Tum Oqat Me Raho
1 Episodesتم اوقات میں رہو
رمشا بہت خوشی کے ساتھ اپنی فرینڈ کو فون پر بتا رہی تھی
اس کی منگنی بہت امیر گھرانے میں ہو رہی ہے۔ اتنی مہنگی گاڑی میں وہ لوگ آئے۔ بہت سا فروٹ اور مٹھائیاں لیکرآئے۔ کہہ رہے تھے کہ اگلی بار منگنی کی انگوٹھی لیکرآئیں گے اور بات پکی کر کے جائیں گے۔ میرے ماما پاپا گئے تھے ان کے گھر۔ محل جیسا بڑا گھرہے۔ نوکروں کی فوج ہے۔ میرے ماما پاپا کو انہوں نے بہت عزت دی سر آنکھوں پر بٹھایا ۔ تم تو جانتی ہی ہو ہم تو متوسط طبقے کے لوگ ہیں۔
اتنے میں اسے ماما نے آواز دی اور وہ اسے بولی
اچھا یار ماما بلا رہی ہیں لگتا ہے پھوپھو آئی ہیں۔ میں تم سے بعد میں بات کرتی ہوں۔
رمشا کی پھوپھو آج اپنی بیٹی کے ساتھ آئی تھیں۔ رمشا کو اپنی پھپھو اور ان کی بیٹی بالکل پسند نہ تھی۔ اس لیے شکل بنا کر ملنے چلی آئی۔
رمشا کو تو اپنی اکلوتی خالہ بہت پسند تھی جو ہر وقت اس پر واری صدقے جاتی رہتی تھی
اور اس کی پھپھو کے خلاف اسے اور اس کی ماں کو اس کے خلاف خوب بھرتی رہتی تھی۔
خالہ کے دو بچے تھے۔ بیٹی بڑی تھی اور بیٹا چھوٹا۔
رمشا دو بہن بھائی تھے۔ بھائی رمشا سے بڑا تھا۔ رمشا کی ماں نے رمشا کو بہت لاڈلا بنا رکھا تھا۔ کچھ بہن بھی اس سے کہتی تھی کہ رمشا تیری تو نازک اندام ہے۔ اس سے کام نہ کروانا ۔ اس کی نازک جلد متاثر ہو گی۔
رمشا کی ماں اپنی بہن کو اپنا سب سے ہمدرد سمجھتی تھی۔ اس کی بہن کی لچھے دار باتوں میں وہ فوراً آ جاتی تھی۔ نسبتاً اندر سے بھولی تھی۔ وہ اس کے اندر چھپے حسد کو نہ سمجھتی تھی جو وہ برسوں سے اپنے دل ❤️ میں پال رہی تھی ۔
رمشا کی خالہ کی خندق کی اصل وجہ یہ بھی تھی کہ رمشا کی خالہ بڑی تھی مگر رمشا کی دادی نے اس کی خالہ کو چھوڑ کر رمشا کی ماں کا رشتہ مانگ لیا تھا رمشا کی دادی کا کہنا تھا کہ بڑی بہن بہت تیز طرار ہے۔ اور چھوٹی بھولی سی ہے، ہمیں تیز طرار عورت نہیں چاہیے ۔
رمشا کی خالہ نے اتفاق سے یہ باتیں سن لی تھیں اور وہ اندر ہی اندر غصے سے کھول کر رہ گئی تھی ۔ اس نے دل ❤️ میں ٹھان لی تھی کہ وہ یہ شادی نہیں ہونے دے گی۔
وہ جان بوجھ کر اپنی بہن کی جھوٹی برائیاں رمشا کے پاپا کے سامنے کرنے لگی۔
چونکہ وہ ان کے خاندان سے تھی اس لیے وہ اس کی نیچر جانتے تھے ۔
رمشا کے گھر 🏡 والوں نے بھی اچھا رشتہ ہاتھ ✋ سے نہ جائے رمشا کے لیے ہاں کر دی تھی۔ رمشا کی دادی نے شادی جلدی کرنے کی جلدی مچا دی۔ اور صاف کہہ دیا کہ انہیں جہیز نام کی کوئی چیز نہیں چاہیے ہمارے گھر میں اللہ پاک کا دیا سب کچھ موجود ہے۔
رمشا کے نانا نانی چاہتے تھے کہ جلدی سے کوئی رشتہ رمشا کی خالہ کا بھی مل جائے تو وہ یکدم دونوں بیٹیوں کے فرائض سے سبکدوش ہو جائیں۔ مگر لاکھ کوشش کے باوجود رشتے والی جو بھی رشتہ لاتی وہ مناسب نہ لگتا اور مجبور ہو کر انہوں نے چھوٹی بیٹی کی شادی پہلے کرنے کا فیصلہ کر لیا۔
رمشا کی ماں کی شادی بہت شاندار طریقے سے ہو گئی۔ شادی پر رمشا کی خالہ کو رشتے داروں کی باتیں سننے کو ملیں کہ چھوٹی بہن کی شادی پہلے ہو گئی اور بڑی کا رشتہ نہیں مل رہا۔ حالانکہ رشتے کی بات چیت بڑی کیلئے چل رہی تھی مگر لڑکے کی ماں نے چھوٹی کو پسند کر لیا اور بڑی بے چاری منہ دیکھتی رہ گئی۔
رمشا کی خالہ ان کی باتوں سے بہت ہرٹ ہونے لگی۔ اس کے والدین بھی لوگوں کی باتیں سن رہے تھے۔ کچھ تو انہیں یہ بھی کہہ رہے تھے کہ تم لوگوں کو پہلے بڑی بیٹی کی شادی کرنی چاہیے تھی۔ رمشا کی نانی لوگوں کو صفائیاں دیتے دیتے تھک گئی ۔
رمشا کی ماں کی شادی کے بعد رمشا کی نانی نے رمشا کے نانا سے کہا
اب مجھ سے سب کے طعنے برداشت نہیں ہوتے۔ پہلے چھوٹی بیٹی کی شادی کر کے کونسا گناہ کر دیا ہے۔ اتنا اچھا رشتہ ہاتھوں سے جانے دیتے۔ اس رشتے پر پورے خاندان کی نظریں لگی ہوئی تھیں۔ مگر قرعہ ہماری بیٹی کے نام کا نکلا۔ سب ہماری بیٹی کی قسمت پر رشک کر رہے تھے کہ جہیز بھی نہیں دینا پڑا اور سچی بات ہے ہماری بساط صرف ایک بیٹی کو جہیز دینے کی تھی۔ وہ بھی بہت مشکل سے اور نارمل سا۔ وہ بھی کمیٹیاں ڈال رکھی ہیں۔
رمشا کی نانی نے آہ بھرتے ہوئے کہا
کیا کریں ہر والدین کو تو اپنی بیٹیاں پریاں لگتی ہیں مگر لوگ اندھے نہیں ہوتے۔ پھر چھوٹی بیٹی ہماری خوبصورت بھی تھی اور بڑی عام سی شکل کی ہے۔
رمشا کے نانا نے ناراضگی والے انداز میں برا مناتے ہوئے کہا
تم تو ایسا مت بولو۔
رمشا کی نانی نے جواب دیا،
میں لوگوں کے منہ کی کہی بات کر رہی ہوں۔ کبوتر کی طرح آنکھیں بند کر کے اسے پری تو نہیں بول سکتی ہوں۔ رشتے والوں نے تو اندھوں کی طرح شادی نہیں کرنی۔ لڑکا جیسا بھی ہو وہ لڑکا ہوتا ہے۔ خود بدشکل یا بڑی عمر کا بھی ہو چار پیسے اس کے پاس ہوں تو اسے کم عمر اور خوبصورت لڑکی آسانی سے مل سکتی ہے۔ لڑکی بھی امیر ہو تو اس کے ساتھ بھی ایسا ہی ہوتا ہے۔ مگر ہمارے پاس نہ ہی دولت ہے اور نہ ہی خوبصورتی ہے۔
رمشا کی نانی بولی
میں نے رشتے والی کو ڈبل فیس دے کر بہت جلد کوئی مناسب رشتہ لانے کا بولا ہے۔ یہ لوگ ویسے بھی پیسے کی ہوتی ہیں جتنا پیسہ دو اتنا اچھا رشتہ لاتی ہیں۔ ہم جیسے جنگلیوں کیلئے وہ کوئی امیر کبیر اور ڈاکٹر، انجینئر کا رشتہ تو لانے سے رہی۔ وہ بھی ہماری میٹرک پاس بیٹی کیلئے۔ چھوٹی بیٹی نے تو پھر بھی بی اے کر لیا تھا مگر بڑی بیٹی کو تو زرا بھی پڑھائی سے دلچسپی نہ تھی۔
رمشا کی خالہ کا جو اب رشتہ آیا تھا اس پر اس کے والدین خوش تھے اور ہاں کر چکے تھے۔ وہ اس بات پر مطمئن تھے کہ لڑکا دوبئی ہوتا ہے۔ اس کے والدین بھی وفات پا چکے ہیں اور صرف ایک بڑا بھائی ہے۔ 🏠 بھی بڑا اور پیارا ہے۔ وہ لوگ بھی یہی کہتے ہیں کہ اپنی خوشی اور بساط کے مطابق اپنی بیٹی کو جو بھی دینا چاہیں ہمیں کوئی اعتراض نہیں ہے۔ ہماری کوئی ڈیمانڈ نہیں ہے۔ ہمارے گھر ضرورت کی ہر چیز موجود ہے۔ والدین کے دل ❤️ میں سو ارمان ہوتے ہیں اپنی بیٹی کو جہیز میں دینے کے۔ اس سے ہم آپ کو منع نہیں کرتے۔ آپ اپنے ارمان پورے کریں۔
لڑکے کی بھابھی سب انتظام کر رہی تھی۔ وہ رمشا کی خالہ سے بہت پیار جتاتی تھی۔ زیورات اور کپڑوں کی نیٹ پر تصویریں دیکھاتی تھی کہ ہم اچھے سے اچھا جہیز اور شادی کا جوڑا تیار کروائیں گے۔ زیورات اور شادی کا جوڑا نیٹ پر رمشا کی خالہ سے پسند کروایا گیا۔ کافی مہنگا جوڑا تھا اور زیورات بھی بھاری تھے۔
رمشا کی خالہ سارے خاندان بھر کو زیوارات اور جوڑے کی تصاویر بنا بنا کر بڑے فخر سے بڑھا چڑھا کر بتاتی پھر رہی تھی۔
رمشا کی ماما بہن کو منع بھی کرتی کہ مت بتاؤ نظر بھی لگ سکتی ہے اور ویسے بھی یہ اچھی بات نہیں ہے۔ مگر رمشا کی خالہ بڑے غرور سے تڑخ کر جواب دیتی کہ مانا
تمہارے جوڑے بھی قیمتی تھے اور زیورات بھی کافی سیٹ تھے مگر میرے سیٹ کی بات ہی کچھ اور ہے۔ تمہارے سارے سیٹوں کے برابر میرا ایک سیٹ ہے۔
خاندان کے لوگ کچھ تو رشک کرتے اور کچھ کو تجسس ہونے لگا۔ کچھ حیران ہوتے اور کہتے کہ آخر اس کے سسرال والے اندھے ہیں کیا ایک عام سی شکل وصورت والی متوسط گھرانے کی لڑکی جس کے پاس تعلیم بھی اتنی نہ تھی۔ اس میں ان لوگوں نے آخرکیا دیکھا جو اتنی شاندار بری بنا رہے ہیں۔ لڑکا دوبئی میں ہی ہے کوئی یورپ میں نہیں ہے۔ لڑکا تو کوئی خاص پڑھا لکھا بھی نہیں لگتا۔
ایک دن اچانک رمشا کی خالہ کی جیٹھانی بڑی پریشانی اور عجلت میں رمشا کی خالہ کے 🏡 آئی اور بولی
میرے دیور کی دوبئی کمپنی میں ایک بڑا پروجیکٹ شروع ہو گیا ہے اور میرے دیور کو بھی آفر آئی ہے کہ اگر ایک ہفتے میں واپس آ گئے تو اس پروجیکٹ میں نئی نوکری مل جائے گی اور اس کی تنخواہ بھی پرانی نوکری سے زیادہ ہے اور امید ہے کہ اس میں فیملی ویزا بھی مل جائے گا اور ہم اس آفر کو بھی نہیں چھوڑنا چاہتے اور اگر جلدی میں شادی سادگی سے بھی کر لیں تو نہ شادی شادی کا جوڑا ابھی تیار ہو سکا ہے اور نہ زیور کا سیٹ۔ نئی جگہ جانا پڑے گا جہاں رہائش بھی ذاتی خود اپنے خرچے پر لینی پڑے گی۔ اگر ہم شادی پر زیادہ خرچہ کریں گے تو دیور مسائل میں پڑ جائے گا کیونکہ ابھی اسے خود پیسوں کی ضرورت ہے۔ جہاں یہ پروجیکٹ شروع ہے وہاں ان کو رہائش اچھی دیکھانے پڑے گی اور نئی گاڑی بھی لینی پڑے گی تب ہی اچھی پوسٹ ملے گی۔ میرے شوہر نے بھی اس کو اپنی ساری جمع پونجی دے دی ہے۔ یا تو ہم شادی بعد میں کر لیں۔ اس میں دو سال بھی لگ سکتے ہیں۔ اگر دھوم دھام سے کرنا مقصود ہو تو ورنہ پھر عجلت میں سادگی سے شادی کر لیں۔ اس سے یہ فائدہ ہو گا کہ نکاح نامہ دیکھانے سے بیوی کو جلدی بلا سکے گا۔ ورنہ اگر آپ دھوم دھام سے شادی کروانا چاہتے ہیں تو پھر کم سے کم دو سال انتظار کرنا پڑے گا۔ ویسے میں آپ لوگوں کو بتا دوں کہ خاندان والے پہلے ہی ہمیں رشتے دینا چاہتے تھے مگر ہم خاندان سے کرنا نہیں چاہتے تھے۔ کیونکہ جب مشکل وقت آیا تھا تو کسی نے بھی ہمارا ساتھ نہ دیا تھا۔ اب ہمارے حالات اچھے ہو گئے ہیں تو وہی خاندان والے اب ہم پر پریشر ڈال رہے ہیں کہ ہمارے گھر سے رشتہ کریں۔ اگر آپ اس مشکل وقت میں ہمارا ساتھ دیں گے تو خاندان والوں کی بولتی بند ہو جائے گی۔ آپ شام تک ہمیں اپنا جواب دے دینا کہ آپ کا کیا فیصلہ ہے۔
رمشا کے والدین تو کنفیوز ہو گئے تھے۔ وہ اتنا اچھا رشتہ کھونا نہیں چاہتے تھے۔ آخر انہوں نے فیصلہ کرلیا کہ ان لوگوں کی بات مان کر سادگی سے شادی کر دیتے ہیں۔ اس نے وعدہ کیا تھا کہ ساری کسریں نکال لیں گے۔ ولیمہ کچھ عرصے کے بعد دھوم دھام سے کر دیں گے۔
اس کی بھابھی نے شام تک ان سے جواب مانگا تھا۔ انہوں نے شام کو ہی ہاں میں جواب دے دیا اور سادگی سے شادی کرنے پر رضامندی دے دی۔
رمشا کی خالہ نے ماں سے کہا کہ وہ دو سال تک انتظار کر لے گی۔ مگر اس کی ماں نے اسے سمجھاتے ہوئے کہا
دو سال بعد ضروری ہے کہ وہ ادھر ہی رشتہ کریں۔ ابھی بھی ان کے رشتے دار ان کو رشتہ دینے کیلئے کوشیشیں کر رہے ہیں۔ شکرکرو کہ سادگی سے بھی شادی ہو جائے۔ اس کے بعد وہ تمہیں باہر بلا لے گا پھر تمہارے وارے نیارے ہو جائیں گے۔
باہر کا نام سنکر رمشا کی خالہ خوش ہو گئی۔ جب رشتے داروں کو سب حالات کا پتا چلا تو انہوں نے کافی حیرت کا اظہار کیا۔ کچھ نے تو یہاں تک کہہ دیا کہ وہ لوگ فراڈی لگ رہے ہیں۔ ویسے ہی سبز باغ دیکھاتے رہے ہوں گے ۔
سب کی باتیں سنکر رمشا کی خالہ بھی کھبی سوچ میں پڑ جاتی پھر جب لڑکے کا سوچتی جو اسے کافی پسند آیا تھا۔ تو وہ خوش ہو جاتی۔
رمشا کی نانی نے رمشا کے باپ سے پریشانی کے عالم میں قیاس آرائیاں کرتے ہوئے
کہیں واقعی یہ لوگ فراڈ نہ کر رہے ہوں جیسے کہ خاندان والے کہہ رہے ہیں
تو رمشا کے نانا نے جواب دیا
میں نے سب پتا کروا لیا ہے۔ وہ لوگ پرانے یہاں کے رہنے والے ہیں اور کوئی فراڈی لوگ نہیں ہیں۔ آس پڑوس نے ان کے بارے میں یہی بتایا ہے اور لڑکا واقعی دوبئی سے آیا ہے۔
یہ سنکر رمشا کی نانی نے گلہ کرتے ہوئے کہا
آپ نے مجھے کیوں نہیں بتایا یہ سب کچھ۔ مجھے اب تسلی ہو گئی ہے۔
رمشا کے نانا نے کہا
کیا میں اپنی بیٹی کا رشتہ ایسے ہی بغیر ان لوگوں کے معلومات کیے دے دیتا۔ آپ کو بتانے کی یاد نہ رہی اور نہ ہی آپ نے پوچھا جو میں بتاتا۔ یہ کوئی ایسی بات نہ تھی کہ بتانا ضروری سمجھتا۔
رمشا کی نانی نے دکھ سے سوچا، پہلے کون سا مجھے کچھ بتاتے رہتے ہیں یا مجھ سے صلاح ومشورہ کرتے ہیں۔ اب بیٹی کی شادی ہے تو مجھ سے مشورہ کرنا ان کی مجبوری ہے ورنہ ہمیشہ کی طرح لاپرواہ اور اکڑے رہتے۔ وہ سوچنے لگی کہ ان کو بیٹا پیدا نہ ہونے کا دکھ ہے۔ مگر کھبی طعنہ تو نہ دیا مگر اندر سے ان کو غم ضرور ستاتا ہے جب کوئی ان کو بیٹا نہ ہونے کا احساس دلاتا ہے۔ یہ دنیا بھی دوسروں کے ساتھ ہمدردی کی آڑ میں ان کی اچھی خاصی ہنستی مسکراتی زندگی میں دکھ کی آمیزش شامل کر دیتے ہیں۔ کیا ہوا اگر بیٹا نہ ہوا تو، اس میں بھی اللہ پاک کی کوئی اس انسان کیلئے بہتری لکھی ہوتی ہے جسے وہ سمجھ نہیں سکتا۔ ورنہ بےاولاد لوگ اگر سوچیں تو قیامت والے دن وہ لوگ اولاد والوں کی نسبت زیادہ سکھی ہوں گے کہ ان کو صرف اپنا حساب کتاب دینا پڑے گا اور اولاد والوں کو اپنی اولاد کی تربیت کے بارے میں بھی پوچھا جائے گا۔ بچے قیامت کے دن بھی والدین کی زمہ داری بنتے ہیں اور دنیا میں بھی پوری زندگی۔ جب تک وہ بالغ نہ ہو جائیں۔
رمشا کی خالہ کی شادی نارمل سی شکل میں ہوئی۔ لڑکے والوں کا پورا خاندان شامل تھا اور لڑکی کی بری درمیانے درجے کی تھی۔ زیورات بھی نقلی تھے۔ اس کی بھابھی کا کہنا تھا کہ آجکل انہیں کا فیشن ہے۔ سوٹ کے ساتھ میچ کر کے پہنے جاتے ہیں۔ درمیانے درجے کا ولیمہ بھی ہوا۔ رمشا کی خالہ حیرت سے یہ سب تماشا دیکھتی رہی اور اپنے خواب ٹوٹنے پر دل ❤️ میں کڑھتی اور روتی رہی۔
رمشا کا خالو اس سے بہت عزت اور اہمیت دیتا۔ وہ دوبئی سے نوکری چھوڑ کر آ گیا تھا۔ اس کا وہاں کے عربی سے جھگڑا ہو گیا تھا جو اس کی تنخواہ نہیں بڑھاتا تھا۔
رمشا کا خالو دوبئی میں جو کماتا تھا وہ اپنے بڑے بھائی کو بھیج دیتا تھا۔ اس کا بھائی اس کے حق میں بہت مخلص اور ایماندار تھا۔ اس کی بھابھی بھی اس کا بھلا سوچتی تھی۔ وہ دونوں اس کے بھیجے ہوئے پیسوں کو جمع کرتے رہے اور اس کو سختی سے کہا کہ وہ سارے پیسے انہیں بھیجے تاکہ وہ دھوم دھام سے اس کی شادی کر سکیں۔ وہ جانتے تھے کہ وہ بہت فضول خرچ اور لاپرواہ ہے۔
وہ دوبئی سے واپس آیا تو اس نے رٹ لگا دی کہ وہ شادی بہت دھوم دھام سے کرے گا ۔ بھابھی اس کو لڑکیاں دیکھاتی رہی مگر اسے کوئی پسند نہ آتی۔ پھر رمشا کی خالہ کی سادگی اسے بھا گئی۔ جو بالوں کی درمیان سے مانگ نکالے سادہ سی چٹیا بنائے۔ کھلے کھلے سے لباس 👗 میں ملبوس سر پر دوپٹہ اوڑھے چائے لیکر آئی۔ زیادہ بات چیت بھی نہ کی۔ سپاٹ سا چہرہ لیے کوئی خوشی غمی کا تاثر دیے بغیر تھوڑی دیر بیٹھ کر اٹھ کر چلی گئی اور دوبارہ نہ آئی۔
اس کی بھابھی کو بھی یہ مختصر سا گھرانہ پسند آیا۔ لڑکی بھی اسے ٹھیک لگی ۔ خاموش طبع سی لگی۔
جب رمشا کا خالو بھابھی کو اپنی شادی کا بہت مہنگا جوڑا اور قیمتی زیورات بنانے پر اصرار کرنے لگا تو پہلے تو وہ اس کی بات مان گئے پھر انہوں نے اس کے مستقبل کے بارے میں سوچا کہ یہ تو دوبئی سے لڑ جھگڑ کر آ گیا ہے اب اسے ادھر ہی کچھ کام کاج کرنا پڑے گا ۔ پڑھا لکھا بھی وہ زیادہ نہ تھا تو انہوں نے اسے بہت سمجھایا
جو پیسہ تم شادی کی شاپنگ پر خرچ کرو گے اگر اسے سادگی سے شادی کر کے بچا لو تو اسی پیسے سے تم اپنے آئندہ مستقبل کیلئے بچا کر کوئی کاروبار شروع کرسکتے ہو۔ بیوی کو کہاں سے پالو گے ۔ ہم تو تمہیں شادی ہوتے ہی الگ کر دیں گے تاکہ تم اپنی زمہ داری سیکھ سکو۔
وہ پریشان ہو گیا اور بھائی بھابھی کے سمجھانے بجھانے پر ان کے ذہن میں جو ترکیب آئی اسے بتائی ۔ اس کی بھابھی نے اس سے کہا
زندگی میں میں نے کھبی جھوٹ نہیں بولا، لیکن چونکہ تم اس لڑکی پر مر مٹے ہو۔ اور اسی سے شادی پر بضد ہو تو مجھے تمہارے لیے کیا کچھ جھوٹ بولنے پڑے۔ اگر سچ بولتی کہ تم دوبئی سے ہمیشہ کیلئے آ گئے ہو تو وہ لوگ رشتہ نہ دیتے۔ ان سے رشتہ لینے کیلئے انہیں کتنے سبز باغ دیکھانے پڑے۔ اللہ تعالیٰ مجھے معاف فرمائے۔ میں بعد میں ان لوگوں سے معافی مانگ لوں گی۔ تم صرف میرے دیور ہی نہیں میرے چچا کے بیٹے بھی ہو۔ میرا تم سے خونی رشتہ بھی ہے۔ تم مجھے اپنے بچوں کی طرح عزیز ہو۔ تماری بہتری اور خوشی کیلیئے میں کچھ بھی کر سکتی ہوں ۔
اس کے دیور نے جزباتی انداز میں بھابھی کے آگے ہاتھ ✋ جوڑ کر معافی مانگتے ہوئے کہا
میں ساری زندگی آپ کا مشکور رہوں گا۔ بس ایک بار شادی ہو جانے دیں۔ میرے والدین کی وفات کے بعد آپ دونوں نے مجھے کھبی والدین کی کمی محسوس نہیں ہونے دی۔ اب میں سدھر گیا ہوں اور جیسے آپ لوگ کہیں گے میں ویسا ہی کروں گا۔
ان لوگوں نے اسے کہا
موبائل شاپ کھول لو۔ ویسے بھی تم نے موبائل ریپیرنگ کا کام سیکھا ہوا ہے ۔
میرا ایک دوست لگی لگائی شاپ سیل کر رہا ہے۔ کافی مناسب دے رہا ہے ہمارے بجٹ کے اندر ہی ہے۔ ہم آسانی سے خرید سکتے ہیں۔ گھر کے قریب بھی ہے۔ اس کے علاؤہ ہم نے اس آبائی گھر 🏠 کے دو شرعی حیثیت کے مطابق قیمت لگوا کر آدھی رقم کچھ تمہاری بھابھی نے کمیٹیاں ڈالیں، زیور بیچا اور رقم پوری کر کے ایک گھر کے قریب مکان خریدا اور اسے کرائے پر لگا دیا اور وہ کرایہ بھی جمع کرتے رہے۔ اب اسے کرایہ داروں سے خالی کروا کر رنگ روغن کروایا ہے۔ ہم تو تماری شادی پر تمہیں یہ سرپرائیز دینا چاہتے تھے مگر اب پہلے ہی بتانا پڑا۔
رمشا کا خالو رو پڑا اور بھائی کے گلے لگ کر جزباتی انداز میں بولا،
اتنا تو کھبی کسی کیلئے کوئی نہیں سوچتا جتنا آپ نے سوچا ہے۔ بعض اوقات تو والدین بھی اتنی دور کی نہیں سوچ سکتے۔
بھائی نے اسے پیار سے گلے لگایا اور کہا
یہ سب تجویزیں تمہاری بھابھی کی ہوتی تھیں۔ یہ کہتی ہے کہ اگر آج ہم کسی کا حق کھائیں گے تو اس کا خمیازہ ہمارے بچوں کو بھگتنا پڑے گا۔ ہم خود بھی دوزخ کا ایندھن بنیں گے اور اپنے بچوں کو بھی بنائیں گے۔ چار پیسے کا فائدہ سوچ کر گناہ کبیرہ کے مرتکب ہوں۔ اللہ پاک کسی کا حق کا حق مارنے والے کو کھبی معاف نہیں فرماتے۔
وہ بھابھی کے قدموں میں گر گیا۔ تو بھابھی نے اسے پیار سے سر پر ہاتھ پھیر کر کہا
میں تہیں اپنا سب سے بڑا بیٹا ہی سمجھتی ہوں۔
وہ روتے ہوئے بولا،
اس میں کوئی شک نہیں۔
اسکا بڑا بھائی بولا،
اچھی اور نیک بیوی کا ساتھ ملے تو نسلیں سنور جاتی ہیں۔ اللہ تعالیٰ تمہیں بھی ایسی ہی پرخلوص بیوی عطا فرمائے۔
اس کی بھابھی تنک کر بولی
جی میری دیورانی ایسی ہی اچھی ہے۔ میرے دیور کی پسند ہے تو بری کیسے ہو سکتی ہے۔ اس کے بڑے بھائی نے کہا،
خوشی کا موقع ہے رونا 😭 دھونا بند کرو اور ہم سب کو چائے پلاؤ۔ بچے بھی ٹیوشن سے واپس آتے ہی ہوں گے۔
پھر اس کا بڑا بھائی رمشا کے خالو سے مخاطب ہو کر بولا،
چائے پی لو، پھر دوکان دیکھانے تمہیں لیکر چلتا ہوں۔ اس نے چابی مجھے دے دی ہے اور جو لڑکا اس نے رکھا ہوا تھا اسے میں نے کام کیلئے ملازم رکھ لیا ہے۔ اس نے اس کی گارنٹی دی ہے کہ بہت ایماندار لڑکا ہے۔ ساتھ کیمرے لگے ہوئے ہیں۔ ہم گھر 🏡 بیٹھے اس کو دیکھ سکتے ہیں ۔
رمشا کا خالو بہت بے چینی سے بولا،
بڑے بھیا ابھی چلیں میں اب ایک منٹ بھی ضائع نہیں کرنا نہچاہتا ہوں۔ پھر شادی پر بھی دن ضائع ہوں گے ۔ بھابھی نے آواز لگائی کہ چائے تو پیتے جاؤ۔ بن گئی ہے۔ بمشکل وہ چائے کیلئے رکا۔
جب دوکان دیکھی تو اسکا دل ❤️ خوش ہو گیا اور اس نے دوبارہ کافی بار بھائی کا شکریہ ادا کیا اور بھابھی کو بھی فون کر کے بہت شکریہ بولا، اسے دوکان بہت پسند آئی۔ لڑکے ملازم کو بھی فون کر دیا وہ بھی فوراً پہنچ گیا۔ تو وہ رمشا کے خالو کا پہلے سے ہی جاننے والا نکل آیا۔ اس کے دوست کا چھوٹا بھائی تھا۔ وہ بھی بہت خوش ہوا۔ دوست کا حال احوال پوچھا اس نے بتایا کہ وہ دوبئی گیا ہوا ہے چند ماہ پہلے ۔
دوکان کھلتے ہی چند گاہک آ گئے۔ وہ لڑکا بڑے اچھے طریقے سے ان کو ڈیل کرنے لگا۔
رمشا کا خالو اس لڑکے کے کام سے کافی متاثر ہو کر آرام سے بیٹھ گیا ۔
وہ ایک ایک موبائل کو دیکھنے لگا۔ اسے بھابھی کا پرانا موبائل یاد آ گیا۔ اس نے ایک اچھا موبائل بھابھی کیلئے پسند کیا۔ بھائی سمجھ گیا اسے منع کرنے لگا مگر وہ نہ مانا اور جا کر بھابھی کو وہ موبائل دیا۔ پہلے تو اس نے لینے سے کافی انکار کیا مگر وہ بضد رہا تو اس نے اس سے لے کر پیار سے اس کے سر کو چوما۔
بھابھی نے کہا
آجکل لڑکیاں زیور سے زیادہ موبائل سے خوش ہوتی ہیں مگر ایسا کرو تم اسے یہ منہ دکھائی میں دے دینا۔
وہ خوش ہو کر بولا،
اچھا آئیڈیا ہے۔
مگر اس کے دل ❤️ میں شرمندگی محسوس ہوئی۔ وہ سوچنے لگا کہ اس نے اپنی بیوی کی منہ دیکھائی کیلئے بہت قیمتی اور خوبصورت سی سونے کی انگوٹھی لی تھی اور بھابھی کیلئے کچھ نہیں لیا۔ اب تو اس کے پاس پیسے ہی نہ بچے تھے۔ اس نے دل ❤️ میں تہیہ کرلیا کہ جب بھی اس کے پاس پیسے ہوئے وہ بھابھی کیلئے کوئی سونے کی چیز لے گا۔ شادی کے چند دن دعوتوں میں مصروف گزر گئے ۔ وہ اپنی موبائل شاپ فون پر ہی دیکھ لیتا تھا اس کے علاؤہ اس کے بڑے بھیا بھی روز ایک چکر شاپ کا لگا لیتے تھے۔
رمشا کی خالہ کو اس نے اس دوران دوبئی کے کافی سبز باغ دکھائے تھے۔ کیونکہ اسے ایک امید نظر آ رہی تھی کہ اسکا دوست ابھی ابھی دوبئی گیا ہے اور اس نے اس سے رابطہ کر کے اپنے لیے بھی کوئی جاب تلاش کرنے کا کہا تھا۔ وہ اسکا بہت اچھا دوست تھا اور اس نے اس سے وعدہ بھی کیا تھا کہ وہ اس کے لیے جاب ڈھونڈ رہا ہے۔ جب بھی موقع ملا وہ اسے جلد اپنے پاس بلا لے گا ۔
رمشا کی خالہ شادی کے بعد بہت خوش تھی۔ شادی ہوتے ہی اسے اپنا گھر 🏡 مل گیا تھا۔ بےشک وہ جٹھنانی کے گھر 🏠 کی طرح خوبصورت اور بڑا نہ تھا مگر پھر بھی ان دونوں کیلئے کافی تھا۔ جٹھانی بھی بہت اچھی تھی۔ رمشا کا خالو روز اسے میکے لیکر جاتا۔ اس کے والدین بیٹی کو خوش پا کر مطمئن تھے۔
رمشا کی ماں نے بھی اس کی دعوت کی تھی اور بہن کو خوش دیکھ کر اسے تسلی ہو گئی تھی ۔
رمشا کے والدین کا 🏠 رمشا کی خالہ کے 🏡 سے بہتر اور بڑا تھا۔
رمشا کی خالہ کو رشتے دار پوچھتے کہ سنا تھا کہ بہت بڑا ولیمہ ہو گا اتنا کچھ تم نے بتایا ہوا تھا، مہینہ ہو گیا ہے، تمہارا شوہر ابھی تک ادھر ہی بیٹھا ہوا ہے۔ وہ لوگ تو کہہ رہے تھے کہ ایک ہفتے میں چلا جائے گا۔ انہوں نے نارمل سا ولیمہ کر کے فارغ کر دیا۔ کافی چالاک اور فراڈی لوگ ہیں۔ خوب الو بنایا ہے تم جیسے سیدھے سادھے لوگوں کو۔
مگر رمشا کی خالہ کے والدین اور خود رمشا کی خالہ بھی ان کی باتوں کا مائنڈ کرتی اور صفائیاں دینے لگتی
وہ سب بہت اچھے ہیں بس دوبئی سے کال آنے میں دیر ہو رہی ہے ۔
رمشا کی خالہ نے اپنی ماما سے گلہ کرتے ہوئے کہا
ماما ہمارا خاندان چونکہ متوسط طبقے سے تعلق رکھتا ہے اس لیے زیادہ تر متوسط طبقے کے لوگ رشتے داروں کی ٹوہ میں لگے رہتے ہیں۔ ان کی ہر بات میں مداخلت کرنا اور باتیں بنانا اپنا فرض سمجھتے ہیں۔ پھر اگر کسی کی کمزوری ہاتھ ✋ لگ جائے تو طعنے دینا بھی ان کے لیے ضروری ہوتا ہے۔ بھلا اپنے کام سے کام رکھیں کیونکہ دوسروں کی زندگیوں میں جھانکتے ہیں۔ میرا شوہر دوبئی جائے نہ جائے اس کی مرضی ہے۔ یہ لوگ کون ہوتے ہیں ہر بات میں عدالت کھڑی کرنے والے ۔
ایک امیر لوگ ہیں اپنے گھر کے افراد سے بھی انکی روز ملاقات نہیں ہوتی اور نہ ہی ایک دوسرے کے کام میں اپنی ٹانگ اڑاتے ہیں۔ وہ زیادہ تر اپنی دنیا میں مصروف رہتے ہیں حتکہ گھر کے افراد بھی ایک دوسرے کی اجازت کے طلبگار نہیں ہوتے۔ ایک ہمارے گھروں میں سب کو سب کی خبر ہوتی ہے۔ سب سے زیادہ تو بہو پستی ہے کہیں جانا ہو تو شوہر سے بمشکل اجازت لو، پھر اس کے آرڈر کے مطابق ساس سے لو اگر وہ منع کر دیں تو سمجھو جانے سے چھٹی۔ شوہر صاحب مسکین سی صورت بنا کر اپنی بےبسی کا اظہار کر دیتے ہیں اگر بیوی کی طرف داری بھی کریں تو ماں سے صلواتیں سننے کو ملتی ہیں۔ اسے ہر جگہ جانے کی اجازت ہوتی ہے۔
رمشا کی نانی اسے سمجھاتی کہ شکر کر تیرے ساتھ یہ مسئلہ نہیں ہے۔ ایک جٹھنانی ہے وہ بھی بہت مخلص۔ اس نے آ کر ہم سے بہت معزرت بھی کی ہے اور ساری بات بتائی ہے کہ کیوں اتنی دھوم دھام نہیں کی۔ میں تو اس کی عقلمندی کی قائل ہو گئی ہوں۔ اس نے جو بھی کیا ہماری بیٹی کے بھلے کے لیے کیا۔
رمشا کی ماں بھی وہاں موجود تھی۔ اس نے بھی بہن کو سمجھانے کی کوشش کی
شکر کرو شوہر تم پر آنے جانے کی پابندیاں نہیں لگاتا۔ مجھے دیکھ لو جب سے ساس گری ہیں اور ٹانگ فریکچر ہوئی ہے۔ میرا تو میکے آنا بھی دوبھر ہو گیا ہے۔ سسر کی وفات سے پہلے پھر میں کہیں آسانی سے آ جا سکتی تھی مگر اب تو ایک ملازمہ بھی ہر وقت ان کی خدمت کے لئے موجود ہوتی ہے۔ میں آج بھی تھوڑی دیر کی اجازت لیکر سارا کام نمٹا کر ان کا پرہیزی کھانا بنا کر آئی ہوں اور شوہر بھی آج گھر پر موجود ہیں مگر پھر بھی مجھے جلدی آنے کا بولا گیا۔ تمہاری دعوت تھی۔ امی اکیلی تھیں سب کچھ نہیں کر سکتی تھیں ۔ تمہارے جیٹھ، جٹھنانی بھی انوائیٹ تھے۔ اس لیے زیادہ اہتمام کرنا پڑا۔ وہ بےچارے چائے بھی نہیں پی کر گئے، کھانا کھاتے ہی چلے گئے کہ آپ لوگ آپس میں وقت گزاریں۔ اتنے سمجھدار اور اچھے لوگ ہیں ۔
رمشا کی خالہ نے برا سا منہ بنا کرکہا
ان کی ساتھ دعوت کرنے کی بھلا کیا ضرورت تھی۔
رمشا کی ماں نے کہا
ہم ایک معاشرے میں رہتے ہیں جہاں شادی صرف لڑکی لڑکے کی نہیں ہوتی ہے بلکہ دو خاندانوں کا آپس میں رشتہ جڑتا ہے۔ سب کو ساتھ لیکر چلنا پڑتا ہے۔
رمشا کی ماں کو واپس جانے کی جلدی تھی۔ وہ جلدی جلدی برتن دھونے لگی۔ ان کے گھر کوئی ملازمہ نہ تھی۔ وہ جانتی تھی کہ ماں کو دھونے پڑیں گے۔ اس کی بہن تو پہلے بھی بہت کم کسی کام کو ہاتھ لگاتی تھی۔ سارا کام رمشا کی ماں کرتی تھی اور والدین اس کو دعائیں دیتے رہتے تھے اور اس کی تعریفیں بھی سب کے سامنے کرتے رہتے تھے آنے جانے والوں میں بھی اسی کی واہ واہ ہوتی تھی۔ اس بات سے رمشا کی خالہ بہت جلتی تھی کہ سب اس کی بہن کی تعریفیں کرتے ہیں۔ پھر اس کی شادی بھی اس سے پہلے ہو گئی۔ اس کے سسرال والوں کی پھر کچھ خاندان بھر میں عزت اور نام تھا۔ جبکہ رمشا کی خالہ کے سسرال کو کوئی اہمیت نہ دیتا تھا سب انہیں فراڈی ہی سمجھتے تھے جنہوں نے سبز باغ دیکھا کر عمل کچھ نہ کیا۔ یہ سب باتیں خاندان بھر میں رمشا کی خالہ نے خود پھیلائی تھیں ۔ اور بڑھا چڑھا کر بتائی تھیں، اب خود ہی سب کے طعنوں سے تنگ ہوتی تھی۔ حالانکہ اس وقت رمشا کی ماں بہن کو منع بھی کرتی تھی کہ نہ گھر کی باتیں باہر کسی کو بتایا کرو ایک تو نظر بھی لگتی ہے اور پوری نہ ہوں تو جگ ہنسائی ہوتی ہے۔
رمشا کی ماں اور خالہ میں ایک سال کا فرق تھا۔ اس لیے رمشا کی ماں اسے تم کہہ کر ہی بات کرتی تھی۔ جب سمجھدار ہوئی تو رمشا کی ماں نے اسے باجی کہنا شروع کیا تو اس نے رمشا کی ماں کو بری طرح ڈانٹ دیا
میں تم سے صرف ایک سال ہی تو بڑی ہوں۔ خود چھوٹی بنتی ہو۔
اسے کوئی زرا بڑا احترام سے باجی کہہ بھی دے تو بہت برا مناتی تھی۔
رمشا کی خالہ کی پہلی بیٹی پیدا ہوئی اور رمشا کی ماں کا بیٹا پیدا ہوا۔ رمشا کی ساس نے بہت دھوم دھام سے پوتے کاعقیقہ کیا۔ رمشا کی خالہ اس بات سے بھی جلنے لگی۔ کیونکہ اس کا شوہر فقط ایک موبائل شاپ سے گھر کا خرچہ چلاتا تھا۔ جبکہ رمشا کے دادا کی پنشن بھی تھی اور اس کے شوہر کی بھی اچھی نوکری تھی اور گاڑی بھی تھی۔ جبکہ رمشا کی خالہ کے شوہر کے پاس ایک موٹربایئک تھی۔
حالانکہ اس کی بیٹی پیدا ہونے پراس کی جٹھنانی نے اسے کافی تحفے دیے تھے۔ سب اس کی بیٹی کی ضرورت کی چیزیں تھیں۔ ان دونوں کو جوڑے دیے تھے۔ رمشا کا خالو ان کے اتنے تحفوں سے بہت متاثر ہوا تھا مگر رمشا کی خالہ اسی طرح نارمل شکل ہی بنائے رہی تھی۔
رمشا کے خالو کو افسوس تھا کہ اس نے ابھی تک بھابھی کو کوئی زیور نہ لے کر دے سکا تھا جس کی اس کو خواہش تھی۔ اس نے بیوی سے ایک بار ہلکا سا ذکر کیا کر دیا تو اس نے اس کو خوب سنائی تھیں
خود انہوں نے زیادہ حصہ لیا۔ آبائی گھر ہڑپ کر لیا اور تمہیں ایک چھوٹا گھر دے کر خوش کر دیا۔ وہ بےایمان لوگ ہیں۔
وہ ہر وقت ان لوگوں کی برائیاں کرتی رہتی تھی۔ ان کے کسی اقدام سے خوش نہ ہوتی تھی۔ اس کا شوہر ان کی برائی نہ سن سکتا تھا۔ اسے یقین تھا کہ بھائی نے ایسا کھبی سوچا بھی نہیں۔ وہ تو اس پر عرصے سے پیسے خرچ کرتا آ رہا تھا۔ جب اس کے والدین فوت ہوئے تو وہ فقط آٹھویں کلاس میں پڑھتا تھا۔ بھائی بھابھی نے اسے ماں باپ بن کر پالا۔ اس نے بارہ کلاسیں پڑھیں پھر اسکا دوبئی کا کام ہو گیا اور وہ کمانے چلا گیا۔ یہاں پر وہ بہت فضول خرچ تھا۔ وہاں پر بھی اس نے چند ماہ ایسا ہی کیا اور جو کماتا عیاشی میں اڑا دیتا تو بھائی نے اسے جزباتی انداز میں فون کر کے کہا
اس پر بہت بڑی افتاد آ گئی ہے۔ دفتر میں مسئلہ ہو گیا ہے اور اسے اپنی جان چھڑانے کیلئے کچھ عرصہ ایک بڑی رقم ان کو خوش کرنے کیلئے دینی پڑے گی ورنہ اس کو جیل ہو سکتی ہے۔ وہ تڑپ گیا اور سوائے اپنی ضرورت کے باقی ساری تنخواہ وہ بھائی کو بھیجنے لگا۔ بھابھی اس کا بہت شکریہ ادا کرتی تو وہ شرمندہ ہو جاتا۔ ان کی نیکیاں یاد آ جاتیں۔ جب بھابھی بھائی سے چوری اسے چپکے سے پیسے دے دیتی۔ بھائی اسے فضول خرچی اور نکمے دوستوں کے ساتھ رہنے پر ڈانٹتا۔ تو وہ اکثر روٹھ جاتا کھانا نہ کھاتا۔ تو بھابھی اس کی منتیں کر کے کھانا کھلا کر سلاتی۔
بعد میں بھائی نے بتایا کہ ان پر کوئی آفس کی افتاد نہیں آن پڑی تھی۔ بلکہ ہم تمہارے لیے ہی تمہاری کمائی کو جوڑنا چاہتے تھے۔ اگر ہم ایسا نہ کرتے تو تم اپنی وہی کھلے ہاتھ والی روٹین رکھتے۔
وہ ان کی سوچ کی داد دیتا تھا پھر وہ اتنے مخلص لوگوں کے بارے میں کیسے سوچ سکتا تھا جنہوں نے اس کے گھر بنانے اور کاروبار سیٹ کرنے کی فکر سے آزاد کر دیا تھا۔ وہ جانتا تھا کہ اس کی بیوی کو جو ان کا بڑا گھر نظر آتا ہے وہ بھیا نے گھر کے ساتھ اپنی کمائی سے خالی پلاٹ لیا تھا پھر اس کی بھابھی اس کی تنخواہ سے رقم پس انداز کرکے اس کی تعمیر کرواتی رہتی تھی۔ اس طرح وہ گھرایک بڑا گھر بن گیا۔ اس کے والد اپنے گھر کے شرعی دو حصے کر کے اس کے نام کر گئے تھے۔ پھر بھیا نے موجودہ زمانے کے مطابق قیمت لگوا کراس کی رقم سے گھرخرید چکے تھے۔ وہ جانتے تھے کہ موجودہ دور میں ایک ساتھ بھایئوں کا گزارہ ممکن نہیں۔ یہ بات وہ اسے کافی بار کلیئر کر چکے تھے اور معذرت بھی کر چکے تھے۔ اس نے خوشی سے کاغذات پر دستخط کر دیے تھے۔ اس کی بیوی ان سب دلیلوں کو ماننے کو تیار نہ تھی۔
وہ بیوی کی نیچر سمجھ چکا تھا اس لیے اسے برائی کرنے سے نہ روکتا۔ اسے بھڑاس نکالنے دیتا۔ جواب میں خاموش رہتا۔ جانتا تھا کہ اگر اس نے اسے اپنے سامنے برائی کرنے سے روکا تو ایک تو اس کی بھڑاس دل ❤️ میں رہے گی۔ دوسروں کے سامنے بھڑاس نکالے گی۔ اس کا یہ فاہدہ ہوتا تھا کہ وہ سب باتیں اسی سے ہی کرتی تھی۔ ماں سے یا رمشا کی ماں سے کرتی تو وہ الٹا اسے ہی لعن طعن کرتیں۔ رفتہ رفتہ اس کی بھڑاس کم ہونے لگی اب کھبی کبھار کچھ بول دیتی۔ وہ سمجھتی تھی کہ اسکا شوہر اس کی باتیں سنکر دل میں قائل ہو رہا ہے۔ مگر بولتا کچھ نہیں۔ شکر ہے سن تو لیتا ہے۔ جب اس کی بھڑاس نکل جاتی تو پھر وہ اسے پوچھتا کہ بھیا کے گھر چلیں تو وہ راضی ہو جاتی اور وہاں بھی قدرے گھل مل جاتی۔ بچے اسے چاچی چاچی کہہ کر پیار سے پاس بیٹھتے تو ان سے باتیں وغیرہ کرتی۔ کسی کو بھی زیادہ لفٹ نہ دیتی۔ مگر وہ اس کے آنے پر ہی سب بہت خوش ہوتے۔ ان کے بچے اس کی بچی سے بہت خوش ہوتے۔ بھابھی بھیا بچی پر جان چھڑکتے۔ اس کے لیے ڈھیروں تحفے لاتے۔
رمشا کا خالو بیوی سے بہت پیار کرتا تھا۔ وہ اس بات کا قائل تھا کہ اگر کسی سے پیار کرو تو اس کی خامیوں سمیت کرو۔ کوئی انسان فرشتہ نہیں ہوتا۔ اس کی حرکتوں سے نفرت کرو۔ اس سے نہیں۔ وہ بیوی کو سمجھاتا رہتا
تم نے سب سے جل جل کر اپنی جان کھائی ہوئی ہے۔ اسی طرح دبلی پتلی ہو۔ کچھ تو اپنے حال پر رحم کرو۔ دوسروں کے بارے میں سوچنا چھوڑو۔ اللہ پاک نے تمہیں دو پیارے سے بچے دیے ہیں۔ بیٹی پیدا ہوئی تو کہتی تھی بیٹا نہیں یوا۔ اب وہ بھی ہو چکا ہے۔ بہن کی بیٹی ہوئی ہے۔ مگر وہ یہ نہیں سوچتی ہوگی کہ میرا دوسرا بیٹا کیوں نہیں ہوا، بیٹی کیوں ہوئی ہے ۔ اس کی ساس زندہ ہوتی تو شاید وہ یہ بات کہتی۔ تم بیٹا پا کر بھی خوش نہیں ہو۔ بھیا بھابھی نے اس کا کتنا شاندار عقیقہ کیا ہے۔
وہ غصے سے تپ کر بولی،
اپنے بچوں کے ساتھ میرے بچے کا بھی کر دیا۔ دو بکرے ساتھ لے لیے اور بھگتا دیا۔
اس کے شوہر نے غصے سے کہا
دو نہیں تین۔ ساتھ ہماری بیٹی کا بھی کیا ہے۔
وہ غصے سے کمرے میں چلا گیا اور سگریٹ پینے لگا ۔
رمشا کی خالہ جانتی تھی کہ وہ زیادہ دیر ان کی برائی نہیں سن سکتا اس کا موڈ آف ہو جاتا ہے پھر کافی سگریٹ پیتا ہے اور خاموش رہتا ہے۔ پھر اسے فکر لگ جاتی تھی کہ وہ دن اسکا موڈ آف ہی گزرتا تھا اور کہیں جانا ہو تو وہ نہیں جاتا تھا، چپ کر کے سو جاتا تھا۔ اس لیے اب اس کی خالہ نے برائیاں کم کر دی تھیں۔
ماں اسے سمجھاتی کہ اس کو غصہ دلانے والی باتیں اس سے نہ کیا کرو۔ اس سے اپنا ہی نقصان کرتی ہو۔ عقلمند عورت ایک منٹ بھی اپنے شوہر کو ناراض نہیں رہنے دیتی۔ تب اس نے عقل پکڑی اور ماں کی باتوں کا اثر لیا اور اس نے جٹھنانی سے بظاہر تعلقات اچھے کرلیے۔ وہ دونوں بہت خوش ہوئے اور پہلے سے بھی زیادہ اس سے پیار اور عزت دینے لگے۔
رمشا کی خالہ نے محسوس کیا کہ کسی کے ساتھ اچھے تعلقات رکھنے سے وقت بھی اچھا کٹ جاتا ہے اور مزہ بھی آتا ہے۔ دشمنی اور حسد سے سوائے ذہنی ازیت کے کچھ حاصل نہیں ہوتا اور دوزخ الگ سے حصے میں آتی ہے۔ اس کے بچے بھی جتنے تایا تائی کے گھر جا کر خوش ہوتے تھے، اتنے رمشا کی ماما کے گھر اور ننھیال میں جا کر خوش نہیں ہوتے تھے۔ رمشا کی جٹھانی نے شادی کے دن جو اسے کمرہ دیا تھا وہ کمرہ ابھی تک صرف ان کیلئے ہی مختص تھا۔ وہ اکثر وہاں جاتے دیر ہو جاتے تو وہ لوگ انہیں رکنے کے لیے اصرار کرتے۔ اب تو ان کے بچے بھی ان لوگوں کے آتے ہی پہلے ہی کہہ دیتے کہ آج آپ لوگوں نے ادھر ہی رہنا ہے۔
رمشا کی خالہ اپنی بیٹی کے رشتے کیلئے پریشان تھی۔ کیونکہ اس کی عمر کافی ہوتی جا رہی تھی۔ جبکہ اس کی جٹھانی کے دونوں بچے امیر گھرانے میں بیاہے گئے تھے۔
اب رمشا کی خالہ کی بھی شدید خواہش تھی کہ وہ جٹھانی کے بچوں کی طرح اپنے بچے بھی امیر گھرانے میں بیاہے۔ اسکا شوہر اس کو سمجھاتا رہتا تھا کہ بہت سے اچھے رشتے تم امیری کے لالچ میں ہاتھ سے گنوا چکی ہو۔ تھوڑا وقت اور گزرا تو ایسے رشتے بھی نہیں ملنے۔ اس نے رشتے والی عورت کی جان کھائی ہوئی تھی۔ ایک دن وہ رشتے والی پر برس پڑی
تمہارے پاس میری بیٹی کیلئے کوئی امیر کبیر رشتہ نہیں ہے۔ تم آخر امیر گھروں کے رشتے کیوں نہیں لاتی۔ میں تمہیں کتنا ہی دیتی دلاتی رہتی ہوں پھر بھی جب دیکھو غریبوں والے رشتے اٹھا کر لے آتی ہو۔
رشتے والی عورت کو شدید غصہ آیا ۔وہ اس کو چلا کر بولی،
تم اپنی اوقات میں رہو۔ اپنے گریبان میں جھانکو۔ تم کیا مجھے دیتی دلاتی ہو، آٹے میں نمک۔ تم پہلے اپنا گھربار دیکھو اپنی حیثیت دیکھو پھر مجھ سے ایسی بات کرنا۔ کیا کوٹھیوں والے اندھے ہیں جو اس گندے محلے میں جہاں جگہ جگہ کوڑے کے ڈھیر لگے ہوتے ہیں اور ان تنگ گلیوں میں وہ آنے کی زحمت کریں گے۔ امیر لوگوں کو ویسے بھی ہم جیسے رشتے کروانے والوں کی ضرورت نہیں ہوتی۔ ان کے گھرانے پر لوگوں کی پہلے ہی نظر ہوتی ہے۔ ہمارے جیسے لوگوں کو تم جیسے گلی محلے میں رہنے والوں کو ضرورت ہوتی ہے۔ سوسائٹی میں رہنے والوں کو نہیں۔ اگر کھبی ان کو ضرورت پڑے بھی تو وہ لاکھوں روپے آرام سے دے دیتے ہیں۔ تمہاری طرح چند ہزار دے کر واویلا نہیں مچاتے۔
رمشا کی خالہ سکتے کے عالم میں اس کو دیکھنے لگی جس نے اسے اس کی اوقات یاد دلا دی تھی۔ اس کی بیٹی رونے لگی اور روتے ہوئے بولی،
آنٹی میں نے کھبی اپنی حیثیت سے بڑھ کر اونچے خواب نہیں دیکھے۔ میں خوابوں میں نہیں حقیقت کی دنیا میں رہتی ہوں ۔ میرے آخری سانس تک بھی میرے لیے کوئی ایسا رشتہ نہیں آنے والا۔
یہ کہہ کر وہ روتی ہوئی کمرے میں چلی گئی ۔
رشتے والی بھی اٹھ کر باہر نکل گئی۔ رمشا کے خالو نے پہلی بار بیوی پر شدید غصہ کیا۔ اورکہا،
تم اپنی اوقات میں رہو۔ جھونپڑی میں رہ کر محلوں کے خواب مت دیکھو۔ جو کچھ ملا ہے اسی پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرو۔ انسان کو اللہ پاک جس حال میں بھی رکھیں اسکا شکر ادا کرنا چاہیے۔ تب ہی وہ اور نوازتا ہے۔ اگرناشکری کرو تو بعض اوقات دیا ہوا بھی واپس لے لیتا ہے۔ اپنے سے نیچے والے لوگوں کو دیکھو۔ لوگ اس مہنگائی کے دور میں کس قدر پریشان ہیں۔ کچھ تو پیٹ بھر کر کھانا بھی نہیں کھا سکتے۔ تم آرام سے سارا دن گھر میں آرام کرتی رہتی ہو۔ بیٹی کے سر پر سارا گھر کا بوجھ ڈالا ہوا ہے۔ آگے بھی جا کر اس نے یہی کچھ کرنا ہے۔ کیا یہ میکے کی یادیں لیکر جائے گی۔ شاید تم امیر رشتے کی آڑ میں بیٹی کی خدمت سے ہاتھ دھونا نہیں چاہتی۔ بھلے اس کی عمر گزرتی جائے۔ تمہیں اس گھر میں کس چیز کی کمی ہے۔ بنیادی ضروریات کی ہر چیز ہمارے گھر موجود ہے۔ گھر بھی اپنا ہے۔ اب تو بچہ بھی اچھا پڑھ لکھ کر اچھی جاب پر لگ گیا ہے اور گھر میں بہتری آ رہی ہے۔ تم تو اپنی بھانجی رمشا لانا چاہتی تھی نا۔ مگر تمہاری بہن نے امیر رشتہ دیکھ کر جھٹ سے ادھر رشتہ دے دیا۔ تم آس لگائے بیٹھی رہ گئی۔
رمشا کی خالہ جھٹ سے صفائی دیتے ہوئے بولی
ابھی دیا نہیں دیکھ سن رہے ہیں۔ رمشا کی ماں نے مجھے تسلی دی ہے کہ میں پوری کوشش کروں گی کہ رشتہ تمہیں دوں۔ شوہر کے آگے میں مجبور تو ہوں مگر ہمت نہیں ہاروں گی۔ مجھے بھانجے سے بڑھ کر کوئی نہیں ہے۔
رمشا کے خالو بولے،
بس بس رہنے دو،بہن نے جھوٹی تسلیاں دے دیں۔ کچھ دنوں بعد شادی کا کارڈ بھی آ جائے گا۔ اب بیٹی کے رشتے کیلئے میں خود اپنی حیثیت کے مطابق مناسب رشتہ دیکھ کر فوراً شادی کر دوں گا۔ اس کا جہیز تو تم اس کے بچپن سے بنا رہی ہو۔ نہ جانے کیا کوڑھ کباڑھ جمع کر رکھا ہے۔ زیادہ سی فضول چیزیں دینے سے عزت نہیں ہوتی۔ کم دو مگر اچھی اور کام کی دو۔ جاؤ اب تم خود میرے لیے چائے بنا کر لاؤ بیٹی کو آرڈر نہ کر دینا۔ ۔سر میں درد کروا دیا ہے ۔
وہ مرے مرے قدموں سے اٹھی اور چاے بنانے لگی۔ آج تو بیٹی بھی پیچھے نہ آئی۔ ورنہ وہ کچن میں قدم رکھتی تو بیٹی بھاگتی آ جاتی تھی ماما لائیں میں کر دیتی ہوں کیا کرنا ہے۔
آنسو اس کے رک نہیں رہے تھے۔ آج شوہر اور رشتے والی نے اسے آئینہ دیکھایا تھا۔ بار بار اس کے 👂 کانوں میں ایک ہی آواز گونج رہی تھی ‘تم اپنی اوقات میں رہو’۔ کاش اس نے اپنے گریبان میں پہلے ہی جھانک لیا ہوتا۔ اس نے بھی تو امیر گھرانے خواب دیکھے تھے مگر نتیجہ کیا نکلا۔ بہت کم لاکھوں میں کسی غریب لڑکی کے نصیب میں امیر گھرانہ ہوتا ہے۔ پھر اسے دیکھ کر باقی لڑکیاں بھی اس کے خواب دیکھنے لگ جاتی ہیں۔ مگر خواب خواب ہی رہتے ہیں ۔ کچھ غریب لڑکیوں کو اپنی خوبصورتی پر ناز ہوتا ہے مگر ہوتا کچھ نہیں اور جب کھبی وہ کسی کم صورت والی امیر لڑکی کو دیکھتی ہیں تو حیران ہونے کے ساتھ انہیں غصہ بھی آتا ہے۔ مگر قسمت کو کون بدل سکتا ہے۔ والدین جو اپنی بیٹیوں کو ہماری شہزادی وغیرہ پکارتے رہتے ہیں تو وہ سچ مچ اپنے آپ کو شہزادیاں ہی سمجھ لیتی ہیں۔ کچھ تو والدین بھی اپنی خوبصورت بیٹی کے لیے کسی شہزادے کے خواب دیکھنے لگتے ہیں کہ یہ تو کسی محل کی محارانی بننے کے قابل ہے۔ مگر کسی محل سے کوئی شہزادہ نہیں آتا۔ تھک ہار کر انہیں اپنی شہزادی کو اپنے جیسے لوگوں میں ہی بیاہنا پڑتا ہے۔
رمشا کی خالو نے ایک جاننے والے کے توسط سے بیٹی کا مناسب رشتہ ڈھونڈ کر ہاں کہہ دی۔ اب شادی کی تیاریاں ہونے لگیں۔ خالہ کو بھی اس رشتے پر کوئی اعتراض نہ تھا کیونکہ وہ لڑکا اکیلا گھر میں رہتا تھا۔ بیوی فوت ہو چکی تھی اور بچہ بھی کوئی نہ تھا۔ والدین بھی حیات نہ تھے۔ وہ تھا بھی اکلوتا۔ سسرال کا جھنجھث نہ تھا۔ خالہ کو بھی اس کے شادی شدہ ہونے پر کوئی اعتراض نہ ہوا۔ شادی ہو گئی اور وہ اپنے شوہر کے ساتھ خوش تھی۔
رمشا کی خالہ کو بہن پر بہت غصہ آ رہا تھا، جس نے اسے ہمیشہ یہی کہا کہ رمشا تمہاری بیٹی ہے اور اب دولت دیکھ کر اپنا وعدہ بھول کر سارا ملبہ شوہر پر ڈال کر خود حیلے بہانے بنا رہی تھی۔ حالانکہ وہ شوہر کے ساتھ ان کے گھر سے بھی ہو آئی تھی۔ رمشا کا خالو اسے بہت سمجھایا کرتا تھا کہ زیادہ آس نہ رکھو۔ وقت آنے پر نہ جانے کیا حالات ہوں۔ کیا پتا قسمت لکھی بھی ہے کہ نہیں۔ اس کی جٹھانی بھی دبے لفظوں میں اسے سمجھانے کی کوشش کرتی مگر وہ اس کی بات کا برا مناتے ہوئے کہتی، میری بھانجی سے آگے مجھے کوئی نہیں ہے۔ میری بھانجی مجھ سے پیار کرتی ہے جان چھڑکتی ہے۔ تو مجھے فائدہ ہے نا کہ ایسی بہو ملے گی جو بیٹی سے بڑھ کر ہو گی تو میری زندگی سکھی گزرے گی۔ وہ بھی خوش رہے گی اور میں بھی خوش۔
رمشا کی ماں آج بہن کو فون پر رو رو کر بتا رہی تھی
وہ لوگ جھوٹے نکلے کہہ رہے تھے کہ بیٹا ملک سے باہر گیا ہوا ہے۔ مگر انکا بیٹا تو ابنارمل تھا، ہکلاتا بھی تھا اور بچوں جیسا اسکا دماغ تھا۔ وہ انکے باس کا بیٹا تھا۔ جب باس نے انہیں اپنے بیٹے کیلئے رشتے کی آفر کی اور پرموشن کا لالچ بھی دیا تو ہم لوگ اس کی باتوں میں آکر رشتے کیلئے سیریس ہو گئے۔ مجھے معاف کر دو۔ میں بھی بیٹی کے لیے لالچ میں آ گئی تھی۔
رمشا کی خالہ نے بہانہ کر کے فون بند کر دیا۔ اور شوہر سے بولی،
اب اوقات میں آئی ہے نا میری بہن۔ بڑے گھرانے میں بیاہنے چلی تھی۔ میں بھی اب آسانی سے نہیں مانوں گی۔ دیکھنا کیسے ایڑیاں رگڑوائوں گی۔
شوہر نے سمجھایا،
ایسا مت سوچو۔ اگر تمہاری بیٹی کا کوئی امیر گھرانے سے رشتہ آتا تو تم بھی ایک منٹ دیر نہ کرتی سب بہن بھائی بھولے ہوتے۔ بیٹیوں والے مجبور ہوتے ہیں۔ اپنے جگر کے ٹکڑے کیلئے اچھے سے اچھا رشتہ چاہتے ہیں۔ ہم بھی تو بیٹی کے رشتے کے لیے کتنے مجبور تھے اور اسکا بہت اچھا رشتہ ہی چاہتے تھے۔ سب بھول گئی ہو تم۔
میں کچھ نہیں جانتی ،رشتہ تو میں بھانجی کا ہی کروں گی وہ بھی زرا ان کو تڑپا کر، جیسے انہوں نے مجھے تڑپایا ہے۔
رمشا کے والدین بہت پریشان تھے۔ اس رشتے کو انکار بھجوا دیا تھا۔ باس بہت پریشان ہوا تھا اور کافی منتیں بھی اس نے کی تھیں۔ مگر رمشا کے باپ نے کہا
وہ جان بوجھ کر اپنی بیٹی کو دلدل میں نہیں گھسیٹ سکتا۔
گھر آ کر انہوں نے بیوی کو سب بتا دیا کہ کیسے باس ان کے آگے گڑگڑا رہا تھا۔
رمشا سوچنے لگی کہ کیا اتنی دولت ہونے کے باوجود بھی ایک باپ بھی اپنے بیٹے کیلئے اتنا مجبور ہو سکتا ہے کہ کہ اپنے ہی ورکر کے آگے گڑگڑا رہا تھا۔ اس کا باپ تو اس کے آفس میں ایک کلرک تھا۔
رمشا کے باپ نے بیوی سے کہا
میں کل نوکری چھوڑ دوں گا۔ میرا بیٹا اب کمانے لگا ہے مجھے اب اس کی نوکری کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔
بیوی نے بھی ہاں میں ہاں ملائی اور شوہر سے بولی،
میں نے رمشا کی خالہ کو فون کر کے سب بتا دیا ہے اور اسے کہہ دیا ہے کہ وہ اسے ہی رشتہ دے گی۔
رمشا کے باپ نے کہا
اچھا کیا، کیا کہہ رہی تھی رمشا کی خالہ کب آئے گی رشتہ پکا کرنے۔ اب میں جلد رمشا کی شادی کر کے اس کے فرض سے فارغ ہونا چاہتا ہوں ۔
رمشا کی ماں نے گہری سانس بھرتے ہوئے کہا
میری بہن نے کوئی جواب نہ دیا اور بہانے سے فون بند کر دیا۔ لگتا ہے اب وہ بھی منتیں کروا کر ہی رشتہ لے گی۔ کیا کروں بیٹی کی خاطر کرنی پڑیں گی اور کوئی چارہ بھی تو نہیں ہے۔
رمشا کے باپ نے بھی افسردگی سے جواب دیا
ٹھیک کہہ رہی ہو اب تو آسانی سے ماننے والی نہیں۔ جو کرنا پڑا کریں گے۔
رمشا کو یہ سنکر بہت دکھ ہوا کہ اس کے والدین بھی باس کی طرح کتنے مجبور ہیں۔
خالہ گھر آئی۔ رمشا کی ماں کو کافی باتیں سنائیں اور پھر احسان جتانے والے انداز میں کہا
ٹھیک ہے وہ رشتہ کر کے گی۔ ظاہر ہے کدھر دو گی تم۔ آج کل میرے بیٹے جیسے رشتے تو قسمت سے ملتے ہیں۔ میرا بیٹا پڑھا لکھا ہے خوبصورت ہے۔ اچھی نوکری کر رہا ہے۔ ایسا رشتہ ملنا تو خوش قسمتی ہے۔
رمشا نے آ کر سلام کیا تو خالہ نے نہ اس کو پہلے کی طرح گلے لگا کر پیار کیا نہ فالتو بات کی۔ جواب بھی مختصر دیا۔
رمشا کو خالہ کے رویے سے بہت دکھ پہنچا۔
خالہ جتنی دیر بیٹھی رہی اس رشتے کے حوالے سے طنز کے تیر چلاتی رہی۔
رمشا کا بھائی گھر آیا اور کھانے کا پوچھا تو اس کے باپ نے اسے خالہ کے بارے میں ساری بات بتائی اور کہا
گھر میں اداسی چھائی ہوئی تھی اس لیے میں نے بیگم کو کھانا بنانے سے منع کر دیا اور کہا کہ آج باہر سے کھانا منگوا لینا۔
رمشا کا بھائی بولا،
باہر سےمنگوانے کی کیا ضرورت ہے۔ ہم سب آج باہر چل کر ہی کھانا کھاتے ہیں۔ آپ لوگوں کو خوشخبری سنانی تھی کہ میری پرموشن ہو گئی ہے۔
وہ آج انہیں ایک مہنگے ریسٹورنٹ لے گیا ماں نے سمجھانے کی کوشش کی کہ کیوں اتنا خرچہ کرنے پر تلے ہوئے ہو۔ ابھی تمہاری شادی بھی کرنی ہے تو وہ حسب معمول بولا
ماما آپ کو سو بار بتا چکا ہوں جب تک رمشا کی شادی نہ ہو جائے میری شادی کا ذکر تک نہ کیا کریں۔ مجھے ہر وقت لڑکیاں دیکھاتی رہتی ہیں۔ بہن کا فرض ادا ہو جائے پھر میں سرخرو ہو کر شادی کروں گا۔
اچانک سامنے ٹیبل پر نظر پڑی تو باس اپنی فیملی کے ساتھ ادھر بیٹھا ہوا تھا۔
رمشا کا بھائی بولا،
پاپا ہمیں ان کو اخلاقی طور پر ملنا چاہیے، آپ ان کے ابھی ملازم ہیں۔
وہ اٹھا اور جاکر باس سے بڑے احترام سے ملا۔ وہ خوش ہو گیا۔ پیچھے باپ بھی چلا گیا۔ رمشا اور اس کی ماں بھی اٹھ کر پیچھے چلے گئے۔ باس کی بیوی رمشا کو دیکھ کر خوشی سے گلے ملی۔ اس کی ماں سے بھی ملی اور ان لوگوں کو ادھر ساتھ کھانا کھانے کی آفر کی۔
رمشا کے بھائی نے کہا،
سر آپ لوگوں کو ہم اپنی طرف سے ڈنر کروانا چاہتے ہیں اگر آپ کو قبول ہو تو۔
رمشا کی ماں نے بیٹے گھورتے ہوئے منع کرنے کی کوشش کی مگر وہ ماں کے اشارے کو نظر انداز کرتا ہوا بیٹھ گیا۔
باس نے دکھ بھرے لہجے میں کہا
ہم تو ہمیشہ کیلئے ایک دوسرے کے ساتھ ڈنر کرنا چاہتے تھے خیر۔ ہم آپ کا ڈنر ہم اس شرط پر قبول کریں گے کہ آپ لوگ چائے ہمارے ساتھ ہمارے گھر پر پئیں گے۔
رمشا کے بھائی نے کہا
منظور ہے۔
باس کی بیوی رمشا کے کندھے پر پیار سے ہاتھ رکھتے ہوئے بولی
رمشا مجھے بہت پسند آئی تھی۔ میں تو اچھے نصیب کی دعائیں کرتی ہوں۔ جہاں بھی جائے خوش رہے۔
رمشا نے باس کی بیوی کا جواب میں پیار سے ہاتھ پکڑ لیا اور شکریہ کہا۔ وہ مسکرا کر اسے دیکھنے لگی۔ اتفاق سے رمشا کو باس کے بیٹے کے ساتھ والی کرسی ملی۔ باس کا بیٹا بلکل بچوں والی حرکتیں کر رہا تھا۔ وہ کھانے پینے کا شوقین لگتا تھا۔ وہ جو بھی چیز مانگتا رمشا اس کو فوراً دے دیتی۔ وہ خوش ہو کر مسکرا کر اسے دیکھ کر کہتا،
تم بہت اچھی ہو۔ میرے گھر چلو گی تمہیں میں اپنا گٹار 🎸 دیکھاؤں گا۔
اس سے باتیں کرنے لگا ۔ رمشا مسکرا کر اس کی ہر بات کا جواب دیتی۔ اس نے اس کی طرف ہاتھ ملانے کا کہا
اب ہم دوست ہیں۔
رمشا نے بھی اقرار میں گردن ہلا کر ہاتھ ملا لیا۔ جب رمشا نے اس کے گھر جانے کی حامی بھری تو وہ خوشی سے تالیاں بجانے لگا اور سب کو بتانے لگا
میری دوست میرے گھر گٹار 🎸 دیکھنے جائے گی۔
رمشا کی ماں رمشا کو مسلسل غصے سے دیکھتی رہی۔ مگر رمشا ان کی طرف سے انجان بنی رہی اور کھانے پینے کی چیزیں اسے ڈال کر دیتی رہی۔ باس کے بیٹے نے اسے اچانک کہا
دوست تم بھی کھاؤ تم تھوڑا کھاتی ہو۔
رمشا خوشی سے بولی
تم مجھے ڈال کر دو گے تو میں کھاؤں گی۔
اس نے ایک بڑی ڈش لیکر سب کچھ ڈالنا شروع کردیا اور ڈش بھر دی۔ رمشا اسے کھانے لگی۔ سب کھانا کھا چکے تھے۔ ویٹر کو رمشا نے کہا
اسے پیک کر دے۔
میں گھر جا کر کھاؤں گی۔ اس نے بہت خلوص سے بھرا ہے۔
باس اور اس کی بیگم حیرت سے رمشا کی طرف دیکھنے لگے۔ جبکہ رمشا کی ماں بالکل خاموش بیٹھی رہی اور شکل بھی بنائے رکھی۔ مگر باس یا اس کی بیوی نے پھر بھی مسکرا کر رمشا سے خوشی سے باتیں کیں اور ایک سرد آہ بھر کر دکھ بھرے لہجے میں بولی، رمشا جس گھر میں بیاہ کر جائے گی وہ بہت خوش قسمت گھر ہو گا۔
رمشا کی ماں غصے سے کچھ بولنے لگی
اسکا رشتہ اس کی خالہ۔۔۔۔۔۔
ابھی اتنا ہی بولی تھی کہ شوہر نے گھورکراسے خاموش رہنے کا اشارہ کیا۔
رمشا کا باپ کچھ شرمندہ سا باس کے سامنے بیٹھا ہوا تھا۔ جبکہ اسکا بیٹا بہت اعتماد اور اچھے رویے سے باس سے باتیں کر رہا تھا۔ باس اس کی تعلیم اور جاب کے بارے میں پوچھنے لگا اور اس کی باتوں سے کافی متاثر ہوا۔ پھر باس نے اسے اپنے آفس میں آ کر ملنے کا کہا اور اپنا وزیٹنگ کارڈ اسے پکڑایا۔ رمشا کے بھائی نے ان کا کارڈ لیتے ہوئے شکریہ کہا اور آنے کا وعدہ کیا۔
جب بل دینے کی باری آئی تو رمشا کے بھائی نے باہر جا کر چپکے سے بل ادا کردیا۔ جب باس نے ویٹر کو بل لانے کا بولا تو وہ بولا
سر آپ کا بل ان صاحب نے کاونٹر پر جا کر ادا کردیا ہے۔
باس کے چہرے پر مسکان پھیل گئی وہ ہلکی سی لرزش والے انداز میں بولا،
برخوردار تم نے تو بڑی پھرتی دیکھائی۔ ہمیں بل دینے دیتے تم نے کیوں دیا۔ ہم نے بھی جی بھر کر کھانے کا آرڈر کرتے رہے۔
رمشا کا بھائی بولا،
سر جب میں نے پہلے ہی آفر کر دی تھی کہ بل میں ادا کروں گا تو پھر مجھے ہی کرنا تھا۔
باس نے سر ہلا کر خوشی سے مسکراتے ہوئے کہا
بڑے چھپے رستم ہو بل چپکے سے ادا بھی کر آئے اور پتا بھی نہ چلنے دیا۔
رمشا کا بھائی مسکرا کرنیچے دیکھنے لگا۔
باس نے اٹھتے ہوئے کہا
اب وعدے کے مطابق آپ سب لوگوں کو ہمارے گھر چائے پینے کیلئے چلنا ہے۔
رمشا کی ماں کچھ بولنے لگی مگر اس کے شوہر نے کہا
جی سر ضرور چلیں گے۔
رمشا کے بھائی نے کہا
سر آپ لوگ بھی پھر ہمارے گھر چائے پر آئیے گا۔ میری بہن چکن 🐔 رول اور دہی بھلے بہت مزے کے بناتی ہے۔
باس کی بیوی بولی
سچ پوچھیں تو رمشا میرے دل ❤️ کو پہلی نظر میں ہی بھا گئی تھی اور ساری بات نصیب کی بھی ہوتی ہے ۔ ہم رمشا کی شادی میں بھی شرکت کریں گے اگر آپ لوگوں نے بلایا تو۔ باس نے کہا
بالکل درست کہا میری بیگم نے۔ میں تو رمشا بیٹی کے بھائی سے بھی بہت متاثر ہوا ہوں۔
رمشا کا بھائی زرا دھیمی آواز میں بولا
سر ہم ہمیشہ آپ لوگوں سے ملنے جلنے میں خوشی محسوس کریں گے ۔
باس نے محبت سے مسکراتے ہوئے اسکا کندھا تھپکایا اور مسکرا کر انہیں پارکنگ کی طرف آنے کا اشارہ کرنے لگا۔
جب گاڑی میں بیٹھنے لگے تو باس کا بیٹا ضد کرنے لگا کہ میری دوست میری گاڑی میں بیٹھے گی۔
اچانک رمشا کے باپ کو فون آیا کہ پھپھو گھر کے باہر دروازے پر کھڑی ہیں۔
رمشا کے باپ نے معزرت کی تو باس نے کہا
کوئی بات نہیں چائے ادھار رہی پھر کھبی سہی۔
باس کا بیٹا رمشا کو جانے نہ دے۔ ضد کرنے لگا کہ وہ ہمارے 🏡 چلے۔
رمشا نے اس کو تسلی دیتے ہوئے کہا کہ وہ بعد میں آئے گی ابھی گھر میں پھپھو آئی ہیں۔
وہ اداسی سے بولا
وعدہ ضرور آؤ گی۔ پھر میں گھر واپس جانے نہیں دوں گا۔ وعدہ کرو کہ واپس نہیں جاؤ گی۔
رمشا نے کہا
وعدہ واپس نہیں جاؤں گی تب اس نے جانے دیا ۔
گھر جلدی سے پہنچے اور پھپھو سے معزرت کی ۔ رمشا کی ماں نے ناگواری بھرے لہجے میں نند کو ساری بات بتا دی ۔
وہ تنک کر بولی
توبہ ہے کیسے اپنے پاگل بیٹے کے لیے دوبارہ جال پھینک رہے ہیں۔ جب ایک دفعہ انکار کر دیا تو اب جان چھوڑو۔
تو اور کیا
رمشا کی ماں نے منہ بنا کر جواب دیا۔
دو دن پھپھو رہی مگر رمشا کی ماں اور پھپھو باس کی برائیاں ہی کرتی رہیں ۔
پھپھو نے مشورہ دیا
رمشا کی خالہ سے بولو، مٹھائی لیکر آئے چھوٹی سی رسم ہی کر دیں ۔ مجھ سے بھی بار بار گھر چھوڑ کر آیا نہیں جاتا۔
رمشا کی ماں نے رمشا کی خالہ کو جب فون کر کے پھپھو کا پیغام دیا تو خالہ بولی
ابھی تو میں نہیں آ سکتی مصروف ہوں
یہ کہہ کر فون بند کر دیا ۔
رمشا کی ماں حیران بیٹھی رہ گئی۔ پھپھو نے قیاس آرائیاں کیں کہ لگتا ہے اسے اپنے بیٹے کیلئے کوئی اور رشتہ مل گیا ہے۔ کوئی بات نہیں ہماری رمشا کیلے کونسی رشتوں کی کمی ہے۔
رمشا کی ماں سوچ میں ڈوبی کھوئی کھوئی سی بولی،
رشتوں کی ہی تو کمی ہے، آجکل کی لڑکیوں کو اچھے رشتے کہاں ملتے ہیں ۔ لڑکوں نے پڑھنا چھوڑ دیا ہے اور لڑکیاں پڑھ رہی ہیں۔ اس رشتے کے علاؤہ خاندان بھر سے کوئی رشتہ نہیں آیا۔ سب یہی سمجھتے ہیں کہ خالہ نے رشتہ کر لیا ہے۔ اس نے جو خاندان بھر میں مشہور کیا ہوا تھا کہ رمشا کا رشتہ وہ کرے گی۔
رمشا نے اپنی ماں کو اپنی شادی کا فیصلہ سنا دیا۔ ماں نے اسے لعن طعن کرنا شروع کردیا۔ سب اس کے فیصلے سے حیران تھے۔ اس نے نیند کی گولیاں کھا لیں۔ جلدی سے اسے ہسپتال لے گئے اور باس کی فیملی کو بھی اس کے فیصلے سے آگاہ کر دیا۔ وہ بہت حیران اور خوش ہوئے کہ ان کے ابنارمل بیٹے کیلئے وہ اتنی سنجیدہ ہو گئی کہ اس نے نیند کی گولیاں کھا لیں۔ اس نے ہاسپٹل میں ہی نکاح کرنے کی ضد کی ۔
اس کا نکاح ہاسپٹل میں ہوگیا۔ اسے گھر لایا گیا۔ باس کی فیملی بہت خوش تھی۔
رمشا کو حیرت ہوئی کہ خلاف توقع اس کے اپنے گھر والے بھی کافی خوش نظر آ رہے تھے۔ خالہ دوڑتی چلی آئی۔ اتفاق سے باس کی فیملی بھی اس کی شادی کی تاریخ لینے اور کپڑوں کا ناپ لینے آئے ہوئے تھے ۔
خالہ نے رونا 😭 پیٹنا شروع کر دیا
یہ خودکشی ہے۔ یہ بچپن سے میرے بیٹے کی مانگ تھی۔ اسے طلاق کے کاغذات پر سائن کرا کر میرے بیٹے کے ساتھ شادی کرو۔
وہ اس کے والدین سے بولی،
تم سب کو کیا ہو گیا ہے ۔ بیٹی کی بےجا ضد مان لی۔ ارے وہ تو بچی ہے۔
مگر اس کی کسی نے نہ سنی ۔
رمشا کی پھپھو کی بیٹی اسے سمجھاتے ہوئے بولی
رمشا تم ابھی صرف اس سے ہمدردی محسوس کر کے اپنی زندگی برباد کر رہی ہو۔ پاگل نہ بنو۔ خالہ کی بات مان لو۔ اس سے اچھا تھا کہ وہ اپنے دوسرے بیٹے کے ساتھ تمہاری شادی کر دیتے جو کافی ہینڈسم بھی ہے اور پڑھا لکھا بھی۔ مگر اس کے لیے تو وہ کوئی امیر گھرانے کی لڑکی بیاہ کر لگائیں گے۔ ہم جیسے متوسط طبقے کے گھرانے سے وہ اپنے پاگل بیٹے کو بیاہنے ہی آتے ہیں۔ ساری زندگی تم اس پاگل کے ساتھ کیسے گزارو گی۔ مرتے مرتے بچی ہو ۔وہ بھی اس پاگل کیلئے۔
رمشا روتے ہوئے بولی،
تم سچ کہہ رہی ہو میں جزباتی ہو گئی تھی۔ مجھے خالہ کے رویے پر دکھ ہو رہا تھا جو ماں کو ذلیل کر رہی تھیں۔ بس تم میرے لیے دعا کرو کہ میں اس رشتے کو نبھا سکوں۔ اب جو بھی ہو میں پیچھے ہٹنے والی نہیں۔ مجھے نہیں پتا کہ انکا کوئی اور بیٹا بھی ہے۔ میری نظر اس پر پڑی تھی۔ وہ جانے ان کی مرضی جس سے مرضی کریں اپنے نارمل بیٹے کی شادی۔
رمشا کی کزن نے بتایا کہ وہ باہر ملک سے چند دن پہلے آیا تھا۔ وہ بتا رہے تھے کہ وہ لیٹ ہوٹل 🏨 پہنچا تھا اور دور بیٹھا اکیلا ڈنر کرتا رہا۔ سب کی نظروں سے اوجھل تھا۔ اب وہ ادھر ملنے چلا آیا ہے۔ شاید بھائی کی شادی کے سلسلے میں آیا ہو۔
رمشا بہت پریشان تھی۔ وہ تو گھر بھر کی لاڈلی تھی۔ سب سے لیٹ اٹھتی تھی۔ سب ملکر اسے جگاتے تھے۔ پھر ماں اسے نیم گرم پانی پلاتی تھی۔ اسے تو کوئی کام کرنا بھی اچھا نہ لگتا تھا۔ اس پر کوزمہ داری نہ تھی۔
اس نے اب ایک ابنارمل شخص کی ہر وقت دیکھ بھال کرنی تھی۔ وہ صبح سویرے ہی جاگ جاتا تھا۔ کھانے پینے کا شوقین تھا۔ ہر وقت فرمائشیں کرتا رہتا۔ گھر والے اس کی ہر فرمائش پوری کرتے۔ وہ گھر بھر کا لاڈلا تھا۔ وہ رونے لگی اور اللہ تعالیٰ سے دعاء کرنے لگی کہ اسے سرخرو رکھنا اور اپنی ذمہ داری کو نبھانے کی توفیق دینا۔ اس نے تو یک نیتی سے اسے اپنایا تھا ۔
باس کی بیوی بضد تھی کہ نکاح ہوچکا ہے اب وہ اسے اپنے گھر لے جانا چاہتے ہیں۔ گھر والے پریشان تھے کہ وہ کیسے اتنی جلدی رخصت کر دیں۔
رمشا نے سوچا جب کل بھی جانا ہے تو آج ہی چلی جاتی ہوں تاکہ والدین اس پریشانی سے نکل سکیں۔ اس نے رخصت ہونے کی حامی بھر لی۔ باس کی بیوی کہہ رہی تھی کہ ہم لوگ سادگی کے قائل ہیں۔ بےشک اللہ تعالیٰ نے ہمیں اتنا دیا ہے کہ ہم شہر کے سب سے مہنگے 🏨 ہوٹل میں شادی کر سکتے ہیں۔ مگر ہم وہی پیسہ غریبوں کی مدد کرنے پر خرچ کرنے کے حامی ہیں۔ ابھی بھی ہم شہر کے تمام یتیم خانوں میں کھانے بھجوا چکے ہیں۔ اس سے ہماری شادی میں برکت بھی ہو گی اور آخرت بھی سنورے گی۔ وہ ایک خوبصورت جوڑا لیکر آئے تھے اور ایک زیور کا سیٹ۔ وہ کہہ رہے تھے ہم گھر میں ہی ولیمہ کریں گے اور آپ کے تمام رشتے داروں کو مدعو کریں گے۔ ابھی ہماری بہو کو ہمارے حوالے کر دیں۔ ہم جہیز لینے کے بھی روادار نہیں ہیں۔
پھپھو کی بیٹی نے اسے تیار کیا۔ وہ بہت پیاری لگ رہی تھی۔ رمشا کی ماں کے آنسو نہیں رک رہے تھے۔ باپ کی آنکھیں بھی نم ہو رہی تھیں۔ بھائی بھی رویا رویا لگ رہا تھا۔
وہ تیار بیٹھی تھی۔
باس کی بیوی صوفے پر اس کے ساتھ بیٹھ گئی اور بیٹے کو بھی اپنے ساتھ بٹھا لیا۔ اس کی دوسری طرف اسکا باس بیٹھ گیا۔
باس کی بیوی نے گلہ کھنکار کر بات شروع کی۔ اس نے بتایا
ان کا ایک اور بیٹا بھی ہے جو ساتھ بیٹھا ہوا ہے۔ ہم نے رشتے ابنارمل بیٹے کا تم سے رشتہ لیتے وقت اکلوتا اس لیے بتایا تھا کہ تاکہ رشتہ مل سکے اور وہ لوگ یہ نہ کہیں کہ دوسرے بیٹے کیلیے کر لیں۔ اس جھوٹ کیلیئے ہم معزرت خواہ ہیں۔
باس نے بھی معزرت کی اور روتے ہوئے رمشا کے سر پر ہاتھ ✋ رکھ کربولا
بیٹی اس جھوٹ کی ہمیں سزا بھی ملی ہے۔ اسی لیے کہتے ہیں کہ جھوٹ نہیں بولنا چاہیے۔ ہمارے ابنارمل بیٹے کی طبیعت اچانک خراب ہوئی تو اسے ڈاکٹر کے پاس لے گئے۔ سارے ٹیسٹ ہوئے تو پتا چلا کہ اسکو موزی مرض لاحق ہو چکا ہے اور اس کے پاس وقت بہت کم ہے۔ تمہارے ہم بہت مشکور ہیں کہ تم نے سچے دل 💓 سے اسے قبول کیا تھا۔
رمشا یہ سنکر دھاڑیں مار کر رونے لگی۔
باس کی بیوی نے اسے گلے لگا کر روتے ہوئے تسلی دی۔ رمشا روتے ہوئے بولی،
میں بیوہ نہیں ہونا چاہتی۔ میری زندگی بھی اسے لگ جائے۔
سب رونے لگے اور باس کی بیوی نے روتے ہوئے کہا
ہم نے تمہارے ساتھ ایک اور دھوکہ کیا ہے مگر اس میں ہم سب کی نیت مخلص تھی۔ ہم جان چکے تھے کہ ہمارا ابنارمل بیٹا بیمار ہے۔ تم لوگوں کو نہیں بتایا۔ جب تم نے اس سے نکاح کی ضد کی تو ہمارا دوسرا بیٹا یہ نالائق
باس کی بیوی نے اپنے دوسرے بیٹے کی طرف اشارہ کیا
یہ اس دن ہوٹل 🏨 آیا اور چھپ کر ہمیں دیکھتا رہا اور تم پر فدا ہو گیا۔ اس نے ضد کی کہ میری اس سے شادی کروائیں۔ اب ہم اس خوف سے کہ تم لوگ انکار نہ کر دو۔ اسکا نکاح تم سے کروا دیا۔ اب اس نالائق کو تم قبول کرلو۔
ایک نظر اس نے پاس بیٹھے ان کے بیٹے کی طرف دیکھا اور سر جھکا لیا۔
رمشا کو اپنی قسمت پر رشک آ رہا تھا کہ وہ تو اس ابنارمل پر ترس کھا کر اس سے شادی کرنے پر رضامند ہوئی تھی مگر وہ تو اس کی شادی کے ایک ہفتے کے بعد ہی فوت ہو گیا تھا۔ اسکا نارمل شوہر اس پر جان چھڑکتا تھا۔ ساس سسر الگ اس کی قدر کرتے تھے۔ اس کے بچے پر جان چھڑکتے تھے۔ اس کی فیملی مکمل تھی۔ بچے کا بھی ساتھ تھا۔ ساس سسر اس کو ہر وقت کہتے رہتے کہ تم نے ہمارے گھر کو خوشیوں سے بھر دیا ہے۔ وہ اوپر والے کا شکر ادا کرتے نہ تھکتی۔ محل جیسا گھر دولت کی ریل پیل تھی۔ سارا خاندان اس پر رشک کرتا تھا۔ والدین مطمئن تھے۔ خالہ اسے جب بھی ملتی اسے بہت پیار کرتی اور اسے کھونے پر افسوس کرتی اور روتی۔ وہ خالہ کو تسلی دیتی اور کہتی یہ سب قسمت کے کھیل ہیں۔ انسان کچھ سوچتا ہے اور ہوتا کچھ ہے۔
رائٹر عابدہ ذی شیریں ۔
ناول اختتام پذیر ہوا
You've reached the end of this journey. We hope you loved every episode!

Reader Comments
No comments yet. Be the first to share your thoughts!
Log in to leave a comment.