Logo
Meri Bahaar o Khizaan Tum Sey Wabasta Hai
5 Episodes
Meri Bahaar o Khizaan Tum Sey Wabasta Hai EP 4
Episode 4

میری بہار و خزاں تم سے وابستہ ہے 4

Meri Bahaar o Khizaan Tum Sey Wabasta Hai


چوتھا حصہ - 4th Part

 

شارق نے بھی فون پر شبو کو گھر واپس بلانے کے لیے بہت سمجھایا کہ تانیہ آپ کی بہن ہے اسے اس وقت آپ کی ضرورت ہے۔ اس کا بچہ آپ دونوں کا بچہ ہے کیونکہ وہ آپ کے شوہر کا بچہ ہے۔ میں آپ کو بہن سے کمرہ بھی دلا دوں گا اس کو اوپر والے پورشن میں کمرہ دے دوں گا آپ کے کمرے میں سامان بھی بھر دوں گا۔

شبو نے کہا 

"بچہ ہوتے ہی اسے طلاق دے اور بچہ میرے حوالے کر دے اور مجھ سے اس کا وجود اس گھر میں برداشت نہیں ہوتا۔ ورنہ میں نہیں آؤں گی۔"

شارق نے گھر والوں کو فون کی ریکارڈنگ سنا دی۔ وہ بولے 

"ہم ایک آخری کوشش کرتے ہیں تاکہ ہمارا رب راضی رہے کہ ہم نے اسے بسانے کی کوشش نہیں کی۔"

انہوں نے فون پر اسے سمجھانے کے لیے فون کرنے لگیں تو شارق کے والد نے کہا 

"ایسے نہیں آپ ایک بار بیٹے اور تانیہ کی ماں کو ساتھ لے جاہیں پھر دیکھتے ہیں کہ کیا صورتحال بنتی ہے۔"

تانیہ کا شوہر کمرے میں آیا تو تانیہ خاموشی سے آنسو بہا رہی تھی اور فون کانوں سے لگا ہوا تھا۔ اس کے شوہر نے جھٹ سے فون اس سے چھین کر کانوں سے لگا لیا تو دوسری طرف سے شبو کی آواز تھی۔ 

"وہ کہہ رہی تھی کہ میں نے اپنے شوہر کو گھر بلایا ہے اور دیکھنا وہ مجھے دیکھتے ہی پگھل جائے گا میں اسے پیار سے ورغلا کر واپس آ جاؤں گی پھر اس بڈھی ساس کو میں دیکھنا کیسا سیدھا کرتی ہوں جو بڑے چاؤ سے تیرے نخرے اٹھا رہی ہے۔ اب بھی میرا شوہر مجھے فون پر منتیں کر کے بلا رہا تھا بس ایک بار آ جائے۔ سنا ہے اس سنڈے وہ لوگ آ رہے ہیں پھر میں آ کر ایک ایک کی بینڈ بجا دوں گی۔"

اس کے شوہر نے غصے سے فون اس کا آف کیا اور تیزی سے باہر نکل گیا۔

شبو نے دوبارہ کال کی اور کہا 

"بڑا غصہ دیکھا رہی ہو کوئی بات نہیں بس چند دن راج کر لو میں آنے والی ہوں تمھارا اس گھر سے بوریا بستر سمیٹنے۔" 

اور فون بند کر کے مسکرانے لگی وہ سمجھی کہ تانیہ ہی سب سن رہی تھی اور اس نے ہی فون بند کیا تھا۔ تانیہ کا شوہر عابد آج گھر واپس نہیں آ رہا تھا۔ اس کی ساس نے فکرمندی سے پوچھا 

"بیٹی عابد ابھی تک کیوں نہیں آیا خیر ہے نا۔"

تانیہ بولی امی جان 

"ان کا ابھی ابھی فون آیا تھا کہ وہ کسی ضروری کام کے سلسلے میں لیٹ ہو جائیں گے۔ سب کو بتا دینا میں ابھی بتانے آنے ہی والی تھی۔۔

عابد نے جب سے شبو کی نازیبا باتیں سنیں تو اس نے اسی وقت اس کو طلاق دینے کا فیصلہ کر لیا۔ اس کا دل تو پہلے ہی اس کی ماں کو فون پر باتیں کرتے سن کر متنفر ہو چکا تھا مگر گھر والوں کی اچھی تربیت کی بنا پر وہ طلاق دینے سے خوف خدا کا شکار تھا مگر اب اس کے خیال میں اسے گھر لانے کا مطلب ہے گھر والوں کے ساتھ دشمنی کرنا کیونکہ وہ اب صرف دشمنی نبھانے کے ارادے سے آنا چاہتی تھی۔ اس لئے گھر والوں کے علم میں لائے بغیر اس نے اسے طلاق دینے کا فیصلہ کر لیا اور عدالت کے زریعے اسے طلاق اور جو طلاق کے عوض اس پر شرائط تھیں کہ وہ اگر خود طلاق دے گا تو اسے دس لاکھ رقم ادا کرنی پڑے گی۔ اس نے رقم کا بندوبست کیا اور سیدھا کیش اور طلاق نامہ لے کر اس کے گاؤں چلا گیا۔

شبو اسے آ تا دیکھ کر کھل گئی اور نخرے سے بولی

" آخر آپ آ ہی گئے۔"

وہ بولا 

"اپنے والدین کو بلاؤ میں ان سے بات کرنا چاہتا ہوں۔" 

وہ بولی 

"ابو اور بھائی تو گھر پر موجود نہیں ہیں ہاں امی موجود ہیں اور پڑوسی عورتیں بھی موجود ہیں امی نے آج میرے اصرار کرنے پر میری سالگِرہ کی ہے اور محلے کی عورتوں کو انوائیٹ کیا ہے اور بریانی کی دیگ پکائی ہے۔ بیٹھو تم بھی کھا کر جانا اور تمھیں یاد تھا نا ہمیشہ کی طرح کہ آج میری سالگِرہ ہے تم یقیناً ہمیشہ کی طرح گفٹ لانا بھی نہیں بھولے ہو گے۔"

عابد نے کہا 

"بالکل آج تو میں تمھاری اپنی خواہش کے مطابق بہت قیمتی گفٹ لایا ہوں۔"

وہ اترا کر بولی 

"آخر تمھیں میری کمی محسوس ہو ہی گئی اور میری قدر بھی آ گئی۔" 

وہ تانیہ کا سوچ کر مسکرانے لگی۔ پھر اس کی طرف دیکھ کر بولی 

"بیٹھو نا کھڑے کیوں ہو۔ اور ہاں زرا میں اپنی پڑوسنوں کو بھی بتا آؤں کہ تم آئے ہو اور گفٹ بھی لائے ہو۔"

وہ بولا 

"میں جلدی میں ہوں اور تمھیں گفٹ دینے کی جلدی ہے اور تم چاہو تو سب کو بلا لو سب کو بھی پتا چلے کہ میں نے تمھارے لیے کتنا قیمتی گفٹ لایا ہے۔"

وہ اچھا کہہ کر تیزی سے چلی گئی۔ اس نے چند لڑکیوں کو وڈیو بنانے کا بھی بولا اور سب کو بلا لائی۔ سب دلچسپی سے آ گئیں اور کچھ نے سلام کیا ماں کو شبو پٹی پڑھا کر لائی تھی 

"ماں داماد کو اکڑ دیکھانا سیدھے منہ بات نہ کرنا سلام کا جواب بھی نہ دینا۔ عزت بنانا اپنی اور شرائط سے مجھے رخصت کرنا۔"

شبو کی ماں آئی تو عابد نے سلام کیا۔ اس نے اکڑ کر جواب نہ دیا پھر اکڑ کر پوچھا 

"کیسے آنا ہوا۔"

ایک گاوں کی بچی پانی کا گلاس پلیٹ میں رکھ کر لے آئی۔ تو عابد نے بچی کے سر کو ہلکہ سا ہاتھ رکھ کر پیار سے منع کر دیا۔

پھر شبو سے بولا 

"سالگِرہ مبارک ہو" 

اور گاؤں والوں کے سامنے ان کو مخاطب کرتے ہوئے بولا 

"میں سب کو گواہ بنا کر یہ بیس لاکھ کی نقد رقم ادا کر رہا ہوں" 

اس نے بیگ سے رقم نکال کر سامنے میز پر رکھ دی۔ سب گاوں والے حیرت سے ایک دوسرے کو دیکھنے لگے۔ شبو بھی حیرت سے ماں کو دیکھنے لگی۔

ماں کو کچھ خطرہ محسوس ہوا ہکلا کر بولی 

"بیٹا یہ سب کیا ہے۔" 

اس نے طلاق نامہ لفافے سے نکالا اور بولا یہ ہے طلاق نامہ اور میں سب کو گواہ بنا کر اسے طلاق دیتا ہوں تین بار بول کر وہ تیزی سے باہر نکل گیا۔ ابھی باہر جا کر گاڑی میں بیٹھا ہی تھا کہ سامنے سے اس کے سسر اور سالے کی گاڑی آتی نظر آئی وہ ایک نظر ان کو دیکھ کر ان کی حیران نظروں کو اگنور کرتا تیزی سے گاڑی چلا کر تیز اسپیڈ سے چلاتا ان کی حدود سے نکل گیا۔

اس کے بعد وہ ایک پارک میں چلا گیا اور ہاتھ میں پکڑی جوس کی بوتل کو پیتا ایک جگہ خاموشی سے بیٹھا رہا۔ تانیہ کو میسج کر دیا کہ اس کے موبائل کی بیٹری کم ہے فون بند ہونے والا ہے وہ مصروف ہے دیر سے آئے گا فکر نہ کرنا۔ اور فون آف کر دیا پھر دوست کی طرف چلا گیا اس کو سب کچھ بتایا اس نے افسوس کیا اور اسے دیر تک تسلی دیتا رہا۔ اس کو کھانا کھلانے کی کوشش کی مگر اس نے نہ کھایا اور کافی دیر رونے کے بعد اس کا جی کچھ ہلکہ ہوا تو اس کے سمجھانے پر وہ گھر روانہ ہوا۔ دوست نے شارق کو چپکے سے فون کر کے سب بتا دیا تھا تاکہ گھر والوں کو سمجھا سکے۔

شارق بہت پریشان ہوا اس نے بہنوئی کو فون کیا اور سب حالات بتائے اور ماں کو سنبھالنے کی تلقین کی۔ اس نے ماھم کو بھی فون کیا تو وہ رونے لگی اس کی ماں بھی رونے لگی۔

شارق کی بہن اور بہنوئی فوراً ان کے گھر پہنچے تو ماھم تانیہ کو فون پر سب بتا چکی تھی اور وہ رو رہی تھی۔ تانیہ کی ماں بھی رو رہی تھی اس نے گاوں فون کیا تو شبو کی ماں نے خوب بےعزتی کر کے فون بند کر دیا۔

شارق سب کو لائیو کال پر تسلیاں دے رہا تھا۔

عابد گھر داخل ہوا تو ماں نے اسے تھپڑ مارنے اور برا بھلا کہنا شروع کر دیا بڑی مشکل سے تانیہ کی ماں نے چھڑوایا۔ باپ نے بھی اونچی آواز میں بےعزتی کی۔ بہن نے روتے ہوئے اسے گلے شکوے کرتے ہوئے اس کا گریبان پکڑا۔ تانیہ کی طبیعت بہت رونے سے خراب ہو گئی شارق نے سب کو کول کر کے تانیہ کی صحت کی طرف توجہ دلائی کہ اس کے لیے زیادہ ٹینشن ٹھیک نہیں۔

تب سب کو ہوش آیا جب وہ بے ہوش ہو گئی۔ ماھم کی ماں ماھم کے ساتھ اسی وقت گھر میں داخل ہوئی۔ شارق کی بہن ماھم کے دوڑ کر گلے لگ کر رونے لگی۔ ماھم کی ماں بھی شارق کی ماں کو افسوس کرنے لگی۔

اتنے میں عابد نے ماں سے کہا کہ میں نے ایمبولینس منگوائی ہے تانیہ درد سے کراہ رہی تھی۔ اب بے ہوش ہو گئی ہے۔

سب اس کی طرف سے پریشان ہو گئے اور تانیہ کو عابد کا بہنوئی اور اس کی بیوی ماھم اور تانیہ کی ماں سب چل پڑے۔ شارق کی ماں اور ماھم کی ماں شارق کی بہن کے بچے سو رہے تھے ان کے پاس رک گئے۔ باپ بھی گھر میں رک گیا۔

شبو کا باپ اور بھائی جب گھر داخل ہوئے تو شبو دھاڑیں مار مار کر بین کر رہی تھی۔ ساتھ ماں بھی رو رہی تھی۔ پڑوسنوں نے سب کچھ بتا دیا کیونکہ ماں بیٹی سے غم اور خوف سے بات مکمل نہ ہو رہی تھی شبو کی بھابھی اپنے شوہر کو کول کر رہی تھی جو پسٹل لے آیا تھا۔

 

 

قبضہ دل تم سے چھڑانا ہے

دل کا مالک خود کو بنانا ہے

بن مول اس میں رہتے ہو

اب مول اس کا لگانا ہے۔

شاعرہ عابدہ زی شیریں


پانچواں حصہ - 5th Part


Continue Reading
Episode 5
میری بہار و خزاں تم سے وابستہ ہے 5

Reader Comments

No comments yet. Be the first to share your thoughts!

Log in to leave a comment.

Related Novels

Selected For You

View More Free Novels

Editor's Choice

Handpicked favorites that you shouldn't miss.

Premium Membership

Unlock the Full Library

One subscription. Every story. Unlimited reading.

PKR 300
30 Days of Unlimited Access
Go Premium Now

Secure payment  ·  Instant access

Full Novel Library
Access every premium & exclusive novel — no episode locked
Unlimited Reading
Read as much as you want, whenever you want, at your pace
Support the Author
Your subscription directly supports Abida Z Shireen's work
New Episodes First
Be the first to read every new episode as soon as it drops
A F S R N
Join thousands of readers already enjoying premium access
Loved by readers
Our Literary World

Experience the Best Urdu Novels Online

Dive into decades of storytelling by Pakistan's most beloved author, now at your fingertips.

50+
Published Novels
30+
Years of Writing
1M+
Readers Worldwide
100%
Authentic Stories
01

The Legacy of Abida Z Shireen

Welcome to the digital sanctuary of Abida Z Shireen, one of Pakistan's most celebrated literary icons. As a premier Urdu storyteller, she has spent decades crafting narratives that capture the soul of our society. This online Urdu reading platform is designed to preserve her vast Urdu literature archive, offering readers a chance to read Urdu novels online that explore the depths of human emotion, culture, and resilience.

Read Her Story
Abida Z Shireen
Author
02

Captivating Novels & Social Sagas

From suspense-filled thrillers to heart-touching social dramas, our collection features the best Urdu novels that have captivated millions in publications like Aanchal Digest. Whether you are looking for new Urdu novels 2024 or timeless classics, Abida's work provides a unique lens into family dynamics and romantic storytelling. Dive into her world and discover why she is considered a top Urdu digest writer by fans globally.

Browse All Novels
Reading Urdu Novels on Tablet and Phone
Novels
03

Soul-Stirring Urdu Poetry Collection

Beyond prose, this platform hosts an extensive Urdu poetry collection. Abida Z Shireen's verses offer a profound look into spiritual and philosophical themes, available in both Urdu and English. As a featured Urdu poet, her work serves as a bridge between traditional rhythms and modern thought. Join our community of literature lovers to explore famous Urdu poems and exclusive literary insights found nowhere else.

Explore Poetry
Elegant Desk with Pens and Books
Poetry