Logo
Dil Ka Intekhab ho Tum
5 Episodes
Dil Ka Intekhab ho Tum EP 4
Episode 4

دل کا انتخاب ہو تم4

Dil Ka Intekhab ho Tum

 چوتھا حصہ - Part 4


عریشہ نے دیکھا تو غصے سے آپے سے باہر ہو گئی. ان دونوں سے بولی، 

"ان لوگوں کی منت کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے. میں بھی آپ لوگوں کے ساتھ چلتی ہوں."

ساس اسے ڈانٹ کر بولی، 

"تم ان کے ساتھ کیوں جاؤ گی."

عریشہ نے غم و غصے سے ساری سچائی ان کو بتا دی. ساس سسر شاکڈ ہو گئے، دونوں بولے، 

"ہمارے ساتھ اتنا بڑا دھوکہ."

عریشہ نے چند جوڑے کپڑے ان کے سامنے ڈالے اور روتے ہوئے بولی، 

"میں اس گھر سے کچھ نہیں لے کر جا رہی" 

اور جلدی سے والدین کو چلنے کا اشارہ کیا اور باہر آ کر جلدی سے ایک خالی جاتے رکشے کو روکا اور اس میں ان کو بٹھا کر جلدی سے بولی، 

"کسی غریب محلے میں لے چلو."

وہ ایک بوڑھا شخص تھا. اس نے کہا، 

"بیٹی کیا پریشانی ہے."

وہ بولی، 

"انکل جی ہمارے پیچھے کچھ دشمن لگے ہیں ہم ان سے پناہ چاہتے ہیں. کوئی سستا ایک کمرے کا مکان ہی مل جائے."

وہ بولا 

"بیٹی میں گھر ہی جا رہا ہوں. میرا گھر بھی پرانا سا ہے ایک کمرہ کرائے پر دیا تھا وہ ایک ہفتے سے خالی پڑا ہے."

عریشہ بولی، 

"جی جلدی لے چلیں."

اسے بلاول کا خوف تھا کہ وہ اسے ستانے کی غرض سے جانے نہ دے گا. کیونکہ اس وقت وہ گھر میں موجود نہ تھا.

عریشہ نے اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کیا کہ اس نے رہنے کا بندوبست کر دیا. وہ لوگ بہت اچھے تھے. میاں بیوی تھے. ایک بیٹی شادی شدہ تھی دوسرے شہر رہتی تھی. اس نے ایک کھاتے پیتے امیر لڑکے سے بھاگ کر شادی کی تھی اور اب شرم سے ان سے کم ملتی تھی. کھبی کبھار ملنے آ جاتی تھی.

عریشہ نے ایک آفس میں جاب کر لی. اچھی تنخواہ لگی تھی. مگر اس نے اسی محلے میں رہنے کو ترجیح دی. وہ برقع پہن کر آفس جاتی. وہاں بھی نقاب میں رہتی.



بلاول جب گھر آیا تو عریشہ کو آوازیں دینے لگا.

والدین پریشان بیٹھے ہوئے تھے. اس نے جب ان سے عریشہ کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے اسے ساری سچائی بتا کر کہا 

"وہ اس گھرانے کی بہو بننے کے قابل نہ تھی. تم طلاق کے کاغذات تیار کرو، ہم وسیم صاحب کو بھجوا دیں گے اور تمہاری شادی کسی خاندانی لڑکی سے دیکھ بھال کر کریں گے."

بلاول حیرت سے انہیں دیکھتے ہوئے اپنے روم میں چل پڑا.

روم میں آ کر بیڈ پر بوٹوں سمیت آڑا ترچھا لیٹ کر چھت کو تکتے ہوئے سوچنے لگا. اس نے روم کی لائٹ بھی نہیں جلائی تھی. اس کے آگے فلم کی طرح اسکا بچپن گزرنے لگا. اس پر وسیم اور مسز وسیم اسکا بھائی سب بہت زیادتیاں کرتے تھے. اس وقت اسے ان باتوں کی سمجھ نہ تھی. وہ بھی ساتھ شامل ہوتا تھا.

کھبی وہ سوچتا تھا کہ اس نے کھبی انکل آنٹی کو اس سے پیار سے مخاطب ہوتے نہیں دیکھا تھا. وہ دکھی ہونے لگا. اسکا دل اس کی یاد میں تڑپنے لگا. اس کی آنکھوں سے آنسو رواں ہونے لگے.

ملازمہ اس کے روم میں دھلے کپڑے رکھنے آئی تو اس نے آواز دی مگر بلاول نے کوئی جواب نہ دیا. وہ واپس چلی گئی اور مسز اکبر کو بتانے لگی. وہ پریشان ہو کر اس کے ساتھ روم میں آئی تو وہ بےڈھنگا لیٹا رو رہا تھا.

ماں نے لائٹ جلا کر دیکھا تو بہت پریشان ہو گئی. اس نے چیخ چیخ کر شوہر کو آوازیں دیں. وہ بھاگتا آیا.

دونوں اس کی حالت سے پریشان ہو گئے. ملازمہ کو پانی لانے کا کہا.

بلاول نے چھت کو گھورتے ہوئے آنسو بہاتے ہوئے کہا 

"وہ عریشہ کے بغیر نہیں رہ سکتا. اسے عریشہ چاہیے۔"

پھر وہ زور زور سے چیخنے چلانے لگا، چیزوں کو توڑنے پھوڑنے لگا، سب کو برا بھلا کہنے لگا 

"سب نے اسے تنگ کر کے اسے اس گھر سے اور میری زندگی سے دور جانے پر مجبور کیا. بچپن سے اس پر زیادتیاں ہوتی رہیں. کوئی اس کا ہمدرد نہ تھا. کسی نے اسکا ساتھ نہ دیا. اگر وہ بدل چکی تھی تو پھر اس کا اس میں کیا قصور تھا. میری عریشہ نے زندگی کے ہر لمحے میں سب کی زیادتیاں سہی، دکھ اٹھائے. اب اسے سچے پیار کرنے والے والدین ملے تو وہ ان سے بھی کھل کر پیار نہیں لے سکتی تھی. جس کی وجہ سے اسے اس گھر سے جانا پڑا. آپ سب لوگ ظالم ہیں. انسان کو انسان نہیں سمجھتے. میری بھی بچپن سے ایسی تربیت کی کہ میں بھی اسے ستا کر خوش ہوتا اور وہ معصوم بےبسی سے اپنی صفائیاں دیتی مگر کوئی اس کی فریاد نہ سنتا. مجھے اکیلا چھوڑ دیں۔" 

وہ ان کو باہر نکالنے لگا. والدین پریشان حال اپنے روم میں آ گئے.

ماں نے روتے ہوئے کہا 

"بلاول سچ کہتا ہے. ہم ظالم لوگ ہیں. بیٹے کی خوشیوں کے قاتل."



وسیم اور مسز وسیم عریشہ کی شادی کے بعد اس کی کمی کو شدت سے محسوس کرنے لگے. انہیں اس کی بہت یاد ستاتی. بیٹا شادی کے بعد بیوی اور ساس کو لیکر دوبئی شفٹ ہو گیا. 

ان کی سگی بیٹی پھوپھو کے ساتھ وسیم صاحب کے گھر آتی تو ان سے اکثر جھگڑا کرتی اور گلے کرتی کہ ان کی لاپرواہی کی وجہ سے اس نے غربت میں زندگی گزاری. وہ اعلیٰ تعلیم بھی حاصل نہ کر سکی. وہ اس کو سمجھاتے کہ یہ سب قسمت میں لکھا تھا. تم اب بھی پڑھ سکتی ہو.

وہ کہتی، 

"میری انپڑھ سے شادی ہو گئی." 

حالانکہ وہ بارہ کلاسیں پڑھا ہوا تھا.

وہ آ کر غصہ دیکھاتی، توڑ پھوڑ کرتی. ملازموں پر چیختی، ان کو زلیل کرتی. جو ملنے جلنے والا آتا ان کو سب سچائی بتاتی کہ میں ان کی سگی بیٹی ہوں. وہ لوگ اب اس کے آنے سے تنگ ہونے لگے.

سارے خاندان کو اس سچائی کا علم ہو گیا اور وہ ان سے سچائی جاننے کی کوشش کرتے.

وسیم صاحب نے تنگ آ کر سب کو بتا دیا. پورے خاندان میں کھلبلی مچ گئی. وہ آ آ کر پوچھتے، فون پر فون کرتے. وسیم اور مسز وسیم سوالوں کے جواب دے دے کر تنگ ہونے لگے.

بیٹی کی فرمائشیں الگ سے عروج پر جانے لگیں. فضول خرچیاں کرنے لگی. پیسہ اڑانے لگی.

اپنے سسرال نہ جاتی. ادھر وسیم صاحب کا بزنس فلاپ ہونے لگا. وہ اب بچت پر چلنے لگے.

ادھر ان کی بیٹی نے جائیداد میں سے اپنے حصے کا مطالبہ کر دیا. اس کی ساس اور شوہر اس کی حرکتوں سے تنگ ہونے لگے. ادھر والدین بھی اس سے تنگ پڑنے لگے. جس نے دونوں خاندانوں کو ذہنی کرب میں مبتلا کر دیا تھا.

وسیم اور مسز وسیم عریشہ کو یاد کر کے روتے، وہ کہتے یہ مکافات عمل ہے. ہم نے اس مصوم بچی کو بےقصور اتنا ستایا اور اب ہمیں اسی کی آہیں لگی ہیں. نہ جانے وہ کدھر ہو گی کس حال میں ہو گی. انہوں نے ملازموں کی تنخواہیں نہیں دیں تو وہ بھی اب ان کو سنانے لگے، اور چھوڑ کر جانے لگے.


مسز وسیم کو اب گھر کا سارا کام خود کرنا پڑتا. وہ بیٹی سے ہیلپ کرنے کو کہتی تو وہ سنا دیتی. سارا دن آرام کرتی رہتی.

پھوپھو اور شوہر اسے کئی بار لینے آئے مگر الٹا اس نے ان کو بےعزت کر دیا اور طلاق کا مطالبہ کر دیا.

وسیم اور بیگم وسیم نے اب نمازوں میں سکون ڈھونڈنا شروع کر دیا. پارلر جانا چھوڑ دیا.

گھر میں اب پیسے کی تنگی رہنے لگی. وسیم صاحب نے اپنی ناک اونچی رکھنے کے لیے شادیوں پر اپنی حیثیت سے بڑھ کر دولت خرچ کی.

عریشہ نے جہیز لینے سے انکار کر دیا تھا. اس کے برعکس ان کے بیٹے نے بیوی کی فرمائشیں پوری کرنے کے لئے باپ سے خوب خرچہ کروایا. باپ نے قرض لے کر اپنی شان بڑھانے کی کوشش کی.

بیٹا جا کر بھول گیا. باپ نے حالات بتائے تو وہ پریشان ہو کر بولا، 

"پلیز آپ لوگ میری عزت کا خیال کریں. میری بیوی کو بھنک بھی نہ پڑے کہ ہم کنگلے ہو چکے ہیں. ورنہ وہ مجھے چھوڑ دے گی. آپ لوگ اب مجھ سے بلاوجہ رابطہ نہ کرنا."

وسیم کی بیوی شوہر کے آگے روتے ہوئے بولی، 

"کیسا بےحس لڑکا ہے. اسے والدین اور رشتوں کی اہمیت کا کوئی احساس نہیں ہے."

وسیم صاحب تاسف سے ہاتھ ملتے ہوئے بولے، 

"یہ سب ہماری تربیت کا اثر ہے. ہم نے ہی اسے بےحسی کی تربیت دی ہے."

وسیم صاحب کا گھر نیلام ہو گیا اور وہ کرائے کے ایک غریب علاقے میں آ کر رہنے لگے.

ان کی بیٹی ادھر تنگ ہونے لگی. کیونکہ یہ وہی علاقہ تھا جہاں وہ لوگ رہتے تھے اور وہ ماں کے ساتھ قریبی سوسائٹی میں کام کرنے جاتی تھی. اس نے سسرال واپس جانے کا فیصلہ کر لیا.

اس کا باپ اسے لے کر گاؤں پہنچا تو دیکھا وہاں شادی کا سماں تھا. وہ بہت حیران ہوا تو پھوپھو نے بتایا کہ اس کے سسرال والے بہو کی حرکتوں سے تنگ آ چکے تھے اور اس نے تو شوہر کو مجبور کر کے طلاق لے لی تھی.

اب میں نے سسرال والوں کی پسند کے مطابق ایک بڑے زمیندار اور سلجھی ہوئی خوبصورت لڑکی سے بیٹے کی شادی کی ہے. اب یہ کس حیثیت سے ادھر آئی ہے. وسیم صاحب اسے لیکر گھر آ گئے.

بیگم وسیم نے اسے مارا پیٹا اور کہا 

"تو نے ہمیں کیوں نہیں بتایا کہ تو اس سے طلاق لے چکی ہے. پھر وہاں گئی کیوں تھی."

وہ چلا کر بولی، 

"اپنا زیور لینے گئی تھی."

مسز وسیم نے اسے کوستے ہوئے کہا، 

"ہم نے کچھ نہیں ڈالا تھا وہ پھوپھو نے ہی ڈالا تھا" 

اس نے احساس کرتے ہوئے کہا تھا کہ آپ لوگوں کے سر پر دو مہنگی شادیوں کے خرچے ہیں.

ہم نے تو باپ کی نصیحت کی پروا بھی نہیں کی کہ بہن کو جلد اسکا حصہ دے دینا. مگر ہم نے اس کو صرف لارے لگاتے رہے کہ دیں گے مگر ارادہ نہ تھا، دیکھو ہم سے ہمارا حصہ بھی چھن گیا.

وسیم صاحب فروٹ اور سبزی کی ریڑھی لگانے لگے کیونکہ گھر میں فاقوں کی نوبت آ چکی تھی.

وہ منہ پر ماسک لگائے رکھتے. بالوں کو کلر کرنا بھی چھوڑ دیا۔ داڑھی رکھ لی تاکہ کوئی پہچان نہ سکے. مسز وسیم نے مجبوراً اہل محلہ سے راہ ورسم بڑھا لیے. اس نے بھی اپنا حال خراب کر لیا. کپڑے پرانے، اور بال بھی کلر کرنے چھوڑ دیے.

ان کے گھر کا سامان بھی سب نیلام ہوچکا تھا. جس سے لون لیا تھا اس کی بےعزتی کی تو اس نے ان سے انتقام لیا. وہ چند جوڑے کپڑے بھی مشکل سے اٹھانے دیے.

مسز وسیم کا سارا زیور بھی اس نے ہتھیا لیا. ایک سونے کا لاکٹ مسز وسیم نے بڑی مشکل سے اس سے چھپا لیا. جس سے وسیم صاحب نے ریڑھی لگا لی اور گھر کا تھوڑا بہت سامان خریدا.

وہ کہتے، 

"ہم نے کسی پر کھبی رحم نہیں کیا تھا. یہ ہمارے عملوں کا پھل ہے."

مسز وسیم کو پڑوسن نے ایک امیر گھر میں کام پر لگوا دیا.

مسز وسیم بیٹی کو بھی ساتھ چلنے کا کہتی تو وہ کہتی، 

"آپ نے تو عیاشی کا وقت خوب گزارا ہے. مجھے اور نہ سہی آرام ہی کرنے دیں."

وہ اس کی بےحسی پر دکھی ہوتی تو سوچتی، عریشہ بھی تو ایسے دکھی ہوتی ہو گی ان کی بےحسی پر. وہ اس امیر گھر میں جان توڑ کام کرتی تو بدلے میں شاباشی کے بجائے لعن طعن ملتی. بچا کھچا کھانا، پرانے کپڑے جوتے ملتے تو وہ خوش ہو جاتی. گھر کا کوئی پرانا سامان ملتا تو وہ خوش ہو جاتی.

اپنی پچھلی زندگی اسے خواب لگنے لگی. اسی محلے میں اس کی بیٹی کا ایک پرانا عاشق مل گیا. اس نے رشتہ بھجوا دیا.

وہ لوگ بہت شریف اور اچھے تھے. انہوں نے تین کپڑوں میں اسے قبول کر لیا. مسز وسیم خوش ہو گئی کہ چلو اس کا فرض بھی ادا ہوا اور اس کی ٹینشن دینے والی عادت سے بھی جان چھوٹی.

وہ اس رشتے پر راضی نہ تھی تو مسز وسیم نے اسے کوستے ہوئے کہا 

"تو کون سا حور پری ہے کہ تجھے کوئی امیر لڑکا بیاہنے آئے گا. شکر کرو شریف لوگ مل رہے ہیں."

اس کی کوٹھی والوں نے تھوڑی بہت مدد کر دی، جس سے وہ بارات کو کھانا وغیرہ کھلا سکی. بیٹی پچھتانے لگی کہ اس سے اچھا تو پھوپھو کا گھر تھا جہاں راشن کی کمی نہ تھی. عزت بھی تھی. ادھر غربت کے ڈیرے تھے. ساس کوٹھی میں کام کرنے چلی جاتی. شوہر کسی کا رکشہ چلاتا. سارا دن کام کرتا تو بمشکل اتنے پیسے ہوتے کہ مالک کو کمیشن دے کر اپنے پاس کچھ بچ سکتے. وہ بھی ساس فیکٹری کا مال لا کر دیتی اور وہ ان سے پیسے کما کر کچھ گزارا چلاتی. وہ امید سے بھی تھی طبیعت بھی بوجھل رہتی.

ماں اپنے مصروف تھی. باپ عمر سے پہلے بوڑھا نظر آنے لگا تھا. سبزی فروٹ سے بمشکل گزارا ہوتا.

بیٹا تو بےحسی کی تصویر بنا ہوا تھا. سب کچھ سننے کے بعد انہیں ہی مودالزام ٹھہراتا. 

"آپ لوگوں کی وجہ سے میرا گھر نہ اجڑے."

دراصل جس سے لون لیا تھا. وہ اپنی بیٹی اور بیٹے کا رشتہ ان سے کرنا چاہتا تھا. لون لے کر انہوں نے رشتے سے صاف منع کردیا کہ بیٹی کا بچپن سے ادھر رشتہ طے تھا اور بیٹے کا بھی ادھر کر دیا.

وہ لوگ بہت اندر سے تلملائے اور لون واپسی کا تقاضا کرنے لگے. ان کو پیسے کی قطعی ضرورت نہ تھی. کافی دولتمند لوگ تھے مگر ان کے رشتے نہ کرنے سے ضد میں آ گئے.

یہ لوگ ٹالتے رہے. پھر مسز وسیم نے کسی جاننے والی کے سامنے بول دیا 

'میرے بچے اتنے خوبصورت ہیں بھلا ان کے بدصورت بچے بھلا میرے بچوں کے ساتھ سجتے ہیں."

یہ بات ان تک پہنچ گئی اور انہوں نے ان کو سبق سکھانے کا ارادہ کیا.



Continue Reading
Episode 5
دل کا انتخاب ہو تم5

Reader Comments

No comments yet. Be the first to share your thoughts!

Log in to leave a comment.

Related Novels

Selected For You

View More Free Novels

Editor's Choice

Handpicked favorites that you shouldn't miss.

Premium Membership

Unlock the Full Library

One subscription. Every story. Unlimited reading.

PKR 300
30 Days of Unlimited Access
Go Premium Now

Secure payment  ·  Instant access

Full Novel Library
Access every premium & exclusive novel — no episode locked
Unlimited Reading
Read as much as you want, whenever you want, at your pace
Support the Author
Your subscription directly supports Abida Z Shireen's work
New Episodes First
Be the first to read every new episode as soon as it drops
A F S R N
Join thousands of readers already enjoying premium access
Loved by readers
Our Literary World

Experience the Best Urdu Novels Online

Dive into decades of storytelling by Pakistan's most beloved author, now at your fingertips.

50+
Published Novels
30+
Years of Writing
1M+
Readers Worldwide
100%
Authentic Stories
01

The Legacy of Abida Z Shireen

Welcome to the digital sanctuary of Abida Z Shireen, one of Pakistan's most celebrated literary icons. As a premier Urdu storyteller, she has spent decades crafting narratives that capture the soul of our society. This online Urdu reading platform is designed to preserve her vast Urdu literature archive, offering readers a chance to read Urdu novels online that explore the depths of human emotion, culture, and resilience.

Read Her Story
Abida Z Shireen
Author
02

Captivating Novels & Social Sagas

From suspense-filled thrillers to heart-touching social dramas, our collection features the best Urdu novels that have captivated millions in publications like Aanchal Digest. Whether you are looking for new Urdu novels 2024 or timeless classics, Abida's work provides a unique lens into family dynamics and romantic storytelling. Dive into her world and discover why she is considered a top Urdu digest writer by fans globally.

Browse All Novels
Reading Urdu Novels on Tablet and Phone
Novels
03

Soul-Stirring Urdu Poetry Collection

Beyond prose, this platform hosts an extensive Urdu poetry collection. Abida Z Shireen's verses offer a profound look into spiritual and philosophical themes, available in both Urdu and English. As a featured Urdu poet, her work serves as a bridge between traditional rhythms and modern thought. Join our community of literature lovers to explore famous Urdu poems and exclusive literary insights found nowhere else.

Explore Poetry
Elegant Desk with Pens and Books
Poetry