Dil Ka Intekhab ho Tum
5 Episodesتیسرا حصہ - Part 3
مسز وسیم کمرے میں آ گئی اور عریشہ سے بولی،
"اے لڑکی تم نے بہت عیش کر لی، اٹھو اور سرونٹ کوارٹر میں ڈرائیور اور اس کی بیوی کے ساتھ رہو جا کر. ہماری اپنی بیٹی نایاب، ہمیں تمہارے سسرال سے مل چکی ہے. اس کے والدین وہاں ملازم ہیں. ہم نے انہیں پہچان لیا تھا اور موقع پا کر ان سے ڈیل کر لی ہے. وہ خاموش رہیں گے اور جب تم وہاں بیاہ کر جاؤ گی تو وہ ملازمین کی حیثیت سے تمہیں دیکھ کر خاموشی سے خوش ہوتے رہیں گے. تمہیں وہاں بیاہنا ہماری مجبوری ہے کہ وہ لوگ تمہیں بیاہنا چاہتے ہیں. خبردار جو تم نے کھبی اپنی زبان کھولی. اور جب اکبر صاحب کی فیملی آئے گی تو ان کے سامنے اسی طرح آنا اور ان کو کچھ پتہ نہ چلے."
پھر وہ ڈرائیور اور اس کی بیوی کو وارننگ دیتے ہوئے بولی.
"یاد رکھنا کوئی گڑبڑ نہ ہو ورنہ اپنا حشر یاد رکھنا."
وہ منتیں کرنے لگے
"جیسا آپ چاہیں گی ویسے ہی ہو گا."
مسز وسیم جاتے جاتے بولی،
"اس کو اپنی حیثیت کے مطابق رکھنا، زیادہ سر نہیں چڑھاناں."
وہ ہاتھ جوڑ کر بولے
'جی ایسا ہی کریں گے."
مسز وسیم باہر نکلی تو ڈرائیور کی بیوی اسے ڈانٹتے ہوئے بولی،
"چل نواب نہ بن کوارٹر کی صفائی کر."
مسز وسیم مسکراتے ہوئے سوچنے لگی کیسے وہ لوگ اسے خوش کرنے کے لیے اس پر برس رہے ہیں.
ان کی اپنی بیٹی جس کا نام نایاب تھا وہ بہت سر چڑھ رہی تھی. عریشہ پر خوب رعب جماتی۔ مسز وسیم اسے پارلر لے کر گئی تو وہ اسے اس کی ملازمہ سمجھتے رہے. ایان اس کی حرکتوں سے تنگ ہونے لگا. مسز وسیم بھی آنے جانے والوں کے آگے شرمندہ ہونے لگیں.
پھوپھو گاؤں سے آئی اور اس پر خوب پیار نچھاور کرنے لگی. جھٹ سے اس کا رشتہ اپنے میٹرک پڑھے لڑکے کے لیے مانگ لیا.
دونوں نے سوچا اچانک اگر عریشہ کے سسرالی آ گئے تو وہ کیا کریں گے کیونکہ وہ نایاب کو اپنی ملازمہ بنا کر ان کے گھر سے لائے تھے.
انہوں نے سادگی سے اسکا نکاح پڑھوا کر پھوپھو کے حوالے کر دیا. اس دن عریشہ پر بہت عتاب برسا، کہ ہماری بیٹی خاموشی سے رخصت ہو گئی اور اسے دھوم دھام سے رخصت کرنا پڑے گا.
ڈرائیور کی بیوی عریشہ سے خوب کام کرواتی. اس کو طعنے دیتی کہ اس کی وجہ سے ہماری زندگی بھی عزاب بنی ہوئی ہے. ہمیں اس کا راز رکھنے کے لیے مالکوں کی دھمکیاں سہنی پڑتی ہیں.
کچھ دن بعد اسے واپس اپنے روم میں بلا لیا گیا کہ کھبی بھی اس کے سسرالی آ سکتے تھے. اسے بلاول سے شادی کرنا پسند نہ تھا مگر وہ اپنے والدین کو ملنے کے لیے تڑپنے لگی کہ کب شادی ہو اور وہ ان سے ملے.
نایاب شوہر سے اکھڑی اکھڑی رہتی. اس کا شوہر اچھا تھا ساس بھی بہت اچھی تھی. ایک ہفتے بعد انہوں نے دھوم دھام سے اس کا ولیمہ کیا. نایاب کے ماں باپ ایک بار ولیمے میں آئے اور اس سے تھوڑا سا پیار کر کے چل پڑے. زیادہ دیر بھی نہیں رکے.
نایاب کو پالنے والے والدین فون کرتے تو وہ ان کو لفٹ نہ کراتی. مایوس ہو کر انہوں نے اسے فون کرنا چھوڑ دیا.
نایاب اپنے سگے والدین کے فون کا انتظار کرتی مگر وہاں سے اسے لفٹ نہ ملتی. ماں کھبی کرتی بھی تو مختصر بات کرتی. نایاب کو شوہر نے سمجھایا
"اس گھر میں دل لگاؤ. میری ماں تم سے کتنا پیار کرتی ہے. تمہارے سگے والدین بےحسی کا نمونہ ہیں. ان کو سب سے زیادہ اپنا مفاد عزیز ہے. تم ساری زندگی غربت میں پلی ہو. اب ایک کھاتے پیتے زمیندار گھرانے کی بہو ہو. اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرو. ناشکری نہ کرو. تمہارے سگے والدین اب تمہیں کھبی کسی کے سامنے قبول نہیں کریں گے. ان کو بھول جاؤ. عریشہ سے جلنا چھوڑ دو. اس بدقسمت کو انہوں نے کھبی بیٹی کا پیار نہیں دیا. تمہارے بدلنے کی سزا ساری زندگی اسے دیتے رہے. تمہیں تو پھر بھی ان لوگوں نے پیار سے پالا ہے. وہ ساری زندگی پیار کو ترستی رہی ہے. میری ماں نے بھی کھبی اسے پیار نہیں کیا. تم سے کتنا پیار کرتی ہیں."
نایاب کچھ سوچتے ہوئے بہتر رویہ کر دیا. وہ سوچنے لگی کہ اس کو پالنے والے والدین نے اسے کھبی محسوس نہ ہونے دیا. ہاں اس کی ماں اکثر اکیلی روتی ضرور تھی.
دونوں ایک دن باتیں کر رہے تھے تو اچانک اس نے سن لیا اور کافی حیران ہوئی کہ وہ ایک امیر والدین کی اولاد ہے. تب سے اس نے ان سے اپنا رویہ بدل دیا اور انہیں والدین کی جدائی کا زمہ دار ٹھہرانے لگی.
جب اسے والدین کا علم ہوا تو بہت خوش تھی کہ امیر گھر میں جا رہی ہے. اس نے ان سے رویہ بدل لیا تھا.
عریشہ کی شادی کی تیاریاں دھوم دھام سے جاری تھیں.
نایاب بھی پھوپھو کے ساتھ پہلے ہی آ چکی تھی. نایاب کو ماں باپ کھبی موقع پا کر پیار سے بات کر لیتے. مگر دوسروں کے سامنے اسے پھوپھو کی بہو ہی تعارف کرواتے.
عریشہ کو سب کے سامنے اپنی بیٹی بتاتے تو نایاب اس کی قسمت پر رشک کرتی. مگر اکیلے میں مسز وسیم اس سے برا سلوک کرتی. طنز کرتی. نایاب حیران ہوتی.
شادی کی تقریبات بہت اعلیٰ پیمانے پر رکھی گئی تھیں. بلاول حیران تھا کہ اب عریشہ اس سے شادی پر بےزاری نہیں دیکھاتی.
بہت دھوم دھام سے شادی ہو گئی. عریشہ کی نظریں والدین کو کھوجتی رہیں. جب دودھ پلائی کی رسم ہو رہی تھی تو کسی نے شریف نام سے پکارا. عریشہ ان کے نام جان گئی تھی. اس نے تڑپ کر جلدی سے ادھر دیکھا تو ایک دبلا پتلا سا سفید بالوں والا شخص کھڑا اسے دیکھ رہا تھا۔ اسی وقت مسز اکبر نے اسے ڈانٹ کر کسی کام سے بھیج دیا.
ابھی تک وہ ماں کو نہ پہچان سکی تھی. اس کو باپ کی بےعزتی سخت بری لگی. اب اس کی نظریں ماں کی متلاشی تھیں. مگر وہ نہ مل رہی تھی.
رات کو اسے کمرے میں لایا گیا تو ایک عمررسیدہ عورت سامان کی ٹرے اٹھائے آئی اور دیکھا کمرے میں کوئی نہیں ہے تو اس کو دیکھ کر اپنی ہچکی اور رونے کو ضبط کرتے ہوئے بولی،
"آپ کو گلے لگا سکتی ہوں کیا. میں شریف کی بیوی ہوں."
عریشہ نے جھٹ اچھل کر تڑپ کر اسے زور سے گلے لگا کر روتے ہوئے کہا،
"ماما آپ اپنی بیٹی سے کیوں دور تھیں."
دونوں کچھ دیر خوب گلے لگ کر روتی رہیں کہ دروازے کی آواز آئی تو جلدی سے الگ ہو گئیں. شریف کی بیوی تیزی سے باہر نکل گئی.
بلاول نے ایک جھٹکے سے اس کا گھونگٹ اٹھایا اور کہا،
"یہ روایتی طریقے مجھے پسند نہیں ہیں. جاؤ کپڑے چینج کرو اور مجھے کافی بنا کر لا کر دو."
عریشہ خوش ہو کر اٹھی کہ شاید باہر اپنے باپ سے ملاقات ہو سکے. جب وہ کافی بنانے نیچے گئی تو ماں برتن دھو رہی تھی. اسے دیکھ کر حیران رہ گئی.
اتنے میں اس کی ساس کا ادھر سے گزر ہوا تو اسے دیکھ کر بولی،
ڈیئر کچھ چاہیے."
وہ نرمی سے بولی،
"بلاول کے لیے کافی بنانے آئی تھی."
وہ بولی،
"تم جاو شریفاں لے آئے گی."
وہ بولی،
"موم میں اچھی سی خود بناؤں گی. آپ آرام کریں."
وہ نہ مانی اور بولی،
"یہ اچھی کافی بناتی ہے."
پھر اسے ڈانٹنے لگی کہ تم نے ہماری بہو کو کام کیسے کرنے دیا. اسے کافی سنایا. عریشہ دل میں پیچ وتاب کھا کر رہ گئی اور اپنے کمرے میں اوپر پورشن میں چل پڑی. دیکھا تو بلاول صوفے پر آڑھا ترچھا سو رہا تھا. تھوڑی دیر کے بعد اس کی ماں کافی لے کر آ گئی.
عریشہ نے اس کی ہلکی سی دستک پر اس سے نم آنکھوں سے کافی پکڑ لی. عریشہ نے اسے پیار سے دیکھ کر خدا حافظ کہا. ماں نے بھی نظروں سے اس کی بلائیں لیں.
عریشہ کو ماں کے برتن دھونے سے دکھ ہو رہا تھا. اس نے دل میں پکا ارادہ کر لیا کہ وہ یہاں نہیں رہے گی۔ والدین کو لے کر دور چلی جائے گی اور نوکری کر کے ان کو پالے گی.
اگلے دن وسیم اور مسز وسیم نے اسکا شاندار ناشتہ بھجوایا. سب آئے مہمانوں نے خوب واہ واہ کی اور خوب سیر ہو کر کھایا. عریشہ کو والدین کی حالت پر دکھ ہو رہا تھا جب وہ اتنی جان فشانی سے کام کرنے کے باوجود مالکوں سے بلاوجہ ذلیل ہوتے تھے.
بلاول اس کو خوب طنز کا نشانہ بناتا
"آخر جیت میری ہی ہوئی تم تو مجھ سے شادی سے انکاری تھی."
وہ جواب میں خاموش رہتی.
اس نے ماں کو چپکے سے اپنا بیگ جس میں اس کے تمام ضروری کاغذات ڈگریاں وغیرہ تھیں دے کر کہا
"اسے سنبھال کر رکھنا. اور اپنا مقصد بھی بتا دیا."
ماں نے سمجھانا چاہا کہ وہ ہماری وجہ سے اپنا گھر خراب نہ کرے مگر وہ بولی،
"ان بےحس لوگوں کے ساتھ میں ساری زندگی نہیں گزار سکتی."
ابھی تک اسے باپ سے گلے ملنے کا موقع نہ مل سکا تھا. وہ اسے دور سے دیکھ کر خوش ہوتا اور وہ بھی دیکھ کر مسکراتی رہتی.
اس کے سسرال والوں نے ان کو ہنی مون، ورڈ ٹور پر بھیج دیا.
وہاں پر بھی بلاول اسے طنز کا نشانہ بناتا رہا. وہ شاپنگ کرتا تو وہ نہ دلچسپی لیتی. اس نے کہا،
'ہمیں گھر کے سب ملازموں کے لیے بھی کوئی گفٹس لے کر جانے چاہئیں، آخر وہ ہماری اتنی خدمت کرتے ہیں."
اس بات کا اس نے بہت ایشو بنایا، ماں کو فون پر شکایت لگائی. ماں نے بھی اسے کافی سنائی. اور بیٹے سے کہا
"یہ تو بڑے باپ کی بیٹی لگتی نہیں. ہر وقت ملازموں کے ساتھ خوش رہتی ہے اور ان سے ہمدردی کرتی رہتی ہے. بچپن سے اس کو دیکھتی آ رہی ہوں یہ ملازموں میں خوش رہتی ہے."
بلاول غصے سے بولا،
"اس کو تو کسی غریب گھر میں پیدا ہونا چاہیے تھا."
وہ دونوں واپس آ گئے تو بلاول نے کہا،
"موم، یہ لڑکی لگتا ہے کہ کسی غریب کے گھر پیدا ہوئی ہے نہ اسے مہنگی شاپنگ کا شوق، نہ اسے کپڑے جیولری کا شوق ہے. میں تو اس کی کمپنی میں سخت بور ہوتا ہوں. کیا مصیبت میرے پلے پڑھ گئی ہے."
ماں نے عریشہ کو قہر آلود نظروں سے دیکھتے ہوئے کہا،
"مصیبت یہ ہے کہ کراس میرج ہے. تمہاری کزن اس کے بھائی کے گھر میں ہے. ورنہ اس لڑکی کی ان گھٹیا حرکتوں سے میں بھی خائف ہوں."
عریشہ اداس اور دکھی دل سے کمرے میں چل پڑی.
عریشہ کو باپ سے تھوڑی دیر ملنے کا موقع مل گیا تو وہ بولی،
"بابا جانی میں آپ لوگوں کو جاب کر کے عزت سے پالوں گی. میں نے نوکریوں کے لیے اپلائی کیا ہوا ہے. جوں ہی اچھی آفر ملی ہم یہاں سے بھاگ جائیں گے آپ تیار رہنا."
عریشہ کے والدین اس کے سسرال والوں کا عریشہ سے برا سلوک دیکھ کر دکھی ہو جاتے تھے. جس بیٹی کو پیار سے پالا وہ انہیں لفٹ نہیں کراتی تھی وہ انہیں قصور وار گردانتی کہ ان کی لاپرواہی کی وجہ سے وہ عیش وعشرت جیسی زندگی سے دور رہی. یہ سب انہوں نے جان بوجھ کر کیا تاکہ ان کی بیٹی آسودہ حال زندگی بسر کرے.
وہ صفائی دیتے تھک گئے مگر وہ نہ مانی. آخر انہوں نے بھی اس کی طرف سے توجہ ہٹا دی اور فون کرنا چھوڑ دیا.
عریشہ کی ساس اپنے شوہر سے بہو کا شکوہ کرتے ہوئے بولی،
"غضب خدا کا یہ لڑکی شریفاں کے ساتھ کھڑی برتن دھلوا رہی تھی. عزر یہ پیش کیا کہ وہ بےچاری بوڑھی ہے تھک جائے گی."
سسر نے کہا،
"ان کو نکال باہر کرو، ان کی جرات کیسے ہوئی ہماری بہو سے کام کروانے کی."
ساس بولی،
"کمال ہے مجھے اس بات کا خیال ہی نہ آیا."
وہ غصے سے اٹھی اور ان کو خوب ذلیل کر کے گھر سے نکل جانے کا حکم دیا.

Reader Comments
No comments yet. Be the first to share your thoughts!
Log in to leave a comment.