Meri Bahaar o Khizaan Tum Sey Wabasta Hai
Episodes
شبو کا بھائی کول نہ ہوا پسٹل لے کر گھر سے چلا گیا۔ شبانہ کی بھابھی نے شبانہ کے حق مہر کی رقم افراتفری سے فائدہ اٹھاتے ہوئے بہن کی مدد سے چرا لی اور بھائی کے سپرد کر دی اس نے لے کر محفوظ کر لی۔
شبانہ کی ماں کو بیٹے کی فکر لگی جو باہر غصے سے گیا تھا شبانہ رو رو کر نڈھال ہو گئی۔ سب پڑوسی جا چکے تھے کیونکہ اس کی ماں نے سب کو ڈانٹ کر چلے جانے کا بولا تھا کہ سب میری بیٹی کے اجڑنے کا تماشا دیکھ رہی ہو۔ صرف بھابھی کے میکے والے موجود تھے۔
شبو چارپائی پر نڈھال لیٹی چھت کو تک رہی تھی۔ سب خاموش تھے کافی دیر گزر چکی تھی کہ پتا چلا کہ شبانہ کا بھائی کسی دوست کو عابد کو قتل کرنے کے لیے ساتھ چلنے پر اصرار کر رہا تھا اور وہ مان نہیں رہا تھا پھر وہ اسے طعنے دینے لگا کہ وہ بزدل ہے دونوں میں جھگڑا شروع ہو گیا اور ہاتھاپائی شروع ہو گئی دونوں بری طرح لڑنے لگے تو شبو کا بھائی کافی زخمی ہو کر گر گیا تو گاؤں کے لوگ اسے گھر پہنچا گئے۔
قریبی کلینک سے ڈسپنسری سے دوا لائ گئ۔
تانیہ کا پریگننسی کا ساتواں ماہ تھا کہ ڈلیوری ہو گئی۔ سب ہاسپٹل میں پریشانی کے عالم میں بیٹھے ہوئے تھے۔
سب دعائیں کر رہے تھے۔ ڈاکٹر نے خون کے ارینج کا بولا تھا شارق عابد سے مسلسل رابطے میں تھا شارق اپنے سورسیز سے خون کا ارینج کروا رہا تھا اور عابد کو تسلیاں بھی دے رہا تھا۔ اس کی واپسی کا تھوڑا ٹائم ہی رہ گیا تھا۔
ڈاکٹر نے بیٹے کی خوشخبری سنائی اور کہا کہ کیس نارمل ہو گیا ہے۔ بچہ ابھی pre mature ہے اس لئے اسے ابھی مشین میں رکھا جائے گا۔
تانیہ ٹھیک تھی سب کے چہرے کھل گئے ایک دوسرے کو مبارکباد دینے لگے۔
بچے کو دیکھ سکتے تھے اسے سب باری باری دیکھنے گئے۔ دوسرے دن تانیہ کو شام تک ہاسپٹل سے ڈسچارج کر دیا گیا مگر بچے کو ابھی ساتھ نہیں لے جا سکتے تھے۔ ڈاکٹر نے ایک ہفتے تک اسے رکھنے کا بتایا۔
عابد خوشی سے دیوانہ ہو رہا تھا سب شبو کا غم بھول کر عابد کو اور تانیہ کو گلے لگا کر مبارک باد دے رہے تھے۔
غریبوں میں کھانا تقسیمِ کیا گیا۔ مٹھائی بانٹی گئ۔
ماھم کی ماں کو ان کے شوہر کی فیملی کسی ضروری کام کے نام سے اصرار کر کے گھر جلدی آنے پر اصرار کرنے لگی۔ ساتھ میں ماھم کو بھی ساتھ لانے پر اصرار کرنے لگی۔ وہ پریشان ہو گئی اور شارق کو فون پر بتایا تو اس نے تسلی دی اور کہا کہ پرسوں وہ واپس آ رہا ہے ابھی آپ ادھر نہ جاہیں اور ماھم کو بھی مت لے جاہیں۔
شارق نے عابد اور باپ کو سب تفصیل بتائی اور ماھم اور اس کی ماں کو ادھر جانے سے منع کیا۔
ماھم کو وہ لوگ بار بار آنے پر اصرار کرتے کہ ایک اچھا سرپراہیز ہے تم دونوں کے لئے اگر دیر کی تو نقصان ہو جائے گا۔
خاندان والے تانیہ کے بچے کی مبارک باد کے لئے آ رہے تھے۔
شارق بھی آ چکا تھا۔
ماھم کی ماں کو شوہر کی نصیحت یاد آ گئ تھی کہ ان کے دوست اور پارٹنر کے رویے بدل رہے تھے بظاہر وہ لوگ پیار خوب جتاتے تھے مگر ماھم کے باپ نے ان سے کاروبار الگ کر لیا تھا مگر انہوں نے بظاہر کوئی مخالفت نہیں دکھائی تھی اور اسی طرح پیار جتاتے تھے۔
پھر ماھم کے باپ نے دور اندیشی سے کام لیتے ہوئے۔ تمام پیسہ اور جاہیداد بینک میں رکھوا دیا تھا اور زیورات لاکر میں اور رقم فکس کروا دی تھی۔ صرف ضرورت کی رقم گھر میں رکھتے تھے۔
بیوی کے سمجھانے پر کہ ہماری شان وشوکت اور بڑا گھر دیکھ کر ہم کسی لالچی لوگوں کے فریب میں نہ پھنس جاہیں اور ہماری بیٹی بھی جوان ہے۔ گاوں والے بھی آپ کا ساتھ نہیں دیں گے ہم اکیلے ہیں تھوڑے میں گزارا کر لیں گے۔ چھوٹا گھر لیتے ہیں اور اس میں رہتے ہیں۔ گاوں میں سب کو بتا دیں کہ ہم برباد ہو چکے ہیں کچھ نہیں بچا اور قرض خواہ تنگ کر رہے ہیں۔
اس نے ایسا ہی کیا تو باپ اور بھائی نے مشورہ دیا کہ بیوی اور بیٹی کو لے کر گاؤں آ جاو۔
ماھم اور شارق ایک ہی کالج میں پڑھتے تھے۔ ماھم کالج کے گراونڈ میں جا رہی تھی کہ اسے چکر آنے لگے وہ گرنے لگی تو شارق نے شور مچا کر پاس گزرتی لڑکی کو اس کی طرف متوجہ کیا تو انہوں نے بمشکل اسے گرتے ہوئے بچا لیا۔ شارق نے کہا لگتا ہے انہوں نے ناشتہ نہیں کیا اور شوگر لیول کم ہو گیا ہے وہ بھاگ کر کیک اور جوس کینٹین سے لے آیا اور لڑکیوں سے بولا انہیں زبردستی کھلا دیں۔ اتنے میں اس کی فرینڈز بھی ماھم کو ڈھونڈتی آ گئیں اور شارق کا شکریہ ادا کرنے لگیں۔ اور اس کے ہاتھ سے چیزیں پکڑ لیں۔
شارق نے اپنے نام کا کارڈ جو اس نے ساتھ پڑھائی کے بزنس کرتا تھا وہ کارڈ لڑکیوں کو دیتے ہوئے کہا کہ میں کلاس میں جا رہا ہوں یہ میرا کارڈ رکھیں اور اگر ڈاکٹر کے لے جانا ہوا یا کوئی مسئلہ ہوا تو مجھے فون کر دیجئے گا۔ ماھم کی دوست نے کارڈ پکڑ کر اثبات میں سر ہلا دیا۔
ماھم کی ایک چلبلی دوست ماھم کو چھڑنے لگی لو جی تمھارا ہیرو تو تمہیں مل گیا۔
ماھم کو دوسری فرینڈز جوس کے ساتھ زبردستی کیک کھلا رہی تھیں۔
ماھم کی حالت کچھ بہتر ہونے لگی تو ماھم کی دوست پھر اسے چھیڑنے لگی۔
ماھم نے غصے سے کہا کہ بس کر دو بلا وجہ کا ایشو نہ بناو۔ میں یہاں پڑھنے آئی ہوں ہیرو کی تلاش میں نہیں۔
سب لڑکیاں ماھم کو ساتھ لے کر چل پڑیں۔ اس کی سہیلی ادھر ہی بیٹھی رہی۔
تھوڑی دیر بعد شارق تیز تیز چلتا ہوا ادھر آیا اسے آتا دیکھ کر وہ مسکرا دی۔
شارق اس کے پاس آ کر پریشانی سے پوچھنے لگا کہ اب مس ماھم کی کیسی طبیعت ہے۔
وہ طنزیہ مسکرا کر بولی جی سب ان کا نام لے رہے تھے تو۔۔۔۔ اس نے سر کھجاتے ہوے نظریں جھکا کر صفائی پیش کی۔
سہیلی بولی تو آپ نے نام یاد کر لیا ویسے میں آپ کی مدد کر سکتی ہوں اس کا فون نمبر بمعہ اس کے گھر کا اس کے باپ کے آفس کا ایڈریس دے سکتی ہوں مگر اس کے لئے آپ کو میری چند ماہ کی فیس جمع کروانی پڑے گی سوچ لیں کل جواب دے دیجئے گا یہ کہہ کر وہ اسے سوچوں میں گم چھوڑ کر چل پڑی۔
شارق ماھم کو ایک سال سے جج کر رہا تھا اسے ایسی ہی خوبیوں والی لڑکی کی تلاش تھی جو اس کی شریک حیات بن سکے مگر وہ ہزار جتن کے باوجود اس کو بات کرنے کا موقع نہیں دیتی تھی نہ ہی اس کی بات سننے کو تیار تھی۔ وہ موقع پاتے ہی جب بھی اس سے بات کرنے کی کوشش کرتا وہ غصے سے اگنور کر دیتی۔
اب شارق کو اس تک پہنچنے کا موقع مل رہا تھا تو وہ اس موقعے کو گنوانا نہیں چاہتا تھا بلکہ وہ تسلی بھی کرنا چاہتا تھا کہ وہ لڑکی جھوٹی تو نہیں۔ اس نے اس کی ڈیمانڈ پوری کرتے ہوئے اسے کہا کہ سب سچ ہونا چاہیے ورنہ۔
ورنہ کیا وہ بولی۔ ایک تو تمھارا بھلا کر رہی ہوں۔ اتنے عرصے سے نوٹ کر رہی ہوں تم اس کے پیچھے خوار ہو رہے ہو۔ مگر وہ تمھیں گھاس نہیں ڈالتی۔
شارق حیرت سے اسے دیکھنے لگا۔
شارق نے جب اس کی بتائی ہوئی انفارمیشن سے پوری تسلی کی تو اس نے ماھم کی سہیلی کی ڈیمانڈ پوری کر دی۔
شارق ایک خوشحال گھرانے سے تعلق رکھتا تھا۔ اس سے بڑا بھائی عابد اور اس سے بڑی بہن تھے۔ عابد اور اس کی بہن کی شادی ایک ساتھ کی گئی تھی۔
عابد کی شادی شبانہ سے ہوئی کیونکہ عابد بارہ کلاسیں پڑھا ہوا تھا اور کچھ کماتا نہ تھا باپ اور بھائی کی کمائی پر پل رہا تھا۔ وہ کوئی چھوٹی موٹی نوکری کرنا اپنی شان کے خلاف سمجھتا تھا۔ وہ بزنس کرنا چاہتا تھا۔ گھر والوں نے اسے بزنس کرنے کے لیے سرمایہ بھی دیا مگر وہ بزنس نہ چلا سکا اور گھر والے طعنے دہتے دیتے مایوس ہو کر ناامید ہو گئے۔
عابد کو بیوی اور گھر والے نکما اور نکھٹو کے طعنے دینے لگے پھر پانچ سال سے اولاد نہ ہونے پر ساس نے طعنے دینے شروع کر دیے اور دوسری شادی کا واویلہ مچا دیا۔
ماھم کی سہیلی چلبلی نے ماھم کے اسے روکنے ٹوکنے اور لڑکوں سے دوستی نہ کرنے پر سمجھانے اور ڈانٹنے پر اس کی دوست نے دل میں اس کے خلاف حسد اور مشن بنا لیا کہ وہ اسے بدنام کرنے میں کوئی کسر نہ چھوڑے گی پھر اتفاق سے اس نے شارق کی دلچسپی ماھم کی طرف محسوس کر لی پھر قدرتی طور پر اسے موقع بھی مل گیا اور اس نے شارق کو اس کا فون نمبر دے دیا بدلے میں اس سے مالی فائدہ بھی حاصل کر لیا۔ اب اسے بدنام کرنے کی کوشش کرنے لگی۔
اسے ماھم کی باتوں سے غصہ آتا جو اسے اپنے پاپا کی باتوں کو دہرا کر اپنی دوستوں سے داد وصول کرتی جو اس کی باتوں کا اثر لیتی تھیں مگر وہ چڑتی۔
ماھم انہیں سمجھاتی کہ میرے پاپا بہت روشن خیالات کے مالک ہیں وہ کہتے ہیں کہ کالج و یونیورسٹی میں صرف پڑھائی پر دھیان دو۔ اچھے کم اور برے زیادہ ملیں گے جو عورت کو ایک کھلونے سے زیادہ اہمیت نہیں دیتے بس دل بہلایا اور پھینک دیا۔
لڑکیوں کی بدقسمتی کہ وہ دوسروں کا حشر دیکھ کر بھی مشاہدے سے نصیحت نہیں پکڑتیں۔ بلکہ اپنے بوائے فرینڈ کو ان فراڈی لڑکوں سے افضل سمجھتی ہیں اور کسی نصیحت کی طرف دھیان نہیں دیتی ہیں۔
ماھم کے باپ نے بیٹی کو نصیحت کرتے ہوئے کہا کہ میں پسند کرنے کو برا نہیں سمجھتا اگر تمھیں کسی کی عادات اچھی لگیں اور وہ بھی اگر تمھاری طرف متوجہ ہو تو اس سے کھبی دوستی وغیرہ نہ کرنا بلکہ اس کو پرکھنا اور سمجھنا اگر وہ پسندیدگی کا اظہار کرے تو اس کو کہہ دینا کہ اگر وہ اس کے معاملے میں سیریس ہے تو اپنے والدین کو بھیجے اور اگر میرے والدین بھی راضی اور مطمئن ہوے تو مجھے کوئی احتراز نہیں کیونکہ میں نے اپنی قسمت کا فیصلہ کرنے کا اختیار والدین کو دیا ہے جو دنیا میں واحد ہستی ہوتے ہیں جو بچوں کا کھبی برا نہیں چاہتے۔ چنانچہ ماھم نے ایسا ہی کیا اور کہا کہ میں والدین کا غرور ہوں ان کا مان ہوں جس کو میں نہیں توڑ سکتی۔
ماھم کی سہیلی ہزار جتن کے باوجود ماھم کا کچھ نہ بگاڑ سکی۔ حتکہ ایک بار اس کے موبائل سے شارق کو گندے میسج بھی کرتی رہی۔
شارق فوراً سمجھ گیا اور اس نے ماھم کے سامنے اس کی سہیلی کو برا بھلا کہا اور ماھم کو سچائی بتا دی۔
ماھم کی دوست شرمندہ ہو کر ان سے الگ ہو گئی۔
شارق ماھم کے باپ سے ملا اور اپنا مدعا بیان کیا۔
انہوں نے اسے پسند کیا اور کہا کہ وہ گھر والوں کو بھیجے۔
شارق نے ان سے وعدہ کیا کہ وہ ایک بزنس پروجیکٹ میں مصروف ہے۔ جلد ہی اس سے فارغ ہو کر گھر والوں کو بھیجے گا۔
شارق نے ابھی گھر والوں سے بات نہ کی تھی کہ ماھم کے والد وفات پا گئے ان کے گھر والے ان کی ڈیڈ باڈی کے ساتھ ماھم اور اس کی ماں کو بھی لے گئے۔
شارق فارغ ہوا تو ماھم کے باپ سے ملنے آفس گیا مگر وہ ان کی وفات کی خبر سن کر مایوس ہو گیا کیونکہ کسی کو نہ تو ان کے گھر کا علم تھا نہ ہی گاوں کا۔
شارق اکثر ان کی تلاش میں ان کے آفس جاتا مگر وہ ہمیشہ بند ملتا تھا۔
اب اپنے ہی گھر میں اسے سامنے پا کر وہ بھی اس کے پاگل پن کی حالت میں تو وہ اسے اس حالت میں بھی قبول کرنے پر تیار تھا۔ پھر لالچی بھابھی کی کوششوں سے اس کا نکاح ماھم سے ہو گیا اور جب نکاح کے بعد اسے پتا چلا کہ ماھم پاگل نہیں ہے تو بہت خوش ہوا۔
ماھم کی ماں نے نکاح کے بعد شارق کے ساتھ بیٹی جانے میں عافیت جانی۔ راستے میں ہی اسے تمام باتوں سے پردہ اٹھانے میں دیر نہ کی۔
شارق کے لیے یہ سب باتیں کسی دھماکے سے کم نہ تھیں اس کا بس نہیں چل رہا تھا کہ وہ خوشی میں کیا کچھ کر ڈالے۔ ایک تو ماھم پاگل نہ تھی دوسرے اس کی ماں نے اس پر بھروسہ ظاہر کیا تھا۔ اس نے ان کو تسلی دی اور ماھم کی طرف محبت اور مصنوعی غصے سے دیکھا اس نے شرما کر منہ مسکراہٹ دبا کر منہ دوسری طرف کر لیا۔
شارق پاکستان واپس آ گیا۔ خوشیاں اب اس کے گھر کے دروازے پر کھڑی تھیں۔
تانیہ کا بچہ سب کی آنکھ کا تارا بن گیا تھا۔
ماھم کی ماں نے شارق کے تعاون سے اپنے شوہر کے پارٹنر سے جان چھڑا لی تھی۔ وہ لوگ بھی جان چکے تھے کہ اب ان لوگوں کو لوٹنا آسان نہ تھا۔
ماھم اور شارق کی شادی بہت دھوم دھام سے منائی گئی۔ شبو تک سب خبریں پہنچ رہی تھیں وہ پچھتاوے کی آگ میں جل جل کر خاک ہو رہی تھی۔وہ سوچتی اگر وہ تانیہ کو خوشی سے اپنا لیتی اور دل بڑا کرتی اس کا جاہز مقام اسے دیتی تو اس گھر کی مالکہ وہ بھی ہوتی۔
اب تو اس کی بھابھی نے طعنوں سے اس کا جینا حرام کر رکھا تھا اب تو اس کے والدین بھی بہو کے آگے بے بس تھے۔
شبانہ کا باپ اپنے بیٹے کی اور بیٹی کی حالت پر پچھتا رہا تھا کہ آج اس کے گناہوں کی سزا اس کی اولاد کو ملی ہے۔ بیٹا معزور ہو چکا تھا اور بیٹی نیم پاگل۔
شبانہ کے باپ نے لالچ کر کے اپنے بھائی ماھم کے باپ کا جاہیداد کا حصہ ہڑپ کر لیا تھا اور بہن کی شادی کر کے اس کا حصہ بھی اسے نہ دیا۔ آج وہی جاہیداد اس کے بچوں کے کام نہ آ سکی۔ نہ بیٹے کی معزوری دور ہو سکی نہ بیٹی اجڑنے سے بچ سکی۔
مکافات عمل تھا۔ ماھم کا باپ اپنی محنت سے کاروبار کر کے بیٹی کے لئے بہت کچھ چھوڑ گیا جبکہ تانیہ کی ماں کو بھی بیٹی کے اچھے مقدر کے ساتھ ادھر عزت ملی اور سہارا بھی۔
ماھم اور شارق ایک پیارے سے بیٹے کے باپ بن گئے اور ماھم کی ماں بیٹی کے اچھے نصیب پر اللہ تعالیٰ کا شکر بجا لاتی۔
ختم شد
رائٹر عابدہ زی شیریں۔
ہم کیا جانیں بہار و خزاں کے موسم کو
ہماری بہار و خزاں تیری خوشی میں پنہاں ہے۔
شاعرہ عابدہ زی شیریں
ناول اختتام پذیر ہوا
You've reached the end of this journey. We hope you enjoyed it!

Reader Comments
Be the first to leave a comment on this episode!
Log in to leave a comment.