Logo
Katil Bana Sajin
1 Episodes
Katil Bana Sajin EP 1
Episode 1

قاتل بنا ساجن-مکمل ناول

Katil Bana Sajin

قاتل بنا ساجن

 


عنابیہ کے 🏠 گھر میں کان 👂 پڑی آواز سنائی نہ دیتی تھی۔ عورتیں ڈھول بجا رہی تھیں۔ لڑکیاں اور بچے ناچ رہے تھے۔ باہر صحن میں ڈیک بھی فل آواز میں بج رہا تھا۔ عنابیہ کے پاس اس کی امی کی ایک پرانی جاننے والی ملی اور اسے بڑا پیار جتانے لگی پھر اس کے پاس بیٹھ کر سرگوشی سے بولی، 

"تیرا ہونے والا دولہا تو قاتل ہے، بندہ مارا ہوا ہے جیل بھی رہ کر آیا ہے۔" 

یہ سنتے ہی عنابیہ کے ہوش اڑ گئے چند دنوں میں جس سے اس کی شادی ہے، نکاح بھی ہو چکا ہے۔

وہ عورت یہ کہہ کر چلتی بنی اور عنابیہ غم سے نڈھال۔۔۔۔۔



عنابیہ کا تعلق ایک ایسے گھرانے سے تھا، جہاں پردے کی بہت سختی تھی۔ عورتوں کو اتنی آزادی میسر نہ تھی۔ بازار جانا ہوتا تو گھر کی بزرگ عورتیں ماں یا کوئی اور بڑی عمر کی عورت ساتھ جاتی۔ گھر کا مرد بھی ضرور ساتھ جاتا۔ اکیلے عورتوں کو بھی جانے کی اجازت نہ تھی۔ عید قریب آ رہی تھی۔ روزہ افطار کر کے، آج عنابیہ کے والدین اور بڑے بھائی اور بھابھی ان کے دو بچے سب ملکر آج عید کی شاپنگ کیلئے مارکیٹ آئے تھے۔ ان کا ارادہ تھا کہ کھانا بھی آج باہر ہی کھا لیں گے۔ 


بڑی رش میں بڑی مشکل سے شاپنگ مکمل کر کے سب تھکے ہارے شاپنگ مال کے کھانے والے سیکشن کی طرف چل پڑے اور وہاں پہنچ کر ایک خالی ٹیبل پر سب بیٹھ گئے۔ 

ویٹر نے آ کر مینیو پوچھا، سب کے صلاح ومشورہ سے، زیادہ ان کے والد اکمل صاحب کی پسند کو ترجیح دے کر، کھانے کا آرڈر دے دیا گیا۔ عنابیہ کو ان سب میں کچھ پسند نہ تھا۔ وہ پیزا 🍕 کھانا چاہتی تھی ۔وہ دبے لفظوں میں اپنی فرمائش ماں کو بتانا چاہ رہی تھی کہ اس نے پیزا کھانا ہے مگر اس کی ماں اسے دبے لفظوں میں ڈانٹ کر سمجھا رہی تھی 

"تیرے ابا ناراض ہوں گے جو منگوایا ہے وہی چپ کر کے کھا لو۔ تم جانتی تو ہو وہ کھبی اپنی مرضی نہیں کرنے دیتے۔ تو جلدی سے سر پر چادر ٹھیک کر لے، تیرے ابا نے دیکھا تو ادھر ہی سر پر جوتے مارنے سے گریز نہیں کریں گے۔"

عنابیہ نے روتے ہوئے کہا، 

"امی سارا قصور آپ کا ہے آپ ابا سے لڑتی کیوں نہیں، اتنا ڈرتی کیوں ہیں۔ تب ہی تو وہ ظالم بنے ہوئے ہیں۔ ہمیں بھی ڈراتی رہتی ہیں۔ ایک دن وہ مجھے کسی ایسے شخص کے پلے باندھ دیں گے، جس کو میں دیکھنا بھی نہیں چاہتی ہوں گی۔ خاندان میں ایک انکا بھانجا اور لاڈلا بھتیجا ہے۔ ان دونوں میں سے کسی ایک کے ساتھ شادی طے کر دیں گے۔ یاد رکھنا، امی میں ان دونوں سے شادی نہیں کروں گی۔ باہر کہیں غیروں میں کر دینا۔ میں اپنے خاندان والوں سے بہت تنگ ہوں۔ نہ پھوپھو سے میری بنتی ہے جو ہر وقت آپ کے خلاف ابا کے کان بھرتی رہتی ہیں اور ایک تائی ہیں جو اپنی بیٹیاں دے کر ہمیں بڑی خوش ہیں کیسے میرے بھولے بھالے بھائی ان کے آگے پیچھے پھرتے ہیں اور وہ ابا کو کیسے مکھن لگاتی ہیں، ان کے سامنے آپ کو اور ہمیں کتنا پیار جتاتی ہیں، اکیلے میں گھاس بھی نہیں ڈالتیں۔" 

عنابیہ کی ماں ڈرتے ہوئے بولی، 

"چپ کر جا میری ماں، تیرے ابا ابھی واپس آ جائیں گے، سن لیا تو غضب ڈھا دیں گے۔"

عنابیہ ماں سے بولی، 

"امی آپ بھی حد کرتی ہیں۔ ابا ہمیں ادھر بٹھا کر دادی کی دوائیاں لینے گئے ہیں اور میڈیکل سٹور چوتھے فلور پر ہے۔ شکر ہے بھڑاس نکالنے کا موقع تو ملا۔ گھر میں وہ دو بھابیاں ہٹلر کہیں کی، ان کے سامنے نہیں بول سکتی۔ وہ بات کا بتنگڑ بنا کر پیش کرتی ہیں پھر الٹا ہمیں ہی معافی مانگنی پڑتی ہے۔ آپ ڈریں نہیں۔"

عنابیہ نے اپنا ہاتھ اٹھایا اور ماں کو ہتھیلی دکھاتے ہوئے اپنی گفتگو جاری رکھی۔

"ایک آپ ہر وقت سب سے ڈرتی رہتی ہیں۔ بہوں سے آپ ڈرتی ہیں، شوہر سے آپ ڈرتی ہیں، بہوؤں کی ماں تائی سے آپ ڈرتی ہیں۔ اسی لیے تائی نے جی جان سے اپنی چالاک بیٹیوں کے رشتے، خوشی خوشی ہمارے بھولے بھالے ماں کی طرح کے بھائیوں کو رشتے دیے تاکہ ان بہنوں کے ساتھ اکھٹے ہونے سے فائدہ ملتا رہے، خوب چالاکیاں کرتی پھریں سب بھولے ہیں۔ تایا مٹھی ✊ میں ہے۔ میرے ساتھ اسی لیے ان کی نہیں بنتی کہ میں ان کی ساری سیاستوں کو سمجھتی ہوں اور جتلا دیتی ہوں کہ فلاں وقت آپ لوگوں نے یہ کیا وہ کیا وغیرہ وغیرہ۔"

عنابیہ کی ماں نے اس کے آگے ہاتھ جوڑ کر کہا، 

"بس کر دے میری ماں، دنیا سدھارنے کا شوق چھوڑ دے۔ ہر کسی کو ناراض کیا ہوا ہے ورنہ تیری بھابیاں اپنے بھائی کا رشتہ تجھ سے کر دیتیں اور ہم سکھی ہو جاتے۔"

عنابیہ نے کہا، 

"شکر ہے نہیں کیا ورنہ ان سب کو بھی میں سیدھا کر دیتی۔ ابھی انکا ہوا نہیں ہے، تلوار ابھی بھی سر پر لٹکی ہوئی ہے۔ ڈرتی ہوں کسی وقت بھی ابا  ادھر ہاں نہ کردیں۔ یا پھوپھو کے گھر، پلیز امی مت ہاں کرنے دینا۔"

ماں نے غصے سے کہا، 

"تیرا بس چلے تو تو کسی کے ساتھ بھاگنے سے بھی گریز نہ کرے۔"

عنابیہ بولی، 

"امی سچی، مجھے کوئی بھگانے والا ملے تو سچ مچ بھاگ جاؤں اے کاش۔"

ماں نے اس کی کمر پر ایک گھونسا رسید کیا۔ 

عنابیہ نے اپنی جسمانی بےعزتی پر جھٹ ادھر اُدھر دیکھا تو سامنے ایک لڑکا موبائل دیکھتے ہوئے، دھیرے دھیرے سے مسکرا رہا تھا۔

عنابیہ کو لگا وہ اس کی وجہ سے مسکرا رہا ہے شاید اس نے اس کی باتیں سن لی ہیں۔ وہ اپنے آپ میں مگن اتنی دیر باتیں کرتی رہی ارد گرد کا ہوش ہی نہ تھا۔ جب امی نے گھونسا رسید کیا تو اسے ہوش آئی۔

اس نے غصے سے اس لڑکے سے کہا، 

'اے مسٹر شرم نہیں آتی دوسروں کی باتیں سنتے ہو اور پھر بتیسی نکالتے ہو۔"

وہ ایک دم چونک کر بولا، 

"جی کون سی باتیں، یہ دیکھیں میں نے تو ہیڈ فون لگائے ہوئے تھے۔ میں تو موبائل دیکھ کر ہنس رہا تھا۔ آپ کیوں مجھے نوٹ کر رہی تھیں، مجھ سا ہینڈسم کھبی نہیں دیکھا کیا۔"

عنابیہ غصے سے بولی، 

"نوٹ کرتی ہے میری جوتی۔ مجھے تو تم بندر 🐒 لگ رہے ہو، گھر جا کر شیشہ دیکھنا۔ تمہاری بندر سے بہت شکل ملتی ہے۔" 

پھر دوسری طرف منہ کر کے زیر لب بڑبڑائی 

"بندر کہیں کا۔"

ماں نے اسے غصے سے گھورا کیونکہ سامنے دور سے عنابیہ کے آبا  آتے نظر آ رہے تھے۔

عنابیہ کی ماں نے اس لڑکے سے معزرت کرتے ہوئے کہا، 

بیٹا اس پاگل کی باتوں کا برا مت منانا۔"

وہ لڑکا بڑے مؤدب انداز سے  مسکرا کر بولا، 

"نہیں آنٹی جی پاگلوں کی باتوں کا کون برا مناتا ہے۔ مجھے بتائیں آپ کو کچھ چاہیے، میں اپنے لیے پانی لینے جا رہا ہوں۔"

عنابیہ کی ماں نے اسے دعائیں دیتے ہوئے کہا، 

"جیتے رہو بیٹا ایک پانی کی بوتل تو چاہیے تھی بہت پیاس لگی ہے۔"

وہ اٹھ کر جاتے ہوئے بولا، 

"جی میں لے کر آتا ہوں۔"

وہ اٹھ کر چل پڑا اور ایک لیڈیز پرس اس نے پاس رکھا ہوا تھا ادھر ہی چھوڑ گیا۔ 

اتنے میں ایک لیڈی اس طرف آئی اور جوں ہی وہ پرس اٹھانے لگی تو عنابیہ نے تیزی سے اس سے پرس جھپٹ لیا۔ 

وہ حیران ہو کر اسے دیکھنے لگی۔

وہ عنابیہ سے غصے میں بولی، 

"یہ میرا پرس ہے۔"

"مطلب اس بندر کا پرس ہے، جو شاید پانی لینے گیا ہے، ابھی آتا ہے تو میں اس کو دوں گی۔"

"کون بندر" 

اس عورت نے حیرت سے پوچھا،

اتنے میں وہ دور سے آتا دیکھائی دیا۔

عنابیہ نے فوراً کہا، 

"وہ بندر آ رہا ہے۔"

عنابیہ کی ماں نظروں سے گھور کر اشارے کر رہی تھی کہ پیچھے تیرے ابا کھڑے ہیں مگر وہ مگن تھی اس کو کچھ ہوش نہ تھا۔ 

وہ عورت مسکرائی۔ 

وہ لڑکا پاس آیا تو اس عورت نے مسکرا کر اسے دیکھا اور بولی، 

"اتنا پیارا میرا بھائی ہینڈسم لڑکا، جس پر پورے خاندان کی لڑکیاں مرتی ہیں، اس کو تم بندر کہہ رہی ہو۔"

عنابیہ نے منہ بنا کر کہا، 

"گھر جا کر اسے شیشے کے سامنے کھڑا کیجیے گا، دیکھیے گا بندر 🐒 میں اور اس میں کوئی فرق نہیں" 

پھر وہ اسے ڈانٹتے ہوئے بولی، 

"تم شکل کے بندر تو ہو ہی، عقل سے بھی عاری ہو اپنی بہن کا پرس ایسے ہی چھوڑ کر چل پڑے تھے۔" 

عنابیہ کی ماں نے معزرت کرتے ہوئے کہا، 

"آپ اس کی باتوں کا برا مت منائیے گا یہ پاگل ہے۔"

وہ لڑکا اپنی بہن سے سرگوشی میں بولا، 

"اسے ہمارے گھر بھرتی کروا دیں۔ میں اس پاگل کو خوب ٹھیک کر لوں گا۔"

بہن نے مسکرا کر بھائی کو دیکھا جس کو وہ پورے خاندان پورے جاننے والے سب جگہ کے رشتے دیکھا چکی تھی مگر اس کا جواب نفی میں ہی ہوتا تھا کہ مجھے ابھی تک اپنے مطلب کی لڑکی نہیں ملی۔ اب بہن کو عندیہ دے رہا تھا کہ اس لڑکی کو ہمارے گھر بھرتی کروا دیں۔  بہن بہت خوش ہوئی اسے بھی عنابیہ بہت اچھی لگی تھی۔ اس نے شکر کیا تھا اس کے لاڈلے بھائی نے کسی لڑکی کو پسند تو کیا۔



اس لڑکے کا نام جبران عرف جمی تھا۔ اس نے اپنی بڑی بہن کو سرگوشی میں کہہ دیا تھا

"لڑکی دیکھنے کی تلاش ختم۔ ان سے تعلقات بڑھاؤ"

اس کی بہن نے عنابیہ کو گلے لگا کر پیار کرتے ہوئے کہا، 

"تم بہت ایماندار لڑکی ہو۔ میرا بھائی تو پرس ادھر ہی چھوڑ کر چل پڑا تھا اگر کوئی اسے اٹھا کر لے جاتا تو میرا کتنا نقصان ہو جاتا۔ میرے سارے ضروری ڈاکومنٹس اس میں تھے۔ میں اسے گھر نہیں چھوڑ کر آئی کہ گھر میں ملازم وغیرہ موجود ہوتے ہیں بےشک وہ کئی سالوں سے کام کر رہے ہیں، ایماندار بھی ہیں مگر میں رسک نہیں لے سکتی تھی۔ تم نے میرا بڑا نقصان ہونے سے بچا لیا تمہارا بہت شکریہ۔ کیا نام ہے تمہارا؟ 

"عنابیہ" 

اس نے جواب دیا۔

عنابیہ کے ابا سے جبران کی بہن مخاطب ہو کر بولی، 

"سر آپ کی بیٹی کی بہت اچھی تربیت ہوئی ہے۔ میں اس سے بہت متاثر ہوئی ہوں۔ کیا میں اس سے ملنے گھر آ سکتی ہوں۔"

عنابیہ کے آبا نے بڑے احترام سے کہا، 

"جی ضرور آئیں بلکہ اپنے تمام گھر والوں کو بھی لیکر آئیں ہمارے ساتھ کھانا کھائیں۔"

جبران کی بہن بہت خوشی سے بولی،

"آپ بہت مہمان نواز ہیں۔ ہم ضرور آئیں گے اور ہمیشہ کا تعلق رکھیں گے اگر آپ کو کوئی اعتراض نہ ہو تو۔"

عنابیہ کے ابا نے کہا، 

"بھلا مجھے کیا اعتراض ہو گا آپ کا اپنا گھر ہے جب چائیں آئیں۔"

اس نے بہت شکریہ ادا کیا۔ سب کے نمبر لیے۔ جبران کا نمبر بھی اس کے ابا کو دیا اور بولی، 

"جی پرسوں عصر کے وقت ہم حاضر ہو جائیں گے اور کھانا کھائیں گے پھر آپ کو بھی کو بھی ہمارے گھر کھانے پر آنا پڑے گا۔"

عنابیہ جھٹ سے بولی، 

"ابا تو کسی کے گھر خوشی سے جاتے نہیں پتا نہیں آپ کے گھر، کیسے آنے پر راضی ہو گئے۔ انہیں تو مہمان بھی پسند نہیں ہیں۔"

عنابیہ کی ماں نے بیٹی کو گھورا۔

عنابیہ کے آبا کھسیانے سے ہو کر سر کھجاتے ہوئے بولے، 

"دراصل میں بلا وجہ کسی کے گھر جا کر اپنا وقت بھی اور دوسروں کو بھی ڈسٹرب نہیں کرنا چاہتا اور جو بلا وجہ ہر وقت دوسروں کے گھر ڈیرا جمائے رکھتے ہیں، ان سے بھی مجھے کوفت ہوتی ہے۔ میں کہتا ہوں کہ میں اس کے گھر جاؤں جس کو مجھ سے یا تو خلوص اور بے مقصد لگاؤ ہو اور میرے گھر بھی وہ آئے جس کو مجھ سے خلوص بھرا لگاؤ ہو اور یا مجھ سے کام ہو۔"

جبران جھٹ بولا، 

"زبردست سر، آپ نے سو فیصد درست بات کی ہے۔ آپ کے خیالات بہت عمدہ ہیں۔ میں خود بھی کچھ اسی قسم کا ہوں۔ جس کی وجہ سے لوگ مجھے کھڑوس وغیرہ کہتے ہیں۔" 

"یہ تو میرا لقب ہے" 

عنابیہ کے آبا ہنس کر بولے۔

جبران کی بہن بہت پیار بھری نظروں سے جبران کو دیکھ رہی تھی۔ 

جبران بہن کی نظروں کا سامنا کرتے ہوئے دھیرے سے مسکرا کر قدرے شرما کر ادھر دیکھنے لگ گیا۔ 

ان دونوں فیملی نے ایک دوسرے کو اچھی طرح خدا حافظ کہا۔

جبران کو اس کی باجی سارے راستے چھیڑتی آئی اور وہ خوش ہوتا رہا۔ جبران عنابیہ پر مر مٹا تھا ایسے جیسے مجنوں ہو۔ 



جبران کے دو بڑے بھائی شادی شدہ تھے۔ دونوں کا ایک ایک بچہ تھا۔ بہن سب سے بڑی تھی اس کے ایک بیٹی اور ایک بیٹا تھے۔ جوائنٹ فیملی سسٹم تھا، بزنس مین تھے۔ دولت کی ریل پیل تھی، پوش علاقے میں بڑا سا خوبصورت گھر تھا۔ دونوں بہویں بھی امیر گھرانے سے تھیں۔ بہن بھی امیر گھرانے سے تھی۔ 

جبران کے ڈیڈ کو سب بٹ صاحب بلاتے تھے ۔


گھر جا کر جبران کی باجی نے سارا واقعہ سنایا اور خوش خبری سنائی کہ آخر کار ہمارے جمی کو لڑکی پسند آ ہی گئی۔ ایسی پسند آئی کہ جناب مجنوں بن گئے ہیں۔

جمی کی موم  نے جھٹ پوچھا، 

"وہ ہمارے اسٹیٹس کے ہیں نا۔"

باجی بولنے لگی تو جمی نے جھٹ کہا، 

"ہمارا اسٹیٹس ہونا کافی ہے۔ اس نے ہمارے گھر آنا ہے میں نے وہاں نہیں جانا۔ مجھے بس اسی سے شادی کرنی ہے، یہ میرا فائنل فیصلہ ہے اگر کسی نے ان کی انسلٹ کرنے کی کوشش کی تو پھر وہ جان لے کہ میں یہ گھر چھوڑ دوں گا۔ پرسوں ہم سب ان کے گھر جا رہے ہیں اور بغیر وقت ضائع کیے ان سے ہاں کروا کر واپس آنا ہے۔" 

پھر وہ اٹھ کر اپنے کمرے میں چلا گیا ۔

سب چپ ہو گئے۔ جبران کے سب گھر والے اس ٹاپک پر باتیں کرنے اور باجی سے پوچھنے لگے کہ وہ لڑکی کیسی ہے کون لوگ ہیں وغیرہ وغیرہ، شمع جسے سب پیار سے شمو کہتے تھے، کے سب پیچھے پڑ گئے۔ 

شمع کے باپ نے فیصلہ سنا دیا 

"شمع تمہاری باتوں سے لگتا ہے کہ وہ مڈل کلاس کے لوگ ہیں تو کوئی بات نہیں وہ بھی ہماری طرح انسان ہوتے ہیں بس ہماری جمی کو شکر ہے کوئی لڑکی پسند آئی ہے۔ اب ادھر ہی شادی ہو گی اور جلد ہو گی۔ آپ سب لوگ پرسوں وہاں جانے کی تیاری کریں۔"

پھر شمو کو مخاطب کر کے کہا

"شمو مجھے ان کا نمبر دے دو۔"


جمی کی بھابیاں شمو سے تفصیل پوچھنے لگیں۔ اتنے میں بڑی بھابھی بول پڑی، 

"ہم کپڑے کون سے پہن کر جائیں گے۔"

چھوٹی بھابھی نے منہ بنا کر کہا، 

"کوئی سے پہن لیں گے، کونسا کسی بڑے گھرانے میں جا رہے ہیں۔" 

شمع نے بھابھی کو تیکھی نگاہوں سے دیکھا تو وہ صفائی دیتے ہوئے بولی، 

"شمع باجی آپ کونسا ڈریس پہن کر جائیں گی۔" 

تو شمع نے کہا، 

"میرے لاڈلے بھائی کے سسرال جانا ہے شکر الحمدللہ اس نے یہ دن دیکھایا ہے ورنہ سب جانتے ہیں، وہ کتنا ضدی ہے، کنوارا بیٹھا رہتا مگر شادی نہ کرتا چاہے بوڑھا ہو جاتا، جب تک اسے اس کی مرضی کی لڑکی نہ ملتی۔"



عنابیہ کے آبا، اکمل نے سب کو حیران کر دیا۔ ایک تو کسی کو بتانے سے منع کر دیا، دوسرا دل کھول کر ان کے لیے عمدہ کھانے پکوائے۔

بٹ صاحب بڑی سی گاڑیوں میں بمع اہل وعیال جب ان کے بتائے ہوئے ایڈریس پر پہنچے تو وہ ایک محلہ تھا جہاں متوسط طبقے کے لوگ رہائش پزیر تھے۔ گلی محلے کے بچے بڑی حیرت سے ان سب کو دیکھ رہے تھے۔


اکمل صاحب اور ان کا بیٹا گھر کے باہر کھڑے ہو کر ان لوگوں کا انتظار کر رہے تھے۔

وہ لوگ جب پہنچے تو بٹ صاحب نے اکمل سے پوچھا، 

"آپ اکمل صاحب ہیں۔"

اکمل صاحب 

"جی جی۔"

بٹ صاحب بڑے خوش دلی سے ملے۔ باپ کی دیکھا دیکھی ان کے دونوں بیٹوں نے بھی اکمل اور اس کے بیٹے سے بڑے اخلاق سے ملے۔ شمع بڑے جوش سے بولی، 

"آپ لوگوں سے پہلی ملاقات کے بعد سے دوبارہ ملنےکا اور گھر آنے کا بہت اشتیاق تھا۔"

اکمل صاحب مسکرائے۔ لیڈیز کو اکمل اور ان کے بیٹے نے بڑے احترام سے سلام کیا تو لیڈیز نے کوئی خاص لفٹ نہ کرائی سوائے شمع کے۔

سب اندر داخل ہوئے تو لیڈیز نے ناک بھوں چڑھا لی۔ عنابیہ کی ماں اور بھابھی بہت آگے پیچھے پھرنے لگیں مگر لیڈیز کے نخرے ختم نہیں ہو رہے تھے۔

بہت مزے دار ڈنر تھا بٹ صاحب کی فیملی نہ چاہتے ہوئے بھی بہت شوق سے کھانے لگی۔ شمع نے دل کھول کر تعریف کی۔

بٹ صاحب نے بہت تعریف کی اور مزاق میں بولے، 

"جناب اتنا مزے دار کھانا کھلایا ہے تو اب ہاضمے کی پھکی بھی دیں۔"

اکمل صاحب مسکرا نے لگے۔

بٹ صاحب نے اکمل صاحب سے کہا، 

"جناب ہم اب آپ کا پیچھا چھوڑنے والے نہیں ہیں۔"

پھر انہوں نے یاد دھانی کرائی کہ فون پر میں نے آپ سے بات کی تھی کہ ہم اپنے چھوٹے بیٹے کے رشتے کے لیے آنا چاہتے ہیں۔ 

اکمل صاحب نے انکساری سے کہا، 

"سر آپ لوگوں کا آنا سر اآنکھوں پر مگر میں ابھی اتنی جلدی فیصلہ نہیں کر سکتا۔ مجھے سوچنے کے لیے وقت درکار ہے۔ کیونکہ میرے خاندان میں سے بھی دو رشتے آئے ہیں مجھے ان کو بھی دیکھنا ہے۔" 

بٹ صاحب نے کہا، 

"ضرور جی یہ سب سوچنا آپ کا حق ہے پر ہم اچھے کی امید ضرور رکھیں گے۔ آپ ہر طرح سے چھان بین کروا سکتے ہیں. ہم کھلی کتاب کی طرح سامنے ہیں۔"

شمع جوش سے بولی، 

"انکل جی ہمارے جمی میں کیا کمی ہے" 

مگر شمع کے باپ نے ہاتھ کے اشارے سے شمع کو چپ کروا دیا۔ 

بٹ صاحب نے کہا، 

"ہم انتظار کریں گے۔" 

شمع کی ماں کو بہت غصہ آیا اور وہ سب کو اٹھنے کا اشارہ کر کے تیزی سے باہر نکل گئی۔ تو اس کے پیچھے اس کی بہویں بھی نکل گئیں۔ صرف بٹ صاحب شمع اور جبران رہ گئے۔ شمع نے منت بھرے انداز میں کہا، 

"انکل پلیز اچھا سوچیے گا۔" 

بٹ صاحب اور شمع نے ان کے کھانے کا بہت شکریہ ادا کیا۔ جمی اداسی سے شکل بنا کر اکمل سے ہاتھ ملا کر گاڑی میں بیٹھ گیا۔

گھر آ کر جبران کی ماں، شمع اور شوہر پر برسنے لگی 

"وہ لوگ چیز کیا ہیں جو سوچنے کا وقت مانگ رہے ہیں۔ ان کے خاندان بھر میں ہمارے جمی جیسا کوئی رشتہ ہو گا۔"

جبران کی بھابیاں طنزیہ مسکرا کر ایک دوسرے کو دیکھ رہی تھیں۔ 

شمع خجل سی ہو رہی تھی۔

جبران کی ماں بڑبڑاتے ہوئے بولی، 

"جب سوچنا ہی تھا تو اتنا جوش وخروش سے دعوت کرنا اور گھر بلانے کا کیا مقصد تھا۔"

شمع جبران کے روم میں گئی تو اس نے کہا، 

"باجی پلیز میں سونے لگا ہوں۔" 

یہ کہہ کر دروازہ بند کر دیا۔



عنابیہ کی ماں شوہر سے بہت ڈرتی تھی۔ وہ اس بات پر بھی حیران تھی کہ اسکا شوہر ان کو بہت عزت دے رہا تھا اور دل کھول کر ان کے لیے پکوان پکوائے۔ ویسے گھر میں ایک سے دوسری ہنڈیا نہیں پک سکتی تھی۔ کنجوس مشہور تھا۔ 

عنابیہ نے ماں سے پوچھا، 

"امی آخر ابا نے ان لوگوں کو ہاں کیوں نہیں کی۔ مجھے تو جمی کی آپا اور ان کے والد بہت اچھے لگے ہیں۔ میرا ان دونوں کی وجہ سے، ادھر گزارا ہو ہی جانا تھا۔ ہم سے کم ابا کے لاڈلے بھتیجے بھانجے سے تو بہتر ہی ہیں۔"

ماں نے اسے گھورا اور سرگوشی میں بولی، 

"تیری بھابیاں نہ سن لیں۔ وہ کب سے باتوں باتوں میں تمہارے رشتے کی بات کر چکی ہیں۔ میں ان کو ٹال دیتی ہوں کہ میری کہاں چلتی ہے۔ اب وہ دونوں بڑی خوش تھیں کہ تمہارے ابا نے ان کو ہاں نہیں بولی۔ کل دیکھنا تیری پھوپھو یا تائی ضرور آ جائیں گی تیرا رشتہ لینے۔" 

عنابیہ غصے سے بولی، 

"امی آپ نے اگر میرا ساتھ نہیں دینا، ابا کو نہیں بتانا نہ بتائیں مگر میں ابا کو خود ہی بتا دوں گی کہ میں نے خاندان میں شادی نہیں کرنی ہے۔"



جبران کے دو بھائی تھے جبران سب سے چھوٹا تھا اور اس کی آپا رخسانہ سب سے بڑی تھی۔ جبران چھوٹا ہونے کی وجہ سے، باپ کا بہت لاڈلا تھا۔


اس کی بہن رخسانہ کی بہت خواہش تھی۔ وہ ملک سے باہر رہتی تھی۔ وہ اپنے ملک میں اپنا گھر بنانا چاہتی تھی۔ اس کے ساس سسر وفات پا چکے تھے، اب وہ اور اس کے دو بچے پاکستان میں رہ رہے تھے۔ اب وہ لوگ پاکستان میں شفٹ ہو رہے تھے، ان کا گھر بن رہا تھا شوہر وہاں سے سارا کاروبار مکمل ختم کر کے اپنے ملک میں رہنا چاہتے تھے۔ ان کے بچے پاکستان میں بہت خوش رہتے تھے۔ ان کی بھی ضد تھی کہ ہم نے گرینڈ پا کے پاس رہنا ہے یا ان کے قریب گھر لینا ہے۔ رخسانہ کو اس کے والدین کہیں اور رہنے کی اجازت نہیں دے رہے تھے۔ وہ رینٹ پر رہنا چاہتی تھی مگر وہ نہ مانے۔ اس کے بچوں کو ایسے سکول ڈال دیا، جہاں سے ان کا گھر بھی قریب پڑتا تھا۔


رخسانہ کے بچے ٹین ایج کے تھے۔ رخسانہ کے دونوں بھائیوں کے ایک ایک بچہ تھا۔ رخسانہ کے بچے ان بچوں کے ساتھ بہت خوش تھے اور بچے بھی ان سے مانوس ہو چکے تھے۔


رخسانہ کے والد کو سب بٹ صاحب کے نام سے جانتے اور پکارتے تھے۔ بٹ صاحب بہت نیک دل انسان تھے وہ اپنے ورکرز کا بہت خیال رکھتے تھے۔ ان کے بیٹے ان کے ساتھ کاروبار میں شامل تھے مگر سارا کاروبار بٹ صاحب کا تھا۔ وہی گھر کے سارے خرچے دیکھتے تھے اور گھر والوں کو پاکٹ منی کھلی دیتے تھے۔ ان کے بیٹے بہت فرمانبردار تھے اور وہ زیادہ پڑھ لکھ نہ سکے تھے۔ کیونکہ ان کی ماں کو ہر وقت گھومنے پھرنے اور فیشن کی طرف دھیان رہتا تھا۔ رخسانہ کی جلدی شادی کر دی تھی۔ صرف جبران اعلیٰ تعلیم باہر ملک سے حاصل کر کے آیا تھا۔ اس لیے اس کا باپ اس پر فخر کرتا تھا اپنے بڑے بیٹوں کے تعلیم حاصل نہ کرنے کا اسے بہت دکھ تھا وہ خود بھی بچوں پر توجہ نہ دے سکا۔ اچھے اسکولوں میں ڈالا، ٹیوشنز لگا کر دیں مگر بچوں نے تعلیم کی طرف توجہ نہ دی۔ گھر میں موبائل پر گیمیں کھیلنا انجوائے کرنا ان کا مقصد تھا۔ ماں بھی زیادہ ترغیب نہ دیتی تھی کہ پڑھ لو۔


باپ کے آفس میں بھی وہ کچھ کرنا جانتے نہ تھے بس باپ ساتھ رکھتا تھا اور سکھانا چاہتا تھا مگر وہ کوڑھ مغز تھے۔ باپ اپنے بڑے بیٹوں کی نالائقی سے بہت نالاں تھا نہ وہ اتنے تیز طرار تھے۔ ان کو رشتے بھی پڑھی لکھی لڑکیوں کے مل گئے وہ بھی باپ کی دولت کے پیچھے۔ وہ لڑکیاں بھی شادی کر کے بہت خوش تھیں کہ سسرال میں کوئی روک ٹوک نہ تھی۔ کوئی ذمہ داری نہ تھی، پیسے کی فراوانی تھی۔ گھر میں کھانا بہت کم بنتا، جو بنتا وہ بھی پورا نہ کھایا جاتا۔ نوکروں کے سر پر گھر چل رہے تھے۔ بہویں شام تک سو کر اٹھتی تھیں۔ بچے ملازم سنبھالتے۔ 


رخسانہ جب میٹرک میں تھی تو اس کی شادی کر دی گئی۔ اس کا شوہر بہت اچھا تھا۔اس نے اس کو کھبی کسی بات سے روکا ٹوکا نہیں۔ اس کو پیار وعزت سے رکھتا۔ رخسانہ جب سے میکے آئی تھی تب سے گھر کے نظام کو دیکھ کر کڑھتی رہتی تھی۔ گھر میں نوکروں کی فوج تھی۔ کسی کا ایک وقت نہ کھانے کا تھا نہ ناشتے کا۔ اس کے والد بھی جب آتے تو کھانا باہر کا ہی نصیب ہوتا۔ انہوں نے بھی کھبی احتجاج نہیں کیا تھا۔ 

رخسانہ ماں کر پھوہڑ پن سے تو واقف تھی اوپر سے اس کی بھابیاں بھی ساس کے ساتھ روز پارلر جانا فرض سمجھتی تھیں۔ رخسانہ کو بچوں پر ترس آتا جو ماں کی گود کو ترستے رہتے تھے۔ 

رخسانہ اکثر عنابیہ کو فون کرتی رہتی ۔ اس نے عنابیہ سے پوچھا کہ جمی تم سے فون پر بات کرنا چاہتا ہے وہ تمہیں پسند کرتا ہے تم سے شادی جلد کرنا چاہتا ہے مگر عنابیہ نے فون پر بات کرنے سے صاف منع کر دیا۔ وہ رخسانہ کی  جمی کی کسی بات پر کوئی توجہ نہ دیتی نہ جواب دیتی۔ بس اتنا کہتی مجھے آپ اور آپ کے ڈیڈ بہت اچھے لگے ہیں۔ 

رخسانہ اس کی صاف گوئی پر بہت خوش ہوتی۔ اس نے جمی کے بارے میں پوچھنے پر یہ جواب دیا تھا کہ آپ اور انکل کی وجہ سے جمی کے ساتھ گزارا ہو جائے گا۔ 

رخسانہ اکثر اسپیکر 🔊 آن کر کے بات کرتی تو جمی خاموشی سے سن کر مسکراتا رہتا۔ اسے بھی اس کی بھولی باتیں بہت اچھی لگتیں۔

رخسانہ اکثر عنابیہ کے والد کو فون کر کے پوچھتی رہتی کی ہم رسم کرنے کب آئیں۔ وہ جان بوجھ کر یہ لفظ کہتی۔ ایسے ظاہر کرتی جیسے ہاں ہو چکی ہے۔

عنابیہ کے والد بھی یہی جواب دیتے 

"ابھی ٹھہر جائیں جب میں کہوں گا تب۔"

عنابیہ کی پھوپھو گھر آ کر رشتہ مانگ چکی تھی۔ اس کی بھابیاں بھی بہت چاہتی تھیں کہ یہ اکلوتی ہے تو ان کے چچا اس کو خوب جہیز دیں گے تو ان کے گھر ہی جائے گا۔ وہ پڑھی لکھی تھی ایم فل تھی۔ باپ نے پڑھنے سے نہیں روکا۔ مگر اتنا ضرور کہا تھا جس دن تم نے پڑھائی چھوڑ کر کسی اور چکر میں پڑی تو اسی دن تمہاری پڑھائی ختم اور تمہارا نکاح اسی دن خاندان کے کسی بھی لڑکے سے کر دیا جائے گا۔


عنابیہ کو پڑھنے کا بہت شوق تھا۔ اسے جاب کرنے کے بھی بہت شوق تھا مگر اس کے ابا نے نوکری کی اجازت نہ دی۔ 

عنابیہ کے ابا نے اپنے بیٹوں کو ایک موبائل شاپ کھول دی تھی، جس سے گھر کا گزارا اچھا ہو جاتا تھا۔ عنابیہ کے ابا فضول خرچی بلکل نہ کرنے دیتے تھے۔ گھر میں ان کی مرضی سے کھانا بنتا جو سب کو کھانا پڑتا۔ سب اس کے ابا سے بہت ڈرتے بھی تھے۔ بیٹے ایک ایک پیسے کا حساب باپ کو دیتے تھے۔ سب کو مناسب خرچہ مل جاتا تھا جس میں انہوں نے پورا کرنا ہوتا تھا۔

پھوپھو کو اور تائی کو عنابیہ کے رشتے سے عنابیہ کے ابا نے صاف انکار کر دیا تھا کہ میری بیٹی جتنا پڑھی لکھی ہے اگر خاندان کا کوئی بھی لڑکا اتنا پڑھا لکھا ہوتا تو میں باہر دینے کا سوچ بھی نہ سکتا مگر چونکہ تعلیم کی کمی ہے، اس لیے مجھے باہر فیملی میں بھی لڑکا پڑھا لکھا چاہیے اور مجھے امیری غریبی سے کوئی تعلق نہیں۔ میں نے اپنے بیٹوں کو بھی اتنی ہی پڑھی لکھی بہویں لایا ہوں جتنا وہ پڑھے لکھے تھے۔

خاندان میں عنابیہ کے تایا اور پھوپھو نے کافی واویلہ مچایا ہوا تھا۔ عنابیہ کی پھوپھو نے مرنا جینا ختم کرنے کی دھمکی دی تھی جبکہ تائی نے کہا تھا کہ وہ اپنی بیٹیوں کو گھر بٹھا لیں گی۔ ہو سکتا ہے، طلاق بھی دلوا سکتی ہیں ۔

عنابیہ کے والد نے جبران کے والد کو ساری سچویشن بتا دی تھی اور انتظار کرنے کا کہا تھا۔ خفیہ ہاں کر دی تھی تو بٹ صاحب نے بھی ان کی مجبوری سمجھتے ہوئے کہا تھا 

"ہم انتظار کریں گے مگر اب وہ ہماری امانت ہو گی۔" 

گھر والوں کو بٹ صاحب نے اتنا بتا دیا تھا کہ وہ راضی تو ہیں ادھر اور اوکے بھی کر دیا ہے مگر اپنی وہ خاندانی جھگڑوں کو نمٹا رہے ہیں جو اس رشتے کی وجہ سے پیدا ہوئے ہیں۔

تائی نے اپنی دونوں بیٹیوں کو ناراض کرا کر گھر بٹھا لیا۔ عنابیہ کے والد نے بھائی سے رابطہ کیا تو وہ الٹا اسی پر برس پڑے 

"تم ہمارے بیٹے کو حقیر سمجھتے ہو تمہاری بیٹی نے چار کلاسیں کیا پڑھ لیں تم اس کو افضل سمجھنے لگے ہو۔"

گھر میں ٹینشن والا ماحول بن گیا۔ عنابیہ اپنے آپ کو قصوروار سمجھتے ہوئے روتی۔ اس نے رخسانہ کو ساری سچویشن بتا کر دوبارا فون نہ کرنے کا کہا۔

رخسانہ نے پریشانی سے کہا، 

"تم فکر نہ کرو میں اب دوبارہ اس وقت تک فون نہیں کروں گی، جب تک تمہارے گھر کے حالات ٹھیک نہ ہو جائیں۔ کھبی کبھار میسج کر کے پوچھ لیا کروں گی" 

پھر اس نے اسے بہت پیار سے سمجھایا 

"اس میں تمہارا کیا قصور ہے۔ خاندان میں یا تو جائیدادوں کے پیچھے یا رشتوں کے پیچھے ایسی لڑائیاں ہوتی رہتی ہیں ۔ سب ٹھیک ہو جائے گا۔ تمہاری بھابیاں واپس گھر نہیں بیٹھ جائیں گی، ایک کا ایک بچہ ہے ایک بے اولاد ہے اور بچہ تنگ کرے گا۔ باپ کو دادی، پھوپھو کو یاد کرے گا۔ جن سے بہت مانوس ہے تو پھر انہیں واپس بچے کے لیے آنا پڑے گا اس کا اسکول 🏫 کا بھی حرج ہو گا۔"

جمی یہ سب سنکر بہت پریشان تھا۔ باقی اس کے گھر والے نارمل تھے انہیں کوئی فرق نہیں پڑ رہا تھا۔ رخسانہ اور اس کے ڈیڈ بہت پریشان تھے۔



عنابیہ کی پھوپھو بہت غصے میں بھری آئی اور اس کے ابو کے بیڈ روم میں چلی گئی۔ عنابیہ پانی کا گلاس لے کر اندر جانے لگی تو اس کی پھوپھو نے عنابیہ کے ابا کو دھمکی دیتے ہوئے کہا 

"اگر تم نے میرے بیٹے کو رشتہ نہ دیا تو میں تمہارا راز سب خاندان کے سامنے فاش کر دوں گی پھر تم کسی کو منہ دیکھانے کے قابل نہیں رہو گے۔"

عنابیہ کے آبا روتے ہوئے منتیں کرنے لگے مگر وہ مسلسل دھمکیاں دیتی رہی۔ عنابیہ یہ سنکر دبے پاؤں واپس چلی گئی اور سوچنے لگی کہ ایسا کونسا راز ہے جس کے لیے اس کے ابا اتنی منتیں کر رہے تھے۔


اس کی امی پڑوس میں سلائی کے کپڑے دینے گئی ہوئی تھیں۔ 

پھوپھو چیختی چلاتی گھر سے نکل گئی تو عنابیہ کا دل ❤️ باپ کے رونے سے دکھی ہونے لگا۔ اسے یقین نہیں آتا تھا کہ اس کے ابا کوئی ایسا کام کر سکتے ہیں اس کا دل ماننے کو تیار نہ تھا۔ اس کے آبا تو پورے خاندان بھر میں نیک، ایماندار اور شریف مشہور تھے۔ آس پڑوس والے ان کی اسی شرافت کی وجہ سے ان کی بہت عزت کرتے تھے۔ عورتوں کی طرف نگاہ اٹھا کر نہ دیکھتے تھے پھر پھوپھو کیوں ایسا کہہ رہی تھی۔

اس کے ابا اداس رہنے لگے تھے۔ بھابیاں بھی گھر واپس نہیں آ رہی تھیں۔ اس کے بھائی بھی بہت پریشان رہتے تھے ماں روتی رہتی تھی، پوتے کو یاد کرتی تھی۔ کوئی فون بھی نہیں اٹھاتا تھا، جو ہوتے سے بات ہو سکے۔



رخسانہ کو اس نے سختی سے منع کر دیا تھا کہ وہ اب دوبارہ رابطہ نہ رکھے اور اس رشتے کو ختم سمجھے۔

جمی بہت پریشان تھا۔ اس نے عنابیہ کے والد سے فون پر ملنے کی بات کی تو وہ راضی ہو گئے۔ 

جب انہوں نے جمی کو اس رشتے کے بدلے میں جو آفر کی تو وہ حیران رہ گیا اور معزرت کرتے ہوئے اٹھ کر گھر آ گیا۔ گھر میں کسی کو کچھ نہ بتایا۔ اس نے صرف رخسانہ کو بتایا اور کہا 

"وہ عنابیہ سے ملے اور کہے کہ ابا کو سمجھائے کہ ایسا ممکن نہیں۔"


رخسانہ گھر آئی تو عنابیہ کی امی نے سلام دعا کر کے اس کو نظر انداز کر کے اپنے کمرے میں چلی گئی۔ جب رخسانہ نے عنابیہ کو ساری بات بتائی تو وہ کافی حیران ہوئی اور اس نے صاف انکار کر دیا۔ 

رخسانہ کو عنابیہ کے آبا نے کمرے میں بلا کر جب اسے بھی بیوی کے سامنے یہ آفر پیش کی تو اس نے بھی انکار کر دیا۔ عنابیہ کی ماں نے بھی حیرت سے کہا، 

"یہ آپ کیا کہہ رہے ہیں۔"

رخسانہ نے انکار کیا اور گھر واپس آ گئی ۔



ابا کی آفر کے انکار کے بعد عنابیہ کے ابا بہت پریشان رہنے لگے۔

عنابیہ کی پھوپھو نے گھر آ کر عنابیہ سے اکیلے میں ملاقات کی اور ابا کے راز کے بارے میں بتایا اور اسے پوشیدہ رکھنے کی یہ شرط رکھ دی 

"تمہیں میرے بیٹے سے شادی کرنی پڑے گی۔ سوچ لو اگر میرا منہ کھل گیا تو تمہارا یہ ہنستا بستا گھر بدنامی میں ڈوب جائے گا۔"

عنابیہ ہاتھ جوڑ کر پھوپھو منتیں  کرنے لگی 

"اسے ان کی شرط منظور ہے۔ وہ اپنے والد کے لیے سب کچھ کرنے کو تیار ہے۔"

گھر میں ایک ہنگامی برپا ہو گیا۔

گھر میں بھابیاں اس کے خلاف ہو گئیں کہ ہمارے بھائی میں کیا کمی تھی۔ بڑی مشکل سے وہ راضی ہو کر گھر واپس آئی تھیں۔ 

پھر پھوپھو نے سب کو تو دھو کر منا لیا۔ ان کے تایا بھی مان گئے کہ چلو بہن ہے باہر تو نہیں جا رہی ہے نا۔ ویسے بھی تایا کے بیٹے نے اپنی کلاس فیلو سے شادی کرنے پر ضد کرنی شروع کر دی۔ عنابیہ کے پھوپھو کے بیٹے نے شادی کرنے پر زور دیا اور نہ کروانے پر خودکشی کی دھمکی دی۔ مجبوراََ عنابیہ کی بھابیوں نے ماں کو سمجھایا تو وہ اس کا رشتہ کرنے پر راضی ہوئی اور چٹ منگنی اور پٹ بیاہ ہو گیا۔



عنابیہ نے سکھ کا سانس لیا کہ چلو ایک کانٹا تو نکلا۔ 

اس نے رخسانہ کو ساری تفصیل بتائی تو اس نے کہا، 

"تم بہت نیک بیٹی ہو جو والدین کی عزت کو اپنی خوشیوں پر ترجیح دیتی ہو۔"

عنابیہ سے رخسانہ نے اگلوا ہی لیا کہ وہ بھی جمی سے پیار کرتی ہے مگر مجبور ہے رخسانہ اس کی مجبوری سمجھتے ہوئے روتے ہوئے اسے شاباش دے کر چلی گئی۔


عنابیہ کے ابا نے عنابیہ سے پوچھا 

"پھوپھو نے تمہیں میرا کچھ بتانے کے لیے بلیک میل تو نہیں کیا۔ خبردار جو وہ مرضی سب کو بتاتی پھرے، مجھے اب کوئی فرق نہیں پڑتا۔ تم اس بات کے لیے اپنی زندگی برباد مت کرنا۔ وہ لڑکا بے شک میرا سگا بھانجا ہے اپنا خون ہے مگر وہ کسی طرح بھی میری بیٹی کے قابل نہیں ہے، تب ہی تو میں نے اپنی بہن سے جان چھڑانے کے لیے تمہیں اور جبران کو کورٹ میرج کر لینے کا مشورہ دیا تھا نہ تم مانی اور نہ وہ مانا بہت خاندانی لڑکا ہے۔ اس نے انکار کر کے ثابت کر دیا ہے کہ میرا بیٹی کے لیے انتخاب سو فیصد درست تھا۔ میں اپنے بہن بھائی سے پوری نہیں ڈال سکتا تھا۔ وہ عین بارات والے دن بدمزگی پھیلا دیتے اور پوری ایڑی چوٹی کا زور لگا کر اس شادی میں رکاوٹ بنتے۔"

عنابیہ نے کہا، 

"ابا جی ایسی کوئی بات نہیں ہے اپنے پھر اپنے ہوتے ہیں۔ وہ میری سگی پھوپھو ہیں، میں ان کے ساتھ بہت خوش رہوں گی۔" 

عنابیہ کی ماں اور ابا دونوں نے سر توڑ کوشش کی مگر عنابیہ نہ مانی اور شادی پھوپھو کے بیٹے سے ہی کرنے پر بضد رہی۔

اس کی بھابیوں کو تو پہلے ہی اس پر غصہ تھا کہ وہ روٹھ کر بھی میکے گئیں مگر پھر بھی ناکام رہیں۔ اب انہوں نے حسد اور دشمنی میں اپنے شوہروں کو بھی منا لیا اور خوب جھوٹ بول کر ان کے شوہر بھی ابا کو منانے لگے کہ عنابیہ اس کو پسند کرتی ہے اگر شادی نہ کی تو کورٹ میرج کر لے گی۔ 

ابا بھی سب سمجھتے تھے مگر شریف انسان تھے جھگڑوں سے گھبراتے تھے بےبس ہو کر شادی کرنے پر راضی ہو گئے۔

دونوں گھرانوں میں شادی کی تیاریاں شروع ہو گئیں۔ عنابیہ کی بھابیوں نے خندق میں خوب دھوم دھڑکا کیا۔ پہلے ہی کچھ دن ڈھولکی رکھ دی۔ عزر یہ پیش کیا کہ ہماری اکلوتی نند ہے تو ہم اس کی شادی خوب دھوم دھام سے کریں گے۔

عنابیہ کی ماں بلکل خوش نہ تھی، بہت اداس اور دکھی تھی۔ اس نے پہلی بار شوہر کو غصہ دیکھایا 

"بہن کی محبت میں اپنی بیٹی کی زندگی برباد کر رہے ہیں۔"

وہ اس کے اتنے غصے سے کافی گھبرا گئے۔ انہیں اندازہ نہ تھا کہ عورت جب ماں بنتی ہے تو سارا ڈر اس کے اندر سے نکل جاتا ہے اور وہ بہادر بن جاتی ہے۔ وہ گھگھیا کر، دبے لفظوں میں پریشانی سے بولے، 

"تم کوشش کر کے دیکھ لو اگر عنابیہ شادی سے پانچ منٹ پہلے بھی انکار کرتی ہے تو میں اس کے ساتھ ہوں میں بارات واپس بھیج دوں گا۔"

عنابیہ کی ماں نے بھرپور کوشش کی مگر عنابیہ نے کورٹ میرج کرنے کی دھمکی دے دی۔

پھر پھوپھو نے بڑے غرور سے انہیں کہا، 

"بیٹی تو میرے ایک اشارے کی منتظر ہے کورٹ میرج کر لے گی اگر اب عزت بچانا چاہتے ہو تو عزت سے شادی کر دو۔"

سب رشتے داروں کو پھوپھو نے کارڈ بھجوا دیے۔ سب نے کہا کہ کافی بے جوڑ شادی ہے۔ عنابیہ کے والد اب بیوی کے ساتھ بہت نرم خو ہو گئے۔ اب وہ اس کے ساتھ دوستانہ رویہ رکھتے اس کی ہر بات ماانتے۔ یہ دیکھ کر عنابیہ سوچتی اس کی قربانی رائیگاں نہیں گئی۔

بھابھیوں نے تو شادی سے پہلے ہی گھر میں مہمانوں کو انوائیٹ کرلیا اور خوب ڈھولک بھری اور ناچ گانا ہوتا۔ پھوپھو روز آتی، روز ناچتی، گاتی، عنابیہ کے واری صدقے جاتی۔

عنابیہ کے ابا، امی نے خاموشی اختیار کر لی۔ دونوں بےدلی سے ہر کام میں شریک ہوتے۔ ساری ذمہ داری عنابیہ کے بھائی بھابیوں نے اٹھا لی تھی۔ 


عنابیہ سوچتی پہلے اگر یہ سب گھر والے اتنے اچھے ہوتے تو ابا اتنے پریشان نہ رہتے۔ ابا نے دخل اندازی چھوڑ دی تھی۔



جبران انتہائی سنجیدہ رہنے لگا تھا رخسانہ اس کو بہت سمجھاتی کہ اب اس کی شادی ہونے والی ہے۔ وہ یہ شادی تم جانتے تو ہو مجبوری میں کر رہی ہے پیار کی وہ قربانی دے رہی ہے، باپ کی عزت بچانے کے لیے۔ نہ جانے اس کے باپ سے ایسا کونسا گناہ سرزد ہو گیا ہے جس کے لیے اس کی بیٹی کو اپنی خوشیوں اپنی زندگی کی قربانی دینی پڑی۔ 

وہ جبران پر دباؤ ڈالنے لگی 

"دنیا میں اچھی لڑکیوں کی کمی نہیں ہے تم کہو تو میں کوئی اچھی لڑکی ڈھونڈوں۔"

جبران نے اداسی سے ایک سرد آہ بھر کر کہا، 

"کیا آپ کو عنابیہ جیسی نیک سیرت مخلص اپنے پیاروں پر اپنی خوشیاں قربان کرنے والی، بے غرض لڑکی ملے گی۔ میں ابھی شادی کرنے کے موڈ میں نہیں ہوں۔ میں اب اپنے ڈیڈ کا ساتھ دوں گا۔ مجھے موٹیویشن عنابیہ سے ہی ملی ہے، جب وہ اپنے ابا کے لیے اتنا کچھ کر سکتی ہے تو میں کیسا پیار جتاتا ہوں اپنے ڈیڈ سے جبکہ عملی طور پر تو میں ان کے لیے کچھ بھی نہیں کر رہا۔ وقت ضائع کر رہا ہوں، لاڈلا بنا ہوا ہوں۔ مجھے اب ان کو آرام دینا چاہیے۔ بہت محنت کر لی انہوں نے۔"

اس کی بہن خوشی سے اسے پیار کرتے ہوئے بولی، 

"تمہارا انتخاب لاجواب تھا مگر وہ ہمارے نصیب میں نہ تھی۔ چلو میں اس کی اچھی قسمت کی دعا ضرورکروں گی اور اگر تم اجازت دو تو اس کی شادی پر بھی جانا چاہتی ہوں۔" 

وہ اس کو دولہن کے روپ میں دیکھنا چاہتی تھی وہ بھی تمہاری مگر چلو کسی اور کی سہی۔ 

جبران نے کہا، 

"میں چاہتا ہوں آپ اس سے تعلق قائم رکھیں تاکہ زندگی کے کسی موڑ پر اس کو کوئی مشکل پیش آئے یا اسے کسی کی مدد کی ضرورت ہو تو ہم اس کی مدد کر سکیں۔ اس کے علاوہ اس کے شوہر کو بھی دیکھنا سننا ہے وہ اس کے ساتھ بدسلوکی نہ کرئے ورنہ میں اسے چھوڑوں گا نہیں۔"

رخسانہ دکھی دل سے اٹھ کر 'اچھا' کہہ کر، باہر نکل گئی۔



جبران نے باپ کے کاروبار کو ایسا سنبھالا کہ اس کا باپ اپنے بیٹے پر فخر کرنے لگا۔ بٹ صاحب اب اکثر دیر تک گھر میں سوئے رہتے۔ بےفکری ہو گئی تھی۔ کھبی آفس جاتے کھبی نہ جاتے۔ فون کر کے بیٹے سے پوچھتے کہ میں آ جاؤں تو وہ منع کر دیتا۔ اس کے دونوں بھائی بھی اس سے بہت پیار کرتے تھے، وہ بہت خوش ہوئے۔ جو وہ باپ سے سیکھنے سے جھجکتے تھے، وہ بھائی سے سیکھنے لگے اور بہت جلد وہ بھی کافی کچھ سیکھ اور سمجھ چکے تھے۔ ان کے باپ کو یقین ہی نہیں آ رہا تھا کہ وہ اتنے ذہین ہیں۔ اچھے اسکولوں میں تعلیم حاصل کی تھی انگلش ان کی اچھی تھی جب انہوں نے دھیان دیا تو کافی کچھ سمجھ لیا۔ بٹ صاحب جبران کو شاباش دیتے۔ کیونکہ جبران کی وجہ سے پرافٹ بھی کئی گنا بڑھ گیا تھا۔


شادی کا دن آن پہنچا۔ مہندی لگواتے وقت لڑکیاں اس کے شوہر کا نام ہاتھ پر لکھنا چاہتی تھیں مگر عنابیہ نے منع کر دیا کہ میرا ابھی نکاح نہیں ہوا۔ 

وہ پارلر گئی ہوئی تھی اپنی بھابھی کے ساتھ۔ پھوپھو بہت سستا سا سوٹ لیکر آئی تھی۔ زیورات بھی آرٹیفیشل تھے۔ سب باتیں بنا رہے تھے۔ پھوپھو نے بری بھی نہیں بنائی تھی کہ عجلت میں شادی کی ہے، بعد میں وہ خود اپنی پسند سے جوڑے خرید لے گی۔

عنابیہ کے والدین نے کسی معاملے میں بولنے کی ضرورت نہیں سمجھی۔ 

عنابیہ کے بڑے بھائی کو کچھ برا لگا تھا مگر اس کی بیوی نے سمجھا دیا تو وہ چپ ہو گیا۔


عنابیہ تیار ہو کر جب آئی تو بہت خوبصورت لگ رہی تھی۔ سب تعریف کر رہے تھے۔ دولہے اور اس کی ماں کی باچھیں کھلی ہوئی تھیں

دولہے کے گھٹیا سے دوست بھی ساتھ تھے۔ پھوپھو ان کو بہت پروٹوکول دے رہی تھی جبکہ وہ کسی کو بھی پسند نہ آ رہے تھے۔ وہ دانت نکالتے اونچے قہقہے لگاتے۔ لیڈیز کے پورشن میں کھڑے ہو گئے تو عنابیہ کے والد نے ان کو قدرے برہمی سے مردوں والی سائیڈ پر جانے کا کہا۔



بٹ صاحب جب گھر پر وقت گزارنے لگے تو انہیں محسوس ہوا کہ گھر تو نوکروں کے سرپر چل رہا ہے یہاں کی عورتیں ان کی بیوی ان کی بہویں تو گھر کی طرف دھیان ہی نہیں دیتی ہیں۔ کوئی زمہ داری نہیں ہے۔ سب کو اپنے کام کروانے کی پڑی ہوتی ہے، ان کے کپڑے میلے ہیں، پریس نہیں ہیں کسی کو فکر نہیں۔ 


رخسانہ چونکہ اپنے نئے گھر میں شفٹ ہو چکی تھی اس کا شوہر واپس آ چکا تھا وہ کھبی کبھار کچھ پکا کر جب لاتی تو بٹ صاحب کو گھر کا کھانا بہت پسند آتا۔ 

رخسانہ کے شوہر نے اسے سختی سے منع کیا تھا کہ گھر کے معاملات میں تم نے دخل اندازی نہیں کرنی۔ بٹ صاحب اب بیٹی کو دکھڑا سنانے لگے تو وہ صرف ماں کو ہی کہہ سکتی تھی۔ 

جب اس نے ایک بار ہلکے پھلکے انداز میں ماں کو احساس دلانے کی کوشش کی 

"موم ڈیڈ کے کپڑے دھونے اور پریس کروانے کے لیے ملازموں کے کام پر نظر رکھیں تاکہ وہ وقت پر کریں۔"

رخسانہ کی ماں بھڑک کر بولی، 

"یہ بٹ صاحب کے کام ہیں، وہ خود ملازموں پر سختی کریں تاکہ ان کے کام وقت پر ہو سکیں۔ میں ان کی ملازمہ نہیں ہوں جو ان چھوٹی چھوٹی چیزوں کی طرف دھیان دوں۔ میں خود بہت مصروف ہوتی ہوں۔ لیڈیز کلب کی صدر ہوں سو ذمہ داریاں ہیں مجھ پر۔"

رخسانہ نے کہا، 

"موم بچپن سے آپ سوشل ورک کے پیچھے بھاگتی رہی ہیں۔ ہم اکیلے ملازموں کے سرپر پلے ہیں۔ ہمیں آپ کی کمپنی کی ضرورت ہوتی تھی مگر آپ بہت لیٹ واپس آتی تھیں۔ ڈیڈ نے کھبی آپ پر کوئی پابندی نہیں لگائی۔"

رخسانہ کی ماں غصے سے بولی، 

"وہ مجھ پر پابندی لگا بھی کیسے سکتا ہے میں نے اسے کمپنی میں ملازم سے مالک بنا دیا۔ مجھے پسند آ گیا تھا ورنہ اس کی اوقات کیا تھی۔ اس سے میں نے انہی شرائط پر شادی کی تھی کہ وہ مجھے کھبی کسی بات سے روکے ٹوکے گا نہیں۔ اس کے بدلے اس کو بہت فائدے ملے۔ اس کے والدین کو خوشحالی ملی۔ چلو چھوڑو میں گنوانا نہیں چاہتی۔"

بٹ صاحب بیوی کی باتوں سے بہت دل برداشتہ ہوتے تھے مگر اف تک نہ کرتے تھے۔ 



عنابیہ کی بارات آ چکی تھی ماں نے پھر اسے سرگوشی میں کہا تھا بیٹی ابھی بھی وقت ہے چھوڑ دے اس رشتے کو۔  عنابیہ نے دکھی نظروں سے ماں کی طرف دیکھا ماں اس کی بےبسی بھانپ گئی۔ 

ماں یہ تو جانتی تھی کہ پہلے یہ اس رشتے سے اور تایا والے رشتے سے نفرت کرتی تھی ہر وقت انکار کرتی تھی اب یہ پھوپھو کی باتوں میں نہ جانے کیسے آ گئی کہ اسے ماں باپ کے آنسو بھی اسے پگھلا نہ سکے۔

اچانک بھگدڑ سی مچ گئی اور پھوپھو کے بیٹے کے دوست بھاگنے لگے۔ عنابیہ نے دیکھا اس کی پھوپھو بیٹے کو گھسیٹتے ہوئے سرگوشی کرتی بھگانے لگی۔

کسی نے بتایا، پولیس ان لڑکوں کو تلاش کر رہی ہے۔ جو نشہ بیچتے ہیں اور وہ پھوپھو کے بیٹے اور اس کے دوست تھے۔

پھوپھو جاتے سمے کہہ گئی کہ یہ شادی اب ممکن نہیں ہے۔ کسی نے ان کی مخبری کر دی تھی۔

رخسانہ نے جلدی سے عنابیہ کے پاس آ کر جبران کو فون کر کے تفصیل بتائی اور عنابیہ کو تسلی دینے لگی۔ 

عنابیہ حواس باختہ سی پھوپھو کو فون کرنے لگی تو پھوپھو نے عجلت میں کہا، 

"اب دوبارا فون نہ کرنا۔" 

 


عنابیہ نے خوشی سے رخسانہ کو امید بھری نظروں سے دیکھا تو وہ مسکرائی ۔

اب مہمان باتیں بنا رہے تھے۔

ابا نے رخسانہ سے درخواست کی کہ میری بیٹی کی بارات واپس چلی گئی تو بہت بدنامی ہو گی۔

رخسانہ نے کہا، 

"انکل آپ میرے ڈیڈ اور جبران سے بات کریں میں نے انہیں ساری سچویشن بتا دی ہے۔ ڈیڈ آپ کے فون کا انتظار کر رہے ہیں۔"

گھر والے سب حیران تھے مگر جب بٹ صاحب نے ساری سچویشن بتائی اور سب کو جلدی تیار ہو کر چلنے کا کہا تو سب عورتوں کو اپنے کپڑوں اور میک اپ کی پڑ گئی تو پہلی بار بٹ صاحب نے چلا کر کہا، 

"تم لوگوں کی بارات نہیں آنی جلدی کرو۔ باقی دھوم دھڑکا بعد میں کر لیں گے ابھی جلدی سے نکاح کر کے لڑکی کو گھر لانا ہے۔"

سب جلدی سے تیار ہو کر چلنے لگے تو بٹ صاحب نے راستے سے مٹھائی اور مولوی صاحب کا انتظام بھی کر دیا۔ 

جبران بلکل خاموش تھا۔ سنجیدہ شکل بنا کر بیٹھا ہوا تھا۔


عنابیہ کا نکاح جبران سے ہو گیا اور سب لوگوں نے بڑھ چڑھ کر مبارک باد دی اور ساتھ  یہ بھی بول رہے تھے کہ پہلے تو اس کی زندگی برباد کرنے جا رہے تھے شکر ہے اس کی زندگی برباد ہونے سے بچ گئی ۔

بٹ صاحب نے عنابیہ کے آبا کے ساتھ میٹنگ کی۔ رخسانہ اور جبران کے سمیت سب گھر والے شامل تھے۔ عنابیہ کو بھی ساتھ بٹھایا گیا ۔

جبران کے ڈیڈ نے کہا، 

"ہم عنابیہ بیٹی کو ساتھ ہی رخصت کر کے لے کر جا رہے ہیں۔"

عنابیہ کے آبا نے کہا، 

"میں معزرت چاہتا ہوں میں جہیز کے نام پر بہن کی ڈیمانڈ پر نقد رقم دینے والا تھا۔ میری شرط تھی کہ نکاح کے بعد دوں گا حالانکہ وہ بہت کہتی رہی پہلے دے دو۔ ہے تو میری بہن پر میں اس کے لالچ سے اور غلط تربیت سے بہت شرمندہ 🫣 ہوں بچے کا قصور نہیں ہے اتنا۔ اب یہ رقم میں جہیز کی صورت میں دینا چاہتا ہوں۔"

بٹ صاحب نے کہا، 

"دیکھیں ہمارے پاس اوپر والے کا دیا بہت کچھ ہے اور ہم پہلے بھی دو بہویں لے کر آئے ہیں۔ ہم نے ان کے والدین کو ناراض کر دیا مگر ایک چیز یا نقد کچھ نہیں لیا۔ اب ہم اپنے اصول نہیں توڑ سکتے۔"

عنابیہ کے ابا کو قائل ہونا پڑا۔

عنابیہ کی رخصتی کر دی گئی اور وہ جبران کے گھر آ گئی۔ 

جبران نے زیادہ بڑا ولیمہ بھی نہ کرنے دیا چند دن بعد ولیمہ رکھا گیا۔ اس دوران لیڈیز نے اپنے کپڑوں کا شوق بھی پورا کرلیا۔ 

جبران گاؤں سے دادا دادی اور اپنی اماں کو بھی لے آیا ۔

اماں دادا دادی کی رشتہ دار تھی اس کے والدین فوت ہو چکے تھے اور وہ ان کے پاس ہیلپ کےلئے بھی رہتی تھی۔ جبران اسے اماں کہتا تھا وہ اسے بیٹے کی طرح پیار کرتی تھی۔

ان کے آنے سے یہ فائدہ ہوا کہ اماں نے کچن کا انتظام سنبھال لیا۔

بٹ صاحب والدین کے آنے سے بہت خوش تھے۔ جبران ان کو بہت پروٹوکول دیتا تھا جب سے جوان ہوا تھا ان کو بہت اہمیت دیتا تھا۔ 

رخسانہ ان کی آمد سے بہت خوش تھی اسے دادا دادی اور اماں بہت پسند تھے۔ اماں اسے بیٹی کی طرح چاہتی تھی یہ بات رخسانہ کی ماں کو پسند نہ تھی۔ ان کا ادھر آ کر رہنا بھی۔  مگر جبران نے جب سے ہوش سنبھالا باہر ملک گیا اپنوں کی قدر ہوئی تو وہ تب سے ان کو بہت پوچھنے لگا ورنہ پہلے ماں سے ڈرتا تھا۔

وہ باہر ملک سے جب کال کرتا تو ماما مصروف ہوتی اور مختصر بات کرتی جبکہ دادا دادی اور اماں جی اٹھتے بہت واری صدقے جاتے۔ دیر تک باتیں کرتے اسے بھی اچھا لگتا۔ اس نے تو اب ان کی باقاعدہ سے مدد بھی شروع کر دی تھی۔ ان کو پیسے بھیجتا تھا۔


ان کے گھر جو بیوہ کزن رہتی تھی اس سے جبران کی ماں چڑتی تھی کیونکہ اس کے دادا دادی جبران کے والد کو کہتے تھے اس سے نکاح کر لو اور وہ مسلسل انکار کرتے تھے کہ میں اس کو برابر کا نہ وقت دے سکوں گا اور نہ انصاف کر سکوں گا تو میں گناہگار نہیں ہونا چاہتا ۔اس کی کسی بھلے انسان سے شادی کروا دیں نہیں تو میں ساری زندگی اس کی کفالت کرتا رہوں گا۔ وہ عورت نہ کسی سے شادی پر مانی اور نہ اس گھر سے جانے پر مانی۔

عنابیہ کی شادی اچھے طریقے سے انجام پا گئی ولیمے کا فنکشن بھی شاندار رہا۔ 

عنابیہ کے والد بہت خوش تھے مگر وہ شادی میں شرکت نہ کر سکے اور معزرت کر لی۔ باقی سب گھر والے شامل ہوئے۔

عنابیہ کی پھوپھو نے آ کر معافی مانگی۔ عنابیہ کی ماں کے کہنے پر عنابیہ کے ابا نے اسے معاف کر دیا۔ وہ عنابیہ کی ماں سے بھی رو رو کر معافی مانگتی رہی۔ اس کی ماں نے کہا، "ہماری بیٹی اچھی جگہ لگ گئی ہے، تم اب دل چھوٹا نہ کرو ہم ناراض نہیں ہیں۔"



جبران نے ایک دن عنابیہ کے والد کو دیکھا۔ گھر آ کر اکیلے میں اس نے عنابیہ کو بتایا 

"اس نے تمہارے ابا کو کسی عورت اور ایک ٹیم ایج کے بچے کے ساتھ دیکھا ہے گاڑی میں۔"

عنابیہ بولی، 

"ابا کے پاس تو گاڑی نہیں ہے۔ کیا پتا مالک کی فیملی کو لے کر جا رہے ہوں۔"

جبران نے غصے سے کہا، 

"تمہارے ابا فیکٹری سے ریٹائرمنٹ لے چکے ہیں اور وہ ماڈرن سی عورت آگے بیٹھی ہوئی ہنس ہنس کر ان سے باتیں کر رہی تھی۔ میں نے انکا پیچھا کیا۔ وہ ایک جگہ آئس کریم کھانے بھی رکے تھے۔"

عنابیہ کو پھوپھو کی بات یاد آ گئی کہ اس کے ابا کا ایک راز ہے مگر بتایا نہیں تھا۔ 

عنابیہ نے کہا، 

"جمی پلیز آپ غصہ نہ کریں، مجھے چند دن کے لیے میکے بھجوا دیں، میں اس بات کی تہہ تک پہنچنا چاہتی ہوں۔"

جمی نے ہوں کہا، اور بولا، 

"چلو میں تمہیں ابھی چھوڑ آتا ہوں اور اس وقت تک واپس نہ آنا، جب تک سچ نہ جان لو۔ تمہارے ابا نے بیٹی کی شادی مس کر دی جس کی وجہ سے مجھے بہت سے لوگوں سے سو بہانے بنانے پڑے۔ شرمندگی الگ ہوئی۔"

عنابیہ کو اس نے گھر میں بھی کسی کو نہ بتانے اور چپ کر کے جانے کا کہہ دیا۔  وہ چپکے سے بیگ بنانے لگی اور گھر سے نکلتے وقت بھی سامنے کوئی نہ تھا. 


عنابیہ جب میکے پہنچی تو جبران نے سسر سے کہا، 

"انکل جی کل میں آپ سے ملنے آؤں گا اگر آپ بیٹی کا گھر بسا دیکھنا چاہتے ہیں تو کل جو میں نے آپ کو کسی کے ساتھ دیکھا، وہ سچائی بتا دیں ورنہ" 

کہہ کر نکل گیا۔

عنابیہ نے فوراً آ کر باپ کی منت کرتے ہوئے کہا، 

"ابا جی سب سچ بتا دیں کون تھی وہ عورت اور بچہ۔"

عنابیہ کے آبا ڈبڈباتی آنکھوں سے اسے دیکھتے ہوئے بولے، 

"اگر سچ بتایا تو تیری ماں روٹھ جائے گی، میرا گھر اجڑ جائے گا اور اب اگر چھپاتا ہوں تو تیرا گھر اجڑ جائے گا۔"

اتنے میں عنابیہ کی امی غصے سے کمرے میں داخل ہوئی اور بولی، 

"گھر تو اب آپ کا، اجڑے گا ہی۔ میں اتنے سال آپ کا غصہ اس لیے برداشت کرتی رہی کہ آپ بےوفا نہیں ہیں اس کا مطلب یہ صاف ہے کہ آپ دوسری شادی کیے بیٹھے ہیں۔ تب ہی آپ ہفتے ہفتے کے لیے دفتر کا بہانہ کر کے چلے جاتے تھے۔ اب صرف بیٹی کا گھر بچے گا۔"

اس کی امی اپنے بیٹوں اور بہوؤں کو بھی بلا لائی اور سب بتانے لگی۔ سب حیران ہو کر دیکھنے لگے۔ ماں روتے ہوئے بین کرنے لگی اور بولی، 

"میں اب اس شخص کے ساتھ نہیں رہ سکتی مجھے طلاق چاہیے۔"

عنابیہ کی امی نے پھوپھو اور تایا کو بھی فون کر دیا جبران کو بھی کر دیا۔ سب پہنچنا شروع ہو گئے۔ جبران اپنے ڈیڈ اور رخسانہ کو ساتھ لے آیا۔

عنابیہ کے والد مجرموں کی طرح سر جھکائے پریشان حال بیٹھے ہوئے تھے اور کسی کو میسج کر رہے تھے۔

عنابیہ باپ کے قریب کھڑی آنسو بہاتے ہوئے 

"ابا پریشان نہ ہوں" 

کہہ کر تسلی دے رہی تھی، کھبی پانی پلانے کی کوشش کر رہی تھی۔ عنابیہ کو صرف ابا جی فکر تھی باقی سب تو اس انتظار میں بیٹھے ہوئے تھے کہ کب اس راز سے پردہ اٹھے۔

جبران نے عنابیہ سے کہا، 

"یہ اتنا تماشہ لگانے کی کیا ضرورت تھی۔ گھر کی بات گھر میں ہی رہتی" 

مگر وہ کچھ نہ بولی۔ 

رخسانہ نے جبران کو اس کی ماں کی ساری سچویشن بتائی جو روتے ہوئے کوسنے دے رہی تھی۔ اس کے بھائی بھابھی بھی آ چکے تھے۔ سارا گھر مہمانوں سے بھر چکا تھا۔ 

جب عنابیہ کے ماموں آئے تو عنابیہ کی ماں دوڑ کر روتے ہوئے ان کے گلے لگ کر بین کرنے لگی۔ 

جبران نے رخسانہ سے آہستہ سے کہا، 

"یہ کی جہالت ہے۔" 

رخسانہ نے اسے چپ رہنے کا اشارہ کیا۔ جبران پہلو بدل کر رہ گیا۔


جب سب کسی نہ کسی طرح ان کی بیٹھک میں بیٹھ گئے تو عنابیہ کے ابا نے روندھی ہوئی آواز میں کہا 

"میں آپ لوگوں کو ساری بات بتاتا ہوں پھر آپ لوگ فیصلہ کیجیے گا کہ میں نے صحیح کہا یا غلط۔۔"

عنابیہ کی ماں چلا کر بولی، 

"سب غلط کیا ہے میں بتا رہی ہوں میں آج ہی بھائی کے ساتھ ہمیشہ کے لیے چلی جاؤں گی۔"

عنابیہ ماں کو سمجھاتے ہوئے بولی، 

"پلیز امی ابا جی کی بات تو پوری سن لیں۔"

عنابیہ کے بھائی باپ پر تڑی ڈالتے ہوئے بولے، 

"ابا جی ہم اپنی ماں کے ساتھ کوئی زیادتی نہیں ہونے دیں گے اگر آپ نے دوسری شادی کر رکھی ہے تو اسے چھوڑنا ہو گا۔ ورنہ ہم ماں کی آپ سے طلاق کروا دیں گے۔"

عنابیہ کی پھوپھو بھائی کا سر اپنے ساتھ لگاتے ہوئے بولی، 

"شرم کرو کیسے باپ سے بات کر رہے ہو۔"

عنابیہ کی پھوپھو کو بہن پر ترس آنے لگا تھا۔

عنابیہ کے ابا نے سب طرف طائرانہ نظر دوڑائی دوڑائی اور گویا ہوئے، 

"میں شروع سے سب بتاتا ہوں۔ میں جس فیکٹری میں کام کرتا تھا ایک دن اس فیکٹری کے مالک اپنے کیبن میں بیٹھے رو رہے تھے میں کسی کام سے گیا اور ازراہ ہمدردی ان سے پوچھا، 'سر کیا ہوا' پھر میں نے پانی پلایا تو وہ زرا سنبھلے اور انہوں نے بتایا کہ ان کی بیٹی کی معمولی سی طبیعت خراب ہوئی وہ اسے ہاسپٹل لے گئے۔ اس کے ٹیسٹ ہوئے تو پتا چلا کہ اس کو کینسر ہے، وہ بھی لاسٹ اسٹیج پر۔ تب سے میں اور میری بیٹی رو رو کر بدحال ہو رہے ہیں۔ میں تو اس کے لیے رشتہ ڈھونڈ رہا تھا اس کی شادی کرنی تھی میری اکلوتی اولاد ہے۔

اتنے میں ان کی بیٹی کا فون آیا تو وہ مجھ سے درخواست کرتے ہوئے بولے کہ میں گاڑی ڈرائیو نہیں کر سکوں گا۔ تم مجھے گھر چھوڑ دو گے۔ مختصر یہ کہ انہوں نے مجھ سے ریکوسٹ کی کہ میں اس سے شادی کر لوں ایک بار میں اپنی بیٹی کو دولہن بنتے دیکھ سکوں، شاید خوش ملنے پر کچھ زیادہ عرصہ جی سکے۔

میں نے بہت دہائی دی کہ میں شادی شدہ بال بچوں والا ہوں مگر وہ میرے پاؤں پڑ گئے تو ان کی درخواست پر مجھے ماننا پڑا کہ سادگی سے نکاح ہو گا۔ ہم تمہیں مالا مال کر دیں گے مگر میں نے کہا، میں اسی طرح موجودہ نوکری کرتا رہوں گا۔ مجھے کچھ نہیں چاہیے۔انہوں نے کہا۔ آج ہی نکاح ہو گا ابھی اسی وقت۔ ان کو ڈر تھا کہ میں کہیں مکر نہ جاؤں۔ میں اکثر کام کے سلسلے میں ہفتہ ہفتہ دوسرے شہر جاتا رہتا تھا میں نے گھر فون کر دیا کہ مجھے اچانک ایک ہفتے کے لیے فیکٹری کے کام کے سلسلے میں دوسرے شہر جا رہا ہوں۔ میں نے یہ بھی کہہ دیا کہ زیادہ وقت بھی لگ سکتا ہے، اس لیے فکر نہ کرنا۔ زیادہ فون بھی نہیں کر سکوں گا کام میں پھنسا ہوں گا۔ اس طرح میرا نکاح اسی دن ہو گیا۔ اگلے دن صاحب نے ہم دونوں کو شمالی علاقہ جات کی سیر کو بھیج دیا۔ ساتھ ایک ڈاکٹروں کی ٹیم بھی بھیجی۔

مگر حیرت انگیز طور پر اسے ڈاکٹروں کی ضروریات نہ پڑی اور دس دن گزارنے کے بعد میں نے ان سے درخواست کی کہ پلیز مجھے اب گھر جانے دیں اور اس شادی کو راز رکھیں ورنہ میرا گھر اجڑ جائے گا۔

تانیا شاہ اس کا نام تھا۔ بعد میں پتا چلا کہ اس کی رپورٹ نام کی غلطی سے بدل گئی تھی اور یہ بلکل تندرست ہے۔ میں بہت خوش ہوا کہ اب میری جان اس سے چھوٹ جائے گی مگر وہ امید سے ہو گئی اور صاحب نے مجھے کہا کہ میری بیٹی تم سے طلاق نہیں لینا چاہتی اور نہ ہی تمہیں اپنے ساتھ بندھ کر رکھنا چاہتی ہے۔ مجھے بچہ مل جائے گا ہم لوگ بچے کے سہارے زندگی گزار لیں گے تم اپنی روٹین میں اپنی پہلی شادی نبھاؤ۔ ہاں کھبی کبھار میرے پاس آ جایا کرنا میرے لیے یہی بہت ہے۔ میرے بچے کو باپ کا نام مل جائے گا۔ میں ویسے بھی انجانے میں ہی سہی تمہارے ساتھ شادی شدہ زندگی کی شروعات کر چکی ہوں اور تمہارے بچے کی ماں بننے والی ہوں۔ اپنے بچے کی ساری زمہ داری ہم اٹھائیں گے۔ ہم تم پر کچھ بوجھ نہ ڈالیں گے۔ یہ اتنی سی میری کہانی تھی۔ بچہ ہو جانے کے بعد مجھے، ظاہر ہے باپ تھا، اس سے لگاؤ قدرتی بات تھی، اس لیے میں کھبی کبھار اس کے پاس جاتا تھا۔ ایک بار بہن نے مجھے اس کے ساتھ دیکھ لیا تھا تو ان کو ساری کہانی سنانی پڑی۔ اب بتاؤ میں نے کیا غلط کیا اور کہاں اپنی بیوی سے بے وفائی کی۔ اس کی محبت میں میں دوسری کے پاس کھبی نہیں گیا۔ جب تک وہ بہت منتیں کر کے بچے کا حوالہ دے کر نہ بلائے۔

میں نے صاحب اور تانیا شاہ کو بلایا ہے اس کے سامنے اب جو سب کا فیصلہ ہو گا مجھے منظور ہے۔"

باہر بیل بجی اور صاحب اور تانیا شاہ اندر داخل ہوئے تو عنابیہ کی امی  تیزی سے اٹھ کر اس کے پاس گئی اور بڑے تپاک سے ملی۔

تانیا شاہ حیرت سے تکنے لگی تو عنابیہ کی امی نے اسے کہا 

"میں نے ابھی ساری تفصیل جانی کی ہے کہ کس طرح آپ کی شادی ہوئی ہے۔ اب میں اس نتیجے پر پہنچی ہوں کہ جتنا میرا حق اپنے شوہر پر ہے اتنا آپ کا بھی ہے۔ یہ میرے ساتھ وفا نبھاتے رہے اور آپ کے ساتھ زیادتی ہوتی رہی۔ اب جتنی بھی ہم سب کی زندگی بچی ہے یہ آپ کے ساتھ رہیں گے۔ ہمارے پاس ملنے آتے رہیں گے۔" 

بچہ بھی ساتھ تھا اور حیرت سے سب کو دیکھ رہا تھا۔ وہ اسے پیار سے پاس بلا کر بولی

"ادھر آؤ اپنی بڑی ماں کے پاس۔"

پھر اسے پیار کیا سب حیرت سے اس کی گفتگو سن رہے تھے۔

شوہر نے کچھ احتجاج کرنا چاہا مگر وہ دھمکی دینے والے انداز میں بولی، 

"اگر میری بات نہ مانی گئی میں انتہائی قدم اٹھا لوں گی، طلاق کے لوں گی پھر تو جانا پڑے گا۔ اگر مانیں گے تو ہم کھبی کھبی مل لیا کریں گے۔" 

اس نے ان کا سامان پیک کرنا شروع کر دیا اور نہ نہ کرتے ہوئے بھی اس نے ان کو تانیا شاہ کے ساتھ بھیج دیا۔ اس نے بہت شکریہ ادا کیا ۔

ان کے جانے کے بعد وہ کرسی پر خاموش ہو کر بیٹھ گئی۔ عنابیہ ماں کو تسلیاں دینے لگی۔  تائی نے طنز کیا اپنے شوہر کو خود دوسری کو سونپ کر اب سوگ منانے کا فائدہ۔

عنابیہ کے ماموں ممانی تسلی دینے لگے۔ وہ خاموشی سے روتی رہی۔ سب اپنے اپنے گھروں کو چل پڑے۔

بٹ صاحب اور رخسانہ بھی تسلی دیتے ہوئے چلے گئے۔ جبران نے عنابیہ سے کہا 

"تم چند دن اپنی ماں کے پاس رہو ان کو اس وقت تمہارے ساتھ کی دلجوئی کی ضرورت ہے۔"

عنابیہ نے جبران کا بہت شکریہ ادا کیا۔ اس کا خود بھی دل چاہ رہا تھا کہ وہ ماں کے پاس رہے۔ 

عنابیہ کی ماں کو بیٹی کے ساتھ بہت آسرا ملا۔ اور وہ جلد نارمل ہو گئی۔ 

شوہر نے فون کیا تو عنابیہ کی ماں نے سختی سے منع کر دیا 

"مجھے کھبی فون نہ کرنا مجھے اب بھول جاؤ۔ اس کو ٹائم دو۔"

عنابیہ کے ابا کچھ دن پریشان رہے مگر تانیا شاہ اور بیٹے کی محبت اور ساتھ نے ان کی زندگی میں خوشیوں کے رنگ بھر دیے۔ 

گھر بیٹوں اور بیٹی کو کھبی کبھار فون کرتے مگر گھر آنے کی ہمت نہ کر سکے کیونکہ بیوی نے سختی سے منع کر رکھا تھا ۔

عنابیہ نے سسرال میں جاتے ہی گھر کا سارا نظام سنبھال لیا تھا اب گھر میں کھانا پکنے لگا تھا۔ کپڑے وقت پر دھلے اور تیار ملتے۔ وہ بہت خوش تھے۔ عنابیہ جب واپس آئی تو انہوں نے سکھ کا سانس لیا۔

دادی دادا اور اماں کا دل شہر میں نہ لگا اور وہ لوگ واپس گاؤں چلے گئے۔

جبران کی ماں کو اب ساس سسر اور اماں جو ان کے گھر رہتی تھی اس سے اب کوئی دھڑکا نہ رہا کیونکہ اس نے جان لیا تھا کہ اس کا شوہر اسی کا ہے اور وہ خوش قسمت ہے جو بچوں کی ماں ہے۔ ایک وہ عورت ہے جو اس کے ساس سسر کے آسرے زندگی گزار رہی ہے۔ وہ نہ رہے تو وہ کیا کرئے گی اس کے بچوں کو اپنے بچوں کی طرح پیار کرتی ہے۔ اس لیے اس نے خود گاؤں جا کر ساس سسر کو اور اس عورت کو واپس اپنے گھر کے آئی۔ ان کو خوب عزت دی۔ شوہر بھی خوش ہو گیا اور جبران بھی خوش ہو گیا۔

اس عورت نے گھر کے کافی کام اپنے ذمے لیے ہوئے تھے۔ ایک یہ بھی فائدہ تھا جبران کی ماں کو۔ 

عنابیہ کی ماں کو سوکن نے بہت ہیلپ کرنا چاہی مگر اس نے صاف انکار کر دیا۔ مگر ان کو گھر آنے سے کھبی نہ روکا۔ 

اس کا بیٹا عنابیہ کی ماں کے گھر آ کر بہت خوش ہوتا۔ ادھر عنابیہ بھی اس پر جان چھڑکنے لگی۔ سوتیلی ماں سے اس کی خوب بننے لگی۔ اس کے ابا اس کی شادی میں اس لیے شریک نہ ہوئے تھے کہ عنابیہ کی سوتیلی ماں کے وہ لوگ دور پار کے رشتے دار بھی تھے۔ عنابیہ کے والد نے چھان بین کی تو ڈر کر شرکت نہ کی کہ کہیں وہ لوگ شادی میں آئے اور سامنا ہو گیا تو کیا ہو گا۔

عنابیہ کی سوتیلی ماں عنابیہ کے سب بہن بھائیوں سے بہت پیار کرنے لگی وہ کہتی 

"یہ میرے بیٹے کے تو سگے بہن بھائی ہیں ان کا باپ ایک ہے میرا بیٹا اکیلا نہیں ہے۔"

عنابیہ نے گھر کا جب نظام سنبھال لیا تو بٹ صاحب بہت خوش ہوئے کہ چلو کم سے کم گھر کا کھانا تو نصیب ہوا۔ اب کپڑے تیار ملتے۔

عنابیہ اپنے میکے آئی ہوئی تھی۔ ماں بیٹی کمرے میں بیٹھی چائے پی رہی تھیں اور باتیں کر رہی تھیں۔

عنابیہ نے اپنی شادی کا دن یاد کرتے ہوئے کہا، 

"امی وہ بارات والے دن جو عورت آپ کو اور مجھے سرگوشی میں کہہ رہی تھی کہ تمہارا ہونے والا شوہر قاتل ہے جیل بھی رہ کر آیا ہے وہ کون تھی" 

تو ماں نے یاد کرتے ہوئے کہا، 

"وہ تیرے پھوپھو کے بیٹے کے لیے کہہ رہی تھی ان کی پڑوسن تھی۔ تم جانتی تو ہو اپنے کزن کو وہ جیل اس سلسلے میں رہ کر آیا تھا کہ اس پر قتل کا الزام تھا۔ وہ دوست کے ساتھ تھا تو اس کے دوست کی کسی سے لڑائی ہو گئی اور اس کے ہاتھوں قتل ہو گیا یہ تمہارا پھوپھو کا بیٹا بھی ساتھ تھا اس پر بھی الزام آ گیا۔ اس کو بھی جیل میں ڈال دیا۔ جب انہیں اس کے خلاف ثبوت نہ ملا تو اسے چھوڑ دیا۔ مگر بد سے بدنام برا ہوتا ہے۔"


عنابیہ جب میکے گئی تو اماں نے سب کام سنبھال لیے۔ جب عنابیہ واپس آئی تو دونوں مل کر گھر کا نظام دیکھنے لگیں۔

ایک دن عنابیہ رات کو پانی پینے اٹھی تو اس نے دیکھا اماں سسر کے ساتھ کھڑی ہے اور انہوں نے اس کا ہاتھ پکڑ  رکھا ہے۔

عنابیہ کو شدید غصہ آیا اماں کا اور سسر کا یہ روپ دیکھ کر۔

اس نے غصے سے چلا کر پوچھا 

"یہ کیا ہو رہا ہے ادھر۔"

اس کا شور سنکر سب گھر والے جاگ گئے۔

عنابیہ کے سسر نے عنابیہ سے کہا، 

"یہ میری بیوی ہے۔ میری شادی پہلے اس سے ہو چکی تھی۔ مگر آپ یہ زندگی بنانے کے لیے مجھے جبران کی ماں کا سہارا لینا پڑا۔"

جبران کی ماں دھاڑیں مار مار کر رو نے لگی جب خوب رو چکی تو اماں کو گلے لگا کر روتے ہوئے بولی، 

"تم نے میرے حق پر ڈاکہ نہیں ڈالا  لیکن شاید میں نے ڈاکہ ڈالا ہے۔" 

دونوں گلے ملیں۔ عنابیہ نے خوش ہو کر تالیاں بجائیں۔

عنابیہ کی ماں نے شوہر کو صاف کہہ دیا 

"اب أپ دونوں کو چھپ چھپ کر ملنے کی ضروت نہیں ہے۔ اب برابر حساب ہو گا اسے بھی اتنا وقت ملے گا جتنا مجھے ملا۔"

عنابیہ خوش ہو کر سوچنے لگی ایک ایک کر کے سارے مسئلے حل ہو رہے ہیں اس نے اوپر والے کا شکر ادا کیا۔


The end

رائٹر عابدہ ذی شیریں



🎉

ناول اختتام پذیر ہوا

You've reached the end of this journey. We hope you loved every episode!

Reader Comments

No comments yet. Be the first to share your thoughts!

Log in to leave a comment.

Related Novels

Selected For You

View More Free Novels

Editor's Choice

Handpicked favorites that you shouldn't miss.

Premium Membership

Unlock the Full Library

One subscription. Every story. Unlimited reading.

PKR 300
30 Days of Unlimited Access
Go Premium Now

Secure payment  ·  Instant access

Full Novel Library
Access every premium & exclusive novel — no episode locked
Unlimited Reading
Read as much as you want, whenever you want, at your pace
Support the Author
Your subscription directly supports Abida Z Shireen's work
New Episodes First
Be the first to read every new episode as soon as it drops
A F S R N
Join thousands of readers already enjoying premium access
Loved by readers
Our Literary World

Experience the Best Urdu Novels Online

Dive into decades of storytelling by Pakistan's most beloved author, now at your fingertips.

50+
Published Novels
30+
Years of Writing
1M+
Readers Worldwide
100%
Authentic Stories
01

The Legacy of Abida Z Shireen

Welcome to the digital sanctuary of Abida Z Shireen, one of Pakistan's most celebrated literary icons. As a premier Urdu storyteller, she has spent decades crafting narratives that capture the soul of our society. This online Urdu reading platform is designed to preserve her vast Urdu literature archive, offering readers a chance to read Urdu novels online that explore the depths of human emotion, culture, and resilience.

Read Her Story
Abida Z Shireen
Author
02

Captivating Novels & Social Sagas

From suspense-filled thrillers to heart-touching social dramas, our collection features the best Urdu novels that have captivated millions in publications like Aanchal Digest. Whether you are looking for new Urdu novels 2024 or timeless classics, Abida's work provides a unique lens into family dynamics and romantic storytelling. Dive into her world and discover why she is considered a top Urdu digest writer by fans globally.

Browse All Novels
Reading Urdu Novels on Tablet and Phone
Novels
03

Soul-Stirring Urdu Poetry Collection

Beyond prose, this platform hosts an extensive Urdu poetry collection. Abida Z Shireen's verses offer a profound look into spiritual and philosophical themes, available in both Urdu and English. As a featured Urdu poet, her work serves as a bridge between traditional rhythms and modern thought. Join our community of literature lovers to explore famous Urdu poems and exclusive literary insights found nowhere else.

Explore Poetry
Elegant Desk with Pens and Books
Poetry