Hum Ne Dil Ko Behla Liya
10 Episodesدسواں حصہ - Part 10
عمرہ خوش ہونے کے ساتھ دل میں ڈر بھی رہی تھی کہ نہ جانے ماموں اور مامی کیا سلوک کریں، چلو ماموں کو اتنے عرصے کے بعد ایک بار دیکھ تو لوں گی ناں
جب وہ ماموں کے گھر پہنچی، دھڑکتے دل کے ساتھ بیل کی تو شبانہ کے شوہر کو کچھ یاد آ
گیا کہ یہ گھر تو شبانہ کے بھائی کا ہے. وہ کھبی اس گھر میں داخل تو نہیں ہوئے تھے مگر انہیں گھر کا علم تھا. چند بار شبانہ کو ڈراپ کرنے آئے تھے
انہوں نے سوچا کہ وہ اپنی پیاری بیوی کو بھائی سے راضی کروانے کے لیے کچھ بھی کریں گے اور عمرہ کی سچائی کا بھی پتا لگائیں گے
دروازہ ایک تقریباً 35 سال کی عمر کی ایک گوری چٹی خوبصورت عورت نے دروازہ کھولا، اور پوچھا
کس سے ملنا ہے
عمرہ نے کہا،
یہ میرے ماموں اسد کا گھر ہے.
آپ کون ہیں.؟
وہ حیرت سے بولی
کیا آپ عمرہ ہو
عمرہ بولی
جی مگر، آپ کون ہیں اور مجھے کیسے جانتے ہیں
وہ خوشی سے جزباتی انداز میں جلدی سے بولی
پلیز آپ اندر آئیں
پھر زور زور سے آوازیں دینے لگی،
اسد صاحب آپ کی بھانجی عمرہ آئی ہے
وہ تیزی سے آئے اور عمرہ کو گلے لگا کر میری بچی کہہ کر روتے رہے۔ بڑی مشکل سے اس عورت نے انہیں چپ کروا کر پانی دیا اور کرسی پر بٹھایا
عمرہ کو بھی گلے لگا کر پیار کیا اور پانی دیا. سیف کے والد کو بھی عزت سے بٹھایا اور پانی دیا
عمرہ نے جیا اور مامی کا پوچھا تو ماموں بولے
وہ اپنے کیے کی سزا بھگت رہی ہیں
عمرہ نے سامنے کھڑی عورت کا پوچھا تو بولے
یہ تمہاری مامی ہیں
عمرہ بہت حیران ہوئی
اس عورت نے کہا
میں چائے بنا لاؤں
عمرہ نے کہا
میں بھی آپ کی ہیلپ کے لیے آتی ہوں
تو ماموں بولے،
تم ادھر میرے پاس بیٹھو، شمسہ تم جاؤ
شمسہ بولی،
گڑیا رانی آپ بیٹھو ماموں سے باتیں کرو
ماموں نے پوچھا،
ان کا تعارف کراؤ
انہوں نے سیف کے والد کی طرف اشارہ کرتے ہوئے پوچھا
سیف کے والد مسکرا کر بولے
جناب اگر میں نے بتا دیا تو پہلی بار سسرال کی چائے نصیب ہو رہی ہے یہ نہ ہو کہ بغیر چائے کے آپ کی بہن کے پاس جانا پڑے گا
وہ حیرت سے چونک کر دیکھتے ہوئے بولے
کہاں ہے میری بہن، وہ اسے جھنجھوڑ کر چلا کر بولے
شمسہ شور سنکر بھاگتی آئی اور حیرت سے پوچھنے لگی
اب کیا ہوا
سیف کے والد نے انہیں پکڑ کر بٹھایا اور کندھے پر ہاتھ رکھ کر بولے
محترم آپ کی بہن بلکل ٹھیک ٹھاک ہے
وہ روتے ہوئے اس سے معافی مانگنے لگے
سیف کے والد نے انہیں کہا
کوئی بات نہیں ہے ایسی، آپ ریلیکس رہیں
وہ منت بھرے انداز میں بولے
میری بہن سے مجھے جلد ملوا دو پلیز
سیف کے والد نے کہا
میں بیٹے سے کہتا ہوں اسے ادھر لے آتا ہے
سیف کے والد نے سیف کو فون پر ساری بات بتائی اور ماں کو اسے لانے کا کہا
سیف بہت خوش ہوا اس نے کہا
پاپا لوکیشن جلدی بھیجیں
باپ نے جواب دیا
وہی اس کے بھائی کا پرانا گھر اسے یاد ہو گا
سیف بولا
پاپا پھر بھی لوکیشن بھیج دیں اب اتنا وقت گزر گیا ہے چینچیز آ گئی ہوں گی
عمرہ نے اسے لوکیشن بھیج دی
سیف نے جب ماں کو ماموں کی خوشخبری سنائی اور ساری بات بتائی اور چلنے کا کہا، تو وہ خوشی سے زور زور سے سیف کو گلے لگا کر رونے لگی.
بڑی مشکل سے اس نے پانی پلایا اور کہا
چلیں ملنے
وہ بولی
پہلے میں شکرانے کے نفل ادا کر لوں
وہ وضو کر کے نفل ادا کرنے لگی
جب شبانہ وہاں پہنچی تو بھائی بہن کتنی دیر گلے لگ کر روتے رہے
شمسہ نے ان دونوں کو تسلی دی
اب انشاءاللہ آپ لوگ کھبی جدائی کا درد نہیں سہیں گے
بھائی نے جیا اور بیوی کی سٹوری سنائی
جب عمرہ کی شادی میری بیوی اپنے نشئی بھانجے سے کرنا چاہتی تھی، جو میٹرک بھی پاس نہ تھا تو عمرہ سحرش کے پاس چپکے سے چلی گئی۔ میں واپسی کا ٹکٹ کٹوا چکا تھا میرا کام جلد مکمل ہو چکا تھا میں اچانک آ کر سرپرائز دینا چاہتا تھا۔ جب گھر میں داخل ہوا تو بیوی رو رہی تھی کہ اس کی بہن میری بیٹی سے زبردستی نکاح پڑھوا کر اسے بھیج چکی ہے اور اب مجھے سنا رہی ہے۔ میں بہت شاکڈ ہوا، میں نے سالی سے گرج کر کہا، تمہاری جرآت کیسے ہوئی۔ اس نے بہن کے سب پول کھول دیے کہ کیسے اس نے عمرہ کی ماں کا اس گھر سے ناطہ توڑا. پھر عمرہ پر الزام لگا کر آپ کو گمراہ کرنے کی کوشش کی. اور میرے بیٹے سے اسکا نکاح فکس کر دیا
جب عمرہ نہ ملی تو میں نے اس کی بیٹی سے نکاح کروا کر بھیج دیا۔ پھر وہ چپکے سے نکل گئی کیونکہ میں غصے میں اپنے حواس کھو بیٹھا تھا۔ میں نے اسے بہت مارا اور اسے طلاق دے دی۔ پڑوسی شور سنکر آ چکے تھے. ان کے سامنے بیوی کو طلاق دے دی
پڑوسن اسے لیکر اپنے گھر چلی گئی اور میرے بیٹے کو فون کرکے سارا احوال بتایا
بیٹے نے مجھے فون کیا تو اس نے کہا
آپ نے ماں کو طلاق نہیں دینی چاہیے تھی اس عمر میں اب وہ دنیا کو کیا بتائیں گی۔
میں پہلے ہی بھرا بیٹھا تھا اسے کہا
شکر کرو اسے جان سے نہیں مارا. اس نے جو ظلم کمائے ہیں وہ میری بیٹی سزا بھگت رہی ہے
میں سالی کے گھر پولیس لے کر گیا تھا بیٹی کو واپس لانے، مگر شاید اسے اندازہ تھا اس لئے وہ لوگ وہاں سے چلے گئے۔ اب میری بیٹی ماں کے گناہوں کا کفارہ ادا کرے گی کیونکہ ماں نے اس کو اپنے ساتھ ظلم میں معاون بنایا ہوا تھا۔ جتنا برا اس نے عمرہ کے لئے سوچا اس سے زیادہ اس کی بیٹی کے ساتھ ہوا۔ میں اسے تھک ہار کر ڈھونڈنے کی کوشش میں ناکام ہو کر بیٹھ گیا
بیٹا آیا اور ماں کو اس کے بھائی کے گھر چھوڑ گیا. وہاں وہ موزی مرض میں مبتلا ہو گئی. بھابھی اور اس کے بچے الگ طعنے دیتے اسے. بھائی بھی اکثر طعنہ دے جاتا
آخر موبائل فون پر ریکارڈنگ کر کے عمرہ، اس کی ماں اور مجھ سے بہت معافیاں مانگتی رہی. اپنے گناہوں پر نادم تھی. بیٹی کا غم بھی اسے کھائے جا رہا تھا جب اس کی بہن نے اسے فون پر جیا کے بیٹے کی پیدائش کی مبارک باد دی. سنکر وہ اسی دن فوت ہو گئی
بیٹی نے بھی قسمت کے ساتھ سمجھوتہ کر لیا کیونکہ اس کے شوہر اور ساس نے اس سے بچہ چھننے کی دھمکی دی تھی. وہ اپنے بچے سے بہت پیار کرتی ہے
بھائی نے اسے طلاق لینے کا بولا، مگر اس نے انکار کر دیا. اب مجبوراً ہمیں ان لوگوں کو قبول کرنا پڑا ہے۔ کافی حد تک وہ اب کچھ سدھارنے لگا ہے۔ شمسہ بیوہ تھی محلے کے لوگوں نے ہم دونوں کو منا کر نکاح پڑھوا دیا کہ آپ بھی اکیلے رہتے ہیں اور وہ بھی اکیلی ہے۔ شمسہ جیسی بیوی ملی تو پتا چلا کہ دنیا میں جنت ہے
بیٹا ماں کی تدفین کے موقع پر پہنچ گیا تھا وہ سارا خرچہ بھی بھیجتا تھا مگر پھر بھی وہ لوگ اس سے تنگ تھے
شمسہ کی شبانہ بہت تعریف کرنے لگی جو ملازمہ کے ساتھ ملکر سب کے لیے کھانا تیار کر رہی تھی
شبانہ اور عمرہ رونے لگیں کہ وہ جیسی بھی تھیں اپنی تھی. انہوں نے اس کی مغفرت کی دعا کی.
یوکے سے ماموں کے بیٹے کا فون بھی آ گیا اور بہت خوش ہوا. عمرہ سے بھی بات کی. دونوں نے اس کی ماں کا رو کر بہت افسوس کیا.
عمرہ کے ماموں سیف اور اس کے والد سے گپ شپ لگاتے رہے. عمرہ اور شبانہ نے بھی اپنی آپ بیتی سنائی
شایان کو سیف نے فون پر سب بتایا تو وہ ادھر آنے کے لیے تیار ہو گیا
شایان کا غائبانہ تعارف سیف کے باپ نے کروا دیا تھا کہ وہ عمرہ کے ساتھ شادی کرنا چاہتا ہے
عمرہ کی ماں اور عمرہ کو ماموں کی خوشی میں یاد ہی نہیں رہا کہ عمرہ کی حقیقت جانیں
جب دونوں کو پتا چلا کہ وہ ماں بیٹی ہیں تو شبانہ بے ہوش ہو گئی
عمرہ بھی خوشی اور غم سے نیم بے ہوش تھی. شبانہ کو پانی پلا کر ہوش میں لایا گیا
شایان بھی پہنچ چکا تھا
دونوں ماں بیٹی گلے لگ کر خوب دھاڑیں مار مار کر روئیں
عمرہ نے کہا
اس کے دادا دادی نے ساری زندگی اس سچائی کو اس سے چھپائے رکھا کہ وہ اس سے دور نہ ہو جائیں
عمرہ کا ماموں شایان سے ملکر خوش ہوا. اور اس کے بارے میں سارا کچھ پوچھنے کے بعد بولا
برخوردار تم گھر والوں کو بھیجو ان کا منہ میٹھا کروائیں گے انشاءاللہ
شایان نے خوشی اور جوش میں ان کے ہاتھوں کو چوم کر بہت شکریہ ادا کیا
سیف نے مکا دکھاتے ہوئے کہا،
اب ہم دوست نہیں، میں تیرا سالا ہوں خبردار جو میری بہن کو کوئی تکلیف دی
دونوں مسکرا کر گلے ملے
شمسہ نے سب کو کہا
اب بہت ہو گیا رونا دھونا اب خوشیاں ہماری منتظر ہیں. چلیں سب کھانا کھا لیں. کھیر بنائی ہے سب کا خوشی میں منہ میٹھا کرنے کے لیے
شایان جانے لگا تو شمسہ بولی
بیٹا خبردار جو کھانے کے بغیر گئے اب تو تم اس گھر کی اہم شخصیت بننے والے ہو
سب مسکرانے لگےعمرہ شرما گئئ
شبانہ نے نظروں سے اس کی بلائیں لیں
شبانہ کی خوشیوں کا کوئی ٹھکانہ نہ تھا. عمرہ نے سحرش کو معاف کرنے پر اصرار کیا
سحرش بھی اب اپنی غلطی پر پچھتا رہی تھی. گو راحیل اور اس کی ماں کا رویہ اس کے ساتھ بہت اچھا تھا مگر اسے شبانہ کے آگے شرم محسوس ہو رہی تھی کہ وہ تو اس کی ماں کا نعم البدل تھی
اسے شدت سے چاہتی تھی اس کی زرا سی تکلیف پر تڑپ جاتی تھی. اب سحرش اسے یاد کر کے روتی تھی
اس کی گھر والوں کو فون کرنے کی ہمت نہ تھی. راحیل اور آنٹی اس کے دکھ کو سمجھتی تھیں اب وہ امید سے بھی تھی. دونوں اس کا بہت خیال رکھتے
اسے دولہن بننے مہندی، مایوں کی رسموں کا کتنا شوق تھا مگر یہ سب نہ ہو سکا
راحیل نے کہا تھا کہ تمہارے گھر والے راضی ہوں تو میں ولیمہ کر لوں، مگر اب اس حالت میں جبکہ اس کی طبیعت بھی بوجھل رہتی تھی اسے کسی چیز کا بھی ہوش نہ تھا
عمرہ نے اسے فون کیا اور تمام باتیں بتائیں. وہ اس کے فون سے جی اٹھی
عمرہ سیف کے ساتھ اسے ملنے گئی
سیف پہلے کچھ ناراض سا رہا مگر بعد میں راحیل اور اس کی ماں کا رویہ اچھا دیکھ کر خوش ہو گیا اور راحیل سے نارمل ہو گیا. سحرش خوش تھی کہ عمرہ اس کی بہن ہے. آنٹی نے اسے بہت مبارکباد دی
عمرہ نے سب کو دعوت پر انوئیٹ کر دیا اور ادھر ہی شبانہ اور سحرش کی بات کروا دی. شبانہ نے بہت محبت سے اس کا حال پوچھا
کیسی ہو میری لاڈلی بیٹی
سحرش یکدم زور سے رو پڑی اور معافی مانگنے لگی
شبانہ بولی
مت رو مجھ سے برداشت نہیں ہو رہا. میں تم سے خفا نہیں ہوں. یہ تمہارا گھر ہے جب جی چاہے آؤ.
پاس بیٹھا اس کا شوہر شبانہ کی باتیں سنکر اپنی قسمت پر ناز کر رہا تھا.
سحرش لوگ دعوت پر آئے اور بہت خوش ہوئے. سحرش باپ سے مل کر بھی معافی مانگتے ہوئے رو پڑی.
آنٹی اور شبانہ پہلے کی طرح گپ شپ میں مصروف تھیں. سب گھل مل گئے تھے. رات لیٹ نائٹ سب واپس گئے
شایان نے والدین کو وارننگ دے دی کہ وہ جلد عمرہ کا رشتہ لیکر جائیں
ان کو ساری بات بتا دی کہ عمرہ شبانہ آنٹی کی بیٹی ہے
شایان کی بہن کے سسرال والوں نے قریب ہی گھر رینٹ پر لے لیا تھا اور اسی سوسائٹی میں وہ اپنا بڑا سا گھر تعمیر کروا رہے تھے
شایان کی بہن زیادہ وقت میکے میں گزارتی تھی
اس نے سنا تو جھٹ بولی،
اب ہم ایک نوکرانی کو اس اتنے بڑے گھر کی بہو بنائیں گے
شایان چڑ کر بولا،
اگر بالفرض اس گھر میں نوکرانی بن کر بھی رہ رہی تھی تو کیا نوکر انسان اپنی رضا اور خوشی سے بنتا ہے. یہ اللہ تعالیٰ کی مرضی جسے چاہے امیری دے، جسے چاہے غریبی دے
کوئی انسان اپنی مرضی سے غریب نہیں ہوتا. کیا تم اپنی مرضی سے اس گھر میں پیدا ہوئی ہو. اگر تمہارا بس چلتا تو تم تو ملکہ الزبتھ بنتی.میری لائف ہے میں نے گزارنی ہے اور جس کے ساتھ مجھے پسند ہو گا میں اسی سے شادی کروں گی. تم میرے معاملے میں اپنی ٹانگ مت اڑاو
بہن نے ناراض ہو کر ماں سے کہا
دیکھو موم ابھی وہ آئی بھی نہیں اور یہ مجھ سے لڑ رہا ہے
وہ منہ بنا کر کمرے میں چل پڑی
ماں نے بیٹے کو ڈانٹا
بہن کو ناراض کر کے خوش نہیں رہو گے. میری بیٹی کو جا کر راضی کرو ورنہ میں نہیں جاؤں گی
باپ قریب بیٹھا ہوا تھا
شایان نے کہا
پرسوں سنڈے ہے اور آپ لوگ میرے ساتھ ان کے گھر چل رے ہیں. میں نے اسے کوئی ناراض نہیں کیا
باپ نے کہا
ٹھیک ہے بیٹا تم سیف کو فون کر کے پوچھ لو کہ کہاں جانا ہے اس کے گھر یا اس کے ماموں کے گھر
شایان کے والد نے کہا
بیگم تم بیٹی کو شہہ مت دو. شانی نے کوئی ایسی غلط بات نہیں کی. یہاں آ کر گھر کا ماحول خراب نہ کیا کرے. جائے اور جا کر اپنے گھر میں دلچسپی لے. ساس سسر کی خدمت کرے
ماں نے دیکھا کہ اب بیٹی کو سمجھانا ہی پڑے گا
بیٹی نے بھی دیکھا کوئی لفٹ نہیں مل رہی تو خود ہی کچھ منہ بنائے باہر آ کر بیٹھ کر سب کے ساتھ چائے پینے لگی
شایان کے والد نے بیٹی کے سسر کو بھی ساتھ چلنے کا کہا
سیف نے بتایا کہ ماموں کا بیٹا بھی یوکے سے آیا ہوا ہے
اس نے کہا ہے کہ عمرہ کو میں اپنے گھر سے رخصت کروں گا
شایان کی بہن بھی تیار کھڑی تھی
عمرہ کے گھر والے ماموں کے گھر پر موجود تھے. سحرش اور اس کی آنٹی بھی موجود تھیں
جیا بہت اداس سی شامل تھی اپنے شوہر اور ساس کے ساتھ انوائیٹ تھی. سب کو بلایا گیا تھا شایان کو بھی. کیونکہ رسم کے بعد نکاح ہونا تھا ساتھ ہی شادی کی ڈیٹ بھی فکس ہونی تھی
ماموں کا بیٹا اور شایان کی بہن کے سسر یوکے میں آپس میں بزنس ڈیل کرتے تھے. دونوں ملکر بہت خوش ہوئے
نکاح ہو گیا. شایان بہت خوش تھا
جیا بہت سنجیدہ اور دکھی سی رہتی تھی. بچہ بھی بہت کیوٹ تھا
اس کی ساس بہت شرمندہ دل میں تھی کہ اپنی بہن کی طلاق اور موت کی زمہ دار وہ تھی. اس کو اور اس کے بیٹے کو کوئی لفٹ نہیں مل رہی تھی
جیا کے بھائی نے جیا کی حالت دیکھی تو اسے ان کے ساتھ واپس جانے نہ دیا
دونوں ماں بیٹا منہ بنا کر بائک پر واپس چل پڑے. راستے میں انکا ایکسیڈنٹ ہو گیا اور بیٹا جگہ پر ہی مر گیا ماں ہاسپٹل جا کر دم توڑ گئی
عمرہ کی شادی بیس دن بعد ہونی تھی وہ شادی ان کی فوتگی کی وجہ سے روکی نہ گئی
سیف کو جیا پسند آ گئی تھی اس نے والدین سے اس کے ساتھ شادی کی بات کی تو اس رشتے کو بھی خوشی سے قبول کر لیا گیا اور ان کا بھی نکاح ہو گیا. دونوں شادیاں اکھٹی کر دی گئیں.
پلیز اسے لائک، کمنٹ اور فرینڈز کو بھی شئیر کریں شکریہ.
چاندنی رات ہو اور تاروں کی بارات ہو
تم میرے سنگ بیٹھے ہو اور ہاتھوں میں ہاتھ ہو
آسماں رقص کرے چاند بھی شرمائے
ہمارے ملن کی خوشی میں اپنا نور برسائے.
شاعرہ عابدہ زی شیریں
ناول اختتام پذیر ہوا
You've reached the end of this journey. We hope you loved every episode!

Reader Comments
No comments yet. Be the first to share your thoughts!
Log in to leave a comment.