Loading...
Logo
Back to Novel
Meri Bahaar o Khizaan Tum Sey Wabasta Hai
Episodes
Meri Bahaar o Khizaan Tum Sey Wabasta Hai

میری بہار و خزاں تم سے وابستہ ہے 1

From Meri Bahaar o Khizaan Tum Sey Wabasta Hai - Episode 1

شارق کے ابا اپنی بڑی بہو کا کیا کریں کیسی فضول بات کی ضد کر رہی ہے۔

شارق کے ابا موبائل پر گیم کھیلتے ہوئے چونک کر بولے کون سی بات کی ضد۔

شارق کی ماں ماتھے پر ہاتھ مارتے ہوئے بولی پہلے آپ موبائل چھوڑیں اور دھیان سے میری بات سنیں۔

اتنے میں ان کی بیٹی اپنے بچے کو گود میں اٹھائے پاس پڑے الاونج میں صوفے پر بیٹھ گئ۔ بچہ اس کا موبائل لینے کی ضد کر رہا تھا اور وہ اسے بہلانے کی ناکام کوشش کر چکی تھی مگر وہ نہ مان رہا تھا آخر شارق کے باپ نے اسے اپنا موبائل دے کر جان چھڑائی۔

بیٹی پوچھنے لگی ماما بھابھی کی ضد مناسب ہے۔ بھابھی سے سوکن برداشت نہیں ہوتی اور آپ کو بیٹے کی اولاد کو دیکھنے کی تمنا ہے۔ پانچ سال شادی کو ہو چکے ہیں۔ میری اور بھائی کی شادی اکٹھی ہوئی تھی میرے ایک بیٹا اور ایک بیٹی بھی ہو چکے۔ پہلی بار بیٹی کی پیدائش پر ساس نہیں منہ بنایا تھا مگر شکر ہے کہ دوسرا بیٹا ہو گیا۔

شارق کی ماں تلملا کر بولی تمھاری ساس کی پوتے کی خواہش کوئی بے جا نہ تھی ہر ساس کو ہوتی ہے مجھے بھی ہے اور پانچ سال انتظار بھی کیا ہے۔ اب میں کسی کی نہیں سنوں گی۔

بیٹی نے قاہل کرنے والے انداز میں سمجھایا کہ ماما آجکل کے دور میں بیٹا بیٹی برابر ہیں۔

ماں نے غصے سے چیخ کر کہا کہ کیا عورتیں بھاری وزنی چیز اٹھا سکتی ہیں کیا۔ سخت گرمی میں گھر تعمیر کر سکتی ہیں۔ اکیلی رات کو گھر سے نکل سکتی ہیں کیا۔

بھابھی بھی شور سن کر آ گئ۔ اور ساس سے مخاطب ہو کر بولی اماں دیکھیں میری چچا کی بیٹی کا باپ مر گیا اور اب ماں بیٹیاں لاوارث ہیں۔ ہمارے پاس کس چیز کی کمی ہے۔ جو ہم ان کو پال نہیں سکتے۔ وہ اس گھر میں پلتی رہیں گی اور ان کی پاگل بیٹی سے شادی کروا کر آپ کے بیٹے کو اولاد بھی مل جائے گی۔ مجھے بھی سوکن کا جلاپا نہیں ہو گا۔ آپ کا بیٹا تو میری جگہ کسی کو لانا ہی نہیں چاہتا۔ شکر کریں کہ پاگل کے لئے بھی مانا ہے۔

ساس طنزیہ انداز میں بولی جانتی ہوں تم نے اسے فل مٹھی میں کیا ہوا ہے ورنہ ایک بانجھ کو کون ساتھ رکھتا ہے۔

بہو نے ماتھے پر تیوری چڑھا کر کہا کہ کل میں نے ان کو ادھر بلا لیا ہے اگر آپ نے میری تجویز پر عمل کیا تو ٹھیک ورنہ پھر ان کی شادی اور ان کی اولاد کو بھول جائیں میں انہیں شادی کی اجازت نہیں دوں گی۔ یہ کہہ کر وہ غصے سے اٹھ کر چل پڑی۔

شارق کی بہن نے ماں سے کہا کہ کیا حرج ہے نکاح کروا دیں۔ ہو سکتا ہے اس لاوارث کو سہارا دینے سے ہمارا بھلا ہو جائے۔

ماں نے شوہر کی طرف دیکھا تو اس نے بھی کہا کہ مان جاو۔ اتنے میں شارق آفس سے آیا سلام کیا اور کمرے میں چلا گیا۔ فریش ہو کر آیا تو بہن نے اسے بھابھی والی بات بتائی تو وہ بھی ماں کو سمجھانے لگا کہ چلیں آپ ثوابِ کی نیت سے انہیں گھر رکھ لیں۔

اتنے میں شارق کی بھابھی سب کے لیے چائے لے کر آ گئ اور دیور کو تفصیل بتانے لگی۔ کہ اس کے چچا نے شہر میں پسند سے شادی کی تھی والدین نہ مانتے تھے وہ شہر پڑھنے گئے اور ادھر ہی نوکری بھی کر لی۔ اور شادی بھی۔ والدین کو شہر بلانے لگے کہ وہ ایک تو نوکری کی وجہ سے گاوں نہیں رہ سکتے دوسرے ان کا دل اب شہر میں لگتا ہے گاوں میں نہیں رہ سکتے۔

باپ نے کہا کہ ہمارا تمھاری بیوی سے کوئی واسطہ نہیں۔ اگر واسطہ رکھوانا ہے تو اسے گاوں میں رکھو اور ملنے آتے رہو ورنہ ہم اسے قبول نہیں کریں گے۔ چچا بھی نہ مانے اور خود ملنے آتے رہے۔ اگر کوئی ان کی فیملی کے بارے میں پوچھتا تو وہ کچھ نہ بتاتے۔ ماں نے بھی شوہر کے ڈر سے بیٹے سے کچھ بھی پوچھنا چھوڑ دیا۔ وہ شکر کرتی تھیں کہ چلو شکر ہے بیٹے سے تو ملنے دیتے ہیں۔

چچا کے اچانک دل کے اٹیک کی موت سے ان کے والد پریشان ہو کر بہو کے فون کرنے پر آ کر بیٹے کی لاش کو گاوں لے آئے اور بہو اور پوتی کو بھی لے آئے۔ پوتی کو دورے پڑتے تھے جب اس کی ماں سے پوچھا کہ کیا یہ دورے ابھی پڑتے ہیں یا پہلے بھی پڑتے تھے۔ تو اس کی ماں بولی نہیں بچپن سے پڑتے ہیں۔ اگر دورے نہ پڑتے تو ہم اس کی شادی اپنے بھائی سے کر دیتے مگر ویسے ٹھیک لگتی ہے اچانک چھری اٹھا لے گی کچھ توڑنے پھوڑنے لگے گی۔ کچھ پتا نہیں چلتا کب اس پر دورہ پڑ جائے اور وہ حملہ کر دے۔ اس لئے ہم نے بھائی کی شادی گاوں میں ہی رشتے داروں میں کر دی۔

شارق کی بہن نے پوچھا بھابھی کوئی مال ودولت یا جاہیداد وغیرہ بھی ہے کیا۔

بھابھی نے بے زاری سے جواب دیا کدھر جی۔بڑا سا سجا سجایا گھر تو چچی صاحبہ فرمانے لگیں کہ یہ گھر سامان سمیت بزنس پارٹنر سے رینٹ پر لیا تھا پھر وہ ان کے حوالے بزنس کر گیا تو شوہر سے فلاپ ہو گیا اور بہت سا قرضہ چڑھ گیا کیونکہ بزنس پارٹنر نے ان کو فری ہینڈ دیا ہوا تھا۔ اب وہ دھمکیاں دینے لگا تو ان کو دل کا اٹیک ہو گیا۔ اب ابو اور دادا نے ڈر کر جلدی سے گاوں بھاگے تاکہ قرض خواہ سے بچ سکیں۔

شارق غور سے سن رہا تھا اور بولا کوئی بات نہیں ایک ملازمہ ان کے لئے ہر وقت کی دیکھ بھال کے لئے رکھ دیں گے۔

بہن بھابھی سے بولی کل لازمی بلا لینا میں بھی مل لوں پرسوں میں نے چلے جانا ہے۔ شارق تم نے مجھے پرسوں چھوڑ کر آنا ہے گھر۔

ماں نے ناگواری سے کہا کہ ایک تو تمھارے شوہر کی سمجھ نہیں آتی۔ کھبی بلانا ہو تو بھائی کو بلا لو چھوڑنے بھی بھائی کے ساتھ آ جانا۔

بیٹی بولی ماما وہ مصروف رہتے ہیں نا۔

اماں تڑخ کر بولی جیسے میرا بیٹا تو بہت فارغ ہے نا۔

شارق بولا کوئی بات نہیں ماما میری بہن ہیں۔

شوہر بولا ارے بیگم شکر کرو جو بھائی کے آسرے ہی سہی بھیج دیتا ہے۔ ورنہ اس سے ملنے کے لیے بیٹھی رہو۔

دوسرے دن شارق کی بہن کو پاگل لڑکی کی آمد کا بےچینی سے انتظار تھا۔

دونوں ماں بیٹی کو شارق کی بھابھی ڈرائیور کو لے کر گاڑی میں گاوں ان کو لینے گئی۔

ماھم اپنی ماں کے ہمراہ شارق کی بھابھی جو ماھم کی تایازاد بھی تھی شہر آ گئ۔

سارے راستے شارق کی بھابھی اپنی چچی کو تسلیاں دیتی رہی کہ تم دونوں ماں بیٹی کو ہمارے گھر میں سہارا بھی مل جائے گا۔

ماھم کی ماں جو جوان پاگل بیٹی کی وجہ سے مجبور تھی اس کی بات ماننے کے بغیر چارہ نہ تھا۔ اس کو بھی اس میں اپنا اور بیٹی کا بھلا لگ رہا تھا کہ کم سے کم شہر میں رہنا تو نصیب ہو گا نا۔

گھر پہنچ کر شارق کی ماں جو پہلے منہ بناے بیٹھی تھی۔ شارق اس کی بہن اور اس کا شوہر اسے مسلسل سمجھانے میں لگے ہوئے تھے جب شارق کی ماں نے ماھم اور اس کی ماں کو دیکھا تو اسے دونوں عورتیں کافی مظلوم اور شریف لگیں اس کا دل پگھل گیا اور اس نے گرمجوشی سے ان کا استقبال کیا اور ان کا بہت خیال رکھنے لگی۔

ماھم نے بڑے ادب سے شارق کی ماں کو سلام کیا اور جب اس کی تایازاد نے اپنے دیور کو آواز دی جب وہ سامنے آیا تو ماھم کو دیکھ کر دو قدم رک گیا۔

ماھم بھی اسے دیکھ کر چونک سی گئی دونوں کی نظروں میں پہچان نظر آئی مگر لب خاموش رہے۔

شارق کی بھابھی نے ماھم کی ماں کو مخاطب کر کے کہا کہ یہ اسکا دیور ہے۔

شارق نے آگے بڑھ کر ماھم کی ماں کو ادب سے سلام کیا انہوں نے پیار سے دیکھتے ہوئے وعلیکم السلام کہا۔

سامنے سے آتے شارق کے بڑے بھائی کو دیکھ کر ماھم اور اس کی ماں کو جب اس نے سلام کیا اور شارق کی بھابھی نے اپنے شوہر کا تعارف کروایا تو ماھم کی ماں نے بےدلی سے مروت بھرے لہجے میں سلام کا جواب دیا۔

ماھم اور اس کی ماں کو ان کا روم دیکھا کر ان کا سامان رکھ دیا گیا۔

ڈائننگ ٹیبل پر چاے کا اہتمام کیا گیا اور ماھم اور اس کی ماں کو بلایا گیا۔

ماھم نے بڑے سلیقے سے چاے پی اور خاموشی سے ماں کے ہر حکم ک تعمیل کرتی رہی۔ جیسے چھوٹے بچے کو سمجھا کر سکھایا جاتا ہے۔

چاے پینے کے بعد شارق کی ماں نے ماھم کی ماں کو ان کے بلانے کا مقصد واضح کیا تو اس نے بے دلی سے کہا کہ ٹھیک ہے اب ہم کر بھی کیا سکتے ہیں۔

اتنے میں ماھم نے زور زور سے چلا چلا کر گھر سر پر اٹھا لیا۔

شارق کا بڑا بھائی پریشان نظر آنے لگا کیونکہ وہ ابھی آ کر بیٹھا تھا بیوی کے کہنے پر اس پاگل سے شادی پر بڑی مشکل سے تیار ہوا تھا کیونکہ وہ بقول سب کے بیوی کا دیوانہ بنا رہتا تھا۔ اب ماھم کو دیکھ کر بیوی کو بےبسی سے دیکھ رہا تھا۔ بیوی اسے سمجھاتی کہ اگر تم نے اس سے شادی نہ کی تو تمھاری ماں میرے اوپر سوکن لے آئے گی۔۔۔۔

ارے تمھاری پھوپھو کی غریب فیملی بیوہ ماں اکلوتی بیٹی اس سے کروا دو تمھاری کام کاج میں بھی مدد ہو جائے گی اور وہ دب کر بھی رہے گی۔ وہ بیوی کی بات کاٹ کر مشورہ دینے لگا۔

بیوی خوش ہو کر بولی واہ میرے بھولے سرتاج آپ اتنے بھی بھولے نہیں۔ واہ کیا مشورہ دیا ہے مجھے پہلے خیال کیوں نہ آیا۔ اس کی طرف سے تو مجھے کوئی فکر بھی نہ ہو گی کہ وہ سوکن ہے وہ تو دب کر رہے گی اور اس کی ماں پہلے ہی ہمارے احسانوں تلے دبی ہوئی ہے کہ بیوہ ہونے کے بعد ابو اسے گھر لے کر آ گئے تھے اور میری ماں نے بھی قبول کر لیا تھا وہ بھی کام کاج کے لیے۔ سچی زبردست بات ہو جائے گی ابو کی فکر بھی اترے گی اور پھوپھی کی بھی کہ اس کا فرض ادا ہو گیا ہے۔ان کی بیٹی امیر گھر کی بہو بن جائے گی اور مجھے مفت کی نوکرانی اور اولاد بھی اللہ کرے ہو جائے پھر مجھے کوئی فکر نہیں سارے مسلے حل۔ مگر اس پاگل کا کیا کروں۔

شارق جو ان اتفاقاً ان کی گفتگو سن رہا تھا جھٹ سے بولا اس سے میں شادی کرنے پر تیار ہوں مجھے وہ پسند آ گئی ہے۔ میں اس کا علاج بھی کراوں گا اور باہر تک لے جاوں گا اللہ تعالیٰ سے اچھی امید ہے کہ شاید ٹھیک ہو جائے اگر نہ بھی ہوئی تب بھی اس کا اور اس کی مظلوم ماں کا سہارا بنوں گا انشاءاللہ۔

اس کی بھابھی نے حیرت سے پوچھا کہ اتنی لڑکیاں ناپسند کرنے کے بعد پاگل لڑکی ہی پسند آنی تھی۔

دیور بولا بھابھی بس اس کی محصومیت پسند آ گئ ہے۔ کاش وہ ٹھیک ہوتی مگر میں نبھاوں گا۔ بس اب گھر والوں کو راضی کرنا مشکل کام ہے۔

اس کی بھابھی بولی سچ ہے محبت اندھی ہوتی ہے اور تم بات کو نبھانے والوں میں سے ہو۔اب میں اس کام میں تمھارا ساتھ دوں گی تم میری پھوپھو کی بیٹی کو میرے شوہر کے ساتھ نکاح کروانے میں میری مدد کرو اور اس کام کو جلد مکمل کرنا ہے کیونکہ میری کزن کے رشتے گاوں سے آ رہے ہیں یہ نا ہو کہ اس کی شادی کہیں اور ہو جائے میں شوہر کے لیے صرف اسی کو قبول کر سکتی ہوں کسی اور کو نہیں۔

شارق نے کہا میں خود بھی جلدی چاہتا ہوں بس آپ گاوں بات چاہیں میں ادھر گھر والوں کو سنبھالتا اور سمجھاتا ہوں۔

گھر کے لئے یہ بات بجلی بن کر گری۔

شارق کے بھائی کے لئے تو اس کی کزن کا رشتہ تو انہیں مناسب لگا اور وہ اس کے لیے راضی بھی ہو گئے مگر ماھم کے رشتے پر کوئی بھی راضی نہ ہوا بلکہ اس کی ماں کے ساتھ ان کا رویہ برا ہو گیا اور وہ بددل ہو کر گاؤں واپس چلی گئی۔

شارق نے احتجاج شروع کر دیا گھر میں کسی سے فالتو بات چیت نہ کرتا اداس رہتا۔ سواے بھابھی کے کسی سے بات نہ کرتا۔

شارق کی بہن کو جب پتا چلا تو وہ جو بھابھی کی چالاکیوں سے تنگ تھی ماں سے بولی کیا ہمارے بھائیوں کے لئے یہی گھرانہ رہ گیا ہے۔ہمارا ہیرے جیسا بھائی شارق اس کے لئے وہی پاگل لڑکی ہی رہ گئی ہے کیا۔ بڑے بھائی کے دماغ کا تو پتا ہے بھولا ہے اور صرف میٹرک پاس ہے اس کے لیے ہم نے بھابھی کو پسند کر لیا کہ زرا تیز ہو گی تو اسے سنبھالے رکھے گی اور گاوں کی لڑکی شہر میں بیاہنے سے خوش ہو گی اتنا بڑا گھر عزت دار گھرانہ اسے اور کیا چاہیے تھا وہ بقول ان کے بارہ کلاسیں پاس تھی اور اب بی اے کی تیاری کر رہی تھی۔کام کاج کی بھی ماہر تھی سسرال والے اس کے کام کاج کی وجہ سے اسے برداشت کر رہے تھے ورنہ اس کی عادات ان کے لئے ناقابل برداشت تھیں۔ کیونکہ اس کا جھوٹ کا بھید کھل چکا تھا وہ تو پانچ کلاسیں بھی بمشکل پاس تھی۔وہ اپنی پھوپھو کے گھر شہر اکثر آتی جاتی اسے شہری لوگ اور شہر میں رہنا بہت پسند تھا اس کی پھوپھی درزن تھی اور شارق کی ماں کی ملازمہ سے اپنے بیٹے کے رشتے کے لئے کہہ رکھا تھا کہ لڑکی ب شک غریب ہو بس کام کاج کی ماہر ہو اور اچھے لوگ ہوں۔ ملازمہ نے اس کی پھوپھی کی بہت تعریف کی اور بتایا کہ اس کا شوہر کسی فیکٹری میں ملازمت کرتا ہے۔

شارق کی ماں بہانے سے کپڑے سلوانے گئ اور وہاں موجود اس درزن کی بھتیجی کو پسند کر لیا۔ کام والی نے ان لوگوں کو سب کچھ بتا دیا تھا اور کہا تھا کہ ان پر ظاہر نہ کرنا کہ میں نے بتا دیا ہے بس اچھے سے پیش آنا اور ان سے اپنا کمیشن بھی پکا کروا لیا تھا۔

اس کی پھوپھی بہت نیک سیرت تھی پورے محلے میں اس کی نیک نامی مشہور تھی۔شارق کی ماں مطمئن ہو گئ کہ چلو لڑکی پیاری بھی ہے اور بیٹے سے زیادہ پڑھی لکھی ہے۔ اور کام کاج کی بھی ماہر ہے پھر ان لوگوں سے بات چیت کرنے کا بھی سلیقہ جانتی ہے۔ اس نے آتے ہی گھر داری سنبھال لی۔ گھر والے خوش اور مطمئن ہو گئے مگر رفتہ رفتہ اس کے گن کھلنے لگے پہلے اس کی تعلیم کا جھوٹ کھلا تو بجائے شرمندہ ہونے کے اس نے ساس کو سنا دیا کہ اپنے بےوقوف اور نکمے بیٹے کے لئے مجھے اسی لئے بیاہ کر لاے ہیں جو کوئی کام کاج بھی کرتا بس باپ بھائی کے بل بوتے پر پل رہا ہے۔ وہ کون سا پی ایچ ڈی ہے۔ بس شہری گھرانے اور باپ کی دولت پر پل رہا ہے اور جس کی وجہ سے اسے مجھ جیسی بھی باشعور لڑکی بھی مل گئی ہے تو شکر کریں ورنہ یہ تو محفل میں بات بھی نہیں کر سکتا تھا اس میں جو کچھ اعتماد آیا ہے وہ بھی میری وجہ سے ہے۔ ورنہ اگر یہ غریب گھرانے سے ہوتا تو مجھ جیسی بھی نہ ملتی۔

ساس اس کی حاضر جوابی سے چپ ہو گئ مگر پانچ سال گزرنے پر اس کی اولاد نہ ہونے کے سبب اب اس کی ساس دن رات اسے بچے کا طعنہ دیتی رہتی تو وہ بھی بے بس ہو چکی تھی کیونکہ اس کی دن رات کی خدمت بھی اب اس کے اولاد نہ ہونے کے خلا کو پر نہ کر سکی تھی۔ شوہر اس کا دیوانہ بنا رہتا مگر وہ جانتی تھی کہ اگر ساس ڈٹ گئ اس کی دوسری شادی کے لئے تو وہ کچھ نہ کر سکے گی دونوں کا میڈیکل بھی ہو چکا تھا اور اس نے ڈاکٹر کو خرید لیا تھا ڈاکٹر نے اس کی بانج رپورٹ کو بھی ٹھیک بتایا تھا مگر اب ساس سے انتظار نہ ہوتا تھا۔ اس کو جب اپنے بانج پن کا علم ہوا تو اسے سسرال کی قدر آئی اور اس نے ان کی خدمت میں اضافہ کر دیا اور شوہر کی کسی ایسی لڑکی سے شادی کروانا چاہتی تھی جو اس کی مٹھی میں رہے اور اس کا ہولڈ قاہم رہے۔ اور وہ اس گھر سے جڑی رہے۔ پہلے پاگل چچا زاد کا سوچا مگر اس کا شوہر اس سے ڈر گیا تو تب اس نے پھوپھو کی بیٹی کا سوچا جو باپ کے مرنے پر اس کے گھر پر رہ رہی تھی وہ اور اس کی ماں اپنے بھائیوں کے رحم و کرم پر تھیں اور ان کی گھر میں کوئی حیثیت نہ تھی۔ ماھم کی ماں تو اس سے اچھا سلوک کرتی تھی کیونکہ وہ خود بھی ادھر بے حیثیت تھی۔ اپنی پاگل بیٹی کے ہاتھوں مجبور تھی کہاں جاتی۔

ماھم کی ماں اپنے والدین کی اکلوتی تھی غریب تھی اس کا شوہر شہر تعلیم کے لئے آیا تھا اور اس کے دوستوں نے قریب ہی گھر کراے پر لیا ہوا تھا جو وہاں رہتے تو ان کو سستا پڑتا۔ ماھم کی ماں پہلے باپ فوت ہوا تو ماھم کے باپ نے بہت مدد کی اور ماھم سے ہمدردی محسوس کی۔ گھر میں اس سے شادی کی بات کی تو باپ نہ مانا تو بیٹے نے نکاح کر کے گھر لانے کی اجازت مانگی تو باپ نے ماں کے رونے دھونے پر اس کو صرف آنے کی اجازت دی اور اس کی بیوی کے بارے میں دھمکی دی کہ اگر وہ گاوں آئی تو اسے گولی مار کر خود کو بھی ختم کر لوں گا۔ بیٹا آتا جاتا رہا اور بیوی اور بیٹی کے بارے میں کھبی زکر تک نہ کیا بس ماں کو تسلی دیتا کہ وہ خوش ہے۔ بیٹی کو بھی کھبی نہ لایا۔ نہ ہی کھبی اپنے حالات بتاے۔

جاری ہے۔

پلیز اسے لاہک، کمنٹ اور دوستوں کو شہیر کرنا نہ بھولیں شکریہ۔

ناول نگار عابدہ زی شیریں۔

ہم کیا جانیں بہار و خزاں کے موسم کو

ہماری بہار و خزاں کے تمہاری خوشی میں پنہاں ہے۔

ازقلم عابدہ زی شیریں


Reader Comments

Be the first to leave a comment on this episode!


Log in to leave a comment.

Selected For You

View More Free Novels

Editor's Choice

Handpicked favorites that you shouldn't miss.

Unlock the Full Library

PKR 300

For 30 Days of Unlimited Access

  • Read all premium and exclusive content
  • Enjoy a seamless, uninterrupted reading experience
  • Directly support the author and her work
Go Premium Now

Experience the Best Urdu Novels Online

The Legacy of Abida Z Shireen

Welcome to the digital sanctuary of Abida Z Shireen, one of Pakistan's most celebrated literary icons. As a premier Urdu storyteller, she has spent decades crafting narratives that capture the soul of our society. This online Urdu reading platform is designed to preserve her vast Urdu literature archive, offering readers a chance to read Urdu novels online that explore the depths of human emotion, culture, and resilience.

Captivating Novels and Social Sagas

From suspense-filled thrillers to heart-touching social dramas, our collection features the best Urdu novels that have captivated millions in publications like Aanchal Digest. Whether you are looking for new Urdu novels 2024 or timeless classics, Abida's work provides a unique lens into family dynamics and romantic storytelling. Dive into her world and discover why she is considered a top Urdu digest writer by fans globally.

Reading Urdu Novels on Tablet and Phone

Soul-Stirring Urdu Poetry Collection

Beyond prose, this platform hosts an extensive Urdu poetry collection. Abida Z Shireen’s verses offer a profound look into spiritual and philosophical themes, available in both Urdu and English. As a featured Urdu poet, her work serves as a bridge between traditional rhythms and modern thought. Join our community of literature lovers to explore famous Urdu poems and exclusive literary insights found nowhere else.

Elegant Desk with Pens and Books