Meri Bahaar o Khizaan Tum Sey Wabasta Hai
Episodes
شارق نے کہا کہ آج بہت ٹینشن ملی ہے۔ ہمیں بھائی کو تسلی اور تانیہ بھابھی کا خیال کرنا چاہیے۔
شارق کا بھائی غصے سے بولا مجھے کوئی ٹینشن نہیں ہے۔ سب سے معذرت چاہتا ہوں کہ میری وجہ سے سب کو ٹینشن ملی۔ میں کل صبح ہی اس قصبے کو ختم کر دوں گا۔ جو عورت میرے گھر والوں کی عزت نہ کرے وہ اس گھر کی بہو بن کر نہیں رہ سکتی۔
باپ نے جلدی سے ٹوکا بیٹا ایسی بات منہ سے نہیں نکالتے۔ ماں نے بھی تاہید کی۔
بہن نے فوراً کہا کہ چھوڑیں اس قصے کو بس سب کچھ بھول کر مہندی کی رسم ادا کرتے ہیں خوشی مناتے ہیں۔
ماھم کی ماں بولی اس کے بعد میں بیٹی تانیہ اور اس کی ماں کو لے جاوں گی۔ اپنے ساتھ رکھوں گی اور تانیہ کو عزت سے رخصت کروں گی کل بارات ہو گی ہمارے گھر سے۔
شارق کا باپ بولا پرسوں گھر میں ولیمہ کریں گے۔ سب لوگ انواہیٹ ہیں۔
رشتہ دار واہ واہ کرنے لگے کہ بہت شریف لوگ ہیں بہو اتنا زلیل کر کے گئی پھر بھی اس کا برا نہیں سوچ رہے۔
تانیہ کی ماں نے ماھم کی ماں کو گلے لگاتے ہوئے کہا کہ شارق بیٹا تم خوش قسمت ہو کہ ایسی ساس اور ماھم جیسی لڑکی ملی ہے۔
سب رشتے دار ہمہ تن گوش تھے۔ شارق کی ماں تانیہ کی ماں کو سپاٹ سے انداز میں دیکھ رہی تھی۔
شارق کی بہن تانیہ اور بھائی کے درمیان بیٹھی انہیں تسلیاں دے رہی تھی۔ تانیہ شرمندہ ہو رہی تھی کہ اس کی وجہ سے سب ہوا ہے مگر اس کا شوہر کہہ رہا تھا اس میں تمھارا کوئی قصور نہیں ہے۔ میں نے اپنی بیوی پر اندھا اعتماد کیا تھا اس کی ہر جاہز ناجائز فرمائش پوری کی مگر اس نے ہمیشہ میرا اعتماد مجروح کیا۔ مجھے بچے نہ ہونے کا غم نہیں ہے مگر اس کی چالاکیاں ختم نہیں ہوئیں۔ اس نے جان بوجھ کر اپنی پاگل کزن سے میرے بھائی کا نکاح پڑھوا دیا۔ بےشک ماھم اور اس کی ماں بہت اچھی ہیں مگر میرا بھائی کیسے ایک پاگل لڑکی کے ساتھ زندگی گزار سکتا ہے۔ اس نے بھائی کو جھوٹی آس دلائی کہ ڈاکٹر کے مطابق وہ ٹھیک ہو جائے گی۔ میرے بھائی کی زندگی برباد کر دی اور میرے گھر والوں کو زلیل کیا۔
تانیہ کی ماں پہلو بدلنے لگی۔ ماھم کی ماں کی طرف دیکھا اور بولی۔ بھابھی اب میں مزید چپ نہیں رہ سکتی۔
اس نے سب کو مخاطب کرتے ہوئے بولنا شروع کیا کہ ماھم میری چھوٹی بھابھی ہے اس سے ہمارا کوئی خونی رشتہ نہیں جبکہ شبانہ کی ماں اپنے خاندان میں سے ہے۔ مگر اس نے ہمیشہ اپنی بیٹی کی طرح سازشوں پر زور رکھا۔ اپنی بیٹی کی بھی وہی تربیت کی۔ اپنے بھولے شوہر کو بھی ورغلا کر سب سے دور کرتی رہی۔ اور وہ اپنے چھوٹے بھائی سے بدزن رہا۔ میرا باپ پہلے بیٹے کی اپنی مرضی سے شادی کرنے پر ناراض رہا اور بہو اور پوتی سے نہ ملا۔ پھر بڑی بہو کی چالاکیاں آشکار ہونے پر چھوٹے بیٹے سے ملا اور گھر والوں سے چوری چھپے اپنی بیوی کو بھی ملانے جاتا رہا ان سے راضی ہو گیا اور ان کی اور میری جاہیداد کا حصہ بڑے بیٹے اور بہو سے خفیہ ہمارے نام کر دیا۔ اور تاکید کی کہ اپنی اچھی بیوی اور بیٹی کو گاوں کے لوگوں خاص طور پر میری بڑی بہو سے دور رکھو۔ وہ اپنے بیٹے کی شادی اس سے کرنے پر اصرار کرے گی بے شک وہ میرا پوتا ہے مگر بہو کی تربیت یافتہ ہے اور میری سلجھی ہوئی پوتی کے قابل نہیں ہے۔
پھر ہم ماھم سے ملتے رہے اور میں اور ماھم کی ماں جب بیوہ ہوے تو والد صاحب ہمیں گھر لے گئے اور بڑی بھابھی کچھ نہ بول سکی مگر جینا حرام رکھا۔
پھر شبانہ کی شادی پر ماھم کی ماں نے شبو کو سارا جہیز دیا جو اسی کے اعلیٰ جہیز پر اتراتی تھی مگر اس کی بیٹی کا برا سوچتی تھی۔ اور ماھم کی ماں نے ایک بار بھی نہ جتلایا کہ سب اس کا دیا ہوا تھا وہ خود شادی میں شامل نہ تھی مگر اس کے شوہر نے سب کو بتایا تھا کہ یہ سب اس کی بیوی نے مجھے مجبور کر کے لے کر دیا ہے۔ کہ آپ سگے چچا ہیں۔
اب ابو کے مرنے پر ہم دونوں بیوہ عورتیں ان کا کچھ نہیں بگاڑ سکتی ہیں۔ نہ ہی جاہیداد مانگ سکتی ہیں جو ثبوت کے ساتھ کاغذات ہمارے پاس موجود ہیں۔ہمارے والدین وفات پا چکے ہیں۔ اور اگر ماھم بیٹی کے بارے میں بھابھی گاوں میں مشہور نہ کرتی کہ یہ بچپن سے پاگل ہے تو بڑی بھابھی اپنے بیٹے سے بیاہ دیتی۔ اور ماھم کی ماں کے والدین فوت ہو چکے ہیں اکیلی اولاد ہے۔ ان کے آگے بے بس تھی کیونکہ شوہر کا بھائی جیسا دوست کرونا کی وجہ سے باہر ملک میں تھا اب وہ اور اس کی بیوی بچے سب پاکستان آ گئے ہیں اور ماھم کے بھائی بنے ہوئے ہیں اب کوئی فکر نہیں کیونکہ ماھم کا نکاح شارق سے ہو چکا ہے۔ اور دونوں ایک ہی کالج میں پڑھتے تھے اور پسند بھی کرتے تھے اور شارق ماھم کے باپ سے مل چکا تھا اور جلد رشتہ بھیجنے والا تھا کہ ماھم کے اچانک باپ کی وفات کے بعد وہ لوگ گاوں چلی گئی اور موبائل گھر بھول گئیں۔ وہاں سے نکلنے کی اجازت نہ تھی نہ ہی راستے کا علم تھا پھر شارق کے اچانک ملنے اور نکاح نے راستے آسان کر دیے۔ شارق جانتا تھا کہ ماھم پاگل نہیں ہے مگر ابھی ماھم کی ماں نے گاوں والوں کے ڈر سے شارق کو چھپانے کا بولا کہ اس کے شوہر کا بھائی جیسا دوست واپس آ جاے تو وہ سب کچھ بے خوف کر سکتی ہے۔ ورنہ وہ گاوں والوں سے دشمنی مول نہیں لے سکتی اور شارق کو بھی اس دشمنی میں نہیں پھنسانا چاہتی۔ اس لئے وہ خود آ کر سب کچھ بتانا چاہتی تھی۔
شارق کی بہن خوشی سے اٹھ کر شارق کے گلے لگ کر بولی سچی مجھے ماھم بہت پسند تھی مگر۔
ماھم کی ماں نے اٹھ کر شارق کی والدہ سے معافی مانگی کہ ان کی اجازت کے بغیر ان کے بیٹے کا نکاح کروا دیا پھر ہاتھ جوڑ کر روتے ہوئے بولی کہ وہ مجبور تھی بھلا ہو شارق کا جس نے ہمیں ان کے چنگل سے نکالا۔ ہمیں کسی کا فون نمبر بھی یاد نہ تھا نہ فون کرنے کی اجازت تھی۔
ماں نے ماھم کی ماں کو گلے لگاتے ہوئے کہا مجھے خوشی ہے کہ ماھم مجھے بہت اچھی لگی تھی۔
شارق کی بہن بولی کیا ماھم پڑھی لکھی ہے۔
ہاں انجنیئر ہے۔
تانیہ کی ماں بولی میری بیٹی بھی ایم اے اسلامیات کر چکی ہے۔
شارق کی بہن بولی واہ کیا بات ہے شکر ہے اللہ تعالیٰ کا۔کہ ماھم ٹھیک ہے اور پڑھی لکھی ہے۔ اب تو میں شارق کی شادی پر کئی جوڑے سلواوں گی خوب لڈیاں ڈالوں گی ڈھولک پہلے ہی رکھوا دوں گی خوب ارمان نکالوں گی۔
اس کا شوہر مسکین سماہل سے تانیہ کی ماں کی طرف دیکھ کر بولا پلیز آنٹی اگر سچ آپ شادی کے بعد بتاتی تو میری جیب کا بہت بھلا ہو جاتا۔
بیوی نے مکا دیکھا کر منہ چڑایا وہ جواب میں مسکرانے لگا۔
پلان کے مطابق اسی رات تانیہ اور شارق کے بھائی کی مہندی کی رسم ادا کی گئی۔
دونوں بہت خوش لگ رہے تھے۔ قریبی رشتہ داروں نے کافی رونق لگا دی۔ ڈھولک بجائی گئی اور سب رشتے دار رات کو اپنے گھروں کو چلے گئے۔
تانیہ خوش ہو گئی کیونکہ اس کا شوہر اسے بتا رہا تھا کہ وہ شبو کے جھوٹ بولنے سے عاجز آ چکا تھا پہلے وہ اس کو مظلوم سمجھتا تھا کہ اس کی اولاد نہیں ہو سکتی تو وہ اس سے ہمدردی رکھتا تھا۔ جب اسے یقین ہو گیا کہ اس کے گھر والے ٹھیک ہیں اور وہی ان سے دشمنی رکھتی ہے اتفاق سے اس نے فون پر اس کی ماں کی اس کے ساتھ گفتگو سن لی تو اسے یقین ہو گیا کہ وہ شاید اتنی غلط نہ ہو مگر اس کی ماں اس کے گھو والوں سے دشمنی رکھتی ہے اور وہ ماں کی ہر غلط بات آنکھیں بند کر کے مانتی ہے۔ جب میری ماں نے میری دوسری شادی کی وارننگ دے دی تو میں نے شکر کیا کہ اس بری عورت سے جان چھوٹے گی دوسری جو بھی ہو اس سے کم از کم بہتر ہو گی میں اولاد کے لئے نہیں بلکہ اپنے اور گھر والوں کے سکھ کے لیے دوسری شادی کروں گا اور اس کو ماں کے گھر بھیج کر خرچہ دیتا رہوں گا۔ جب اس نے ماھم کے ساتھ میری شادی کرنی چاہی تو میں نے بہانہ کیا کہ مجھے اس سے ڈر لگتا ہے۔ پھر مجھے تمھارا خیال آ گیا تم بھولی بھالی مظلوم سی لڑکی مجھے بہت اچھی لگی اور میں نے تمھارا مشورہ دے دیا۔ شبو خوش ہو کر بولی اچھا آہیدیا ہے وہ دبی رہے گی اور گھر میں نوکرانی بن کر رہے گی میں اتنی جلدی اسے نہ نکالتا مگر خود اس نے جلدی کی۔ اب میں اسے خرچہ دیتا رہوں گا اس عمر میں اسے ایک بانجھ کو کون قبول کرے گا میں نے اس سے چوری ایک دوست کے ساتھ جمع شدہ پونجی لگا کر کاروبار شروع کیا ہے سرمایہ میرا ہے اور غریب دوست پارٹنر ہے بہت مہنتی اور ایماندار ہے۔ اللہ تعالیٰ کے کرم سے چل پڑا ہے اور دوست میرا شکر گزار ہے اور میں اسکا۔ اب ہم الگ الگ کاروبار کریں گے اور مل کر کریں گے۔ اور میں دونوں بیویوں کو برابر خرچہ دوں گا اور والدین کو بھی۔ شارق نے بہت ساتھ دیا۔ ہم ہمیشہ اس کے وفادار رہیں گے۔ تانیہ نے وعدہ کیاانشاءاللہ۔
ماھم کے والد نے اپنے کاروبار میں خوب ترقی کی اور کافی پیسہ کمایا۔ خاندان والوں سے تعلق نہیں تھا اس لیے کسی کو ان کی ترقی و کامیابی کا علم نہیں تھا کافی رقم فکس بھی کروا دی تھی کہ وقت وحالات کا کچھ پتا نہیں تو گھر والوں کا نظام چلتا رہے۔ اچانک موت سے ان کی بیوی نے دور اندیشی سے کام لیا اور سسرال والوں کو جھوٹ بولا۔ اور ان کے شر سے بیٹی کو بھی بچا لیا اور خود اور مال و دولت کو بھی بچا لیا۔ پھر شارق مل گیا اور وہ مطمئن ہو گئی۔
مہندی کے فنکشن کے بعد ماھم کی ماں تانیہ اور اس کی ماں کو اپنے گھر لے گئی۔
شارق انہیں گھر چھوڑنے گیا۔ وہ وہ اوبر کر کے آ گئ تھی۔
ماھم کو شارق کی بہن لاہیو وڈیو دیکھاتی رہی۔
شارق اسے میسج کر رہا تھا اور وہ جواب دے رہی تھی۔
اگلے دن ماھم کی ماں نے اپنے منہ بولے بھائی بھابھی کا شکریہ ادا کیا جو اپنا ہر مسلہ ان کو بتاتی تھی اور انہوں نے اسے بتاے بغیر تانیہ کے بیڈ روم کا فرنیچر خریدا۔ کچھ مشینری خریدی اور کھانے کا ارڈر گھر میں کروا دیا۔ لان میں سب ارینج کروا دیا۔
تانیہ تو سوچ بھی نہ سکتی تھی کہ اس کو اتنا سب کچھ مل جائے گا اس کا کمرہ نیے فرنیچر سے آراستہ ہو گیا۔ جاتے ہوئے شبو اسے طعنہ دے رہی تھی کہ تمھاری سہاگ رات اس خالی کمرے میں فرش پر گدے بچھا کر اراستہ کی جاے گی کیونکہ میری نند تو کھبی نہ کمرہ نہ فرنیچر دے گی اور اگر شارق نیا لے کر دے گا بھی تو اتنی جلدی نہیں بنے گا اور تم اس خالی کمرے میں دولہن بنی آو گی۔ ہاہا ہا۔
مگر بنا بنایا اعلیٰ فرنیچر اسے ملا۔ اس کی مہندی ہوئی۔ اس کی رخصتی ایک بڑی کوٹھی سے اپنے ماموں کے گھر سے ادا کی گئی۔ وہ بچپن میں ماں کے ساتھ اکثر آتی جاتی تھی مگر اس کی ماں گاوں میں کسی کو نہ بتاتی تھی کہ وہ بھائی سے ملتی ہے۔ اس نے بیٹی کو بھی سمجھایا ہوا تھا کہ اگر ماموں کے گھر آنا جانا رکھنا ہے تو کسی کو مت بتانا ورنہ پھر ہم دوبارہ ادھر آ نہ سکیں گے۔
تانیہ کی ماں سلائی میں مصروفیت کی وجہ سے بہت کم بھائی کے جا پاتی تھی ایک تو وہ بھی اکثر ملک سے باہر رہتے تھے۔ بہن کا میاں خوددار تھا وہ سالے کی امداد لینا گوارا نہ کرتا تھا۔ مگر پھر بھی ماھم کی ماں خاموشی سے امداد کر دیتی اور تانیہ کا باپ جانتے ہوئے بھی برے حالات کی وجہ سے خاموشی سے اگنور کر دیتا اور ماں بیٹی بھی اس کو خاہ مخواہ نہ بتاتی کہ اس کی عزت نفس مجروح نہ ہو۔
شارق نے جب ولیمہ کرنا چاہا تو اس کے بھائی نے سب کو اپنے کاروبار کا بتا کر اپنا ولیمہ خود کرنے پر حیران کر دیا۔
تانیہ کا سر فخر سے بلند ہو گیا کہ اس کا شوہر نکما نہیں کہلائے گا۔ کیونکہ شبو نے بڑے طنزیہ انداز میں کہا تھا کہ ایک نکما شخص تمھیں ملا ہے جو تمھیں گھر والوں کے پیسے پر پالے گا اور تم دوسروں کی محتاج رہو گی ہمیشہ۔ دیکھنا تم خرچے کی تنگی کا شکار رہو گی۔ میں تو اپنی چالاکیوں سے ہتھیا لیتی تھی اور عیش کرتی تھی تم میں تو وہ بھی عقل نہیں ہے۔
تانیہ کی شادی میں ماھم پیش پیش تھی۔ لگتا نہیں تھا کہ وہ کھبی پاگل پن کا شکار تھی نند سے بھی خوب دوستی ہو چکی تھی۔ تانیہ سے اس کی دوستی نہ تھی کیونکہ تانیہ دبی دبی ماھم کی شان و شوکت اور خوبصورت بڑے گھر سے مرعوب رہتی تھی۔
ماھم چند ایک بار ہی تانیہ کے گھر جا سکی تھی کیونکہ اسے پڑھنے اور اپنے لیب ٹاپ پر مصروف رہنے کی عادت تھی۔ تانیہ کی شادی پر تانیہ سے زیادہ سب اس میں دلچسپی لے رہے تھے کہ یہ شارق کی دولہن ہے۔
آتے جاتے شارق اس پر محبت بھری نظر ڈالتا اور وہ شرما جاتی۔ اس نے شارق کو سختی سے منع کیا تھا کہ وہ شادی سے پہلے اس سے فون پر میسج کے علاوہ کسی کے سامنے بات چیت نہ کرے اور شارق نے اس کی بات پر عمل کیا تھا۔ وہ ولیمے میں شامل نہ ہونا چاہتی تھی مگر شارق کی بہن اور والدین نے اصرار کر کے اسے آنے پر مجبور کیا تھا۔ اب تو اس کی ساس اپنے رشتے داروں سے بڑی خوشی سے اس کا تعارف کروا رہی تھی کہ یہ ان کے شارق کی منگیتر ہے۔
گاوں میں یہاں کے لالچی ملازم پل پل کی رپورٹ شبو کو دے رہے تھے اور گاوں والے دم بخود تھے مگر سواے جلنے کڑھنے کے کچھ کر نہیں سکتے تھے۔ کیونکہ اب وہ لوگ محفوظ ہاتھوں میں تھے۔
تانیہ اپنے سجے سجاے کمرے میں آتی تو خدا تعالیٰ کا ڈھیروں شکر ادا کرتی۔ اس کی ماں بھی بیٹی کے رشتے سے خوش تھی۔ شبو ہر وقت شوہر کے نہ کمانے کا رونا روتی رہتی۔ اور اسے طعنے تشنے بھی دیتی رہتی۔ اور اپنے سے دور بھی کسی کے پاس جانے نہ دیتی ہر وقت اس کی خبر گیری میں لگی رہتی اگر وہ کہیں جاتا تو اس کے ساتھ جاتی اکیلے نہ جانے دیتی۔ گھر والوں کے پاس بھی نہ بیٹھنے دیتی بہانے سے بلا لیتی۔ ہر وقت اس کو زلیل کرتی اس کی حوصلہ شکنی کرتی۔ اپنی قسمت کا رونا روتی۔ اس کا مقابلہ اس کے بھائی شارق سے کر کے اس کو شرمندہ کرتی رہتی۔ ایک دن سسرال میں اس کے شوہر کو اس کے نہ کمانے کا مزاق اڑانے اور سب کے ہنسنے پر اسے بڑی غیرت اور شرم محسوس ہوئی اور اس نے اسی وقت کمانے اور اپنا آپ منوانے کا فیصلہ کر لیا اور بیوی کو بہانے بنا کر گھر سے نکلتا۔ اور کامیابی سے ہمکنار ہوتا گیا۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان بھی ہے کہ میری طرف قدم بڑھاو وسیلہ تو اس کی زات بنا ہی دیتی ہے شرط یہ ہے کہ اس کے ہر فیصلے پر کامل یقین اور ایمان ہونا چاہیے۔ وہ دے کر بھی آزماتا ہے اور لے کر بھی۔ انسان اس وقت تو مگن رہتا ہے جب وہ دیتا ہے اور شکر بجا نہیں لاتا اس کی دی ہوئی نعمتوں کی قدر نہیں کرتا تو وہ نعمت اس سے دور ہو جاتی ہے۔ نعمتوں میں رشتے ناطے بھی شامل ہیں اچھی بیوی، کا شکر۔ اگر اولاد ہے تو اس کا شکر۔ اگر بیٹا نہیں ہے تو یا اولاد نہیں ہے تو اس بات میں بھی اللہ تعالیٰ کی کسی مصلحت کو جواز بنا کر اس کے فیصلے پر راضی رہنا بھی شکر کے زمرے میں آتا ہے۔ والدین ایک نعمت ہیں ہو سکتا ہے جو رزق مل رہا ہے وہ انکی برکت کی وجہ سے ہو۔ بلکہ یہ سچ بھی ہے۔۔ بہن بھائیوں سے اچھا برتاو بھی ان کی قدر کرنا بھی شکر خداوندی میں آتا ہے۔ اچھے پڑوسی بھی نعمت سے کم نہیں۔ ان پر بھی شکر ادا کرنا چاہیے۔ اچھے دوست بھی مگر دنیا میں اچھے اور مخلص دوستوں کی کمی ہے اگر اچھے بھی ہوں تو آجکل مصروف زندگی کی وجہ سے کسی کا ساتھ دینا بھی مشکل ہو جاتا ہے ایک تو مہنگائی اوپر سے بے ڈھنگی مصروفیت۔ بہتر ہے اپنے پیارے گھر والوں کو دوست بنایا جائے۔ والدین ہیں بہن بھائی ہیں وغیرہ والدین سے بڑھکر کوئی دوست نہیں نہ ہی ہمدرد۔ جس نعمت کا شکر کیا جائے اللہ تعالیٰ اس نعمت کو دور نہیں کرتا اور شکر ادا کرنے سے اور نوازتا ہے۔
شارق کو ایک سال کے لئے ملک سے باہر جانا پڑ گیا اور اس کی شادی ڈیلے ہو گئی۔
تانیہ امید سے ہو گئی۔ گھر میں خوشی کی لہر دوڑ گئی۔
شبو نے سنا تو اسے شاک لگا وہ خرچہ متواتر لے رہی تھی اس نے غصّے میں طلاق مانگ لی۔
شوہر نے تانیہ کے اصرار کرنے پر ایک بار اسے سمجھانے کے لیے کو آمادہ کرنے کی کوشش کی۔ کہ وہ واپس آ جاے اور تانیہ کے بچے کو اپنا سمجھ لے۔

Reader Comments
Be the first to leave a comment on this episode!
Log in to leave a comment.