Meri Sar Phiri
Episodes
دسواں حصہ - 10th Part
ہمشا اندر آئی تو تائی جلدی سے پہنچ گئی اور اسے دھکے سے باہر نکالنے لگی. ہمشا نے تایا اور دادی کو زور زور سے آوازیں دیں. تایا تو نہ آئے البتہ دادا دادی آ گئے. اُس نے زور زور سے یاسمین باجی کو آوازیں دیں. وہ روتی ہوئی دوڑ کر دادی کے گلے لگی. دادی کا خون جوش مار گیا اور انہوں نے اُسے گلے سے لگا لیا.
ہمشا نے روتے ہوئے ساری سچائی بتا دی.
دادا نے پاس آ کر کانپتے ہاتھوں سے اُسے گلے لگا کر روتے ہوئے کہا
"شُکر ہے تُو واپس آ گئی. ہم سب بہت پریشان تھے."
تائ بڑبڑائی
"ہم نے تو سُکھ کا سانس لیا تھا."
دادی نے اُسے اپنے کمرے میں لے جا کر بٹھایا اور ملازمہ سے کہا،
"اس کے لیے کچھ کھانے پینے کے لیے لے آؤ."
ہمشا نے ملازمہ کی طرف دیکھ کر پوچھا
"یہ کون ہے."
تائی نے غصے بھرے لہجے میں کہا،
"یہ نئی ملازمہ ہے دن رات کے لیے رکھ لی ہے."
دادی نے بہو کو غصہ دیکھاتے ہوئے کہا،
"دیکھ نہیں رہی ہو یہ کس مصیبت سے واپس آئی ہے. یہ سچ کہہ رہی ہے میری پوتی جھوٹ نہیں بولتی. جاؤ اس کے لیے کچھ کھانے پینے کے لیے لے آؤ."
تائی نے دیکھا اب ساس کے آگے نہیں چلنی،تو جھٹ پیار سے بولی،
" شُکر ہے بیٹی تُو گھر سلامت آ گئی."
پھر تائی منہ بنا کر تیزی سے چل پڑی. ہمشا نے زور سے آواز لگا کر کہا،
"تائی اماں اچھی سی چائے بھی بنا کر بھیجیے گا وہ بھی میرے والے کپ میں."
ہمشا نے دادی سے پوچھا،
"میری موجودگی کے بغیر ہی میری کزن کی تایا نے شادی کر دی اور ہاں تایا ابا کدھر ہیں اور یاسمین باجی کدھر ہیں.
پھر جوش سے بولی،
"ہاں دادی میں مٹھائی بھی لائی ہوں. ایک خوشی کی خبر ہے."
اتنے میں دادا نے پوچھا،
"بیٹی کیا تیرا نکاح نامہ تیرے پاس ہے."
ہمشا نے کہا
"جی دادا ابو، میں ثبوت ساتھ لائی ہوں."
پھر اُس نے پوچھا،
"تایا کدھر ہیں."
دادی اماں نے کہا
"تُو چائے وغیرہ پی لے پھر سب بتاتی ہوں."
وہ گھبرا کر پوچھنے لگی،
"سب ٹھیک ہے نا. سب کدھر ہیں."
دادی اماں نے کہا،
"سب ادھر ہی ہیں."
ہمشا نے پریشانی سے کہا
"دادی مجھے ٹینشن ہو رہی ہے چائے میں بعد میں پی لوں گی. پہلے مجھے بتائیں کیا بات ہے."
دادی اماں نے لمبی سانس کھینچنے کے بعد بتانا شروع کیا
"تیرے تایا نے بہت غلط کام کیا ہے سب کا بھروسہ توڑا ہے."
ہمشا نے چلا کر جلدی سے گھبرا کر پوچھا،
'کیا ہوا ہے."
دادی اماں بتانے لگی
"تیرا فون آیا تھا کہ تُو نے یاسمین کے شوہر کو دیکھا ہے. وہ یہ بات چپکے سے کچن میں تیرے تایا کو بتا رہی تھی. تیری تائی کچن میں کسی کام سے گئی تو وہ اُسے تسلیاں دے رہے تھے."
تائ نے دونوں کو رنگے ہاتھوں پکڑ کر خوب شور مچایا واویلا کیا. یاسمین کو بہت مارا. پھر تیرے تایا نے کہا،
"وہ یاسمین سے نکاح کر کے گھر لائے ہیں اور بچہ بھی اُن کا ہے."
ہمشا نے جوشیلے انداز میں خوشی سے کہا،
"تو دادی اماں اسی لیے تو میں مٹھائی لائی ہوں کہ وہ ہمارا اپنا ہے. میرا تایا زاد بھائی ہے."
دادی نفرت سے بولی،
"توبہ کر نہ جانے وہ کون عورت ہے کس قماش کی ہے. نہ جانے اپنا ہے بھی کے نہیں."
ہمشا نے اداسی اور مایوس لہجے میں کہا،
"دادی، انسان کا پتا چل ہی جاتا ہے. یاسمین باجی کم سے کم آپ کی بھانجی تائی سے بہتر ہے."
دادی ایکدم غصے سے بولی،
"خبردار جو تُو نے میری اُس خاندانی بہو کے ساتھ اُس کو ملایا."
ہمشا نے کہا
"دادی، تایا نے یقیناً کوئی ثبوت ضرور رکھا ہو گا ڈی این اے ٹیسٹ کا."
دادا بولے،
"ہاں اُس نے لا کر نکاح نامہ اور ٹیسٹ دونوں دیکھائے تھے. یہ سچ ہے کہ وہ ہمارا پوتا ہے. میں بھی اسے یہی سمجھاتا ہوں."
دادی گرج کر بولی،
"آپ چپ کریں، میں بیٹے کو کھبی معاف نہیں کروں گی. میں بہت مان سے بہن سے رشتہ لائی تھی کہ اُسے یہاں کوئی دکھ نہیں ہونے دوں گی. ایک میرے نامعقول بیٹے نے اُس پر سوکن لاد دی. عورت کے لیے سب سے بڑا دکھ سوکن کا ہوتا ہے. میں نے اپنی بھانجی کو پھولوں کی طرح رکھا اور اُس نے اُسے دکھوں سے دوچار کر دیا."
ہمشا نے صفائی دیتے ہوئے کہا،
"انہوں نے کوئی گناہ تو نہیں کیا. ایک شرعی حدود میں رہ کر ایک جائز خواہش پوری کی ہے. آپ کو تو خوش ہونا چاہیے کہ آپ کو پوتا اور ایک اچھی فرمانبردار بہو مل گئی. جس نے کھبی اپنا حق نہیں جتایا."
دادی غصے سے بولی،
"بس کر تایا کی چمچی. ایک نوکرانی کے لیے اپنی تائی کو پیچھے کر رہی ہے. بجائے کہ تائی کے دکھ کو بانٹے. بڑی مشکل سے اُسے منا کر میکے سے واپس لائی ہوں."
ہمشا بڑبڑا کر بولی،
"تائی میں خوبی کون سی ہے، قد چھوٹا اور زبان لمبی. میرے تایا اعلیٰ تعلیم یافتہ اور وہ مڈل پاس بھی نہیں."
دادی نے کہا
" اسی لئے تو اپنی بھانجی کو بیاہ کر لائی ہوں کہ بیٹا اتنا پڑھا لکھا، اچھا کماتا ہے تو کسی اور لڑکی کو تخت پر بٹھا کر راج کرنے سے اپنی بھانجی کو راج کیوں نہ کراؤں."
ہمشا طنزیہ بولی،
"بیٹا بے شک پُل صراط پر چلتا رہے بس بھانجی خوش رہے. میں تایا کے پاس جا رہی ہوں کدھر ہیں تایا."
ملازمہ چائے کی ٹرالی لے آئی.
ہمشا نے کہا،
"میں مہمان نہیں ہوں. مجھے میرے کپ میں چائے لا کر دو. تائی سے پوچھو کدھر ہے کپ میرا. ورنہ یہ ٹرالی میں تمہارے سر پر الٹ دوں گی. تایا کدھر ہیں کوئی کیوں نہیں بتا رہا."
دادا بولے،
"وہ کمرے میں ہی ہے بیمار ہے."
ہمشا تڑپ کر بولی،
"کیا ہوا انہیں، آپ لوگوں نے ہی ٹینشن دے کر بیمار کیا ہو گا. اتنی دیر سے کوئی اُن کے پاس نہیں گیا."
دادی بولی،
"دن رات کے لیے آفس سے لڑکا لایا ہوا ہے."
ہمشا غصے اور دکھی لہجے میں بولی،
"بہت افسوس ہے. گھر والے دیکھ بھال نہیں کر سکتے."
تایا کی چھوٹی بیٹی بار بار چکر لگا رہی تھی اور ساری باتیں سُن رہی تھی. تائی بھی ملازمہ کو چائے کا کہہ کر چکر لگا رہی تھی اور سب سُن رہی تھی. تائی کی بیٹی نے ہمشا کا کپ ڈھونڈ کر ملازمہ کو دیا.
ہمشا تایا کے کمرے میں بغیر کھٹکھٹائے جلدی سے اندر چلی گئی. لڑکا سو رہا تھا صوفے پر. ہمشا تایا کے قریب گئی وہ بہت کمزور اور لاغر لگ رہے تھے.
وہ لڑکے کو زور سے چلا کر بولی،
"تُم ادھر سونے آئے ہو یا ان کی دیکھ بھال کرنے."
وہ حیران ہوتا ہوا ہڑبڑا کر اُٹھا.
ہمشا نے کہا،
"میں اب آ گئی ہوں تُم ابھی جاؤ کمرے سے جب بلاؤں گی تو آ جانا."
وہ تیزی سے باہر نکل گیا. ہمشا تایا پر جُھکی روتے ہوئے بولی،
'میں آپ سے سوری نہیں بولوں گی. کیونکہ میں بےقصور ہوں. میں دوہائی دیتی رہی کہ میں قید میں ہوں. مگر کسی نے میری بات کا یقین نہیں کیا. بس تائی نے اپنا عرصے کا حسد نکالا اور سب نے یقین کر لیا. اگر میری جگہ تائی کی بیٹی ہوتی تو وہ پھر بھی ایسا کرتی. ہنگامہ مچا دیتی رو رو کر کہ مجھے میری بیٹی چاہیے. چاہے عزت سلامت ہو یا نہ ہو. ادھر اللہ تعالیٰ نے میری عزت محفوظ رکھی. اگر میرے والدین زندہ ہوتے تو شاید وہ میری بات پر یقین کر لیتے اور مجھے ڈھونڈ نکالتے."
تایا شرمندہ ہو کر آنسو بہا کر ہاتھ جوڑ کر اُس سے معافی مانگنے لگے. ہمشا نے تڑپ کر اُن کے ہاتھوں کو چوما اور بولی،
"میں جانتی ہوں آپ مجھ سے بہت پیار کرتے ہیں اور مجھ پر یقین بھی تھا مگر دادی اور تائی سے ڈرتے تھے بزدل تھے."
وہ گردن اثبات میں ہلانے لگے. ملازمہ چائے لے کر آ گئی.
ہمشا نے اُسے ڈانٹتے ہوئے کہا،
"کھٹکھٹائے بغیر مت آنا دوبارہ."
تایا کی بیٹی اور تائی مسلسل چکر کاٹ رہی تھیں. ہمشا نے تایا کے سر کو چُوما اور انہوں نے بھی اُس کے ہاتھوں کو لرزتے ہوے پیار کیا اور شفقت سے مسکرا کر پیار سے ہاتھ پھیرا اور چائے پینے کا اشارہ کرنے لگے.
ہمشا نے جلدی سے چائے پی اور ساتھ کچھ جلدی جلدی کھایا کیونکہ اُسے سخت بھوک لگی ہوئی تھی. پھر کھا کر فارغ ہو کر بولی،
"ہاں اب بتائیں آپ بیمار بن کر کیوں لیٹے ہوئے ہیں. میں مٹھائی لائی ہوں، آپ کے بیٹے کی خوشی میں. ابھی تک میں اپنی چھوٹی تائی اور بھائی سے نہیں ملی اور آپ بتائیں کہ کیا ہوا. مختصر بتائیں."
ہمشا نے ڈرائیور والی ساری بات بتا دی.
وہ کمزور سے لہجے میں آہستہ آہستہ بولنے لگے
"سب نے بہت بُرا منایا. بیوی نے میکے والوں کو فون کرکے رکشہ لے کر میکے چلی گئی. میکے والے آ کر گرجنے لگے. یاسمین کو تمہاری تائی بہت پیٹ کر گئی تھی. بمشکل میں نے اسے لان میں چھوٹے سے کمرے میں رہنے بھیج دیا. اُس کا سامان وہاں شفٹ کر دیا. وہ وہاں بُری حالت میں گرمی میں رہ رہی ہے. بیٹا بمشکل سکول جاتا ہے. میری ماں نے مجھے چھوڑ دیا. بھانجی کو اپنے کمرے میں سلاتی ہیں. میں بیمار ہوا کسی نے نہ پوچھا، آخر میں دفتر سے ملازم لڑکا لے آیا وہ بھی خاص توجہ نہیں دیتا."
وہ بولی،
"ہاں میں دیکھ چکی ہوں. بس آپ جلدی سے ٹھیک ہو جائیں اور واش روم جانے کے خود قابل ہو جائیں تو پھر اس کی چھٹی کر کے میں خود آپ کی دیکھ بھال کروں گی اور یاسمین اور بچہ آج رات ہی ادھر اپنے روم میں لے آؤں گی اور جب آپ ٹھیک ہو جائیں تو یاسمین باجی آپ کے روم میں آ جائے گی میں دیکھتی ہوں کون روکتا ہے مجھے."
تایا خوش ہو کر بولے،
"بیٹی تُو اکیلی ہے کچھ نہیں کر سکتی."
وہ ایکدم جوش سے بولی،
"مجھے چیلنج نہ کریں. میں ابھی سب کچھ کر کے دیکھاتی ہوں."
وہ جوش سے اٹھی اور تیزی سے کمرے سے باہر نکل کر اپنے روم میں گئی. دیکھا تایا کی بیٹی بیڈ پر بیٹھی ہوئی تھی.
ہمشا نے چلا کر کہا،
"تُم ادھر کیا کر رہی ہو."
وہ ہکلانے لگی، جھٹ تائی اندر آ کر بولی،
"یہ اب اس کا کمرہ ہے."
ہمشا کمرے سے نکلی، تایا کے ملازم کو کچھ ہزار کے نوٹ دے کر کہا،
"جیسا میں کہوں کرو گے یا میں یہ پیسے کسی اور کو دے کر کروا لوں."
وہ جھٹ بولا
"جی میں کروں گا."
ہمشا نے اُسے کہا
"میرے ساتھ آؤ."
پہلے وہ یاسمین کے پاس گئی. ادھر بہت گرمی تھی. اور ایک چھوٹا پنکھا چل رہا تھا. بیٹا بھاگ کر خوشی گلے لگ کر روتے ہوئے بولا،
"ہمشا آپی، میں آپ کا بھائی ہوں. آپ کے تایا میرے فادر ہیں."
ہمشا نے اُسے پیار کرتے ہوئے روتے ہوئے کہا
"تُم نے ہم سب کے بھائی کی کمی پوری کر دی ہے. اب فکر نہ کرو تُم لوگوں کو تمہارا حق دلا کر رہوں گی انشاءاللہ."
پھر یاسمین سے گلے لگتے ہوے بولی،
"چھوٹی تائی صاحبہ آپ تو چھپی رستم نکلیں."
وہ شرما کر اُسے بےتحاشا چومنے لگی. وہ روتے ہوئے بولی،
"دنیا میں ایک تُم ہی اللہ تعالیٰ کے حکم سے ہمارا سہارا ہو. تمہیں دیکھ کر ہم اپنی ساری تکلیفیں بھول گئے ہیں."
ہمشا نے اس کے آنسو صاف کرتے ہوئے کہا
"اب بس رونا دھونا ختم. اب خوشیوں کے دن شروع."
پھر اس لڑکے کو بلا کر ہدایت دی کہ انکا سارا سامان اٹھا کر سٹور میں لے چلو. یاسمین کچھ گھبرا کر بولی،
"کیا کر رہی ہو."
ہمشا نے تسلی دینے والے انداز سے کہا،
"یاسمین باجی، پلیز اپنے حق کے لئے لڑنا سیکھیں."
وہ آہستہ سے بولی،
"میں کمزور سی عورت کیسے سب کا مقابلہ کر سکتی ہوں."
وہ بولی،
"دیکھو اگر کوشش کرنا ہی نہیں چاہو گی تو کوئی تھالی میں سجا کر تمہیں تمہارا حق نہیں دے گا. وہ دیکھو تمہارا لگ بھگ دس سال کا بیٹا ہے شاید"
وہ مسکرا کر بولا،
"آپی ماما بہت ڈرتی رہتی ہیں. میں کہتا ہوں نہ ڈریں مجھے مقابلہ کرنے دیں."
وہ ڈر کر بولی،
"کیسے اپنے اکلوتے بیٹے کو دشمنی میں ڈال دوں."
ہمشا نے مزاق والے انداز میں کہا،
"اُس دو فٹ کی تائی سے ڈرتی ہو تمہاری ٹانگ جتنی ہے اور بوڑھی دادی کیا کر سکتی ہے. شوہر تمہارا بزدل ہے مگر تم تو بہادر بنو. بیٹے کو بھی بزدل نہ بناؤ ورنہ تمہاری طرح روتا رہے گا اور دنیا رلاتی رہے گی."
بچہ بولا،
"مجھے کسی کو کچھ کہنے نہیں دیتی ہیں.
ہمشا نے کہا،
"اف کتنی گرمی ہے ادھر کھڑا نہیں ہوا جا رہا. توبہ آپ کیسے ادھر رہتی تھیں. اب ایک منٹ بھی ادھر نہیں رہنے دوں گی چلو جلدی چلو."
یاسمین جھجکتے ہوئے اندر آئی. بچہ خوش تھا. اتنے میں تائی غصے سے آئی اور شور کرنے لگی.
"خالہ جی جلدی آئیں دیکھیں یہ کیا ہو رہا ہے."
دادا دادی دونوں جلدی سے باہر آئے. تایا بھی آہستہ آہستہ چلتے باہر آ گئے.
تائی یاسمین کو مارنے لگی تو اسکا بیٹا ماں کے آگے کھڑا ہو گیا
"کوئی میری ماں کو ہاتھ نہیں لگائے گا."
سب اُسے حیرت سے دیکھنے لگے. تایا مسکرا کر بولے،
"شاباش میرے بیٹے."
پھر قریب آ کر بولے،
"باپ سے زیادہ تو تُم بہادر نکلے"
اور اونچی آواز میں بولے،
"یاسمین آج سے میرے روم میں رہے گی."
ہمشا خوشی سے بولی،
"گُڈ تایا جی."
وہ ملازم لڑکے سے بولے،
"اسکا سامان میرے روم میں رکھو.
تائی کی بیٹی نے ہمشا کے آتے ہی اپنے ماموں وغیرہ کو فون کر دیا تھا. تائی دھمکی والے انداز میں بولی،
"فکر نہ کرو میرا بھائی اور بھابھی اور والدین آ رہے ہیں. دیکھو کیسے ان لوگوں کو دھکے دے کر نکالتے ہیں."
یاسمین ڈرنے لگی. ہمشا نے تسلی دی. اتنے میں وہ لوگ غصے سے بھرے اندر داخل ہوئے. بھائی اور ماں چیخ کر بولے،
"یہ کیا تماشا لگا رکھا ہے."
ماں سینے پر ہاتھ مار کر بولی،
"کوئی میری بیٹی کو تنگ تو کر کے دیکھائے."
بھائی گرج کر بولا،
"ہم پر بہن بھاری نہیں ہے."
ہمشا کی دادی کی طرف دیکھ کر بولا،
"خالہ پہلے بھی آپ کے منتیں کرنے پر بہن واپس بھیج دی تھی. اب یہ سب کیا ہے. یہ ہمشا کدھر سے منہ کالا کر کے واپس آ گئی ہے."
تایا گرج کر بولے،
"خبردار جو کسی نے میری بیٹی کے بارے میں کوئی غلط بات کی."
ماموں حیرت سے دیکھنے لگا.
تائی نے ساس کو دیکھ کر کہا،
"خالہ آپ بیٹے کو بولیں کہ ایک میان میں دو تلواریں نہیں رہ سکتیں. اسے طلاق دے یا مجھے."
تایا نے کہا،
"میں یاسمین کو نہیں چھوڑ سکتا."
تائی ساس کو غصے سے بولی،
'خالہ آپ کے بیٹے کی ایک بیوی ادھر رہے گی دوسری کو طلاق دینا ہو گی."
تائی، تائے کو چیخ کر بولی،
"آج آپ کو کسی ایک کو چننا ہو گا."
تایا تحمل سے بولے،
"میں نے یاسمین کو چن لیا."
تائی غصے سے بولی،
"پھر مجھے طلاق دو."
بھائی بولا،
"ہاں ہماری بہن کو طلاق دو."
تایا نے ایک لمبی سانس کھینچی، پھر سب کی طرف دیکھا. تائی ہنوز اکڑی کھڑی تھی. تائی کی ماں غرور سے بولی،
"پھر ہماری بیٹی کو طلاق دو."
تائی زور دیتے ہوئے بولی،
"اب کیا ہوا طلاق کے نام سے سانپ سونگھ گیا ہے دو نا طلاق، بڑے آے."
وہ بڑبڑائی.
تایا نے ہمشا سے کہا،
"موبائل پر مووی بناؤ."
وہ بولی،
"تایا جان آپ کا بیٹا بنا رہا ہے اور میں نے ملازم لڑکے کو بھی موبائل دے کر مووی بنانے کا کہا ہے."
ماموں بولا،
کیوں بنا رہے ہو اس تماشے کی مووی."
تائی غرور سے بولی،
"پہلے تو انہیں معاف کر دیا تھا اور میں واپس آ گئی مگر اب واپس نہیں آؤں گی جب تک آپ فیصلہ نہیں کرتے."
ہمشا نے تایا کے قریب جا کر کہا،
"آپ کا کیا فیصلہ ہے."
وہ تائی کی طرف دیکھ کر بولے،
"ٹھیک ہے میں طلاق دینے کو تیار ہوں کسی کو اعتراض تو نہیں."
یاسمین کچھ بولنے لگی تو ہمشا نے ہاتھ پکڑ کر تسلی دی.
تائی بولی،
"دیں طلاق اُسے یا مجھے."
تایا بولے،
"ٹھیک ہے"
تائی کی طرف دیکھ کر بولے،
"شمسہ میں نے تمہیں طلاق دی"
تین بار بول کر یاسمین اور بچے کا ہاتھ پکڑ کر اندر جا کر دروازہ بند کر دیا.
ہمشا نے دیکھا تائی روتے روتے گرنے لگی. اُس کی ماں سینہ پیٹنے لگی اور بہن کو کوسنے لگی. بہن نے رُکھائی سے جواب دیا،
"طلاق کے زمہ دار آپ لوگ ہیں. آپ اب اسے لیکر چلے جائیں. یہ اب میرے بیٹے کے لیے نامحرم ہو گئی ہے."
تایا کی بیٹی روتی ہوئی ماں سے لپٹ گئی. ہمشا کی آنکھیں بھی بھر آئیں.
ہمشا نے کہا،
"اب جو آپ لوگ چاہتے تھے وہ ہو گیا. آپ پر بہن بھاری نہیں تھی. یا صرف باتیں ہی تھیں."
ہمشا نے تایا کی بیٹی سے کہا،
"اپنا اور ماں کا ضروری سامان جلدی ڈالو. اب کچھ نہیں ہو سکتا."
وہ روتے ہوئے سامان پیک کرنے لگی.
نانی نے نواسی سے کہا،
"زیورات اور پیسے بھی ڈال لو. سب قیمتی چیزیں."
دادا دادی اپنے کمرے میں چلے گئے.
نانی نواسی کے ساتھ قیمتی سامان بھرنے لگی. بہو بھی ساتھ پیکنگ میں مدد کرنے لگی. نانی بھر بھر کر بیٹے کو سامان پکڑانے لگی. وہ بےزار سا شکل بنا کر بولا،
"اماں اتنا سامان کیوں لے کر جا رہی ہیں گھر میں اتنی جگہ نہیں ہے."
نانی کو جب تسلی ہو گئی تو بیٹی کو لے کر چل پڑی. تائی مرے مرے قدموں سے گاڑی میں بیٹھی. جگہ تنگ ہونے لگی تھی بمشکل پورے آئے. کچھ سامان پاؤں میں کچھ گود میں رکھا. سب کے جانے کے بعد رمشا نے تایا کو تسلی دی جو رو رہے تھے. دادی پر ہمشا کو حیرت ہو رہی تھی کہ وہ بیٹے کو تسلی دیتے ہوئے یاسمین کو گلے لگا کر کہہ رہی تھیں
"تُم نے ہم سب کو بہت سُکھ دیے۔ بیٹا دیا. وہ عورت جب سے آئی زندگی کو مشکل ہی بنائے رکھا. بیشک اُس کے اجڑنے کا دکھ ہے مگر یہ بھی راستہ خود اُسی نے اپنے لیے چنا ہے. اُس کو قدرت نے سنبھلنے کا موقع دیا تھا مگر اُس نے تو میرے بیٹے کو چارپائی سے لگا دیا تھا. کچھ عرصہ اور رہتی تو یہ شاید مر ہی جاتا. کیسے ہمشا اور یاسمین نے پھر سے اسےاپنے پاوں پرکھڑا کر دیا ہے. خوش رہو تم دونوں."
ہمشا نے تایا کو دیکھا، اور بولی،
"تایا آپ بس چھوڑیں پریشان ہونا. میں مٹھائی لائی تھی وہ کھاتے ہیں."
ہمشا مٹھائی لے آئی. یاسمین ساتھ سب کے لیے دودھ کے گلاس لے آئی، جانتی تھی آج کوئی کھانا نہیں کھا سکے گا. بےدلی سے سب نے مٹھائی کھائی. تایا کو دوا دے کر سلا دیا گیا.
تائی کے لیے قیامت کی رات تھی. آتے ہی بھائی نے کہا
"اتنا سامان کیوں لے آئی جگہ نہیں ہے. کچھ کم کرو."
بھابھی نے کہا،
"بیٹی کا سامان لانے کی کیا ضرورت تھی یہ تو باپ کے گھر رہے گی. اتنی جگہ کہاں ہے."
ماں نے بیٹی کو کوسا،
"کیا ضرورت تھی طلاق مانگنے کی. اچھی بھلی آرام سے رہ رہی تھی. ہمیں فون کر کے بلا لیا. اور یہ چاند چڑھا دیا."
تائی سوچ بھی نہیں سکتی تھی سب اتنی جلدی بدل جائیں گے. وہ بہت بیمار ہو گئی. ہمشا تائی کی بیٹی کو روز فون کرتی. ادھر یاسمین سے تایا بہل گئے تھے خوش رہنے لگے تھے. دادی کے کہنے پر ماں بیٹے کو شاپنگ پر لے گئے. ہمشا کو بھی کہا مگر وہ ساتھ نہ گئی بلکہ ہدایت کی کہ آپ لوگ کھانا باہر کھا کر آنا.
تایا نے بیوی کو کپڑے جوتے اور سونے کا ایک لاکٹ سیٹ بھی لے کر دیا. یاسمین نہ نہ کرتی رہی پھر خوش ہو گئی. بیٹے کو اور یاسمین کو اچھا موبائل بھی لے کر دیا اور لیب ٹاپ بھی. اس نے کھلونے لینے سے انکار کر دیا کہ وہ اب بڑا ہو گیا ہے. رات کو کھانا کھا کر خوشی خوشی گھر آئے.
دادی نے کہا،
"پہلی بار بیٹے کو اتنا خوش دیکھ رہی ہوں. کاش میں نے اس کے ساتھ زبردستی نہ کی ہوتی. میں اُس کی عادتوں سے تنگ پڑ جاتی تھی مگر بیٹا صبر سے نبھانے جا رہا تھا."
دادا نے کہا،
"اسی لیے تو اسے اچھا پھل ملا ہے."
ہمشا اکثر بازل کے بارے میں سوچتی. بازل اپنی بیوی کے ساتھ خوش رہ رہا ہو گا. بڑی آپا کو اُس نے فون کر کے بتا دیا تھا کہ اب وہ اپنے گھر پہنچ چکی ہے اور اب خلع لے گی. بازل نے اُسے کئی فون کیے، ڈانٹا، دھمکیاں دیں کہ واپس آ جاؤ. مگر وہ مسلسل انکار کرتی رہی.
تائی کی طبیعت بہت خراب ہوئی تو اُس کی بیٹی نے روتے ہوئے فون کیا. ہمشا نے ایمبولینس بھیج کر کہا،
"فکر نہ کرو ہم ہاسپٹل پہنچ رہے ہیں."
وہ راستے ہی میں دم توڑ گئی. اُس کی ماں باڈی اپنے گھر لے گئی. یہ لوگ افسوس کے لیے گئے تو اُن لوگوں نے بےعزت کر کے گھر سے نکال دیا. پوتی کو غصہ آیا اُس نے سامان اٹھا کر باپ کے ساتھ جانے کا ارادہ کر لیا. وہ باپ کے گھر آ گئی. بڑی بیٹی بھی باپ اور یاسمین سے معافی مانگنے لگی.
یاسمین نے کہا،
"میں تمہاری ماں ہوں."
واقعی اس نے اُن کی ماں بن کر دیکھایا. چھوٹی بہن اور بھائی میں خوب دوستی ہو گئی. چھوٹی بہن کو پڑھنے کا شوق تھا. وہ یونیورسٹی جانے لگی. گھر کا ماحول بہت خوشگوار رہنے لگا. بڑی بیٹی اور داماد بھی آ کر خوش ہوتے.
ایک سال گزر گیا. بازل کا بیٹا پیدا ہوا. گاؤں میں بہت خوشی منائی گئی.
چھوٹی آپا کے شوہر نے دونوں بہنوں کو باتیں کرتے سن لیا تھا کہ وہ اب ماں نہیں بن سکتی اور وہ اس سے شادی سے پہلے کسی ماسٹر صاحب سے شادی کرنا چاہتی تھی. اُسے بہت غیرت آئی وہ ایک دور دراز کی رشتے دار لڑکی سے نکاح کر کے گھر لے آیا. سب اسے بھولا بھالا کہتے تھے کہ اس کے منہ میں زبان نہیں ہے.
چھوٹی آپا نے غصے سے کہا،
"مجھے طلاق دو."
اُس نے سب کے سامنے تین طلاقیں بول دیں. چھوٹی آپا میکے آ گئی اور بھائی سے بولی،
'تُم بھی اسے طلاق دو."
چچا نے آ کر رو رو کر بیٹے کی طرف سے بہت معافیاں مانگیں. بازل کی بیوی نے روتے ہوئے کہا،
"مجھے طلاق نہ دو. میرا بچہ رُل جائے گا."
سب نے چچا کو معاف کر دیا اور چھوٹی آپا غصے سے بازل کے پاس شہر چلی گئی. وہاں جا کر پتا چلا کہ بازل نے ماسٹر کو اپنے ساتھ کام پر آفس میں رکھا ہوا ہے. اس کی بیوی دوسرے بچے کی پیدائش کے وقت فوت ہو گئی. دادی دو بچوں کو بمشکل سنبھالتی. بازل نے چھوٹی آپا کا نکاح پڑھوا کر ماسٹر کے ساتھ رخصت کر دیا. کیونکہ اس نے ایک دن دونوں کی باتیں سن لی تھیں کہ وہ پرانے عاشق تھے.
تایا نے ہمشا کے لیے دو پڑھے لکھے دو اچھے خاندانوں کے رشتے بتائے اور کہا
"ایک ان میں سے سلیکٹ کر لو اور جلدی سے خلع لو. کب تک اسی طرح رہو گی اس گنوار کے نکاح میں. جبکہ پڑھے لکھے رشتے موجود ہیں. ان لوگوں کو تمہاری سابقہ نکاح پر بھی کوئی اعتراض نہیں ہے. وہ ہمیں جانتے ہیں."
ہمشا نے سوچا، بازل کو بلاتی ہوں اور بلا کر اس کے سامنے طلاق کا مطالبہ کروں گی اور بتاؤں گی کہ دونوں لڑکے انجینئر ہیں اس کی طرح انپڑھ نہیں.
بازل نے جب سنا کہ وہ اسے گھر بلا رہی ہے تو اس نے سوچا کہ گھر والوں کو لے کر جاتا ہوں شاید ان کی بات مان کر واپس آ جائے. بازل کی بیوی نے ضد کی کہ میں نے بھی جانا ہے. ہمشا خوشی خوشی آج صبح سے ان لوگوں کی آمد کی تیاریاں کر رہی تھی. کھانے پکوا رہی تھی. سب اس کا جوش و جزبہ دیکھ کر حیران ہو رہے تھے.
جب سب آئے تو بازل کو دیکھ کر نہ جانے کیوں اسے خوشی محسوس ہوئی. تایا ان گاؤں والوں کو دیکھ کر قدرے بےزار سے ہو گئے. ان کے دیہاتی لباس، بول چال سب دیکھ کر انہیں وہ لوگ ہمشا کے لیے مناسب نہ لگے. پھر بازل اپنی گاؤں کی بیوی اور بچے کے ساتھ آیا.
بازل اس کے تایا کی گریس فل پرسنیلٹی سے بہت متاثر ہوا. اس کا گھر دیکھ کر بھی لگا کہ شاید وہ سچی تھی. واقعی وہ بدل گئی تھی. وہ لڑکی کوئی اور تھی. اسے اپنے کیے پر دل میں افسوس ہوا. بازل کی بیوی سے ہمشا بہت خوشی سے بات چیت کر رہی تھی. اس کے بچے کو لاڈ کر رہی تھی. اس کے لیے کھلونے اور کپڑے خرید کر لائی تھی. دادی حیران ہو رہی تھی کہ بھلا سوکن کے لیے اتنا پیار.
سب کے لیے کپڑے خرید کر لائی. بازل کے لیے جان بوجھ کر پینٹ شرٹ لے کر آئی اور سوچا کتنا مزہ آئے گا. جب وہ یہ دیکھے گا.
بابا سائیں نے کہا،
"ہم اپنی بہو کو لینے آئے ہیں."
تایا نے تھوڑا برہمی سے کہا،
"ہماری بیٹی اعلیٰ تعلیم یافتہ ہے. آپ کے بیٹے نے جو کیا ہم نے بیٹی کے کہنے پر معاف کر دیا."
بابا سائیں معزرت کرنے لگے. دادی نے بیٹے کو کول کروایا کہ یہ ہمارے گھر مہمان ہیں.
بڑی آپا گاؤں سے اُس کے لیے گاوں کی سوغاتیں لے کر آئی. ڈھیروں پھل فروٹ وہ لوگ لے کر آئے.
تایا نے کہا،
"ابھی ہمیں کچھ سوچنے کا وقت دیں. ہماری بیٹی کے لیے کنوارے اور پڑھے لکھے لوگوں کے رشتے آئے ہوئے ہیں. آپ کا بیٹا کم پڑھا لکھا، شادی شدہ اور ایک بچے کا باپ ہے."
بابا سائیں صفائی دیتے ہوئے بولے،
" یہ بہو ہماری ہمیشہ گاؤں میں رہے گی. کوئی دخل اندازی نہیں دے گی."
بہو نے بھی ہاں میں ہاں ملائی. بابا سائیں بولے،
"او پتر تُو کالج کی وہ کچھ فائلیں لایا تھا بتا ان کو کہ تُو بھی کچھ پڑھا ہوا ہے."
تایا نے تھوڑا طنزیہ انداز میں پوچھا،
"ہاں بتاو کتنی کلاسیں پڑھے ہوئے ہو. میرا خیال ہے انگلش میں بتاؤ."
جب بازل نے زبردست انگلش بولی تو تایا پہلو بدل کر رہ گئے. ہمشا بھی حیران رہ گئی. وہ تو اچھی خاصی انگلش بول لیتا تھا. ہر بات کا انگلش میں جواب دے رہا تھا.
تایا نے سر کھجاتے ہوئے پوچھا،
"اب یہ بھی بتا دو کہ کون سی فائلیں ہیں. زرا لا کر دیکھاؤ."
اَس نے ادھر سے ہی ملازم کو فون کیا اور وہ آ کر پکڑا گیا بازل نے فائل پکڑاتے ہوئے کہا
"وہ پی ایچ ڈی ہے."
ہمشا کے ساتھ تایا کے ہاتھ بھی، کانپ گئے. تایا نے ڈگری چیک کی پھر بولے،
"وہ سب تو ٹھیک ہے مگر دو بیویاں ایک ساتھ......."
بازل کی بیوی جھٹ بات کاٹ کر بولی،
"تایا سائیں، اگر آپ کو مجھ پر اعتراض ہے تو میں اپنے ساس سسر اور بچے کے ساتھ بہت خوشی سے باقی زندگی گزار لوں گی. یہ مجھے بےشک طلاق دے دیں مجھے کوئی اعتراض نہیں ہے. ویسے بھی میں ان کے قابل کدھر ہوں. ہمشا بیبی ہی ان کے جوڑ کی ہے."
سب کو جیسے سانپ سونگھ گیا.
ہمشا اس کے قریب آئی اور بولی،
"مجھے تمہارے ساتھ رہنے میں بھی کوئی دقت نہیں. اگر تایا جی مانیں تو میں اس رشتے کو ہی نبھانے کے لیے تیار ہوں."
تایا زچ ہو کر بولے،
"بیٹا تُم جانتی ہو کہنے اور نبھانے میں کتنا فرق ہے. تُم ان کے رہن سہن سے میچ نہیں کھاتی. پھر سوکن بھی. نہیں کھبی نہیں. تمہارے لیے رشتوں کی کمی ہو تو میں مجبوراً ایسا کروں. بےشک یہ پڑھا لکھا ہے. شہر میں گھر بنایا ہے. مگر گاوں اور بیوی بچے سے لنک ہمیشہ رہے گا."
ہمشا بولی،
"تایا جی مجھے ان سب سے بہت لگاؤ محسوس ہوتا ہے. ان لوگوں نے میرے ساتھ بہت اچھا برتاؤ کیا. پھر ان کی بیوی کا کیا قصور. میرا دل اتنا چھوٹا نہیں. جب اسلام چار تک رکھنے کی اجازت دیتا ہے پھر معاشی طور پر بھی یہ چار بیویوں کو بھی پال سکتے ہیں. ان کی بیوی بہت سمجھدار اور مخلص ہے. پلیز ان سے بہتر مجھے کوئی اور نہیں لگتا."
یہ کہہ کر وہ تیزی سے کمرے سے چلی گئی.
دادی نے فیصلہ سنا دیا کہ
"جب چاہیں آ کر دھوم دھام سے شادی کر کے لے جائیں."
بازل اور ہمشا کی آج شادی تھی.
دونوں بہت خوش تھے اور آنے والے دنوں کے حسین سپنے آنکھوں میں سجائے بیٹھے ہوئے تھے. سب ان کی جوڑی کو چاند سورج کی جوڑی کہہ رہے تھے. بازل کی پہلی بیوی محبت پاش نظروں سے ہمشا کو دیکھ رہی تھی. تصویریں بناتے وقت ہمشا نے اسے بھی دوسری طرف زبردستی بٹھا دیا. وہ بہت خوش ہوئی اور بچے کو گود میں لے کر بازل کے دوسری طرف بیٹھ گئی.
چچا سائیں دل میں ہمشا کو دعائیں دینے لگے جس نے اسے برابر کا مقام دیا. وہ سوچنے لگے۔
ان کے بیٹے کو اللہ تعالیٰ نے دو جڑواں بچوں سے نوازا.
اگر چھوٹی آپا طلاق نہ لیتی تو دوسرا بچہ پال لیتی. مگر سب کا دل اتنا بڑا نہیں ہوتا.
دادی سوچنے لگی ان کی پوتی نے کسی نہ کسی کا حق نہیں مارا. حالانکہ قدرت رکھتے ہوئے بھی اس نے سوکن کے دل کو ٹھیس نہیں پہنچائی.
سب کے دل کو خوش کیا. اپنا دل بڑا کر کے. جو بہت مشکل لگتا ہے مگر مشکل ہوتا نہیں. اگر میری بہو بھی یاسمین کو قبول کر لیتی تو اس طرح ایڑیاں رگڑ رگڑ کر نہ مرتی.
ہمشا کے لیے سب دعاگو تھے.
ختم شد
ناول اختتام پذیر ہوا
You've reached the end of this journey. We hope you enjoyed it!

Reader Comments
Be the first to leave a comment on this episode!
Log in to leave a comment.