Logo
Meri Bahaar o Khizaan Tum Sey Wabasta Hai
5 Episodes
Meri Bahaar o Khizaan Tum Sey Wabasta Hai EP 2
Episode 2

میری بہار و خزاں تم سے وابستہ ہے 2

Meri Bahaar o Khizaan Tum Sey Wabasta Hai


دوسرا حصہ - 2nd Part


شارق کی بھابھی اس بات سے مسرور اور خوش تھی کہ شارق کو ایک پاگل لڑکی پسند آئی ہے اور وہ اپنی بات کا پکا ہے، وہ ضرور اس کو اپنائے گا اور وہ چچا زاد ہے اوپر سے پاگل پھر اس کی پھوپھی زاد بھی اس کے شوہر کے لئے مناسب تھی۔ دبی دبی سی لڑکی۔ دونوں اس کے باپ کے رحم وکرم پر تھیں۔ کیونکہ دونوں لاوارث اور مجبور تھیں۔ شارق کی بھابھی نے دونوں رشتے جوڑنے کے لئے اپنی کوششیں تیز کر دی تھیں. 

میکے والے اس کی بات سے متفق تھے ویسے بھی اس کی میکے میں بہت چلتی تھی۔ ماں باپ کی لاڈلی تھی۔ اس کے سسرال والوں کو تو اس کی پھوپھو کی بیٹی سے اس کے شوہر کو بیاہنے کی تجویز پسند آئی تھی مگر وہ پاگل کے لئے اپنے لائق فائق ہیرے جیسے بیٹے کے لئے بالکل راضی نہ تھے مگر شارق مجنون بنا ہوا تھا۔

آجکل اس کی اپنی بھابھی شبانہ عرف شبو سے خوب دوستی چل رہی تھی جو اس کی شادی پاگل ماھم سے کروانے کی کوشش میں تھی۔ آخر اس نے شارق کو منا لیا اور گھر والوں کو بتائے بغیر ماھم کا نکاح شارق سے کروا دیا اور شوہر کا نکاح اپنی پھوپھو زاد سے کروا دیا۔

میکے والے ویسے بھی اس کی سنتے تھے۔

شارق ماھم اور اس کی ماں کو ساتھ لے گیا۔ وہ سمجھی گھر گیا ہو گا مگر وہ گھر نہ پہنچا تھا۔

جب شبو اپنے شوہر اور سوکن اور اپنی پھوپھو جس نے ضد کی کہ وہ بیٹی کو چھوڑ کر آ جائے گی ساتھ آ گئی تو جب سب پہنچے تو ماھم اپنے شوہر کے گھر پر موجود نہ تھی۔ شوہر اسے چند دن کے لئے کہیں چھوڑ آیا تھا کیونکہ اس کی ماں اجکل شارق کی ضد کی وجہ سے بہت پریشان تھی اور اس نے داماد سے کہا تھا کہ وہ شارق کو سمجھائے۔

جب شبو نے سب کو بتایا کہ شارق زبردستی ماھم سے نکاح کر کے دونوں کو ساتھ لے گیا ہے اور ساتھ میں بھائی کا بھی نکاح کروا دیا ہے۔ اس کی ساس جو اس کی پھوپھو کو اچھا سمجھتی تھی بولی 

"یہ کام تو اس نے اچھا کیا مگر دوسرا کام ہمیں گوارا نہیں۔"

شارق کی بہن بھابھی کی پھوپھو اور اس کی بیٹی تانیہ کے پاس آ کر بڑے پیار سے اسے بولی 

"اچھا تو تم ہماری بھابھی بن کر آئی ہو اور اسے گلے لگا کر مبارک باد دی۔" 

اس کا بھائی پیچھے شبو کے پیچھے کھڑا کچھ گھبرا کچھ شرما رہا تھا۔ بہن نے اس کا بازو پکڑ کر کہا 

"آپ کیوں پیچھے چھپ رہے ہیں ادھر آئیں۔"

شارق کے بہنوئی نے اس کو مبارکباد دی اور پرس سے پانچ ہزار کا نوٹ تانیہ کو دے کر اس کو سر پر ہاتھ رکھ کر مبارک باد دی۔ اور اس کی ماں کو کرسی پیش کرتے ہوئے بیٹھنے کا بولا۔

شارق کی ماں بھی قریب آ کر تانیہ کو گلے لگا کر دعائیں دینے لگی۔ اور اس کی ماں سے بھی گلے مل کر مبارک باد دی اور بیٹھنے کا کہا۔

شارق کی بہن جوش جزبات سے مغلوب ہو کر بولی 

"یار کوئی مٹھائی تو منگواؤ۔"

تانیہ کی ماں بولی 

"شبو نے راستے سے مٹھائی کا ٹوکرا خریدا تھا گاڑی میں پڑا ہوا ہے۔"

شارق کی بہن ملازم کو گاڑی سے مٹھائی لانے کے لیے آواز دینے لگی۔ اتنے میں شارق کی گاڑی کی آواز آئی اور وہ کچھ سامان اٹھائے اندر آیا۔ ماں نے آتے ہی اسے لتاڑا اور کہا 

"کدھر ہے وہ پاگل۔"

شارق نے سامان ٹیبل پر رکھتے ہوئے کہا 

"ماں ڈاکٹر صاحب نے کہا ہے کہ وہ جلد ٹھیک ہو جائے گی پوچھ لیں آپ شبو بھابھی سے۔ ان کے پاس اس ڈاکٹر کا نمبر بھی ہے۔ یہی مجھے اس کے اس اسے دیکھانے لے کر گئی تھیں۔ کیوں بھابھی امی جان کی بات اس ڈاکٹر صاحبہ سے کروا دیں نا۔"

شارق کی ماں نے حواس باختہ کھڑی شبو سے پوچھا تو وہ تھوک نگلتے ہوئے بولی 

"جی جی"

شارق کی بہن نے پوچھا 

'کدھر ہے پاگل بھابھی۔"

شارق نے کہا کہ میں نے فی الحال انہیں ایک دوست کے گھر چھوڑا ہے جب آپ لوگ راضی ہوں گے تو دھوم دھام سے اسے لیکر آوں گا۔ انشاءاللہ۔"

شارق کی بہن بولی 

"امی جان میں خود ڈاکٹر سے فون کر کے پوچھتی ہوں کہ وہ کب تک ٹھیک ہو جائے گی۔ لائیں بھابھی ڈاکٹر صاحبہ کا نمبر دیں یا اس کی اپنے نمبر سے بات کروائیں۔"

شبو نے کانپتے ہاتھوں سے نمبر ملا اور لڑکھڑائی ہوئی آواز میں ہیلو بولی 

"میں شبانہ بول رہی ہے۔"

ڈاکٹر صاحبہ نے اسکی آواز کو پہچانتے ہوئے پوچھا 

"خیریت۔"

شبانہ اپنے اوپر قابو پاتے ہوئے بولی 

"جی جی خیریت ہے وہ میری نند نے تسلی کرنی تھی کہ ماھم کب تک ٹھیک ہو جائے گی زرا انہیں تسلی کروا دیں۔"

شارق کی بہن نے ڈاکٹر صاحبہ سے سپیکر آن کر کے بات کی تاکہ ماں بھی سن لے باپ کمرے سے شور سنکر اسی وقت آیا تھا اور داماد نے اسے سب بتا دیا تھا وہ خوشی سے تانیہ کو دیکھنے لگا۔

ڈاکٹر صاحبہ نے بھرپور انداز میں تسلی دی 

"بہت جلد ٹھیک ہو جائے گی شادی جلدی کریں اس کا ماحول بدلے گا تو وہ جلد ٹھیک ہو جائے گی اس وقت وہ شاک میں ہے۔"

فون بند کر کے بہن نے خوشی سے نعرہ لگایا 

"ہرے!" 

اور بھاگ کر شارق کو لپٹ کر بولی 

"امی اب مان جائیں نا تاکہ ہم ماھم کو جلد گھر لا سکیں اگر وہ ٹھیک ہو جاتی ہے تو اس کی اور بھائی کی جوڑی خوب سجے گی سچی مجھے وہ بڑی پسند آئی تھی۔ اچھا چلیں پہلے اس بھابھی کی تو خوشی منا لیں۔"

ماں نے سانس بھر کر کہا 

"اللہ کرے وہ ٹھیک ہو جائے۔ ٹھیک ہے جو مرضی کرو۔ شارق کے چہرے پر مسکراہٹ دوڑ گئی اور تیزی سے ماں کے قریب گیا اور ماں کو چومتے ہوئے جوش سے بولا 

"بہت بہت شکریہ پیاری امی جان۔" 

بہن بھی بھاگتی آ کر لپٹ گئی اور مبارک باد دینے لگی۔ سب نے باری باری شارق کو اس کے بھائی اور تانیہ کو مبارکباد دی۔

بہن نے شارق سے پوچھا 

"یہ سامان کس کا ہے۔"

شارق نے کہا 

"یہ سامان تین جوڑے ہیں، ایک مہندی ایک بارات ایک ولیمے کا اور کل میرے ایک دوست کے ہوٹل میں بکنگ مل گئی ہے۔ وہاں صبح بارات کا فنکشن پھر اسی ہوٹل میں رات کا ولیمہ کر لیں گے۔"

بہن بولی 

"میں ابھی خاص خاص رشتےداروں کو بلا لیتی ہوں ابھی دوپہر کے تین بجے ہیں شام کو مہندی کا فنکشن کر لیتے ہیں اور کھانا۔۔۔۔۔۔۔"

اس کا شوہر بولا 

"شام کے کھانے کا میں خود انتظام کر دوں گا۔" 

وہ بولی 

"وہ جو میں نے دیور کی شادی پر کپڑے پہنے تھے۔ میرے اور بچوں کے اور اپنے کپڑے الماری سے لے آئیں پلیز۔ جلدی کریں ابھی سب کو فون کالز بھی کرنی ہیں۔"

شوہر شارق سے بولا 

"یار میں کوئی خواب تو نہیں دیکھ رہا میری بیوی اپنے بھائی کی شادی پر پرانے کپڑے پہنے گی، وہ بھی تین ماہ پرانے۔ یار آج سورج کس طرف سے نکلا تھا۔"

شارق کی بہن نے مسکرا کر وارننگ دی 

"جی جی فکر نہ کریں آپ کی جیب ہلکی ہونے والی ہے، اب وقت کم ہے ورنہ۔ ویسے میں شارق کی شادی پر اس شادی کی کسر بھی پوری کروں گی۔"

شوہر نے مصنوعی مسکین سی شکل بنا کر اپنے جیب پر پیار سے ہاتھ پھیرا۔ 

شبو نے یہ کیا سوچا تھا اور کیا ہو گیا۔ اس نے تو ڈاکٹر کو لالچ دے کر جھوٹ بلوایا تھا کہ ماھم ٹھیک ہو جائے گی اور شارق ڈاکٹر کی بات سے مطمئن اور خوش ہو گیا تھا۔ جبکہ اس کی بھابھی کی چال یہ تھی کہ ایک چچا کی پاگل بیٹی اس کی دیورانی بنے گی تو اس کے مقابلے میں اس کی ویلیو رہے گی اور وہ ٹھاٹھ سے رہے گی۔ دوسری پھوپھو کی دبی دبی لڑکی اس کی سوکن بن کر اس کی خدمت کرے گی اور وہ اس پر حکم چلائے گی اور شوہر کو اپنی مرضی سے اس کے پاس جانے دے گی۔ مگر شوہر تو اب اس کی طرف دیکھ بھی نہیں رہا تھا بالکل لاپرواہ سا ہو گیا تھا۔

شبو شوہر کو پکڑ کر ایک طرف لے گئی اور اسے آنکھیں دیکھانے لگی۔ وہ منمنانے لگا۔

شارق کی بہن نے دیکھا تو جلدی سے قریب آ کر بھائی کی بازو شبو سے چھڑا کر بولی۔

"سنو شبو کان کھول کر سن لو تمھارا بہت لحاظ کر لیا ہے اب اگر تم نے ہماری خوشیوں میں رخنہ ڈالنے کی کوشش کی تو اچھا نہ ہو گا۔ پہلے بھی تم نے ہم سب سے بہت جھوٹ بول کر دل میلا کیا ہے میرے بھائی سے چار سال بڑی تھی اور اپنی عمر کم بتائی۔ پھر اپنی تعلیم کا جھوٹ بولا۔"

وہ شرمندہ ہونے کے بجائے شوہر سے چلا کر بولی 

"دیکھ رہے ہیں آپ یہ کیسے مجھے بےعزت کر رہی ہے۔"

اس کا اندازہ تھا کہ پہلے کی طرح اس کا شوہر اس کی ساہیڈ لے کر بہن کو سنا دے گا مگر وہ الٹا اسے ہی سنانے لگا 

"وہ ٹھیک کہہ رہی ہے تم ماحول خراب نہ کرو پہلے ہی امی ابو بھائی کی وجہ سے پریشان رہے۔ اب زرا سکون ملا ہے انہیں۔"

اتنے میں شارق کو فون آیا کہ کرونا کی وجہ سے ہوٹل بند ہو رہے ہیں اور بکنگ کینسل ہو گئی۔

بہن نے شوہر کی طرف دیکھتے ہوئے کہا 

"کوئی بات نہیں سب کچھ بعد میں کر لیں گے۔ امی جان کہہ رہی ہیں کہ لڑکی یتیم ہے اور اس کی تو پہلی شادی ہے اس کے دل میں سو ارمان ہو نگے۔"

اس کے شوہر نے بیوی کی طرف دیکھ کر ہاتھ سے تسلی دیتے ہوئے بولا 

"ٹھیک کہہ رہی ہیں ہم سے جو رونق لگ سکی کریں گے۔"

شارق کی بہن ملازمہ کو آواز دے کر 

"بولی سٹور سے ڈھول ڈھونڈ کر لے آؤ۔" 

پھر شوہر سے بولی 

"آپ گھر سے ڈیک بھی لے آئیں نا۔ مہمان آنے والے ہیں۔"

باپ نے آ کر پوچھا 

"ارے بھائی کس کس کو بلا لیا ہے۔"

بیٹی بولی 

"ابو جی صرف قریبی چند لوگوں کو۔ تاکہ کچھ رونق لگ سکے۔ ویسے بھی کرونا کی وجہ سے زیادہ رش ٹھیک نہیں۔"

اتنے میں ساس آئی اور چند زیورات کے ڈبے ہاتھ میں اٹھا کر لائی کہ یہ بہو کو تیار کر کے پہنا دینا۔ شارق کو ماھم کی ماں کا فون آیا کہ وہ آ رہی ہے۔

شارق نے پریشان ہو کر ماں کو دیکھا۔ بہن نے اشارے سے پوچھا کون اس نے سپیکر ان کر دیا اور بہن کو اشارے سے بتانے لگا۔

باپ جو پاس کھڑا تھا اس نے کہا 

"ارے اب وہ ہمارے بیٹے کی ساس ہیں۔۔۔۔۔۔"

پاس کھڑی ماں نے کہا 

"ہاں اس خوشی کے موقع پر ماں بیٹی کو بھی بلا لو۔"

شارق نے کہا 

"ابھی تو وہ اکیلی آ رہی ہیں۔"

بہن نے شبو سے کہا 

"وہ اپنے کمرے سے سامان نکال کر میرے روم میں رکھ لے اور الماری خالی کر دے، تانیہ کے سامان کے لئے۔"

شبو نے انتہائی غصے سے کہا 

"وہ کیوں کرے اپنا کمرہ خالی۔ تم اپنا کمرہ خالی کرو نا۔ ویسے بھی تم اب اس گھر سے جا چکی ہو اور ابھی تک اپنے کمرے پر قبضہ جمایا ہوا ہے۔"

بہن نے کہا 

"کیوں نا حق جماؤں میرے باپ کا گھر ہے۔ تم اپنے میکے پر کیا جا کر حق نہیں جماتی کیا۔"

شبو کا شوہر بولا 

"کیوں بلاوجہ لڑ رہی ہو۔ وہ ٹھیک ہی تو کہہ رہی ہے۔ دولہن کو کمرہ تو دینا ہے اور ظاہر ہے اسے میرا کمرہ ہی ملے گا۔ تم اپنا سامان بہن کے کمرے میں رکھ لو۔"

شبو غضبناک ہو کر بولی 

"تم مجھے کمرہ خالی کرنے کا کہہ رہے ہو۔ مجھے تم سے یہ امید نہ تھی میں نے اگر کمرہ خالی کیا تو اس گھر میں نہیں رہوں گی میکے چلی جاوں گی۔"

بہن نے زچ ہو کر کہا 

"کیوں بات کو بڑھا رہی ہو۔ گھر سے تو نہیں کمرے سے جانے کا بولا ہے مجبوری ہے۔"

ماں نے کہا 

"کچھ مہمان آ گئے ہیں شور نہ کرو تماشا نہ بناؤ۔"

 شوہر نے شبو سے کہا 

"امی جان ٹھیک کہہ رہی ہیں جلدی کرو۔ مہمان کیاسوچیں گے۔"

وہ بولی 

"تم تو چپ ہی رہو ماں، بہن کے غلام۔ تمھاری ماں بہن کو دیکھنا میں کیسے رشتے داروں کے سامنے زلیل کرواتی ہوں۔"

اس کے شوہر کو غصہ آ گیا اور بولا 

"بکواس بند کرو۔"

وہ بولی 

"ابھی تو بکواس شروع ہی کب کی ہے، تم ان لوگوں کے پیچھے مجھے ڈانٹ رہے ہو۔"

شور سن کر پھوپھو ہانپتی دوڑی آئی اور شبو کو پیار سے گلے لگا کر سمجھانے لگی تو اس نے اسے زور سے دھکہ دیتے ہوئے کہا 

"میں ابھی تمہیں اپنے میکے سے نکلواتی ہوں۔" 

پھوپھو گرنے لگی تو اس کے شوہر نے پکڑ کر بیوی کو کہا 

"شبو! ان سے معافی مانگو۔"

اتنے میں شبو کی ماں اور بھائی گالی گلوچ کرتے گھر میں داخل ہوئے اور پھوپھو کی بے عزتی شروع کر دی اور اس کا سامان لا کر پھینکنے لگے کہ تم اب ہمیشہ کے لئے اس گھر سے نکل چکی ہو۔

پھوپھو رو رو کر دہائی دینے لگی 

"اس کا بھائی ہی اب اس کا سہارا ہے وہ کدھر جائے گی۔"

شارق نے کہا 

"آپ ہمیشہ ہمارے ساتھ رہیں گی۔"

تانیہ بھی رو رو کر شبو کی منتیں کر رہی تھی کہ آپ اس گھر سے نہ جاہیں۔ میں کھبی حق نہیں جتاؤں گی ایک کونے میں پڑی رہوں گی۔ نوکرانی بن کر رہوں گی۔ میری ماں کو بھائی سے جدا نہ کریں۔

کافی سارے رشتے دار آ چکے تھے اور تماشا دیکھ چکے تھے۔ شبو کے بھائی ٹرک لے کر آئے تھے اور شبو اپنے سامان کو گاؤں کے لائے ہوے لوگوں سے رکھوا رہی تھی گھر والے عاجز آ چکے تھے اور اس کو سامان لے جانے دے رہے تھے۔ اتنے میں ماھم کی ماں بھی آ چکی تھی اور اس کو بھی شبو چلا چلا کر سب رشتے داروں کو بتا رہی تھی کہ اس کی بیٹی کا نکاح میں نے جان کر شارق سے پڑھوایا ہے۔ اور شارق کو ڈاکٹر نے میرے کہنے پر جھوٹ بولا کہ وہ ٹھیک ہو جائے گی۔ وہ کھبی ٹھیک نہیں ہو گی۔ اب ساس کی طرف اشارہ کر کے بولی 

"اب اس پاگل بہو کو ساتھ رکھیں گے کیونکہ ان کا بیٹا اس کا دیوانہ ہے۔" 

وہ تانیہ کی طرف اشارہ کر کے بولی 

"ایک کالی کلوٹی بہو اور ایک پاگل واہ جی واہ۔ میری قدر ان کو نہیں ہے۔"

شارق کی ماں حیرت سے اسے اور پھر شارق کو دیکھنے لگی۔ سب گھر والے خاموش ہو کر ان کے جانے کا انتظار کر رہے تھے جو پانچ سال میں جو سامان اس نے لیا یا اس کی دسترس میں تھا رکھوا رہی تھی۔ باتھ روم تک سے صابن اور سارا سامان بالٹی مگے تک لے جا رہی تھی۔

شارق کے ابو سب کو کہہ رہے تھے 

"جو کچھ لے کر جانا چاہتی ہے لے جانے دو۔ بس اس گند سے جان چھوٹے۔"

وہ سب سمیٹ کر بکتے جھکتے چلے گئے۔ ان لوگوں نے ان کے جانے پر سکھ کا سانس لیا۔ سب رشتے دار ان کی شرافت اور صبر کے گن گا رہے تھے اور حیران ہو رہے تھے کہ یہ بھی انہیں کے رشتے دار ہیں مگر پھوپھو بہت نیک عورت مشہور تھی اور ماھم کی ماں بھی سلیقے سے بات چیت کر کے سب کو متاثر کر رہی تھی۔

سب پھوپھو کو تسلیاں دے رہے تھے۔ تانیہ کو شارق کی بہن دلاسے دے رہی تھی۔

ماھم کی ماں نے کہا 

"وہ تانیہ اور اس کی ماں کو لینے آئی ہے اور عزت سے اسے پورے رواج کے ساتھ رخصت کرے گی اس کی مہندی، بارات اپنے شوہر کے گھر سے کرے گی۔"

اس نے سب رشتے داروں کو بتایا 

"وہ اپنی بیٹی کو بھی عزت سے رخصت کرنا چاہتی ہے۔ جب تک یہ لوگ خود لینے نہ آئیں میں زبردستی نہیں کروں گی۔ میں گھر پر موجود نہ تھی قبرستان شوہر کی قبر پر غریبوں میں شوہر کے ایصال ثواب کیلئے خیرات تقسیم کر رہی تھی واپس آئی تو میری بیٹی کا نکاح ہو چکا تھا۔ میں نے احتجاج کیا تو بھابھی نے گھر سے نکالنے کی دھمکی دی۔ تو شارق ہمیں اپنے ساتھ گھر لانا چاہتا تھا مگر میں نے اپنے شوہر کے گھر جانا چاہا، جہاں میں اللہ تعالیٰ کے کرم سے محفوظ ہوں۔ میرے شوہر کا دوست اور میرا منہ بولا بھائی اور اس کی بیوی مجھے اپنوں سے بڑھ کر چاہتے ہیں اور ہمارا خیال رکھتے ہیں۔ ان کے بچے باہر ملک میں تعلیم حاصل کرنے کے بعد وہیں شادیاں کر کے سیٹل ہو چکے ہیں اور ان کے والدین جن کا گھر ہمارے گھر کے ساتھ ہے۔ پاکستان میں رہنا پسند کرتے ہیں۔ وہ میرے شوہر کے بزنس پارٹنر بھی ہیں۔ وہ اتنے اچھے ہیں کہ مجھے ان کی موجودگی میں اپنی اور بیٹی کی کوئی فکر نہیں ہوتی۔"

شارق کے والد نے کہا 

"جیسے آپ کی خوشی۔ ہم انشاءاللہ آپ کی بیٹی کو عزت سے رخصت کرنے آئیں گے۔"

 

ناول نگار عابدہ زی شیریں۔

ہم کیا جانیں بہار و خزاں کے موسم کو

ہماری بہار و خزاں تیری خوشی میں پنہاں ہے۔


تیسرا حصہ - 3rd Part


Continue Reading
Episode 3
میری بہار و خزاں تم سے وابستہ ہے 3

Reader Comments

No comments yet. Be the first to share your thoughts!

Log in to leave a comment.

Related Novels

Selected For You

View More Free Novels

Editor's Choice

Handpicked favorites that you shouldn't miss.

Premium Membership

Unlock the Full Library

One subscription. Every story. Unlimited reading.

PKR 300
30 Days of Unlimited Access
Go Premium Now

Secure payment  ·  Instant access

Full Novel Library
Access every premium & exclusive novel — no episode locked
Unlimited Reading
Read as much as you want, whenever you want, at your pace
Support the Author
Your subscription directly supports Abida Z Shireen's work
New Episodes First
Be the first to read every new episode as soon as it drops
A F S R N
Join thousands of readers already enjoying premium access
Loved by readers
Our Literary World

Experience the Best Urdu Novels Online

Dive into decades of storytelling by Pakistan's most beloved author, now at your fingertips.

50+
Published Novels
30+
Years of Writing
1M+
Readers Worldwide
100%
Authentic Stories
01

The Legacy of Abida Z Shireen

Welcome to the digital sanctuary of Abida Z Shireen, one of Pakistan's most celebrated literary icons. As a premier Urdu storyteller, she has spent decades crafting narratives that capture the soul of our society. This online Urdu reading platform is designed to preserve her vast Urdu literature archive, offering readers a chance to read Urdu novels online that explore the depths of human emotion, culture, and resilience.

Read Her Story
Abida Z Shireen
Author
02

Captivating Novels & Social Sagas

From suspense-filled thrillers to heart-touching social dramas, our collection features the best Urdu novels that have captivated millions in publications like Aanchal Digest. Whether you are looking for new Urdu novels 2024 or timeless classics, Abida's work provides a unique lens into family dynamics and romantic storytelling. Dive into her world and discover why she is considered a top Urdu digest writer by fans globally.

Browse All Novels
Reading Urdu Novels on Tablet and Phone
Novels
03

Soul-Stirring Urdu Poetry Collection

Beyond prose, this platform hosts an extensive Urdu poetry collection. Abida Z Shireen's verses offer a profound look into spiritual and philosophical themes, available in both Urdu and English. As a featured Urdu poet, her work serves as a bridge between traditional rhythms and modern thought. Join our community of literature lovers to explore famous Urdu poems and exclusive literary insights found nowhere else.

Explore Poetry
Elegant Desk with Pens and Books
Poetry