Meri Sar Phiri
Episodes
ساتواں حصہ - 7th Part
ہمشا کے گھر والے تایا، دادا اور دادی بہت دکھی اور پریشان تھے. ان لوگوں کو ہمشا سے یہ امید بالکل نہ تھی. تایا اس پر فخر کرتے تھے اور اسے اپنا غرور کہتے تھے. وہ تایا کے خواب پورے کر رہی تھی. اس نے اعلی تعلیم حاصل کر کے تایا کی خواہش کو پورا کیا تھا. جبکہ ان کی بیٹیاں ماں کی طرفداری کرتی تھیں. دادی اپنی بھانجی کی محبت میں ڈوبی ہوئی تھیں.
کیونکہ ہمشا کا تایا اعلیٰ تعلیم یافتہ اور اچھے عہدے پر فائز تھے. ان کی ماں کو اپنی بھانجی کا لالچ تھا کیونکہ بہن اپنی چھوٹے قد والی اور کم پڑھی لکھی بیٹی کا رشتہ دینا چاہتی تھی. بہن پیسے والی بھی تھی اور جہیز بھی خوب ملنا تھا. بیٹے کے لاکھ احتجاج کے باوجود انہوں نے بیٹے کی ایک نہ سنی. شوہر بھی شریف اور بیوی سے دبتا تھا. ہمشا کے تایا کی شادی ہو گئی. ان کی دو بیٹیاں پیدا ہوئیں.
اب ہمشا کی تائی کو بیٹا نہ ہونے کی زیادہ فکر تھی. اس نے ساس کو مکھن لگا لگا کر مٹھی میں کیا ہوا تھا. ہمشا کے تایا ماں سے ڈرتے بھی تھے.
ہمشا کے والدین دوبئی سیٹلڈ تھے. ہمشا جب چودہ سال کی تھی تو اس کے والدین نے پاکستان مستقل سکونت اختیار کرنے کا فیصلہ کر لیا. انہوں نے ہمشا کی سرپرستی تایا کے حوالے کر دی. تایا نے ہمشا کے والد کے پیسے سے نوکری کے ساتھ بزنس شروع کیا جو اچھا چلنے لگا.
ہمشا کو پاکستان میں تعلیم شروع کروا دی گئی. اس نے تعلیم کے میدان میں اپنی محنت اور لگن سے اعلیٰ ڈگری حاصل کر لی. تایا تعلیم کی بہت قدر کرتے تھے. ان کی بیٹیاں ماں کی طرح تعلیم سے دور بھاگتی تھیں. دونوں بارہ تیرہ کلاسوں کے بعد گھر بیٹھ گئیں. ماں نے بھی حوصلہ افزائی کی. وہ سارا دن موبائل پر لگی رہتیں. کوئی کام نہ کرتیں.
جبکہ ہمشا نے تعلیم حاصل کر کے تایا کے دل میں جگہ بھی بنا لی. اس کے والدین کی وفات کے بعد تایا اس پر خصوصی توجہ دینے لگے. وہ بات بات پر سب کو جتلاتے تھے کہ یہ بزنس ہمشا کے والدین کے پیسوں کا ہے. وہ ہمشا کی ہر خواہش پوری کرتے. اسے کھلی پاکٹ منی دیتے. ہمشا کسی سے دب کر نہ رہتی. اسے تایا اور دادا دادی کی فل سپورٹ حاصل تھی.
تائی اور ان کی بیٹیاں ہمشا سے حسد کرتیں.
ہمشا کسی کو خاطر میں نہ لاتی. اس کی تایا کی بیٹیوں سے کوئی دوستی نہ تھی.
تائی تایا کے سامنے اسے کچھ نہ کہتی مگر اکیلے میں اسے خوب کوسنے دیتی. ہمشا ان کے کوسنوں کو خاطر میں نہ لاتی نہ کھبی تایا کو شکایت لگاتی۔ ہمشا دل کی بہت رحم دل تھی.
تایا کے آفس کا ملازم دادی کی ڈیمانڈ پر فل ٹائم ملازمہ، یاسمین، لے کر آیا. جس کا بچہ بھی ہونے والا تھا.
وہ ملازمہ یاسمین کو چھوڑ کر یہ کہہ کر گیا کہ ابھی گاؤں میں کچھ ضروری کام نمٹا کر واپس آئے گا. اس کے جاتے ہی دو دن بعد اس کا شوہر کسی حادثے کا شکار ہو کر فوت ہو گیا.
تایا ملازمہ یاسمین کو تسلی دیتے ہوئے گاؤں ساتھ لے گئے اور رات کو اس کے ساتھ ہی واپس آ گئے. انہوں نے ہمشا کی دادی کو بتایا کہ اس کا نہ سسرال نہ ہی میکے میں کوئی قریبی رشتے دار موجود ہے. باقی اس کی زمہ داری کوئی اٹھانے کو تیار نہیں ہیں. اس لیے میں اسے ساتھ لے آیا ہوں. یہ آپ کی خدمت کرے گی. دادی نے اوکے کر دیا.
ہمشا کو وہ پہلے دن سے ہی بہت بھا گئی تھی. اور اس کی اس سے دوستی ہو چکی تھی. ہمشا نے اسے اپنے ساتھ والے سٹور روم میں رہنے کی آفر دے دی. ہمشا کے ہی کہنے پر اس کا بچہ اچھے ہاسپٹل میں پیدا ہوا. تائی بہت کوستی مگر ہمشا کسی کی نہ سنتی. ہمشا نے سب کو یہ کہہ کر منہ بند کروا دیا کہ وہ اپنے والدین کے پیسے لگا رہی ہے کسی کو میرے معاملات میں بولنے کا کوئی حق نہیں. ہمشا کو اس بچے سے بھی بہت لگاؤ ہو گیا.
بچہ نارمل پیدا ہوا تھا اس لیے یاسمین نے جلد ہی کام کاج سنبھال لیا. دادی کی بہت خدمت کرتی. دادی اس سے خوش تھی۔ تائی کو کام کی سہولت ملنے لگی. یاسمین دبی دبی رہتی. سب کی خدمت کرتی. ہمشا نے اس کے بچے کو تین سال کی عمر میں ہی اچھے اسکول میں داخل کروا دیا. وہ خود اسے پڑھاتی. انگلش بولتی. کوئی اس بچے کو دیکھ کر یہ نہیں کہہ سکتا تھا کہ یہ ملازمہ کا بچہ ہے. یاسمین ہمشا کی شکرگزار رہتی.
تایا نے ایک دن سب کو بلا کر یہ خوشخبری سنائی کہ یاسمین کے شوہر کی جائیداد یاسمین کے کہنے پر فروخت کر دی ہے اور بہت اچھی قیمت ملی ہے.
انہوں نے ہمشا کو اس کے نام کا اکاؤنٹ وغیرہ سمجھا کر بتایا کہ وہ اس کے اکاؤنٹ میں ٹرانسفر کر دیے ہیں. یاسمین نے کہا، ہمشا بیبی آپ مجھے طریقہ سکھا دینا.
اب میں اپنے بیٹے کی تعلیم کا خرچہ خود اٹھاؤں گی اور سارا پیسہ اس کی تعلیم پر خرچ کروں گی.
آپ لوگوں سے ایک التجا ہے کہ مجھے اسی گھر میں جگہ دے کر مجھ بےسہارا پر احسان کر دیں.
دادی جن کو اس سے بہت فائدے ملتے تھے جھٹ بولیں،
"ٹھیک ہے"
ہمشا نے کہا،
'چلو ٹھیک ہے.
ہمشا نے اسے مبارک باد دی، باقی کسی نے لفٹ نہ کرائی.
اس کے بچے کو سوائے ہمشا کے کوئی لفٹ نہ کراتا. ہمشا کے ڈر سے اسے کوئی ڈانٹ نہیں سکتا تھا. وہ بہت کیوٹ سا بچہ تھا. بہت سلجھا ہوا. ہمشا اس کے ساتھ کھیلتی. وہ ہمشا سے کافی مانوس تھا. ہمشا اس کی ہر ضرورت کا خیال رکھتی. اس کے کھلونے، کپڑے وغیرہ خرید کر لاتی. ساتھ میں یاسمین کی ضروریات کا بھی خیال رکھتی. اپنے ساتھ اس کے کپڑے وغیرہ بھی لے کر آتی. وہ اسے ہر وقت دعائیں دیتی.
تائی ہمشا کو کوسنے دیتی تو ہمشا مزاق اڑاتے ہوئے کہتی،
"تائی کی تعریف کا انداز ہی نرالہ ہے. تائی ہر وقت میری تعریف کرتی رہتی ہیں. بلکہ دل میں بھی تعریفوں کے پُل باندھتی رہتی ہیں."
تائی غصے میں کہتی،
بہت سرپھری لڑکی ہے. مجال ہے جو اسے کسی بات سے فرق پڑتا ہو."
تائی نے اپنی بڑی بیٹی کی شادی جلد ہی اپنے بھائی کے بیٹے سے کر دی. تایا کو ہمشا کی شادی کی بھی فکر تھی مگر ہمشا نے صاف کہہ دیا کہ وہ تعلیم مکمل کرنے سے پہلے ہرگز شادی نہ کرے گی.
وہ اپنے کمرے میں کسی کو دخل اندازی نہ کرنے دیتی. نہ ہی کسی کو آنے دیتی. کوئی اس کے روم میں داخل ہونے کی جرات نہ کرتا. نہ ہی اس کی کسی چیز کو چھیڑتا. وہ یاسمین کے بچے کو بھی پڑھنے کے علاوہ فالتو نہ رکنے دیتی. یاسمین کو یاسمین باجی کہہ کر عزت سے آپ کہہ کر مخاطب کرتی. باقی اس کو عزت نہ دیتے.
تائی اس پر رعب جھاڑتی رہتی. تایا تائی کے ڈر سے اسے نہ بلاتے. تائی اس کے شوہر کے مرنے کے بعد شکی مزاج ہو گئی تھی. وہ یاسمین کو تایا سے دُور رکھنے کی کوشش کرتی. وہ بےچاری بھی احتیاط کرتی.
تائی نے یاسمین سے کہا،
"تم کہو تو میں کسی مناسب انسان سے تمہاری شادی کروا دیتی ہوں."
مگر یاسمین نے روتے ہوئے التجائیں کیں
"وہ اپنے بیٹے کے لیے جی رہی ہے. اس کے سر پر سوتیلے باپ کا ظُلم کا سایہ نہیں ڈالنا چاہتی.
وہ اسے پڑھا لکھا کر کامیاب انسان بنانا چاہتی ہے."
تایا نے تائی کو سمجھایا
"اس کی شادی کر کے کیوں اپنے آپ کو اور اس گھر کو مصیبت میں ڈالنا چاہتی ہو. اس کے بچے کا مستقبل بھی خراب ہو جائے گا۔ سوتیلا باپ اس کی تعلیم پر رقم خرچ کرنے دے گا."
ہمشا کی دادی کو اپنے سُکھ جاتے نظر آئے. انہوں نے بہو کو سمجھایا،
"بےوقوفی نہ کر، شکر کر وہ شادی نہیں کر رہی. ورنہ ایسی ملازمہ دوبارہ ملے گی ہمیں."
تائی ایک لمبا سانس بھر کر بولی،
"ٹھیک ہے."
ہمشا نے بھی یاسمین کی فیور لیتے ہوئے کہا
"اب کوئی اس گھر میں اس سے شادی کی بات نہیں کرے گا."
یاسمین مشکور ہوتے ہوئے روتے ہوئے بولی،
"ہمشا بیبی، آپ کا مجھے اس گھر میں بہت سہارا ہے. آپ میرے لیے اللہ تعالیٰ کی رحمت ہیں. اللہ تعالیٰ آپ کو جزائے خیر عطاء فرمائے اور آپ کے نصیب اچھے کرے."
ہمشا نے اسے پیار سے گلے میں باہیں ڈالتے ہوئے کہا،
"آپ اس گھر کے ہر فرد کے لیے رحمت ہیں."
وہ مسکرانے لگی.
تائی کو بیوہ ہونے کے بعد اب وہ کھٹکنے لگی تھی. ایک تو وہ خوش شکل تھی دوسرے جوان تھی. تائی نے سوچا، ویسے تو کوئی اپنے سُکھ کے لیے اسے گھر سے نہیں نکالے گا بہتر ہے اس کا جینا دوبھر کر دوں کہ تنگ آ کر وہ خود ہی چلی جائے. تائی جہاں موقع ملتا اس کا جینا دوبھر کر دیتی. ہمشا کے سامنے زرا احتیاط کرتی. ہمشا کو کھبی اسے ڈانٹنے کی آواز آ جاتی تو وہ تائی کو سنانے چل پڑتی.
یاسمین اکثر چھپ چھپ کر روتی. کیونکہ اب تائی اس کے بچے کو بھی ستانے لگی تھی. اس کی چٹکی کاٹ دیتی. اسے مار جاتی. وہ روتا ہوا ماں کو شکایت لگاتا. وہ روتے ہوئے گلے لگا لیتی. ایک دن ہمشا نے دیکھ لیا.
اس نے تائی سے کہا،
"آپ کو اللہ تعالیٰ کا کوئی خوف نہیں ہے. ایک معصوم بچے نے آپ کا کیا بگاڑا ہے. یہ نہ ہو کہ آپ کو ان ماں بیٹے کی آہ لگ جائے."
وہ رعونت سے بولی،
"تم نے اس دو ٹکے کی ملازمہ کو گھر کا فرد بناکر رکھا ہوا ہے. اسے اس کی اوقات میں رہنے دو. میرے نزدیک اس کی عزت ایک جوتی کے برابر ہے."
پھر اسے کوستے ہوئے بولی،
"تم اپنی اوقات کھبی نہ بھولنا سمجھی، گھر والے بےشک تمہیں گھر کا فرد بنا کر رکھیں. تم اس گھر میں ایک ملازمہ کی حیثیت سے ہی رہو گی. تمہارا رتبہ کوئی بڑھ نہیں جانا. تم بیٹے کو بےشک اعلیٰ تعلیم دلاتی رہو، وہ اس گھر میں ملازمہ کا بیٹا ہی کہلائے گا. اس مقام پڑھ لکھ کر بڑھ نہیں جانا."
وہ آنکھوں میں آنسو لیے چلی گئی. اسکا بیٹا اب آٹھ سال کا ہو چکا تھا. اب وہ اپنی عمر سے زیادہ سمجھدار اور سلجھا ہوا تھا. وہ اب تائی سے دور رہتا. جب وہ اس کی ماں کو ڈانٹتی تو وہ غصے میں کہتا،
"ماما مجھے یہ اچھی نہیں لگتی ہیں. جب میں بڑا ہو جاؤں گا تو پھر ہم یہاں سے چلے جائیں گے."
ماں اسے ڈانٹتی
"ایسے کسی کو بُرا نہیں کہتے. بری بات ہے اور ادھر سے جانے کا کھبی مت سوچنا، ان کی وجہ سے تم اچھی تعلیم حاصل کر رہے ہو. ورنہ ہم اکیلے نہیں رہ سکتے. نہ ہم سارے خرچے افورڈ کر سکتے ہیں. یہ ان لوگوں کا احسان ہے کہ ہمیں رہنے کو چھت ملی ہے. اور ہم ادھر محفوظ ہیں."
ہمشا کے جانے کے بعد تائی نے اسے اچھے اسکول سے ہٹانے کی کوشش کی مگر یاسمین نے رو رو کر منتیں کیں
"وہ ایسا نہ کریں. ورنہ بچے کے لئے اسے اس گھر سے جانا پڑے گا."
دادی کو فکر لگ گئی. انہوں نے بہو کو صاف منع کر دیا
"بچے سے ہمارا کیا لینا دینا. وہ اپنے خرچے پر اسے پڑھا رہی ہے."
تایا نے بھی ماں کی ہاں میں ہاں ملائی. تائی مجبور ہو گئ.
بیٹی نے بھی کہا،
"ماما یہ میرے کتنے کام کر دیتی ہے. پلیز اسے نکالنے کا خیال چھوڑ دیں. ہمیں وہ کیا کہتی ہے. اپنے کام میں مگن رہتی ہے."
ہمشا اسے چوری فون کرتی جب وہ مس بیل مارتی. ہمشا نے اسے کہا،
"باجی یاسمین کیا آپ کے شوہر کا کوئی جڑواں بھائی بھی تھا."
میں نے اس جیسا اپنے سسرال میں ملازم دیکھا ہے.
جاری ہے

Reader Comments
Be the first to leave a comment on this episode!
Log in to leave a comment.