Hum Ne Dil Ko Behla Liya
10 Episodesچوتھا حصہ - Part 4
شایان چھپ کر پیچھے مووی دیکھنے بیٹھ گیا. سیف نے والدین سے بہانہ کیا کہ وہ پیچھے اپنے ایک پرانے دوست کے پاس بیٹھے گا جو اچانک اسے مل گیا ہے.
مووی کے وقفے میں شایان باہر نکل گیا کہ سیف کے والدین دیکھ نہ لیں.
مووی ختم ہونے سے تھوڑی دیر پہلے ہی سیف نے سحرش کو میسج کیا کہ شایان جانے لگا ہے اور عمرہ کو باہر بھیج دو. سحرش نے عمرہ کو آہستہ سے میسج دیا.
عمرہ نے اپنے چہرے کو چادر میں چھپایا ہوا تھا. تین سے چھ کا شو تھا. عمرہ باہر آئی تو سیف اور شایان نے اسے گاڑی کے پاس چلنے کو کہا،
عمرہ جب پیچھے بیٹھی تو سیف حیران ہوا. عمرہ نے گھر آ کر بہت فریش محسوس کیا. سحرش سے بھی ملاقات ہو گئی.
عمرہ سے شایان کے گھر والے بہت خوش تھے. اس کی بہن بھی بہت اچھی طرح اس سے بات کرتی کہ اس کی وجہ سے اس کے والدین اس کے پاس زیادہ وقت رہ سکے. اس کے ساس سسر بھی اچھے تھے. انکا ایک ہی بیٹا تھا.
عمرہ کو اس کے ساس سسر بھی اچھے لگے. دونوں کی جوڑی بہت پیاری تھی. دونوں بہت خوبصورت تھے. گریس فل تھے.
شایان کے والدین پاکستان آنے کا پلان بنا رہے تھے، ساتھ میں اس کے ساس سسر اور بیٹی نے بھی آنا تھا. وہ لوگ پاکستان شفٹ ہونا چاہتے تھے. انکا داماد سب کام نمٹا کر بعد میں آیا.
عمرہ نے ان لوگوں کے آنے پر بہت خاطر مدارت کی. وہ سب بہت خوش ہوئے. شایان کی بہن کا ایک چھوٹا نومولود بچہ تھا. عمرہ اس کے ساتھ لگی رہتی.
ایک دن عمرہ نے ماموں کو ڈرتے ڈرتے کال کی. جواب میں انہوں نے اسے بہت سنائی
"آئندہ کے لیے وہ اس کے لیے مر گئے ہیں. جس کے ساتھ بھاگ کر نکاح کیا ہے اسی کے ساتھ خوش رہو."
آخر میں ان کی آواز لڑکھڑا سی گئی.
عمرہ بہت اداس سی ہو گئی. اس کو یہ تسلی ہو گئی کہ ماموں اسے یہ سمجھ رہے ہیں کہ وہ اپنی مرضی سے کسی سے نکاح کر کے بھاگ گئی ہے.
اس نے دیکھا ماموں نے اسے بلاک نہیں کیا تھا. پہلے اس نے سوچا، ماموں کو مامی اور جیا کی ساری سچائی بتا دے. پھر یہ سوچ کر چپ ہو گئی کہ وہ ماموں کی فیملی ہے. ماموں نے انہیں کے ساتھ رہنا ہے. جیا ماموں کی سگی بیٹی ہے. اگر وہ سچائی بتا دے گی تو ہو سکتا ہے مامی کی چالیں ایسی ہوں کہ ماموں یقین نہ کریں. اگر بالفرض وہ یقین کر بھی لیں تو اس سے اس کو کیا فائدہ ملے گا. ماموں کا گھر برباد ہو جائے گا. وہ بےسکون ہو جائیں گے اور زہنی کرب میں مبتلا ہو جائیں گے تو بہتر یہی ہے کہ اب جیسا چل رہا ہے ویسے ہی چلنے دے.
ماموں اس سے بہت پیار کرتے ہیں وہ اس کی طرف سے پریشان بھی ہوں گے.
عمرہ نے وٹس ایپ پر ان کو میسج کیا کہ وہ یہاں ایک بہت خوبصورت اور بڑے گھر میں سب کی توجہ و محبت کے ساتھ بہت خوش وخرم زندگی گزار رہی ہے.
عمرہ نے دیکھا، ماموں نے میسج سین کر کے پڑھ لیا تھا. عمرہ میسج کر کے مطمئن سی ہو گئی کہ اب چلو ماموں کو اس کی طرف سے اطمینان تو ہو گیا ہو گا.
گھر میں شایان اور سحرش کی شادی کی تیاریاں بھی ہونے لگی تھی. عمرہ ماموں کے فون کے بعد چھپ کر لان میں بہت روتی رہی.
گھر کے کاموں کے دوران اداس اداس سی رہی. شایان نے نوٹ کر لیا. وہ کچن میں برتن دھو رہی تھی کہ وہ پانی پینے کے بہانے اس سے اداسی کی وجہ پوچھنے لگا.
عمرہ نے ماموں والی سب بات اسے بتا دی. اچانک شایان کی بہن ادھر بچے کا فیڈر بنانے آئی تو دونوں کو باتیں کرتے دیکھ کر ٹھٹک سی گئی. بڑے جانچنے والی نظروں سے گھور کر بولی،
"شانی تم ادھر ملازمہ سے کیا باتیں کر رہے ہو."
شایان زرا گھبرا گیا فوراً بولا
"میں چائے کا پوچھنے آیا تھا."
بہن نے غصہ دباتے ہوئے کہا
"وہ شام کو بنتی ہے ابھی پونے تین ہوئے ہیں."
عمرہ کو ڈانٹ کر بولی،
"جاؤ اسے یہ فیڈر بچے کو جا کر پلاؤ."
شایان نے ٹوکتے ہوئے بہن سے کہا،
"آپ اسے اس طرح کیوں بلاوجہ ڈانٹ رہی تھی. سارا دن تو وہ سب کی خدمتوں میں لگی رہتی ہے، پھر بھی آپ اسے بلاوجہ ڈانٹ کر زیادتی کرتی ہیں. میں نے نوٹ کیا ہے کہ آپ اس کو بات بات پر ذلیل کرنے لگی ہیں"
شایان کی بہن دبے غصے سے بولی،
"اور میں نوٹ کر رہی ہوں کہ تم اس پر کچھ زیادہ ہی توجہ دینے لگے ہو. ہر وقت تمہارا دھیان اسی کی طرف رہتا ہے. میری ساس نے بھی نوٹ کیا اور میں سخت شرمندہ ہوئی. شرم کرو تمہاری شادی ہونے والی ہے اور تم اس دو ٹکے کی نوکرانی کے آگے پیچھے پھرتے رہتے ہو. اس نیچ کے لیے اپنی بہن سے الجھ رہے ہو."
شایان کا صبر کا پیمانہ لبریز ہونے لگا.
اس نے بہن کو غم و غصے سے کہا
"آپ کسی کو بھی دو ٹکے کی نہیں کہہ سکتے نہ ہی وہ دو ٹکے کی ہے نہ ہی وہ نیچ ہے. خوبیوں کے لحاظ سے وہ کروڑوں، کھربوں کی عزت کے قابل ہے."
شور سنکر شایان کی ماں آ گئی. آخری بات اس نے بھی سن لی تھی. شایان غصے سے باہر نکل کر اپنے کمرے میں چلا گیا.
عمرہ نے دیکھا وہ کافی پریشان سا لگ رہا تھا. اسے فکر ہونے لگی.
وہ کمرے سے نکلی، فیڈر کچن میں رکھی. دیکھا سب لوگ شاید اکھٹے کمرے میں کوئی بات کر رہے ہیں.
عمرہ نے سوچا، شایان اس کی اتنی فکر کرتا ہے. وہ اداس تھی تو صرف اس نے محسوس کیا اور پوچھا. چلو وہ بھی اس سے پریشانی کا سبب پوچھے.
شایان کمرے سے نکلا تو وہ پوچھنے لگی تو شایان نے اسے لان میں آنے کا بولا. عمرہ حیران و پریشان سی پیچھے چل پڑی.
شایان نے اسے جاتے ہی اس کے ہاتھوں کو پکڑ کر جزباتی انداز میں کہا
"وہ بہت مجبور ہو کر یہ بات کہنے پر مجبور ہو گیا ہے کہ وہ اس سے پہلی بار میں ہی پسند کرنے لگا تھا اور اس کے بغیر نہیں رہ سکتا."
عمرہ نے ایک تھپڑ اس کے منہ پر مارا اور اسے غم و غصے سے کانپتے ہوئے بولی،
"تم نے سوچ بھی کیسے لیا کہ تم اتنی گھٹیا بات مجھ سے کرو گے تو میں خوش ہو کر اپنی جگری دوست کے حق پر ڈاکہ ڈال کر تمہاری محبت کا دم بھروں گی. مجھے افسوس ہے کہ میں تمہیں ایسا نہیں سمجھتی تھی. تمہاری شادی ہونے والی ہے. سحرش تمہارے ساتھ زندگی گزارنے کے خواب دیکھ رہی ہے اور ایک تم ہو کہ ادھر اس کے ساتھ دھوکہ کر رہے ہو."
شایان غم سے نڈھال انداز میں بولا،
"میں جانتا تھا کہ تم میرے ساتھ ایسا ہی کرو گی مگر خود سوچو، اگر میں اس سے شادی کر کے دل میں کسی اور کو بسائے رکھوں تو یہ اس کے ساتھ زیادتی نہ ہو گی. ابھی شادی ہوئی تو نہیں ہے ناں. وہ پڑھی لکھی خوبصورت لڑکی ہے اسے کوئی بھی اچھا لڑکا مل جائے گا. مگر میں اس سے جھوٹی محبت کے سہارے زندگی بتانے کے لیے یہ نہیں کر سکتا."
وہ تقریباً روتے ہوئے سمجھانے والے انداز میں بولا،
"خدا کے لیے عقل سے سوچو. میں تمہارے بغیر نہیں رہ سکتا نہ ہی تمہیں کسی اور کا ہوتا دیکھ سکتا ہوں. میں تمہارے بغیر مر جاؤں گا."
عمرہ روتے ہوئے بولی،
"سیف تمہارا جگری دوست ہے اس کے بارے میں سوچو. اس کی بہن کو تم ٹھکراؤ گے تو اس کے دل پر کیا بیتے گی. ایک لڑکی کی شادی ٹوٹ جائے تو اس پر کیا بیتی ہے. اس کے والدین زندہ درگوں ہو جاتے ہیں. اس لڑکی کو سب شک کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ کوئی اس لڑکی کو اپنانے کے لیے تیار نہیں ہوتا. اس کی زندگی برباد ہو جاتی ہے. میں تمہیں اپنی پیاری دوست کی زندگی برباد نہیں کرنے دوں گی میں تمہیں کھبی معاف نہیں کروں گی. تم سحرش کا سچی دوستی پر سے اعتبار توڑنا چاہتے ہو.سیف مجھے بہن کا درجہ دیتا ہے وہ بھی یہ سوچے گا کہ میں نے اس کی مدد کی اور اس نے احسان فراموشی کی. مجھے اپنے گھر والوں کی نظروں میں گرانا چاہتے ہو. سب کی نظروں میں گھٹیا بنانا چاہتے ہو."
شایان بولا،
"ایسا کچھ نہیں ہو گا اب وہ زمانہ نہیں رہا. سب کو عقل سے کام لے لینا ہوگا اور میری مجبوری اور بےبسی کو سمجھنا ہوگا. تمہیں کوئی کچھ نہیں کہے گا نہ میں کہنے دوں گا. میں سیف کو سمجھا لوں گا وہ میرا دوست ہے. بس تم مان جاؤ. جب تک سحرش کا اچھی جگہ رشتہ نہ ہو جائے ہم شادی نہیں کریں گے. پرامس ہے میرا تم سے."
عمرہ نے صاف لفظوں میں پرزور انداز میں کہا،
"اگر اس نے سحرش سے شادی نہ کی تو وہ اپنے آپ کو ختم کر لے گی."
وہ التجایا لہجے میں بولا،
"اتنی ظالم نہ بنو. میں نہ خود خوش رہوں گا نہ ہی اسے خوش رکھوں گا. ایک زندہ لاش بن کر رہ جاؤں گا. ایک زندہ لاش کے ساتھ اپنی زندگی برباد کرنا چاہتی ہو."
عمرہ بولی،
"اب وہ زمانہ نہیں رہا. سحرش کے ساتھ شادی ہوتے ہی تم سب بھول جاؤ گے اور مجھے امید ہے کہ سحرش تمہیں بہت خوش رکھے گی."
اس نے ہاتھوں کو اس کے سامنے جوڑتے ہوئے روتے ہوئے منت بھرے لہجے میں کہا
"پلیز اس کی بات مان لو."
اتنے میں دونوں نے دیکھا سب ان دونوں کو بغور دیکھ رہے تھے. لگتا تھا ان سب نے ان کی باتیں سن لی ہیں.
پلیز اسے لائک ،کمنٹ اور فرینڈز کو بھی شئیر کریں شکریہ.
شعر.

Reader Comments
No comments yet. Be the first to share your thoughts!
Log in to leave a comment.