Dil Ka Intekhab ho Tum
5 Episodesدوسرا حصہ - Part 2
عریشہ کو اپنے بارے میں سن کر امیروں سے نفرت ہونے لگی. آیا اور اس کا شوہر اس کی منتیں کرنے لگے کہ وہ صاحب اور بیگم صاحبہ کو مت بتائے.
وہ دیر تک روتی رہی.
وسیم صاحب اپنی فیملی کے ساتھ باہر ڈنر کرنے گئے تھے. وہ اکثر ڈنر پر چلے جاتے. اسے کم ہی پوچھتے.
اگر کھبی لے بھی جاتے تو اسے یہ اجازت نہ ہوتی کہ وہ اپنی پسند سے منگوا سکے. ان کا رویہ دیکھتے ہوئے اس نے ان کے ساتھ جانا ہی چھوڑ دیا. اگر کوئی آ جاتا تو پھر اسے بڑے پیار سے ساتھ لے کر جاتے اور پروٹوکول دیتے. اگر اس کا موڈ نہ بھی ہوتا تو اسے زبردستی لے کر جاتے.
اکیلے میں اسے وارننگ دے کر لے جاتے.
ایک دن اس نے ماں سے سوال کیا،
"کیا وہ ان کی سگی بیٹی ہے"
تو ماں نے ایک زوردار تھپڑ اس کے گال پر مارتے ہوئے کہا
"اپنے شناختی کارڈ پر اپنے باپ کا نام نہیں پڑھا. آئندہ ہم سب سے اس قسم کا سوال مت کرنا."
اس کا شوہر اسے دیکھ کر بولا،
"کس چیز کی کمی کھبی تمہیں دی ہے. اچھا رہن سہن ہے. اعلیٰ تعلیمی اداروں میں تعلیم پائی ہے اور مہنگے لباس زیب تن کرتی ہو. کیا یہ ثبوت کافی نہیں ہے کیا. امید ہے کہ اب دوبارہ تمہارے منہ سے اس قسم کا سوال نہیں نکلے گا."
ان کا بیٹا اس کی طرف دیکھ کر مسکرانے لگا.
وہ لوگ رات کا ڈنر کر رہے تھے.
وہ آنکھوں میں آنسو بھر کر یہ سوال کرتے کرتے رہ گئی کہ پیار کی سب سے بڑی کمی دی ہے مگر ان کے سپاٹ چہرے دیکھ کر ہمت نہ کر سکی.
آیا اماں جس نے اسے اپنی گود میں پالا تھا جگ رکھنے آئی اور کن انکھیوں سے دکھی انداز سے اس کی طرف دیکھ کر چل پڑی.
عریشہ کا جی چاہا کہ وہ آیا اماں کے گلے لگ کر دھاڑیں مار مار کر روئے اور سب سے پوچھے کہ یہ کس قسم کے والدین ہیں. کیا انہوں نے مجھے اغوا کیا ہوا ہے. وہ وجہ نہ جان سکی.
اور اب اس نے ان سے گلہ کرنا ہی چھوڑ دیا.
آج اس پر حقیقت کھلی تو وہ اپنے والدین کے لئے تڑپ گئی. پھر آیا اماں اور ڈرائیور ابا کے لیے لب سی لیے.
کیونکہ وہ بہت ڈر گئے تھے اور اس کی منتیں کر رہے تھے کہ ہمارا نام نہ لینا. اس مہنگائی کے دور میں اب ہم کہاں جا کر رہیں گے. بے اولاد بھی ہیں. ادھر گھر فری ملا ہے. بجلی کا بل وغیرہ نہیں دینا پڑتا. کھانا، کپڑا ان لوگوں کے اترن سے پورا کر لیتے ہیں. ویسے بھی یہ بہت مغرور قسم کے لوگ ہیں. ان کے دل پتھر کے ہیں. ہم لوگ بے بس ہیں ان سے پوری نہیں ڈال سکتے.
اس دن کے بعد سے عریشہ کو امیروں سے نفرت ہونے لگی. اس نے اپنے آپ کو روبوٹ بنا لیا کہ وہ جیسے کہتے ویسے کرتی جاتی.
سنجیدہ اور خاموش ہو کر رہ گئی تھی. بس اپنے اللہ تعالیٰ سے، والدین سے ملاقات کی ہر وقت دعائیں کرتی اور انہیں یاد کر کے روتی رہتی.
وہ سوچتی کہ اس کے والدین کو شاید علم نہ ہو کہ ان کی بیٹی بدل چکی ہے. وہ تو ان کی بیٹی پر اپنی محبت خوب نچھاور کرتے ہوں گے. ایک وہ بد نصیب ہے کہ اتنا کچھ ہونے کے باوجود ایک سجے سجائے کمرے میں سوتی ہے. اس کی الماری قیمتی لباس سے بھری پڑی ہے مگر اسے ان لوگوں سے پیار نہیں ہے. کیونکہ یہ اپنے کتے کو تو بہت پیار سے رکھتے ہیں مگر ملازموں کو جانوروں سے بھی نیچے کا درجہ دیتے ہیں.
آج پھر اکبر بیگ کی فیملی ان کے گھر آ رہی تھی اور ان کا اکھٹے ڈنر پر جانے کا پلان تھا.
مسز وسیم نے اسے اچھا سا تیار ہونے کا حکم دے دیا تھا. انکار کی اس میں جرات نہ تھی. وہ سخت الجھن کا شکار تھی. اس کا جانے کا بلکل موڈ نہ تھا. انکار کی صورت میں اسے مسز وسیم کے عتاب کا نشانہ بننا پڑتا.
اسے اکبر بیگ کے بیٹے بلاول سے نفرت تھی. جو بچپن سے ہی جب وہ اپنے والدین کے ساتھ ان کے گھر آتا تو وسیم صاحب کے بیٹے ایان کے ساتھ ملکر اسے بہت ذلیل کرتا.
دونوں اسے تنگ کر کے خوش ہوتے. اب بھی وہ آتا تو اس پر طنز کے نشتر چبھوتا رہتا. وہ اور ایان اسی کے کالج میں پڑھتے تھے. سب کو یہ معلوم تھا کہ ایان عریشہ کا بھائی ہے.
مگر اکثر اس کی کلاس فیلوز کہتیں یار اس میں بھائی والا جزبہ نظر ہی نہیں آتا. کیا سگا بھائی ہے. لگتا ہے تم سے بہت جیلس رہتا ہے.
وہ اس سے بڑے تھے. وہ اس سے پہلے اس سے تعلیم سے فارغ ہو چکے تھے. تو عریشہ نے سکون کا سانس لیا.
آج وہ لوگ ڈنر پر جا رہے تھے. اس سے پہلے اکبر بیگ کی بھانجی جس کا رشتہ ایان سے ہونے جا رہا تھا وہ لوگ انوائیٹ تھے. گھر میں ان کی آمد کی بہت تیاریاں ہو رہی تھیں کیونکہ آج وسیم صاحب کی بیوی ان سے بیٹے کے رشتے کا ذکر کرنا چاہتی تھی.
بیگ صاحب ان کے پرانے نزنس پارٹنر تھے. پھر ان کے گھر رشتہ ہونا بڑی فائیدے کی بات تھی.
ان کی بھانجی اکلوتی تھی اور وہ ایان پر مر مٹی تھی. ان کی خوب دوستی ہو چکی تھی.
جب وہ لوگ گھر آئے تو مسز وسیم نے جھجکتے ہوئے اپنی من کی بات کہہ دی. بیگ صاحب نے بہن کی طرف دیکھا،
بہن جو پہلے ہی بیٹی کی پسند جان چکی تھی. اور بیٹی کی پسند پر ہی ادھر رشتہ کرنے پر راضی تھی.
اس نے ہاں میں گردن ہلا دی.
ادھر ہی بات پکی اس شرط پر کر دی گئی کہ وہ اپنی بیٹی کا رشتہ بلاول کے لیے دیں گے. وسیم صاحب کی تو دلی تمنا بھر آئی کہ اس بہانے بزنس میں اور فائدہ ملے گا. وہ بہت خوش ہوئے اور ہاں کر دی.
عریشہ نے سنا تو دم بخود رہ گئی. اسے شروع سے ہی بلاول بلکل پسند نہ تھا. مغرور، فلرٹی قسم کا تھا. اس کی کالج میں کئی گرل فرینڈ تھیں. بہت زیادہ سموکنگ کرتا تھا. ملازموں کو ڈانٹ کر ذلیل کرتا رہتا تھا. وہ بچپن میں اسے بھی ستانے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہ دیتا.
وہ روتی ہوئی مسز وسیم کے پاس آ کر شکایت لگاتی
"ماما اس گندے لڑکے نے مجھے دھکا دیا ہے."
اتنے میں ایان اور بلاول آ جاتے، بلاول کہتا،
"موم یہ جھوٹ بہت بولتی ہے. اس کو ایان نے دھکا نہیں دیا."
مسز وسیم ایک زوردار تھپڑ اسے مار کر کہتی،
"میں سب کچھ برداشت کر سکتی ہوں مگر جھوٹ نہیں."
مسز بیگ ہاں میں ہاں ملاتے ہوئے کہتی
"مسز وسیم اگر ابھی اسے punishment نہ دی تو اس کی عادت پختہ ہو جائے گی."
وہ رو رو کر کہتی،
"میں نے نہیں کچھ کیا"
مگر اس کو اور ایک چانٹا پڑتا کہ جھوٹ کیوں بولا ہے.
مسز وسیم بڑے وثوق سے کہتی،
"میرا بالی تو کھبی جھوٹ نہیں بولتا"
عریشہ روتی ہوئی چل پڑتی.
موقع پا کر آیا اماں اسے گلے لگا کر پیار سے چپ کرواتی. اور نصیحت کرتی کہ ان کے پاس شکایت لگانے مت جایا کرو.
ایان اور بلاول باہر آ کر اس کا خوب مزاق اڑاتے. جب وہ لوگ چلے جاتے تو مسز وسیم شوہر کو اس کی شکایت لگا کر کہتی،
"آج اس نے مجھے مسز بیگ کے سامنے بہت شرمندہ کروایا."
وہ اس پر گرجتے اور مسز وسیم اس کی اور پٹائی کرتی. وہ معصوم بچی یہ سمجھنے سے قاصر نظر آتی کہ اس کا جرم کیا ہے.
پھر آیا اماں کے سمجھانے پر اس نے شکایت لگانی چھوڑ دی.
آیا اماں نے سمجھایا کہ تم جدھر وہ دونوں موجود ہوں ادھر سے ہٹ جایا کرو. مگر پھر بھی بلاول اسے ڈھونڈ ہی لیتا اور تنگ کرتا.
جب وہ بڑی ہوئی تو کالج میں فرینڈز اپنے بھائیوں کی پیار کی باتیں شیئر کرتیں تو وہ حیران ہوتی کہ اس کی سالگرہ بڑے دھوم دھام سے مناتے اور بڑے بڑے بزنس مین لوگوں کو بلاتے. اسے سب قیمتی تحفے دیتے. مگر بھائی نے کھبی کچھ نہیں دیا.
باپ نے دکھاوے کے لیے اسے مہنگی گاڑی گفٹ کی، اسے بہت خوشی ملی، مگر سب کے جاتے ہی اس سے چابی لے کر بلاول کے حوالے کر دی اور اس کی پرانی گاڑی اسے دے دی گئی.
عریشہ کو مسز وسیم نے اچھا سا تیار ہونے کا حکم دیا، کیونکہ آج اکبر بیگ کی فیملی نے رشتہ پکا کرنے آنا تھا.
ایان کی بھانجی جو اپنی بیوہ ماں کے ساتھ، بیگ کے گھر رہنے آ گئی تھی.
اس کا رشتہ ایان کے ساتھ کرنا تھا اور بلاول کا رشتہ عریشہ کے لیے.
عریشہ نے جب سنا اسکا رشتہ بلاول کے ساتھ ہو رہا ہے جو ڈرنک بھی کرتا تھا. حالانکہ اس کے لیے ڈرنک کوئی نئی بات نہ تھی. ایان اپنے دوستوں کی پارٹی کرتا تو گھر میں ڈرنک بھی کرتا. بلاول بھی اکثر شامل ہوتا.
وسیم صاحب بھی جب کسی خاص مہمان یا اکبر بیگ کے ساتھ گھر بیٹھ کر ڈرنک کرتے. گھر میں شواب کی بوتلیں ایسے پڑی ہوتیں جیسے ہلال چیز ہے.
عریشہ کو شروع سے ہی اس ماحول سے نفرت تھی. اس کی مرضی کے بغیر اس کی گھر میں سادگی سے منگنی کر دی گئی.
بلاول کو وہ کئی بار نفرت کا اظہار کر چکی تھی اور شادی سے انکار بھی. وہ بڑے وثوق سے کہتا،
"میڈم جتنا مرضی انکار کرو، میں والدین کا اکلوتا بیٹا ہوں. جس چیز کی خواہش کرتا ہوں وہ پوری کی جاتی ہے. اور یہ خواہش بھی میری رد نہیں ہو گی. دیکھ لینا تم کچھ نہیں کر سکو گی اور تمہاری میرے ساتھ شادی ہو جائے گی اور تمہاری اکڑ ساری نکل جائے گی. دیکھو تمہارے ہاتھ میں میرے نام کی انگوٹھی بھی ہے. اب تم کچھ بھی نہیں کر سکتی."
عریشہ ان کے جانے کے بعد چپکے سے سرونٹ کوارٹر میں گئی۔ آیا اور ڈرائیور سونے لگے تھے اسے دیکھ کر حیران رہ گئے.
وہ منت کرتے ہوئے بولی،
"آپ لوگ مجھے اپنے گاؤں لے چلیں. میں پڑھی لکھی ہوں، نوکری کر کے آپ دونوں کو بھی پال لوں گی."
ڈرائیور نے کہا،
"بی بی یہاں سے چلی جاؤ، صاحب یا بیگم صاحبہ نے دیکھ لیا تو ہماری کھال کھینچ لیں گے. ادھر ہمیں کوئی مسئلہ نہیں ہے پھر ہم کیوں یہاں سے جانے کا سوچیں."
آیا نے کہا،
"جاؤ ورنہ ہم سے برا کوئی نہ ہو گا. ہم سے کوئی امید نہ رکھنا."
اسے دھکیلتے ہوئے کمرے سے باہر نکال دیا اور برا بھلا سنانے لگے. وہ حیران سی واپس آ کر کمرے میں رونے لگی کہ وہ کہاں جائے، کس سے مدد مانگے.
روتے روتے سو گئی. صبح اٹھی تو سر بھاری اور آنکھیں سوجی ہوئی تھیں. اس نے دکھ سے سوچا، کیا اس بھری دنیا میں اسکا کوئی ہمدرد، اپنا نہیں ہے. وہ اس بھری دنیا کے ہجوم میں اکیلی کھڑی ہے.
کسی کو یہ بھی فکر نہ تھی کہ وہ رات کو بغیر کھانا کھائے سوئی تھی. اب بھی لیٹ اٹھی تھی.
ملازمہ نے بتایا کہ وسیم اور مسز وسیم آپ کے سسرال گئے ہیں. ایان اس کا بھائی نائٹ گاون پہنے فون کرتا ہوا آیا اور ملازمہ سے ناشتے کا بولا.
عریشہ نے اپنا ناشتہ بنایا اور روم میں آ کر کرنے لگی. وہ آیا اور ڈرائیور کے رویے کے بارے میں بھی سوچتی رہی. کہ آجکل ہر کسی کو اپنا مفاد عزیز ہے.
وہ گاڑی لے کر بے مقصد گھومتی رہی. ایک پارک میں جا کر بیٹھ گئی. رات ہونے لگی تو وہ واپس آ گئی.
وہ واپس آئی تو آیا ایک سانولی سی لڑکی کو کہہ رہی تھی.
"چھوٹی بی بی آپ آئیں آپ کو آپ کا روم دیکھاتے ہیں."
اور وہ اسے اس کے روم میں لے گئی. عریشہ حیرت سے اسے دیکھنے لگی.
شعر
اپنی زات سے بھی بڑھ کر جن پر اعتبار ہوتا ہے
اکثر انہیں سے دھوکہ تحفے میں وصول ہوتا ہے.
#شاعرہ_عابدہ_زی_شیریں

Reader Comments
No comments yet. Be the first to share your thoughts!
Log in to leave a comment.