Dil Ka Intekhab ho Tum
5 Episodesآخری حصہ - Last Part
مسز وسیم اپنی حالت پر کڑھتی تھی. وہ سوچ بھی نہیں سکتی تھی کہ وہ کھبی اس مقام تک پہنچنے گی. کیسے ملازموں کو حقیر سمجھتی تھی. بڑے غرور سے رہتی. اپنے سے زیادہ امیروں سے دوستی رکھتی. اب اسکا غرور ٹوٹ چکا تھا. انہیں امیروں سے دوستی رکھنے کا یہ نتیجہ نکلا تھا کہ جن سے لون لے کر دھوم دھام سے شادیاں کیں. وہ لوگ رشتہ دینا اور لینا چاہتے تھے. ان کے بچے خوبصورت نہ تھے. لون لے کر شادی سے انکار کر دیا.
پھر کسی لیڈی کے سامنے بول دیا کہ اپنے بدصورت بچوں کو ہمارے خوبصورت بچوں سے شادی کروانا چاہتے تھے. بھلا وہ سجتے ہیں ہمارے بچوں کے ساتھ.
اس لیڈی نے یہ بات مسز عظمت صاحب تک پہنچا دی.
وہ غصے سے پیچ و تاب کھانے لگے.
پہلے انہوں نے اپنے سورسز سے ان کا بزنس فلاپ کروایا تاکہ یہ لون نہ واپس کرنے کے قابل رہیں.
پھوپھو کے شوہر کو احساس ہوا کہ اتنا پیسہ کس کام کا جب ہمارے بچے اعلیٰ تعلیم سے محروم رہیں. ماحول پڑھائی والا نہ ہو تو بچوں میں تعلیم کا شعور اتنا اجاگر نہیں ہوتا.
پھوپھو کو پتا چلا کہ ان کے بھائی وسیم کو لون واپس کرنے کی عظمت صاحب کی طرف سے دھمکیاں مل رہی ہیں وہ رونے لگی. اس نے شوہر سے بات کی. اس کا شوہر پہلے ہی شہر شفٹ ہونے کا سوچ رہا تھا.
انہیں پتا چلا کہ وہ انکا گھر نیلام کروانا چاہتا ہے. پھوپھو بھی عظمت لوگوں کو جانتی تھی. وہ شوہر کے ساتھ ان سے ملنے گئی اور ان کو ساری حقیقت پتا چلی. بہن نے ان کے روئیے کی معافی مانگی. ان کے شوہر نے کہا
"ہم یہ گھر خرید لیتے ہیں."
پھوپھو روتے ہوئے بولی،
"وہ لوگ اس عمر میں کہاں جائیں گے. ہم خرید کر انہیں پاس رکھ لیں گے."
مسز عظمت نے کہا،
"ہمیں ان کے لون کی واپسی کی پرواہ نہیں ہے. ہمارے پاس اللہ تعالیٰ کا دیا بہت کچھ ہے. مگر ہم انہیں سڑک پر لانا چاہتے ہیں. اگر آپ ان سے تعلق رکھیں گے یا ان کی مدد کریں گے تو ہم آپ کو نہیں بیچیں گے. اگر آپ ہمارا ساتھ دیتے ہیں ان سے لاتعلق ہو کر رہتے ہیں تو ہم یہ گھر آپ کو سامان سمیت اونے پونے داموں دیں گے اور آپ کو بزنس بھی سیٹ کر کے دیں گے کہ آپ جلد پاؤں پر کھڑے ہو جائیں گے. ہم یہ نہیں کہتے کہ آپ ہمیشہ ان سے لاتعلق رہیں مگر کم سے کم پانچ سال تک دور رہیں. ان کا غرور ٹوٹے گا تو ہمارے دل کو ٹھنڈک ملے گی."
پھوپھی کے شوہر نے کہا،
"ہمیں آپ کی ڈیل منظور ہے."
پھوپھو رونے لگی تو شوہر نے غصے سے کہا،
"یہ تمہارے باپ کی جائیداد ہے اس نے تو تمہیں حصہ بھی نہیں دیا. وہ بھی چھوڑو. میں نے کہا تھا کہ، بھائی سے کہو وہ ہمارے بیٹے کو پاس رکھ کر اپنے بیٹے کے ساتھ اسکول داخل کروا لیں تو انہوں نے صاف منع کر دیا تھا. آج وہ اس طرح اکیلے نہ رہ جاتے اگر ہماری بات مان جاتے. انہوں نے ہمارے بیٹے کے خلاف کتنی باتیں بنائی تھیں کہ اس جاہل کو لا کر اپنے بیٹے کی سبکی کروائیں وغیرہ وغیرہ."
پھوپھو شرمندہ ہونے لگیں.
مسز عطمت نے کہا،
"یہ ڈیل ہم ان سے خفیہ رکھیں گے تاکہ وہ لوگ آپ پر شک نہ کریں. وہ لوگ آپ سے مدد مانگیں اگر آپ نے خفیہ بھی کی تو جو ان کے ساتھ ہم کرنے والے ہیں، اس لسٹ میں آپ بھی شامل ہو جائیں گے."
پھوپھو کے شوہر نے کہا،
"ہم آپ کو دھوکا نہیں دیں گے اگر میری بیوی نے ان کا خفیہ بھی ساتھ دیا تو میں اسے طلاق دے دوں گا."
ڈیل ڈن ہو گئی. ان لوگوں نے ان کی بزنس میں مدد کی. پھوپھو کا بیٹا اور شوہر دونوں محنتی اور ایماندار تھے. وہ لوگ ان کو کافی مرتبہ آزما چکے تھے. وہ لوگ ان کی حالت دیکھ کر سکون محسوس کرتے.
پھوپھو اس گھر میں اپنی فیملی کے ساتھ شفٹ ہو چکی تھی. شوہر گھر کے قریب ایک خالی پلاٹ خرید کر گھر بھی تعمیر کروا رہا تھا. پھوپھو اس گھر کی ایک ایک چیز سنبھال کر پیار سے رکھتی.
بہو بہت اچھی تھی وہ ساس کا درد سمجھتی تھی اسے حوصلہ دیتی
"پانچ سال گزر جانے پر ہم انہیں ادھر لے آئیں گے."
پھوپھو روتی
"میرے بھائی کو کچھ ہو نہ جائے تو بہو تسلی دیتی کہ آپ اللہ تعالیٰ سے ان کی سلامتی کی دعائیں کریں انشاءاللہ انہیں کچھ نہیں ہو گا."
بلاول عریشہ کی یاد میں دیوانہ بنا پھرتا تھا. اس نے شراب پینی چھوڑ دی تھی، سگریٹ نوشی بھی چھوڑ دی. مسجد میں زیادہ وقت گزارنے لگا.
والدین کو کہتا،
"آپ لوگ بھی برائی کے راستے پر نہ چلیں. ہم مسلمان ہیں ہمیں اس پر فخر کرنا چاہیے نہ کہ مغرب کی تقلید میں فر فر انگلش بولنے اور ان کی طرح رہن سہن پر فخر کر کے دوزخ کا ایندھن بنیں."
وہ بیٹے کی محبت میں اس کی بات ماننے پر مجبور ہو گئے. وہ عریشہ کو تلاش کرنے کے لیے تھانے میں اس کی گمشدگی کی رپورٹ بھی درج کروا کر سارے ہاسپٹل میں بھی چیک کرتے رہے مگر وہ نہ ملی.
مایوس ہو کر بیٹے کی دوسری شادی کرنا چاہی مگر اس نے صاف انکار کر دیا
"اس کی دن رات کی دعائیں اللہ تعالیٰ ضرور سنیں گے اور اس کو مایوس نہیں کریں گے کیونکہ اسے اللہ تعالیٰ کے کرم پر بھروسہ ہے. ایک نہ ایک دن اس کی عریشہ اسے ضرور ملے گی. جب ملے گی تو بہت خوش ہو گی کیونکہ وہ جیسے مجھے بنانا چاہتی تھی میں بن گیا ہوں پھر وہ مجھے دل سے قبول کر لے گی انشاءاللہ."
وسیم صاحب کی سگی بیٹی نایاب امید سے تھی اس کی حالت کافی خراب تھی. والدین کو اس کی فکر تھی. مگر غربت کے باعث کچھ کر نہیں سکتے تھے پھر بھی اپنی ریڑھی سے اس کے لیے فروٹ لے کر جاتے. اس کے سسرال والے پہلے تو اس کی زبان درازی سے تنگ ہونے لگے پھر اس کے والدین کی وجہ سے خاموش ہو جاتے. شوہر بھی اب پریشان رہنے لگا تھا. اس نے دن رات محنت کرنی شروع کر دی اور قسطوں پر رکشہ لے لیا.
وسیم صاحب اپنی بیوی سے بولے،
"یہ امیر لوگ کتنے بےحس ہوتے ہیں اگر یہ اپنی دولت کا ایک حصہ بھی غریبوں پر خرچ کریں تو کافی لوگ بھوکے سونے سے بچ جائیں. ہم نے کون سا ان غریبوں کی طرف دھیان دیا تھا. کس قدر مشکلات کا شکار ہوتے ہیں یہ لوگ. ہمیں کھبی رات کو بھوک لگے تو کچھ کھانے کو نہیں ہوتا. کاش ہم نے پہلے کھبی ان کا احساس کیا ہوتا. کیسے ان کی قدم قدم پر عزت نفس مجروح ہوتی ہے. ہاسپٹل میں دوائی لینے کے لیے لمبی لائن میں لگنا پڑتا ہے. پھر ڈاکٹر لوگ بھی ان سے رویہ تلخ رکھتے ہیں. کسی جگہ ان کو عزت نہیں ملتی. کاش ہمارا معاشرہ اگر انہیں کچھ دے نہیں سکتا تو دو میٹھے بول عزت کے ہی بول دیا کرے تو ان کے دکھوں پر کچھ تو مرہم لگے."
ساتویں ماہ ہی نایاب کا بچہ پیدا ہوا اور وہ اس دنیا سے کوچ کر گئی. سات ماہ کا بچہ بھی بمشکل بچا. والدین غم سے نڈھال ہو گئے. سوچا بہن کو اطلاع کریں مگر پھر یاد آیا کہ وہ تو بدل چکی ہے. اس کو مدد کا فون کیا تھا تو اس کے شوہر نے فون بیوی کے ہاتھوں سے کھینچ کر ان کو صاف منع کر دیا تھا کہ اب انکا ہمارے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہے ہمیں سکون سے رہنے دیں.
وہ روتے رہے. ایک ماہ بعد نایاب کے شوہر نے دوسری شادی کر لی. نایاب کا بچہ بھی ایک ہفتے بعد فوت ہو گیا. وسیم صاحب اور ان کی بیگم روتے رہے کہ مصیبتوں نے ہمیں دیکھ لیا ہے. وہ رو رو کر اللہ تعالیٰ سے اپنے گناہوں کی معافی مانگنے لگے. ساری اکڑ نکل گئی. غرور خاک میں مل گیا.
عریشہ کے حالات سے اس کے باپ کے دشمن عظمت صاحب باخبر رہتے. وہ عریشہ کے حالات جان چکے تھے کہ وہ ان کی سگی بیٹی نہیں ہے.
عریشہ نے جاب کے لئے کافی جگہ اپلائی کیا ہوا تھا. وہ وسیم صاحب کے حالات سے بےخبر تھی. شادی کے بعد دوبارہ میکے نہیں گئی تھی کیونکہ شادی سے پہلے نایاب بھی اس پر طنز کرتی
"اب شادی کے بعد اسے میکہ نہ سمجھ لینا. یہ میرا میکہ ہے."
مسز وسیم بھی اس کو رکھائی سے کہتی،
"تم اب اپنے گھر میں سکون کرنا میکے آنے کی ضرورت نہیں ہے. ہم سے نہیں اب ان کی خاطر مدارت کی جاتی."
عریشہ نے دل میں ٹھان لیا تھا کہ وہ اب ان سے کوئی تعلق قائم نہیں رکھے گی. اس نے انجانے میں عظمت صاحب کے آفس میں بھی اپلائی کر دیا. ویسے بھی وہ کسی کے بزنس کی طرف دھیان نہیں دیتی تھی.
انہوں نے عریشہ کو اچھی جاب کی آفر دے دی. وہ پہلے ہی والدین کو وہاں سے نکالنا چاہتی تھی. اس نے اوکے کر کے وہاں سے والدین کو لے کر غریب بستی میں رہائش اختیار کر لی.
جوں ہی اس نے پہلے دن آفس جوائن کیا تو اس پر نوازشات کی بارش ہونے لگی. اس کو آفس کی طرف سے فلیٹ گاڑی میسر ہو گئی. عریشہ نے عظمت صاحب کو کھبی دیکھا نہیں تھا. ان کی بیوی کو جانتی تھی.
عظمت صاحب نے اسے بیٹی کہہ کر پکارا تو عریشہ کا اعتماد بحال ہوا. انہوں نے پہلے اسے اپنی سیکرٹری رکھا، پھر وہ کام سمجھنے لگی تو اسے اچھی پوسٹ دے کر اس کو اچھی تنخوا دینے لگے. وہ بہت زہین اور محنتی تھی. کام کو سمجھ کر عروج دیا. وہ بہت خوش ہوئے.
اب عریشہ اپنے والدین کو خوشحال دیکھ کر بہت سکون محسوس کرتی تھی. جس وقت وہ گھر سے نکلی اس کی طبیعت تھوڑی خراب تھی. کچھ وقت بعد اسے آفس کی طرف سے اسکا اور اس کے والدین کا علاج فری ہوا تو اس کے ٹیسٹ ہوئے تو پتا چلا کہ وہ پریگننٹ ہے. اس نے اس حالت میں بھی آرام نہ کیا اور آفس کا کام ورک ایٹ ہوم کرتی رہی.
عظمت صاحب اس کی قابلیت سے بہت متاثر تھے کیونکہ ان کا بیٹا شادی کے بعد امریکہ سیٹل ہو چکا تھا. اس نے اپنا بزنس وہاں شروع کر کے رہنا شروع کر دیا تھا. وہ باپ کے بزنس سے لاتعلق ہو گیا تھا. اب عریشہ نے سب سنبھال لیا تھا.
عریشہ نے ایک خوبصورت اور صحت مند بچے کو جنم دیا. نانا نانی بہت خوش تھے اسے پال رہے تھے.
وہ اسے کہتے
"اس کے باپ اور دھدیال والوں کو بھی بتا دو کہ یہ ان کا خون ہے"
مگر وہ کہتی
"ہرگز نہیں وہ لوگ اسے اپنے جیسا شرابی اور برا انسان بنا دیں گے."
ایک دن عریشہ نے ایک ریڑھی دیکھی اور فروٹ لینے کے لیے رکی. وہ نقاب لیتی تھی. جب وہ فروٹ لے رہی تھی تو اس کو شک گزرا کہ یہ وسیم صاحب ہیں. مگر وہ شش و پنج میں رہی۔
وسیم صاحب اسے پہچان نہ سکے.
اس نے کہا،
"انکل میری طبیعت خراب ہو رہی ہے کیا آپ کا گھر قریب ہے مجھے تھوڑی دیر آرام کرنا ہے چلا نہیں جا رہا، کیا گھر میں کوئی عورت موجود ہے."
وہ جلدی سے بولے،
"ہاں بیٹا چلو ہمارا گھر آپ کے شایان شان نہیں ہے."
عریشہ کنفرم کرنے ان کے گھر پہنچی تو مسز وسیم کو اس حالت میں دیکھ کر حیران رہ گئی. جلدی سے نقاب اتارا اور دھاڑیں مار کر روتے ہوئے بولی،
"یہ کیا ہوا آپ لوگوں کے ساتھ."
وہ بھی اسے گلے لگا کر روتے ہوئے بولے،
"ہمیں معاف کر دو یہ سب تمہارے ساتھ زیادتیوں کا نتیجہ ہے."
جب ان کے منہ سے سارے حالات سنے اور اپنے بتائے اور اسی وقت ان کو ساتھ زبردستی لے کر چل پڑی. اپنے گھر لے کر آئی۔
اس شاندار گھر اور اس کے والدین کو دیکھ کر وہ حیران رہ گئے کہ وہ مالک لگ رہے تھے اور وہ نوکر. وسیم اور مسز وسیم شرمندہ تھے مگر ان کے پیار بھرے روئیے سے وہ نارمل ہو گئے.
عریشہ نے ان کو اب جانے نہ دیا. ان کو الگ روم دیا اور عزت سے رکھا. ان کی خدمت اور دلجوئی کرتی. وہ اس کے ساتھ خوش رہنے لگے کیونکہ عریشہ کے والدین سے ان کی دوستی ہو چکی تھی. وہ ان کو عزت دیتے تھے اور کہتے
"آج ہماری بیٹی پڑھ لکھ کر جس مقام پر کھڑی ہے وہ سب آپ کی وجہ سے ہے. ہم آپ کی بیٹی کو وہ مقام نہ دلا سکے."
پھر اس کی وفات کا سنکر بھی وہ روتے رہے. عریشہ کا بچہ سب کی آنکھ کا تارا تھا. عریشہ نے سب کے حالات جاننے کی کوشش کی.
عظمت صاحب نے سوچا عریشہ کو سب بتا دیں. عریشہ نے ان سے چند دنوں کی چھٹی طلب کی. اس نے کھبی چھٹی نہیں مانگی تھی. انہوں نے وجہ پوچھی تو عریشہ نے سوچا ان کو بتاتی ہوں یہ مجھے بیٹی کی طرح رکھتے ہیں ان کے بہت سورسز ہیں ان سے مدد طلب کرتی ہوں.
جب عریشہ نے سارے حالات بتائے تو وہ شرمندگی سے ہاتھ جوڑ کر معافی مانگتے ہوئے بولے،
"ہمیں معاف کر دو"
پھر اسے ساری بات بتائی تو وہ چپ سی ہو کر بیٹھ گئی.
عظمت صاحب نے کہا
"انتقام سے معاف کرنا زیادہ افضل عمل ہے. اس سے اپنے گناہوں کا کفارہ بھی ادا ہوتا ہے. ہمیں اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کر کے معاف کر دینا چاہیے کیونکہ قدرت کا انتقام بہت سخت ہوتا ہے. ہمارا بیٹا ہمیں چھوڑ کر چلا گیا. بیوی کو موذی مرض لگ گیا ہے اور وہ تھوڑے عرصے کی مہمان ہے. بیٹی کو سسرال والوں نے تنگ کیا ہوا ہے اب کراس میرج ہے. ہم نے کسی کو تنگ کیا ہماری بیٹی تنگ ہونے لگی."
عریشہ نے کہا،
"چلیں کوئی بات نہیں. آپ اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کریں کہ اس نے آپ کو توبہ کرنے کی مہلت عطاء کی. اب بھی اگر توبہ کریں اور سچے مسلمان بن جائیں تو اللہ ضرور معاف فرما دیں گے."
پھوپھو کو پتہ چلا تو وسیم اور مسز وسیم کو گھر لے آئی اور عریشہ بلاول کا حال سن کر سسرال چلی گئی. بلاول اسے اور بچے کو پا کر جی اٹھا.
عریشہ نے اپنے والدین کو پاس رکھا اور وارننگ دی کہ ان کو عزت سے رکھا جائے. جن والدین کے بیٹے نہیں ہوتے ان کے سسرال والوں کو ان کے والدین کو بھی قبول کر کے پاس رکھنا چاہیے اور بیٹی کو یہ اختیار ملنا چاہیے کہ وہ شادی کے بعد اپنے والدین کا سہارا بنے گی.
اس طرح والدین بھی بیٹوں کی آس نہیں لگائیں گے اور دنیا بیٹی کی پیدائش پر بھی ویسے ہی خوشی منائے گی جو بیٹے کی دفعہ ہوتا ہے.
ناول اختتام پذیر ہوا
You've reached the end of this journey. We hope you loved every episode!

Reader Comments
No comments yet. Be the first to share your thoughts!
Log in to leave a comment.