Hum Ne Dil Ko Behla Liya
10 Episodesآٹھواں حصہ - Part 8
عمرہ اٹھ کر تیری سے آئی تو سحرش روتے ہوئے ماں کو بتا رہی تھی
"وہ شایان سے شادی نہیں کرے گی بلکہ آنٹی کے بیٹے راحیل سے شادی کرے گی"
ماں نے اسے تھپڑ رسید کیا تھا.
عمرہ حیران و پریشان سی کچن میں چل پڑی. اسے پہلے ہی شبہ تھا.
سحرش کی ماں کی طبیعت بہت خراب ہو گئی. سیف انہیں لے کر ہاسپٹل جانے لگا تو آنٹی نے کہا
"عمرہ تم ان کے ساتھ جاؤ."
سیف نے آٹو منگوایا اور خود بائک پر ساتھ چل پڑا.
اس کی ماں کا بی پی بہت شوٹ کر گیا تھا اس لئے اسے ایمرجنسی میں رکھا گیا. عمرہ مسلسل انہیں تسلیاں دے کر دل بہلانے کی کوشش کر رہی تھی.
سیف کے باپ کا بار بار فون آ رہا تھا وہ آٹو لے کر ہاسپٹل پہنچ چکے تھے.
سحرش نے انہیں بہت ہرٹ کیا تھا کہا تھا
"آپ نے آج سوتیلی ہونے کا ثبوت دے دیا. اگر آپ کی سگی بیٹی آپ سے اپنی خوشیوں کی بھیک مانگتی تو کیا آپ اس کے ساتھ بھی یہ ظلم کرتیں۔ اسے مارتی پیٹتی، طعنے دیتیں. اس کی خوشیوں کا خیال نہ کرتیں. میں شایان کے ساتھ کھبی خوش نہیں رہ سکتی. میں راحیل سے شادی کروں گی کیونکہ وہ میرے ٹائپ کا ہے. شایان سخت بور انسان ہے ویسے بھی وہ عمرہ کو پسند کرتا ہے. میں ایسے کسی شخص سے شادی نہیں کر سکتی، جس کے دل میں کوئی اور بستی ہو. راحیل مجھے پسند کرتا ہے. آپ لوگوں کی اس بات کے لیے کہ لوگ کیا کہیں گے کہ شادی ادھر طے تھی تو بھاڑ میں جائیں لوگ، مجھے کسی کی بھی پرواہ نہیں ہے. میں لوگوں کی باتوں کے لئے اپنی زندگی برباد نہیں کر سکتی. لوگ شادی کے بعد بھی تو نہ بنے تو خلع لے لیتے ہیں یا طلاق دے دیتے ہیں. اس سے تو اچھا ہے ناں کہ میں پہلے ہی اس رشتے سے انکار کر دوں. آپ اگر میری سگی ماں ہوتی تو میرا ساتھ دیتیں، میری خوشیوں کے لیے دنیا سے لڑ جاتیں. مگر آپ کو تو اپنی ناک عزیز ہے. میری خوشیاں جائیں بھاڑ میں. کاش میری ماں نہ مرتی تو وہ مجھے گلے لگا کر کہتی کہ بیٹی مجھے تیری خوشی سب سے زیادہ عزیز ہے. وہ مجھے مارتی نہ بلکہ مجھے تسلی دیتی کہ تو فکر نہ کر میں تیری خوشی کے لیے دنیا سے لڑ جاؤں گی. آپ نے مجھے مار کر مجھے یہ ثابت کر دیا ہے کہ آپ کو مجھ سے کوئی محبت نہیں، بلکہ دنیا کی پرواہ ہے. مجھے آپ سے یہ امید نہ تھی"
وہ روتی ہوئی اپنے کمرے میں چل پڑی.
سحرش کا باپ بیوی کے کہنے پر کہ 'آج عمرہ نہیں اٹھی ہے تو آپ آج باہر سے ناشتہ لے آئیں.' وہ ناشتہ لینے گیا ہوا تھا. سیف بھی لیٹ اٹھا تھا.
شور سنکر وہ اٹھا تھا اس نے سحرش کو روتے اور ماں کو اسے باتیں سناتے سنا تھا اس کی سمجھ میں کچھ نہیں آ رہا تھا کہ یہ کیا ہو رہا ہے. کام والی نے بتایا کہ یہ بات ہے. وہ سنکر دنگ رہ گیا کہ سحرش سے اسے یہ امید نہ تھی. پھر جب آنٹی نے چیخ کر اسے بلایا تھا.
راحیل بھی رات سے اپنے دوست کی طرف رہا تھا. آنٹی نے راحیل کو فون کر کے ساری بات بتائی تو وہ اسی وقت گھر آ گیا.
ماں نے راحیل سے ڈانٹتے ہوئے پوچھا تو اس نے بھی یہی کہا
"وہ سحرش کو پسند کرتا ہے. اسے ایسی ہی لڑکی چاہیے تھی."
ماں نے چیخ کر کہا
"اس کی شادی کی ڈیٹ فکس ہو چکی ہے تم کیسی باتیں کر رہے ہو. میں تو تمہارے لیے عمرہ کا سوچ رہی تھی."
وہ چلا کر بولا،
"توبہ کریں موم، میں اس لڑکی کو ایک منٹ بھی برداشت نہیں کر سکتا. اس جیسی بور لڑکی کو تو میں قطعی برداشت نہیں کر سکتا. میں شادی صرف سحرش سے کروں گا آپ آنٹی، انکل سے بات کریں. شادی ہونے والی ہے ہوئی تو نہیں ناں. آپ روایتی ماؤں کی طرح یہ نہ کہنا کہ دنیا کیا کہے گی بلکہ اپنے بیٹے کی خوشی کو مقدم جانیں. شایان ویسے بھی اس بور سی عمرہ کو پسند کرتا ہے وہ اسی کی طرح کی ہے. دونوں ایک جیسے ہیں خوش رہیں گے ان کی شادی کروا کر ان کی دعائیں حاصل کر لیں. ہم سے لوگوں کے پیچھے قربانیاں نہیں دی جاتیں. آپ نے اب میری خوشی دیکھنی ہے یا لوگوں کی. آپ اگر بات نہیں کر سکتیں تو میں خود کر لوں گا. آنٹی کو سحرش پر ہاتھ نہیں اٹھانا چاہیے تھا. اس نے اپنی خواہش ہی بتائی ہے کوئی جرم تو نہیں کیا سچ ہی بولا ہے. کوئی گناہ تو نہیں کیا."
اتنے میں سحرش کمرے سے سوجی آنکھوں سے آئی.
راحیل کے آتے ہی گلے لگ کر رونے لگی وہ اسے پیار سے چپ کروانے لگا. راحیل کی ماں اس کی باتوں سے سکتے کی سی کیفیت میں تھی.
اتنے میں عمرہ اور سیف اور اس کے والدین گھر واپس آ گئے.
عمرہ سحرش کی ماں کو پکڑ کر لا رہی تھی. دوسری طرف سے سیف نے پکڑا ہوا تھا. اسکا باپ ساتھ آ رہا تھا.
سب نے دیکھا، سحرش راحیل کے گلے لگی رو رہی تھی.
سیف کے باپ کو نوکرانی نے جلدی سے ساری بات بتا دی تھی وہ پرانی ملازمہ تھی.
سیف کا باپ گرج کر بولا،
"یہ کیا ہو رہا ہے تم دونوں اکھٹے کیا کر رہے ہو."
سحرش روتے ہوئے بولی،
"پلیز راحیل مجھے یہاں سے لے چلو."
وہ اسے ساتھ لگاتے ہوئے بولا،
"ٹھیک ہے جان"
راحیل کی ماں اسے ڈانٹتے ہوئے بولی،
"راحیل چھوڑو اسے، یہ یوکے نہیں ہے کہ جہاں کسی بھی لڑکی کو ایسے سب کے سامنے گلے لگا لو."
راحیل بولا،
"موم میں جانتا ہوں کہ یہ پاکستان ہے. مگر میں نے کسی اور کو نہیں اپنی بیوی کو گلے لگایا ہے۔ ہم جانتے تھے کہ آپ لوگ ہماری خوشی سے زیادہ لوگوں کی دہائی دیں گے اس لیے ہم نے کورٹ میرج کر لی ہے."
یہ سنکر سحرش کا باپ لڑکھڑا کر صوفے پر بیٹھ گیا.
سحرش کی ماں اور راحیل کی ماں بھی صوفے پر بیٹھی ہوئی تھیں.
سیف نے آ کر اسے راحیل سے کھینچا اور اسے بالوں سے پکڑ کر مارنا شروع کر دیا. راحیل نے بمشکل اسے چھڑایا اور کہا
"یہاں سب وحشی اور جنگلی لوگ رہتے ہیں جو مظلوم عورت پر ہاتھ اٹھاتے ہیں."
سحرش کے باپ نے لڑکھڑاتی آواز میں گرج کر کہا،
"اسے اسی وقت یہاں سے لے جاؤ، میں اس کی شکل بھی نہیں دیکھنا چاہتا. اس ماں کی، اس نے قدر نہ کی جس نے ان بچوں کے لئے اپنے بھائی کو چھوڑ دیا. بہت بے فیض اولاد ہے میری."
سیف ماں کے قدموں میں بیٹھ کر روتے ہوئے بولا،
"نہیں پاپا میرے لیے ماما دنیا کی سب سے عظیم اور اچھی ماں ہیں."
اس کے پاوں پکڑ کر سحرش کی طرف سے معافی مانگنے لگا. اسکا شوہر بھی ہاتھ جوڑ کر معافی مانگتے ہوئے بولا.
"مجھے معاف کر دینا کہ میں نے اس کے لاڈ اٹھاتے اسے خود سر بنا دیا."
وہ روتے ہوئے بولی،
"بچی ہے مجھے اس سے کوئی گلہ نہیں. میری بیٹی ہے."
راحیل ماں سے سامان پیک کرنے کا بولا، وہ روتی ہوئی ان سے معافی مانگنے لگی تو راحیل گرج کر بولا،
"موم ہم نے کوئی جرم نہیں کیا، الٹا انہوں نے میری بیوی کو بےدردی سے مارا ہے. اگر یہ یوکے میں ہوتے تو سحرش ان کے خلاف پولیس بلا لیتی تب ان لوگوں کو پتا چلتا."
ماں نے اسے ڈانٹ کر چپ کروا دیا.
سحرش سامان پیک کرنے لگی اور جلدی سے اگلی سیٹ پر، سامان راحیل کو پکڑا کر بیٹھ گئی.
راحیل کی ماں سے گلے ملتے ہوئے رو پڑی. اس سے اٹھا بھی نہیں جا رہا تھا.
سحرش کی ماں بولی،
"شبانہ مجھے معاف کر دینا، میرے بیٹے نے مجھے بہت شرمندہ کروایا ہے."
سحرش کا باپ روتے ہوئے بولا،
"بہن جی آپ معافی نہ مانگیں، بلکہ ہم اپنی بیٹی کی طرف سے شرمندہ ہیں."
شبانہ روتے ہوئے اس کے آگے ہاتھ جوڑتے ہوئے بولی،
"پلیز میری بچی کو معاف کر دینا وہ ناسمجھ ہے."
وہ اسکا ہاتھ پکڑ کر بولی،
"میں جانتی ہوں. تمہیں عرصے سے جانتی ہوں. جب سے تم ان بچوں کی ماں بنی ہو. ان کی ماں میری کزن تھی باپ بھی کزن ہے. ماں میری دوست بھی تھی۔ پھر تم نے کس محبت سے ان کو پالا ہے. تم فکر نہ کرو، میں ظالم نہیں ہوں. میں اس کی کوتاہیوں کو درگزر کروں گی."
شبانہ نے ممنون نظروں سے مسکرا کر اسے دیکھا.
راحیل سامان رکھ کر آیا اور ماں کو بولا،
"چلیں موم، اوکے ایوری ون، گڈ بائے."
کہہ کر چل پڑا.
شبانہ سحرش کو یاد کر کے روتی رہی. سب سوگوار بیٹھے رہے.
عمرہ مسلسل اسے دلاسے دیتی رہی کہ سحرش کی جگہ مجھے اپنی بیٹی سمجھیں. اس نے بڑھکر اسے گلے لگاتے ہوئے کہا،
"تم تو واقعی کسی نیک ماں کی اولاد ہو. تم نے تو بغیر کہے میری ایک بیٹی کی طرح خدمت کی ہے."
سیف عمرہ سے بہت متاثر ہوا اور اسے معافی مانگتے ہوئے بولا،
"تم نے تو میری سگی بہن سے بھی بڑھکر ساتھ بنھایا ہے. میں نے تمہیں غلط سمجھا. مجھے معاف کر دو."
وہ اس کے پاس آئی اور بولی،
"بہنوں سے بھائیوں کے آنسو برداشت نہیں ہوتے."
سیف نے اسے گلے لگا کر سر پر پیار کیا.
اتنے میں شایان کا فون آیا کہ گھر والے سحرش کا ناپ لینے گھر سے نکلے ہوئے ہیں.
پلیز اسے لائک ،کمنٹ اور فرینڈز کو بھی شئیر کریں شکریہ.
عشق کے عنوان کو کتابوں میں پڑھنے والوں
اس کاغذی عشق سے نہ کچھ حاصل ہو گا
سچا عشق اگر انپڑھ بھی کر لے تو
وہ اعلیٰ ڈگریوں سے افضل ہو گا.

Reader Comments
No comments yet. Be the first to share your thoughts!
Log in to leave a comment.