Logo
Hum Ne Dil Ko Behla Liya
10 Episodes
Hum Ne Dil Ko Behla Liya EP 6
Episode 6

ہم نے دل کو بہلا لیا6

Hum Ne Dil Ko Behla Liya

چھٹا حصہ - Part 6


ابھی عمرہ لوگ تھوڑی دور ہی گئے تھے کہ شایان کے باپ کا فون آ گیا انہوں نے بہت معزرت کی اور اپنی بیوی اور بیٹی کی طرف سے بھی سوری بولا، اور کہا، 

"ہماری بیٹی آپ لوگوں کے پاوں پکڑ کر معافی مانگے گی"

بیوی نے بھی فون پر سوری بولا.

عمرہ کے بارے میں انہوں نے کہا، 

"ہمیں ملازم نے بتایا تھا کہ وہ آپ کی گاڑی میں ساتھ جا رہی تھی."

عمرہ کو سیف کی ماں اپنے گھر لے کر جانا چاہتی ہے. اسے اس سے ہمدردی ہو گئی ہے. وہ کہتی ہے کہ وہ اسے بیٹی بنا کر رکھے گی. سحرش کے جانے کے بعد وہ اکیلی ہو جائے گی. سحرش کو بھی اس سے کوئی گلہ نہیں اور نہ ہی اس کی دوستی میں فرق آیا ہے. وہ کہتی ہے کہ وہ اسے جانتی ہے کہ وہ ایسی نہیں ہے. وہ اب بھی اسے دوست مانتی ہے.


عمرہ نے اس صورتحال میں گھر واپسی کا فیصلہ کیا۔ واپس آئی تو سیف اسے لینے آیا ہوا تھا. وہ شایان کی بہن کے ساس سسر کی ممنون تھی.


شایان کی بہن کے شوہر نے جب بیوی کو فون کیا اور والدین کا پوچھا تو بیوی نے نخوت سے بتایا کہ وہ اکڑ کر چل پڑے ہیں ہم نے بھی نہیں روکا.

یہ سنتے ہی وہ ہتھے سے اکھڑ گیا۔ اس نے بیوی سے کہا 

"میرے والدین کو راضی کرو ورنہ طلاق کے لیے تیار ہو جاؤ. ان سے معافی مانگو"

شایان اور اس کے باپ کو جب ساری صورتحال کا پتا چلا تو پہلے دونوں نے ان کی خوب کلاس لی. پھر رشتے کی نزاکت کا احساس دلایا تو اس کی ماں کو اپنی غلطی کا احساس ہوا، جب داماد سیدھا ہوا تو شایان کی ماں نے بیٹی کو سمجھایا 

"گھر بچانے کے لئے تمہیں ان لوگوں کے پاؤں تک پکڑنے پڑیں گے ورنہ داماد جس طرح ایکٹ کر رہا ہے وہ جو کہہ رہا ہے کر بھی دے گا."

شایان کے والد نے بیوی سے معزرت کرنے کا کہا، اس نے بہت معزرت کی اور بیٹی کو پاؤں پکڑنے کا کہا، اس کے ساس سسر نے معاف کرتے ہوئے پاوں پکڑنے سے منع کر دیا.


عمرہ کو سیف بائک پر لینے آیا ہوا تھا. سیف نے اس سے سارے راستے کوئی بات نہ کی بس سنجیدہ اور اکڑا رہا. سحرش اور اس کے والدین نے اس کو بہت عزت اور پیار دیا.

سحرش کی موم کی کزن جو یو کے سے آئی تھی وہ بھی بہت تپاک سےملی. اس کے بیٹے نے بھی سسٹر کہہ کر حال احوال پوچھا.

دونوں گھروں میں شادی کی تیاریاں شروع تھیں. عمرہ  سحرش کے ساتھ روم میں رہ رہی تھی.

عمرہ نے جب سحرش کو معزرت کرتے ہوئے صفائی پیش کی تو سحرش نے بڑی خوش دلی سے اس کا گال کھینچتے ہوئے کہا 

"یار اگر تم شایان سے شادی کر لیتی تو مجھے زیادہ خوشی ہوتی."

عمرہ نے گھر کے کام کاج سنبھال لیے تھے جس سے سحرش اور اس کی آنٹی بہت خوش تھیں کیونکہ وہ بیسٹ فرینڈز بھی تھیں اور آپس میں گپ شپ میں مصروف رہتی تھیں.



عمرہ کے ماموں اسی دن فلائٹ پکڑ کر پاکستان واپس اچانک آ گئے جب ان کی بیوی نے بتایا کہ ان کی بھانجی کسی لڑکے کے ساتھ بھاگ گئی ہے اور اس کا پہلے سے بھی کسی کے ساتھ چکر چل رہا تھا مگر انہیں پتا نہیں تھا جب پتا چلا تو اسے منع کیا تو وہ گھر سے، اس کے ساتھ بھاگ گئی.

عمرہ کے ماموں بہت دل برداشتہ ہوئے.

عمرہ کا جب فون آیا تو وہ بھرے بیٹھے ہوئے تھے. ان کو اپنی بہن کا وقت یاد آ گیا اس نے بھی تو یہی کیا تھا. شاید ان کی بیوی صحیح کہتی ہے جیسی ماں ویسی بیٹی.



عمرہ کی ماں بھی کالج میں کسی کو پسند کرتی تھی اس نے ماں کو بتایا تو اس نے شوہر کو بتایا تو شوہر نے کہا کہ وہ اسکا رشتہ اپنے دوست کے بیٹے سے پکا کر آئے ہیں. انہوں نے صاف انکار کردیا تو عمرہ کی ماں نے اس کے ساتھ کورٹ میرج کر لی. جب اس نے ماں کو فون کرکے بتایا تو اس نے شوہر کو بتایا تو شوہر نے جواب دیا کہ وہ ہمارے لیے مر گئی ہے.

عمرہ کا باپ اسے لیکر اپنے گاؤں والدین کے پاس لے گیا. انہوں نے تھوڑا بہت سنا کر اسے قبول کر لیا.

وہ عمرہ کی ماں کو والدین کے پاس چھوڑ کر شہر نوکری کرنے چلا گیا. عمرہ کی ماں گاؤں کی زندگی کی عادی نہ تھی. وہ بہت پچھتائی مگر شوہر نے صاف کہہ دیا تھا 

"وہ اسے ہمیشہ والدین کے ساتھ رکھے گا. اگر منظور ہے تو ٹھیک ورنہ طلاق لے لو."

اس نے ماں کو فون کیا تو ماں بولی، 

"ہم تو قبول کر لیں، لیکن تمہاری بھابھی نہیں کرے گی اسی دوست کی بیٹی کو تمہارے بھائی کے لیے بیاہ لائے ہیں جو روایتی بہو ہے. تمہارا بھائی خوش ہے. بہو سے ذکر کیا تھا مگر اس نے کوئی خاص رضامندی نہیں دکھائی. ہم خود بہو بیٹے کے رحم و کرم پر ہیں. بس وہیں گزارا کرو."

ادھر شوہر مہینے میں دو چکر لگاتا. اسے خاص اہمیت نہ دیتا. وہ روتی تنگ پڑتی. اس کی پریگنیسی میں اس کو شہر نہ لے کر جاتا. کہتا 

"میری ماں نے بھی مجھے ادھر ہی جنم دیا ہے تم کوئی دنیا کی نیاری چیز نہیں ہو."

وہ کہتی میں ان چیزوں کی عادی نہیں ہوں تو ساس الگ اسے طعنے دیتی. عمرہ بھی گاؤں کے ایک چھوٹے سے کلینک میں پیدا ہوئی.

عمرہ کی پیدائش پر ساس نے بیٹی ہونے کے طعنے دیے.

وہ رونے لگی، بولی 

"اتنا ظلم نہ کریں"

دادا دادی عمرہ کی پیدائش پر خوش تھے اب اس پر واری صدقے جاتے. دادی اسے ہر وقت گود میں اٹھائے رکھتی.

عمرہ کے باپ کو اطلاع کر دی گئی وہ نارمل رہا.

بمشکل دو تین ماہ کی بیٹی تھی کہ قیامت کی خبر آ گئی کہ عمرہ کا باپ اچانک ہارٹ اٹیک سے فوت ہو گیا.

عمرہ، اس کی ماں اور اس کے ساس سسر پر قیامت بیت گئی.

عمرہ کی ماں نے بھائی کو اس سانحے کا فون کیا تو بھابھی نے اٹھایا وہ واش روم میں تھا.

بھابھی نے کہا، 

"تمہارے بھائی تم سے بہت ناراض ہیں اور غصے میں ہیں کہتے ہیں کہ تم سامنے آئی تو گولی مار دیں گے اور اپنے آپ کو بھی ختم کر دیں گے."

عمرہ کی ماں بےبسی محسوس کرنے لگی. کیونکہ گاؤں کا چودھری جس کی پہلے ہی دو بیویاں تھی اس کے پیچھے پڑ گیا تھا اور شادی کرنے کا پیغام بھیجا.

عمرہ کی ماں کو ساس سسر نے کہا 

"تم اپنے والدین کے پاس چلی جاؤ، یا پھر چودھری سے شادی کر لو."

عروہ کی ماں سے ساس سسر نے کہا کہ تم اکیلی پہلے جاؤ بیٹی کو ہمارے پاس چھوڑ جاؤ. جب مان گئے تو بیٹی لے جانا."


وہ والدین کے گھر گئی ماں نے دروازہ کھولا، اسے دیکھ کر جزباتی ہو گئی. گلے لگا کر خوب روئی. عمرہ کی ماں بھی روتی رہی. عمرہ نے باپ سے معافی مانگی. تو باپ نے معاف کر دیا.

بھابھی سب کے سامنے اچھی بنی رہی. شام کو بھائی آیا تو عمرہ نے ہاتھ جوڑ کر معافی مانگی تو بھائی نے بھی معاف کر دیا.

بھابھی کی نہ چل سکی. بچی کا سب نے پوچھا تو اس نے بتایا 

"وہ ٹھیک ہے دادا دادی کی جان ہے ان کے بیٹے کی وفات کے بعد اب وہی ان کا سہارا ہے."

عمرہ کی ماں واپس جانے لگی تو سب نے روک لیا کہ اب تم وہاں نہیں جا سکتی کیونکہ شوہر تمہارا فوت ہو چکا ہے.

عمرہ کی ماں نے کہا 

"بچی کو تو لے آؤں."

ادھر وہ بچی کو لینے بھائی کے ساتھ گئی تو دادا دادی نے بہو کی منتیں شروع کر دیں 

"اب یہی ہمارا سہارا ہے." 

دادی نے کہا، 

"تم تو جوان ہو اور شادی کر لینا." 

پھر دادی اس کے پاوں پڑ گئی کہ اسے بھول کر اپنی نئی زندگی شروع کرو. عمرہ کے دادی نے پاوں پکڑ لیے.

بھائی نے کہا، 

"اتنی ظالم نہ بنو."

عمرہ کی ماں عمرہ کو چھوڑنے پر مجبور ہو گئی.



بھابھی نے دیکھا کہ وہ تو اب سب سے راضی ہو چکی ہے۔ اس کی جلد شادی کروا کر اس سے چھٹکارا پا لیا جائے.

بھائی نے بھی اجازت دے دی کہ اچھا رشتہ ڈھونڈ لو.

وہ سب بڑی عمر کے بتاتی، جن کی بیوی فوت ہو چکی تھی یا ویسے ہی پیسے کے بل بوتے پر دوسری شادی کرنا چاہتے تھے. عمرہ کی ماں انکار کر دیتی.

آخر عمرہ کی ماں کا ایک رشتہ جوان لڑکے کا آ گیا مگر اس کے دو بچے تھے ایک بیٹا اور ایک عمرہ جتنی چند ماہ کی بچی.

عمرہ کی ماں نے عمرہ کی محبت میں جھٹ اس رشتے کو قبول کر لیا کہ بچی کی ماں پیدا کرتے ہی فوت ہو چکی تھی.

عمرہ بچی کو بہت یاد کرتی مگر دادا دادی کہیں اسے لے کر چلے گئے تھے اور وہ اس پڑوس سے بھی پوچھ چکی تھی مگر کسی کو علم نہ تھا. عمرہ کی ماں پچھتا رہی تھی کہ کیوں ان پر ترس کھایا.



عمرہ کے نانا نانی فوت ہو گئے. عمرہ کی ماں نے ان بچوں کو ماں کی طرح پیار کیا.

شوہر تو اس کا دیوانہ بن گیا.

ایک دن وہ میکے آئی تو بچوں کی آپس میں بھابھی کے بچوں سے لڑائی ہو گئی. بھابھی نے اسے بہت سنانا شروع کر دیا اور پچھلی باتوں کے طعنے دینے شروع کر دیے.

نہ جانے بیوی نے اسے کیسے مظلوم بن کر عمرہ کی ماں کی شکایتیں لگائیں کہ بھائی نے بہن کو سنانا شروع کر دیا. یہاں تک کہہ دیا کہ خود تو آؤ مگر ان بچوں کو باپ کے پاس چھوڑ آیا کرو.

عمرہ کی ماں کو بہت دکھ ہوا اس نے کہا، 

"جہاں میرے بچے نہ آ سکیں وہاں میں کیوں جاؤں.اسکا شوہر بھی نہیں آتا تھا کیونکہ بھابھی نے کچھ اس کے خلاف ایسا بھرا تھا کہ وہ بہنوئی سے ملا تک نہیں، نہ ہی شادی میں شریک ہوا.

بھابھی اچھی بن کر اسے رخصت کرنے گئی اور سلامی وغیرہ دے آئی.

واپس آ کر بہت جھوٹ بولے، 

"ان لوگوں نے اسے نظر انداز کیا کوئی لفٹ نہ کرای کوئی عزت نہ کی. بس وہ نند کی محبت میں ڈھیٹ بن کر بیٹھی رہی اور چپ کر کے بغیر کھانا کھائے واپس آ گئی کسی نے کھانے کا بھی نہیں پوچھا.

اس کے شوہر کے دل میں بہن اور بہنوئی کے لیے غم و غصہ بھر گیا. حقیقت اس کے برعکس تھی اس کی سب سے زیادہ عزت افزائی کی گئی اور عزت سے کھانا کھلایا گیا اور اس نے ڈٹ کر کھایا.

گھر آ کر روتی صورت بنا کر بولی، 

"مجھے کھانے کی بھوک نہیں، بس ایک کپ چائے پی لوں ان کے رویہ سے سر بھاری ہو رہا ہے."

بھابھی کے ناروا رویے اور بھائی کا اس کے شوہر سے نہ ملنا اور اسے اہمیت نہ دینا دکھی کرتا. آخر اس نے ان سے راطہ توڑ لیا. گھر بدل لیا اور فون نمبر چینج کر دیا.

بھائی کو ایک دن بہن کا احساس جاگ گیا. اس نے بیوی سے کہا کہ اب ہمیں بہن کے شوہر کو عزت دینی چاہیے اور قبول کرنا چاہیے.

بیوی جو اس بارے میں جانتی تھی کہ عمرہ کی ماں نے اس آس پر فون کیا تھا کہ وہ اب اس وقت تک ادھر نہیں آئے گی جب تک اس کے شوہر اور بچوں کو عزت سے قبول نہیں کیا جاتا ورنہ وہ ہمیشہ کے لیے ناطہ توڑ کر دور چلی جائے گی.

بھابھی نے جھٹ جواب دیا 

"تم چاہے کچھ بھی کر لو تمہاری ڈیمانڈ کھبی پوری نہیں ہو گی. ہماری بلا سے جہنم میں جاؤ."

بھابھی کو یہ بھی ڈر تھا کہ اسکا شوہر بہن کو جائیداد میں سے حصہ نے دیتا رہے. عمرہ کی ماں نے سیف اور سحرش کی پرورش اپنی اولاد کی طرح کی.

 

پلیز اسے لائک ،کمنٹ اور فرینڈز کو بھی شئیر کریں شکریہ.



Continue Reading
Episode 7
ہم نے دل کو بہلا لیا7

Reader Comments

No comments yet. Be the first to share your thoughts!

Log in to leave a comment.

Related Novels

Selected For You

View More Free Novels

Editor's Choice

Handpicked favorites that you shouldn't miss.

Premium Membership

Unlock the Full Library

One subscription. Every story. Unlimited reading.

PKR 300
30 Days of Unlimited Access
Go Premium Now

Secure payment  ·  Instant access

Full Novel Library
Access every premium & exclusive novel — no episode locked
Unlimited Reading
Read as much as you want, whenever you want, at your pace
Support the Author
Your subscription directly supports Abida Z Shireen's work
New Episodes First
Be the first to read every new episode as soon as it drops
A F S R N
Join thousands of readers already enjoying premium access
Loved by readers
Our Literary World

Experience the Best Urdu Novels Online

Dive into decades of storytelling by Pakistan's most beloved author, now at your fingertips.

50+
Published Novels
30+
Years of Writing
1M+
Readers Worldwide
100%
Authentic Stories
01

The Legacy of Abida Z Shireen

Welcome to the digital sanctuary of Abida Z Shireen, one of Pakistan's most celebrated literary icons. As a premier Urdu storyteller, she has spent decades crafting narratives that capture the soul of our society. This online Urdu reading platform is designed to preserve her vast Urdu literature archive, offering readers a chance to read Urdu novels online that explore the depths of human emotion, culture, and resilience.

Read Her Story
Abida Z Shireen
Author
02

Captivating Novels & Social Sagas

From suspense-filled thrillers to heart-touching social dramas, our collection features the best Urdu novels that have captivated millions in publications like Aanchal Digest. Whether you are looking for new Urdu novels 2024 or timeless classics, Abida's work provides a unique lens into family dynamics and romantic storytelling. Dive into her world and discover why she is considered a top Urdu digest writer by fans globally.

Browse All Novels
Reading Urdu Novels on Tablet and Phone
Novels
03

Soul-Stirring Urdu Poetry Collection

Beyond prose, this platform hosts an extensive Urdu poetry collection. Abida Z Shireen's verses offer a profound look into spiritual and philosophical themes, available in both Urdu and English. As a featured Urdu poet, her work serves as a bridge between traditional rhythms and modern thought. Join our community of literature lovers to explore famous Urdu poems and exclusive literary insights found nowhere else.

Explore Poetry
Elegant Desk with Pens and Books
Poetry