھتا.

اس کے لیے سحرش کچھ نہ کچھ بھیجتی رہتی. ضرورت کی چیزیں یا کھانے پینے کی.

دونوں لان میں بیٹھ کر چائے پیتے. کھبی سیف اسے بھی ساتھ بیٹھ کر چائے پینے کا کہتا. اس سے باتیں کرتا. وہ شایان سے کہتا 

"عمرہ کے مستقبل کی مجھے بہت فکر ہے. بہن نے بولا ہے تو شادی بھی اس کی میں کراؤں گا مگر اس جیسی سلجھی ہوئی لڑکی کے لیے کوئی سلجھا ہوا لڑکا نظر نہیں آتا."

عمرہ کے کان میں کھبی اس کی باتیں پڑتی تو اس کا خون سیروں بڑھ جاتا کہ اسکا بھی کوئی بھائی ہے.

شایان کے والدین ادھر سے بیٹی کے پاس کینیڈا چلے گئے تھے. وڈیو کال پر اب وہ عمرہ سے بھی بات کرتے اور بتاتے کہ شایان بہت خوش اور مطمئن ہے کہ تم اسکا بہت خیال رکھتی ہو اور پورے گھر کو بھی سنبھالا ہوا ہے. اسی لیے ہم ادھر زیادہ عرصہ رہ سکتے ہیں. 


عمرہ کو آج ماموں کی بہت یاد آ رہی تھی وہ جانتی تھی کہ مامی اور جیا نے نہ جانے اس کے خلاف ماموں کے ذہن میں کیا زہر بھر دیا ہو گا.

وہ دل میں فیصلہ کر چکی تھی کہ ماموں کے آنے پر ان کو ساری سچائی بتا دے گی.

سحرش نے مووی دیکھنے کا پلان بنایا اور سیف سے کہا کہ موم ڈیڈ کو پتا نہ چلے اور چپکے سے عمرہ کو بھی لے آؤ. سیف نے شایان کو کہا، وہ بولا، 

"اگر وہ مانی تو میں اسے چھوڑ جاؤں گا."

سیف بولا، 

"تم بھی آ جانا یار. تم بھی کھبی انجوائے کر لیا کرو."

شایان نے عمرہ کو جب بتایا تو پہلے تو وہ نہ مانی مگر سحرش کے اصرار پر ساتھ چل پڑی.

شایان نے اگلا ڈور کھولا مگر وہ پیچھے بیٹھ گئی کہ آگے آپ کی بیوی کا حق ہے.

شایان ہنس کر بولا 

"تو آپ مجھے ڈرائیور بنانا چاہتی ہیں ٹھیک ہے."

راستے میں شایان نے آئسکریم کی آفر کی تو وہ نہ مانی. سحرش والدین اور بھائی کے ساتھ سینما ہاوس کے باہر کھڑی سحرش کا چپکے چپکے انتظار کر رہی تھی کہ اسے سحرش شایان کے ساتھ آتی نظر آئی.

اس نے سیف کو اشارہ کیا. سیف اشارہ پا کر شایان کو میسج کر کے جگہ بتانے لگا کہ اس نے ان دونوں کے ٹکٹس بھی لے لیے ہیں.

سحرش نے ساتھ والی سیٹ پر سحرش کو بیٹھنے کا کہا. وہ پاس بیٹھ گئی.

عمرہ نے سحرش کو چھیڑا کہ منگیتر کے ساتھ مووی دیکھنے کا دل کر رہا تھا تمہارا اور تم نے اچھا ڈرامہ رچایا ہے.

سحرش نے شرما کر اس کی چٹکی کاٹی.

 

پلیز اسے لائک ،کمنٹ اور فرینڈز کو بھی شئیر کریں شکریہ.

شعر.

ہم تم سے کوئی امید وفا نہ آس لگاتے ہیں

ہم تو اپنے رب سے وفاؤں کا صلہ چاہتے ہیں.

#شاعرہ_عابدہ_زی_شیریں #abidazshireen



Continue Reading
Episode 4
ہم نے دل کو بہلا لیا4

Reader Comments

No comments yet. Be the first to share your thoughts!

Log in to leave a comment.

Related Novels

Selected For You

View More Free Novels

Editor's Choice

Handpicked favorites that you shouldn't miss.

Premium Membership

Unlock the Full Library

One subscription. Every story. Unlimited reading.

PKR 300
30 Days of Unlimited Access
Go Premium Now

Secure payment  ·  Instant access

Full Novel Library
Access every premium & exclusive novel — no episode locked
Unlimited Reading
Read as much as you want, whenever you want, at your pace
Support the Author
Your subscription directly supports Abida Z Shireen's work
New Episodes First
Be the first to read every new episode as soon as it drops
A F S R N
Join thousands of readers already enjoying premium access
Loved by readers
Our Literary World

Experience the Best Urdu Novels Online

Dive into decades of storytelling by Pakistan's most beloved author, now at your fingertips.

50+
Published Novels
30+
Years of Writing
1M+
Readers Worldwide
100%
Authentic Stories
01

The Legacy of Abida Z Shireen

Welcome to the digital sanctuary of Abida Z Shireen, one of Pakistan's most celebrated literary icons. As a premier Urdu storyteller, she has spent decades crafting narratives that capture the soul of our society. This online Urdu reading platform is designed to preserve her vast Urdu literature archive, offering readers a chance to read Urdu novels online that explore the depths of human emotion, culture, and resilience.

Read Her Story
Abida Z Shireen
Author
02

Captivating Novels & Social Sagas

From suspense-filled thrillers to heart-touching social dramas, our collection features the best Urdu novels that have captivated millions in publications like Aanchal Digest. Whether you are looking for new Urdu novels 2024 or timeless classics, Abida's work provides a unique lens into family dynamics and romantic storytelling. Dive into her world and discover why she is considered a top Urdu digest writer by fans globally.

Browse All Novels
Reading Urdu Novels on Tablet and Phone
Novels
03

Soul-Stirring Urdu Poetry Collection

Beyond prose, this platform hosts an extensive Urdu poetry collection. Abida Z Shireen's verses offer a profound look into spiritual and philosophical themes, available in both Urdu and English. As a featured Urdu poet, her work serves as a bridge between traditional rhythms and modern thought. Join our community of literature lovers to explore famous Urdu poems and exclusive literary insights found nowhere else.

Explore Poetry
Elegant Desk with Pens and Books
Poetry