Dil Ka Intekhab ho Tum
5 Episodesوسیم کی بیگم پیٹ درد سے بے حال ہونے لگی. وہ بڑبڑاتےہوے بولی،
"آپ کو بھی شوق تھا کہ دوست سے ملنے کا. جانتے بھی تھے کہ میرا لاسٹ ماہ چل رہا ہے. پھر بھی آپ مجھے زبردستی لے آئے."
شوہر نے لاچار سی شکل بنا کر کہا،
"ڈیئر کاروباری معاملات تھے. فیملی ٹرمز ضروری تھے. پھر گھنٹے ڈیڈھ کا سفر تھا. اب ہم واپس گھر جا رہے ہیں ناں."
"پہلے آپ کو اپنے فیملی ڈاکٹر کے پاس لے کر جاؤں گا پھر گھر چلیں گے بس تھوڑا صبر کر لیں."
مسز وسیم بولی،
"پلیز جلدی کسی ہاسپٹل، کلینک وغیرہ پر روکیں، مجھے لگ رہا ہے لیبر پین ہیں."
وہ گھبرا کر بولے،
"مگر ادھر تو قریب ایک سرکاری ہاسپٹل ہے. چلو لے چلتا ہوں."
سرکاری ہاسپٹل میں اس کی ڈیلیوری ہوئی، بہت رش تھا. مسز وسیم کی نارمل ڈلیوری ہوئی.
مسز وسیم کافی گوری چٹی رنگت کی تھیں. جبکہ وسیم سانولا تھا.
وسیم ایک خوشحال بزنس مین تھا. ایک خوبصورت گورا چٹا پانچ سال کا بیٹا تھا.
اب کی بار بیٹی سانولی پیدا ہوئی. پاس ایک سانولی عورت کی گوری بچی پیدا ہوئی.
ایک نرس بولی،
"دیکھو زرا گوری کی کالی بچی ہوئی اور کالی کو گوری."
مسز وسیم نے شکل بنا لی.
دوسری عورت مسکرانے لگی.
مسز وسیم سخت گھبرا گئی اور شوہر سے بولی،
"پلیز مجھے گاڑی میں لٹا کر گھر لے چلو، میں اس گندے ہاسپٹل، گندے لوگوں اور واش روم کو اٹینڈ نہیں کر سکتی."
وہ بولا
"ٹھیک ہے."
رات پڑ چکی تھی. اس نے ساتھ بیٹھی ملازمہ کو کہا،
"بچی لے آو،"
وسیم نے ڈاکٹر سے اجازت لے لی تھی.
ملازمہ نے نرس سے کہا،
"بچی دے دو."
اس نے پوچھا
"کون سی؟"
ملازمہ نے مسز وسیم کا نام لیا. نرس نے بچی پکڑا دی. جب گھر پہنچے تو بچی بہت خوبصورت گوری چٹی تھی.
ان کو اس وقت پتا نہ چلا، کیونکہ مسز وسیم بچی آیا کے سپرد کر کے سو گئی. آیا سے جب صبح لیٹ اٹھ کر بچی لانے کا کہا، تو بچی بدل چکی تھی.
مسز وسیم نے بہت شور شرابہ مچایا، آیا کو بہت ذلیل کیا،
آیا نے تو بچی دیکھی بھی نہ تھی. وہ تو ان کے پانچ سالہ بیٹے کے ساتھ سارا وقت گاڑی میں رہی تھی.
وسیم صاحب کو فوراً اس نے ہاسپٹل جانے اور اپنی بچی واپس لانے کا کہا، آیا کے ساتھ بچی بھیج دی.
جب ہاسپٹل پہنچے تو عملے کی ڈیوٹی بدل چکی تھی.
جب اپنی بچی کا پوچھا تو سٹاف نے بتایا کہ وہ بچی تو دوسرے والدین لے کر جا چکے ہیں اور ان کا فون بھی بند آ رہا ہے.
سٹاف نے بتایا
"کل بہت زیادہ رش تھا اور ڈاکٹرز بھی تھک چکے تھے."
مسز وسیم نے تو بچی کو اسی وقت دیکھنے کی خواہش ظاہر کی تھی. ہو سکتا ہے جو بچی لے کر گئے ہیں وہ یقیناً اسے اپنی بچی ہی سمجھ کر لے گئے ہوں گے. اگر وہ کھبی آئے یا ان سے دوبارہ رابطہ ہوا تو ہم آپ کو اطلاع کر دیں گے.
وسیم صاحب مجبوراً بچی کو لے کر واپس آ گئے.
مسز وسیم نے بہت واویلا مچایا اور روتی رہی.
اس نے اس بچی سے نفرت کا اظہار کیا کیونکہ وہ جانتی تھی کہ اس بچی کے والدین بہت غریب سے تھے.
وہ غریب کی بچی کو گود میں لینے میں ہتک محسوس کر رہی تھی. ان کی بہن گاؤں میں بیاہی ہوئی تھی وہ بھی آ گئی.
اس نے مشورہ دیا
"بچی بہت خوبصورت ہے. کیا پتا اپنی ملے نہ ملے. اس لیے ابھی اسی کو اپنی بچی بتاؤ، ورنہ سب میں جگ ہسائی ہو گی کہ ایک تو سرکاری ہاسپٹل میں کیس ہوا، اور دوسرا اتنی لاپرواہی برتی، جو اتنے بڑے کامیاب بزنس مین ہو کر. آپ کا حلقہ احباب میں امپریشن خراب ہو جائے گا. ہو سکتا ہے یہ خوبصورت بچی بڑی ہو کر کسی بڑے بزنس مین خاندان کی بہو بن کر آپ کے لیے فائدے کا باعث بنے. اس لیے اسے اب قسمت کا لکھا سمجھ کر قبول کر لیں. بچی آیا کی گود میں پلے. بےشک آپ لوگ اسے نہ پیار کریں مگر اسے اپنا نام دے دیں. اس کو اعلیٰ تعلیم دلوا کر اونچے خاندان میں بیاہ کر بزنس بڑھا لینا."
وسیم صاحب بولے،
"واہ کیا خوب ترکیب بتائی ہے.آپا آپ نے. اگر اپنی بچی مل بھی گئی تو اس بچی کے والدین تو بےچارے غریب ہیں ان کو پیسوں سے ڈیل کر لیں گے. ویسے میں نے ایک بندے کی ڈیوٹی لگا دی ہے کہ وہ ادھر جا کر معلومات لیتا رہے."
بیوی مجبوراً صبر کر کے بیٹھ گئی.
شریف اور اس کی بیوی ایک گاؤں میں رہتے تھے. بڑی منتوں کے بعد ان کے گھر تین سال بعد بچی پیدا ہوئی تھی. وہ بہت خوش تھے.
شریف کی بیگم نے بچی کی پیدائش کے بعد خوش ہو کر شوہر کو بتایا تھا کہ ہم تو اتنے گورے نہیں ہیں مگر ہماری بچی بہت گوری چٹی ہے.
اس کی بیوی بولی،
"شریف اب میں گھر میں آرام کر لوں گی. سوزوکی گاڑی کرا کے مجھے جلدی گاؤں لے چلو."
اس نے گاڑی منگوا لی، وہ بچی کو لینے جانے لگا تو بیوی بولی،
"منہ ڈھک کر لانا، ہوا نہ لگ جائے اور دھیان سے اپنی بچی ہی لانا، اس کی بازو پر تمہارے نام کا بینڈ لگا ہو گا."
جب بچی پیدا ہو چکی تو نرس تیزی سے واش روم جانے لگی اور ساتھی نرس سے بولی،
"میں ابھی آتی ہوں تم ان دونوں بچیوں کے والد کے نام کے بینڈ لگا دو."
اس نے جلدی سے غلط لگا دیے.
پھر ان کی ڈیوٹی آف ہو گئی اور دوسرا سٹاف آ گیا. جب شریف بچی لینے گیا تو وہاں وہی سانولی بچی ہی تھی اور اس کے نام کا ٹیگ لگا تھا، باقی لڑکے تھے.
شریف نے جب بچی دیکھی تو وہ سانولی تھی وہ تھوڑا حیران ہوا. اس نے نرس سے کہا،
"اس کی بچی تو بہت خوبصورت تھی. یہ اس کی بچی نہیں."
نرس ڈانٹ کر بولی،
"جب اس کے بازو پر آپ کے نام کا ٹیگ لگا ہے اور اس کے علاوہ کوئی اور بچی موجود نہیں تو یہ تمہاری ہی ہے. ویسے بھی ہر والدین کو اپنے بچے خوبصورت لگتے ہیں."
نرس نے کہا،
"ہمیں تنگ نہ کرو."
وہ دل میں یہ سوچ کر مسکرانے لگا کہ نرس ٹھیک کہتی ہے اپنے بچے سب کو خوبصورت لگتے ہیں میری بیوی کو بھی یہی لگا ہو گا. اسے نہیں بتاؤں گا.
جب گاوں پہنچے تو اسے ساس نے آرام کرنے کا کہا اور بچی اپنے پاس رکھ لی.
صبح جب شریف کی بیوی نے بچی دیکھی تو رونے پیٹنے لگی
"یہ تو اس کی بچی نہیں ہے یہ تو اس نک چڑھی بیگم صاحبہ کی بچی ہے. تم ابھی جاؤ اور میری بچی لے کر آؤ."
ساس نے کہا،
"بچی ابھی ساتھ نہ لے کر جاؤ، پہلے پتا کر کے آؤ."
وہ لوکل سفر کرتا ہوا دو ڈھائی گھنٹے کا سفر کر کے پہنچا تو ادھر ہی پہنچا جہاں سے بچی لی تھی.
وہ تھکا ہارا ہانپتا کانپتا دوڑا دوڑا پہنچا تو وہ نرس موجود نہ تھی وہ اسے ڈھونڈنے لگا آخر دو گھنٹے بعد وہ اسے نظر آ گئی
وہ تیزی سے اس کے پاس پہنچا اور بتایا کہ میری بچی بدل گئی ہے. یہ ان امیر لوگوں کی بچی ہے. میری بچی خوبصورت تھی.
نرس بولی،
"یہ جو تم ان امیر لوگوں کے بارے میں بات کر رہے ہو کہ وہ تمہاری بچی تھی. یہ سنتے ہی وہ تمہیں بچی کے اغوا کے یا اسی قسم کے کسی کیس میں اندر کروا دیں گے، جہاں روز تمہاری درگت بنے گی. الٹے لٹکائے جاؤ گے. اپنی پسلیاں تڑوانے کا بہت شوق ہے تمہیں. پہلے تو وہ خود تمہاری ہڈیاں توڑیں گے سمجھے. بار بار آ کر نہ ایسی باتیں کرو. تم انکا مقابلہ نہیں کر سکتے. اگر بالفرض بدل بھی گئی ہے تو کیا وہ لوگ مانیں گے. بہتر یہی ہے کہ جو ہے اسے ہی خوشی سے قبول کر لو اور قسمت کا فیصلہ سمجھ کر قبول کر لو. اچھا ہے ناں تمہاری بچی امیر گھر میں پلے گی اور ان کی غریب گھر میں. بس اسی بات سے خوش ہو جاؤ کہ تمہاری بیٹی کو وہ عیش وعشرت ملے گی جس کے لئے شاید وہ ترستی رہتی. مجھے لگتا ہے کہ یہ سب کچھ غلط فہمی کی بنا پر ہوا ہے. اب سب کی شامت مت لاؤ. ورنہ ہاسپٹل کی وہ اینٹ سے اینٹ بجا دیں گے. ڈاکٹروں، نرسوں پورے عملے کی شامت آ جائے گی. اور تمہیں بھی نہیں چھوڑیں گے. اب جانے دو اس بات کو. اور اسی بچی کو اپنی سمجھ کر پالو. اپنے آپ کو مصیبت میں نہ ڈالو."
شریف ڈر گیا اور گارڈ کے پاس آیا اور اسے ساری بات بتائی. اس نے کہا
"یار مجھے یاد ہے کل وہ بابو لوگ جو آئے تھے. مگر اب دوبارہ کھبی نظر آئے تو تم فون نمبر دے دو میں گاڑی کا نمبر نوٹ کر کے تمہیں بتا دوں گا فکر نہ کرو. تم خود ان سے بات کرنا، یہ لوگ کچھ نہیں کرنے والے. اللہ کرے تمہیں تمہاری بیٹی مل جائے."
شریف بولا،
"آمین ثم آمین."
وسیم صاحب نے بچی کو اپنا نام دے دیا اور جو نام انہوں نے اپنی بیٹی کا رکھنا تھا عریشہ وہ اسکا رکھ دیا. سارے خاندان والے تحفے تحائف کے ساتھ مبارک باد دینے آئے.
بچی ادھر پلنے لگی، مگر مسز وسیم دوسروں کے سامنے پیار جتاتی مگر اکیلے میں اس سے نفرت کرتی. وہ آیا جو بےاولاد تھی اس کا شوہر ان کا ڈرائیور تھا ان کی گود میں پلنے لگی.
وہ دونوں اس سے بہت پیار کرتے. ڈرائیور اسے سکول چھوڑنے اور لینے جاتا. راستے میں ایک پارک میں اسے جھولے جھلا دیتا، وہ بہت خوش ہو جاتی.
اسے سمجھ نہ آتی کہ اس کے بھائی کو دونوں بہت پیار کرتے مگر اسے نفرت کی نگاہ سے دیکھتے اور جھڑکتے رہتے.
ان کا بیٹا بھی کہتا،
"موم یہ گندی ہے"
کیونکہ وہ بچپن سے والدین کی نفرت اس کے لیے دیکھ رہا تھا. اگر وہ اس کے ساتھ کھیلنا چاہتا تو اسے منع کیا جاتا کہ وہ گندی ہے. اسے اچھا کھلایا جاتا اچھا پہنایا جاتا تاکہ لوگ شک نہ کریں.
صرف اس گھر کی آیا اور اسکا شوہر اس راز سے واقف تھے مگر انہیں وہ وارننگ دے چکے تھے اور وہ بہت ڈرتے تھے.
شریف جب خالی ہاتھ گھر پہنچا تو بیوی بہت تڑپی مگر جب شریف نے ساری بات بتائی تو ساس نے کہا،
"اس میں اس بچی کا کیا قصور ہے. تو اسے پیار سے پال، دیکھنا تجھے اللہ تعالیٰ ضرور اس بات کا اجر دیں گے اور تیری بیٹی سے جلد ملوا لیں گے."
اس کے دل میں رحم آ گیا اور وہ سب اسے پیار سے پالنے لگے. شریف اپنی فیملی کو شہر لے آیا اور ایک رکشہ لے لیا.
بچی جس کا نام انہوں نے نرما رکھا اسے سرکاری اسکول میں ڈال دیا. وہ پڑھائی کی اتنی شوقین نہ تھی.
کرائے کا گھر تھا شریف کی بیوی لوگوں کے گھروں میں کام کرنے لگی. وہ بیٹی کو کام نہیں کروانا چاہتی تھی کہ وہ امیر والدین کی بیٹی ہے مگر وہ ضد کر کے ساتھ جاتی. اسے سچائی کا علم نہیں تھا کہ وہ ان کی بیٹی نہیں ہے. وہ انہیں ہی اپنے والدین سمجھتی.
وہ گھر کے کاموں میں دلچسپی لیتی تھی.
عریشہ بہت اپ سیٹ رہتی. کالج میں بھی چڑچڑی رہتی.
ایک دن آیا اور اسکا شوہر اپنے کوارٹر میں اس کے بدلنے کی باتیں کر رہے تھے کہ اس نے سن لیا کیونکہ وہ انہیں بلانے آئی تھی.
شعر.
دل کے آنسوؤں کو دھونے کے لیے
بارش میں خوب بھیگ کر دیکھا
نہ ہی تھم سکا غم طوفان
دل بھی خوب گرج کر تڑپا.
#شاعرہ_عابدہ_زی_شیریں.
پلیز اسے لائک ،کمنٹ اور فرینڈز کو بھی شئیر کریں شکریہ.

Reader Comments
No comments yet. Be the first to share your thoughts!
Log in to leave a comment.