Ham Ne Dil Ko Behla Lia
10 Episodesساتواں حصہ - Part 7
عمرہ نے شادی سے کے بعد شوہر کو اپنی بیٹی کے بارے میں بتا دیا. ابھی وہ اسکا نام بھی نہیں رکھ پائی تھی.
شوہر بہت اچھا ثابت ہوا اس نے عمرہ کی ماں سے کہا، جب تم میرے بچوں کو اتنے پیار سے پال سکتی ہو، جس کی وجہ سے تم نے اپنے بھائی سے ناطہ توڑ لیا، تو تمہاری بچی میری بچی ہے میں اسے باپ کا پیار دوں گا."
عمرہ جب گاؤں بچی سے ملنے گئی تو وہاں پر تالا لگا ہوا تھا.
پڑوسیوں نے بتایا کہ وہ لوگ یہ گھر بیچ کر چلے گئے ہیں کسی سے مل کر بھی نہیں گئے. صبح جب ایک پڑوسی مسجد جا رہا تھا اسے بتایا اور یہ نہیں بتایا کہ وہ کہاں جا رہے ہیں.
عمرہ کی ماں بہت روئی تڑپی. مگر وہ لوگ کافی ڈھونڈنے پر بھی نہ ملے.
آخر شوہر کے سمجھانے پر اس نے صبر کر لیا اور سارا پیار سحرش اور سیف پر لٹا دیا. سحرش لگ بھگ اس کی بیٹی کی عمر کی تھی. اسے سحرش میں اپنی بیٹی نظر آتی. باپ اکثر بیوی کی قبر پر جاتا بچوں کو بھی لے کر جاتا. عمرہ کی ماں انہیں بتاتی کہ یہ بڑی ماما ہیں اور میں چھوٹی.
شعور کی عمر کو پہنچ کر بچوں کو سچائی کا علم ہو گیا مگر دونوں بچے اس ماں سے اتنی انسیت رکھتے تھے کہ سگی ماں کی طرح پیار کرتے تھے.
سحرش تو چند ماہ کی پلی ہی اس کی گود میں تھی. سیف کو تھوڑی بہت یاد تھی. شوہر بیوی کا بہت ممنون تھا اور اس سے بہت پیار کرتا تھا. جس نے آ کر اس کی زندگی سنوار دی تھی. وہ بہت مطمئین تھا. اور اسے کھبی کھبی دکھ بھی ہوتا کہ وہ اس کی وجہ سے اپنے بھائی سے دور ہو گئی ہے.
وہ اکثر اسے بھائی سے ملنے کا اسے کہتا، مگر وہ کہتی
"جہاں میرے شوہر اور بچوں کی جگہ نہیں میں وہاں کیونکر جا سکتی ہوں. میرا آپ لوگوں کے سوا کوئی نہیں. آپ اور بچے ہی میری دنیا ہیں. آپ نے مجھے عزت دی سہارا دیا ورنہ یہ دنیا مجھے طعنے دے دے کر جینے نہ دیتی."
اس نے شوہر سے کچھ نہیں چھپایا.
نادانی میں لڑکیاں ایسا قدم اٹھا کر بعد میں پچھتاتی ہیں اور لڑکا بھی برابر کا قصور وار ہوتا ہے جو اسے ورغلاتا ہے. اگر وہ اس کی عزت بن ہی جاتی ہے تو پھر طعنے دے کر اس کا اور اپنا سکون تباہ نہ کرے. اگر لڑکا غلط نکلے تو وہ کوٹھے پر بھی پہنچا دیتا ہے اس لیے لڑکی کو کھبی کسی لڑکے کی محبت پر یقین کر کے اس کے ساتھ بھاگ کر شادی نہیں کرنی چاہیے. کیونکہ والدین سے بڑھ کر کوئی دنیا میں سچا پیار کرنے والا نہیں ہے. والدین کھبی اولاد کا برا نہیں سوچتے.
عمرہ کی ماں اکثر اپنی بیٹی کو یاد کراتی رہتی. وہ اسے پیار سے میری پری کہتی. وہ سوچتی وہ پری تھی اسی لئے اڑ گئی.
عمرہ کے دادا دادی نے اسے یہی بتایا کہ اس کی ماں نے بھاگ کر اس کے باپ سے شادی کی تھی اس لیے وہ اس کے گھر والوں کو نہیں جانتے. تمہاری پیدائش کے وقت وہ فوت ہو گئی تھی ایک بھائی آیا تھا جنازے پر. اس کے بعد دوبارہ نہیں آیا.
تمہارا باپ بھی تمہاری پیدائش کے تھوڑے عرصے بعد فوت ہو گیا تھا. عمرہ پوچھتی کہ کوئی میری ماں اور باپ کی تصاویر نہیں ہیں. وہ باپ کی تو دکھا دیتے مگر ماں کی کہتے کہ نہیں ہے. وہ انہوں نے چھپا دی تھیں کہ کہیں یہ سر راہ ماں نظر آنے پر ماں کے پاس نہ چلی جائے اور ہمیں چھوڑ جائے. عمرہ کو پڑھنے کا بہت شوق تھا. اس کے گاؤں سے چالیس کلومیٹر دور کالج تھا وہ دادا کے ساتھ روز بائک پر جاتی اور وہ لینے آتے.
دادی مر گئی اور سچائی بتانے کی ہمت دونوں میں نہ تھی. دونوں َاس ڈر سے کچھ نہ بتاتے تھے کہ وہ ہم سے نفرت کرنے لگے گی اور انہیں چھوڑ نہ جائے.
بیوی کے مرنے پر دادا غم سے نڈھال تھا. وہ اب اکثر بیمار رہنے لگا تھا. اس کی پنشن سے گھر کا راشن چلتا تھا. جہاں ایک چھوٹے سے گھر میں رہتے تھے وہ لوگ یوکے رہتے تھے. پاس انہوں نے ایک خوبصورت گھر اپنی رہائش کے لئے بنایا ہوا تھا. اس کے دادا کو ادھر چوکیدار رکھا ہوا تھا. بہت خدا ترس لوگ تھے. ان کی بہت مدد امداد کرتے تھے.
جب وہ لوگ آتے تو عمرہ اور دادی ان کے گھر کے کام کاج کو دیکھ لیتی تھیں. وہ جانتے تھے کہ عمرہ کو پڑھنے کا شوق ہے اس لیے وہ اس کی پڑھائی کے اخراجات پورے کرتے تھے.
ایک دن عمرہ، دادا کو ہاسپٹل لے کر گئی. ان کی طبیعت بہت خراب تھی. اتفاق سے عمرہ کے ماموں بھی ادھر آئے ہوئے تھے. دادا کو دیکھ کر انہوں نے سوچنا شروع کیا کہ ان کو کہاں دیکھا ہے پھر پاس کھڑی عمرہ میں بہن کی شبہات نظر آئی تو قریب جا کر انہوں نے اس کے دادا سے اپنا تعارف کروایا تو وہ فوراً پہچان گئے اور منت کرنے لگے
"عمرہ کو ہم نے بتایا ہے کہ اس کی ماں مر چکی ہے تمہاری پیدائش پر. میرے مرنے کے بعد اسے سچائی بتا دینا اور اسے ساتھ لے جانا تاکہ مجھے سکون ہو کہ میرے بعد اسکا کیا ہو گا."
ماموں نے بھی سب سچائی بتا دی کہ ابھی تک وہ بہن کو تلاش کر رہے ہیں بہتر ہے عمرہ کو سچائی نہ بتائی جائے ورنہ وہ بھی ایک نیے دکھ سے آشنا ہو جائے گی اور تڑپتی رہے گی کہ کاش اس کی ماں مل سکے. وہ آنسو بہاتے رہے. دادا معافیاں مانگتے رہے. دونوں روتے رہے.
ماموں نے ان کے بڑھاپے کا خیال کرتے ہوئے ان کو معاف کر دیا اور تسلی دی اور عمرہ نرس کے ساتھ ڈاکٹر صاحب سے ان کی حالت کا پوچھنے چلی گئی تھی.
ڈاکٹر صاحب نے کہا تھا کہ
"کسی وقت کچھ بھی ہو سکتا ہے میں آپ کو جھوٹی تسلی نہیں دینا چاہتا."
عمرہ روتی ہوئی باہر نکلی اور اللہ تعالیٰ سے دعا کرنے لگی کہ میں اس وقت دنیا میں بلکل اکیلی ہوں. تیرے سوا میرا کوئی سہارا نہیں. تجھ پر ہی بھروسہ ہے کہ تو کھبی مجھے اکیلا نہیں چھوڑے گا.
یہ سوچتی وہ دادا کے پاس آئی تو دادا نے ہلکی آواز میں بمشکل کہا
"یہ تیرے ماموں ہیں"
ماموں نے بڑھ کر اسے گلے لگایا اور بہت روئے. سب حیرت سے دیکھ رہے تھے کیونکہ وارڈ میں ان کو شفٹ کر دیا گیا تھا.
عمرہ بہت خوش ہوئی. جب ماموں نے کہا اب تم میرے ساتھ میرے گھر چل کر رہو گی. عمرہ نے اللہ تعالیٰ کا بہت شکر ادا کیا اور سوچا کہ واقعی اللہ پر بھروسہ رکھو تو وہ اسباب بھی پیدا کر دیتا ہے اور اپنے بندوں کو کھبی مایوس نہیں کرتا.
اچانک پاس والے بیڈ کے قریب بیٹھی عورت نے عمرہ کو چلا کر کہا
"تمہارے دادا کی سانس اکھڑ رہی ہے."
عمرہ رونے لگی. ماموں بھاگ کر ڈاکٹر صاحب کو بلا لائے. اتنے میں دادا فوت ہو چکے تھے. ڈاکٹر نے تصدیق کر دی.
عمرہ نے کہا،
"دادا کی قبر گاؤں میں دادی کے ساتھ کرنی ہے"
ماموں نے بیوی کو فون پر سب بتا دیا اور کہا کہ تم اور جیا اس کے استقبال کی تیاری کرو. جیا کے روم میں عمرہ ساتھ رہے گی.
بیوی کے سنکر ہوش گم ہو گئے. پھر زرا ہوش میں آئی اور بولی،
"یہ تو بہت خوشی کی بات ہے."
شوہر اتنا سن کر مطمئن ہو گیا وہ جلدی میں تھا. فون بند کر کے عمرہ کے دادا کو گاؤں لے گیا اور تدفین کی.
گاوں والوں نے بھی تعاون کیا. اتفاق سے یوکے والے اسی دن اچانک پہنچے تھے. انہوں نے دادا کی تدفین اور کھانے کا زمہ زبردستی اپنے زمے لے لیا. اور عمرہ کے لئے بھی تسلی میں ہو گئے انہوں نے عمرہ سے کہا کہ انہوں نے اس کے اکاؤنٹ میں کچھ رقم ڈال دی ہے.
عمرہ نے منع کیا تو وہ نہ مانے.وہ اتنی زیادہ تھی کہ اس کی پڑھائی کے اخراجات اور ضروریات کے لئے کافی تھی.
عمرہ کے ماموں کی بہت زیادہ آمدنی تو نہ تھی. ملازمت پیشہ تھے اچھی پوسٹ پر تھے ایماندار تھے.
عمرہ نے ان کو سب بتا دیا تھا کہ وہ اپنے تعلیمی اخراجات خود پورے کرے گی وہ نہ مان رہے تھے مگر عمرہ نے سمجھا دیا تھا
"میں اس رقم کا کیا کروں گی. باقی تو آپ نے ہی کرنا ہے ناں."
عمرہ کے سمجھانے پر وہ مجبوراً چپ ہو گئے.
عمرہ کی مامی کو اتنا پتا تھا کہ وہ اپنے تعلیمی اخراجات خود برداشت کرتی ہے مگر پھر بھی وہ اسے کھٹکتی تھی. کیونکہ ماموں اس پر جان چھڑکتے تھے.
ماموں کی بیٹی نے اس کے آنے پر واویلا کیا تھا مگر ماں نے کہا تھا کہ ہمیں بہت پیار جتانا پڑے گا بس تم دیکھنا جس طرح اس کی ماں کا پتا صاف کیا ہےاسی طرح اس کا بھی کر دوں گی.
جیا نے ماں کی باتوں پر عمل کیا اور دونوں نے گھر کو تھوڑا بہت غباروں اور جھنڈیوں سے سجا دیا اور ویل کم لکھا.
ماموں اور عمرہ جب آئے تو عمرہ کا مامی اور جیا نے بہت پیار سے استقبال کیا.
عمرہ کے ماموں سب سجاوٹ اور ان دونوں کا اسے سر آنکھوں پر بٹھانے سے بہت خوش ہوئے.
پھر مامی نے عمرہ کا پتا بھی صاف کر دیا. دونوں ماں بیٹی اپنی جیت پر بہت خوش تھیں.
عمرہ سحرش کو اپنے کزن سے فری ہوتا دیکھ کر پریشان تھی.
دونوں اکھٹے شادی کی شاپنگ کرنے جاتے تھے کیونکہ اس کے پاس گاڑی تھی. رات کو لیٹ کر بھی وہ لیٹ نائٹ اس سے سرگوشیوں میں باتیں کرتی تھی.
عمرہ کی طرف کوئی دھیان نہیں دیتی تھی. عمرہ گھر کے کاموں میں بزی رہتی تھی. اس سے سحرش کی ماں اور آنٹی بہت اچھے طریقے سے پیش آتی تھیں اور اس کا بہت شکریہ ادا کرتی تھیں کہ اس نے ان کے کام آسان کر دیے تھے.
عمرہ نے دیکھا، سحرش اپنے کزن سے پیار و محبت کی باتیں کر رہی ہے. عمرہ کو سخت برا لگا اسے ویسے بھی اسکا اتنا فری ہونا پسند نہ آ رہا تھا وہ سوچتی تھی کہ اس کی شایان سے شادی ہونے والی ہے اسے ایسا نہیں کرنا چاہیے.
اس نے سحرش کو سمجھانے کی کوشش کی تو اس نے جواب میں اسے نخوت سے کہا،
"شکر کرو تمہیں اس گھر میں رہنے کی جگہ ملی ہے اور تم اب مجھے اپنی فرینڈ نہ سمجھو بلکہ اس گھر کی نوکرانی ہو. یہ میرا گھر ہے تمہارا نہیں. تم اپنی اوقات میں رہو، آئندہ میرے معاملے میں دخل دینے کی ضرورت نہیں ہے. شکر کرو جو اپنے روم میں جگہ دی ہے. وہ تو آنٹی کی وجہ سے تمہیں اپنے روم میں برداشت کر رہی ہوں کہ انہیں تم سے ہمدردی ہے. ورنہ.."..
عمرہ حیرت اور دکھ سے اسے دیکھتی رہ گئی.
عمرہ سوچنے لگی سحرش سچ ہی تو کہتی ہے. میری کیا اوقات ہے. میرا کون سا ٹھکانہ ہے.
وہ روتے روتے سو گئی.
صبح اس کی آنکھ دیر سے کھلی، پریشان ہو کر جلدی سے اٹھی کہ سب کو ناشتہ دے تو آنٹی اور سحرش کی ماں سحرش پر چلا رہی تھیں.
پلیز اسے لائک ،کمنٹ اور فرینڈز کو بھی شئیر کریں شکریہ.
خوشیوں کی حسرت میں جیےجارہے ہیں
دل کو داد ہے کہ ہم مسکرا رہے ہیں.
#شاعرہ_عابدہ_زی_شیریں #abidazshireen

Reader Comments
No comments yet. Be the first to share your thoughts!
Log in to leave a comment.