Ham Ne Dil Ko Behla Lia
10 Episodesپانچواں حصہ - Part 5
عمرہ حیران پریشان، سب کو دیکھنے لگی.
بہن نے گرج کر کہا،
"تم اس کے ساتھ کیا کر رہے ہو."
شایان نے جب سب کو دیکھا اور عمرہ کی طرف دیکھا اور ماں باپ سے بولا
"سب سن لیں میں عمرہ سے پیار کرتا ہوں اور میں اس سے ہی شادی کروں گا۔ سحرش کے ساتھ بے انصافی ہو گی کیونکہ میں اسے خوش نہیں رکھ سکتا."
باپ آگے بڑھا اور ایک تھپڑ اس کے مار کر بولا،
"تم نے یہ سوچ بھی کیسے لیا کہ ہم تمہاری شادی ایک نوکرانی سے کرنے پر راضی ہو جائیں گے. ساری زندگی تمہیں کنوارا رکھنا منظور ہے مگر اس دو ٹکے کی لڑکی...."
اتنے میں سیف اچانک سے آ گیا اس نے حیرت سے دیکھا اور شایان سے بولا،
"یار شانی یہ سب کیا ہے اور عمرہ تمہیں تو میں بہن سمجھتا تھا اور تم تو سحرش کی بیسٹ فرینڈ تھی."
پیچھے سے سحرش کی ماں نظر آئی اور بولی،
"یہ سب کیا ہو رہا ہے. نورین کو بلاؤ اسے لیکر ابھی نکل جائے اس گھر سے."
شایان کی ماں نے گرج کر کہا اور سیف اور اس کی ماں سے بولے،
"اس لڑکی ہماری غیر موجودگی کا فائدہ اٹھا کر اس گھر کی بہو بننے کے خواب دیکھ لیے ہیں. ابھی اس کو نکال کر اس کے خوابوں کی تعبیر دیتے ہیں."
نورین ہانپتی کانپتی آئی اور ہاتھ جوڑ کر بولی،
"یہ میری کچھ نہیں لگتی ہے مجھے نوکری سے نہ نکالیں. ہم کدھر جائیں گے."
پھر اس نے روتے ہوئے ساری سچائی بتا دی.
شایان کی بہن کے سسر بولے،
"آپ اسے میری کسٹڈی میں دے دیں. میں اسے اس کے ماموں کے گھر چھوڑ آتا ہوں."
عمرہ روتے ہوئے بولی،
"سیف بھائی میں خواب میں بھی سحرش کا گھر برباد کرنے کا سوچ بھی نہیں سکتی"
شایان کی ماں نے اسے بالوں سے پکڑ لیا اور مارنے لگی.
شایان جو بےہوش ہو چکا تھا. سب کو اس کی پڑ گئی.اسے ہاسپٹل لے گئے. ہاسپٹل میں ڈاکٹر نے کہا کہ شدید سٹریس میں مبتلا ہے.
سب اس کا دل بہلانے کی کوشش کرتے رہے. سیف اس کا دل بہلاتا رہا اور یقین دلاتا رہا
"وہ اس سے ناراض نہیں ہے. بس اس سے ریکویسٹ کرتا ہے کہ شادی نہ توڑے، کیونکہ سارے خاندان میں بدنامی ہو جائے گی کیونکہ شادی اٹینڈ کرنے امی کی کزن بھی یوکے سے آ چکی ہیں. بھول جاؤ تم عمرہ کو. تمہارے گھر والے اسے کھبی قبول نہیں کریں گے."
شایان نے جب دیکھا کہ سیف منتیں کر رہا ہے اور کہہ رہا ہے ایک بار شادی کر کے ہماری عزت لاج رکھ لے چاہے اسے خوش رکھ یا نہ رکھ. آگے اس کی قسمت.
شایان سیف کے سمجھانے پر مان گیا اور دل میں پکا ارادہ کر لیا کہ بعد میں وہ عمرہ سے خفیہ شادی کر کے اسے الگ رکھے گا اور مناسب وقت میں سب کو بتا دے گا.
عمرہ نے گھر والوں سے کہا
"میں اپنے گاؤں دادی کے گھر جا رہی ہوں."
شایان کی ماں اور بہن بولیں،
"ہماری طرف سے جہنم میں جاؤ"
دونوں ماں بیٹی اسے صلواتیں سنانے لگیں.
وہ روتی ہوئی باہر نکلی، بیگ کندھے پر اٹھایا ہوا تھا.
شایان کی بہن کے سسر واش روم سے نکلے تو ان کی بیوی افسوس کرتے ہوئے بولی
"میری بہو کے گھر والے کتنے گھٹیا خیالات رکھتے ہیں. اس مجبور لڑکی پر کتنا ظلم کرتے ہیں. آپ بہو کو ادھر ہی چھوڑیں. ایسی خیالات والی بہو پر افسوس ہوتا ہے. اگر اس کا بچہ نہ ہوتا تو ہم اسے طلاق دلوا دیتے. یہ تو ہماری ساری نسل خراب کر دے گی. میں اپنے بیٹے کی اور شادی کروں گی اور عمرہ کو اپنی بہو بناؤں گی. جو ایک ہیرا ہے. پلیز اسے جا کر دیکھیں وہ کہاں جا رہی ہے اور میں سامان پیک کرتی ہوں ہم ہوٹل میں رہ لیں گے مگر ان گھٹیا لوگوں میں نہیں رہیں گے."
اس کے شوہر نے گاڑی کی چابی اٹھائی اور تیزی سے باہر نکل گئے. شایان کی ماں نے ساری باتیں سن لیں اور بیٹی اور شوہر کو سب بتا دیں.
بیٹی نخرے سے بولی.
"جانے دیں موم انہیں. ان کا بیٹا آئے گا تو میں اسے بتاؤں گی کہ اس کے والدین یہاں کے گھریلو معاملات میں انٹرفیئر کرتے ہیں وہ خود سیدھا کر لے گا انہیں."
عمرہ سوچ رہی تھی کہ یااللہ میں تجھ پر ہی بھروسہ کرتی ہوں. اس وقت دنیا میں میرا ساتھ دینے والا کوئی نہیں ہے. صرف تو ہی ساتھ ہے. مجھے اس آزمائش سے نکالنے والا تو ہی ہے. میں تجھ سے ہی مدد چاہتی ہوں. میں اکیلی گاؤں رہنے جا رہی ہوں. تو میری غیبی مدد کرنا. روتی ہوئی آٹو تلاش کرتی مین سڑک پر آ گئی.
راہ چلتے لوگ اسے عجیب نظروں سے دیکھ رہے تھے. اس نے محسوس کیا اور آنکھیں صاف کرنے لگی. پاس ہی گاڑی رکی اور ہارن بجا تو اس نے دیکھا سامنے شایان کی بہن کے سسر کھڑے ہوئے تھے.
وہ گاڑی سے اتر کر تیری سے آئے اور اسکا بیگ چھین کر گاڑی میں رکھا اور اسے گاڑی میں بیٹھنے کا بولا۔
عمرہ نے کہا،
"انکل میں واپس نہیں جاؤں گی میں گاؤں جاؤں گی"
وہ تیزی سے بولے
"ٹھیک ہے جہاں تم چاہو جانا ہم تمہیں چھوڑ دیں گے۔ میں تمہاری آنٹی کو لے آؤں. تم گاڑی میں بیٹھو."
وہ بوجھل قدموں سے چلتی ہوئی گاڑی کا پچھلا ڈور کھول کر بیٹھ گئی. اس نے اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کیا کہ کم سے کم وہ گاوں تو پہنچ سکے گی.
شایان کی ماں اور بہن نے ان لوگوں کو رسمی سا روکا مگر وہ نہ رکے.
عمرہ نے کہا،
"انکل آپ مجھے بس اسٹاپ پر چھوڑ آئیں، میں بس سے چلی جاؤں گی"
مگر وہ نہ مانے.
جب گاوں کا نام عمرہ نے بتایا تو وہ چونکے. اور بولے،
"میں بھی اسی گاؤں کا ہوں"
بیوی خوش ہو کر بولی،
"چلو اچھا ہے آپ بھی اپنے والدین اور سابقہ بیوی کی قبر پر فاتحہ خوانی پڑھ لیں گے. میں تو بدقسمت اپنے ساس سسر سے ملاقات نہ کر سکی."
عمرہ خیالوں میں کھوئی ہوئی تھی تو انکل شعیب کی بیوی نے انہیں اسے زیادہ باتیں کرنے سے منع کر دیا کہ وہ اس وقت ڈسٹرب ہے.
بیوی نے کہا،
"کھانے پینے کا کافی سامان خرید لیتے ہیں کیا پتا گاؤں میں کچھ ملے نہ ملے."
شوہر نے کہا
"بلکل ٹھیک کہا."
وہ ایک مارٹ میں چلا گیا.
پلیز اسے لائک ،کمنٹ اور فرینڈز کو بھی شئیر کریں شکریہ.
شعر.
بہت بے رحم ہوتے ہیں یہ دل کے جزبے
نگاہوں سے بیاں دل کی کہانی ہوتی ہے.
#شاعرہ_عابدہ_زی_شیریں #abidazshireen

Reader Comments
No comments yet. Be the first to share your thoughts!
Log in to leave a comment.