Logo
Hum Ne Dil Ko Behla Liya
10 Episodes
Hum Ne Dil Ko Behla Liya EP 2
Episode 2

ہم نے دل کو بہلا لیا2

Hum Ne Dil Ko Behla Liya

دوسرا حصہ - Part 2


مامی نے اسے جب یہ بتایا کہ آج شام کو اسکا نکاح میرے بھانجے سے ہو گا تو وہ سنکر پریشان ہو گئی. جانتی تھی کہ احتجاج کا کوئی فائدہ نہیں. اس نے سب سے پہلے موبائل آف کر کے چھپا دیا.

جیا کمرے میں آئی اور بولی، 

"یہ لو تمہاری شادی کا جوڑا. آج ہی تم اس گھر سے رخصت ہو جاؤ گی. پھر بھی تم میری ماما کا احسان مانو کہ وہ تمہیں گھر سے نکال رہی ہیں اپنے خاندان سے نہیں. ویسے بھی تم لکی ہو کہ وہ تمہیں اپنے ساتھ دوبئی لے جائے گا اور تم وہاں عیش کرو گی. شام تک ٹائم پر تیار ہو جانا دیر نہ کرنا  اور ہاں مجھے اپنا موبائل دے دو."

عمرہ نے کہا، 

"وہ غلطی سے سحرش کے گھر میں رہ گیا ہے"

جیا نے تھوڑی دیر سوچا پھر یقین کر لیا کیونکہ پہلے بھی ایک دو بار ایسا ہو چکا تھا. وہ کمرے سے  چلی گئی.

عمرہ نے سحرش کو واش روم میں جا کر میسج کر کے ساری صورتحال بتائی.

اس نے کہا،

"تم چپکے سے بیگ بنا لو اور موقع پا کر نکل آنا. میں ماما سے بات کرتی ہوں."

جیا کمرے میں لیب ٹاپ لگا کر بیٹھ گئی. عمرہ مامی کے پاس گئی اور نارمل انداز میں بولی،

"مامی آپ کا بہت شکریہ کہ آپ نے مجھے اپنے خاندان میں جگہ دی."

پھر وہ رونے لگی.

مامی نے غصے سے کہا، 

"اب خوشی کے موقع پر رونا دھونا مت مچاؤ اور یاد رکھنا میرے بیٹے اور ماموں کے سامنے زبان کھولی تو بہت برا حشر کروں گی. تمہیں خوش ہونا چاہیے کہ میری بہن تمہیں اپنی بہو بنا رہی ہے."

عمرہ بولی، 

"میں کیوں بتاؤں گی کسی کو کچھ. آپ میرا نکاح کر رہی ہیں، آپ کی بہن کا گھر ہے. مجھے ایک عزت کا ٹھکانہ مل جائے گا اور کیا چاہیے. ورنہ مجھ لاوارث کا کیا فیوچر ہے بھلا"

مامی سے پوچھنے لگی 

"کیا میں اپنا سامان پیک کر لوں"

مامی بولی،

"ہاں لیکن صرف کپڑے وغیرہ، لیب ٹاپ جیسی قیمتی چیزوں کو لے کر جانے کی ضرورت نہیں ہے. وہ تو ویسے بھی سحرش کے گھر پر ہے. میں اسے کہوں گی جیا کو میرا موبائل اور لیب ٹاپ پکڑا دے گی."

مامی بولی 

"اچھا"

مامی نے جیا سے تسلی کی کہ اس کا کسی کے ساتھ کوئی چکر وکر تو نہیں ہے ناں. کہیں بھاگنے کا پروگرام تو نہیں اسکا. بڑی آسانی سے مان گئی ہے.

جیا مزاق اڑانے والے انداز میں بولی، 

"او ماما اس بدو کو کون لفٹ کرائے گا سارے لڑکے تو مجھ پر مرت...."

ماں نے غصے سے پوچھا، 

"کیا مطلب" 

جیا غرور سے بولی، ماما آپ کی بیٹی خوبصورت ہے تو لڑکے تو مرتے ہی ہیں خوبصورت لڑکیوں پر. مگر میں کسی کو بھی بلکل لفٹ نہیں کراتی."

مامی کو ان کی بہن کا فون آ گیا 

"مولوی صاحب کل آئیں گے. اس لیے کل نکاح ہو گا. لڑکی تو راضی ہے ناں."

"ہاں ہاں راضی ہے. نہ بھی ہوتی تو راضی کروا لیتے"

عمرہ نے کپڑوں کے بیگ میں کمپیوٹر چھپا کر ڈالا اور کپڑے ڈال کر اسے سٹور میں رکھ آئی. بس ضرورت کے کپڑے ڈالے اور باقی سامان ادھر ہی رکھ دیا کہ اتنا لے کر جانا بھی مشکل ہے.

عمرہ نے جب سنا کہ نکاح کل ہے تو اس نے شکر کا سانس لیا.


رات پڑنے لگی مگر عمرہ کو موقع نہیں مل رہا تھا کہ وہ نکلے. اس کے پاس کچھ رقم تھی جو ماموں اکثر اسے دیتے رہتے تھے وہ اس نے مامی اور جیا سے چھپا کر رکھی تھی. اس کو بھی ڈالا.

اس نے شکر کیا کہ اسکا کمرہ اب جیا کے ساتھ نہیں تھا سٹور باہر کے دروازے کے قریب تھا. اس نے سپنا بیگ باہر گیراج میں بنی ایک الماری میں چھپا کر رکھ دیا کہ جب موقع ملے گا وہ ادھر سے ہی نکل جائے گی.


رات کھانا وغیرہ کھلا پلا کر وہ فارغ ہوئی تو مامی آج اس پر نظر رکھے ہوئے تھی. اسے رات کو بھاگنے کا موقع نہ مل سکا. رات گیارا بج چکے تھے اور باہر گلی سنسان تھی. کتے بھی بھونک رہے تھے.

سحرش نے کہا، 

"فجر کی نماز کے بعد موقع پا کر نکلنا. ابھی رسک ہے"

عمرہ مایوس ہو کر اپنے کمرے میں جو سٹور تھا چٹائی پر آ کر لیٹ گئی. اسے دادی، دادا یاد آنے لگے، وہ رونے لگی۔ اس کی دادی کہتی تھی کہ میں اپنی پوتی کی شادی بہت دیکھ بھال کر کروں گی، میری لاڈلی پوتی ہے. اسے سسرال میں کوئی تکلیف نہ ہو.

روتے روتے سو گئی.

اسے سٹور لاک کر کے سونے کی اجازت نہ تھی. مامی اور جیا نے اسے سونے سے پہلے کافی بار چیک کیا جب تسلی ہو گئی تو وہ سونے چلی گئیں.

فجر کی اذان کے وقت اس کی آنکھ کھلی، جلدی سے وضو کیا، نماز پڑھی اور برقع پہن کر منہ لپیٹ کر ہلکی آواز سے دروازہ کھول کر دبے پاؤں باہر نکل گئی.


باہر نمازی جا رہے تھے کچھ تو جاننے والوں میں شمار تھے مگر عمرہ نے منہ پر ماسک کے علاوہ اچھی طرح سے چادر لپیٹ رکھی تھی. وہ تیز تیز قدموں سے بیگ اٹھائے جا رہی تھی ڈر تھا کہ مامی یا جیا نہ آ جائیں.

وہ اب ہانپتی کانپتی مین سڑک پر آ گئی تھی. پاس سے ایک سوزوکی گزری مگر آگے جا کر اس نے روک دی. عمرہ ڈرنے لگی کیونکہ سڑک پر اکا دکا ٹریفک چل رہی تھی. سوزوکی والا اسے جانچنے والی نظروں سے دیکھ رہا تھا.

سوزوکی والے نے اتر کر اسے کہا، 

"کیا اکیلی ہو، گھر سے ناراض ہو کر آئی ہو.چلو آو میرے ساتھ میں تمہیں چھوڑ دیتا ہوں."

وہ اس کے بیگ کو کھینچنے لگا. 

عمرہ نے اسے ڈانٹ کر کہا،

"جاؤ یہاں سے، میں نے تمہارے ساتھ نہیں جانا."

اتنے میں قریب سے ایک بائیک گزری جس پر دو لڑکے سوار تھے. وہ یہ دیکھ کر رک گئے.

انہوں نے پوچھا، 

"کیا معاملہ ہے."

سوزوکی والے نے کہا، 

"کچھ نہیں یہ ہم میاں بیوی کا معاملہ ہے. یہ میری بیوی ہے اور ناراض ہو کر گھر سے جا رہی ہے."

دوسرا لڑکا پہلے لڑکے سے بولا، 

"ہاں چلو یار یہ میاں بیوی کا معاملہ ہے."

انہوں نے بائیک اسٹارٹ کی اور چل پڑے. عمرہ نے سنا تو ہکا بکا رہ گئی.

 

پلیز اسے لائک ،کمنٹ اور فرینڈز کو بھی شئیر کریں شکریہ.

شعر

ہمارا تم پے فدا ہونا ایسے تو نہیں جاناں

تم میں جو بات ہے کسی اور میں کہاں.

#شاعرہ_عابدہ_زی_شیریں #abidazshire



Continue Reading
Episode 3
ہم نے دل کو بہلا لیا3

Reader Comments

No comments yet. Be the first to share your thoughts!

Log in to leave a comment.

Related Novels

Selected For You

View More Free Novels

Editor's Choice

Handpicked favorites that you shouldn't miss.

Premium Membership

Unlock the Full Library

One subscription. Every story. Unlimited reading.

PKR 300
30 Days of Unlimited Access
Go Premium Now

Secure payment  ·  Instant access

Full Novel Library
Access every premium & exclusive novel — no episode locked
Unlimited Reading
Read as much as you want, whenever you want, at your pace
Support the Author
Your subscription directly supports Abida Z Shireen's work
New Episodes First
Be the first to read every new episode as soon as it drops
A F S R N
Join thousands of readers already enjoying premium access
Loved by readers
Our Literary World

Experience the Best Urdu Novels Online

Dive into decades of storytelling by Pakistan's most beloved author, now at your fingertips.

50+
Published Novels
30+
Years of Writing
1M+
Readers Worldwide
100%
Authentic Stories
01

The Legacy of Abida Z Shireen

Welcome to the digital sanctuary of Abida Z Shireen, one of Pakistan's most celebrated literary icons. As a premier Urdu storyteller, she has spent decades crafting narratives that capture the soul of our society. This online Urdu reading platform is designed to preserve her vast Urdu literature archive, offering readers a chance to read Urdu novels online that explore the depths of human emotion, culture, and resilience.

Read Her Story
Abida Z Shireen
Author
02

Captivating Novels & Social Sagas

From suspense-filled thrillers to heart-touching social dramas, our collection features the best Urdu novels that have captivated millions in publications like Aanchal Digest. Whether you are looking for new Urdu novels 2024 or timeless classics, Abida's work provides a unique lens into family dynamics and romantic storytelling. Dive into her world and discover why she is considered a top Urdu digest writer by fans globally.

Browse All Novels
Reading Urdu Novels on Tablet and Phone
Novels
03

Soul-Stirring Urdu Poetry Collection

Beyond prose, this platform hosts an extensive Urdu poetry collection. Abida Z Shireen's verses offer a profound look into spiritual and philosophical themes, available in both Urdu and English. As a featured Urdu poet, her work serves as a bridge between traditional rhythms and modern thought. Join our community of literature lovers to explore famous Urdu poems and exclusive literary insights found nowhere else.

Explore Poetry
Elegant Desk with Pens and Books
Poetry