Ham Ne Dil Ko Behla Lia
10 Episodesنواں حصہ - Part 9
سیف شایان کے فون سے بہت پریشان ہو گیا کہ اب اسے کیا بتائے کس منہ سے بتائے کہ اس کی بہن نے اس کے دوست کے آگے اسے شرمندہ اور ذلیل کر دیا ہے.
شایان بولا،
"یار سیفی کیا بات ہے تو کچھ پریشان لگ رہا ہے."
سیف نے روندھی ہوئی آواز میں اس ساری سچائی بتا دی.
شایان نے ایک لمبی سانس بھری اور اسے تسلی دیتے ہوئے کہا
"تم فکر نہ کرو، میں آ رہا ہوں، سب سنبھال لوں گا."
سیف کو تھوڑی تسلی ملی. سیف نے جب گھر والوں کو بتایا تو اس کے والدین بہت پریشان ہو گئے. سیف نے تسلی دی کہ شانی کہہ رہا ہے کہ وہ سب سنبھال لے گا.
عمرہ نے کہا
"اگر آپ لوگ اجازت دیں تو میں اسے اپنے سر لے لوں."
شبانہ تڑپ کر بولی،
"کھبی نہیں."
سیف نے کہا،
"ایسا سوچنا بھی مت، جو سچائی ہے وہی سامنے رکھیں گے کسی حال میں بھی جھوٹ نہیں بولنا، جھوٹ کی نحوست ہوتی ہے اور نحوست نہیں پھیلانی. سچائی میں طاقت ہوتی ہے. بے شک کڑوی ہوتی ہے مگر اس کا اثر رحمت ہوتا ہے."
جب شایان کے گھر والے آئے تو تھوڑی دیر بعد شایان بھی بائک پر پیچھے ہی آ گیا. شایان کی بہن کا شوہر جو واپس یو کے سے آ چکا تھا. وہ شایان کی بہن اور ماں اور بہن کی ساس پہنچے.
عمرہ نے جلدی سے ان کی چائے کا انتظام کر دیا. وہ کباب فرائی کر رہی تھی.
شایان بھی پہنچ چکا تھا. عمرہ نے کہا تھا کہ چائے پلانے کے بعد ان سے اس بارے میں بات کرنا.
وہ سحرش کا پوچھنے لگے تو عمرہ نے کہا
"آپ لوگ ریلیکس ہو کر چائے پی لیں پھر بتاتے ہیں کہ سحرش کدھر ہے. آپ لوگوں کے لیے َسرپرائز ہے."
وہ مطمئن ہو گئے.
شایان جب سیف کے ساتھ اندر آ رہا تھا تو عمرہ ٹرے اٹھائے سامنے سے جا رہی تھی. دونوں کی نظریں ملیں۔ عمرہ سر جھکا کر گزر گئی جبکہ شایان اسے اتنے وقت کے بعد دیکھ کر خوش ہو رہا تھا، دیکھتا رہ گیا۔
سیف دل میں شرمندگی سے ان دونوں کو دیکھ کر سوچنے لگا کہ اس نے ان دونوں کے ساتھ کتنا برا کیا تھا محض اپنی بہن کی محبت میں. اس نے دل میں سوچا، اس نے تو عمرہ کو بھی بہن کہا تھا مگر سب جھوٹ تھا اگر وہ اسے سحرش کا درجہ دیتا تو ایک بہن کی بجائے دوسری بہن کی خوشی کا خیال کر لیتا. کاش میں خود غرض نہ بن جاتا. اس نے تو شایان کو نو کرانی دی تھی پھر اس کا کیا قصور تھا.
شایان کے گھر والوں کو سیف کے باپ نے ڈبڈبائی ہوئی آواز میں روتے ہوئے ساری سچائی بتا دی.
شایان کی بہن کی ساس نے کہا،
"چلیں آپ لوگ اب حوصلہ کریں. بچے جزباتی ہوتے ہیں جوانی میں غلطیاں کر جاتے ہیں. ایک دن احساس ہو بھی جاتا ہے. مگر گھر والے معاف نہیں کرتے. خاص طور پر مرد حضرات. چلیں اب شایان کی شادی عمرہ...."
شایان کی بہن جھٹ بات کاٹتے ہوئے بولی،
"میرا خیال ہے کہ اب ہمیں چلنا چاہیے یہ لوگ بھی ابھی پریشان ہیں."
شایان کو دل میں بہن پر بہت غصہ آیا مگر سوچا کہ اکیلے میں اسے سمجھائے گا کہ اب عمرہ سے شادی کرنے میں کیا قباحت ہے. گھر آ کر اس نے اکیلے میں اسے سنائی
"جب بڑے بات کر رہے ہوں تو تم بدتمیزی کا مظاہرہ کرتے ہوئے کیوں ٹوک دیتی ہو. تمہارے سسرال والے بہت شریف لوگ ہیں جو تمہاری بدتمیزیاں برداشت کرتے ہیں."
اتنے میں ماں آ گئی اور بیٹے کو ڈانٹتے ہوئے بولی،
"تم اور تمہارے بابا کو تو ہر وقت دوسروں کی فکر لگی رہتی ہے ان کی ہر بات صحیح لگتی ہے. ہمیں کیسے ان کے آگے ذلیل کروایا. معافیاں منگوائی. حد ہے ویسے. کوئی اپنی فیملی کو اس طرح ذلیل کرواتا ہے کیا. اس کی ساس کی تو عادت ہے ہمیں نیچا دکھانے کی. کوئی بھلا پوچھے کہ ان کو دوسروں کے معاملات میں ٹانگ اڑانے کی ضرورت ہی کیا ہے. اگر وہ کریں تو صحیح. ہم کریں تو غلط. اگر تمہارے بابا ان لوگوں کو جانے دیتے ناں تو ہماری عزت بن جاتی. وہ جو فضول کی دھمکیاں دے رہا تھا ڈرانے کے لیے. وہ ناک رگڑتے آتے. ہماری بیٹی کوئی اتنی غیر اہم نہیں ہے کہ ان کے نیچے لگی رہے اور وہ اپنی من مانی کرتے رہیں."
شایان زچ ہو کر بولا
"موم پلیز اسے شہہ نہ دیا کریں. اگر بابا بیچ میں نہ پڑتے تو آج یہ اجڑی یہاں بیٹھی ہوتی."
ماں نے اکڑ کر کہا،
"کیوں میری بچی کو ہم نہیں پال سکتے کیا، مر تو نہیں گئے ہیں. اس کے لیے کیا کمی ہے کسی چیز کی."
شایان بے بسی سے بولا،
"کمی ان لوگوں کے لیے بھی نہیں ہے بس شریف لوگ ہیں ہر ممکن نبھانا چاہتے ہیں. ان کی شرافت کا ناجائز فائدہ مت اٹھاؤ. یہ نہ ہو کہ وہ کچھ ناجائز کر بیٹھیں."
بہن نے نخوت سے کہا،
"تم میری فکر چھوڑ دو، میں انہیں خود سیدھا کر لوں گی."
ماں نے کہا،
"ہاں کان کھول کر سن لو، عمرہ ایک نوکرانی کی حیثیت رکھتی ہے لاوارث ہے جس کا آگے پیچھے کوئی نہیں. نہ ہی کوئی حیثیت ہے. میں تمہاری شادی اپنے جیسے ہم پلہ لوگوں میں کروں گی. جو ہماری ٹکر کے ہوں. سحرش لوگ بھی ہماری حیثیت سے کم تھے مگر سحرش خوبصورت تھی اور تمہارے بیسٹ فرینڈ کی بہن تھی تو ہم نے اوکے کر لیا."
بہن بولی،
"میں لوگوں کو کیا بتاؤں گی کہ میری بھابھی پہلے ہماری نوکرانی تھی توبہ، میں تو اس بارے میں ایسا سوچ بھی نہیں سکتی. تم بھی سدھر جاؤ اور اس دو ٹکے کی معمولی سی لڑکی کے بارے میں سوچنا چھوڑ دو سمجھے."
شایان نے بے بسی سے سوچا، ابھی اس بارے میں ان لوگوں سے زکر کرنا فضول ہے یہ مانیں گی کب.
شایان کی بہن اپنے سسرال والوں کے ساتھ واپس چلی گئی اور شایان کی شادی رک گئی. وہ صبر کر کے بیٹھ گیا.
شبانہ نے شوہر سے کہا
"اس دن شایان کی بہن کی ساس عمرہ کی شادی شایان سے کرنے کے بارے میں کہہ رہی تھی کہتے کہتے رہ گئی. اس کی بیٹی نے جانے کی جلدی مچا دی."
شوہر نے کہا،
"عمرہ کے بارے میں ہم کیسے فیصلہ کر سکتے ہیں. جب اپنی بیٹی نے ہمارے فیصلے کی لاج نہیں رکھی تو یہ تو پھر پرائی ہے."
شبانہ دکھ سے بولی،
"یہ پرائی ہو کر بھی اپنوں سے زیادہ لاج رکھنے والی ہے. سیف کے لیے کر لیتی مگر وہ اسے سگی بہنوں کی طرح سمجھتا ہے اور یہ بھی کہتی ہے کہ میری بھائی کی کمی پوری ہو گئی ہے."
شبانہ کا شوہر بولا،
"بیگم بات یہ بھی ہے ناں کہ سیف جانتا ہے کہ شایان اس سے شادی کرنا چاہتا ہے تو وہ دوست کی محبت پر ڈاکہ بھی تو نہیں ڈال سکتا ہے."
شبانہ نے سرد آہ بھر کر کہا،
"ٹھیک کہہ رہے ہیں آپ."
شبانہ کا شوہر بولا،
"بیگم ہمیں اس کے گاؤں جا کر اس کے بارے میں پوری تسلی کرنی چاہیے، اس کے ماموں سے ملنا چاہیے، آجکل اعتبار کا کون سا زمانہ ہے. کسی پر بھی اتنی جلدی اعتبار نہیں کرنا چاہیے."
شبانہ بولی،
"ٹھیک ہے آپ اپنی تسلی کر لیں."
شبانہ کے شوہر نے کہا،
"بیگم عمرہ کو کل بازار لے جا کر چند گھریلو نئے جوڑے دلوا دو زبردستی."
شبانہ بولی
"ٹھیک ہے مگر پہلے آپ اس کے بارے میں تسلی کر لیں، مجھے تو آپ نے وہم میں ڈال دیا ہے. اس کو اس کے ماموں کے پاس کل ہی لیکر جائیں اور ان سے بات چیت کریں."
دوسرے دن عمرہ کو سیف کے ابو، ماموں کے پاس جانے کا بولے. چونکہ عمرہ نے ان کی ساری گفتگو سن لی تھی تو وہ جانے کو تیار ہو گئی.
پلیز اسے لائک ،کمنٹ اور فرینڈز کو بھی شئیر کریں شکریہ.
قبضہ دل تم سے چھڑانا ہے
دل کا مالک خود کو بنانا ہے
بن مول اس میں رہتے ہو
اب مول اس کا لگانا ہے.

Reader Comments
No comments yet. Be the first to share your thoughts!
Log in to leave a comment.